Skip to playerSkip to main content
  • 4 days ago
12 Rabi Ul Awal, the blessed day of the birth of Prophet Muhammad ﷺ, holds immense importance in Islamic history. On this sacred day, Muslims around the world remember the mercy, guidance, and prophecies of the beloved Messenger ﷺ. His teachings were not limited to his era but serve as eternal guidance for all of humanity.

In this video by Noor TV, we highlight the prophecies (paishgoiyan) of Prophet Muhammad ﷺ that have come true and those that remind us of the approaching end times. From social changes to natural disasters, many of his predictions are unfolding in front of our very eyes. This reflection not only strengthens our faith but also reminds us of the responsibility to follow the Seerat e Nabvi ﷺ with sincerity and love.

We will explore authentic hadith, Qur’anic references, and historical events that connect with his blessed words. This video is a spiritual reminder that the birth of the Prophet ﷺ is not only a day of celebration but also a moment to reflect upon his teachings and prepare for the future.

Category

📚
Learning
Transcript
00:25ڈیسی ربیل اول
00:30ایک ایسا راز جڑا ہے جسے سن کر
00:31تاریخ کا رخ بدل جائے گا
00:33قیامت کی بڑی نشانی پوری ہو چکی ہے
00:35اور اب سوال یہ ہے کہ
00:37بارہ ربیل اول کو کیا ہونے والا ہے
00:40بسم اللہ الرحمن الرحیم
00:42السلام علیکم پیارے دوستو
00:44دنیا ایک نارکنے والی رفتار
00:46کے ساتھ اپنے انجام کی طرف بڑھ رہی ہے
00:48وقت گزرنے کے ساتھ
00:50ساتھ ایسے واقعات رونما ہو رہے ہیں
00:52جو بار بار ہمیں قیامت کی یاد
00:54دلاتے ہیں قرآن حدیث میں بیان کردہ
00:56وہ نشانی ہے جو آخرت کی حقیقت
00:58کو ظاہر کرتی ہیں آج ہمارے سامنے
01:00روز بروز نمائع ہو رہی ہیں
01:02انہیں نشانیوں میں ایک ایسے نشانی ہے
01:04جس نے تاریخ کا رخی بدل کر
01:06رکھ دیا حیرت انگیز بات
01:08یہ کہ قیامت کی اس نشانی کا تعلق
01:10اسی بابرکت اور مقدس مہینے
01:12ربیل اول سے جڑتا ہے
01:14یہ مہینہ وہ ہے جس میں ہم
01:16ہمیشہ خوشیوں عقیدت اور نور
01:18کی بات کرتے ہیں یہ وہ مہینہ ہے
01:20جس میں اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب
01:22صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
01:24کو اس دنیا میں بھیجا مگر
01:26کیا آپ جانتے ہیں کہ اسی بار عرب الول
01:28کے مہینے کے ساتھ قیامت کے ایک
01:30بڑے راز کو بھی جوڑ دیا گیا ہے
01:32دوستو سب سے حیران کن حقیقت یہ ہے
01:34کہ قیامت کے بارے میں جاننے کی
01:36بیتابع صرف ہم انسانوں کو نہیں تھی
01:38بلکہ فرشتے بھی اس موضوع پر سوالات
01:40کرتے تھے وہ بھی جاننا چاہتے تھے
01:42کہ آخر وہ وقت کب آئے گا جب دنیا
01:44کا نظام لپیٹ دیا جائے گا
01:46اور سب انسان اپنے عمال کے حساب
01:48کے لئے کھڑے ہوں گے یہی وجہ ہے
01:50کہ رب الول جیسے مقدس مہینے
01:52میں ایک راز ایسا پوشیدہ
01:54ہے جو نہ صرف ایمان کو تازہ
01:56کرتا ہے بلکہ دلوں میں خوف اور خشیت
01:58بھی پیدا کرتا ہے پرشتوں کے سردار
02:00حضرت جبریل علیہ السلام بھی اسی تڑپ
02:02میں مبتلا تھے کہ آخر وہ گھڑی
02:04کب آئے گی وہ لما جس کے بعد پوری
02:06کائنات کا نقشہ بدل جائے گا
02:07انسانوں کے عمال کا پل سرات پر
02:09وزن ہوگا اور زمین و آسمان
