Skip to playerSkip to main content
Dars-e-Bukhari Shareef - Speaker: Mufti Muhammad Akmal

Watch All the Episodes of Dars e Bukhari | https://www.youtube.com/playlist?list=PLQ74MR5_8XifqqMqj-CSEsTT2kgVuPG2D

#MuftiMuhammadAkmal #DarseBukhariShareef #IslamicInformation

Collect the pearls of wisdom dormant in Sahih Bukhari, Dars-e-Bukhari Shareef is a 30 min long lecture-based program, in which Mufti Muhammad Akmal will explain Ahadith of Sahih Bukhari- the most Acknowledged and authentic collection of the sayings of Prophet Muhammad (PBUH) by Imam Bukhari.

Join ARY Qtv on WhatsApp ➡️ https://bit.ly/3Qn5cym
Subscribe Here ➡️ https://bit.ly/aryqtv
Instagram ➡️️ https://www.instagram.com/aryqtvofficial
Facebook ➡️ https://www.facebook.com/ARYQTV/
Website ➡️ https://aryqtv.tv/
Watch ARY Qtv Live ➡️ http://live.aryqtv.tv/
TikTok ➡️ https://www.tiktok.com/@aryqtvofficial
Transcript
00:00بسم اللہ الرحمن الرحیم
00:30ایک ایسی
00:32زمین پر تشریف لے گئے
00:34جس میں کھیت لہلہ
00:36رہے تھے آپ نے پوچھا
00:38یہ کس کی زمین ہے تو لوگوں نے
00:39بتایا کہ اس زمین کو فلانے
00:42قرائے پر دے دیا ہے
00:43آپ نے فرمایا بہرحال
00:46اگر وہ زمین کو عطا کر دیتا
00:48تو وہ اس کے لئے
00:49اس سے زیادہ بہتر ہوتا
00:51کہ وہ اس کا معین قرائے لیتا
00:54تو یہ پہلے بھی
00:56اس کی وضاحت کی کہ نبی کریم
00:58صلی اللہ علیہ وسلم نے
00:59قرائے کو ناپسند
01:01اس محول کے اعتبار سے
01:04فرمایا تھا کہ بعض اوقات
01:05لوگ زمین کو قرائے پر دیتے تھے
01:08اور اس میں فاسد غلط
01:10شرطیں لگا لیا کرتے تھے
01:11اس لئے رحمتِ قرآن صلی اللہ علیہ وسلم نے
01:13فرمایا تھا کہ یا تو اپنے پاس رکھے
01:16کاشت کریں یا اپنے مسلمان
01:18بھائی کو عطیہ کر دیں زمین
01:19چلو وہ آباد کر لے گا
01:21لیکن قرائے کو پسند نہیں کیا تھا
01:24لیکن منع بھی نہیں کیا تھا
01:26یہ حدیث اس کے تائد کر رہی ہے کہ قرائے لینا منع نہیں ہے
01:29اس لئے آپ نے زیادہ بہتر یہ فرمایا
01:31کہ قرائے لینے سے
01:33زیادہ بہتر یہ تھا کہ کسی بھائی کو
01:35عطا کر دیتا ورنہ سرکار فرماتے
01:37کہ قرائے بلکل جائز نہیں ہے
01:39آج کل کے دور میں زمینوں کو
01:41ٹھیکے پر دینے کا رواج ہے
01:43لوگ لے لیتے ہیں
01:44ایک سال کے لیے دو سال کے لیے
01:47اور اس میں تیہ کر لیتے ہیں
01:48کہ عشر وغیرہ نکالنے کے بعد
01:51پھر اخراجات نکالنے کے بعد
01:52پھر کل پیداوار کا
01:54جس کی زمین ہے اس کے لیے اتنا
01:56اور ہمارے لیے اتنا
01:57یہ کبھی تو پیداوار پہ یہ تیہ ہوتا ہے
02:00اور کبھی پیسوں کے اعتبار سے ہوتا ہے
