Hazrat Idrees (AS) Aur Mulk-ul-Maut Ka Waqia | Story of Hazrat Idrees | Qasas-ul-Anbiya | Noor TV
Hazrat Idrees (AS) Islami tareekh ke un azeem paighambaron mein se hain jinhon ne sabse pehle likhna, silai aur ilm ka safar shuru kiya. Allah ne unhein buzurgi aur hikmat ata ki. Qur’an mein unka zikr bohot mukhtasir magar azeem tareeke se kiya gaya hai.
Is video mein hum aik behtareen islami waqia pesh karne ja rahe hain jo Hazrat Idrees (AS) aur Mulk-ul-Maut (Hazrat Izrael AS) ke darmiyan guzra. Yeh waqia Islami riwayat aur Qasas-ul-Anbiya ki roshni mein sunaya jata hai. Hazrat Idrees (AS) ne Allah se ek khwahish ka izhar kiya jo maut aur zindagi se mutaliq thi. Allah ne Mulk-ul-Maut ko hukm diya ke woh Hazrat Idrees (AS) ka rooh qabz karein. Magar is waqia mein ek aise chhupi hui hikmat thi jo har insaan ke liye aik azeem sabaq hai.
Hazrat Idrees (AS) ka maqam itna uncha tha ke Allah ne unhein zinda utha kar aasmanon mein jagah di. Kya Hazrat Idrees (AS) ab bhi zinda hain? Kya unka waqia Dajjal aur qayamat se taluq rakhta hai? Yeh sab is video mein tafseelat ke saath jaaniye.
Agar aap Islami tareekh aur anbiya kiram ke waqiat se mohabbat rakhte hain, to yeh video aap ke liye bohot ahem hai. Noor TV aapko Qur’an aur hadees ki roshni mein sachi aur haqeeqi maloomat faraham karta hai.
📢 Like, Share & Subscribe 💖
🔔 Bell Icon Zaroor Dabayein Taake Aapko Naye Islamic Videos Ki Notifications Milti Rahein
#NoorTV
#HazratIdrees #QasasUlAnbiya #IslamicHistory #HazratIdreesAurMulkulMaut #IslamicStories #QuranicStories #ProphetsInIslam #IslamicTeachings #HazratIzrael #IslamicBayan
Hazrat Idrees (AS) Islami tareekh ke un azeem paighambaron mein se hain jinhon ne sabse pehle likhna, silai aur ilm ka safar shuru kiya. Allah ne unhein buzurgi aur hikmat ata ki. Qur’an mein unka zikr bohot mukhtasir magar azeem tareeke se kiya gaya hai.
Is video mein hum aik behtareen islami waqia pesh karne ja rahe hain jo Hazrat Idrees (AS) aur Mulk-ul-Maut (Hazrat Izrael AS) ke darmiyan guzra. Yeh waqia Islami riwayat aur Qasas-ul-Anbiya ki roshni mein sunaya jata hai. Hazrat Idrees (AS) ne Allah se ek khwahish ka izhar kiya jo maut aur zindagi se mutaliq thi. Allah ne Mulk-ul-Maut ko hukm diya ke woh Hazrat Idrees (AS) ka rooh qabz karein. Magar is waqia mein ek aise chhupi hui hikmat thi jo har insaan ke liye aik azeem sabaq hai.
Hazrat Idrees (AS) ka maqam itna uncha tha ke Allah ne unhein zinda utha kar aasmanon mein jagah di. Kya Hazrat Idrees (AS) ab bhi zinda hain? Kya unka waqia Dajjal aur qayamat se taluq rakhta hai? Yeh sab is video mein tafseelat ke saath jaaniye.
Agar aap Islami tareekh aur anbiya kiram ke waqiat se mohabbat rakhte hain, to yeh video aap ke liye bohot ahem hai. Noor TV aapko Qur’an aur hadees ki roshni mein sachi aur haqeeqi maloomat faraham karta hai.