02:11اپنے اصلی حالہ سے ہٹ جائیں گے
02:13اسی بیچینی کے ساتھ حضرت جبریل علیہ السلام
02:15حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
02:18کی خدمت اقدس میں
02:20حاضر ہوئے انہوں نے نہایت
02:21عدب اور عاجزی کے ساتھ سوال کیا
02:24یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
02:26مجھے بتائیے کہ قیامت کب قائم ہوگی
02:29دوستو ذرا غور کیجئے
02:30یہ سوال کس قدر عجیب اور گہرا تھا
02:33پرشتوں کے سردار جو لوہ محفوظ
02:35کے بے شمار رازوں سے واقف تھے
02:36وہ بھی اسے ایک سوال کے جواب کے منتظر تھے
02:39اس سے بڑھ کر قیامت کے
02:41معاملے کی سنگینی اور کوئی دلیل
02:43نہیں ہو سکتی کہ خود حضرت جبریل
02:45علیہ السلام جیسے مقرب فرشتے بھی
02:46اس حقیقت کو جاننے کے لیے
02:48بے قرار تھے لیکن بات یہیں
02:50ختم نہیں ہوئی حضرت جبریل علیہ السلام
02:52نے دوسرا سوال اور بھی زیادہ شدد کے ساتھ
02:54کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
02:57قیامت آنے سے پہلے
02:58اس کی نشانیاں کیا ہوں گی
03:00یہ سوال دراصل صرف تاریخ کے ایک
03:02مرحلے کے بارے میں نہ تھا بلکہ آنے والے
03:04ہر دور کے انسان کے لیے ایک تحنبی
03:06تھی تاکہ وہ نشانیوں کو دیکھ کر
03:08سمل جائیں اور اپنے عمال کو درست کرنے
03:11پھر حضرت جبریل علیہ السلام نے
03:12تیسرا سوال کیا جو سب سے اہم تھا
03:15یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
03:17مجھے یہ بھی بتائیں
03:19کہ ایمان کیا ہے
03:20اسلام کیا ہے اور احسان کی اصل حقیقت کیا ہے
03:23یہ وہ سوالات تھے
03:24جن کے جوابات صرف اور صرف
03:26حضور علیہ السلام ہی دے سکتے تھے
03:29اور یہی وہ جوابات تھے
03:30جنہوں نے قیامت کے تصور کو
03:32ہمیشہ کے لیے واضح کر دیا
03:34ان جوابات نے نہ صرف ایمان کے بنیاد رکھی
03:36بلکہ انسان کو یاد دلایا
03:38کہ قیامت کی تیاری ایمان
03:40اسلام اور احسان کے بغیر ممکن ہی نہیں ہے
03:42پیارے دوستو یہی وہ سوالات ہیں
03:44جن کے جوابات آج کا انسان بھی
03:46جاننا چاہتا ہے
03:47دنیا کی چمک دمک میں کھوئے ہوئے لوگ بھی
03:50اپنے دل کے نہا خانوں میں
03:52ان سوالات کے جواب تلاش کرتے ہیں
03:54تو آئیے آج کی ویڈیو میں
03:55ہم انہی سوالات کے جوابات
03:57نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
03:59کی زبان مبارک سے سنتے ہیں
04:01اور یہ بھی دیکھتے ہیں
04:02کہ ربیل اول کے بابرکت مہینے کے ساتھ
04:04قیامت کا یہ پورا سرار راز
04:06کس طرح جڑتا ہے
04:08اور ہمارے دلوں کو جھنجوڑتا ہے
04:10پیارے دوستو جیسا کہ آپ جانتے ہیں
04:12کہ ربیل اول کا مہینہ
04:13وہ بابرکت مہینہ ہے
04:15جس میں ہمارے پیارے نبی
04:16علیہ السلام اس دنیا میں تشریف لائے
04:19یہ وہ لمحہ تا جب اندھیروں میں
04:20ڈوبی انسانیت کو روشنی ملی
04:22ظلم و جبر کے بادل چھٹ گئے
04:24اور ہدایت کے کرنے پھیل گئیں
04:26یہی وجہ ہے کہ اس مہینے کو
04:28خوشی عقیدت اور مسررت کا مہینہ
04:31کہا جاتا ہے
04:31کیونکہ اللہ تعالیٰ نے
04:32اس میں اپنی سب سے بڑی نعمت
04:34اپنے محبوب نبی علیہ السلام
04:36کو پوری انسانیت کے لیے
04:38رحمت بنا کر بھیجا
04:40لیکن دوستو یہ مہینہ صرف
04:41خوشی اور مسررت ہی نہیں لاتا
04:43بلکہ ایک غمگین پہلو بھی
04:44اپنے اندر سموئے ہوئے ہیں
04:46کیونکہ اسی مہینے میں
04:47وہ عظیم ہستی
04:48جس کے آنے سے کائنات
04:49جگمگا اٹھی تھی
04:50ہمیں چھوڑ کر
04:51اپنے رب کے پاس ترشیف لے گئی
