- 1 week ago
Hazrat Sulaiman A.S ki wafaat ka waqia Quran Majeed ki Surah Saba mein bayan hua hai. Yeh ek aisi maut thi jis ne jinnat ke ghamand ko hamesha ke liye tor diya.
Jinnat samajhte thay ke woh ghaib jaante hain, lekin jab Allah ne apne Nabi Sulaiman A.S ki rooh qabz farma li to mahino tak unhein pata hi na chala. Woh kaam karte rahe, dar ke maare mehnat karte rahe — aur sach ek choti si dimmak ne khola.
Is video mein hum Surah Saba ki tafseer, jinnat ka guroor, Bayt ul Maqdis ki tameer aur Shehar e Saba ke anjaam ko detail mein samjhenge.
Agar aap Islamic history aur Quranic stories pasand karte hain to video end tak zaroor dekhein.
Jinnat samajhte thay ke woh ghaib jaante hain, lekin jab Allah ne apne Nabi Sulaiman A.S ki rooh qabz farma li to mahino tak unhein pata hi na chala. Woh kaam karte rahe, dar ke maare mehnat karte rahe — aur sach ek choti si dimmak ne khola.
Is video mein hum Surah Saba ki tafseer, jinnat ka guroor, Bayt ul Maqdis ki tameer aur Shehar e Saba ke anjaam ko detail mein samjhenge.
Agar aap Islamic history aur Quranic stories pasand karte hain to video end tak zaroor dekhein.
Category
📚
LearningTranscript
00:25Қυری بیادشاہ کی موت کی خبر مہینوں تک کسی کو نہ ہوئی
00:29और जब खबर हुई, तो एक छोटी सी दीमक के जरीए हुई
00:33यह वाकए है अबस्वाइब की वफात का
00:36और यह सिर्फ एक तारीख यह वाकए हैं
00:38भलके चुरान मजीद ने इसे हमशा के लिए
00:41अपने सफात में महफोश कर लिया है
00:43but, dear friends, sin which sin is going to be
00:56what shall bring them into common trust
01:01and religious
01:01دربار لگتا تھا جس کی مثال
01:03پوری انسانی تاریخ میں نہیں ملتی تھی
01:06ایک طرف انسانوں کا لشکر
01:07ہوتا دوسری طرف جنات کا لشکر
01:09تیسری طرف پرندوں کا لشکر
01:11اور درمیان میں ایک تخت جس پر
01:13بیٹھا ہوتا وہ شخص جسے
01:15اللہ نے پوری کائنات کا حاکم بنایا تھا
01:17ہوا ان کے حکم پر چلتی تھی
01:19صبح کا سفر ایک مہینے کا ہوتا تھا
01:22اور شام کا سفر بھی ایک مہینے کا
01:24لیکن حضرت سلمان
01:26علیہ السلام یہ دو مہینے کی
01:31حاضر رہتے کوئی گہرے سمندر میں
01:33غوتہ لگاتا اور موتی نکال لاتا
01:36کوئی پہاڑ کو تراش کر محل
01:37بناتا کوئی ایسی بڑی بڑی
01:39دیگیں بناتا جن میں
01:41پورے لشکر کا کھانا پکتا
01:43پرندوں کا ایک بہت بڑا لشکر ہر وقت
01:45آپ کے سر پر سایہ کیے رہتا
01:47یہ وہ نبی تھے جن کی دعا
01:49اللہ نے قبول فرمائے تھی
01:51انہوں نے اللہ سے مانگا تھا آئے میرے رب
01:53مجھے ایسی سلطنت عطا فرما
01:55جو میرے بعد کسی کو نہ ملے
01:57اور اللہ نے یہ دعا قبول فرمائی
01:59قرآن مجید میں اللہ نے خود گواہی دی ہے
02:02کہ ایسی سلطنت نہ پہلے کسی کو ملی
02:04نہ آگے کسی کو ملے گی
02:06دوستو اب ایک بہت دلچسپ واقعہ سنیں
02:09جو حضرت سلمان علیہ السلام کی زندگی کا
02:11ایک یادگار لمحہ ہے
02:13ایک دن آپ کے دربار میں
