Skip to playerSkip to main content
Dars-e-Bukhari Shareef - Speaker: Mufti Muhammad Akmal

Watch All the Episodes || https://www.youtube.com/playlist?list=PLQ74MR5_8XifqqMqj-CSEsTT2kgVuPG2D

#MuftiMuhammadAkmal #DarseBukhariShareef #IslamicInformation

Collect the pearls of wisdom dormant in Sahih Bukhari, Dars-e-Bukhari Shareef is a 30 min long lecture-based program, in which Mufti Muhammad Akmal will explain Ahadith of Sahih Bukhari- the most Acknowledged and authentic collection of the sayings of Prophet Muhammad (PBUH) by Imam Bukhari.

Join ARY Qtv on WhatsApp ➡️ https://bit.ly/3Qn5cym
Subscribe Here ➡️ https://bit.ly/aryqtv
Instagram ➡️️ https://www.instagram.com/aryqtvofficial
Facebook ➡️ https://www.facebook.com/ARYQTV/
Website ➡️ https://aryqtv.tv/
Watch ARY Qtv Live ➡️ http://live.aryqtv.tv/
TikTok ➡️ https://www.tiktok.com/@aryqtvofficial
Transcript
00:01Allahumma sallallahu alaikum wa ala ala alihi wa sahbihi wa sallim
00:17Bismillahirrahmanirrahim
00:18Allah tb. wa ta'ala ke pakiza naam se áغاز کرتے ہیں
00:21جو بہت مہرمان نہایت رحم wala ہے
00:23درس بخاری کا سلسلہ کتاب الصلح تک پہنچا تھا
00:28جس قردوں میں ہم صلح کروانا کہہ دیتے ہیں
00:30صلح کا مطلب ہوتا ہے کہ
00:32اس طرح کوئی ڈیل دو افراد کے درمیان کرانا
00:35کے درمیان سے جھگڑے وغیرہ بالکل ختم ہو جائیں
00:38اس کو صلح کہتے ہیں
00:40اور اس میں یہ خیلی سی بات ہے کہ
00:42کمپرومائز صورت ہوتی ہے
00:43کہ ایک کچھ اپنی چیزیں چھوڑتا ہے
00:45کچھ اپنے مطالبات سے دست بردار ہوتا ہے
00:48پھر کہیں جا کے کسی ایک چیز کے اوپر
00:51بہا ہم اتفاق ہوتا ہے
00:52اور جھگڑا ختم ہو جاتا ہے
00:54تو یہ کورٹ میں بھی آپ دیکھیں
00:56کہ بعض وقت ججز جو ہیں وہ
00:57میہ بی بی میں جب اختلاف ہوتا ہے
00:59تو کہتے ہیں آپس میں صلح کر لیں
01:01اور ایسی کوئی مالی معاملات ہوتے ہیں
01:03تو دونوں پارٹیز کو آفر کی جاتی ہے
01:05کہ جھگڑا
01:06یا کیس سلانے سے بہتر یہ ہے
01:08کہ آپ آپس میں صلح کر لیں
01:10اور صلح بہترین چیز ہے
01:12اس کی طرف آنا چاہیے
01:14جھگڑے بڑھانے کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا
01:16اور قرآن و حدیث
01:18ہمیں صلح کرانے کی ترغیب دیتے ہیں
01:20تو لہٰذا رشتہ دار
01:22دوست احباب
01:23اس طرح آفیسز میں جو کلیگ وغیرہ ہوتے ہیں
01:26ان سب کو چاہیے
01:27کہ جب دو کے مابین جھگڑا ہو جائے
01:29تو اس کو ختم کروانے کے لیے
01:30اپنا اپنا کردار ادا کریں
01:32ختم کروانے کے لیے
01:34بڑھانے کے لیے نہیں
01:36بھاس تو تیلیاں جلا جلا کے پھینکتے رہتے ہیں
01:38تاکہ آگ بھڑکتی رہے