04:53نبی علیہ السلام کی
04:55وفات کا لمحہ
04:56نہ صرف صحابہ اکرام
04:57بلکہ پوری امت کے لیے
04:59کربناک لمحہ تھا
05:00یہی وہ لمحہ تھا
05:01جس نے ہمیں حقیقت کا آئینہ دکھایا
05:03کہ اب دنیا
05:04اپنے انجام کے اور قریب ہو گئی ہے
05:06حضور علیہ السلام نے
05:08خود فرمایا کہ
05:09مجھے اور قیامت کو
05:10ایسے بھیجا گیا ہے
05:11جیسے یہ دو انگلیاں
05:12ایک دوسرے کے قریب ہوں
05:14دوستو غور کیجئے
05:15اس حدیث میں
05:16کتنی بڑی حقیقت چھپی ہوئی ہے
05:17گویا آپ علیہ السلام کی بیست
05:20اور قیامت کے درمیان
05:21وقت کا فاصلہ
05:22بہت کم ہے
05:23یہ بات ہمیں
05:24ایک لمحے کے لئے بھی
05:25غفلت میں رہنے نہیں دیتی
05:27علماء اکرام فرماتے ہیں
05:28کہ
05:28رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
05:31کی ولادت بھی
05:31اللہ کی سب سے بڑی نشانی ہے
05:33اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
05:35کی وفاد بھی
05:36قیامت کی سب سے پہلی
05:38اور سب سے اہم نشانی ہے
05:40یہ حقیقت ہمیں یہ یاد دہانی کراتی ہے
05:42کہ دنیا کی
05:43گھڑیاں تیزی کے ساتھ
05:44اپنے اختتام کی طرف بڑھ رہی ہیں
05:46پیارے دوستو
05:47جب نبی اکرام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے
05:50یہ حقیقت بیان فرمائے
05:51تو صحابہ اکرام رضی اللہ تعالی عنہم
05:53کی دلوں میں بھی
05:54یہ سوال پیدا ہوا
05:55کیا آخر قیامت کا بھائی گی
05:57کونسی نشانیاں ظاہر ہوں گی
05:58جو بتائیں گی
05:59کہ دنیا کا اختتام قریب ہے
06:01یہی سوالات آج بھی
06:03ہمارے دلوں کو بے چین رکھتے ہیں
06:04پیارے دوستو
06:05یہ سوال
06:05کہ قیامت کی نشانیاں کیا ہوں گی
06:17حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالی عنہم
06:20روایت کرتے ہیں
06:20کہ ہم ایک دن
06:21رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
06:23کی مجلس میں بیٹھے تھے
06:24کہ اچانکہ ایک اجنبی شخص نمودار ہوا
06:26اس کے کپڑے نہایت سفید
06:28اور بال نہایت سیاہ تھے
06:30تاجب کی بات یہ تھی
06:31کہ اس پر کسی بھی قسم کے سفر کی
06:33کوئی علامت موجود نہ تھی
06:35عام طور پر سفر سے آنے والوں کے کپڑوں پر
06:37گرد و غبار ہوتا ہے
06:39بال بکھرے ہوئے ہوتے ہیں
06:40اور چہرے پر تھکن کے آثار دکھائے دیتے ہیں
06:43لیکن اس شخص کی حالت بالکل مختلف تھی
06:45نہ کپڑے میلے تھے
06:46نہ ہی اس کے چہرے پر تھکن کا شائبہ تھا
06:48مزید حیرت کی بات یہ تھی
06:50کہ ہم میں سے کوئی بھی اسے پہچانتا تک نہ تھا
06:52اگر وہ مدینہ کا رہنے والا ہوتا
06:54تو لازمی طور پر
06:55ہم میں سے کوئی نہ کوئی اسے جانتا
06:56مگر سب کے لیے وہ اجنبی تھا
06:59اسی سوچ میں ڈوبے
07:00ہم سب اس کی طرف دیکھ رہے تھے
07:02کہ اچانک وہ شخص
07:03رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
07:05کی خدمتِ اقدس میں آ کر بیٹھ گیا
07:08اس نے نہایت عدب اور عجز کے ساتھ
07:10آپ علیہ السلام کے گھٹنوں کے سامنے
07:12زانوں سے زانوں ملا کر بیٹھنے کا انداز اختیار کیا
07:15پھر اپنے ہاتھ یا تو اپنی رانوں پر رکھے
07:17جیسے کہ بعض محدثین نے فرمایا
07:19یا پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
07:21کی رانوں پر رکھ دیے
07:22تاکہ اپنی محتاجی اور سوال کی کیفیت
07:25کو ظاہر کرے
07:26یہ اندازی بتا رہا تھا کہ اس سوال کوئی عام سوال نہیں
07:28بلکہ ایک نہایت عام حقیقت کو بازے کرنے کے لیے ہے
07:31پھر اس اجنبی نے بڑی جورت
07:33اور سراحت سے عرض کیا