02:14ہدھد پرندے کی غیر حاضری نظر آئی
02:16جب سورج کے ایک کرن
02:18آپ کے چہرے پر آ پڑی
02:19تو آپ نے سر اٹھا کر اوپر دیکھا
02:21اور پرندوں کی صف میں ایک خالی جگہ نظر آئی
02:24وہ جگہ جہاں حدود بیٹھا کرتا تھا
02:26آپ نے فوری طور پر پرندوں کے
02:28نگرہ عقاب کو بلایا
02:30اور پوچھا کہ حدود کہاں ہے
02:32عقاب نے عدب سے عرض کیا
02:34اے اللہ کے نبی
02:36مجھ اس کے بارے میں کوئی علم نہیں
02:37میں نے اسے کہیں نہیں بھیجا
02:39حضرت سلمان علیہ السلام کو غصہ آئیر فرمایا
02:42کہ اگر یہ بغیر اجازت گیا ہے
02:43تو میں اسے سخت سزا دوں گا
02:45یا زباہ کر دوں گا
02:46ہاں اگر وہ کوئی بڑی خبر لے کر آیا ہے
02:48تو مارک کیا جا سکتا ہے
02:50عقاب فوری طور پر حدود کی تلاش میں اڑا
02:52اور بہت بلندی پر جا کر
02:54چاروں طرف نظر دوڑانے لگا
02:56اچانک اسے یمن کی طرف سے
02:57ایک چھوٹا سا پرندہ اڑتا ہوا نظر آیا
02:59وہ حدود تھا
03:00عقاب تیزی سے اس کی طرف جھپٹتا
03:03تاکہ اسے سزا دے
03:04لیکن حدود نے خوفزدہ ہو کر دعائے دی
03:06اے عقاب
03:07تجھے اس خدا کی قسم جس نے تجھے ہی طاقت دی
03:09مجھ پر رحم کر
03:10اور مجھے حرزت سلمان علیہ السلام کے پاس لے چل
03:13عقاب نے کہا
03:14تجھے معلوم ہے
03:15کیا اللہ کے نبی تم سے ناراض ہیں
03:17حدود نے قاب تے ہو پوچھا
03:18کیا انہوں نے معافی کی کوئی گنجائے چھوڑی ہے
03:21عقاب نے کہا
03:22ہاں اگر تم اپنی صفائے میں کوئی مضبوط دلیل پیش کر سکے
03:25یہ سن کر حدود کی جان میں جان آئی
03:28اس نے کہا انشاءاللہ میں بچ جاؤں گا
03:30جب دونوں دربار میں پہنچے
03:32تو حدود نے کمال آدزی دکھائی
03:34اس نے اپنی دم اور پر زمین پر گرا دیے
03:37اور گھسٹتا ہوا
03:39حضرت سلمان کے قریب گیا
03:40آپ نے جلال میں اس کا سر پکڑ کر
03:42اپنی طرف کھینچا
03:43اور پوچھا بتاؤ
03:43تم کہاں تھے
03:44اس وقت حدود نے ایک ایسی بات کہی
03:46جس نے حضرت سلمان علیہ السلام کے دل کو ہلا کر رکھ دیا
03:50اس نے کہا
03:51اے اللہ کے نبی پہلے میری بات سن دیجئے
03:53یہ سنتے ہی حضرت سلمان علیہ السلام کا بدن کام پھٹھا
03:56آنکھوں میں آسو آگر غصہ ٹھنڈا ہو گیا
03:59آپ نے اسے معاف کر دیا اور پوچھا
04:01اچھا بتا تم کیا خبر لائے ہو
04:03حدود نے بتانا شروع کیا
04:05اے اللہ کے نبی میں شہر سبا سے ایک یقینی اور سچی خبر لائے ہوں
04:09وہاں میں نے ایک ایسی عورت کو دیکھا
04:11جو ایک عظیم سلطنت کی ملکہ ہے
04:13اسے اللہ نے ہر نعمت سے نوازا ہے
04:15اور اس کے پاس ایک بہت بڑا اور شاندہ تخت ہے
04:18لیکن پھر حدود نے وہ بات کہی
04:20جس نے پوری فضا کو سنجیدہ کر دیا
04:22اس نے بتایا کہ وہ ملکہ اور اس کی پوری قوم
04:25اللہ کو چھوڑ کر سورج کی پوجہ کرتے ہیں
04:27شیطان نے ان کے بلے کاموں کو
04:29ان کی نظر میں اچھا بنا دیا ہے
04:31اور وہ حق کے راستے سے بھٹک چکے ہیں
04:34حضر سلیمان علیہ السلام نے فرمایا
04:36ہم ابھی دیکھ لیتے ہیں
04:37کہ تم سچ کہہ رہا ہو یا جھوٹ
04:39انہوں نے خط لکھا جس کی شروعات
04:41بسم اللہ الرحمن الرحیم سے ہوئی
04:43اور اس میں لکھا تھا کہ
04:44مجھ سے سرکشی نہ کرو
04:46اور فرما بردار بن کر میرے پاس چلے آو
