Dubai mein Dajjal ka ghar tayyar ho gaya hai — aur Rasool Allah ﷺ ne 1400 saal pehle is ka zikr kar diya tha. Aaj woh nishaniyan hamare samne puri ho rahi hain jo insaan ko hila kar rakh deti hain.
Is video mein kya dekhenge?
✅ Dubai aur Qayamat ki nishaniyon ka놀 taluq
✅ Buland imaratein banane wali hadith aur aaj ka manzar
✅ Abrahamic Family House — Nabi ﷺ ki wasiyyat se takrao
✅ Dajjal kaise khair ke nare ke saath aayega?
✅ Pakistan ka Aakhir uz Zaman mein kirdar
Timestamps:
00:00 — Taaruf
01:30 — Buland imaratein wali hadith
04:00 — Dubai ke chaukane wale haqaiq
07:30 — Abrahamic Family House
11:00 — Dajjal ka tareeqa-e-waardaat
14:30 — Pakistan aur Aakhir uz Zaman
18:00 — Aap ke liye 5 wasiyyatein
🔔 Subscribe karein — har hafte nayi video!
💬 Comment mein apni raay likhein
📤 Share karein apne doston ke saath
⚠️ Disclaimer: Is video mein pesh ki gayi maloomat Quran, Hadith aur ulama ki tashreehat par mabni hai. Yeh tajziyati nouwiyat ki guftagu hai. Hatmi ilm sirf Allah ko hai.
#NoorTV #Dajjal #Qayamat #Dubai #MMTV #AakhirUzZaman #Islam #Pakistan
Is video mein kya dekhenge?
✅ Dubai aur Qayamat ki nishaniyon ka놀 taluq
✅ Buland imaratein banane wali hadith aur aaj ka manzar
✅ Abrahamic Family House — Nabi ﷺ ki wasiyyat se takrao
✅ Dajjal kaise khair ke nare ke saath aayega?
✅ Pakistan ka Aakhir uz Zaman mein kirdar
Timestamps:
00:00 — Taaruf
01:30 — Buland imaratein wali hadith
04:00 — Dubai ke chaukane wale haqaiq
07:30 — Abrahamic Family House
11:00 — Dajjal ka tareeqa-e-waardaat
14:30 — Pakistan aur Aakhir uz Zaman
18:00 — Aap ke liye 5 wasiyyatein
🔔 Subscribe karein — har hafte nayi video!
💬 Comment mein apni raay likhein
📤 Share karein apne doston ke saath
⚠️ Disclaimer: Is video mein pesh ki gayi maloomat Quran, Hadith aur ulama ki tashreehat par mabni hai. Yeh tajziyati nouwiyat ki guftagu hai. Hatmi ilm sirf Allah ko hai.
#NoorTV #Dajjal #Qayamat #Dubai #MMTV #AakhirUzZaman #Islam #Pakistan
Category
📚
LearningTranscript
00:28।
00:40।
01:09।
01:39।
02:00Allah sallallahu alayhi wa sallam
02:01نے
02:01اپنے جلیل القدر صحابی
02:04معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے
02:06گفتگو کرتے ہوئے بیت المقدس
02:08کے بارے میں عام پیشگوئیاں بیان فرمائیں
02:10اس حدیث میں استعمال ہونے
02:12والا لفظ عمران بیت المقدس
02:14اپنی معنوی وسط کے اعتبار
02:16سے نہایت قابل غور ہے
02:17عربی لغت میں عمران کے متعدد مفاہیم
02:20بیان کیے گئے ہیں جن میں تعمیر
02:22و ترقی آبادی کا بڑھنا اور
02:24خوشحالی شامل ہیں یوں ایک ہی
02:26لفظ کے اندر کئی ادبار اور
02:27کئی مراحل کی طرف اشارہ
02:29موجود نظر آتا ہے پہلے
02:31مرحلے میں آبادی اور آبادکاری کا عمل
02:33پھر ترقی اور استحکام اور
02:35اس کے بعد خوشحالی اور معاشی آمیت
02:37کا بڑھنا صدیوں پر محیط مختلف
02:40تبدیلیوں کو ایک مختصر مگر
