Skip to playerSkip to main content
  • 2 months ago
Kashful Mahjoob - Part 12

Category

📚
Learning
Transcript
00:01اسلامی لائبریری انلائٹننگ اپاوٹ ریلیجن
00:05فقر و غنہ کی افضلیت میں بحث
00:11مشایخِ طریقت رحم اللہ تعالیٰ علیہ مجمعین کا اس میں اختلاف ہے
00:18کہ صفاتِ خلق میں فقر و غنہ میں سے کون سی خوبی افضل ہے
00:23کیونکہ اللہ تعالیٰ کی ایک صفت غنی ہے
00:25اور تمام صفات میں کامل ہونا اس کا خاصہ ہے
00:29چنانچہ متقدمین مشایخ میں سے
00:32حضرت یحیٰ بن معاز رازی
00:34حضرت احمد بن الحواری
00:37حضرت حارس المحاسبی
00:40حضرت ابو العباس بن عطا
00:42حضرت ابو الحسن بن شمون
00:44اور متاخرین میں سے شیخ المشایخ
00:47حضرت ابو سعید فضلاللہ بن محمد
00:50رحم اللہ تعالیٰ علیہ مجمعین کا مذہب یہ ہے
00:53کہ فقر سے غنہ افضل ہے
00:55ان تمام مشایخ کی دلیل یہ ہے
00:59کہ غنہ حق تعالیٰ کی صفت ہے
01:01اس کے لیے فقر کے نسبت جائز نہیں
01:04لہٰذا ایسا محبوب اور دوست
01:07جس میں ایسی صفات مشترک ہوں
01:09جو بندے اور معبود میں پائی جائیں
01:11وہ محبوب و دوست ایسی صفات کے مقابلے میں
01:14جس کے نسبت جائز نہ ہو
01:16کامل ہوتا ہے
01:18اس کے جواب میں ہم کہتے ہیں
01:21کہ یہ اشتراک صرف لفظی اور اسمی ہے
01:24نہ کہ معنوی اور حقیقی
01:26حالانکہ معنی میں مماثلت اور
01:29اشترات درکار ہے اور یہ
01:31محال ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کی
01:33صفات قدیم ہیں اور مخلوق کی حادث
01:35لہٰذا یہ
01:37استدلال باطل ہے
01:38لیکن میں علی بن عثمان کہتا ہوں
01:41کہ یہ ایک بیکار بحث ہے
01:43غنی خدا کی صفت ہے
01:46اور وہی
01:47اس کا سزاوار ہے
01:49مخلوقات در حقیقت اس نام کی
01:51مستحق نہیں ہو سکتی
01:53انسان تو محتاج و فقیر ہی پیدا ہوا ہے
01:55اس کے لیے فقر کا نام ہی زیب دیتا ہے
01:58مجازی اعتبار سے
02:00خدا کے ماں سوا
02:02کسی کو غنی کہا جائے تو جائز ہے
02:04اللہ تعالیٰ اپنی ذات سے غنی ہے
02:06وہ مسبب الاسباب ہے
02:09اس کے غناء کے لیے نہ کوئی سبب ہے
02:11اور نہ اس کے لیے کسی سبب کی ضرورت ہے
02:14بندے کو جو غناء حاصل ہوتا ہے
02:17وہ خدا کا عطا کردہ اسباب ہے
02:20اور اسی کے مرہون منت ہے
02:22دونوں میں اشتراک و مماثلت کی
02:24یقصانیت باطل ہے
02:26نیز جب این ذات حق میں
02:28شرکت جائز نہیں ہے
02:30تو کسی کو اس کی صفت میں بھی شرکت جائز نہیں
02:33لہٰذا جب صفت میں اشتراک جائز نہیں
02:35تو اسم میں بھی جائز نہیں ہو سکتی
02:38اب رہا
02:39لفظی اور اسمی اطلاق
02:42تو نام رکھنا نشان و تعیون کے لیے ہوتا ہے
02:45چونکہ خدا اور مخلوق کے درمیان
02:47ایک حد فاصل ہے
02:49اس لیے
02:49حق تعالیٰ کا غناء یہ ہے
02:51کہ اسے کسی کی پرواہ نہیں ہے
02:53وہ جو چاہتا ہے کرتا ہے
02:55نہ تو کوئی اس کے ارادہ کو روک سکتا ہے
02:58اور نہ کوئی اس کی قدرت میں مانے ہو سکتا ہے
03:01وہ اعیان
03:02یعنی موجودات کو پلٹ دیں
03:04اور مختلف چیزوں کے پیدا کرنے پر قادر ہے
03:07وہ ہمیشہ سے اس صفت کا حامل رہا