04:48یہ خط حدود کی چونچ میں دے کر کہا
04:50کہ جاؤ اور اسے ملکہ کے پاس گرا دو
04:53پھر چھپ کر دیکھو کہ وہ کیا رد عمل دیتی ہے
04:55حدود وہ خط لے کر شہر سبا پہنچا
05:04اندر داخل ہوا
05:05اور وہ خط ملکہ کے سینے پر رکھ دیا
05:07جب ملکہ کے آنکھ کھلی
05:09اور اس نے وہ خط دیکھا تو دنگ رہ گئی
05:11محل کے تمام دروازے بنتے
05:13پھر یہ خط کیسے اندر آ گیا
05:14اسے یقین ہو گیا یہ کوئی معمولی بات نہیں
05:17ملکہ بلقیس
05:19جن کا اصل نام بلما تھا
05:21اور جو یمن کے بادشاہ شراحیل کی
05:23بیٹی تھی
05:24ایک نہایت دانا اور دور اندیش عورت تھی
05:27اس نے فوری طور پر اپنے وزیروں اور لشکروں کے سرداروں کو جمع کیا
05:30اور کہا کہ میری طرف ایک نہایت معزز خط بھیجا گیا ہے
05:33جو سلمان نبی کی طرف سے ہے
05:35سرداروں کو اپنی طاقت پر بڑا گرور تھا
05:38انہوں نے جوش میں آ کر کہا
05:39ملکہ ہم بڑے بے پناہ طاقت والے اور جنگجو لوگ ہیں
05:43آپ حکم دیں تو ہم لڑنے کو تیار ہیں
05:45لیکن ملکہ بلقیس نے ایک تاریخی جملہ کہا
05:48جب بادشاہ کسی ملک میں فاتح بن کر داخل ہوتے ہیں
05:51تو وہ شہروں کو برباد کر دیتے ہیں
05:53اور وہاں کی عزتدار لوگوں کو زلیل کر دیتے ہیں
05:56انہوں نے فیصلہ کیا کہ پہلے حضرت سلمان علیہ السلام کو آزماؤ
06:00کہ یہ صرف ایک دنیاوی بادشاہ ہے یا اللہ کے نبی
06:03ملکہ نے سوچا اگر یہ صرف بادشاہ ہوئے
06:05تو قیمتی تحایب دے کر خوش ہو جائیں گے
06:07اور اگر نبی ہوئے
06:08تو دنیاوی مال و دولت سے متاثر کرنا ممکن نہیں ہوگا
06:11چنانچہ ملکہ نے ایک عجیب امتحان تیار کیا
06:14پانس سو سونے کی ایٹیں بیش قیمت جواہرات
06:17مشکو امبر اور بہترین گھوڑوں کے ساتھ
06:19ایک وفت روانہ کیا
06:21اس وفت میں لڑکوں اور لڑکیوں کو
06:23ایک جیسے لباس پہنا کر بھیجا
06:25تاکہ ان کی شراخت مشکل ہو
06:26اور ایک صندوق میں دو موٹی رکھے
06:28ایک بالکل صاف اور دوسرا
06:30جس میں ٹیڑھا میڑا سراخ تھا
06:32اور پیغام بھیجا کہ اگر آپ واقعی نبی ہیں
06:35تو صندوق کھلے بغیر بتائیے
06:36کہ اس میں کیا ہے
06:37اور ان موٹیوں میں بغیر آگ اور لوہے کے سراخ کر کے دکھائیے
06:40ادھر حضرت سلیمان علیہ السلام کو
06:42اللہ تعالیٰ کی طرف سے پہلے ہی سب خبر ہو چکی تھی
06:45آپ نے جنات کو حکم دیے
06:47کہ آنے والے وفت کے استقبال کے لئے
06:48میلوں لمبی ایسی سڑک تیار کی جائے
06:51جو سونے اور چاندی کی ایٹوں سے بنی ہو
06:53جب وہ ملکہ کا سفیر منظر وہاں پہنچا
06:56تو اس کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں
06:57وہ جن سونے کی ایٹوں کو
06:59آلہ تحفہ سمجھ کر لائے تھا
07:00یہاں تو ان سے رستہ بنا ہوا تھا
07:03اور جانور ان پر چل رہے تھے
07:05منظر اتنا متاثر ہوا
07:07کہ اس نے اپنے لائے ہوئے تحائف
07:08اسی راستے کی خالی جگہ میں لگا دیئے
07:10کہ کہیں لوگ اسے چوڑ نہ سمجھ لیں
07:12جب وفت دربار میں پہنچا
07:14تو حضر سلمان علیہ السلام نے
07:15مسکراتے ہوئے استقبال کیا
07:17منظر نے بھی صندوق پیشی کیا تھا
07:19کہ آپ نے پہلے ہی بتا دیا
07:20کہ اس کے اندر کیا ہے
07:21پھر بچوں کے بارے میں