02:42جامع لفظ میں سمو دینا
02:43رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
02:46کی فصحت و بلاغت کا
02:47ایک حیرت انگیز پہلو ہے
02:49اور یہی وہ مقام ہے جہاں آ کر
02:51انسان کا دل بے اختیار کہہ اٹھتا ہے
02:54کہ یہ کوئی انسانی سوچ نہیں
02:55بلکہ یہ بہی کی روشنی ہے
02:57جو تاریخی میں صدیوں آگے دیکھ سکتی ہے
03:00اس کے بعد حدیث میں بیان کردہ
03:02اگلا محلہ سامنے آتا ہے
03:03یعنی بیت المقدس کی تعمیر و ترقی
03:06کا وہ دور جو اپنے افتامی مراحل
03:08کی طرف بڑھتا دکھائی دیتا ہے
03:09بعض اہل علم اور محققین
03:11اس بات کی طرف توجہ دلاتے ہیں
03:13کہ عمران بیت المقدس کا عمل
03:15صرف آبادی اور معاشی خوشحالی
03:17تک محدود نہیں
03:18بلکہ اس کے ساتھ ایسی بڑی تعمیراتی
03:20تبدیلیاں بھی وابستہ ہو سکتی ہیں
03:22جو اس خطے کی مذہبی اور سیاسی حیثیت
03:24کو مزید نمائع کر دیں
03:26اسی تناظر میں بعض حلقوں کی جانب سے
03:29مسجد اقصہ اور تھرڈ ٹیمپل
03:30کے حوالے سے مختلف پیشگوئیاں
03:32اور امکانات زیر بحث
03:34لائے جاتے ہیں
03:35روایات میں بیان ہوتا ہے کہ
03:37رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
03:39نے ماز بن جبل رضی اللہ عنہ
03:41کو مخاطب کرتے ہوئے
03:43اس واقعے کی یقینیت پر زہو دیا
03:45گویا جس طرح اس وقت وہ
03:48ایک ہی جگہ موجود تھے
03:49اور ایک دوسری کی بات سن رہے تھے
03:51اس طرح یہ واقعات بھی اپنے مقررہ
03:53وقت پر ضرور رونما ہوں گے
03:55اس بیان کا مقصد مستقبل کہ ان مراحل
03:57کی قطعیت کو واضح کرنا تھا
03:59جو وقت کے ساتھ ایک ایک کر کے سامنے آنے والے تھے
04:02اور آج جب ہم تاریخ کی کتاب پلٹتے ہیں
04:04تو معلوم ہوتا ہے
04:05کہ ان مراحل میں کئی
04:06اپنی تکمیل کو پہنچ چکے ہیں
04:08اور کئی تکمیل کے قریب ہیں
04:10اس تناظر میں بعض تجزیہ نکاروں کا خیال ہے
04:13کہ بیت المقدس میں آبادی کا مسلسل بڑھنا
04:15دنیا بھر سے لوگوں کا وہاں منتقل ہونا
04:17اور اس خطے کی بڑھتی ہوئی
04:19اہمیت اسی عمل کا حصہ ہے
04:21گزشتہ کئی برسوں میں مختلف ممالک سے
04:23ہزاروں خاندان اس علاقے میں منتقل ہوئے
04:26اور نئی بستیاں قائم کی گئیں
04:27اس عمل کو بعض لوگ آبادکاری
04:29یا سٹلمنٹ کے نام سے تعبیر کرتے ہیں
04:32ان کے نزدیک آبادی بڑھانے کا مرحلہ
04:34بڑی حد تک ممکن ہو چکا ہے
04:35جبکہ معاشی اور سیاسی استحقام کا مرحلہ بھی جاری ہے
04:38ان آرہ کے مطابق جب یہ عمل
04:40اپنی تکمیل کو پہنچے گا
04:41تو خطے میں مزید تبدیلیاں سامنے آ سکتی ہیں
04:44آج بیت المقدس اور اس کے گرد و نوہ کی
04:47سیاسی مذہبی اور معاشی اہمیت
04:49عالمی سطح پر مسلسل زیر بحث رہتی ہے
04:51دنیا کی بڑی طاقتیں
04:53بین الاقوامی ادارے اور مختلف ممالک
04:56اس خطے کے مستقبل کو
04:57اپنے اپنے زاویے سے دیکھتے ہیں
04:59بعض تجزیہ کاروں کا خیال ہے
05:01کہ آنے والے برسوں میں اس علاقے کی
05:03اہمیت مزید بڑھ سکتی ہے
05:05اور عالمی سیاست کا مرکز بن سکتی ہے
05:07ایک حقیقت واضح ہے کہ بیت المقدس
05:10آج بھی دنیا کے اہم ترین
05:11مقامات میں شمار ہوتا ہے
05:13اور اس کی حیثیت صرف مذہبی نہیں بلکہ
05:15سیاسی، سفارتی اور عالمی سطح پر بھی
