Skip to playerSkip to main content
Abu Lahab Kon Tha? | The Mysterious Death of Abu Lahab | Seerat-un-Nabi ﷺ | Noor TV

Abu Lahab, jo Hazrat Muhammad ﷺ ka sagha chacha tha, lekin Islam ka sabse bara dushman bana. Yeh wahi shakhs hai jiske haq mein Surah Al-Lahab naazil hui, jismein uske tabah hone ki paishgoi ki gayi thi. Is video mein hum Abu Lahab ki mukammal tareekh, uski Islam dushmani aur uske purisrar anjaam ka tafseelat se jaiza lenge.

Abu Lahab ne Nabi Kareem ﷺ ki har qadam par mukhalifat ki, unke dawat-e-Islam ko badnaam karne ki koshish ki aur har tarah ke zulm kiye. Lekin Allah ki qudrat ne uska anjaam ek ajeeb tareeke se likha. Surah Al-Lahab ki paishgoi ke mutabiq, Abu Lahab ek sharmnaak bimari mein mubtala ho kar tabah ho gaya. Uska jisam sarne laga, log uske paas jaane se bhi ghabrane lage, aur aakhir usay mitti aur pathar maar kar dafn kar diya gaya.

Kya Surah Lahab ki paishgoi sach hui? Kya Abu Lahab ki maut ek Allah ka azeem mojza tha? Yeh sab is video mein tafseel se dekhiye.

Agar aap Islam ki tareekh aur Qur’an ki paishgoiyon ke mutabiq Abu Lahab ka anjaam samajhna chahte hain, to yeh video zaroor dekhein. Noor TV aapko haqeeqat se roshan karega!

📢 Like, Share & Subscribe 💖
🔔 Bell Icon Zaroor Dabayein Taake Aapko Naye Islamic Videos Ki Notifications Milti Rahein

#AbuLahab #SeeratUnNabi #IslamicHistory #SurahLahab #IslamicTeachings #QuranicStories #NoorTV #IslamicKnowledge #IslamicBayan #ProphetMuhammad

Category

📚
Learning
Transcript
00:02Assalamualaikum warahmatullahi wabarakatuh
00:30حکم کو چیلنج کرنا گوئے اپنی موت کو دعوت دینا تھا
00:33مگر وہ ایک لمحہ آیا
00:35ایک اعلان گھونجا
00:36ایک آواز بلند ہوئی
00:38اور یوں تاریخ کا دھارہ بدل گیا
00:40محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے
00:44جب رب العالمین کا پیغام مکہ کی گلیوں میں سنایا
00:47تو یہی طاقتور شخص
00:48سب سے پہلے دشمن بن کر کھڑا ہو گیا
00:51وہ جس نے خود کو سب سے بڑا سمجھا
00:53وہ جس نے حق کو اپنے غرور کی ٹھوکر میں رکھنے کی کوشش کی
00:56وہی ایک دن زلد کی
00:58عطاہ گیرائیوں میں گرا دیا گیا
01:00یہ وہی ابو لاحب تھا جو اپنی زبان کے زہری لے نشتر چلاتا رہا
01:03جو ہر وقت نور اسلام کو بجھانے کی سازشیں کرتا رہا
01:06جو اپنے مال و جائدات پر نازہ ہو کر
01:09یہ سمجھتا رہا
01:10کہ وہ ہمیشہ کامیاب رہے گا
01:12مگر تاریخ نے اسے ایک ایسی لانت کا مستحق ٹھہرایا
01:16جو قیامت تک اس کے نام کے ساتھ جھوڑی رہے گی
01:19جب مکہ کی گلیوں میں اس کا جاہو جلال تھا
01:21جب وہ اپنی زبان درازی کے نشتر چلاتا تھا
01:23تب کسی نے سوچا بھی نہ ہوگا
01:25کہ یہی شخص ایک دن زلد کی کھائی میں گرے گا
01:28وہی ہاتھ جو اللہ کے نبی کے خلاف اٹھتے تھے
01:31ہمیشہ کے لئے کارٹ دی جائیں گے
01:33وہی غرور جو سر پر سوار تھا
01:35خاک میں ملا دیا جائے گا
01:37اور وہی زبان جو آگ اگلتی تھی
01:39ایسی ہولناک بیماری کا شکار ہوگی
01:41کہ لوگ اس کے قریب جانے سے بھی قطرائیں گے
01:43یہ قرآن کی پہلے زندہ مثال تھی
01:45کہ جو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دشمنی رکھے گا
01:49اس کا انجام کیا ہوگا
01:51تبتی ادا ابی لحبی وطب
01:54کا اعلان ہوا
01:55اور اللہ نے خود اس کے انجام کی گواہی دی
01:57یہ وہ انجام تھا
01:59جو صرف ایک شخص کی نہیں
02:00بلکہ ہر اس نفس کی تقدیر ہے
02:02جو حق سے دشمنی کرتا ہے
02:04جو اپنی طاقت و دولت کو حق کے خلاف استعمال کرتا ہے
02:07جو اپنے انجام کو بھول کر
02:09دنیا کے نشے میں مست رہتا ہے
02:11یہ کہانی ایک شخص کی ہلاکت کی نہیں
02:13یہ اس پیغام کی گواہی ہے
02:14جو قیامت تک کے لیے محفوظ کر دیا گیا
02:17آج بھی جب کوئی اپنی دولت
02:19طاقت اور غرور کے نشے میں
02:21حق سے ٹکراتا ہے
02:22تو تاریخ اسے ابو لاحب کی مثال دے کر
02:25خبردار کرتی ہے
02:26وہ ابو لاحب جو قلقہ سردار تھا
02:29آج صرف لعنت کی علامت ہے
02:31بسم اللہ الرحمن الرحیم
02:34السلام علیکم بحمد اللہ و برکاتہ
02:37میں ہوں جمیل احمد جامی