01:40اور لڑائی جھگڑا ہوتا رہے
01:42اور وہ دور بیٹھ کر
01:43تماشا دیکھ کر
01:44محضوظ ہوتے رہیں
01:45ایسے کوئی بھائی بہن ہمیں سن رہے ہو
01:48کی نہیں
01:48کہ کسی کی عادت میں شامل ہو
01:49کہ وہ جھگڑا ختم ہونا نہیں
01:51بڑھ کے جھگڑا چلتے رہنا پسند کرتے ہیں
01:54تو خدا رہا اپنی عادت کو تبدیل کریں
01:56ورنہ برود قیامت ہو سکتا ہے
01:58اس پر بھی آپ کی گرفت ہو جائے
02:01ہماری جو حدیث چل رہی تھی
02:02دو ہزار سات سو نو نمبر حدیث تھی
02:05اور حضرت جابر بن عبداللہ
02:08رضی اللہ تعالیٰ نے اس کے راوی ہیں
02:10میں دوبارہ حدیث ذکر کر دیتا ہوں
02:11اور پھر اس پر بیان ہے
02:13وہ بیان کرتے ہیں
02:14کہ میرے والد فوت ہو گئے
02:16اور ان پر قرض تھا
02:18تو میں نے اپنے قرض خواہوں کو
02:20یہ پیشکش کی
02:21کہ وہ میرے کھجور کے درخت
02:23خجوروں سمیت لے لیں
02:25لیکن انہوں نے انکار کر دیا
02:29اور انہوں نے گمان کیا
02:30کہ اس سے ان کا قرض پورا نہیں ہوگا
02:33پھر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کیا
02:36اور آپ سے اس کا ذکر فرمایا
02:38تو آپ نے اشارت فرمایا
02:39کہ جب تم خجوریں
02:40درختوں سے اتار لو
02:42اور ان کو اپنے ایک جگہ
02:44کھیت میں
02:45یہ کھلیان میں جمع کر لو
02:46تو مجھے خبر دینا
02:48پس جب میں نے خبر دی
02:50تو آپ تشریف لائے
02:51اور آپ کے ساتھ حضرت ابو بکر
02:53اور حضرت عمر
02:54رضی اللہ تعالی عنہما بھی تھے
02:56آپ خجوروں کے دھیر پر بیٹھ گئے
02:59اور برکت کی
03:00دعا کی
03:01پھر فرمایا
03:02کہ اپنے قرض خانوں کو بلاؤ
03:04اور ان کو ناپ ناپ کر
03:06خجوریں دو
03:06یعنی جس کا جتنا حساب بنتا ہے
03:09وہ دیتے جاؤ
03:10سو جن کا میرے والد پر قرض تھا
03:13میں نے ان میں سے
03:14کسی ایک کو بھی نہیں چھوڑا
03:16مگر اس کا قرض
03:17ادا کر دیا
03:18اور تیرہ وسق خجوریں
03:21پھر بھی بج گئیں
03:22تیرہ وسق
03:23یعنی بہت کئی من خجوریں
03:25اور ان میں سے
03:26سات وسق اجوہ تھی
03:28اور چھے وسق
03:29دیگر مختلف نوعوں کی خجوریں تھی
03:31یہ راوی کہتے ہیں
03:32یوں کہا تھا
03:33کہ چھے وسق اجوہ تھی
03:34اور سات وسق
03:35دیگر مختلف اقسام کی خجوریں تھی
03:38بہرحال
03:38پس میں نے رسول اللہ
03:40صلی اللہ علیہ وسلم
03:41کے ساتھ مغرب تک
03:42ان کا قرض ادا کر دیا
03:43پھر میں نے
03:45نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم
03:47سے اس کا ذکر کیا
03:49کہ یا رسول اللہ
03:50میں نے سارا قرض ادا کر دیا
03:51تو سرکار ہنس پڑے
03:53مسکرا دی
03:54فرمایا تم ابو بکر
03:55اور عمر کے پاس جاؤ
03:56اور انہیں اس کی خبر دو
03:59جب میں نے خبر دی
04:00تو ان دونوں نے کہا
04:01کہ جب رسول اللہ
04:02صلی اللہ علیہ وسلم
04:04نے اس طرح کیا تھا
04:05تو ہم نے جان لیا تھا