05:17غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے
05:19یہی وجہ ہے کہ اس خطے میں ہونے والی
05:21ہر تبدیلی پوری دنیا کی توجہ
05:23اپنی جانب مبزول کرا لیتی ہے
05:25اس گفتگو کے دوران ایک اور
05:27اہم موضوع سامنے آتا ہے
05:29جو مشرق سے اٹھنے والے فتنوں سے متعلق
05:31احادیث کا ہے
05:32متعدد روایات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
05:35نے مشرق قسم تشارہ کرتے ہوئے
05:38فرمایا کہ فتنیں
05:39اس جانب سے ظاہر ہوں گے اور وہیں سے
05:41شیطانی اثرات یا بڑے آزمائشی
05:43ادوار جنم لیں گے
05:44ان روایات کے الفاظ کی تشریح میں علماء کے
05:47درمیان مختلف آرہ پائے جاتی ہیں
05:49اور صدیوں سے ان پر علمی بحث جاری ہے
05:52مگر جو بات قابل غور ہے
05:53وہ یہ ہے کہ فتنوں کی یہ سمت
05:55یہ تسلسل اور یہ ترطیب آج کے حالات میں
05:58بھی نمائع طور پر دکھائی دیتی ہے
05:59بعض موقعین لفظ
06:01قرن کے لغوی مفہوم پر گفتگو کرتے ہوئے
06:04یہ موقع اختیار کرتے ہیں
06:05کہ عربی زبان میں اس لفظ کے متعدد
06:07معنی پائے جاتے ہیں
06:08قرآن مجید میں بھی یہ لفظ مختلف مقامات پر استعمال ہوا ہے
06:12اور بعض مواقع پر
06:13اس سے زمانہ نسل
06:15یا دور مراد لیا گیا ہے
06:17اسی بنیاد پر کچھ اہل علم یہ رائے دیتے ہیں
06:19کہ بعض احادیث میں مذکور
06:21قرن الشیطان سے
06:22شیطان کا کوئی مخصوص دور
06:25یا فتنوں کا زمانہ مراد ہو سکتا ہے
06:27روایات میں مذکور
06:28مشرقی سمت کے تعیون کے حوالے سے بھی
06:31مختلف تحقیقات کی گئی ہیں
06:33اور علماء نے مدینہ منورہ کے
06:35جغرافیائی محل وقوع کو سامنے رکھتے ہوئے
06:37ان احادیث کا گہرائی سے
06:39مطالعہ کیا ہے
06:40بعض تجزیہ کاروں کے نزدیک
06:42مشرق سے متعلق وہ پیشگوئیاں
06:44جن کا ذکر احادیث میں کیا گیا ہے
06:46اب اپنے ظہور کے مراحل
06:48تیہ کر چکی ہیں
06:49ان کے مطابق گزشتہ کئی دہائیوں میں
06:51جزیرہ عرب میں ایسے باقیات رونما ہوئے ہیں
06:53جنہیں وہ ان روایات کے تناظر میں دیکھتے ہیں
06:56ان کا استدلال ہے
06:57کہ صدیوں تک جزیرہ عرب
06:59ایک مخصوص مذہبی شناحت کے ساتھ قائم رہا
07:01لیکن جدید دور میں
07:03وہاں ایسے اقدامات بھی سامنے آئے
07:04جنہوں نے خطے کی مذہبی
07:06اور سماجی ساخت کے بارے میں
07:08نئی بحثوں کو جنم دیا
07:09رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی
07:12آخری وسیعتوں میں سے
07:13ایک وسیعت کے طور پر یہ بات
07:15نقل کی جاتی ہے
07:16کہ جزیرہ عرب کو شرک
07:18اور بدھ پرستی سے پاک رکھا جائے
07:20اور اس خطے کی دینی شناحت کو
07:22برقرار رکھا جائے
07:23اسلامی تاریخ میں یہ بھی بیان کیا جاتا ہے
07:26کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے دور میں
07:29اس حوالے سے غیر معمولی
07:30حساسیت اختیار کی گئی
07:32اس تاریخی پس منظر کی وجہ سے
07:34جب جدید دور میں بعض غیر مسلم عبادت گاہوں
07:37جب بین المذاہب منصوبوں کی خبریں سامنے آئیں
07:40تو بہت سے مذہبی حلقوں نے
07:41اسے غیر معمولی اہمیت دی
07:43اور اسے ایک بڑی تبدیلی قرار دیا
07:45یہ صرف کسی ایک ملک کا داخلی معاملہ نہیں
07:47بلکہ اس کے اثرات پوری اسلام دنیا پر مرتب ہوتے ہیں
07:51کچھ مبصرین کا خیال ہے