02:39ناظرین آج کی ویڈیو میں ہم
02:41ایک نہایت اہم اور دلچسپ موضوع پر روشنی ڈالیں گے
02:44ہم آپ کو بتائیں گے
02:45کہ کس طرح آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے
02:47سب سے بڑے دشمنوں میں سے ایک
02:49ابو لاحب نے آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو
02:53عذیت پہنچانے کی بھرپور کوشش کی
02:55اور اس کی بیوی کا ظلم
02:56اور بیزاری کی انتہا کس طرح تھی
02:59آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ
03:01ان کے بدترین سلوک کی حقیقت میں
03:03کیا اثر پڑا
03:04اور سب سے اہم سوال یہ
03:06کہ قرآن کی کونسی صورت
03:07اس لائین کی عذاب اور وعید میں ناصل ہوئی
03:10اس کے علاوہ ابو لاحب کی اولاد کے ایمان کے بارے میں
03:13کیا کچھ تاریخ نے ہمیں بتایا ہے
03:15ان کی گستاخیوں کی حقیقت
03:16اور اس کے اثرات پر بھی ہم تفصیل سے گفتگو کریں گے
03:19اس ویڈیو کو پورا دیکھیں
03:20کیونکہ اس میں ہم آپ کو
03:22ایک اور اہم سنجیدہ موضوع کے بارے میں
03:24مکمل معلومات پر اہم کریں گے
03:26جس سے آپ کو تاریخ کا ایک اہم پہلو
03:28جاننے کو ملے گا
03:29تو براہ کرم ویڈیو کو اس کی پمت کیجئے گا
03:32اور آخر تک لازمی دیکھئے گا
03:34ناظرین ابو لاحب
03:35رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا چچا تھا
03:38لیکن اس نے زندگی بھر
03:39آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خلاف
03:42شدید اداوت کا مظاہرہ کیا
03:44ابو لاحب کا اصل نام عبدالعوزہ
03:46بن عبدالمطلب تھا
03:47اور اسے ابو لاحب کا لقب چہرے کی چمک کی وجہ سے دیا گیا
03:50جو آگ کے باپ
03:52جہنمی کی علامت بن گیا
03:53اس کی بیوی ام جمیل
03:55جو ابو سفیان کی بہن تھی
03:57بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دشمن تھی
03:59اور ان کے لئے عذیت رسانی کا
04:01کوئی موقع نہیں چھوڑتی تھی
04:03قرآن کی سورہ لاحب میں
04:04ان دونوں کی مظمت کی گئی ہے
04:06اللہ تعالیٰ نے ابو لاحب اور ان کی بیوی کے بارے میں فرمایا
04:09ابو لاحب کے ہاتھ ٹوٹیں
04:10اور وہ ہلاک ہو
04:11نہ اس کا مال
04:13نہ اس کی کمائی کچھ کام آئیں گے
04:14وہ جلد بھڑکتی آگ میں داخل ہوگا
04:16اور اس کی بیوی بھی این دن اٹھائے پھرتی ہے
04:19قرآن مجید میں
04:20وہ واحد مقام ہے
04:21جہاں کسی دشمن اسلام کا نام لے کر
04:23اس کی مظمت کی گئی ہے
04:25حالانکہ مکہ اور مدینہ سے
04:27بہت سے لوگ تھے
04:28جو اسلام اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دشمن تھے
04:31اور ابو لاحب سے کسی بھی طرح کم نہ تھے
04:34سوال یہ ہے کہ ابو لاحب کی کیا خاص بات تھی
04:36کہ اس کا ذکر نام لے کر کیا گیا
04:38اس سوال کو سمجھنے کے لئے ضروری ہے
04:40کہ ہم اس وقت کے عربی معاشرے کو جانے
04:42اور ابو لاحب کے کردار کو دیکھیں
04:44قدیم عرب میں ہر طرف بدمنی کا سامنا تھا
04:46اور لوگ اپنے خاندان رشتہ داروں کے علاوہ
04:48کسی سے کسی قسم کا تحفظ نہیں پاتے تھے
04:50اسی وجہ سے عربی معاشرت میں
04:52صلعہ رحمی رشتہ داریوں کا احترام بہت اہم تھا
04:55اور قطعہ رحمی
04:56رشتہ داریوں کو توڑنا تو
04:57بہت بڑا گناہ سمجھا جاتا تھا
04:59جب حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے
05:02اسلام کی دعوت دی
05:03تو قریش کے دوسرے خاندانوں اور سرداروں نے
05:05سخت مخالفت کی
05:06مگر بنی حاشم اور بنی عبد المطلب
05:09حاشم کے بھائی مطلب کے اولاد نے
05:11آپ کی حمایت کی
05:12حالانکہ وہ اکثر لوگ ایمان نہیں لائے تھے
05:14قریش کے دیگر خاندانوں نے
05:15حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے
05:17ان خونی رشتہ داروں کی حمایت کو
05:19ایک فطری عمل سمجھا
05:20اور ان پر کبھی یہ الزام نہیں لگایا
05:22کہ وہ اپنے آباؤ اجداد کے دین سے منحرف ہو گئے ہیں
05:25لیکن ابو لہب نے
05:26ان تمام عربی روایات کو پامال کر دیا
05:29وہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا چچا تھا
05:32اور دونوں کا خون ایک تھا
05:33عربی معاشرے میں چچا کو والد کی جگہ سمجھا جاتا تھا
05:36خاص طور پر اگر بھتیجے کا والد وفات پا چکا ہو
05:39تو چچا سے یہ توقع کی جاتی تھی
05:41کہ وہ بھتیجے کو اپنی اولاد کی ترازیز رکھے گا
05:43مگر ابو لہب نے
05:44اس فطری تعلق کو نظر انداز کرتے ہوئے