03:10اور ہمیشہ رہے گا
03:12مخلوق کا غناء یہ ہے
03:14کہ اس کی زندگی ہر آفت سے محفوظ
03:17عیش و آرام
03:18اور خوشی و مسررت کے ساتھ گزرے
03:20یا مشاہدہ الہی میں سرشار ہو کر
03:23چین و راحت میں گزرے
03:25ان تمام باتوں میں
03:27حدوث و تغیر
03:28اور مشکت و حسرت کا سرمایہ
03:30اور عجز و تظلل کا مقام کارفرما ہوتا ہے
03:34لہذا
03:35لفظ تمنا کا استعمال
03:37بندوں کے لیے بطور مجاز ہے
03:39اور اللہ تعالیٰ کے لیے حقیقی
03:41اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے
03:44یا ایوہ الناسو
03:46انتم الفقراءو الاللہ
03:48واللہو ہوا الغنی الحمید
03:51اے لوگو
03:53تم خدا کے محتاج ہو
03:55اور اللہی خوبیوں والا
03:58اور سراپا غنی ہے
03:59ایک دوسرے مقام پر پھر ارشاد ہے
04:02واللہو الغنی وانتم الفقراء
04:06اور اللہی غنی ہے
04:08اور تم سب محتاج و فقیر
04:10عوام کا ایک گروہ کہتا ہے
04:13کہ ہم تونگر کو درویش پر فضیلت دیتے ہیں
04:17اس لیے
04:18کہ اللہ تعالیٰ نے تونگر کو دونوں جہان میں سعید پیدا کیا ہے
04:21اور تونگری کا اس پر احسان کیا ہے
04:24ان لوگوں نے اس جگہ غنہ سے
04:27دنیا کی کسرت
04:28انسانی آرزووں کا بارانہ
04:31اور بہ آسانی خواہشوں کا مل جانا مراد لیا ہے
04:34وہ دلیل میں یہ کہتے ہیں
04:36کہ چونکہ خدا نے تونگری پر شکر گزاری
04:39اور مفلسی پر صبر و کنات کا حکم دیا ہے
04:42اور یہ کہ ابتلاع میں صبر و کنات کی تلقین کی ہے
04:46اور نعمتوں میں شکر کا حکم دیا ہے
04:49لہٰذا
04:50مصیبتوں سے نعمتیں افضل ہیں
04:53اس کے جواب میں ہم کہتے ہیں
04:55کہ نعمت پر شکر گزاری کا حکم دیا
04:59اور شکر کو زیادتی نعمت کی علت گردانہ
05:02اور فقر پر صبر کا حکم دیا
05:05اور صبر کو زیادتی غربت کی علت گردانہ ہے
05:08چنانچہ ارشاد باری تعالیٰ ہے
05:11لَاِن شَكَرْتُمْ لَا عَزِيدَنَّكُمْ
05:14اگر تم نے شکر کیا
05:16تو تمہیں اور زیادہ آتا کروں گا
05:19اور صبر کے لئے فرمایا
05:20اِنَّ اللَّهَ مَا سَابِرِينَ
05:23بے شک
05:24اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے
05:27مطلب یہ
05:28کہ ہر وہ نعمت
05:30جس کی اصل غفلت ہے
05:31جب شکر بجالانہ ہو
05:33تو ہم غفلت کو
05:35اس کی غفلت پر اور زیادہ کر دیتے ہیں
05:37اور ہر وہ فقر
05:38جس کی اصل ابتلا ہے
05:40جب صبر کرتا ہے
05:42تو ہم قربت کو
05:43اس کی قربت پر اور زیادہ کر دیتے ہیں
05:46اہلِ طریقت کے نزدیک
05:48غناء کا مطلب
05:49مشایخِ طریقت
05:51جس غناء کو فقر پر افضل کہتے ہیں
05:55اس سے عوام کی تونگری مراد نہیں ہے
05:58کیونکہ عوام تو اسے
05:59غنی و تونگر کہتے ہیں
06:01جسے دنیاوی نعمتیں حاصل ہوں
06:03لیکن مشایخ کا غناء سے مراد
06:05منعم
06:06یعنی نعمت دینے والے
06:08خداِ قدوس کو اپنانا ہے
06:10وسالِ الہی حاصل ہونا اور چیز ہے
06:12اور غفلت کا پانا اور چیز ہے
06:15شیخ ابو سید رحمت اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں
06:19کہ فقیر وہی ہے
06:20جو اللہ کے ساتھ غنی ہو
06:22اس سے مراد مشاہدہِ حق ہے