📢 Like, Share & Subscribe 💖
🔔 Bell Icon Zaroor Dabayein Taake Aapko Naye Islamic Videos Ki Notifications Milti Rahein
#NoorTV
#HazratIdrees #QasasUlAnbiya #IslamicHistory #HazratIdreesAurMulkulMaut #IslamicStories #QuranicStories #ProphetsInIslam #IslamicTeachings #HazratIzrael #IslamicBayan
Category
📚
LearningTranscript
00:29ڈیسی قصہ حضرت عدری صلی اللہ علیہ وسلم
00:30اس ملاقات میں نہ صرف حضرت عدری صلی اللہ علیہ وسلم کی فضیلت اور آسمانی علم کا اظہار ہوتا ہے
00:35بلکہ اللہ کی مشیعت اور انسانوں کے تقدیر کے بارے میں بھی آہم سبق ملتا ہے
00:39کہ یہ ملاقات انسانوں کے لئے زندگی اور موت کے بارے میں ایک نئی بصیرت پیدا کرتی ہے
00:44یہ قصہ ایک روحانی تجربہ ہے جو ہمیں اللہ کی حکمت اور قدرت کو سمجھنے کی دعوت دیتا ہے
00:49اس ملاقات کا مقصد کیا تھا اور کیا اس ملاقات سے حضرت عدری صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی ایسی
00:55حکمت پائی جو آج بھی ہمارے لئے رہنمائی کا باعث بن سکتی ہے
00:58ناظرین آج کی اس ویڈیو میں ہم آپ کو حضرت عدری صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کے کچھ ایسے
01:03دلچسپ اور حیران کن پہلووں سے روشناس کرائیں گے جو شاید آپ نے پہلے نہ سنے ہو
01:08حضرت عدری صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کے مختلف باقیات اور ان کی وفات سے متعلق روایات پر روشنی
01:14ڈالی جائے گی
01:14جن میں خاص طور پر سورج کے فرشتے اور ملک الموت کے ساتھ آپ کی انوکی ملاقاتیں بھی شامل ہیں
01:20کیا آپ جانتے ہیں کہ حضرت عدری صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے حوالے سے مختلف حیرت انگیز داستانیں
01:24موجود ہیں
01:25ان تمام سوالات کا جواب جاننے کے لیے اس ویڈیو کا آخر تک ضرور دیکھئے
01:29یاد رکھیں مسلمان ہونے کے ناتے ہم پر فرض ہے کہ ہم اللہ کے انبیاء اور ان کے زندگیوں کے
01:34بارے میں علم حاصل کریں
01:35کیونکہ ان پر ایمان ہمارا ایمان کا حصہ ہے
01:38اسی جذبے سے یہ معلوماتی ویڈیو آپ کے لیے تیار کی گئی ہے
01:41ناظرین حضرت عدری صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کے تیسرے نبی تھے
01:45جو حضرت آدم علیہ وسلم اور حضرت شیس علیہ وسلم کے بعد نبوت کے عظیم منصف پر فائز ہوئے
01:51مورخین کے مطابق آپ کی بلادت بابل موجودہ عراق یا مصر کے شہر منفیس میں ہوئی
01:57آپ کا اصل نام اخنوخ تھا جبکہ قرآن مجید اور احادیث میں آپ کو ادریس کے نام سے جانا گیا
02:03ہے
02:03بابل کے مطابق آپ کا نام زوق تھا اور آپ یارت کے بیٹے تھے
02:08مختلف بزرگان دین نے آپ کا وصف کچھ اس طرح بیان کیا ہے
02:11آپ کا جسم تناسب سے بھرپور خوبصورت اور دبلے پتلے
02:14آپ کے ڈاڑھی گھنی آپ کے کاندھے چوڑے تھے
02:18آپ کی ہڈیاں مضبوط تھی اور آپ کی آنکھوں میں چمک تھی
02:21آپ کی باتچیت باوقار تھی اور آپ خاموشی کو پسند کرتے تھے