02:02کہ مثلا سالانہ پچاس ہزار روپے
02:05ایک لاکھ روپے تمہیں دے دیں گے
02:07پھر جتنے بھی ہم اس میں کام کریں
02:09تو غرض ہے کہ قرائے لینا جائز ضرور ہے
02:12افضل صورت وہ ہے
02:13جو بریاقت صلی اللہ علیہ وسلم نے
02:15ارشاد فرمائی ہے
02:21جب کوئی شخص کسی سے کہے
02:27کہ میں نے یہ باندھی تمہیں
02:29بطور خادمہ دی ہے
02:30تو یہ جائز ہے
02:32یعنی خدمت کے طور پر
02:34کہنے کا کہہ کر اور ہبا کر دے جائے
02:36توفتن دیا جائے تو یہ جملہ درست ہے
02:38اس پر حدیث لائے ہیں
02:40دو ہزار چھ سو پینتیس
02:42حضرت ابو حریرہ رضی اللہ تعالیٰ
02:43انہوں بیان کرتے ہیں
02:45کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
02:47حضرت ابراہیم علیہ السلام نے
02:49حضرت سارہ کے ساتھ حجرت کی
02:52تو ان لوگوں نے حضرت سارہ کو
02:55حضرت آجر
02:56ہبا کر دی
02:57جس کو ہم بی بی حاجرہ بھی کہتے ہیں
02:59اصل نام تو آجر ہے
03:00بی بی حاجرہ جو تھی وہ ہبا کر دی
03:02پس وہ واپس آئیں
03:03یعنی حضرت سارہ اس کو ان کو لے کر واپس آئیں
03:06تو انہوں نے کہا
03:07کہ کیا آپ کو معلوم ہے
03:08کہ اللہ نے کافر کو زلیل کر دیا
03:10اور ایک باندھی خدمت کے لئے دی
03:12اصل میں وہ بادشاہ نے بری نیت کے ساتھ
03:16بی بی سارہ رضی اللہ تعالی عنہ کو
03:18اپنے محل میں بلایا تھا
03:20لیکن اللہ طرف سے
03:21ایسے معاملات وہاں پر ظہور پذیر ہوئے
03:24کہ وہ اپنے مقصد میں کامیاب نہ ہوا
03:26بلکہ اور اس پر ایک روب اور دب دب تاری ہوا
03:28تو اس نے پھر آپ کو رخصت کیا
03:30اور ساتھ میں بی بی حاجرہ
03:31اور رضی اللہ تعالی عنہ ایک خادمہ کے طور پر دے دی
03:35یعنی بظاہر تو خادمہ
03:37لیکن حقیقتاً اس نے حبہ کیا تھا
03:40تو یہ بالکل جائز ہے
03:41جو انوان امام بخارے نے قائم کیا
03:43اور انہوں نے پھر آ کر بی بی سارہ
03:45رضی اللہ تعالی عنہ نے حضرت ابراہیم سے عرض کی
03:48کہ اللہ نے اس کافر کو زلیل کیا
03:50یعنی وہ اپنے کسی مقصد میں کامیاب نہ ہو سکا
03:53اور یہ خادمہ بھی حاصل ہوئی
03:55یہاں بیان بس یہ کرنا مقصود ہے
03:56کہ اگر یہ کہا کہ میں نے آپ کو خدمت کے لئے دی
03:59اور وہاں کا عرف ایسے ہی ہے
04:01کہ یہ الفاظ حبہ کرنے کے لئے بھی استعمال ہوتے ہیں
04:04تو وہ گویا کہ
04:05توفہ ہی کہلائے گا
04:06جیسے ہمارے یہاں کوئی بھی عرف عام میں
04:08ہم کہہ دیتے ہیں یہ لو یاری تمہارا ہوا
04:10ہم یہ نہیں کہتے ہیں توفہ لے لو
04:12بلکہ ہم کہتے ہیں تمہارا ہوتی ہے
04:13بعض اوقات تو خاموشی جیسے سالگیرہ بغیرہ ہوتی ہے
04:17تو اس میں ہم گفت لاکر بس دے دیتے ہیں
04:19موہ سے کچھ بھی نہیں کہتے ہیں
04:20سامنے علیہ کو پتا ہے کہ سالگیرہ
04:22یہ گفت لے کر آئیں یہ بھی ہیبا ہوتا ہے