07:22آپ نے فوری طور پر بتا دیا
07:24کہ لشکر میں کون لڑکا ہے
07:25کون لڑکی
07:25رہا موتیوں کا سوال
07:27تو آپ نے ایک چھوٹے سے کیڑے دیمک کو حکم دیا
07:29جس نے پل بھر میں موتی میں
07:31سیدھا سراخ کر دیا
07:32اور ایک چھوٹی نے
07:35اپنے موں میں دھاگہ لے کر
07:36ٹیڑے سراخ والے موتی میں دھاگہ پرو دیا
07:39حضر سلمان علیہ السلام نے
07:41ملکہ کے تمام تحائف یہ کہہ کر
07:42واپس کر دیئے
07:44کہ اللہ نے مجھے جو کچھ دیا ہے
07:45وہ تمہارے ان تحائف سے کہیں بہتر ہے
07:47جاؤ اور بلقیس سے
07:48کہہ دو کہ
07:49یا تو وہ اطاعت قبول کرے
07:51ورنہ میں ایسا لشکر لے کر آؤں گا
07:53جس کا تم مقابلہ نہیں کر سکو گے
07:55جب سفیر نے واپس جا کر
07:57ملکہ کوئی سب بتایا
07:58تو بلقیس کو یقین ہو گیا
07:59کہ سلمان کوئی عام بادشاہ نہیں
08:01بلکہ اللہ کے نبی ہیں
08:02اس نے فوری طور پر حاضر ہونے کا فیصلہ کیا
08:05روانگی سے پہلے
08:06اس نے اپنے عظیم اس شان تخت کو
08:07سات لوہے کے کمروں میں بند کر دیا
08:10مضبوط تالے لگائے
08:11اور ایک ہزار فوجیوں کا پہرہ بٹھا دیا
08:14اسے کیا معلوم تھا
08:15کہ سلمان کے دربار میں
08:16تو ایسے لوگ موجود ہیں
08:18جن کے لئے تالے اور دیواریں
08:20کوئی معنی نہیں رکھتی
08:21جب ملکہ کا قافلہ قریب پہنچ رہا تھا
08:23تو حضرت سلمان علیہ السلام نے
08:25اپنے درباریوں سے پوچھا
08:26کہ تم میں کون ہے جو بلقیس کے پہنچنے سے پہلے
08:29اس کا تخت یہاں لے آئے
08:30ایک طاقتور جن نے کہا
08:32میں آپ کے دربار کے برخواست ہونے سے پہلے لے آؤں گا
08:35لیکن آپ نے فرمایا
08:36مجھے اس سے بھی جلدی چاہیے
08:37تب آصف بن برخیہ کھڑے ہوئے
08:48یہاں لاکر حاضر کروں گا
08:50ابھی حضرت سلمان علیہ السلام نے
08:52آنکھ جھپکی ہی تھی
08:53کہ وہ عظیم الشان تخت
08:55جو میلوں دور سات تالوں میں بند تھا
08:58دربار میں موجود تھا
09:00یہ دیکھ کر آپ پکار اٹھے
09:01حاضر من فضل ربی
09:03یہ میرے رب کا فضل ہے
09:05ملکہ بلقیس جب پہنچیں
09:07تو حضرت سلمان علیہ السلام نے جنات کو
09:09ایک اور حکم دیا تھا
09:10جس کی مثال انسانی تاریخ میں نہیں ملتی
09:13آپ نے ایک ایسا محل تیار کروایا تھا
09:15جو پورے کا پورا شیشے سے بنا ہوا تھا
09:17اس محل کے سہن میں فرش کے نیچے پانی بہتا تھا
09:20جس میں مچلیاں تیر رہی تھیں
09:22لیکن اوپر صاف شفاف شیشہ لگا تھا
09:25دیکھنے والے کو لگا
09:26کہ وہ پانی پر چل رہا ہے
09:28جب ملکہ بلقیس
09:29اس عالی شان محل میں داخل ہوئیں
09:31تو دنگ رہ گئیں
09:32جیسے ہی وہ سہن میں پہنچیں
09:34انہیں لگا کہ سامنے گہرا پانی ہے
09:37جس میں موجے اٹھ رہی ہیں
09:38انہوں نے گیلے ہونے کے ڈر سے
09:40اپنے کپڑے تھوڑے سے اوپر کر لیے
09:42تب حضرت سلمان علیہ السلام نے
09:44مسکراتے ہوئے فرمایا
09:45اے بلقیس گھبراؤ نہیں
09:46یہ پانی نہیں بلکہ صاف شفاف شیشہ ہے
09:49یہ سنتے ہی ملکہ کی اقل دنگ رہ گئی
09:52پھر جب انہوں نے وہاں اپنا تخت دیکھا
09:54جو وہ میلوں دور سات تالوں میں
09:56بند کر کے آئی تھی
09:57تو حضرت سلمان علیہ السلام سے پوچھا
09:59کیا تمہارا تخت بھی ایسا ہی ہے
10:01ملکہ نے حیرت سے کہا