02:24جب آپ چلتے تو نظریں نیچی رکھتے اور غصے میں انتہائی جلالی نظر آتے
02:28آپ کی بات کرتے وقت شہادت کی انگلی سے اشارہ کرنا معمول تھا
02:32آپ کی انگوٹھی پر یہ عبارت کندہ تھی
02:34اللہ پر ایمان کے ساتھ ساتھ سبر فتح کا ذریعہ ہے
02:38آپ کی کمر سے بندے پٹکے پر یہ عبارت تحریر تھی
02:41حقیقی عیدیں اللہ کی فرادی کو محفوظ رکھنے میں چھپی ہیں
02:44اور دین کا کمال شریعت سے وابستہ ہے
02:47جبکہ مربت میں دین کی تکمیل ہوتی ہے
02:50اور جب آپ جنازے کے نماز کے وقت پٹکا بانتے
02:53تو اس پر یہ عبارت ہوتی
02:54سعادت مند وہ ہے جو اپنے نفس پر قابو پائے
02:57اور اپنے نیک عامال کو اللہ کے سامنے شفاعت کے طور پر پیش کرے
03:01روایت کے مطابق حضرت عدریس علیہ السلام نے
03:03سب سے پہلے انسانوں کو لکھنے پڑھنے
03:05اور علم حاصل کرنے کا پیغام دیا
03:07اور اپنی زندگی کا بیشتر حصہ
03:09اسی تعلیم و تربیت میں گزارا
03:11چنانچہ لوگ آپ کو عدریس
03:13یعنی تعلیم دینے والا کہہ کر جاننے لگے
03:15دوستو روایت کے مطابق حضرت عدریس علیہ السلام کا تعلق
03:18حضرت شیش علیہ السلام کی پانچویں نسل سے تھا
03:21اور آپ کا نسب نیو بیان کیا جاتا ہے
03:29ناظرین یہ یاد رکھیں کہ حضرت شیش علیہ السلام کا انتقال ہوا
03:32تو کچھ وقت بعد ان کے پیروکاروں کی تعداد بہت کم ہو گئی
03:35قابل کی اولاد نے کفر شرک بدکاری
03:38اور بے حیائی کو فروغ دینا شروع کر دیا تھا
03:41زنہ و شراب نوشی عام ہو چکی تھی
03:42اور پاکیزہ رشتہ داریوں کا کوئی تصور نہ تھا
03:46بتوں کی پوجہ آگ کی عبادت کی جانے لگی تھی
03:48اور ہر طرف شیطان اور اس کے پیروکاروں کا تسلط تھا
03:51حضرت آدم علیہ السلام اور حضرت شیش علیہ السلام کی شریعت
03:54اور اللہ کے آکام کی خلاف فرضی ہو رہی تھی
03:57یہ وہ وقت تھا جب اللہ تعالیٰ نے
03:58اس بگڑی ہوئی قوم میں ایک نبی بھیجنے کا فیصلہ کیا
04:01اور اس عظیم منصب کے لئے حضرت شیش علیہ السلام کے نسل سے
04:04حضرت عدریس علیہ السلام کو منتخب کیا گیا
04:06حضرت عدریس علیہ السلام میں وہ تمام خصوصیات موجود تھیں
04:09جو اللہ کے نبی میں ہونی چاہیئے
04:11J.S. holyf Apa Perdition Ibrahim alaihi wa sallam
04:13ke deen ke perukar
04:14naya'ti baadat gazaar
04:16muttaki parhizgaar
04:17aur intahai satche insani te
04:19Nabiwaat ka mansob
04:20Strachate hai
04:21Aapne apnei quanta ke gumraha logogong ko
04:22Hidaayet dayane
04:24Aar neki ki tara bestero
04:24Bulaane ka kaam shuro ka r dia
04:25Leakin ye baat tero raahe haidaayet ka peagam
04:28Unlugong ko b Tibura lagnane laga
04:30Aar wawaapke dshmen bin gaye
04:32Aar aapke perukaroko
04:33Mukta lif aziyat untar parcela
04:35Uske baad hat taidris alaihi wa sallam
04:37And they reinvent their own way.