05:47اسلام کی دشمنی میں
05:48اپنے خاندان کی حمایت کو رت کیا
05:50ابن عباس نقل کی گئی روایات کے مطابق
05:52جب حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
05:55کو دعوت عام دینے کا حکم دیا گیا
05:57اور قرآن میں یہ ہدایت آئی
05:58کہ آپ اپنے قریبی رشتہ داروں کو عذاب سے خبردار کریں
06:01تو آپ نے صبح کے وقت
06:02کوہ صفحہ پر چٹھ کر
06:04بلند آواز سے پکارا
06:05یا سباہا
06:07اس آواز کو سن کر قریش کے لوگ جمع ہو گئے
06:09حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے
06:11ہر قبیل ایک نام لے کر کہا
06:13کہ اگر میں تمہیں بتاؤں
06:14کہ تم پر ایک لشکر حملہ آور ہے
06:16تو کیا تم میری بات سچ مانوگے
06:18لوگوں نے کہا ہاں
06:19ہاں ہم تم سے کبھی جھوٹ نہیں سن چکے
06:21آپ نے پھر انہیں اللہ کے عذاب سے خبردار کیا
06:24اس پر ابو لاحب نے فوراں کہا
06:27ستیناس ہو تجھے
06:28کیا تم نے ہمیں صرف اس لیے جمع کیا تھا
06:30ابو لاحب کا یہ رویہ
06:32اس بات کی علامت تھا
06:33کہ وہ اپنے خاندان کے عزت
06:35اور اصولوں کو رد کر چکا تھا
06:36اس کے ساتھ ہی اس کی بیوی امی جمیل بھی
06:38حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے
06:41دشمنوں میں شامل تھی
06:42وہ آپ کے گھر کے دروازے پر کانٹے دار جھاڑیا ڈالا کرتی تھی
06:45تاکہ آپ یا آپ کے خاندان کے افراد کو تکریف پہنچے
06:48آپ کا یمل بھی اس بات کو ظاہر کرتا تھا
06:50کہ ابو لاحب نے اسلام دشمنی میں
06:52اپنے اخلاقی اصولوں کو
06:54یکسر نظر انداز کر دیا تھا
06:56حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دو صاحبزادیاں
06:59ابو لاحب کے بیٹوں
07:00عطبہ اور عطبہ سے بھی آئے ہوئیں تھی
07:02جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے
07:04اپنی نبوت کا اعلان کیا
07:06اور لوگوں کو اسلام کی دعوت دینی شروع کی
07:08ابو لاحب نے اپنے دونوں بیٹوں سے کہا
07:10کہ اگر تم میری بیٹیوں کو طلاق نہ دے دو
07:13کہ تم ان بیٹیوں کو طلاق نہ دے دو
07:14تو تم سے ملاقات کرنا میرے لئے حرام ہے
07:16چنانچہ دونوں بیٹوں نے اپنی بیویوں کو طلاق دے دی
07:19عطبہ نے تو اس سے بھی آگے بڑھ کر
07:21ایک دن حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے آ کر
07:24قرآن کی آیت کا انکار کیا
07:26اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف تھوکا
07:28جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر نہیں پڑا
07:31حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے
07:33اس پر بددعہ کی کہ
07:34اے اللہ اس پر اپنے کتوں میں سے
07:36کسی کتے کو مسلط کرتے
07:37بعد ازا عطبہ اپنے والد ابو لہب کے ساتھ
07:40شام جانے کے لئے روانہ ہوا
07:41راستے میں ایک مقام پر قافلے والوں نے
07:43انہیں بتایا کہ یہاں رات کو درندے آتے ہیں
07:46ابو لہب نے قافلے والوں سے کہا
07:48کہ میرے بیٹے کی حفاظت کا انتظام کرو
07:50کیونکہ میں محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی
07:52بددعہ سے خوف زدہ ہوں
07:53قافلے والوں نے عطبہ کے اردگد
07:56اونٹوں کا گھیراہ کر لیا اور سو گئے
07:58رات کو ایک شیر آیا اور وہ
08:00اونٹوں کے ہلکے سے گزر کر عطبہ کو
08:02پھاڑ کر کھا گیا
08:03اس واقعے کے بارے میں مختلف روایت ہیں
08:05کچھ کا کہنا ہے کہ طلاق دینے کا واقعہ
08:07نبوت کے اعلان کے بعد پیش آیا
08:09جبکہ کچھ روایتوں میں اسے سورہ
08:11طبت یدہ کے نزول کے بعد کا واقعہ
08:13بیان کیا گیا ہے
08:14اس کے علاوہ یہ بھی اختلاف ہے کہ یہ واقعہ عطبہ کا تھا
08:17یا عطبہ کا
08:18مگر یہ بات ثابت ہے
08:19فتح مکہ کے بعد عطبہ نے اسلام قبول کیا
08:22اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے
08:24ہاتھ پر بیعت کی
08:25اس لئے صحیح بات یہی ہے
08:27کہ یہ واقعہ عطبہ کا تھا
08:29عطبہ کا خب سے نفس اس وقت بھی ظاہر ہوا
08:31جب حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صاحب زادے
08:34قاسم اور عبداللہ کا انتقال ہوا
08:36عطبہ خوشی خوشی قریش کے سرداروں کے پاس گیا
08:39اور کہا
08:40آج محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
08:42بے نام و نشان ہو گئے ہیں
08:43حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
08:46جب بھی کسی علاقے میں اسلام کی دعوت دیتے