06:25مکاشفہ ممکن الحجاب ہے
06:28اگر اسے مکاشفہ والے محجوب گردانیں
06:31تو مشاہدات کا محتاج ہوگا یا نہیں
06:33اگر یہ کہو کہ محتاج نہ ہوگا
06:36تو یہ محال ہے
06:37اور اگر کہو کہ محتاج ہوگا
06:40تو جب احتیاج پیدا ہوگئی
06:42تو غناء کا نام جاتا رہے گا
06:44نیز
06:45غناء باللہ اس شخص کو ہوتا ہے
06:48جو قائم اس صفات
06:50اور ثابت المراد ہو
06:52اور بشریت میں
06:54اقامت مراد اور
06:55اسبات صفات کے ساتھ غناء سے ہی نہیں ہو سکتا
06:58اس لیے
06:59کہ ذات بشریت بجائے خود
07:01غناء کے لائق نہیں ہیں
07:03لہٰذا
07:04غنی من اغناہ اللہ
07:06یعنی غنی وہ
07:08جسے
07:09اللہ غنی کرے
07:11میں غنی باللہ
07:12فائل کے ذریعے نتیجہ برامد ہوا
07:14کہ اقامت خود بخود
07:16صفت بشریت ہے
07:17اور اقامت باللہ
07:19فنائے صفت ہے
07:20لیکن
07:21میں علی بن عثمان کہتا ہوں
07:24کہ بندگی کی حالت میں یہ درست ہے
07:27کہ بقائے صفت
07:28بشریت پر غنائے حقیقی کا
07:31اطلاع نہیں ہو سکتا
07:32کیونکہ بقائے صفت
07:34محل علت
07:35اور موجب آفت ہے
07:37چونکہ مذکورہ دلائل سے ثابت ہو چکا ہے
07:40کہ اپنی صفت کی فناء سے
07:42غناء باقی نہیں رہتا
07:44اس لیے کہ جو چیز
07:45بزات خود باقی نہ رہے
07:46اس کا نام نہیں ہوتا
07:48لہٰذا
07:49فنائے صفت کا نام غناء رکھنا چاہیے
07:52جبکہ خود صفت ہی فانی ہے
07:54تو اسم ہی مقام نہ رہا
07:56ایسے شخص پر
07:57اسم فقر بولا جا سکتا ہے
07:59اور نہ اسم غناء
08:01لہٰذا صفت غناء
08:03حضرت حق تعالی جلہ شانہو کے سوا
08:05کسی کے لیے جائز نہیں
08:07اور یہ صفت
08:08فقر بندے کے ساتھ خاص ہے
08:11پھر یہ
08:13کہ تمام مشایخ طریقت
08:15اور اکثر عوام کو غناء سے افضل مانتے ہیں
08:18کیونکہ قرآن و سنت
08:19اس کی فضیلت پر شاہد ناتق ہے
08:22اور امت مسلمہ کی اکثریت کا
08:24اس پر اجماع ہے
08:26ایک روز
08:28حضرت جنید بغدادی اور حضرت ابن عطا
08:33رحمت اللہ تعالی علیہم
08:35کے درمیان اس مسئلہ پر بحث ہوئی
08:38حضرت ابن عطا نے فرمایا
08:41کہ اغنیاں افضل ہیں
08:43کیونکہ روز قیامت نعمتوں کا حساب لیا جائے گا
08:46اور حساب دینے کے لیے بے واسطہ رب کے کلام کا سننا ہوگا
08:50چونکہ یہ محلِ عطاب ہے اور عطاب دوست کا دوست کے ساتھ ہوتا ہے
08:57حضرت جنید بغدادی رحمت اللہ علیہ نے جواب دیا
09:00کہ اگر اغنیاں سے حساب ہوگا
09:02تو فقراء اور درویشوں سے عذر خواہی ہوگی
09:05اور حساب سے عذر افضل ہے
09:07اس جگہ ایک لطیفہ بیان کرتا ہوں
09:10وہ یہ
09:11کہ محبت کی تحقیق میں عذر بیگانگی ہے
09:15اور عطاب یگانگی کی زد
09:17حالانکہ خدا کے دوست
09:19تو ایسے مقام پر فائز ہوتے ہیں
09:21جہاں یہ دونوں چیزیں
09:23ان کے لیے آفت ظاہر کرتی ہیں
09:24اس لیے کہ عذر خواہی
09:27تو کسی ایسی کتاہی پر ہوتی ہے
09:28جو دوست کے بارے میں اس کے فرمان
09:31کے خلاف کیا گیا ہو
09:32جب دوست اپنے حق کو اس سے طلب کرتا ہے
09:35تو یہ اس سے عذر خواہی کرتا ہے
09:37اور عطاب
09:38دوست کے فرمان میں کسی قصور
09:41کے سبب ہوتا ہے
