Skip to playerSkip to main content
Khamosh Qurbani | Shohar Ki Asal Mohabbat Aur Biwi Ka Pachtawa

Description:
Ek biwi apne seedhay saaday shohar ko hamesha neecha samajhti thi, lekin jab usne uski khamosh qurbani apni aankhon se dekhi, to uski poori zindagi badal gayi.
Yeh emotional kahani har husband-wife relationship ke liye ek gehra sabaq hai: mohabbat sirf paison se nahi, izzat, sabr aur qurbani se banti hai.

#KhamoshQurbani #ShoharKiMohabbat #UrduStory #MoralStory #HusbandWife

Category

📚
Learning
Transcript
00:00A good girl has a son of her name, I have written down that she has a real name.
00:04I had a broken character in the book, and it made me the idea that my husband was a good
00:11girl and good girl,
00:12a good house, a well-known house, and a house to make a good sense of good.
00:18But my husband had a good idea that my husband was a short one for a lot,
00:25a good girl was a big house and a good person.
00:42ڈاللہ کے ساتھ بہت برا سلوک کرتی تھی بات بات پر اسے بے عزت کرنا اس پر غصہ کرنا اور
00:53اسے تانے دینا میرا روز کا معمول بن چکا تھا
00:56but I was told that I always had a sad feeling for people
00:59I wouldn't have forgotten it
01:01so I have a big ego
01:03and took my hustle from home
01:04that I was going to do it
01:05I had a big 완벽
01:07that I was able to do it
01:08and I was glad that I always had a high altitude
01:12that I had a good plan
01:13I was told that I was able to do it
01:17that I was able to do it
01:17that I had a good job
01:18that I had a good job
01:19that I had a bad job
01:19and I told them that I had to use it
01:23but I have a good job
01:53ڈالی رہی
01:56وہ سب کا سب میں شہزادی کے ہاتھ پر ہی رکھتا ہوں
02:00میں اپنے پاس کچھ بھی نہیں رکھتا
02:02عمر کو نیچہ دکھانے اور اس رشتے کو توڑنے کے لیے
02:05میں نے وہاں ایک ناممکن شرط رکھ دی
02:08میں نے کہا کہ اگر میں واپس جاؤں گی
02:10تو صرف اس شرط پر
02:12کہ یہ مجھے ہر مہینے تیس ہزار روپے
02:14الگ سے میرا ذاتی خرچہ دیکھا
02:16کمرے میں بالکل خاموشی چھا گئی
02:18ابو نے عمر کی طرف دیکھا اور کہا
02:20ہاں بھئی عمر کیا تم تیس ہزار روپے خرچہ دے سکتے ہو
02:24عمر کچھ دیر تک خاموش رہا
02:26پھر اس نے ایک لمبی اور گہری سانس لی
02:29اور کہنے لگا کہ ٹھیک ہے
02:30میں شہزادی کو ہر مہینے تیس ہزار روپے دینے کے لیے تیار ہوں
02:34بس یہ میرے ساتھ گھر واپس چل پڑے
02:37میں نے دل میں اسے برا بھلا کہا
02:39اور سوچا کہ دیکھنا
02:41میں تمہارا جینا حرام کر دوں گی
02:43میں عمر کے ساتھ واپس تو آ گئی
02:45لیکن میرا رویہ اور تلخ ہو گیا
02:48جب میں نے اس سے پوچھا
02:49کہ تم کیا کام کرتے ہو
02:51تو اس نے بس اتنا کہا
02:52کہ وہ ایک سرکاری دفتر میں کام کرتا ہے