07:34اے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
07:37مجھے بتائیے اسلام کیا ہے
07:39آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
07:41نے نیاز شفقت اور وضاحت سے جواب دیا
07:43اسلام یہ کہ
07:44تو اپنی زبان سے اقرار کرے
07:46اور دل سے یقین رکھے
07:48کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں
07:50اور محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
07:52اللہ کے رسول ہیں
07:54نماز قائم کرے
07:55زکاة ادا کرے
07:56رمضان کے روزے رکھے
07:57اور اگر استطاعت ہو تو
07:59بیت اللہ کا حج کرے
08:00پیارے دوستو یہ جواب صرف ایک تعریف نہ تھا
08:03بلکہ دین کی بنیاد کا تعریف تھا
08:05گویا یہ اعلان تھا
08:06کہ اسلام کے بغیر نہ ایمان مکمل ہوتا ہے
08:09نہ ہی قیامت کی تیاری ممکن ہے
08:11نبی علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا
08:13اسلام کی امارت انہی پانچ ستونوں پر کھڑی ہے
08:16کلمہ طیبہ کا اقرار
08:17نماز قائم کرنا
08:19زکاة ادا کرنا
08:20رمضان کے روزے رکھنا
08:21اور استطاعت کے ساتھ
08:22بیت اللہ کا حج کرنا
08:24پیارے دوستو غور کیجئے
08:25جس طرح کوئی امارت
08:26اپنے ستونوں کے بغیر قائم نہیں رہ سکتی
08:29اسی طرح ایک مسلمان کا ایمان
08:31اس کی عمل زندگی بھی
08:32ان پانچ عرقان کے بغیر
08:33مکمل نہیں ہو سکتی
08:35یہ سن کر وہ اجنبی شخص بولا
08:36آپ نے سچ فرمایا
08:38حضرت عمر رضی اللہ عنہ
08:39وہ فرماتے ہیں
08:40کہ ہمیں اس پر سخت تاجب ہوا
08:41ہم سوچیں پڑ گئے
08:42کہ سوال بھی یہ خود کر رہا ہے
08:44اور جواب کی تصدیق بھی یہ خود کر رہا ہے
08:46اگر یہ سوال کر رہا ہے تو
08:47تو ظاہر ہے
08:48اسے علم نہیں ہونا چاہیے
08:50اور اگر جواب کی تصدیق کر رہا ہے
08:52تو گویا
08:52اسے پہلے سے علم ہے
08:53یہ دوہری کیفیت
08:55ہمیں شدید
08:55حیرانی میں ڈال رہی تھی
08:57اسی دوران اس اجنبی
08:58نے دوسرا سوال کیا
08:59اللہ کے نبی
09:00مجھے بتائیے ایمان کیا ہے
09:01آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
09:03نے نہائی جامعہ انداز میں
09:05ارشاد فرمایا
09:05ایمان یہ ہے
09:07کہ تم اللہ پر ایمان لاؤ
09:08اس کے فرشتوں پر ایمان لاؤ
09:09اس کے کتابوں کو مانو
09:11اس کے رسولوں کو مانو
09:12آخرت کے دن پر یقین رکھو
09:14اور یہ یقین بھی رکھو
09:15کہ تقدیر کی اچھائی اور برائی
09:17سب اللہ کی طرف سے ہے
09:19یہ سن کر وہ شخص پھر بولا
09:21آپ نے سچ فرمایا
09:22پھر اس نے تیسرا سوال کیا
09:23اے اللہ کے نبی
09:25مجھے بتائیے کہ احسان کیا ہے
09:26نبی علیہ وآلہ وسلم
09:28نے نہایت پورا سر الفاظ میں فرمایا
09:30احسان یہ ہے
09:31کہ تم اللہ کی عبادت
09:32اس طرح کرو
09:33گویا تم اپنی آنکھوں سے
09:34اسے دیکھ رہے ہو
09:35اور اگر یہ کیفت حاصل نہ ہو
09:37تو کم از کم یہ یقین رکھو
09:39کہ وہ تمہیں ضرور دیکھ رہا ہے
09:40دوستو یہ جواب سن کر
09:42مجلس پر ایک عجیب کیفیت چھا گئی
09:44حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں
09:46کہ ایسا لگ رہا تھا
09:47کہ عبادت کا مقصد صرف
09:48چند ظاہری عامال نہیں
09:49بلکہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ
09:51تعلق کی وہ گہرائی ہے
09:52جو بندے کے دل کو بدل ڈالے
09:54عبادت کا اصل حسن یہ ہے
09:56کہ انسان ہمیشہ
09:57اللہ کے نگاہوں کے سامنے
09:58خود کو محسوس کرے
10:00پھر اس اجنبی نے
10:01ایک نہائی تاہم سوال کیا
10:02اے اللہ کے نبی