04:07کہ اسی طرح ہوگا
04:09یعنی سرکار
04:10اب مرزہ ظاہر فرمانا چاہتے ہیں
04:11ہم پہلے سمجھ گئے تھے
04:14اور حشام نے کہا
04:15کہ حضرت جابر
04:18نمازِ عصر
04:18یعنی نمازِ مغرب کے بدلے
04:20یہ لفظ کہا تھا
04:21اور انہوں نے حضرت ابو بکر
04:23کا ذکر نہیں کیا
04:25ان ایک روایت کے مطابق
04:26یہ مغرب تک کا
04:28لفظ ذکر ہے
04:28اور ایک میں ہے
04:29عصر کا لفظ
04:30تو یہ حدیث پہلے بھی
04:31گزر چکی ہے
04:32اس پر تھوڑا سا تفسرہ کر لیتے ہیں
04:34کہ حضرتِ جابر بن عبداللہ کے والد
04:36فوت ہوئے
04:36حضرتِ عبداللہ
04:37اور ان پہ قرضہ تھا
04:38اب یہ یاد رکھیں
04:40کہ جب کوئی فوت ہوتا ہے
04:41تو اس کا
04:42جو کچھ پیچھے بچتا ہے
04:43اس کو ترکہ کہتے ہیں
04:45اور اس ترکے میں
04:46بترطیب چار حقوق
04:48وابستہ ہوتے ہیں
04:49پہلا ہوتا ہے
04:50کہ اسی سے
04:51تجہیز و تکفین ہوگی
04:53یعنی کفن کا انتظام
04:56پھر دفنانے وغیرہ کا انتظام
04:58اسی سے ہوگا
04:59یعنی ترکے سے ہوتا ہے
05:01لیکن
05:02بعض وقت ایسا ہوتا ہے
05:03کہ وراسہ
05:03کوئی ترکے کو نہیں چھڑتے ہیں
05:05کوئی ایک وارث
05:06یا دو وارث
05:07اپنے طرف سے کر دیتے ہیں
05:08یہ بھی جائز ہے
05:09لیکن اگر کرنا چاہیں
05:10تو یہ
05:10یا یوں اگر وارث کرنا چاہے
05:13کہ پہلے بتا دے
05:13میں جتنا بھی خرچہ ہوگا
05:15میں کر دیتا ہوں
05:15پھر مجھے پہلے ترکے میں سے
05:17میرا خرچہ دیا جائے گا
05:18پھر وراست تقسیم ہوگی
05:20تو یہ طریقہ بھی
05:20بلکل ٹھیک ہے
05:22دوسرا جو ہوتا ہے
05:23وہ ہے قرض
05:24کہ اگر میت پر کسی کا قرض ہے
05:26تو اس کے ترکے میں سے
05:27پہلے قرض ادا کیا جائے گا
05:29پھر تیسری چیز ہوتی ہے
05:30وسیعت
05:32وسیعت کا مطلب یہ ہے
05:33کہ اگر کوئی مرنے والے نے
05:34مالی وسیعت کی تھی
05:36کہ فلان کو اتنا دے دینا
05:37فلان کو دے دینا
05:38یا مسجد میں دے دینا
05:39یا چیارٹی کے اندر دے دینا
05:40تو وہ مالی وسیعت
05:43ون تھرڈ میں جاری ہوگی
05:44یاد رکھیں پورے مال میں نہیں ہوتی
05:46یعنی اگر وہ وسیعت کر بھی گیا
05:48میرا پورا مال
05:49چیارٹی میں دے دینا
05:50اور فوت ہو گئے
05:51تو اسے ون تھرڈ دیا جائے گا
05:52ٹو تھرڈ جو ہے وہ
05:55وراسہ کا حق ہوتا ہے
05:57اور فرض کر لیں
05:58کہ اگر ون تھرڈ سے بہت کم سے ہی
06:00اس کی وسیعت پوری ہو گئی
06:02تو پھر وہ باقی سارا
06:03انہی وارثوں کے پاس آتا ہے
06:05اور چوتھا حق ہوتا ہے
06:11باغ بھی ہیں
06:11درخت بھی ہیں
06:12اس پر پھل بھی ہیں
06:13لیکن والی صاحب کا قرضہ بھی ہے
06:15تو انہوں نے اسی کو فوقت دی
06:17اور سب سے کہا
06:18کہ بھئی آپ یہ درخت میرے لے لیں
06:20اور اپنا قرضہ اسی پر نپٹا لیں
06:22لیکن ان کو خدشہ پیدا ہوا
06:24کہ بھئی تو بہت تھوڑے سے نظر آ رہے ہیں