08:48عطبہ آپ کے پیچھے پیچھے جاتا
08:50اور لوگوں کو آپ کی بات سننے سے روکتا
08:52ربیہ بن عباد الدیلی رضی اللہ عنہ
08:54بیان کرتے ہیں
08:55ایک روز میں ظلم جاز کے بازار میں تھا
08:58جہاں میں نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
09:01کو دیکھا
09:01جو لوگوں کو لا الہ الا اللہ
09:04کہنے کی دعوت دے رہے تھے
09:05تاکہ وہ فلاح پا سکیں
09:07اسی دوران پیچھے سے ایک شخص آوازے دے رہا تھا
09:09کہ یہ جھوٹا ہے
09:10دین آبائی سے منحرف ہو چکا ہے
09:12لوگوں نے بتایا کہ یہ آپ کا چچا
09:14ابو لہب ہے
09:15اسی طرح تاریخ بن عبداللہ المحاربی بھی
09:18اپنی روایت میں بیان کرتے ہیں
09:20کہ انہوں نے ظلم جاز کے بازار میں
09:22حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
09:24کو لا الہ الا اللہ کہنے کی دعوت دیتے ہوئے دیکھا
09:27اور پیچھے ایک شخص نے آ کر
09:29آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پتھر مارا
09:32جس کے نتیجے میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی
09:34ایڑیاں خون سے تر ہو گئیں
09:36لوگوں نے بتایا کہ یہ شخص ابو لہب تھا
09:38جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا چچا تھا
09:41نبوت کے ساتھ میں سال
09:42جب قریش کے تمام خاندانوں نے
09:44بنی حاشم اور بنی المطلب کو
09:47معاشی اور سماجی طور پر
09:48الگ تھلک کرنے کا فیصلہ کیا
09:50اور یہ دونوں خاندان
09:51رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی
09:53حمایت پر قائم رہتے ہوئے
09:55شیب ابی طالب میں محصور ہو گئے
09:57تو ابو لہب باہت شخص تھا
09:58جس نے اپنے خاندان کے بجائے
10:00قریش کے دشمنوں کا ساتھ دیا
10:01یہ معاشی مقاطعہ تین سال تک جاری رہا
10:04اور ان تین سالوں میں
10:05بنی حاشم اور بنی عبد المطلب کو
10:07سخت فاقو کا سامنا کرنا پڑا
10:09اس دوران ابو لہب کا ربیہ یہ تھا
10:11کہ جب مکہ میں
10:12کوئی تجارتی خافلہ آتا
10:13تو اگر کوئی شخص
10:14ان محصورین میں سے
10:15اس سے کھانا خریدنے جاتا
10:17تو ابو لہب تجاروں کو آواز دے کر کہتا
10:19ان سے اتنی زیادہ قیمت طلب کرو
10:21کہ خرید نہ سکیں
10:22اور جو نقصان ہوگا
10:23میں اس کا ذمہ دار ہوں
10:24اس طرح محصورین
10:25خالی ہاتھ واپس جاتے
10:27جبکہ ابو لہب پھر وہی سامان
10:29بازار کی قیمت پر خرید لیتا
10:30یہ وہ حرکتیں تھیں
10:32جن کی وجہ سے
10:32سورہ لہب میں
10:42کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
10:44کا چچہ
10:44کیسے بلا وجہ
10:45اپنے بھتیجے کی مخالفت کرتا ہے
10:47وہ حیران ہوتے تھے
10:48کہ کسی چچہ کو
10:49اپنے بھتیجے کے بارے میں
10:50ایسی نفرت کیوں ہوگی
10:51اس وجہ سے وہ ابو لہب کی باتوں سے
10:53متاثر ہو کر
10:53رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
10:55کے بارے میں
10:56شک میں مبتلا ہو جاتے تھے
10:58لیکن جب یہ صورت نازل ہوئی
10:59اور ابو لہب کی
11:00بد زبانیاں واضح ہو گئیں
11:02تو لوگوں کو سمجھ آ گیا
11:03کہ ابو لہب کے مخالفت
11:04صرف ذاتی دشمنی پر مبنی ہے
11:06اور اس کے قول کو
11:07مزید اہمیت نہیں دی جا سکتی
11:09اس کے علاوہ جب آپ
11:10صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
11:11کے چچہ کی
11:11مضمت کھلن کھلا کی گئی
11:13تو یہ بھی ثابت ہوا
11:14کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
11:16کے ساتھ
11:16نرمی
11:17یا مداہنت کا
11:18مظاہرہ نہیں کریں گے
11:19جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
11:21کے چچہ کا نام لے کر
11:22ان کے مضمت کی گئی
11:23تو لوگوں نے یہ سمجھ لیا
11:24کہ یہاں کسی قسم کی
11:26رشتداری
11:26یا تعلقات کی
11:27کوئی اہمیت نہیں ہے
11:28جو ایمان لاتا ہے
11:29وہ اپنا ہے
11:30اور جو کفر کرتا ہے
11:31وہ غیر ہے
11:31اور اس میں کسی کا خاندان
11:33یا نسبت
11:34کوئی ایمانیں نہیں رکھتی
11:35حضرت عصمہ بنت
11:36ابو بکر نے بیان کیا
11:38کہ جب سورہ لہب ناصل ہوئی
11:39اور ابو لہب
11:49اس دوران حضرت عبو بکر صدیق
11:51رضی اللہ عنہ قریب بیٹھے ہوئے تھے
11:53اور پیارے آقا
11:53صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
11:55نماز پڑھ رہے تھے
11:56ام جمیل غصے میں بڑھ بڑھاتی ہوئی