10:04مجھے یہ بتائیے
10:04کہ قیامت کا بائی کی
10:06رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
10:08نے بڑے حکمت بھرے انداز میں جواب دیا
10:10اس سوال کا جواب
10:12نہ مجھے معلوم ہے
10:13اور نہ تمہیں
10:14یہ الفاظ سن کر
10:15ہم سب حیران رہ گئے
10:16کیونکہ جب اس نے
10:17اسلام کے بارے میں پوچھا
10:18تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
10:20نے پانچ عرقان بیان کیے
10:22اور اس نے فورا تصدیق کی
10:24ایمان اور احسان کے بارے میں پوچھا
10:26تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
10:27نے تفصیلی وضاحت دی
10:29اور اس نے فورا کہا
10:30کہ آپ نے سچ فرمایا
10:31مگر جب قیامت کے وقت کے بارے میں
10:33سوال ہوا
10:34تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
10:36نے صاف فرما دیا
10:38کہ اس کا علم
10:38اللہ کے سوا کسی کو نہیں
10:40پیارے دوستو
10:41یہی اصل سبق ہے
10:42کہ قیامت کے وقت کا علم
10:44نہ نبی کو ہے
10:44نہ فرشتوں کو
10:46اور نہ کسی انسان کو
10:47یہ رات صرف اللہ کے پاس ہے
10:49پیارے دوستو
10:50رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
10:52نے فرمایا
10:53قیامت کا وقت
10:54نہ تم جانتے ہو
10:54نہ ہی میں جانتا ہوں
10:56تو اس میں بڑی حکمت پوشیدہ تھی
10:58آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
11:00صرف یہ فرماتے
11:01کہ مجھے نہیں معلوم
11:02تو لوگ سوچ سکتے تھے
11:03کہ شاید
11:04اس اجنبی کو پتا ہے
11:05مگر نبی کو نہیں
11:06اس لئے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
11:08نے فیصلہ کون انداز میں
11:09واضح فرمایا
11:10نہ تم جانتے ہو
11:11اور نہ ہی میں جانتا ہوں
11:12یعنی قیامت کا وقت
11:14ایک ایسا راز ہے
11:15جس اللہ تعالی نے
11:15اپنے پاس ہی رکھا ہے
11:17نہ کوئی نبی
11:18نہ کوئی فرشتہ
11:19اور نہ کوئی ولی
11:19اس کے وقت سے
11:20واقف ہو سکتا ہے
11:21اس پر اس اجنبی
11:22نے اگلا سوال کیا
11:23اچھا جب وقت
11:24کسی کو معلوم نہیں
11:25تو پھر مجھے قیامت
11:26کے نشانیاں ہی بتا دیجئے
11:28رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
11:30نے نہایت پورا سر الفاظ
11:31نے فرمایا
11:32قیامت کی پہلی نشانی
11:33یہ ہوگی
11:34کہ باندھی
11:34اپنی مالکہ کو
11:36جنم دے گی
11:36یعنی
11:37ایک ایسا وقت آئے گا
11:38جب بیٹی
11:38ماں کے مقام
11:39کو کم تر سمجھے گی
11:40ماں خدمت گزار
11:42کی طرح ہوگی
11:42اور بیٹی
11:43اپنی مرضی
11:44تھوپنے والی
11:44مالکہ کی طرح
11:45علماء اکرام
11:46نے یہاں
11:47نہایت عجیب
11:48اور بصیرت
11:48افروز نکتہ لکھا ہے
11:49کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
11:52نے یہ مثال
11:53بیٹو اور باپ
11:53کے تعلق پر کیوں نہ دی
11:55اس کی وجہ یہ
11:55کہ بیٹا تو
11:56باہر کماتا ہے
11:57طاقتور ہے
11:58زندگی کی سختیوں سے
11:59دو چار ہے
12:00لیکن بیٹی
12:01ایک سنف نازک ہے
12:02کمزور ہے
12:02گھر کے اندر رہتی ہے
12:04اگر وہ بھی
12:04اپنی ماں کو
12:05خادمہ سمجھے
12:06اور اپنی خواہشات
12:07کو ماں پر
12:08مسلط کرے
12:08تو یہ وقت
12:10قیامت کی
12:10بڑے نشانیوں میں
12:11سے ایک ہوگا
12:12پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
12:14نے دوسری نشانی
12:15بیان فرمائی
12:16تم دیکھو گے
12:17کہ وہ لوگ
12:17جن کے پاس
12:18جوتے تک نہ ہوں گے
12:19بدن پر کپڑا نہ ہوگا
12:20پیٹ بھڑنے کو
12:21نوالا نہ ہوگا