04:46This is a way to go back there.
04:49This is why they'd be a difficult decision.
04:52It would have failed so far.
04:58That's why God would have started.
04:59And Pastor Rod, that's why God would have left their own way,
05:02he would have left their own way.
05:03If we don't have to leave,
05:05ڈیں گے تو ہمیں ایسی جگہ کہاں ملے گی حضرت عدری صلی اللہ علیہ وسلم نے
05:09جواب دیا اگر ہم اللہ کی مدد اور امید رکھیں گے تو وہ ہمیں ہر چیز
05:13عطا کرے گا آخر کار آپ مصر پہنچے جو اس دور میں ایک بہت ہی خوبصورت
05:17اور سرسبز علاقہ تھا آپ نے وہاں پہنچ کر اللہ کا شکر ادا کیا اور
05:21سبحان اللہ کہا پھر آپ وہیں رہنے لگے اور لوگوں کو علم سکھانے میں
05:25مشغول ہو گئے حضرت عدری صلی اللہ علیہ وسلم وہ پہلے شخص تھے
05:28جنہوں نے قلم کے ذریعے لکھنے کا آغاز کیا اور لوگوں کو یہ
05:31علم سکھایا پھر آپ نے ان لوگوں کے ساتھ مل کر جو ایمان لائے تھے
05:34بابل میں برائی اور برے لوگوں کے خلاف جنگ کی اور فتح حاصل کی جس
05:38کے بعد دنیا سے برائی کا خاتمہ ہو گیا ناظرین آپ کو بتاتے چلیں
05:42کہ حضرت عدری صلی اللہ علیہ وسلم کا قرآن مجید میں دو مرتبہ
05:44ذکر آیا ہے سورہ مریم میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں اور اس
05:48کتاب میں عدریس کا ذکر کیجئے بے شک وہ بڑے سچے نبی تھے اور
05:52ہم نے انہیں بلند رتبے تک پہنچایا اسی طرح سورہ
05:55انبیاء میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا اور اسماعیل عدریس اور
05:58ذلقفل کا ذکر کیجئے یہ سب اللہ کے احکام پر ثابت قدم
06:02رہنے والے تھے پیارے دوستو قرآن کی معروف اور مستند تفسیر
06:05معروف القرآن کے مطابق حضرت عدریس علیہ وسلم حضرت نوح علیہ
06:09سلام سے ایک ہزار سال پہلے پیدا ہوئے اللہ تعالیٰ نے آپ
06:12پر نبوت کا دروازہ کھلا اور آپ پر تیس صحیفے نازل کیے
06:15حضرت عدریس علیہ وسلم وہ پہلے انسان ہیں جنہوں نے علم نجوم
06:19اور حساب کا علم موجزے کے طور پر دیا گیا اور آپ ہی تھے جنہوں
06:23نے سب سے پہلے قلم سے لکھنا اور کپڑے سینہ سکھایا اس سے پہلے
06:26لوگ عموماً جانوروں کی کھالوں کو لباس کے طور پر استعمال
06:29کرتے تھے آپ ہی نے سب سے پہلے نابتول کے طریقے مطارف
06:32کرائے اور اسلحہ بنانے کی مہارت حاصل کی جس کے ذریعے آپ نے
06:36بنو قابل سے جہاد کیا حضرت عدریس علیہ وسلم کے کئی مشہور
06:39اقوال اور نصیحتیں مختلف زبانوں میں ضرب المثل اور حکمت کے
06:43طور پر استعمال کی جاتی ہیں ان میں سے کچھ آپ دوستوں کو بھی