02:55اس کے علاوہ نہ میں نے کبھی گہرائی سے پوچھا
02:58اور نہ اس نے کبھی مجھے بتایا
03:00لیکن وہ اپنی زبان کا پکا نکلا
03:02ہر مہینے کی پہلی تاریخ کو
03:04وہ چپ چاپ تیس ہزار روپے لاکر
03:07میرے ہاتھ پر رکھ دیتا تھا
03:09اسے مزید تنگ کرنے کے لیے
03:11ایک دن میں نے کہہ دیا
03:12کہ عمر مجھے آئی فون چاہیے
03:14میں بس یہ چاہتی تھی
03:15کہ وہ میری فرمائشوں سے تنگ آ جائے
03:18اور خود مجھے طلاق دے دے
03:20وہ میری بات سن کر تھوڑا لڑ کھڑایا
03:22لیکن بولا
03:23شہزادی میں لا دوں گا
03:25تم پریشان نہ ہو
03:26بس مجھ سے دور جانے کی بات نہ کیا کرو
03:29تم جو کہو گی میں کروں گا
03:31میں کچن میں بھی اس کے ساتھ سخت زیادتی کرتی
03:34کبھی کھانے میں مرچیں تیز کر دیتی
03:36تو کبھی نمک بہت زیادہ ڈال دیتی
03:39وہ دن بھر کا تھکا ہارا
03:41کام سے گھر آتا
03:42اور جو کچھ بھی سامنے ہوتا
03:44چپ چاپ کھا کر بے ہوشوں کی طرح سو جاتا
03:47میں اکثر سوچتی تھی
03:48کہ یہ ایسا کون سا کام کرتا ہے
03:50جو اسے اتنا تھکا دیتا ہے
03:52پھر ایک دن وہ دوپہر آئی
03:54جس نے میری زندگی ہی بدل کر رکھ دی
03:57میں ایک ٹیکسی میں بیٹھ کر
03:59شہر کے سب سے بڑے مال میں
04:00شاپنگ کے لیے جا رہی تھی
04:02جب ہماری گاڑی بس اڈے کے پاس سے گزری
04:05اور میں نے باہر دیکھا
04:07تو میرا پورا وجود جیسے
04:09بے جان سا ہو گیا
04:10وہاں اس شدید گرمی اور دھوپ میں
04:12عمر کھڑا تھا
04:14وہ عمر جس سے میں شدید نفرت کرتی تھی
04:17جسے میں جاہل اور انپڑ کہتی تھی
04:19جسے میں نے کبھی پیار سے
04:21کھانا تک بھی نہیں دیا تھا
04:22وہ پھٹے پرانے کپڑے پہنے
04:24پاؤں میں ٹوٹی ہوئی جوتی ڈالے
04:26اپنی بسات سے زیادہ بھاری بوجھ
04:29اور سوٹ کیس اپنے سر اور کندھوں پر اٹھائے
04:32بسوں کی چھتوں پر چڑھ رہا تھا
04:35بوجھ کی وجہ سے اس کی ٹانگیں کھانپ رہی تھیں
04:37اتنے میں اڈے کے ایک انچارچ نے اسے آواز دی
04:41اوے چل یہ سامان اٹھا
04:42اور دوسری بس کی چھت پر لوڑ کر
04:45عمر جلدی سے بڑھا
04:46اس نے اپنی جیب سے ایک سوکھی ہوئی روٹی نکالی
04:49اسے رول کیا
04:50اور ایک ہاتھ سے روٹی کھاتے ہوئے
04:53دوسرے ہاتھ سے سامان اٹھانے لگا
04:55میرا دل چاہا کہ میں اسی وقت مر کیوں نہیں گئی
04:58یہ انسان میرے نخرے اٹھانے کے لیے
05:00میرے تیس ہزار روپے پورے کرنے کے لیے
05:03یہاں اپنی ہڈیاں پسوا رہا تھا
05:05جب تپتی دھوپ میں کام ختم ہوا
05:07تو وہ سڑک کنارے ایک دکان کے باہر
05:10مٹی پر ہی بیٹھ گیا
05:12اور تھکن سے چہرہ ہاتھوں میں چھپا لیا
05:14وہ سارا دن وہاں یہ تپتی دھوپ اور درد سہتا تھا
05:18اور رات بھر گھر آ کر میری کڑوی باتیں برداشت کرتا تھا
05:22میں نے ٹیکسی والے سے کہا
05:24کہ گاڑی فوراں واپس موڑے
05:26میں گھر آئی دروازہ بند کیا
05:28اور پھوٹ پھوٹ کر روئی
05:30عمر کو مٹر پلاو بہت پسند تھا
05:32لیکن میں نے کبھی اس کے لیے دل سے نہیں بنایا تھا
05:36اس دن میں نے اپنے ہاتھوں سے بہترین پلاو تیار کیا