12:22وہی لوگ
12:23ایک دن
12:23بلند و بالا
12:24امارتوں پر
12:25فخر کریں گے
12:26دوستو ذرا غور کیجئے
12:27یہ منظر کتنا
12:28حقیقت کے قریب ہے
12:29آج ہم
12:29اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہیں
12:31کہ جو
12:31کل تک ننگے پاؤں
12:32سڑکوں پر
12:33مانگنے والے تھے
12:34جن کے پاس
12:34ایک وقت کا
12:35کھانے بھی نہ ہوتا تھا
12:36وہی لوگ
12:37آج موچی مارتوں کے مالک ہیں
12:39آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
12:40نے آج سے
12:41چودہ سو سال پہلے
12:42یہ حقیقت
12:43بیان کر دی تھی
12:44اس وقت صحابہ اکرام
12:45رضی اللہ عنہم
12:46کے لیے
12:46یہ مثال شاید
12:47کچھ بعید
12:48از قیاس معلوم ہوئی ہو
12:49لیکن انہوں نے
12:50سر تسلیم خم کر دیا
12:51اور آج
12:52ہم اپنی آنکھوں سے
12:53دیکھ رہے ہیں
12:54کہ غربت سے
12:54اٹھنے والے لوگ
12:55کس طرح
12:55دولت کے امبار لگا کر
12:57آسمانوں کو
12:58چھوٹی مارتوں کے
12:59مالک بن گئے ہیں
12:59یہی وہ نشانیاں ہیں
13:01جو ہمیں یاد دلاتی ہیں
13:02کہ قیامت قریب ہے
13:03جب دنیا کی ترتیب
13:05اُلٹ پلٹ ہو جائے گی
13:06جب مار بیٹی
13:07کا رشتہ اُلٹ جائے گا
13:08جب فقیر و غریب
13:09بلند و بالا
13:10محلات پر فخر کرنے لگیں
13:11تو سمجھ لو
13:12کہ قیامت کے آثار
13:13ظاہر ہو چکے ہیں
13:14پیارے نبی
13:15صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
13:16کا ہر فرمان حق ہے
13:17اور وقت
13:18ہر بار یہ ثابت کرتا ہے
13:19کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
13:21کی پیشگوئیاں
13:22اور ارشادات
13:23آج بھی ہمارے سامنے
13:24حقیقت بن کر
13:25ظاہر ہو رہے ہیں
13:26حضرت عمر فاروق
13:27رضی اللہ تعالیٰ عنہ
13:28فرماتے ہیں
13:29کہ جب وہ عجیب و غریب
13:30شخص سوالات کر کے
13:31واپس چلا گیا
13:32تو ہم سب کچھ دیر کے لیے
13:33حیرت اور خاموشی میں
13:34ڈوب گئے
13:34میں سوچتا رہا ہے
13:35کہ یہ آدمی آخر کون تھا
13:37نہ یہ ہمارا کوئی پہچانہ
13:38ہوا معلوم ہوتا تھا
13:39نہ اس پر سفر کے آثار تھے
13:41اور نہ ہی یہ کوئی
13:42عام انسان لگتا تھا
13:43اس کے سوالات اور انداز
13:44گفتگو غیر معمولی تھے
13:46چند دن بعد
13:47رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
13:49نے مجھ سے فرمایا
13:50عمر
13:50کیا تم جانتے ہو
13:51یہ سوال کرنے والا کون تھا
13:53حضرت عمر رضی اللہ عنہ
13:54نے نہایت
13:55عدب اور عاجزی کے ساتھ
13:56ارز کیا
13:57اللہ اور اس کے رسول
13:58بہتر جانتے ہیں
13:59دوستو یہ جواب محض
14:00لاعلمی کا اظہار نہ تھا
14:02بلکہ عدب اور حکمت کی انتہا تھی
14:04اگر صرف یہ کہا جاتا ہے
14:13اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
14:14کے علم اور فضیلت کو بھی
14:16تسلیم کیا گیا
14:17یہی وہ عدب ہے
14:18جو صحبہ کرام
14:20رضی اللہ عنہم کو سکھایا گیا تھا
14:22پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
14:24نے فرمایا
14:25وہ سوال کرنے والا
14:26حضرت جبریل علیہ السلام تھے
14:28جو تمہیں دین سکھانے کے لیے
14:30انسانی شکل میں آئے تھے
14:31پیارے دوستو
14:32ربی الاول کا مہینہ
14:33ہمیں صرف خوشی اور عقیدت ہی نہیں
14:35بلکہ ایک عظیم یاد دہانی بھی کراتا ہے
14:37کہ وقت تیزی سے ختم ہو رہا ہے
14:40نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آمد
14:43قیامت کی سب سے بڑی نشانی تھی
14:45اور آپ علیہ السلام کی وفات