06:26ہمارا تو قرضہ نہیں ہوگا
06:27اس کے بدلے اگر صلاح کر لیں گے
06:29ہم یہ درخت لے لیں گے
06:30تو ہمیں تو نقصان ہے
06:31صاف منع کر دیا
06:32اب حضرت جابر بن عبداللہ
06:35رضی اللہ تعالیٰ
06:36سرکار کی بارگاہ میں حاضر ہوئے
06:37اسے اندازہ لگائیں
06:40کہ صحابہ اکرام علم وردوان
06:42جو قویل ایمان تھے
06:44جن کا اعتقاد
06:46اللہ تعالیٰ پر انتہائی کامل تھا
06:49جو اللہ تعالیٰ کی
06:51قدرت کاملہ کے قائل تھے
06:55جو یہ جانتے تھے
06:56کہ تمام خزانے
06:57اللہ تعالیٰ کے دست قدرت میں ہیں
07:00جو جانتے تھے
07:01کہ امداد اللہ تعالیٰ ہی کرتا ہے
07:03اس کے باوجود
07:05وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے
07:07اور اپنا مسئلہ پیش کیا
07:09اسے اللہ میں نے ساتھی مسائل ہو گئے
07:10اور جواب میں سرکار نے بھی نہیں فرمائے
07:13کہ تم اللہ کو چھوڑ کر میرے پاس کیوں آگئے
07:15تمہیں ایسا کرو
07:15مسلح بچھاؤ
07:16دو رکت نماز پڑھو
07:17اللہ کی بارگاہ میں دعا کرو
07:19اللہ تعالیٰ ہی تمہارا مسئلہ حل کرے گا
07:21اس کے خزانوں میں کس چیز کی کمی ہے
07:24لیکن اس سے معلوم ہوا
07:25کہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ سے ہی
07:27اگر کوئی انعام حاصل کرنا ہو
07:29تو اس کے لئے وسیلہ اختیار کرنا
07:31صحابے کرام علی مردوان کا طریقہ رہا ہے
07:34وہ سرکار کی بارگاہ میں آئے
07:36اب سرکار کی امداد کا ایک تو عادی طریقہ ہے
07:41عادتا جو جاری
07:42وہ یہ کہ اچھا چلو میں دعا کر دیتا ہوں
07:44یہ عادی طریقہ ہے
07:45دوسرا یہ ہے
07:46کہ چلو یہ پیسے لے جاؤ
07:48میرے پاس ہیں
07:48تم ان کا قرضہ دا کر دو
07:50یہ بھی عادی طور پر مدد ہے
07:51لیکن ایک ایسی مدد ہوتی ہے
07:53جو ان امور سے ہٹ کر ہوتی ہے
07:55اس کو ما فاقل اسباب کہہ دیتے ہیں
07:57کہ اسباب ظاہری وسائل
07:59ذرائع سے اوپر ابو
08:01اور وہ ہے موجزہ
08:02جو میرے آقا صلی اللہ علیہ وسلم نے
08:04حضرت جابر کی مدد فرمائی
08:06اس طرح کہ آپ نے وہ دھیر کہا
08:08خجورے اتارو
08:09دھیر کے پاس آئے دعا فرمائی
08:11پیچھے دو دفعہ دو روایتیں گزر چکی ہیں
08:13ایک روایت میں یہ ہے
08:14کہ آپ دھیر پر بیڑ گئے تھے
08:16اور آپ نے فرمایا
08:17تقسیم کرنا شروع کرو
08:18ایک روایت میں ہے
08:19کہ پہلے آپ نے درختوں کے
08:21کچھ چکر لگائے تھے
08:22اور پھر فرمایا
08:23آپ قرضہ ادا کرنا شروع کرو
08:25اور قرضہ ادا ہو گیا
08:26اس سے معلوم ہوا
08:28کہ جو بھی موجزہ ہوتا ہے
08:30یاد رکھیں
08:30کہ ہم اس کو
08:31یقینا نبی کا ایک طرف نزبت کرتے ہیں
08:34کہ نبی کا موجزہ
08:35لیکن حقیقتاً
08:36یہ صرف کمالِ الہی ہوتا ہے
08:38اللہ تبارک و تعالی
08:40اپنے کمال کو ظاہر کرتا ہے
08:42اپنے خدرت کو ظاہر کرتا ہے
08:43اس کے لئے وسیلہ
08:44نبی کو بناتا ہے
