ابن عطاء رحمہ اللہ عزوجل کے فرمان ﴿قٓ وَالْقُرْاٰنِ الْمَجِیْدِ﴾ عزت والے قرآن کی قسم۔(قٓ:۱) کی تفسیر میں کہتے ہیں کہ اللہ عزوجل نے اپنے حبیب محمد ﷺ کے قلب کی قوت کی قسم اس لیے کھائی کہ وہ خطاب اور مشاہدہ کے برداشت کی طاقت رکھتا ہے، درانحالیکہ یہ امر اپنے اپنے علو شان کے لحاظ سے مشکل ہے۔ ایک روایت میں ہے کہ قرآن کا نام ہے ، بعض اللہ عزوجل، کا نام کہتے ہیں اور بعض کہتے ہیں کہ وہ ایک ایسا پہاڑ ہے جو کل زمین کو محیط ہے اور اس کے سوا اور بہت سے اقوال ہیں۔
وَ النَّجْمِ اِذَا هَوٰى ۱
اس پیارے چمکتے تارے محمد کی قسم جب یہ معراج سے اترے۔( النجم:۱)
مندرجہ بالا آیت کی تفسیر میں حضرت جعفر بن محمد علیہ الرحمہ کہتے ہیں کہ ’’ والنجم‘‘ سے مراد حضو رﷺ ہیں اور فرمایا کہ نجم (ستارہ)حضور ﷺ کا قلب مبارک ہے،’’ ھوی‘‘ کی تفسیر میں کہا کہ انوار الہی سے کھل گیا اور کہا کہ غیر اللہ سے (آپ کا دل) جدا ہو گیا۔ ابن عطاء علیہ الرحمہ اللہ عزوجل کے فرمان وَ الْفَجْرِۙ۱وَ لَیَالٍ عَشْرٍۙ۲ (الفجر:۱،۲) ’’ اس صبح کی قسم اور دس راتوں کی قسم ‘‘ کی تفسیر میں کہتے ہیں کہ فجر سے مراد حضور ﷺ ہیں کیونکہ آپ ہی سے ایمان ( کا اجالا)پھوٹ کر نکلتا ہے۔
کتاب کا مکمل نام: الشفا بتعریف حقوق المصطفیٰ ﷺ
مختصر نام: الشفا شریف
مصنف: ابوالفضل قاضی عیاض مالکی اندلسی رحمۃ اللہ علیہ
مترجم: حضرت سید مفتی غلام معین الدین نعیمی رحمۃ اللہ علیہ
#Shorts #AshShifa #ProphetMuhammad #QuranTafsir #IslamicKnowledge #QaziIyaz #SeeratunNabi #Tafseer #IslamicShorts #Islam #Islamic #ThinkGoodGreen
Comments