07:52کہ مشرق وستہ میں ہونے والی
07:54حالیہ سیاسی تبدیلیاں
07:55محض علاقائی فیصلے نہیں
07:57بلکہ ایک وسیطر
07:58عالمی منصوبے کا حصہ ہیں
08:00ان کے مطابق بعض ریاستیں
08:02مستقبل کے
08:02ایسے سیاسی اور مذہبی
08:04تصورات کو فروغ دے رہی ہیں
08:06جو روایتی مذہبی شناختوں کو
08:08ایک نئے فریم ورک میں پیش کرنا چاہتے ہیں
08:11یہی وجہ ہے کہ گزشتہ برسوں میں
08:13مختلف ممالک کے درمیان ہونے والے
08:15محایدے اور تعلقات
08:16مذہبی حلقوں میں شدید بحث کا موضوع بنے رہے ہیں
08:19اسی تناظر میں
08:20ابراہیمی تصور
08:21یا ابراہم فیتس کے نام سے
08:24پیش کیے جانے والے نظریات پر بھی
08:26گفتگو کی جاتی ہے
08:27ناقدین کا موقف ہے
08:29کہ اس تصور کے ذریعے
08:30مختلف مذہب کو
08:31ایک مشترکہ شناخت کے تحت
08:32جمع کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے
08:34جبکہ ان کے نزدیک
08:35قرآن مجید
08:36حضرت ابراہیم علیہ السلام کی نسبت کو
08:38خالص توحید اور اسلام کے ساتھ جوڑتا ہے
08:41اسی لئے وہ اسی اسطلاح کو
08:42محض مذہبی ہم آہنگی کا منصوبہ نہیں
08:44بلکہ ایک بڑے فکری اور نظریاتی عمل کا حصہ قرار دیتے ہیں
08:48اور اگر تاریخ کا مطالعہ کیا جائے
08:50تو معلوم ہوگا
08:51کہ بڑی نظریاتی تبدیلیاں
08:53ہمیشہ خاموشی سے آتی ہیں
08:54شور مچاتے ہوئے نہیں
08:55دجال کے حوالے سے
08:57اسلامی روایات میں جو تفصیلات بیان ہوئی ہیں
08:59ان میں سے ایک اہم نکتہ یہ بھی ہے
09:02کہ اس کا ظہور محض
09:03طاقت یا جبر کے ذریعے نہیں ہوگا
09:05بلکہ وہ پہلے لوگوں کے سامنے
09:07اسلاح خیر خواہی اور فلاح کے دعویوں کے ساتھ آئے گا
09:09روایات کے مطابق وہ ایسے نعرے
09:11اور ایسے حل پیش کرے گا
09:12جو بظاہر انسانیت کے لئے
09:13فائدہ مند محسوس ہوں گے
09:15اسی وجہ سے بڑی تعداد میں
09:16لوگ اس کے فریب کا شکار ہو جائیں گے
09:18یہی وہ نکتہ ہے جو سب سے زیادہ چونک آتا ہے
09:21کہ برائی ہمیشہ برائی کے لباس میں نہیں آتی
09:23وہ اکثر خیر کے پردے میں آتی ہے
09:25بعض علماء اس پہلوں کی تشریح کرتے ہوئے کہتے ہیں
09:28کہ فتنوں کی اصل پہچان
09:29یہ نہیں ہوتی کہ وہ برائی کے
09:31بازے عنوان کے ساتھ سامنے آئے
09:33بلکہ اکثر اوقات وہ خیر
09:35امن ترقی اور اتحاد کے دلکش ناروں میں
09:37لپٹے ہوئے ہوتے ہیں
09:38یہی وجہہ کہ اسلامی تعلیمات بار بار
09:40اس بات پر زور دیتی ہے
09:42کہ کسی بھی نظریے تحریک
09:44یا دعوت کو محض اس کے خوبصورت ناروں
09:46کی بنیاد پر قبول نہ کیا جائے
09:48بلکہ اسے وحی شریعت اور دینی
09:50اصولوں کی روشنی میں پرکھا جائے
09:52ان تجزیہ نگاروں کے مطابق مستقبل میں
09:54دنیا کو ایک ایسے بیانی کی طرف
09:56لے جانے کی کوشش کی جا سکتی ہے
10:05تاریخ میں بڑی تبدیلیاں ہمیشہ اچانک نہیں آتی
10:07بلکہ پہلے ان کے لئے فکری
10:09اور سماجی ماحول تیار کیا جاتا ہے
10:11چنانچہ بین المذاہب کا
10:13مقالمہ عالم اتحاد اور مذہبی
10:15ہم آہنگی جیسے تصورات کو
10:17بعض حلقے اسی پس منظر میں دیکھتے ہیں
10:19اسلامی نکتہ نظر کے مطابق
10:21کسی بھی نظام فکر یا دعوت کی
10:23قبولیت کا میار اللہ تعالی کی ہدایت
10:25اور اس کے نازل کردہ قانون کی پیروی ہے
10:28چنانچہ جو نظریہ یا نظام