08:46اور جب ان سے وہ چیز ظاہر ہوتی ہے
08:47تو اس کو معجزہ کہہ دیتے ہیں
08:49موجزہ اس عمل کو کہتے ہیں
08:51کہ جس کی مثال
08:53جس کی نظیر لانے سے
08:54دیگر لوگ آجز آجاتے ہیں
08:55وہ آجز کر دیتا ہے
08:57ہرا دیتا ہے
08:58گویا کہ اس کا مقابل
08:59کوئی حسن نہیں لاسکتا
09:00اس کو معجزہ کہتے ہیں
09:01اور یہ سرکار صلی اللہ علیہ وسلم
09:03نے ایک معجزے کے ذریعے
09:04مدد کی
09:05اس سے معلوم ہوا
09:06کہ بوقت ضرورت
09:07حاجات کی تکمیل کے لئے
09:09اللہ کے نیک بندوں کی طرف
09:10متوجہ ہونا
09:11اور ان سے اپنے
09:12مسائب اور علام کو
09:13دور کرنے کے لئے
09:14فریاد کرنا
09:15لیکن اس یقین کے ساتھ
09:17کہ یہ ایک وسیل اور ذریعہ ہیں
09:19حقیقتاً میرا رب ہی
09:20میری مشکلات کو دور فرمائے گا
09:22اس میں کوئی حرج نہیں ہے
09:23اس کو
09:25صحابہ مانتے تھے
09:26جب سرکار کی بارگیم ارز کی
09:28آپ نے منع نہیں فرمایا
09:29تو اس کے مطلب
09:30سرکار نے بھی اس کی تائد کی
09:31اور اس کے خلاف
09:32اللہ کے طرف سے
09:33کوئی آیت نازل نہ ہوئی
09:35کہ یہ آپ کیا کر رہے ہیں
09:36کہ یہ تو
09:37ایک طرح کے شرکی دعوت ہو گئی
09:39کہ اللہ کے ساتھ
09:39کسی اور مخلوق سے بھی
09:40مدد مانگ لی
09:41جب اللہ کے طرف سے بھی
09:43کوئی آیات وغیرہ
09:44اس طرح کے نازل نہیں ہوئی
09:45تو معلوم ہوا
09:46کہ اللہ تعالیٰ بھی
09:47اس سے راضی ہے
09:47تو خلاص کلام یہ ہے
09:49کہ بوقت ضرورت
09:51اولا ہم یہ کہتے ہیں
09:52کہ سب سے پہلے توجہ
09:53اپنے رب کی طرف جانی چاہیے
09:55آپ اللہ کی بارگاہ میں دعا کریں
09:57وَاسْتَعِنُوا بِالصَّبْرِ وَالصَّلَحِ
09:59صبر کریں
10:00اور نماز سے مدد طلب کریں
10:02اس کے بعد جب آپ دیکھتے ہیں
10:04کہ آزمائش طویل ہے
10:05حل نہیں ہو رہی
10:06تو پھر آپ ایک وسیلہ سمجھتے ہوئے
10:08کسی بھی اللہ کی نیک بندے سے
10:10دعا کی بھی درخواست کر سکتے ہیں
10:11اور ان سے کہہ سکتے ہیں
10:13کہ آپ کسی بھی دریئے سے
10:15ہماری مدد کریں
10:16وہ دعا کے ذریعے کر دیں
10:17اگر اللہ کے ولی ہیں
10:18بطریقے قرامت کر دیں
10:20اور یا پھر وہ ویسے ہی
10:21ظاہری اذباب کے ذریعے کر دیں
10:22تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے
10:24اس ترتیب کو بس ملحوظ رکھا جائے
10:27دوسرے اس میں پوائنٹ یہ ہے
10:28کہ جو سرکار صلی اللہ علیہ وسلم
10:30نے اتنی تھوڑی خجوریں
10:32اتنے سارے لوگوں میں
10:33تقسیم بھی ہو گئیں
10:34قرضہ بھی عدا ہو گیا
10:35اور ایک روایت کے مطابق
10:37ایک ڈھیر ویسے کے ویسے یہ پڑا تھا
10:38اس سے یہ معلوم ہوا
10:40کہ اللہ تبارک و تعالی
10:42ظاہری اذباب
10:43ذرائع وسائل
10:45اور جو دنیا میں معاملات چل رہے ہیں
10:47اس نے یہ چیزیں
10:48تخلیق تو فرمائی ہیں
10:49لیکن وہ خود ان کا پابند نہیں ہے