09:42ایسی صورت میں دوست
09:43اس قصور کے سبب سے
09:45اس پر عطاب نازل کرتا ہے
09:47خدا کے دوستوں کے لیے
09:49یہ دونوں باتیں محال ہیں
09:51غرضے کے اہل طریق
09:53فقر کی ہر حالت میں صبر
09:55اور غناء کی حالت میں شکر بجالاتے ہیں
09:57ایک بات یہ بھی ہے
09:59کہ دوست کا اقتضاہ تو یہ ہے
10:02کہ دوست اپنے دوست سے
10:03کسی چیز کا مطالبہ نہ کرے
10:05اور نہ دوست دوست کے فرمان
10:08کو رائے گاں کرے
10:09لہٰذا اس سلسلے میں
10:11ایک بزرگ کا بڑا خوبصورت کول ہے
10:14اس نے ظلم کیا
10:16جس نے آدمی کا نام امیر رکھا
10:19حالانکہ اس کے رب نے اس کا نام فقیر رکھا ہے
10:22کیونکہ حق تعالیٰ کی طرف سے
10:23اس کا نام فقیر ہے
10:25اگرچہ بظاہر وہ امیر و تونگر ہو
10:28لیکن حقیقت میں وہ فقیر ہی ہے
10:30وہ شخص حلاق ہو گیا
10:31جس نے خود پر گمان کیا
10:33کہ وہ امیر ہے
10:33اگرچہ وہ شخص تخت حکومت پر موجود ہے
10:36اس لیے
10:37کہ امیر و غنی
10:39صاحب صدقہ ہیں
10:40اور فقراء صاحب صدق
10:42اور صاحب صدق
10:44صاحب صدقہ نہیں ہو سکتا
10:46علم حقیقت میں
10:48حضرت عیوب علیہ السلام کا فقر
10:50حضرت سلمان علیہ السلام کے غناء کی مانند ہے
10:54حضرت عیوب علیہ السلام کی پختگیہ صبر پر
10:57رب تعالیٰ نے فرمایا
10:58نعم العبد
11:00کیا ہی اچھا بندہ ہے
11:02اور حضرت سلمان علیہ السلام سے
11:04ان کی حکومت کے وقت فرمایا
11:06نعم العبد
11:07کیا ہی اچھا بندہ ہے
11:09جب اللہ کی رضا حاصل ہو گئی
11:11تو اب فقر عیوب
11:12اور غناء سلمان علیہ السلام کی مانند بن گیا
11:16میں نے
11:17یعنی علی بن عثمان نے
11:18اپنے استاذ
11:19حضرت ابو القاسم کشیری رحمت اللہ علیہ سے سنا
11:22وہ فرماتے ہیں
11:24کہ لوگ فقر و غناء میں بحث کرتے ہیں
11:26اور خود کو مختار خیال کرتے ہیں
11:28لیکن میرا طریق و مسئلہ یہ ہے
11:31کہ جو حق تعالی میرے لیے اختیار فرماتا ہے
11:33میں اس کی حفاظت کرتا ہوں
11:36اور اگر وہ مجھے تونگر رکھے
11:38تو غافل نہیں ہوتا
11:39اور اگر وہ مفلس فقیر بنائے
11:41تو حریص اور موترز نہیں ہوتا
11:44خلاصہ یہ
11:45کہ غناء نعمت ہے
11:47لیکن اس میں غفلت بردنا آفت ہے
11:49اور فقر بھی نعمت ہے
11:51لیکن اس میں حرس و تمہ کا دخل کرنا آفت ہے
11:55معنی کے اعتبار سے
11:56تمام اختیارات امدہ ہیں
11:58لیکن سلوک اور روش کے لحاظ سے
12:01معاملہ مختلف ہے
12:02ما سواء اللہ سے
12:03دل کو فارغ رکھنے کا نام فقر ہے
12:06اور غیر میں مشغول رہنے کا نام غناء ہے
12:09جب دل فارغ ہو
12:10تو اس وقت فقر غناء سے افضل ہے
12:13اور غناء فقر سے
12:14ساز و سامان کی کسرت کا نام غناء نہیں
12:18اور نہ
12:19اس کے نہ ہونے کا نام فقر ہے
12:22ساز و سامان تو خدا کی طرف سے ہے
12:24جب طالب ساز و سامان کی
12:27ملکیت سے جدا ہو گیا
12:29شرکت جاتی رہی
12:31اور وہ دونوں ناموں سے فارغ ہو گیا
12:34نہ اب فقر ہے
12:35نہ غناء
12:36بänder
12:36ج Thbe
12:41دل
12:42خدا ق Here
12:43دل
12:44دل
12:46دل
12:46دل
12:47دل
12:48دل
12:48دل
12:49دل
12:49د Ros