10:02یہ تو بالکل وہی لگتا ہے
10:04اس لمحے ملکہ بلقیس کو یقین ہو گیا
10:07کہ یہ سب طاقت
10:08کسی عام انسان کی نہیں
10:09انہوں نے اپنے زندگی بھر کی
10:11سورج پرستی سے توبہ کی
10:13اور پکار اٹھی
10:14اے میرے رب
10:15میں نے غیر اللہ کی پوجہ کر کے
10:17اپنے نفس پر ظلم کیا
10:18اور امہ سلمان کے ساتھ
10:20اللہ رب العالمین پر ایمان لاتی ہوں
10:23دوستو یہ پوری داستان
10:24اس لیے سنائے کہ آپ کو اندازہ ہو
10:26کہ حضرت سلمان علیہ السلام
10:28کی زندگی کتنی واقعات سے بھری ہوئی ہے
10:30جن کے دربار میں ملکہیں
10:32حاضر ہوتی تھیں
10:33جن کے اشارے پر تخت منتقل ہوتے تھے
10:36جن کے حکم پر جنات سمندر کی گہرائیوں میں
10:39اترتے تھے
10:39اور پھر
10:40اس عظیم بادشاہ کی زندگی میں
10:42ایک ایسا لمحہ بھی آیا
10:44جو ہمیں یاد دلاتا ہے
10:45کہ اللہ اپنے پیاروں کو بھی
10:47کبھی کبھی تنبیح کرتا ہے
10:48ایک بار حضرت سلمان علیہ السلام
10:51نے جنات کے تفاقر کے جواب میں
10:53یہ کہہ دیا
10:54کہ میری اتنے بیویاں ہیں
10:55سب کی اولاد ہوگی
10:57اور وہ میرے لشکر کے شہ سوار بنیں گے
10:59لیکن اس موقع پر
11:01ان کی زبان سے انشاءاللہ نہ نکلا
11:03نتیجہ یہ ہوا
11:04کہ وہ تمنہ پوری نہ ہوئی
11:06اور صرف ایک نامکمل بچہ پیدا ہوا
11:08جسے ان کے تخت پر لا کر رکھ دیا گیا
11:11یہ ایک زندہ یاد دھیانی تھی
11:13کہ ہر کام
11:13اللہ کی مرضی سے مشروع ہے
11:15اور ایک بار ایسا ہوا جو ہمیشہ یاد رہتا ہے
11:18حضرت سلمان علیہ السلام
11:20جہاد کی تیاری کے لیے
11:21گھوڑوں کا معاینہ کر رہے تھے
11:23گھوڑے کے کر کے آتے رہے
11:25یہ گھوڑے اللہ کی رہا میں جہاد کے لیے تھے
11:27خالص اللہ کے لیے
11:29لیکن آپ اس قدر مگن ہو گئے
11:31کہ سورج غروب ہو گیا
11:33اور اثر کی نماز کا وقت نکل گیا
11:35جب انہیں احساس ہوا
11:37تو دل پر اتنی گہری ٹھیس لگی
11:39کہ انہوں نے کہا
11:40کہ مجھے گھوڑوں کی محبت نے
11:41اللہ کی یاد سے غافل کر دیا
11:43یہ سن کر اللہ نے اپنی قدرت کا ایسا مظاہرہ فرمایا
11:47جو آج تک دنیا میں صرف ایک بار ہوا
11:49دوبا ہوا سورج دوبارہ
11:51افق پر نمودار ہو گیا
11:52تاکہ اللہ کا نبی
11:54اپنی عبادت وقت پر ادا کر سکے
11:56تاریخ میں اس واقعے کو
11:58رجعت شمس کہتے ہیں
11:59ذرا سوچئے
12:00اللہ نے اپنے نبی کی خاطر سورج کو پلٹا دیا
12:03اب دوستو
12:04اس کے بعد وہ لمحہ آتا ہے
12:06جس کے لیے آج کی پوری گفتگو ترتیب دی گئی ہے
12:08حضرت سلمان علیہ السلام
12:10اپنے سلطنت کے عروج پر تھے
12:12بیت المقدس کی تعمیر جاری تھی
12:14وزیم مشان عبادت گاہ
12:16جو مسلمانوں کا قبل اول ہے
12:18جنات دن رات کام میں مگن تھے
12:20کوئی بڑے بڑے پتھر تراش رہا تھا
12:22کوئی اونچی اونچی دیوارے اٹھا رہا تھا
12:24کوئی محرابے بنا رہا تھا
12:26کوئی بڑے بڑے ہوس تیار کر رہا تھا
12:28کوئی طویل ستون کھڑے کر رہا تھا
12:31ہر طرف بھاری بھر کم کام جاری تھا
12:33اور جنات کے دل میں ایک ہی خیال تھا
12:35کہ نبیِ خدا ہمیں دیکھ رہے ہیں
12:37کام میں کوتا ہی نہیں کرنی
12:39ان دن حضرت سلمان علیہ السلام کا معمول تھا
12:41کہ وہ اپنے محرابے عبادت میں جاتے