10:52ہم کھائیں گے پییں گے
10:53تو زندہ رہیں گے
10:54یہ ایک آدھئی طور پر چیزیں چلتی ہیں
10:56لیکن اللہ چاہے
10:57تو کسی کو کھائے پیے بغیر
10:59کئی کئی سالوں تک زندہ رکھے
11:02کھانے کی حاجت ہی ختم کر دے
11:03جیسے کہ جنت کے اندر ہوگا
11:05ہم عمی طور پر
11:06آستہ آستہ بڑھاپی کی طرف آ جاتے ہیں
11:08اللہ چاہے
11:09تو ہمیشہ کسی کو زندہ رکھے
11:10جیسے کہ جنت میں ہوگا
11:11تو خلاص کلام یہ ہے
11:13کہ اللہ کے یہ تمام معاملات
11:15دست قدرت میں ہیں
11:16لہٰذا اس سے معلوم ہوا
11:17کہ ہمیں اللہ تعالی سے
11:19مایوس نہیں ہونا چاہیے
11:20بعض لوگ جب کچھ
11:22اپنے مشکلات کو
11:23بہت زیادہ محسوس کرتے ہیں
11:25تو شیطان ان کے دل میں
11:27بات ڈالتا ہے
11:27کہ تیری یہ مشکل
11:28تو شاید اللہ بھی حل نہیں کرے گا
11:30ماذا اللہ سمہ ماذا اللہ
11:32اور اس کی علامت یہ ہوتی ہے
11:33کہ ہم کچھ ہر سے
11:34تو بڑے دل لگا کر دعائیں کرتے ہیں
11:36اور پھر آج سے اس طرح
11:37مایوسی چھانے لگتی ہے
11:38کہ نا یار اتنا قرضہ ہے
11:39کیسے ادا ہوگا
11:39کوئی ظاہری اضواب بھی نہیں ہے
11:41ارے بھائی آپ کے پاس
11:42ظاہری سبب نہیں ہے
11:43اللہ تو قدرت کاملہ رکھتا ہے
11:46کہ جتنا آپ کے پاس
11:47سونا ہے
11:47چاندی ہے
11:48جتنے بھی آپ کے پاس
11:49نعمتیں ہیں
11:50یہ پیدا کس نے کی تھی
11:51اللہ نے کی تھی نا
11:52تو کسی نے کسی ذریعہ سے
11:53آپ تک سونا چاندی پہنچا
11:54لیکن پیدا تو اللہ نے کیا تھا
11:56اور اس وقت
11:57کائنات میں اتنا سونا چاندی ہے
11:59کہ وہ لے آئے
11:59تو اس کے پورا پاکستان
12:02تو پتہ بھی نہ چلے
12:03ایک ذرہ دب جائے پورا
12:04اتنا کائنات کے اندر
12:05خزانے موجود ہیں
12:07لیکن اصل میں
12:08اللہ تعالیٰ کی معرفت نہیں ہوتی
12:09تو ہم جلدی مایوس ہو جاتے ہیں
12:11اور مایوس ہونے کے بعد
12:12پھر ہم یہ نہیں دیکھتے
12:13کہ کیا ہم غلط قدم اٹھا رہے ہیں
12:15پھر ہم آملین
12:16جالی قسم کے آملین کے پاس
12:18سلے جاتے ہیں
12:19جو جادو کرتے ہیں
12:19ٹونا کرتے ہیں
12:20خلاف شرعہ کام کر رہے ہوتے ہیں
12:22مسئلے پھر بھی حل نہیں ہوتے
12:24عزت بھی جاتی ہے
12:25اور پیسہ بھی جاتا ہے
12:26اس لئے اپنے توقل کو
12:27مضبوط کرنے کی ضرورت ہے
12:28اور اس قسم کی حدیث پر غور کریں
12:31کہ جب اللہ تعالیٰ اس بات پر قادر ہے
12:33کہ ایک تھوڑا سے دھیر کو
12:36وہ بہت زیادہ کر سکتا ہے
12:38جبکہ دھیر ویسے ہی رہے
12:40تو ہماری مشکلات کو بھی حل کر سکتا ہے
12:42کبھی بھی مایوس نہیں ہونا چاہیے
12:46پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھیں
12:48جب یہ معجزہ دکھایا
12:49پھر فرمایا کہ
12:50جاؤ ابو بکر اور عمر کو اس کی اطلاع کر دو
12:52اس کا مطلب وہ وہاں نیتے سات تو آئے تھے
12:55لیکن کہیں باہر ٹھہر گئے ہوں گے