10:29اس بنیاد سے متصادم ہو
10:31اس کے بارے میں اہل علم
10:32ہمیشہ احتیاط اور گہری تحقیق کی ضرورت پر
10:35زور دیتے ہیں
10:36اس نقطہ نظر کے حامل افراد کا کہنا ہے
10:38کہ آج دنیا جس سمت میں بڑھ رہی ہے
10:40وہاں مختلف مذہبی سیاسی اور سماجی منصوبوں
10:43کو محض الگ الگ واقعات کے طور پر
10:46نہیں دیکھا جا سکتا
10:47بلکہ وہ انہیں ایک بڑی تصویر کے حصوں
10:49کے طور پر دیکھتے ہیں
10:50ان کے نزدیک بین المذاہب
10:52ہماہنگی
10:52عالم اتحاد اور مشترکہ
10:54مذہبی شناخ جیسے تصورات کے پیچھے
10:56ایسے آداب بھی کارفرما ہو سکتے ہیں
10:59جن کے اثرات آنے والے برسوں میں زیادہ واضح ہوں گے
11:02اسی لئے وہ تمام پیشرفتوں کو
11:04دجال کے ظہور سے پہلے کے
11:05حالات کے تناظر میں سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں
11:08بہرحال ایک نقطہ ایسا ہے
11:10جس پر تقریباً تمام مسلمان متفق نظر آتے ہیں
11:13اور وہ ہے امت کے اتحاد کی ضرورت
11:15موجودہ دور کے حالات پر نظر ڈالی جائے
11:17تو یہ حقیقت نمائع ہو جاتی ہے
11:19کہ جنگوں تنازحات اور
11:21بہرانوں میں مرنے والوں سے
11:22ان کا مسلک نہیں پوچھا جاتا
11:25گزشتہ چند دہائیوں میں مشیق وستہ
11:27اگوانستان عراق شام
11:29فلسطین اور دیگر خطوں میں
11:31ہونے والے سانحات نے یہ دکھایا
11:33کہ مسئیبت جب آتی ہے تو وہ شیعہ
11:35اور سنی عرب اور عجم
11:36یہ کسی مخصوص گروہ میں فرق نہیں کرتی
11:39آگ جب گھر کو لپیٹتی ہے
11:40تو یہ نہیں دیکھتی کہ اس کمرے میں کون رہتا ہے
11:43اس لئے بہت سے علماء اور مفکرین
11:45نوجوان نسل کو یہ پیغام دیتے ہیں
11:46کہ فرقہ واریت اور باہیمی دشمنی کے بجائے
11:49امت کے مشترکہ مسائل پر
11:51توجہ دی جائے
11:52ان کے نزدیک ایسے موضوعات جن پر صدیوں سے
11:54علمی اختلاف موجود ہے
11:56انہیں علمی انداز میں زہر بحث لائے جائے
11:58لیکن انہیں نفرت
12:00دشمنی اور انتشار
12:02کا ذریعہ نہیں بننا چاہیے
12:04اختلاف رائے ہمیشہ سے علمی روایات
12:06کا حصہ رہا ہے
12:07اسلامی تاریخ میں بڑے بڑے علماء کے درمیان بھی
12:10متعدد مسائل میں اختلاف پایا جاتا تھا
12:12لیکن اس کے باوجود ان کے درمیان
12:14احترام وقار اور
12:16علم دیانت برقرار رہتی تھی
12:17آج ہمیں اسی روایات کو زندہ کرنے کی ضرورت ہے
12:20اسی تناظر میں امام مہدی علیہ السلام
12:22کے ظہور سے متعلق موجود
12:24مختلف آرہ کا بھی ذکر کیا جاتا ہے
12:26بعض مقاطب فکر کے نزدیک
12:28ان کی ولادت ہو چکی ہے اور وہ
12:30پردہ غیب میں ہیں جبکہ بعض کے نزدیک
12:32ان کی ولادت مستقبل میں ہوگی
12:34اور وہ مقررہ وقت پر
12:36ظاہر ہوں گے اس اختلاف کے باوجود
12:38بنیادی عقیدہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ
12:40جب چاہے گا اپنے وعدہ پورا فرمائے گا
12:42چنانچہ بہت سے اہلِ علم اس موضوع
12:44کو باہمی نزاہ کا سبب بنانے کے بجائے
12:46امت کی وعدت اور مشترکہ
12:48مقاصد پر توجہ دینے کی تلقین
12:50کرتے ہیں کیونکہ جو شخص اپنا گھر
12:52جلانے میں مصروف ہو وہ دشمن کی آگ
12:54سے کیسے بچے گا رسول اللہ
12:56صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے امت کی
12:58مثال ایک جسم سے دی تھی