05:39رات کو جب عمر گھر آیا
05:40تو حسب معمول وہ کچن کی طرف گیا
05:43تاکہ خود کھانا گرم کر کے کھا سکے
05:45لیکن جیسے ہی اس نے گرم گرم پلاو دیکھا
05:48اس کا چہرہ کھل اٹھا
05:50وہ پلیٹ میں پلاو نکال کر میرے پاس بیٹھ گیا
05:53اور کہنے لگا
05:54شہزادی آج تو آپ نے کمال کر دیا
05:57اتنا لذیذ پلاو میں نے سالوں بعد کھایا ہے
05:59میں خاموش بیٹھی اس کا چہرہ دیکھتی رہی
06:02میرا شوہر کتنا درد چھپائے ہوئے تھا
06:05اور اس نے کبھی مجھ سے ایک شکوا تک نہیں کیا تھا
06:08کھانا کھانے کے بعد اس نے اپنی جیب سے پیسے نکالے
06:12اور میز پر رکھ دئیے
06:13یہ لو شہزادی تمہارے تیس ہزار روپے
06:16یہ دیکھ کر میرے صبر کا بندھن ٹوٹ گیا
06:19میں چیخیں مار کر رونے لگی
06:21اور بھاگ کر اس کے قدموں میں گر گئی
06:24میں نے اس کے پاؤں چوم لیے
06:25اور روتے ہوئے کہا
06:27عمر مجھے کچھ بھی نہیں چاہیے
06:29مجھے یہ پیسے نہیں چاہیے
06:31خدا کے لیے مجھے معاف کر دو
06:33وہ بالکل حیران رہ گیا
06:34کہ مجھے اچانک کیا ہو گیا ہے
06:36اس نے محبت سے میرے ہاتھ تھامے
06:39اور مجھے اٹھاتے ہوئے بولا
06:40شہزادی اگر یہ پیسے کم ہے
06:43تو میں اور محنت کر لوں گا
06:45کہیں اور سے لا دوں گا
06:46بس تم مجھے چھوڑ کر جانے کی بات نہ کرنا
06:49تم بہت بھولی ہو
06:50بہت پاگل ہو
06:51میں تم سے بہت پیار کرتا ہوں
06:53اگر تم مجھ سے الگ ہو گئی
06:55تو اس ظالم دنیا میں کہاں بھٹکو گی
06:57میں تمہیں خود سے دور نہیں کر سکتا
07:00اس کے ان الفاظ نے
07:01میری انا کو ہمیشہ کے لیے ختم کر دیا
07:04میں نے روتے ہوئے کہا
07:05عمر مجھے نہ آئی فون چاہیے
07:07نہ گاڑی نہ بڑا گھر
07:09مجھے بس تم چاہیے ہو
07:11اور اس دن کے بعد سے
07:12میری پوری دنیا میرا عمر بن گیا
07:15ہم عورتیں کبھی کبھی
07:17بہت آسانی سے کہہ دیتی ہیں
07:19کہ جب کما نہیں سکتے تھے
07:21تو شادی کیوں کی
07:22ہم بات بات پر جھگڑے کرتی ہیں
07:24اور تانے دیتی ہیں
07:25لیکن کبھی اپنے شوہر کا
07:27وہ چہرہ بھی دیکھو
07:28جو میں نے عمر کا دیکھا تھا
07:30خدا کی قسم
07:31جس ماحول
07:32اور جن سختیوں میں
07:34ایک مرد اپنی فیملی کے لیے
07:36دن رات خود کو قربان کرتا ہے
07:38ہم وہاں ایک پل سانس بھی نہ لے سکیں
07:41وہ اتنی تکلیفیں اٹھا کر
07:43ہمارے لیے حلال روزی کما کر لاتا ہے
07:46شوہر جتنا بھی کماتا ہے
07:47اس میں خوش رہنا سیکھیں
07:49کیونکہ سب کچھ پیسہ نہیں ہوتا
07:51خدا کی قسم
07:52مجھے بڑی گاڑیوں اور بنگلوں میں
07:54وہ سکون کبھی نہیں ملا
07:56جو مجھے عمر کی باہوں میں ملا
07:58جو سکون عمر کے
08:00تھکے ہوئے سر کو دبانے میں ملتا ہے
08:02اور جو خوشی
08:03اس کی پسند کا کھانا بنانے میں ملتی ہے
08:06اپنے ہمسفر کی بیبسی
08:08اور اس کی قربانی کو سمجھیں
08:10آپ کا رشتہ
08:11ہمیشہ محبت سے معتر رہے کا
08:14اللہ تعالی تمام میاں بیوی کے رشتوں میں
08:17محبت عزت اور ایک دوسرے کا
08:20احساس پیدا فرمائے
08:21آمین
Comments

Recommended