11:58حضرت عبو بکر کے پاس آئی
12:00اور کہا مجھے بتاؤ
12:01تمہارے رسول کہا ہے
12:02مجھے معلوم ہوا
12:03کہ انہوں نے میرے شوہر
12:04اور مجھے برا کہا ہے
12:05حضرت عبو بکر صدیق نے جواب دیا
12:07میرے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
12:09شاعر نہیں ہے
12:10کہ کسی کے ہجو کریں
12:11ام جمیل نے پورے حرم میں
12:13پھرنا شروع کیا
12:14اور بار بار
12:15حضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
12:16کو ڈھونڈا لیکن
12:17وہ آپ کو نہ دیکھ سکی
12:18حضرت عبو بکر صدیق
12:20رضی اللہ عنہ نے بعد میں
12:21حضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
12:23سے اس کا ذکر کیا
12:24تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
12:26نے فرمایا
12:26وہ کئی بار میرے غریب سے گزری
12:28مگر ایک فرشتہ
12:29میرے اور اس کے درمیان
12:30ہائل ہو گیا
12:31اس لیے وہ مجھے دیکھ نہ سکی
12:33اس واقعے کے بعد
12:34یہ آیت نازل ہوئی
12:36اور اے محبوب
12:37جب آپ قرآن پڑھتے ہیں
12:38تو ہم نے آپ اور ان لوگوں کے درمیان
12:40جو آخرت پر ایمان نہیں لاتے
12:41ایک پردہ ڈال دیا
12:42سور بنی اسرائیل آیت نمبر پیتالیس
12:45یہ واقعہ یقینی طور پر
12:47ایک موجزہ ہے
12:47جو حضور علیہ السلام کی
12:49بے شمار موجزات میں سے ایک ہے
12:51اور اسی طرح کے موجزات
12:52اولیاء اللہ سے بھی صادر ہوتے ہیں
12:54ہر ولی کی کرامت
12:55درقیقت ان کے نبی
12:56صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
12:58کے موجزات کا حصہ ہے
12:59ایک اور روایت میں ذکر ہے
13:00کہ جب سورہ لہب نازل ہوئی
13:02تو امی جمیل غصے میں آ کر
13:03حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
13:05کو برا بھلا کہنے لگی
13:06وہ اس وقت حضور کی تلاش میں تھی
13:08اور گاتی جا رہی تھی
13:09ہم نے مضمم یعنی محمد
13:11علیہ السلام کو رد کیا
13:13اور اس کے دین کا انکار کیا
13:15اور اس کے حکم کے نافرمانی کی
13:17اور وہ حضور علیہ السلام کی
13:19ہجو کر رہی تھی
13:20حضرت عبقر صدیق رضی اللہ عنہ
13:22نے اسے آتے ہوئے دیکھا
13:23تو کہا
13:23یا رسول اللہ
13:25یہ بدبخت آ رہی ہے
13:26اور مجھے ڈر ہے کہ
13:27آپ پر کوئی حملہ کرے گی
13:28آپ علیہ السلام نے فرمایا
13:30فکر نہ کرو
13:31وہ مجھ کو دیکھ نہیں سکے گی
13:32آپ علیہ السلام نے
13:34قرآن کی تلاوت شروع کر دی
13:35اور اللہ نے فرمایا
13:36اے نبی جب آپ قرآن کی تلاوت کرتے ہیں
13:38تو ہم آپ کے
13:39اور ان لوگوں کے درمیان
13:40جو آخرت پر ایمان نہیں لاتے
13:42ایک پردہ ڈال دیتے ہیں
13:43ام جمیل حضرت عبقر کے پاس آئے
13:45اور پوچھا
13:46تمہارا ساتھی کہاں ہے
13:47اس نے میری ہجو کی ہے
13:48حضرت عبقر صدیق نے جواب دیا
13:50میرے ساتھی نے تمہیں
13:51میرے ساتھی نے تمہارے ہجو نہیں کی
13:53اللہ کی قسم وہ ایسا نہیں کر سکتا
14:04اللہ عنہ نے
14:04اس میں کوئی جھوٹ نہیں کہا
14:06کیونکہ حضور علیہ السلام کے ہجو نہیں کی تھی
14:08بلکہ یہ اللہ کا حکم تھا
14:10ایک مرتبت جب وہ تواف کر رہی تھی
14:12تو اس کا پاؤں چادر میں پھنسا
14:13اور وہ گر گئی
14:14تو اس نے کہا
14:15مزمم غارت ہو
14:16اس پر ام الحکیم بنت عبد المتلم نے جواب دیا
14:20میں تو پاک دامن ہوں
14:22اور اپنے مو سے کچھ بھی نہیں بولوں گی
14:23ہم سب ایک ہی دادہ کی اولاد ہیں
14:25اور قریش کو
14:26اس سے زیادہ کچھ جاننے کی ضرورت نہیں
14:28بازار میں جب ام جمیل نے
14:30حضرت ابو بکر صدیق سے کہا
14:31کہ تمہارے ساتھی نے میری ہجو کی ہے
14:33تو حضرت ابو بکر صدیق نے قسم کھا کر کہا
14:35نہ وہ شائر ہیں
14:36نہ کبھی ایسا کچھ کیا ہے
14:38بعد میں حضرت ابو بکر صدیق نے
14:39حضور علیہ السلام سے پوچھا
14:41یا رسول اللہ
14:42کیا وہ آپ کو دیکھ نہیں سکی
14:44تو آپ علیہ السلام نے فرمایا
14:46ایک فرشتہ
14:47اس کے اور میرے درمیان
14:48حائل ہو گیا تھا
14:49جب تک وہ واپس نہیں چلی گئی
14:51کچھ اہل علم نے کہا
14:52کہ ابو لہب کی بیوی کے گلے میں
14:54جہنم کی آگ کی رسی ہوگی
14:56جس سے اسے کھینچ کا جہنم کے قریب لائے جائے گا
14:58پھر اسے اس میں ڈال دیا جائے گا
15:01اور یہ عذاب ہمیشہ اس طور جاری رہے گا
15:03عرب میں یہ رسی مسد کہلاتی ہے
15:05جس کا استعمال عربی اشار میں
15:07اس مانے میں بھی کیا گیا ہے