13:00کہ اگر جسم کے ایک حصے کو تکلیف پہنچے
13:02تو پورا جسم بے چین ہو جاتا ہے
13:04یہی تصور امت مسلمہ کے
13:06اتحاد کی بنیاد بھی فراہم کرتا ہے
13:08اس اصول کے مطابق مسلمانوں کے
13:10درمیان موجود اختلافات کو اس حد
13:12تک نہیں پہنچنا چاہیے کہ وہ
13:14ان کے اجتماعی مفادات اور
13:16مشترکہ ذمہ داریوں کو نقصان پہنچائیں
13:18مگر آج ہم دیکھتے ہیں کہ یہی امت
13:20جو ایک جسم کا حصہ ہونی چاہیے تھی
13:22انتشار اور نفرت کی آگ میں
13:23الچی ہوئی ہے یہ وہ کمزوری ہے جس کا
13:26فائدہ ہر دور میں اٹھایا گیا ہے اور
13:28آج بھی اٹھایا جا رہا ہے ان تمام
13:29مباحث کے بعد توجہ موجودہ حالات
13:32اور مخصوص اور بالخصوص
13:34پاکستان کے کردار کی طرف
13:35منتقل ہوتی ہے کیونکہ بدلتے ہوئے
13:38عالمی منظرنامے میں یہ سوال
13:39مسلسل زیر بحثے کے آنے والے برسوں میں
13:41پاکستان کے سمت میں آگے بڑھے گا
13:44خطے کی سیاست میں اس کا کردار
13:46کیا ہوگا اور وہ ان تیز رفتار
13:48عالمی تبدیلیوں کا سامنا
13:49کس انداز میں کرے گا پاکستان
13:52کوئی عام ملک نہیں ہے بلکہ
13:53یہ وہ ملک ہے جو اسلام کے نام پر
13:55بنا اور جس کے پاس اسلامی دنیا کی
13:57سب سے بڑی ایٹمی طاقت موجود ہے
14:00موجودہ حالات کے تناظر میں
14:01بعض تجزیہ نگار پاکستان کے
14:03کردار کو غیر معمولی اہمیت دیتے ہیں
14:05ان کے نزدیک اگر وہ تمام بڑے
14:07واقعات جن کا ذکر اسلامی روایات
14:09میں آخر الزمہ کے حوالے سے کیا جاتا ہے
14:12اسی صدی یا آنے والی چند
14:13دہائیوں کے اندر رونما ہوئے ہیں
14:15تو پھر پاکستان اور بالخصوص
14:17اس کی عسکری قوت ایک فیصلہ کن حیثت
14:19اختیار کر سکتی ہے
14:20ان کا موقف ہے کہ اگر امام مہدی علیہ السلام
14:23کا ظہور دجال کا خروج
14:25اور حضرت عیسی علیہ السلام کا نزول
14:27اسی دور کے قریب ہے تو پھر
14:28مسلم دنیا میں موجود طاقت کے مراقص
14:31کا اثر نو جائزہ لینا ہوگا
14:33اس نقطہ نظر کے حامل افراد کا کہنا ہے
14:35کہ پاکستان کی عسکری صلاحیت
14:37جغرافیائی محل وقوع ایٹمی قوت
14:39اور اس کی نظریاتی بنیادیں
14:40اسے دیگر مسلم ممالک سے
14:42ایک مختلف مقام عطا کرتی ہیں
14:44ان کے مطابق اگر آنے والے بڑے
14:47واقعات اسی زمانے میں وقوع پذیر ہونے ہیں
14:49تو پاکستان کی ریاستی اور
14:51دفاعی طاقت کو محفوظ اور
14:52مستحکم رکھنا نہ گزیر ہوگا
14:54یہی وجہ ہے کہ قومی استحکام اور دفاعی قوت
14:57صرف سیاسی جغرافیائی ضرورت نہیں
14:59بلکہ ایک وسیطر تاریخی
15:00اور دینی تناظر میں بھی دیکھتے ہیں
15:02پاکستانی فوج کا یہ کردار
15:04اس کی یہ تیاری اور یہ قوت
15:06محض اتفاق نہیں بلکہ
15:08بعض اہل نظر اسے ایک الہی منصوبے
15:10کا حصہ سمجھتے ہیں
15:11بعض روایات میں مدینہ منورہ اور
15:14اس کے اطراف کے علاقوں کے بارے میں
15:15جو واقعات بیان کیے گئے ہیں
15:17ان کی تشریح کرتے ہوئے کچھ اہل علم اور تدزی نگار
15:20یہ رائے دیتے ہیں کہ مستقبل میں
15:22حجاز اور اس کے گرد و نوہ
15:23عالمی کشم کشکہ مرکز بن سکتے ہیں
15:26ان کے مطابق بعض احادیث میں
15:28ایسے مقامات کا ذکر ملتا ہے
15:29جو بڑے تصادم اور تاریخی مارکوں سے
15:31متعلق سمجھے جاتے ہیں
15:32اسی بنیاد پر یہ وہ تصور پیش کرتے ہیں