14:47قیامت کی شروعاتی علامتوں میں سے تھی
14:49اب باقی نشانیاں
14:51آہستہ آہستہ ظاہر ہو رہی ہیں
14:53لہٰذا اپنے زندگی کو
14:54اللہ اور اس کے رسول کے بتائے ہوئے طریقے پر گزاریں
14:56نماز قائم کریں
14:58زکاة ادا کریں
14:59سچائی اور عدل کو اپنائیں
15:00اور ظلم و گناہ سے بچیں
15:02کیونکہ قیامت قریب ہے
15:03اور اس دن کامیاب صرف وہ ہوگا
15:05جس نے اپنے آمال کو درست کر لیا
15:08دوست ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
15:10نے ہمیں چودہ سو سال پہلے ہی قیامت
15:13اور اس کے قریب آنے والے
15:14دور کے بارے میں خبردار کر دیا تھا
15:16اگرچہ قیامت کا حتم دن ابھی مقرر نہیں ہوا
15:19لیکن اس کے نشانیاں ظاہر ہونا شروع ہو چکی ہیں
15:21آج کا دور فترہ و فساد
15:23جنگ و جدل اور طاقتوروں کے درمیان
15:26کشمہ کشت سے بھرا ہوا ہے
15:27خون انسانی کی کوئی قیمت نہیں رہی
15:29اور حق و باطل کا مقابلہ عروج پر ہے
15:32لیکن یاد رکھیں
15:33قیامت کے نشانیاں
15:35صرف بڑے فتروں اور جنگوں تک محدود نہیں
15:37رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا
15:40قیامت کے قریب ایک نشانی یہ بھی ہوگی
15:42کہ قطع رحمی
15:43بری ہمسائیگی اور فہاشی عام ہو جائے گی
15:46یعنی رشتدار ایک دوسرے سے کٹ جائیں گے
15:48ہمسائے ایک دوسرے کو تکلیف دیں گے
15:50اور معاشرہ بے حیائی سے بھر جائے گا
15:52اسی لئے حضور علیہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے
15:54صلح رحمی پر بار بار زور دیا
15:56آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا
15:59جو شخص چاہتا ہے کہ اس کے رسک میں کشادگی ہو
16:01اور اس کے عمر میں برکت ہو
16:03تو اسے چاہیے کہ صلح رحمی کرے
16:05کتاب سنت میں بے شمار دلائل ہیں
16:07جو یہ بتاتے ہیں کہ محتاجوں کی مدد کرنا
16:09یتیموں اور مسکینوں پر رحم کرنا
16:11پڑوسیوں اور رشتداروں کے ساتھ
16:13حسن سلوک کرنا
16:14اللہ کی رضا اور رحمت کا سبب بنتا ہے
16:16قرآن مجید میں ارشاد ہے
16:18اور اللہ کی عبادت کرو
16:19اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ
16:21اور والدین کے ساتھ نیک سلوک کرو
16:23قرابتداروں یتیموں مسکینوں
16:25اور قریبی اور دور کے ہمسائیوں
16:28پہلو کے ساتھی اور مسافروں کے ساتھ
16:30بھلائی کرو
16:33یہ حدیث دراصل اس بات کا اعلان ہے
16:35کہ ایمان کا کمال صرف نماز
16:37روزے اور ظاہری عبادات میں نہیں
16:39بلکہ اس میں بھی ہے
16:40کہ دوسروں کو تکلیف نہ دی جائے
16:42خصوصاً پڑوسی کو
16:43مگر افسوس قیامت کے نشانیوں میں
16:45یہی سب کچھ الٹ ہو جائے گا
16:47روایتوں میں آتا ہے
16:48کہ قیامت کے قریب زمین پر
16:50زلدل کسرت سے آئیں گے
16:51خصف ہوگا
16:52یعنی زمین دھس جائے گی
16:53قضف ہوگا
16:54یعنی آسمان سے پتھروں کی بارش
16:56یا چیزیں پھینکی جائیں گی
16:57اور مسخ ہوگا
16:58یعنی انسانوں کی شکلیں
17:00بگڑ جائیں گی
17:01یا ان کے اخلاق
17:02ہیوانوں جیسے ہو جائیں گے
17:03حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں
17:06کہ اگرچہ دنیا میں
17:07زلدلے پہلے بھی آتے رہے ہیں
17:09لیکن قیامت کے قریب کی یہ نشانیاں
17:11پوری زمین پر پھیل جائیں گی
17:12نبی علیہ السلام نے فرمایا
17:14قیامت اس وقت تک قائم نہ ہوگی
17:24حضرت عشاء رضی اللہ عنہ نے حیرت سے عرص کیا
17:27یا رسول اللہ
17:28کہ ہم سب حلاق کر دی جائیں گے
17:29آپ علیہ السلام نے فرمایا
17:31ہاں جب خبیش چیزیں عام ہو جائیں گی
17:34مسجد ارشاد فرمایا
