Skip to playerSkip to main content
  • 1 day ago
ششم یہ کہ اللہ عزوجل نے جو نعمتیں آپ ﷺ پر کی ہیں، ان کے اظہار کا حکم دیا اور جو بزرگیاں آپ ﷺ کو مرحمت ہوئی ہیں ان کے شکر پذیر ہونے اور اعلان کرنے کا حکم دیا، آپ ﷺ کے ذکر کو اس آیت سے مشہور کیا۔
﴿وَ اَمَّا بِنِعْمَةِ رَبِّكَ فَحَدِّثْ(11)﴾
اور اپنے رب کی نعمت کا خوب چرچا کرو۔
نعمت کا شکر یہی ہے کہ اس کی تحدیث یعنی چرچا کیا جائے کہ یہ حکم حضور ﷺ کے لیے تو خاص ہے ان امت کے لیےعام ہے۔
اللہ عز وجل فرماتا ہے:
﴿وَ النَّجْمِ اِذَا هَوٰى (إلى قوله تعالی) لَقَدْ رَاٰى مِنْ اٰیٰتِ رَبِّهِ الْكُبْرٰى﴾
اس پیارے چمکتے تارے محمد ﷺ کی قسم جب یہ معراج سے اترے (یہاں تک کہ) بیشک اپنے رب کی بہت بڑی نشانیاں دیکھیں۔ (النجم:۱-۱۸)
النجم کی تفسیر میں مفسرین کے بکثرت اقوال مشہور ہیں، ان میں سے ایک یہ کہ النجم اپنے ظاہری معنی پر ہے اور یہ کہ اس سے مراد قرآن ہے۔


کتاب کا مکمل نام: الشفا بتعریف حقوق المصطفیٰ ﷺ
مختصر نام: الشفا شریف
مصنف: ابوالفضل قاضی عیاض مالکی اندلسی رحمۃ اللہ علیہ
مترجم: حضرت سید مفتی غلام معین الدین نعیمی رحمۃ اللہ علیہ
پانچویں فصل | اللہ کا اس مقام و مرتبہ کی قسم یاد فرمانا جو بارگاہ الہی میں حضور ﷺ کو حاصل ہے (حصہ 5)


#Shorts
#AshShifa
#ShifaShareef
#ProphetMuhammad
#SeeratunNabi
#QaziIyaz
#QadiIyad
#Tafseer
#IslamicKnowledge
#Islam
#IslamicShorts
#ThinkGoodGreen

Category

📚
Learning
Comments

Recommended