15:36کہ اگر ایسے حالات پیدا ہوئے
15:37تو مسلم دنیا کی بڑی عذکری قوتیں
15:39ان واقعات میں اہم کردار
15:41ادا کر سکتی ہیں
15:42ان حلقوں کا خیال ہے کہ آنے والے برسوں میں
15:45مسلم ممالک کے سامنے
15:46اصل چیلنجز محض بیرونی خطرات نہیں ہوں گے
15:49بلکہ داخلی انتشار
15:50سیاسی ادم استحکام
15:52اور باہمی اختلافات بھی ہو سکتے ہیں
15:54اسی لئے وہ اس بات پر زور دیتے ہیں
15:55کہ مسلم دنیا کو غیر ضروری تنازیات سے بچتے ہوئے
15:59اپنی اجتماعی قوت کو محفوظ رکھنا چاہیے
16:01ان کے نزدیک قوموں کی اصل طاقت
16:03اس وقت ضائع ہوتی ہے
16:04جب وہ اپنے داخلی اختلافات میں
16:06علچ کر بڑے خطرات کو نظر انداز کر دیتی ہے
16:09آج پاکستان کے سامنے بھی یہی سوال ہے
16:11کہ کیا وہ اپنی داخلی کمزوریوں پر
16:13قابو پا کر ایک مضبوط
16:15اور یکسو قوم کے طور پر اُبھر سکتا ہے
16:17اسی پر اس منظر میں پاکستان کی حالیہ پالیسیوں
16:20اور علاقائی معاملات میں
16:21اس کے کردار پر بھی گفتگو کی جاتی ہے
16:23بعض مبسرین کا خیال ہے
16:25کہ انتہائی پیچیدہ علاقائی حالات کے باوجود
16:28پاکستان نے متعدد مواقعوں پر
16:30مہتات اور متوازن حکمت عملی اختیار کی ہے
16:32ان کے مطابق ایسے مواقع پر
16:34جذباتی فیصلوں کے بجائے
16:36صبر تدبر اور طویل المدتی
16:38مفادات کو سامنے رکھنا زیادہ اہم ہوتا ہے
16:41یہ صبر اور یہ حکمت
16:43پاکستان کی سب سے بڑی طاقت بھی ہو سکتی ہے
16:45اگر اسے درست طریقے سے استعمال کیا جائے
16:47یہی وجہ ہے کہ بہت سے تجزینگار
16:49موجودہ دور کو محض
16:50روز مرہ سیاسی واقعات کا سلسلہ نہیں سمجھتے
16:53بلکہ اسے ایک بڑی تاریخی
16:55تبدیلی کی ابتدائی مراحل قرار دیتے ہیں
16:57ان کے نزدیک دنیا ایک ایسے دوراہے پر
16:59کھڑی ہے جہاں سیاسی معاشی
17:01مذہبی اور عسکری تبدیلیاں
17:03بے ایک وقت وقوع پذیر ہو رہی ہیں
17:04سنانچے آنے والے برسوں میں رونما ہونے والے
17:07واقعات نہ صرف مشرق وستہ
17:09بلکہ پوری دنیا کے مستقبل پر
17:10گہرے اثرات مرتب کر سکتے ہیں
17:13اور ان تمام تبدیلیوں کے درمیان پاکستان
17:15کا کردار ایک مہوری حیثیت
17:17اختیار کرتا جا رہا ہے
17:18اس تمام منظر نامے میں ایک بات
17:20بار بار نمائیں ہوتی ہے کہ امت مسلمہ
17:23کے لئے سب سے بڑی ضرورت اتحاد
17:25شعور بصیرت اور اپنے مشترکہ
17:27مفادات کا تحفظ ہے
17:28کیونکہ تاریخ گوائے کے بڑی تبدیلیوں کے
17:31ادوار میں وہی قومیں کامیاب ہوتی ہیں
17:33جو داخلی اجتہ کام
17:34فکری وضاحت اور اجتماعی حکمت
17:37عملی کے ساتھ آگے بڑھتی ہیں
17:38جو قومیں اپنی تاریخ سے سبق نہیں سیکھتی
17:40انہیں اپنی غلطیاں بار بار دورانی
17:43پڑتی ہیں اور یہ ایک ایسا سبق ہے
17:44جسے آج ہر مسلمان کو
17:46اپنے دل میں اتارنے کی ضرورت ہے
17:48آخر میں یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ
17:50تمام واقعات جو ہم اپنے گرد و پیش
17:53رونما ہوتے دیکھ رہے ہیں
17:54یہ محض اتفاق نہیں
17:55ہر چیز اپنے مقرر وقت پر آ رہی ہے
17:57اور ہر واقعہ اپنی مقررہ جگہ پر ہو رہا ہے
18:00مومن کا فریضہ یہ نہیں
18:02کہ وہ مایوس ہو یا گھبر آئے
18:03بلکہ مومن کا فریضہ یہ ہے
18:05کہ وہ تیاری کرے
18:06اللہ سے تعلق مضبوط کرے