12:44اپنی لاتھی پر ٹیک لگاتے
12:46اور اللہ کی عبادت میں مشغول ہو جاتے
12:48ان کا وہ محراب ان کے محل کے خاص حصے میں تھا
12:52ایک ایسی جگہ جہاں وہ دنیا کے شور سے دور ہو کر
12:55اپنے رب سے ہم کلام ہوتے تھے
12:57پوری کائنات کے حاکم کا یہ حال تھا
13:00کہ وہ اپنی لاتھی کے سہارے کھڑے
13:02جھکے ہوئے
13:03اللہ کا ذکر کرتے تھے
13:05کتنی خوبصورت تصویر ہے
13:07جسے دنیا بادشاہ کہتی تھی
13:10وہ اللہ کے سامنے ایک آجز بندے کی طرح کھڑا تھا
13:12پھر وہ لمحہ آیا جس کا اللہ نے فیصلہ کر رکھا تھا
13:15حضرت سلمان علیہ السلام
13:17اپنی لاتھی پر ٹیک لگائے
13:19اللہ کی عبادت میں مشغول تھے
13:21کہ اللہ نے ان کی روح قبض فرمالی
13:23لیکن جسم اپنی جکا رہا
13:25لاتھی پر ٹکا ہوا
13:27اسی آجزی والی حالت میں
13:29روح اللہ کے پاس چلی گئی
13:31لیکن ظاہری منظر وہی رہا جو ہمیشہ رہتا تھا
13:34بہا سے دیکھنے والے کو لگتا تھا
13:36کہ نبی خدا اپنے معمول کی عبادت میں ہیں
13:38جنات کو کیا پتا تھا
13:39وہ اپنے کاموں میں مگن رہے
13:41کوئی پتھر تراش رہا تھا
13:42کوئی دیوار اٹھا رہا تھا
13:43کوئی عمارت بنا رہا تھا
13:45سب کے دل میں یہی خوف تھا
13:46کہ نبی خدا ہمیں دیکھ رہے ہیں
13:48کام میں کمی نہیں آنی چاہیے
13:50ایک دن گزرا
13:51دو دن گزرے
13:52ہفتہ گزرا
13:53مہینہ گزرا
13:53اور جنات بدستور
13:55اپنے کاموں میں مشغول رہے
13:57انہوں نے ایک لمحے کے لیے بھی شک نہیں کیا
13:59کیونکہ وہ ہر وقت
14:00یہ دعوے کرتے تھے
14:02کہ ہم غیب جانتے ہیں
14:03وہ جنات جو آسمانوں کی خبر لانے کا دعویٰ کرتے تھے
14:06وہ اپنے سامنے ہونے والے
14:07واقعے سے یکثر بے خبر تھے
14:09ادھر بیت المقدس کی تعمیر مکمل ہوتی جا رہی تھی
14:13اللہ نے چاہا کہ جب تک
14:15یعظیم گھر مکمل نہ ہو جائے
14:16یہ راست پوشیدہ رہے
14:18اللہ کے حکمت دیکھئے
14:19اللہ نے جنات کے غرور کو توڑنے کے لیے بھی
14:22ایک مناسب وقت چنا
14:24جنات اللہ کے منصوبے کو پورا کر رہے تھے
14:27اپنے ڈر سے کام کر رہے تھے
14:29لیکن دراصل اللہ کا بیت المقدس تعمیر کر رہے تھے
14:32پھر اللہ نے اپنا آلہ میدان میں اتارا
14:34ایک دیمک
14:35وہ چھوٹی سی دیمک جسے دنیا حقیر سمجھتی ہے
14:38جسے انسان قدم تلے مسل دیتا ہے
14:41اللہ نے اسے ایک ایسے تاریخی کام کا ذریعہ بنایا
14:44جو دنیا کو آخر تک یاد رہے گا
14:46وہ دیمک آہستہ آہستہ اندھر ہی اندر
14:49لاتھی کو کھاتی رہی
14:50بار سے لاتھی
14:52بلکہ ٹھیک اور مضبوط نظر آتی تھی
14:54لیکن اندر سے کھوکلی ہوتی جا رہی تھی
14:57کسی کو خبر نہ تھی
14:59نہ جنات کو نہ انسانوں کو نہ پرندوں کو
15:01کوئی آواز نہیں آئی
15:03کوئی اشارہ نہیں ملا
15:04کوئی نشانی ظاہر نہیں ہوئی
15:06بس وہ دیمک اپنے رب کے حکم پر خاموشی سے کام کرتی رہی
15:09یہاں تک کہ وہ لمحہ آیا
15:11جب اللہ نے تیہ کر رکھا تھا
15:13لاتھی اندر سے مکمل طور پر کھوکلی ہو گئی
15:16اور حضرت سلمان علیہ السلام کا مبارک جسم
15:18زمین پر آ گیا
15:20اسے ایک لمحے میں پوری فضا بدل گئی
15:22جنات کا پورا غرور
15:24ان کا پورا دعویٰ
15:25ان کی پوری دھوٹنی سب خاک میں مل گئی