12:56آپ نے جا کر ان کو اطلاع کی
12:58تو انہوں نے ایک ہی جواب دیا
13:00کہ ہم پہلے ہی جانتے تھے
13:01کہ سرکار آئیں گے
13:02اور ایسا ہی ہوگا
13:03یہ مزاج شناسی ہوتی ہے
13:06کہ جب حضرت جابر نے کہا
13:08کہ ارز کی تھی
13:09کہ ایسے سمسلہ سرکار نے فرمایا
13:11ہم آ جائیں گے
13:12اور آپ دونوں ساتھ تھے
13:13تو سمجھ گئے
13:14کہ اب اس کا مطلب یہ ہوا
13:15کہ یہ قرضہ ادا ہوگا
13:16اور ضرور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم
13:19مدد فرمائیں گے
13:20اس سے ایک بات یہ ظاہر ہوتی ہے
13:21کہ جب آپ بزرگوں کے ساتھ رہیں
13:23تو مزاج شناسی بہت اچھی چیز ہوتی ہے
13:26جو اپنے بزرگوں کی سوچ
13:27فکر پسند ناپسند
13:30مزاج
13:30ان چیزوں کو جان لیتا ہے
13:32تو وہ ان کے نگاہوں میں
13:35اپنا مقام بنا لیتا ہے
13:36اور بہت سارے نہیں جانتے ہیں
13:38مثال کے طور پر
13:39ایک جو جاننے والا ہوگا
13:41وہ سمجھ جائے گا
13:42کہ اس وقت مجھے کوئی کلام نہیں کرنا چاہیے
13:44ان کا موڈ نہیں ہے
13:45اور جو نہیں جانتا
13:47وہ اسی ٹائم کوئی کلام کر کے
13:48اور مزاج خراب کر دے گا
13:49یا موڈ خراب کر دے گا
13:52جو سمجھتا ہے
13:53وہ ان کی ناپسندیدگی والا کام
13:55کبھی سامنے نہیں کرے گا
13:56لیکن اس کو نہیں پتا
13:57وہ کرے گا
13:57اور اپنا امیج گرا لے گا
13:59اس لئے یا تو
14:01بزرگوں کے ساتھ
14:02رہیں نہیں
14:03دور سے حقیدت قائم کریں
14:04اور اگر رہیں تو پہلے
14:06ان کی صحبتوں میں
14:07رہنے کے آداب سیکھ لیں
14:08مزاج شناسی سیکھیں
14:10پھر قریب آئیں
14:11اور اس سے سیدنا صدیق اکبر
14:14اور عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہما
14:16کہ سرکار سے قرب
14:19کی بھی بات ظاہر ہوئی
14:21کہ سرکار آپ کو ساتھ رکھا کرتے تھے
14:23ساتھ لے گئے
14:24اور ان کو اطلاع دی
14:25اور اسی لئے کہ
14:26تاکہ یہ اپنا معاف زمیر ظاہر کریں
14:28کہ ہم جانتے تھے
14:30کہ سرکار صلی اللہ علیہ وسلم
14:31یہاں تشریف لائیں گے
14:33اور کیا ہوگا
14:34تو یہ پیار اور محبت کی بات ہے
14:37سرکار نے ہمیشہ ان کو ساتھ رکھا
14:38حتی کہ اب مزار میں بھی وہ
14:40نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہیں
14:43اور رحمت کونین صلی اللہ علیہ وسلم
14:45نے ایک روایت میں
14:45صدیق اکبر کا ہاتھ ادھر سے پکڑا
14:48عمر فاروق کا یہاں پکڑا ہوا تا فرمایا
14:50کہ ہم برود قیامت
14:52اسی طرح اپنی قبور سے
14:54باہر نکلیں گے
14:55یعنی ہم ساتھ ساتھ ہوں گے
14:57اور ہاتھ پکڑے میں ہوں گے
14:58اس لئے ان نفوس قدشیہ کا احترام کریں
15:01عدب کریں ان سے پیار کریں
15:03محبت کریں
15:04یہ دونوں صحابہ قطعی طور پر جنتی ہیں
15:06کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم
15:08نے اپنی زندگی میں