18:08اپنی امت سے محبت رکھے
18:09اور اس قافلے کا حصہ بنے
18:10جو حق کی راہ پر چل رہا ہے
18:11کیونکہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
18:14کا وعدہ ہے
18:14اور اللہ کا وعدہ ہے
18:16کہ آخری فتح حق کی ہوگی
18:17باطل کی نہیں
18:18اور یہ وہ یقین ہے
18:19جو ہر مشکل میں مومن کو راستہ دکھاتا ہے
18:21اور ہر اندھیرے میں
18:23روشنی بن کر سامنے آتا ہے
18:24اس پوری گفتگو میں
18:26ایک اور پہلو بھی ہے
18:27جسے نظرانداز نہیں کیا جا سکتا
18:29اور وہ ہے نوجوان نسل کا کردار
18:31آج کا نوجوان مسلمان
18:33جو سوشل میڈیا پر
18:34گھنٹوں گزارتا ہے
18:35وہ معلومات کے ایک ایسے سمندر میں ہے
18:37جہاں حق اور باطل کی
18:38لہریں ساتھ ساتھ چل رہی ہیں
18:40اسے ہر قدم پر فیصلہ کرنا ہے
18:42کہ کس آواز کو سنے
18:43اور کس بیانیوں کو قبول کرے
18:44یہی وجہ ہے کہ علمی آگہی
18:46دینی بصیرت اور تنقیدی سوچ
18:48آج کے دور میں
18:49پہلے سے کہیں زیادہ ضروری ہو گئی ہے
18:51جو نوجوان اپنے دین کو سمجھ کر
18:54اور اپنی تاریخ کو جان کر آگے بڑھے گا
18:56وہی اس دور کے فتنے سے
18:58محفوظ رہ سکے گا
18:59اسی طرح یہ بھی ضروری ہے
19:01کہ ہم ان مباحث کو
19:02محض جذباتی سطح پر نہ لیں
19:04بلکہ علمی اور تحقیقی
19:05نقطہ نظر سے بھی دیکھیں
19:07حدیث کی تشریح ایک ایسا علم ہے
19:09جس میں صدیوں کا علمی ورثہ موجود ہے
19:11بغیر علمی بنیاد کے
19:12کسی بھی حدیث کو
19:13موجودہ واقعات پر چسپا کر دینا
19:16احتیاط کا تقاضہ نہیں
19:17ہاں علمی بنیادوں پر
19:19تذزیہ و تحقیق کرنا
19:20اور غور و فکر کرنا
19:22نہ صرف جائز ہے
19:22بلکہ ضروری بھی ہے
19:23اہل ایمان نے
19:24ہر دور میں
19:25اپنے زمانے کے حالات کو
19:27دینی تعلیمات کی روشنی میں
19:28سمجھنے کی کوشش کی ہے
19:30اور یہ سلسلہ
19:31آج بھی جاری و ساری ہے
19:32قرآن مجید میں
19:33اللہ تعالیٰ نے
19:34بار بار غور و فکر
19:35تدبر اور عقل کے
19:37استعمال کی دعوت دی ہے
19:38افلا تاقیلون
19:39افلا یتدبرون
19:41افلا ینظرون
19:42جیسے الفاظ
19:43قرآن میں بار بار آتے ہیں
19:45اور ان سب کا پیغام ہی کی ہے
19:46کہ مومن کو
19:47ایک سوچنے والا انسان
19:49ہونا چاہیے
19:49محض تقلید کرنے والا نہیں
19:51یہی وجہ ہے
19:52کہ جو قوم سوچتی ہے
19:53تحقیق کرتی ہے
19:54اور حالات کا
19:55صحیح ادراک رکھتی ہے
19:56وہی قوم آنے والے
19:58چیلنجز کا
19:58مقابلہ کر سکتی ہے
19:59اور یہی وہ راستہ ہے
20:01جو ہمیں
20:01آج اپنانا ہے
20:02یہ وقت فیصلوں کا وقت ہے
20:04تاریخ ہمیشہ
20:05انہی لوگوں کو
20:06یاد رکھتی ہے
20:07جنہوں نے
20:07مشکل وقت میں
20:08صحیح فیصلہ کیا
20:09جو ڈرے نہیں
20:10جو بکے نہیں
20:11اور جنہوں نے
20:12اپنے اصولوں سے
20:13کبھی سمجھوتا نہیں کیا
20:14آج امت مسلمہ کے سامنے بھی
20:16یہی موقع ہے
20:17کہ وہ اپنی
20:18اجتماعی بصیرت کو
20:19بیدار کرے
20:20اپنے نوجوانوں کو
20:21آگاہی دے
20:22اپنے علماء کی
20:23رہنمائی میں
20:24صحیح سمت کا تعیون کرے
20:25اور اس یقین کے ساتھ
20:27آگے بڑھے
20:27کہ اللہ کا وعدہ
20:28سچا ہے
20:29نہ کمزوری دکھاؤ
20:30نغم کرو
20:31تم ہی غالب رہوگے
20:33اگر تم مومن ہو
Comments