04:24تو خلاصے کلام یہ ہے
04:25کہ جس دور میں جس قول
04:28یا جس عمل کے ذریعے
04:30کسی چیز کا توفتن دیا جانا
04:32متعین ہو جائے
04:33تو وہ کافی ہے اور وہ چیز آپ کی ملکت سے نکل کر
04:36دوسرے کی ملکت میں داخل ہو جائے گی
04:39بشرتے کہ وہ اس کو قبول بھی کر لے
04:41اگلے باپ کی طرف آتے ہیں
04:44دو حضرت سو چھتیس نمبر حدیث پاک ہے
04:49حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ
04:52اس کے راوی ہیں وہ بتاتے ہیں
04:54کہ میں نے کسی شخص کو
04:55اللہ کے راہ میں گھوڑے پر سوار کیا
04:58یعنی اللہ کے لئے صدقہ کر دیا گھوڑا اس کے اوپر
05:01پھر میں نے دیکھا کہ وہ گھوڑا فروخت کیا جا رہا تھا
05:05تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا
05:08پوچھا
05:09یعنی یہ پوچھا تھا کہ کیا میں اس گھوڑے کو خود خرید سکتا ہوں
05:12رحمت کونین صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
05:14کہ اس کو مت خریدو اور اپنے صدقے سے رجوع نہ کرو
05:19دیکھیں یہ صرف ایک استحبابی حکم تھا
05:22اگر میں نے کسی کو صدقہ کر دیا ہے
05:24اب میں اسے خریدنا چاہوں تو میں خرید سکتا ہوں
05:27لیکن سرکار کو یہ بات پسند نہیں تھی
05:29کہ آپ اس کو خریدیں
05:31بلکہ جب اللہ کے لئے دے دیا
05:32تو اپنے سے جو دے دیا
05:34تو ہوا یہ تھا کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ
05:37نے کسی کو توفہ دیا گھوڑا
05:38اور بہت اچھی نسل کا تھا
05:40اور وہ اس کی قدر نہیں کر سکا
05:42اور وہ بازار میں بک رہا تھا
05:43تو آپ نے چاہا کہ میں اس کو لے لوں
05:45لیکن نبی کریم نے منع فرما دیا
05:47تو جب خریدنے کو منع کر دیا
05:49تو پھر اپنے صدقے سے
05:52ارجو کرنا
05:53اس طرح کہ ہم نے کسی کو
05:55اللہ کے لئے کچھ دیا
05:56پھر ناراضگی پیدا ہوئے
05:57ہم نے کہا دو ہمارا پیسہ واپس
05:59یہ بالکل غلط ہوتا ہے
06:00اس لئے جو اداروں میں دے دیتے ہیں
06:02کسی آرگنائزیشن میں
06:04جو دینی کام کر رہی ہوں
06:05آپ نے دے دیا
06:06اللہ کے لئے دیا ہے
06:07تو پھر اس کی واپسی کا
06:09مطالبہ شرنجائز نہیں ہوتا
06:11اور نہ اس کو پھر آپ اس کو خریدیں
06:13افضل اور اولہ صورت یہ ہی ہوتی ہے
06:16یہاں تک کتاب الحبہ
06:18امام ہوا
06:19اب انشاءاللہ کتاب الشہادات
06:22کا حدود ہوگا
06:23شہادت کی جمع شہادات
06:26اور شہادت کا مطلب ہوتا ہے
06:27گواہی دینا
06:28دو لفظ استعمال ہوتے ہیں
06:31ایک ہوتا ہے تحمل شہادت
06:33ایک ہوتا ہے ادائے شہادت
06:36تحمل معنی اٹھانا
06:38یا تحمل شہادت کا مطلب ہوتا ہے
06:41گواہ بننا
06:42اور ادائے شہادت کا مطلب ہوتا ہے
06:45گواہی ادا کرنا
06:46تو شہادت جو دیتا ہے
06:49اسے شاہد کہتے ہیں
06:51کہ یہ شاہد ہے گواہی دینے والا