15:10دس صحابہ خاص ایسے تھے
15:12جن کے بترتیب نام لے کر
15:14انہیں جنت کی بشارت دی تھی
15:16جنہیں اشرائے مبشرہ کہا جاتا ہے
15:18اور ان میں سب سے پہلے دو نام
15:20انہیں عظیم ہستیوں کے تھے
15:22ساری زندگی سرکار کے ساتھ رہے
15:25قبر میں بھی
15:26مزار مبارک میں بھی ساتھ ہیں
15:28برود قیامت بھی ساتھ ہوں گے
15:30اور سرکار نے بے شمار بشارتیں دیں
15:32ان کے لئے جنت کی تو جنت میں بھی
15:34ساتھ ہوں گے
15:35اگر ہم پیار محبت رکھیں گے
15:37نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں
15:42ہر شخص برود قیامت
15:44اسی کے ساتھ ہوگا
15:45جس سے وہ محبت کرتا ہوگا
15:47تو انشاءاللہ پھر
15:49صحابہ کے ساتھ
15:50اہلِ بیتِ اتحار کے ساتھ
15:52اولیاء عزام کے ساتھ
15:54مشتہی دین
15:55اس امت کے علماء
15:57مفتیانِ کرام کے ساتھ
15:58محبت رکھیں برود قیامت انشاءاللہ
16:00ان کی معیت حاصل ہوگی
16:03اگلے باپ کی طرف آتے ہیں
16:05کہ باب السلحی بالدین والعین
16:07نقد رقم دے کر
16:09قرض کے بدلے میں
16:10صلاح کرنے کا باپ
16:12دو ہزار سات سو دس نمبر حدیث پاک ہے
16:15اور یہ حضرت عبداللہ بن قعب
16:19رضی اللہ تعالی عنہ
16:21اس کے راوی ہیں
16:22وہ کہتے ہیں کہ حضرت قعب بن مالک
16:24نے ان کو بتایا
16:25کہ انہوں نے حضرت ابن ابی حضرت سے
16:29اس قرض کا
16:31مسجد میں
16:32مطالبہ کیا
16:33جو ان پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
16:36کے زمانے میں تھا
16:38پس ان دونوں کی آوازیں
16:40بلند ہو گئیں
16:41حتیٰ کہ ان آوازوں کو
16:42رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
16:44نے
16:44اپنے گھر میں
16:45یعنی جو قریب حجرہ تھا
16:46اس میں سن لیا
16:47پس رحمت قونین صلی اللہ علیہ وسلم
16:50ان دونوں کی طرف آئے
16:51حتیٰ کہ آپ نے
16:52اپنے حجرے کا پردہ کھولا
16:54پھر آپ نے حضرت قعب بن مالک
16:56کو آواز دی
16:57پس فرمایا
16:58اے قعب
16:58انہوں نے ارس کی
16:59یا رسول اللہ
17:00میں حاضر ہوں
17:01آپ نے اپنے ہاتھ سے
17:03اشارہ کر کے فرمایا
17:04کہ آدھا قرض
17:06کم کر دو
17:07اب وہ کیسا اشارہ تر
17:08شاید یوں کیا ہوگا
17:09کہ بھئے آدھا
17:10کم کر دیں
17:11تو حضرت قعب نے
17:12ارس کی
17:13یا رسول اللہ
17:13میں نے کر دیا
17:14پھر رسول اللہ
17:15صلی اللہ علیہ وسلم
17:16نے حضرت ابن ابی
17:18حضرت رضی اللہ
17:19عنہ سے فرمایا
17:20کہ اٹھو
17:20اب قرض
17:22ادا کر دو
17:22تو یہ حدیث
17:24کئی طرق سے پیچھے
17:25بیان ہو چکی ہے
17:26انشاءاللہ
17:27اس میں تھوڑا سا تفسرہ ہے
17:28جو نیکس پرگرام میں
17:29کریں گے
17:30وآخر دعوانا
17:31ان الحمدللہ
17:32رب العالمین
17:33اللہ حمد صلی اللہ
17:38محمد والا
17:42آنہی و صحبہی
17:47و صلی اللہ
Comments

Recommended