Skip to playerSkip to main content
ابو الجوزاء نے کہا ہے کہ اللہ عزوجل نے حضور ﷺ کے سوا کسی کی حیات کی قسم نہ (بیان) فرمائی کیونکہ حضور ﷺ بارگاہ الہی میں ساری مخلوق سے زیادہ مکرم ہیں۔
اللہ عزوجل فرماتا ہے:
﴿یٰسٓۚ۝۱وَ الْقُرْاٰنِ الْحَكِیْمِۙ۝۲﴾
حکمت والے قرآن کی قسم(یٰسٓ:۱،۲)
کلمہ ” یٰسٓ“ کے معنی میں مفسرین کے چند قول ہیں، ابو محمد مکی علیہ الرحمہ حضور ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ حضور ﷺ نے فرمایا: خدا کی بارگاہ میں میرے دس نام ہیں ، ان میں ’’طٰہٰ‘‘ اور ” یٰسٓ“ بھی ہیں۔ (دلائل النبوۃ لابی نعیم ص ۶۱ ، مصنف ابن ابی شیبہ ج ۱ص ۴۵۷)
ابو عبدالرحمن سلمی علیہ الرحمہ حضرت جعفر صادق رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ ”یٰسٓ“ سے مراد’’ یَا سَیِّدُ‘‘ ہے جس کے ساتھ حضور ﷺ کو مخاطب کیا گیا ہے۔
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ ” یٰسٓ“ سے ’’ یا انسان‘‘ مراد لیتے ہیں ( تفسیر در منثور ج۲ص ۴۱) اور اس سے حضور ﷺ (اے مرد)۔
یہ بھی منقول ہے کہ یہ قسم ہے اور اسماے الہی میں سے” یٰسٓ“ بھی ایک نام ہے۔
(تفسیر ابن جریر ج ۲۳ ص ۹۷)
زجاج یہ کہتے ہیں کہ بعض نے کہا کہ اس کے معنی ’’ یا محمد‘‘ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں اور بعض نے یا رجل (اے مرد) بھی کہا ہے اور ابن الحنفیہ رحمۃ اللہ علیہ نے اس سے ’’ یا محمد‘‘ مراد لی ہے۔

(دلائل النبوہ للبیہقی ج ا ص ۱۵۸)

کتاب کا مکمل نام: الشفا بتعریف حقوق المصطفیٰ ﷺ
مختصر نام: الشفا شریف
مصنف: ابوالفضل قاضی عیاض مالکی اندلسی رحمۃ اللہ علیہ
مترجم: حضرت سید مفتی غلام معین الدین نعیمی رحمۃ اللہ علیہ

#AshShifa
#AshifaSharif
#QadiIyad
#QaziAyaz
#Yasin
#SurahYaseen
#Tafseer
#ShanEMustafa
#IslamicKnowledge
#ThinkGoodGreen

Category

📚
Learning
Comments

Recommended