06:53اور گواہی اسی وقت دی جا سکتی ہے
06:55کہ جب آپ نے کسی چیز کو آنکھوں سے دیکھا ہو
06:58اور آپ وہاں پر موجود بھی ہوں
07:00حقیقتا یہ ہوتا ہے
07:01کہ دیکھ کر آپ نے کسی چیز کو
07:02ذہن میں محفظ کر لیا
07:04اور بعد میں پھر آپ اس کے بارے میں بیان کرتے ہیں
07:07تو یہ گویا کہ آپ گواہی دے رہے ہیں
07:09چنانچہ اگر کسی نے دیکھا نہیں
07:10خالی سنا
07:11تو سن کر گواہی حقیقتا بنتی نہیں ہے
07:14یا آپ نے دور سے کہیں دیکھا
07:16لیکن وہاں موجود نہیں ہے
07:18تو پھر آپ حقیقتا شاہد نہیں ہیں
07:20کیونکہ شاہد کے ایک معنی حاضر بھی ہوتا ہے
07:23ابھی جو تحمل شہادت ہے
07:25اور ادائی شہادت اس کا مطلب ہوتا ہے
07:27کہ بعض وقت ہم سب گواہ بنتے ہیں
07:29گواہی کی ادائیگی کی ضرورت نہیں ہوتی
07:32جیسے نکاح کے اندر ہوتا ہے
07:34کہ لڑکی کے طرف سے وکیل کے گواہ بھی ہوتے ہیں
07:36گواہی لڑکی کے طرف سے ہوتے ہیں
07:39اور ہوتا ہے کہ وہ دیکھتے ہیں اس کارروائی کو
07:42اور نکاح نامے میں بطور ثبوت ان کا نام لکھا جاتا ہے
07:47کہ کبھی خدا نہ خواستہ
07:48اگر جھگڑا ہو گیا
07:49اور شادی کے معاملے میں
07:50کوئی ڈاؤٹ پیدا ہوا
07:52تو ان لوگوں سے پہلے پوچھا جائے گا
07:54کہ بھئے آپ نے دیکھا تھا
07:57کہ یہ معاملہ ہو رہا ہے
07:58تو یہ چونکہ ابھی ادائی شہادت تو نہیں ہے
08:00زبان سے ادائی تو نہیں کرنا ہے
08:02خالی بیٹھے ہوتے ہیں
08:03تو یہ تحمل شہادت کہلاتی ہے
08:05گواہ بننا
08:06ایسے ہی بعض وقت
08:08کوئی ڈیل وغیرہ ہو رہی ہوتی ہے
08:11اس میں ایگریبنٹ کے ٹائم پر دو تین گواہ ہوتے ہیں
08:14وہ سائن کر دیتے ہیں
08:15تو یہ بھی تحمل شہادت ہے
08:17اور ایک ہوتا ہے گواہی دینا
08:19جیسے آپ نے کورٹ وغیرہ میں دیکھا ہوگا
08:21کہ جج کا مطالبہ ہوتا ہے
08:23کہ اس پر کوئی وٹنس پیش کرو
08:24تو کہتے ہیں جی یہ گواہ ہیں
08:26اس سے حلفیہ بیان لیا جاتا ہے
08:28کہ میں جو کچھ کہوں گا سچ کہوں گا
08:29سچ کی سوا کچھ نہیں کہوں
08:31اگر میں جھوٹ بولوں تو
08:32مجھ پر اللہ کا غضب اور لانت نازل ہو
08:34ویسے تو یہ گواہی کے الفاظ دونے چاہیے
08:37کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ ایسا ہے
08:39لیکن بہرحال اس کو گواہ کہتے ہیں
08:40اور یہ پھر گواہی ادا کرتا
08:42یہ بتاتا ہے کہ میرے سامنے کیا کیا معاملہ ہوا تھا
08:46اس لئے یاد رکھیں کہ تحمل شہادت اور ادائے شہادت
08:49دو الگ الگ چیزیں ہیں
08:50لیکن یہاں پر مطلقاً گواہی کے بارے میں
08:53اور یہ زیادہ تر ادائے شہادت کے بارے میں
08:56حدیثیں لائی گئی ہیں
08:57اس کے بارے میں چند حدیثیں درہا دیکھ لیں
09:01مسند احمد کی ایک روایت
09:03اس سے پہلے کہ بخاری کی روایات میں سٹارٹ کروں