15:09ناظرین یاد رکھے کہ
15:10یہ مبارک صورت
15:11حضور علیہ السلام کے نبوت کی ایک بڑی دلیل ہے
15:14کیونکہ جیسے صورت میں
15:15ابو لہب اور اس کی بیوی کے بدبختی کی خبر دی گئی تھی
15:18بیسے ہی واقعہ وقوع پسیر ہوا
15:20اس صورت میں بلا باستہ اللہ تعالیٰ نے یہ پیج گوئی کی تھی
15:23کہ ابو لہب اور اس کی بیوی کبھی بھی اسلام قبول نہیں کریں گے
15:26اور ان کی موت زلط اور رسوائی ہوگی
15:28اور حقیقت میں ایسا ہی ہوا
15:29حالانکہ یہ صورت
15:30ابو لہب کی موت سے تقریباً
15:32دس سال پہلے نازل ہوئی تھی
15:34اس کے بعد ابو لہب کی بیٹی درہ
15:36اور اس کے بیٹے عطبہ اور متعب نے
15:38اسلام قبول کر لیا
15:39تفسیر میں یہ بھی ذکر ہے کہ جب جنگ بدر میں
15:42قریش کو شکست کی خبر ابو لہب کو مکہ میں پہنچی
15:45تو اسے اتنی تکلیف ہوئی کہ وہ سات دن سے
15:47زیادہ زندہ نہ رہ سکا
15:48اس کے بعد اس کو عدسہ کی بیماری لگ گئی
15:51جس کی وجہ سے اس کے گھر والے اسے چھوڑ گئے
15:54کیونکہ انہیں اس سے بیماری لگنے کا خوف تھا
15:56اس کی موت اتنی عبرتناک تھی
15:58کہ اس کی لاش تین دن تک پڑی رہی
16:00اور کوئی بھی اس کے قریب نہیں آیا
16:01آخر کار جب اس کے بیٹوں نے
16:03لوگوں کے تانے سننے شروع کیا
16:05تو انہوں نے کچھ حبشیوں کو عجرت دے کر
16:07اس کی لاش دفن کرائی
16:08ایک اور روایت میں آتا ہے کہ اس کی لاش کو
16:10ایک گھڑے میں ڈالا گیا اور اوپر سے مٹی ڈال کر چھپایا گیا
16:14اس طرح اللہ کا قرآن مجید میں آیا ہوا فرمان
16:16حرف بحرف سچ ثابت ہوا
16:18اتیبہ ابو لہاب اور اس کی بیوی کا انجام بہت عبرتناک تھا
16:21ابو لہاب چہچک کی بیماری کا شکار ہوا
16:24اور اس کی حالت اتنی بگڑ گئی
16:25کہ وہ گلد سڑ کر مر گیا
16:26اس کی لاش تین دن تک پڑی رہی
16:28اور کوئی بھی اس کی قریب نہ گیا
16:30لوگوں کو ڈر تھا
16:31کہ اس کے جسم سے وہ بیماری انہیں بھی لگ جائے گی
16:33جس سے وہ مرا تھا
16:34جب بدو پھیل گئی
16:35تو اس کے اہل خانہ کو سخت آر محسوس ہوئی
16:37ابو لہاب کی بیوی ام جمیل بھی
16:39آخر کار ایڑیاں رگڑ رگڑ کر مر گئی
16:41اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا
16:43اس کے گلے میں مونج کی رسی ڈال کر
16:45اسے جہانم میں پھیکا جائے گا
16:46وہ اپنے قیم تیہار پر فخر کیا کرتی تھی
16:48اور کہتی تھی
16:49کہ وہ اسے بیچ کر
16:50محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مخالفت کرے گی
16:53اللہ نے اسی گردن میں وہ توق ڈال دیا
16:55جو شیطان بھی اسے پناہ مانگے گا
16:57یہ باقیات ثابت کرتے ہیں
16:59کہ اللہ تعالیٰ اپنے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے گستاخوں کو
17:02دنیا میں ہی عبرت کا نشان بنا دیتا ہے
17:04ان کے آخرت کا ذاب تو بھی باقی ہے
17:06تاریخ گواہ ہے
17:07جس نے بھی نبی علیہ السلام کی توہین کی
17:10اس کا انجام عبرتناک تھا
17:12اور اتیبہ کا سر چبانے والا شیر بھی
17:14اس کی مثال ہے
17:16انشاءاللہ ایسے ہی شیر ہمیشہ آتے رہیں گے
17:18اللہ ہمیں نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے
17:21سچی محبت کی توفیق ادا فرمائے
17:23آمین
17:24ناظرین اسلام کا دامن کتنا بسی ہے
17:26اور نبی رحمت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حوصلے
17:29کتنے بلند ہیں
17:30کہ آپ کے بدترین دشمن بھی
17:32جب سچی توبہ کر کے آپ کے پاس آئے
17:34تو آپ نے کسی کو آر نہیں دلائی
17:36بلکہ ان کے قبول اسلام پر آپ خوشی سے سرشار ہو گئے
17:40بدترین دشمنوں کی اولاد بھی آپ کے پاس آئی
17:42تو آپ نے انہیں دھتکارنے کے وجہ سینے سے لگایا
17:45ابو لہب کے بیٹے اطبہ نے
17:47حالت کفر میں اپنے باپ کے زیر اثر
17:49حضور علیہ السلام کی بیٹی کو طلاق دے دی تھی
17:52تہام اس کی کوئی گستاخی
17:53تاریخ میں مذکور نہیں
17:54جس طرح اس کے بدبخت بھائی کی
17:56حرزہ سرائی اوپر منقول ہے
17:58لیکن فتح مکہ کے موقع پر آپ علیہ السلام کے چچا
18:02حضرت عباس سے
18:03اور اس کے بھائی مطب کو لے کر
18:05حضور کی خدمت میں حاضر ہوئے
18:07ان دونوں نے قبول اسلام کی خواہی ظاہر کی
18:09تو حضور بہت خوش ہوئے
18:11اور اپنے چچا حلت عباس رضی اللہ عنہ
18:13کو بھی مبارک بات پیش کی
18:14جنہوں نے اپنے بھتیجوں کو کفر کی زلالت سے نکال کر
18:17اسلام کی روشنی میں اللہ کھڑا کیا
