حضرت جعفر بن محمد علیہ الرحمہ سے مروی ہے کہ اس سے مراد حضور ﷺ ہیں اور کہتے ہیں کہ وہ قلب محمد ﷺ ہے اور یہ بھی استدلال کیا گیا ہے کہ اللہ عزوجل کے فرمان:
﴿وَ السَّمَآءِ وَ الطَّارِقِ(1) وَ مَاۤ اَدْرٰىكَ مَا الطَّارِقُ(2) النَّجْمُ الثَّاقِبُ(3)﴾
آسمان کی قسم اور رات کو آنے والے کی اور کچھ تم نے جانا وہ رات کو آنے والا کیا ہے، خوب چمکتا تارا۔( الطارق:۱-۳)
اس میں بھی النجم سے مراد حضور ﷺ ہیں سلمی علیہ الرحمہ نے اس کو روایت کیا۔
یہ آیات کریمہ حضور ﷺ کے فضل و شرف میں اس حد تک پہنچتی ہیں کہ کوئی عدد اس کو گھیر نہیں سکتا، اللہ عزوجل نے حضور ﷺ کی ہدایت اور خواہشات نفسانی کے اتباع سے بچنے ،سچائی اور تلاوت قرآن اور یہ کہ یہ کتاب اللہ عزوجل کی ایسی وحی ہے جو آپ ﷺ کی طرف جبرئیل علیہ السلام لے کر آئے جو مضبوط طاقت والا ہے ، کی قسم کھائی ہے۔
پھر اللہ عزوجل نے آپ ﷺ کی فضیلت میں واقعہ معراج اور سدرۃ المنتہٰی تک پہنچنے اور جو کچھ قدرت الٰہی کی بڑی نشانیاں ملاحظہ فرمائیں، ان کی خبر دے کر آپ ﷺ کی تصدیق کی ہے اور سورہ اسری کے شروع میں بھی اللہ عزوجل نے اس پر متنبہ کیا ہے
کتاب کا مکمل نام: الشفا بتعریف حقوق المصطفیٰ ﷺ
مختصر نام: الشفا شریف
مصنف: ابوالفضل قاضی عیاض مالکی اندلسی رحمۃ اللہ علیہ
مترجم: حضرت سید مفتی غلام معین الدین نعیمی رحمۃ اللہ علیہ
پانچویں فصل | اللہ کا اس مقام و مرتبہ کی قسم یاد فرمانا جو بارگاہ الہی میں حضور ﷺ کو حاصل ہے (حصہ 6)
#Shorts
#AlShifa
#FazailEMustafa
#MirajUnNabi
#Tafseer
#QadiIyad
#IslamicKnowledge
#SeeratunNabi
#QaziAyaz
#Miraj
#IslamicShorts
#MaqamEMustafa
#ShanEMustafa
#ProphetMuhammad
#ThinkGoodGreen
Comments