09:05حضرت خالد زید بن خالد جوہنی
09:08رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں
09:10کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شات فرمایا
09:12کیا میں تم کو سب سے بہترین گواہ کی خبر نہ دوں
09:15یہ وہ شخص اس سے سوال کرنے سے پہلے شہادت دیتا ہے
09:20مراد یہ ہے کہ اگر کوئی جھگڑا چل رہا ہے
09:23کوئی مسئلہ چل رہا ہے
09:24تو لوگ آپ کے پاس آ کر کہیں
09:26کہ یار تم گواہی دو تاکہ جھگڑا وغیرہ ختمو
09:28اس سے بہتر یہ ہے
09:30کہ جب آپ یہ دیکھتے ہیں
09:31کوئی پھڑا وغیرہ ہو رہا ہے
09:32غلط ہو رہا ہے
09:33تو پھر آپ جا کے خود گواہی دے دیں
09:34جیسے مثال کے طور پر
09:36روڈ ایکسیڈنٹ ہو جاتا ہے
09:38اس میں ایک فریق کی غلطی ہوتی ہے
09:40دوسرے کی نہیں
09:40پولیس والے وہاں پر آ جاتے ہیں
09:42کوئی فریق اپنی غلطی ماننے کے لئے
09:44تو تیار نہیں
09:45ہمارا ایمان اتنا کمزور ہے
09:46کہ چند ٹکے جانے کے خوف کی وجہ سے
09:49ہم خدا کی قسم بھی کھانے کے لئے
09:51جھوٹی قسم کھانے کے لئے تیار ہو جاتے ہیں
09:53اور ہر ایک دوسرے کو بلیم دے رہا ہوتا ہے
09:55کہ میرا کوئی خصور نہیں
09:56سارا خصور اس کا ہے
09:57ایسے ٹائم میں
09:59پھر یہ حدیث ہے گویا کہ
10:00کہ وہاں پر کوئی طلب تو نہیں کر رہا
10:02بہت سارے لوگ ہیں
10:03ایک آدمی نے خود آگے بڑھ کر کہا
10:05کہ میں نے یہ دیکھا تھا
10:07ان صاحب کی غلطی
10:08پیدل چلنے والے کی
10:09اسکوٹر والے کی غلطی تھی
10:10اس نے خود آ کے مارا ہے
10:11یہ وہ گواہی دے دے
10:13یہ ہے حدیث میں مطال
10:14لیکن یاد رکھیں کہ
10:16یہ اس وقت مناسب ہوگا
10:19کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم
10:20نے تو کوئی کنڈیشن بیان نہیں فرمائی
10:22لیکن جب بھی رحمت کونین صلی اللہ علیہ وسلم
10:24کا کوئی فرمان ہے
10:25تو اس میں بہت ساری کنڈیشنز ہوتی ہیں
10:27نبی کریم اس کو بعض اوقات
10:29بیان نہیں فرماتے
10:30یا اس مقام پہ بیان نہیں کیا
10:32دوسرے حدیثوں میں آ گیا
10:33تو بہرحال مسئلہ یہ ہوتا ہے
10:35کہ جب آپ کو یہ یقین ہو
10:36کہ اس گواہی کی وجہ سے
10:38میں خطرے میں نہیں پڑ جاؤں گا
10:41جان کا خوف ہو جائے
10:42مال کا خوف ہو جائے
10:43مثال کے طور پر دو آدمیوں میں
10:45اس طرح معاملہ ہوا
10:46جس کی گاڑی سے لگا ہے
10:47قصور اس کا ہے
10:48لیکن وہ بہت ہی
10:50ظالم اور منصف والا آدمی ہے
10:52اگر آپ نے جا کر
10:53وہاں اس کے خلاف
10:53گواہی دے دی
10:54تو پہلی بات تو یہ
10:55کہ آپ کا نام لکھ لیا جائے گا
10:57ایڈریس اور آپ کو
10:58کوٹ میں بھی بلائے جائے گا
10:59کیونکہ جب کیس فائل ہوتا ہے
11:01تو پھر
11:01وٹنس کو جا کے
11:03کوٹ میں گواہی دینی ہوتی ہے
11:04ایک تو اس کے لئے