15:28اب سب پر ظاہر ہوا کہ
15:29اللہ کے نبی تو بہت عرصہ پہلے وفات پا چکے تھے
15:32اور جنات بے فائدہ محنت کرتے رہے
15:34وہ جنات جو ہر وقت یہ ڈنکا بجاتے تھے
15:36کہ ہم غائب جانتے ہیں
15:37انہیں اپنے سامنے ہونے والے واقعے کی خبر تک نہ ہوئی
15:40اللہ تعالیٰ نے اس پورے واقعے کو
15:42قرآن مجید کی سور سبا میں
15:44یوں بیان فرمایا ہے
15:45جب ہم نے ان پر موت کا حکم نافذ کیا
15:48تو کسی چیز نے جنات کو
15:49ان کی موت سے آگا نہ کیا
15:51سوائے زمین کے اس دیمک کے
15:53جو ان کی لاتھی کو کھا رہی تھی
15:55جب وہ گیر پڑے تو جنات پر ظاہر ہو گیا
15:57کہ اگر وہ غیب جانتے تھے
15:59تو اس زلط آمیز عذاب میں مبتلا نہ رہتے
16:01دوستو اللہ نے خود
16:03اس عذاب کو زلط آمیز قرار دیا
16:05یہ جنات کے لیے
16:06اللہ کی طرف سے سب سے بڑا تھپڑ تھا
16:09تمہارا سارا دعویٰ جھوٹا تھا
16:11تمہاری ساری غیب دانی وہم تھی
16:13ایک دیمک نے تمہاری پوری عقل کو شکرس دے دی
16:16اب دوستو آگے چلتے ہیں
16:18اور دیکھتے ہیں کہ اس عظیم سلطنت کے جانے کے بعد کیا ہوا
16:20کیونکہ اللہ نے اس کہانی کو یہی ختم نہیں کیا
16:23حرزہ سلیمان علیہ السلام کی افات کے بعد
16:25شہر سبا
16:26جو کبھی دنیا کی سب سے خوشحال جگہوں میں سے ایک تھا
16:30آہستہ آہستہ غفلت کا شکار ہونے لگا
16:32ملکہ ابی القیس کے بعد کی نسلوں نے
16:35اللہ کی نعمتوں کو بھولا دیا
16:36اللہ نے انہیں کیا کیا دیا تھا
16:39ان کے شہر کے دائیں بائیں باغات ہی باغات تھے
16:42سبز لیلہاتے
16:43پھلوں سے لدے تھے
16:44اب ہوا ایسی خوشگوار تھی
16:46کہ لوگ راستے میں چلتے چلتے
16:48پھل توڑ کر کھا سکتے تھے
16:49اور پھل کبھی خراب نہیں ہوتا تھا
16:51ایک مضبوط بند
16:53بند مارب
16:54ان کے زراد کو سمالتا تھا
16:56جسے انہوں نے اپنی محنت سے بنایا تھا
16:58جو ان کے خوشحالی کا سب سے بڑا ذریعہ تھا
17:00اللہ نے انہیں ہر نعمت دی تھی
17:02اور کہا تھا کہ اپنے رب کا دیا ہوا رسک کھاؤ
17:04اور اس کا شکر ادا کرو
17:05پاکیزہ شہر
17:07اور بخشنے والا رب
17:08لیکن انہوں نے ناشکری کی
17:10اللہ نے ان کے پاس نبی بھیجے
17:12انہیں یاد دلایا
17:13انہیں راستہ دکھایا
17:14لیکن انہوں نے نہیں مانا
17:17آخرکار اللہ کا عذاب آیا
17:19اور وہ بھی ایسے طریقے سے
17:20جو شہر سبا کے لوگوں نے سوچا بھی نہیں تھا
17:23جیسے حضرت سلیمان علیہ السلام کے لاتھی کو دیمک نے
17:26اندر سے کھایا تھا
17:27ویسے ہی
17:28بند مارب کو چوہوں نے اندر سے کھو دیا
17:31چوہے آہستہ آہستہ بند کی بنیادوں کو کھوٹتے رہے
17:34اور ایک رات وہ مضبوط بند
17:36جس نے صدیوں سے پانی کو روک رکھا تھا
17:38ٹوٹ گیا
17:39پانی کا ریل آیا
17:40ان کی تمام آلشان باغات کو غرق کر دیا
17:43اور ذرخیز زمین جو صدیوں سے علیہ لہاتی تھی
17:46ایک ہی رات میں تباہ ہو گئی
17:48وہ قوم جو دنیا کی سب سے خوشحال قوم تھی
17:51تو کڑوں میں بکھر گئی
17:53اور ادھر ادھر منتشر ہو گئی
17:55دوستو اللہ کا یہ انداز دیکھئی
17:57دیمک سے لاتھی توڑی
17:59چوہوں سے بند توڑا
18:00اللہ کو کسی بڑی فوج کی ضرورت نہیں
18:03کسی بڑے ہتھیار کی ضرورت نہیں