18:19واضح رہے کہ ابو لہب کی بیٹی درہ
18:22بن طبی لہب فتح مکہ سے پہلے
18:24ہجرت کر کے مکہ سے مدینہ پہنچیں
18:26اور اسلام لائیں
18:27آپ علیہ السلام نے ان کی بہت تازیم و توقیر کی
18:30اور ان اپنے گھر میں مہمان بھی رکھا
18:32یہ ابو لہب کی بیٹی تھی
18:33مگر آپ علیہ السلام فرما رہے تھے
18:36میری بہن آئی ہے
18:37میری بہن کو خوش آمدید
18:38مرحبہ
18:39کفر و اسلام کی کشم کشم میں یہ واقعات
18:41بڑے ایمان افروز ہیں
18:42اور اہل ایمان کے لئے ان میں بہترین دروز ہیں
18:45ناظرین ابو لہب کی اولاد میں
18:46پانچ افراد نے اسلام قبول کیا
18:48ان میں سب سے پہلے
18:50عطبہ بن ابو لہب کا ذکر ہے
18:51جو نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چچا کے بیٹے تھے
18:54فتح مکہ کے بعد
18:56حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے انہیں تلاش کیا
18:58اور دونوں بھائیوں کو اسلام کی دعوت دی
19:00جسے انہوں نے قبول کر لیا
19:02عطبہ نے غزوہ حنین میں
19:03نبی علیہ السلام کے ساتھ حصہ لیا
19:06اور اسلام کے لئے اپنی جان کی قربانی دی
19:08دوسری بیٹی عزہ بن تبی لہب تھی
19:13اور صحابیہ کے طور پر جانی جاتی ہیں
19:15ان کا نکاح عوفی بن حکیم سے ہوا
19:18اور ان سے عبیدہ
19:19سید اور ابراہیم کی اولاد ہوئی
19:21خالدہ بنت ابی لہب بیس صحابیان تھی
19:23اور اسمان بن ابی آل آس سے ان کا نکاح ہوا
19:26ان کا ذکر کم کتب میں ملتا ہے
19:28تیسری بیٹی
19:29درہ بنت ابو لہب تھی
19:30جنہوں نے اسلام قبول کرنے کے بعد حجرت کی
19:33حضرت درہ رضی اللہ عنہ نے
19:35نبی علیہ السلام سے تسلی پائی
19:37اور حجرت کے بعد مدینہ میں رہی
19:39ان کا نکاح دہیہ بن خلیفہ سے ہوا
19:41جو نہایت خوبصورت اور جلیل القدر صحابی تھے
19:43ابو لہب کے تمام بچوں نے اسلام قبول کیا
19:46سوائے اتعبہ کے
19:47جس کا عبرتناک انجام شیر کے حملے سے ہوا
19:50یہ واقعہ ظاہر کرتا ہے
19:51کہ کفار کے گھروں میں بھی
19:53مسلمان پیدا ہو سکتے ہیں
19:54اور تاریخ میں ایسی کئی مثالیں ملتی ہیں
19:56ناظرین ابو لہب کے واقعے سے یہ سبق ملتا ہے
19:59کہ نبیوں اور رسولوں کی توہین
20:00اور ان کا مزاک اڑانا کوئی نئی بات نہیں ہے
20:03بلکہ یہ ہمیشہ سے کافروں اور مشرکوں کا معمول رہا ہے
20:06قرآن میں ہمیں یہ بات ملتی ہے
20:08کہ یہ سلسلہ حضرت نو علیہ السلام سے شروع ہو کر
20:10قیامت تک جاری رہے گا
20:12جیسے اللہ تعالی نے فرمایا
20:13اور تجھ سے پہلے بھی رسولوں کا مزاک اڑائے گیا تھا
20:16پھر ان مزاک اڑانے والوں کو وہی سزا ملی
20:18جس کا وہ مزاک اڑاتے تھے
20:22اس سے مراد یہ کہ دنیا میں یہ لوگ اس وقت خوش ہوتے ہیں
20:25جب وہ رسولوں کا مزاک اڑاتے ہیں
20:27مگر اللہ کی طرف سے انہیں محلت دی جاتی ہے
20:29اور پھر انہیں سخت سزا ملتی ہے
20:31قرآن و تاریخ اس بات کی گواہی دیتی ہیں
20:33کہ جو بھی نبیوں اور رسولوں کا مزاک اڑاتا ہے
20:36اسے دنیا میں زلط اور رسوائی کا سامنا کرنا پڑتا ہے
20:39سیدنا نوح علیہ السلام کے مزاک اڑانے والوں کو
20:41اللہ نے غرق کر دیا
20:42سیدنا حود علیہ السلام کے مزاک اڑانے والوں پر
20:45ایک زبردست ہوا مسلط کر دی
20:46جس نے انہیں تباہ و برباد کر دیا
20:48سیدنا لوت علیہ السلام کے مزاک اڑانے والوں کو
20:51اللہ نے آسمان سے زمین پر گرا دیا
20:53اور اسی طرح سیدنا شعیب علیہ السلام کے ساتھ
20:55مزاک کرنے والوں کو ایک ہالناک چیخ نے حلاک کر دیا
20:58فیرون کو حضرت موسیٰ علیہ السلام کا مزاک اڑانے پر
21:01پیامت تکلے زلیل و رسوہ کر دیا گیا
21:03اور سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کے مزاک اڑانے والوں کا بھی یہی حال ہوا
21:07ابو لحب کے ساتھ جو واقعہ پیش آیا
21:09وہ بھی اس بات کی دلیل ہے
21:10کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کی توہین کرنے والوں کو
21:13ہمیشہ کے زلت اور رسوائی کا سامنا کرایا ہے
21:15ابو لحب نے ایک بد دعا کی تھی
21:17جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ مسلمان آج تک
21:19سورہ لحب کی تلاوت کر کے
21:21اس کی حلاکت و بربادی کی دعا کرتے ہیں
21:23اس کی موت بھی ایسی تھی
21:25کہ اس کے اولاد نے بھی اس کی لاش کو
21:27چھونا گوارا نہ کیا
21:28اور اسے کئی دنوں تک کھلے میں پڑا رہنے دیا
21:30آخر کار شرمندگی کے مارے