17:35جب لوگ دولت کو امانت نہ سمجھیں گے
17:37زکاة کو بوجھ سمجھیں گے
17:39دین کی تعلیم کو چھوڑ دیں گے
17:41بیوی شوہر کی نافرمانی کرے گی
17:43حکمران دین کے دشمن بن جائیں گے
17:45مساجد شور و غوغہ سے بھر جائیں گی
17:48موسیقی اور شراب عام ہو جائے گی
17:49تو پھر سرخ آندھی
17:51زلزلے
17:51خصف
17:52مسخ
17:53اور قصف کا انتظار کرو
17:55دوستہ ان نشانیوں میں
17:56ایک پیغام یہ ہے کہ
17:57اس سب کچھ انسانیت کی بڑھتیوی نافرمانی
17:59اور گناہوں کے نتیجے میں ہوگا
18:01ہمیں اپنی زندگیاں درست کرنی ہیں
18:03گناہوں سے بچنا ہے
18:04اور اللہ تعالیٰ کے حکام پر عمل کرنا ہے
18:07ہمارے نبی علیہ السلام نے ہمیں
18:09چودہ سو سال پہلے ہی خبردار کر دیا تھا
18:12اگرچہ قیامت کا قطع دن ابھی نہیں آیا
18:14مگر اس کا دور شروع ہو چکا ہے
18:16اس کا زمانہ فتنہ و فساد
18:18جنگ و جدل
18:19اور طاقتوروں کے درمیان
18:20کشمکت سے بھرا ہوا ہے
18:21انسانیت کا خون سستہ ہو گیا ہے
18:23اور حق و باطل کے درمیان
18:25شدید مار کا جاری ہے
18:26نبی علیہ السلام نے فرمایا تھا
18:28کہ آخری زمانے میں
18:29عظیم نشانیاں ظاہر ہوں گی
18:31یہود اپنے دجال کے انتظار میں ہیں
18:34عیسائی اپنے مسیح کی آمد کے منتظر ہیں
18:36اور ہمیں مسلمانوں کے
18:38امام مہدی علیہ السلام
18:39اور حضرت عیسی علیہ السلام کے نزول کے لیے
18:41تیار رہنا ہے
18:42قدیس میں آتا ہے کہ
18:43ایک وقت آئے گا جب حضرت عیسی علیہ السلام
18:45نازل ہوں گے
18:46اور امام مہدی علیہ السلام کی
18:47اقتدام میں نماز پڑھیں گے
18:49یہ لمحہ ایک عظیم اتحاد اور حق کے غلبے کا اعلان ہوگا
18:52مگر افسوس
18:53مسلمانوں کا ایک حصہ خود
18:55امام مہدی علیہ السلام کے خلاف کھڑا ہوگا
18:57یہ حقیقت ہمیں جھنجوڑتی ہے
18:58کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی
19:01آل پاک کے دشمن کیوں بنتے ہیں
19:03جبکہ اللہ نے انہی کو برکت
19:05قیادت اور سرفرازیتہ فرمائی ہے
19:08آج بھی ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فرامین سے
19:11روح گردانی کرتے ہیں
19:12اور اپنی خواہشات کی پیر بھی کرتے ہیں
19:14اگر ہم نے اپنی غلطیاں نہ چھوڑیں
19:16تو کل قیامت کے دن ہمارے پاس
19:18ندامت اور پشتابے کے سوا کچھ نہیں ہوگا
19:20پیارے دوستو
19:21قیامت کی نشانی ہمیں صرف خوفزدہ کرنے کے لئے نہیں
19:24بلکہ اپنی زندگی سوارنے کے لئے یاد دلائی گئی ہیں
19:26یہ ہمیں جھنجوڑنے کے لئے ہیں
19:28تاکہ ہم غفلت کی نین سے جاگ جائیں
19:30آج کا وقت توبہ کرنے کا ہے
19:32اللہ کی طرف پلٹنے کا ہے
19:34قرآن و سنت کو تھامنے کا ہے
19:35میں آپ سب دوستوں سے گزارش کرتا ہوں
19:37کہ اس ویڈیو کو زیادہ سے زیادہ شیئر کریں
19:40تاکہ یہ پیغام دوسروں تک بھی پہنچیں
19:42اور کمنٹس میں اپنا نام ضرور لکھیں
19:44تاکہ ہم سب مل کر ایک دوسرے کے لئے دعا کریں
19:46کہ اللہ تعالی ہمیں قیامت کے دن
19:48اپنے عذاب سے محفوظ فرمائے
19:49جنت الفردوس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی
19:53شفاحت نصیب فرمائے
19:54اگر آپ چاہتے ہیں کہ اللہ تعالی آپ کی زندگی میں بھی برکتیں
19:57اور آسانیاں پیدا کرے
19:59تو اس ویڈیو کو آخر تک دیکھنے کے بعد
20:01کمنٹس میں لکھیں
20:01یا اللہ ہمیں قیامت کے دن کامیاب بنا
20:04اللہ تعالی ہم سب کو دین پر استقامت
20:07ایمان پر موت اور جنت الفردوس میں
20:09نبی علیہ السلام کا ساتھ نصیب فرمائے
20:12آمین یا رب العالمین
Comments

Recommended