18:05ایک چھوٹا سا کیڑا
18:07ایک چھوٹا سا جانور کافی ہے
18:09ابابیل کی ننی چڑیوں نے
18:11ابراہ کے ہاتھیوں والے لشکر کو تباہ کر دیا تھا
18:14وہ ابراہ جو خان کعبہ کو
18:16مسمار کرنے کا ارادہ کر گیا تھا
18:18جس کے ہاتھیوں کے آگے کوئی نہیں ٹھہر سکتا تھا
18:21اسے ننی چڑیوں نے تباہ کر دیا
18:23نمرو جس نے کہا تھا
18:25کہ میں بھی جندہ کرتا ہوں اور موت دیتا ہوں
18:27ایک مچھر اس کے دماغ میں داخل ہو گیا
18:29اور اسے بے بس کر دیا
18:30پیرون جس نے پوری قوم کو غلام بنا رکھا تھا
18:33جس کی فوج دنیا کی سب سے طاقتور فوج تھی
18:36سمندر کی لہروں میں غرق ہو گیا
18:38یہ اللہ کی سنت ہے
18:39جب وہ کسی کو پکڑتا ہے
18:41تو اس کی پکڑ سے کوئی نہیں بچ سکتا
18:42دوستو یہ واقعات آج بھی ہمارے اردگرد ہو رہے ہیں
18:46بس ہمیں آنکھ کھول کر دیکھنے کی ضرورت ہے
18:48جب کرونا بارس آیا
18:50تو دنیا نے دیکھا
18:51کہ ایک ایسی چیز جو آنکھوں سے نظر بھی نہیں آتی
18:53اس نے پوری دنیا کو ہلا کر رکھ دیا
18:55وہ ممالک جو اپنی طبی ترقی پر ناس کرتے تھے
18:59جن کے پاس دنیا کے بہترین ہسپتال تھے
19:01جن کے سانجدان ہر بیماری کا علاج
19:03دھوننے کا دعویٰ کرتے تھے
19:05وہ سب بے بس ہو گئے
19:06لاکھوں لوگ مارے گئے
19:08کروڑوں متاثر ہوئے
19:09اور کوئی حکومت کوئی پوج کوئی پیسہ
19:12اسے روک نہ سکا
19:13یہ آج کے دور کی دیمت تھی
19:15ایک ایسا چھوٹا سا جاندار جو انسانی آنکھ سے نظر نہیں آتا
19:18لیکن دنیا کے تمام طاقتوروں کو
19:21گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیتا ہے
19:23دوستو
19:24حضرت سلمان علیہ السلام کی یہ پوری داستان
19:27ہمیں ایک بہت گہرہ پیغام دیتی ہے
19:29وہ نبی جن کے سامنے جنات کابتے تھے
19:31جن کے اشارے پر ہمائے رکھتی تھی
19:33جن کی خاطر اللہ نے سورس کو پلٹایا
19:35وہ بھی ایک لاتھی کے سارے
19:37اللہ کے سامنے کھڑے رہتے تھے
19:39وہ بھی آجز تھے
19:40وہ بھی فانی تھے
19:42وہ بھی اللہ کے سامنے اپنی کمزوری کا اعتراف کرتے تھے
19:45اور جب موت آئی تو نہ لشکر کام آیا
19:48نہ جنات کام آئے
19:49نہ سلطنت کام آئی
19:50بس وہی لمحہ آیا
19:51جو اللہ نے تیہ کر رکھا تھا
19:53اور روح پرواز کر گئی
19:55آج ہم بھی اپنی اپنی لاتھیوں پر ٹکے ہوئے ہیں
19:57کوئی اپنی دولت کی لاتھی پر
19:59کوئی اپنی طاقت کی لاتھی پر
20:01کوئی اپنی جوانی کی لاتھی پر
20:03ہمیں نہیں معلوم کہ
20:04ہماری لاتھی کے اندر دیمک کب سے کام کر رہی ہے
20:06اور کب وہ لمحہ آئے گا
20:08جب یہ لاتھی ٹوٹ جائے گی
20:10اس لئے دوستو جو وقت ملا ہے
20:11اسے غنیمت جانے
20:12اللہ کی عبادت میں لگ رہے ہیں
20:14اللہ کا شکر ادا کرتے رہیں
20:16کیونکہ اللہ کے نبی کو بھی
20:18اللہ نے اپنی عبادت کے دورانی روح قبض فرمائی
20:21اور اس سے بڑھ کر
20:22خوش نصیبی کیا ہوگی
20:23کہ جب موت آئے
20:24تو انسان اللہ کے سامنے جھکا ہوا ہو
20:26دوستو اگر یہ ویڈیو آپ کو پسند آئی ہے
20:28تو لائک کریں
20:28شیئر کریں
20:29اور چینل کو سبسکرائب کریں
20:30تاکہ انبیاء کی ایسی ہی دلچسپ
20:33اور سبق آموز داستانیں
20:34آپ تک پہنچتی رہیں
20:35اللہ حافظ
Comments