21:32اس کی لاش کو دھکیل کا دفن کیا گیا
21:34نبی علیہ السلام کا نام ہی ایسا ہے
21:36کہ جتنا بھی کوئی شخص برائی کرے
21:38آپ کی عظمت میں کمی نہیں آسکتی
21:40کیونکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کا نام محمد رکھا ہے
21:42جو کہ تعریف کرنے والا
21:43جس کا ذکر آسمانوں اور زمینوں میں سب سے زیادہ ہو
21:46کا معنی رکھتا ہے
21:47جو شخص بھی آپ کی شان میں گستاخی کرتا ہے
21:50وہ دراصل اپنے آپ کو جھوٹا ثابت کرتا ہے
21:52کیونکہ اس نے اپنی زبان سے ہی
21:54محمد کہہ کر یہ اقرار کر لیا
21:55کہ یہ وہ شخص ہیں
21:56جن کی تعریف زمین و آسمان میں
21:58سب سے زیادہ کی جاتی ہیں
21:59حافظ ابن حجر رحمت اللہ علیہ نے
22:02محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعریف کرتے ہوئے کہا
22:05کہ محمد وہ ہیں جن کی تعریف بے شمار مرتبہ کی جائے
22:08اور جن کی تعریف کبھی خط نہ ہو
22:10اور جو اپنی تمام خصوصیات میں کامل و اکمل ہوں
22:13پیارے دوستو
22:14ابو لہب کی کہانی کسی عام انسان کی کہانی نہیں
22:17کہ تاریخ کا ایک ایسا علمیہ ہے
22:19جو ہر دور کے متکبر اور حق کے دشمنوں کو خبردار کرتا ہے
22:22اس کے انجام سے چند بڑے سبق حاصل ہوتے ہیں
22:25نمبر ایک
22:26حق سے دشمنی کا انجام ہمیشہ ذلت ہوتا ہے
22:28وہ شخص جو اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کرے
22:31وہ دنیا میں بھی رسوہ ہوتا ہے
22:39ابو لہب کے پاس سب کچھ تھا
22:40مگر جب اللہ کا عذاب آیا
22:42تو اس کی دولت طاقت اور خاندان میں سے
22:44کوئی بھی اسے بچانا سکا
22:45نمبر تین
22:46بد زبان اور گستاخ لوگوں کا انجام خوفناک ہوتا ہے
22:49اس کی زبان ہمیشہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی توہین میں مصروف رہی
22:53مگر آج وہی زبان ہمیشہ کے لیے لانت کی علامت بن گئی
22:57نمبر چار
22:57دنیا میں ہی حساب شروع ہو سکتا ہے
22:59بہت سے ظالم یہ سمجھتے ہیں کہ ان کا حساب آخرت میں ہوگا
23:02مگر ابو لہب کی مثال ہمیں یہ بتاتی ہے
23:04کہ اللہ بعض اوقات مجرموں کو دنیا میں ہی رسوہ کر دیتا ہے
23:07نمبر پانچ
23:08قرآن کی سچائی کا ثبوت
23:10ابو لہب کے خلاف قرآن کی پیشگوئی پوری ہوئی
23:12اللہ نے فرمایا تھا
23:13کہ وہ اور اس کی بیوی ہلاک ہوں گے
23:15اور وہ واقعی ذلت کی موت مرا
23:17اس کی بیوی بھی ایک علمناک انجام سے دوچار ہوئی
23:20آج کے ظالموں کے لئے وارننگ
23:22ابو لہب کی کہانی صرف ماضی کی کہانی نہیں
23:24بلکہ یہ ہر اس شخص کے لئے تنبیہ ہے
23:26جو غرور میں مبتلا ہو کر
23:27حق کے مقابلے میں کھڑا ہوتا ہے
23:29آج بھی جو لوگ طاقت کے نشے میں حق کو دمانے کی کوشش کرتے ہیں
23:32وہ یاد رکھیں
23:34کہ تاریخ میں ان کا انجام بھی
23:35ابو لہب جیسا ہی ہوگا
23:37جو لوگ اپنی دولت جائداد اور تعلقات پر ناز کرتے ہیں
23:40وہ سوچ لیں
23:40کہ جب اللہ کا عذاب آتا ہے
23:50ان کے لئے عبرت ہے
23:52یہ تاریخ کا فیصلہ ہے
23:53یہ قرآن کا اعلان ہے
23:55اور یہ اللہ کی سنت ہے
23:56کہ جو بھی حق کے مقابلے میں کھڑا ہوگا
23:58وہ زلت کے گھاٹ اترے گا
24:00اس کا نام ہمیشہ کے لئے لانت کا نشان بن جائے گا
24:03اور قیامت کے دن اس کے لئے کوئی بچاؤ نہ ہوگا
24:06ابو لہب آج کہاں ہے
24:07اس کی دولت کہاں ہے
24:09اس کا غرور کہاں ہے
24:10کہیں نہیں
24:11وہ صرف ایک لانتی مثال کے طور پر رہ گیا ہے
24:14اور یہی انجام
24:15ہر شخص کا ہوگا
24:16جو اللہ اور اس کے رسول
24:17صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دشمنوں میں شامل ہوگا
24:21ناظرین یہ تھی ہماری آج کی ویڈیو
24:22ہم امید کرتے ہیں
24:23کہ آپ کو ہماری آج کی یہ ویڈیو
24:25ضرور پسند آئی ہوگی
24:26اگر آپ کو ہماری آج کی یہ ویڈیو پسند آئی ہے
24:28تو آپ سے گزارش کرتے ہیں
24:29کہ آپ ہمارے چینل کو ضرور سبسکرائب کر لیں
24:31اور ساتھ ہی لگے بیل کے بٹن کو بھی پریس کر لیں
24:34تاکہ آپ کے پاس
24:35ہماری آنے والی مزید معلوماتی ویڈیوز کا نوٹفکیشن
24:38بروقت ملتا رہے
24:39سبسکرائب کے ساتھ ہماری ویڈیوز کو لائک بھی کریں
24:42اور اپنی قیمتی رائے کا اظہار کامنٹس میں ضرور کریں
24:44کامنٹس میں آپ اپنے سوالات بھی ہم تک پہنچا سکتے ہیں
24:47اللہ تعالیٰ آپ کو اپنے حفظ و مان میں رکھے
24:49آمین
Comments

Recommended