11:05ٹائم نکالنا پڑے گا
11:06دیگر چیزیں
11:07دوسرا یہ کہ
11:08پھر وہ دشمن ہی بن جاتی ہے
11:09بعض اوقات گواہ کو اڑا دیتے ہیں
11:11کہ نہیں بھئی
11:12یہ دس سال بیس سال کیلئے
11:13سزا ہو جائے گی
11:14ان تمام چیزوں پر
11:15اچھی طرح اور کرنے کے بعد
11:16بہرحال فیر ہونا چاہیے
11:18یا خاندان میں
11:19کم از کم بھی دیکھ لیں
11:20کہ بعض اوقات
11:21ہمارے خاندانوں میں
11:22جھگڑا ہو جاتا ہے
11:23اور چھخاتہ پھڑا ہوتا ہے
11:24ایسے وقت میں
11:25کوئی ایک شخص
11:26ایسا بھی ہوتا ہے خاندان میں
11:27یہ ایک سے زائد بھی
11:28جو حقیقت حال پر متلع ہوتے ہیں
11:30انہیں پتہ ہے
11:31کہ صحیح معاملہ کیا ہوا تھا
11:33لیکن یہاں پر
11:34کوئی خطرہ بھی نہیں ہوتا
11:35بعض اوقات
11:35لیکن عزت بچاؤ
11:36مہم کے تحت
11:37ہم کہتے ہیں
11:37بھئی نکل جاؤ
11:38ہمیں کیا پڑھ
11:39ضرورت ہے
11:39کسی کے پھڑے میں پڑھنے کی
11:40ہم کیوں کسی کے برے بنیں
11:42یہ غلط رویہ ہوتا ہے
11:44جان کا اور عزت کا
11:45صحیح خوف ہو جائے
11:47کہ یہ میری عزت خراب کر دے گا
11:48یا جان سے مار دے گا
11:50تب رکنا جائز ہوتا ہے
11:51ورنہ جائز نہیں ہے
11:52چاہے ایک فریق آپ سے
11:54نراد ہو جائے
11:55آپ کو وہاں گواہی
11:56دینی چاہیے
11:57کیونکہ اگر آپ نہیں دیں گے
11:58تو یہ ہو سکتا ہے
11:59کہ ظالم غالب آ جائے
12:01اور بیچارہ مظلوم ہی
12:02ظالم قرار پائے
12:03اور پورا خاندان
12:04اس پہ تھوٹو کرے
12:05اور آپ اس پہ خاموش رہے
12:07تو یاد رکھیں
12:07کہ پھر آپ بھی
12:09اس میں برابر کے
12:10خصور وار ہیں
12:10اور برودی قیامت
12:12یہ شخص آپ پہ گریبان
12:13بھی پکڑ سکتا ہے
12:14گویا کہ اس ٹائم
12:15تو گواہی دینے
12:15ایک امانت کسی حیثیت
12:17رکھتا ہے
12:17کہ آپ کو اس امانت
12:18کو ادا کرنا چاہیے تھا
12:19اور اگر آپ نے
12:20گواہی دبالی
12:21تو گویا کے امانت میں
12:22خیانت کے مرتقب ہوئے
12:24دوسرا حضرت
12:27ایک اور حدیث ہے
12:28جو صحیح بخاری کے اندر آئے گی
12:30صحیح مسلم
12:30سننے ابی دعوت میں بھی ہے
12:32حضرت عمران
12:33رضی اللہ تعالیٰ عنہ
12:34بیان کرتے ہیں
12:35کہ نبی کریم
12:36صلی اللہ علیہ وسلم
12:37نے اشارت فرمایا
12:38تم میں بہترین لوگ
12:40وہ ہیں
12:40جو میرے
12:41زمانے میں ہیں
12:42پھر وہ لوگ
12:43جو ان سے قریب ہیں
12:44پھر وہ لوگ
12:45جو ان کے قریب ہیں
12:46یعنی تین زمانوں کے
12:48اچھے ہونے کی سرکار
12:49نے بشارہ دی
12:50پھر فرمایا
12:51پھر ان کے بعد
12:52وہ لوگ ہوں گے
12:53جو ازغود شہادت دیں گے
12:55اور ان سے شہادت
12:56نہیں طلب کی جائے گی
12:59یہ مقام مدہ میں ہے
13:00یعنی ایسے اچھے لوگ
13:01بھی آئیں گے
13:02کہ کوئی طلب
13:02نہیں کر رہا ہوگا
13:03لیکن وہ بات کی
13:04توصیق کے لیے
13:05ظالم کو
13:06اس کے
13:07ظلم کی صدد
13:09دلوانے کے لیے
13:10اور مظلوم کو
13:11ظلم سے روک
13:12بچانے کے لیے
13:12وہ گواہی خود دیں گے
13:14ایک حدیث اور
13:15لے لیتے ہیں
13:16یہ سننے
13:17صحیح مسلم میں بھی ہے
13:19اور سننے
13:19ابو دعود میں بھی ہے
13:20حضرت ابو دردہ
13:22رضی اللہ تعالیٰ
13:22انہوں بیان کرتے ہیں
13:30نہ گواہی دینے والے
13:32تو اس کا مطلب ہے
13:34جو بکسرت لانت کرتے ہیں
13:36اللہ تعالیٰ انہیں
13:37بروزی قیامت
13:38دو چیزوں سے محروم کر دے گا
13:40نہ وہ کسی کے شفاعت کر سکیں گے
13:42اور نہ ان کی گواہی
13:44کسی طور پر قبول ہوگی
13:46اس کا مطلب ہے
13:46کہ لانت کرنا
13:48بہت بری چیز ہے
13:49بعض ہماری بہنیں خاص پور پر
13:51چھوٹے چھوٹی باتوں پر
13:52بچوں پر لانت
13:53شوہر پر لانت
13:54ساس پر لانت
13:55بجلی چلے گئی
13:56بجلی پر لانت
13:57ہواہ بند ہو گئی
13:58ہواہ پر لانت
13:59اس طرح ان کی عادت ہوتی ہے
14:01یہ اچھی چیز نہیں ہوتی ہے
14:02کیونکہ جب ہم کہتے ہیں
14:03اس پر اللہ کی لانت
14:04تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے
14:06ہم یہ کہہ رہے ہیں
14:06اللہ تعالیٰ اس کو
14:07اپنی رحمت سے دور کر دے
14:08اور یہ مناسب چیز نہیں ہے
14:10اب آجئے یہ
14:12بخاری کی حدیثوں کے طرف
14:14دو ہزار چھ سو
14:16سینٹیس نمبر حدیث پاک ہے
14:18اور اس میں
14:19باب قائم کیا ہے
14:21بابن اذا عدل رجل احدا
14:23فقال لا نعلم
14:25اللہ خیر
14:26او قال ما علمتو
14:28اللہ خیرن
14:29یعنی جب ایک شخص
14:30کسی کو نیک قرار دینے کے لیے
14:32یہ کہے
14:33کہ ہم اس کے مطالق
14:34صرف خیر کو جانتے ہیں
14:35یا کہے
14:36کہ صرف خیر کو
14:37جانتا ہوں
14:39تو یہ کافی ہے
14:41یا نہیں
14:41اس پر حدیث لے کر آئے ہیں
14:43دو ہزار چھ سو سینٹیس نمبر
14:45حضرت ابن شہاب بیان کرتے ہیں
14:48کہ مجھے عروہ بن زبیر
14:50ابن مسیب
14:51القمہ بن وقاس
14:53اور عبیداللہ بن عبداللہ نے
14:55حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہ کی
14:59حدیث سے خبر دی
15:00اور ان میں سے بعض کی حدیث
15:03دوسروں کی حدیث کی تصدیق کر دی تھی
15:05یعنی الفاظ معانی جیسے ملتے جلتے تھے
15:09کہ جب حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہ پر
15:11تحمت لگانے والوں نے
15:13جو کہا سو کہا
15:15تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے
15:17حضرت علی اور حضرت عسامہ رضی اللہ تعالی عنہ کو بلایا
15:21جب آپ پر وہی آنے میں تاخر ہو گئی تھی
15:24تو آپ ان سے اپنی اہلیہ کو جدہ کرنے سے
15:28متعلق مشورہ کر رہے تھے
15:31پس رہے حضرت عسامہ
15:32تو انہوں نے کہا کہ یہ آپ کی اہلیہ ہیں
15:35اور ہمیں ان کے متعلق صرف خیر کا علم ہے
15:38اور حضرت بریرہ رضی اللہ تعالی عنہ نے کہا
15:42کہ مجھے ان کے متعلق ایسی چیز کا علم نہیں جو ان کے لئے باعث عیب ہو
15:47تاہم اتنی بات ضرور ہے کہ وہ کم عمر لڑکی ہیں
15:50وہ اپنے گھر والوں کا آٹا گونتے گونتے سو جاتی ہیں
15:55اور بکری آ کے آٹا کھا جاتی ہے
15:57تب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
16:00کہ مجھے شخص کے متعلق کون معذور قرار دے گا
16:03جس نے میرے گھر والوں کے متعلق مجھے عذیت پہنچائی ہے
16:06پس اللہ کی قسم مجھے اپنے اہلیہ کے مطابق
16:09خیر کے سوا اور کسی چیز کا علم نہیں
16:12اور انہوں نے ان کے ساتھ جس شخص کے ملوث ہونے کا ذکر کیا ہے
16:16اس کے متعلق میں مجھے سوائے خیر کے اور کسی چیز کا علم نہیں
16:22تو دیکھئے درہا اصل مسئلہ کیا تھا
16:27کہ وہی ایک کافلہ تھا
16:29سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہ اس کافلے میں تھی
16:32تو آپ غالباً قضاء حاجت کے لئے تشریف لے گئیں
16:36تو آپ کی ڈولی ہوتی تھی جس کو اٹھا کے لے کے چلے جاتا تھا
16:41تو وہ چونکہ ہلکی پھل کی تھی کم عمر تھی اس وقت
16:44تو وہ کافلے والوں نے پتہ نہیں چلا کہ آپ باہر ہیں
16:47وہ ڈولی لے کے چلے گئے
16:48سیدہ عائشہ واپس ہیں تو کافلہ چلا گیا تھا
16:51تو آپ وہی پر راستے میں تشریف فرما ہوئیں
16:54اور ایک صحابی تھے جن کا کام یہ تھا
16:56کہ وہ کافلے کے پیچھے پیچھے چلتے تھے
16:58کہ اگر کچھ چیز بھول جائیں تو وہ اٹھا لیں
17:00تو انہوں نے جب دیکھا کہ آپ تشریف فرمایا
17:02پوچھا آپ کون ہیں تو بتایا
17:04تو پھر آپ ان کو لے کر آئے
17:05تو منافقین نے
17:07مادلہ سمہ مادلہ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہ پر کے بارے میں
17:11نازیبہ کلمات کہے
17:13جو آپ سمجھ جائیں گے کہ وہ اس طرح کہے
17:16اس سے رحمت کونین صلی اللہ علیہ وسلم کو بڑی عذیت اور تکلیف ہوئی
17:20اور یہ منافقین کا اتنا بڑا
17:23یعنی قصور اور اتنا ان کا قبیح فعل تھا
17:27کہ یہ نہیں دیکھا کہ رحمت کونین صلی اللہ علیہ وسلم کا قلب انور رجیدہ ہوگا
17:31اور جن خاتون کے بارے میں کہہ رہے ہیں وہ امہات المومنین ہیں اور تمام مومنین کی مائیں ہیں
17:38لیکن انہیں اس طرح بول دیا
17:40تو رحمت کونین صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر اس لیے حضرت عسامہ غرہ کو بلایا
17:46اور گواہی طلب کی کہ بتائیں کہ اس میں ان کے بارے میں تم خیر سمجھتے ہو
17:50یا کچھ اور معاملہ ہے
17:51تاکہ میں طلاق دوں یا نہ دوں
17:54اس پہ میں انشاءاللہ مزید کلام کروں گا
17:56لیکن اگلے پور احمد و آخر دعوانا
17:58ان الحمدللہ رب العالمین
18:01انشاءاللہ
Comments

Recommended