06:46بتاتے چلیں اللہ کی بے شمار نعمتوں کا شکر انسانی طاقت سے
06:50باہر ہے جو علم کمال اور عمل سالح کا خواہش مند ہو اسے
06:54جہالت اور بدکاری سے دور رہنا چاہیے کیا تم نہیں دیکھتے کہ
06:58ہر ماہر کارگر جب اپنی مہارت دکھانا چاہتا ہے تو وہ سوئی
07:01ہاتھ میں لیتا ہے نہ کہ برما دنیا کی بھلائی حسرت ہے اور برائی
07:05ندامت اللہ کی یاد اور عمل سالح کے لیے خلو سے نیت ضروری ہے
07:10جھوٹی قسمیں نہ کھاؤ نہ اللہ کے نام کو قسم کے لیے استعمال
07:14کرو اور نہ جھوٹوں کی قسمیں کھانے پر آمادہ کرو کیونکہ ایسا
07:17کرنے سے تم بھی گناہ میں شریک ہو جاؤ گے زلیل پیشوں کو اختیار
07:21نہ کرو جیسے جانواروں کے جختی کرانے کی عجرت لینا بغیرہ اپنے
07:25بادشاہوں کی اطاعت کرو اور اپنے بڑوں کے سامنے آجز رہو اور
07:28ہر وقت اللہ کی حمد میں زبان تر رکھو حکمت روح کی زندگی ہے دوسروں
07:33کی خوشحالی پر حسد نہ کرو کیونکہ ان کی خوشی چند روزہ ہے جو
07:37ضروریات سے زیادہ کی تلاش کرتا ہے وہ کبھی قانے نہیں رہتا تاریخ
07:41الحکمہ میں بھی یہ ذکر کیا گیا ہے کہ بعض علماء کا قیدہ ہے کہ
07:44توفان نو سے قبل میں دنیا میں جتنے بھی علوم پھیلائے گئے ان
07:48سب کے ابتدائی مولم حضرت عدریس علیہ السلام تھے جو مصر کے
07:51عالی علاقے کے باشندے تھے عبرانی قوم انہیں خنوخ نبی کے طور پر
07:55جانتی ہے اور ان کا نصب حضرت آدم علیہ السلام کے پڑپوتے تک پہنچتا
07:59ہے یعنی خنوخ عدریس بن یرد بن محائل بن قنیس بن انوش بن
08:03شیس بن آدم علیہ السلام ان کا بھی یہ دعویٰ ہے کہ فلسفے کی
08:07کتابوں میں جن علمی جواہرات اور حرکات نجوم کا تذکرہ کیا گیا
08:11ہے وہ سب سے پہلے حضرت عدریس علیہ السلام کی زبان سے ہی ظاہر
08:14ہوئے اللہ کی عبادت کے لیے حیکلوں کی تعمیر علم طب کی ابتداء اور
08:19عرض و سماء اشیاء کے متعلق موضوع قصائد کے ذریعے اظہار خیال بھی آپ
08:24ہی کی ابتکارات میں شامل ہیں اس کے علاوہ حضرت عدریس علیہ السلام ہی وہ
08:28پہلے فرد تھے جنہوں نے توفان کی پیش گوئی کی اور بندگان خدا کو اس
08:33آسمانی آفت سے خبردار کیا جس میں زمین پانی اور آگ میں ڈوب رہی تھی یہ
08:37منظر دیکھ کر حضرت عدریس علیہ السلام کو علم کی تباہی اور سنتوں کی
08:41بربادی کا خوف ہوا جس کے نتیجے میں انہوں نے مصر میں احرام اور مقابر
08:45بنوائے اور ان میں نئے اختراعات اور سنائے کی تصاویر نقش کی تاکہ یہ
08:54ابن عساق نے کہا کہ حضرت عدریس علیہ السلام دنیا کے پہلے شخص تھے جنہوں
08:57نے قلم سے لکھا موابع بن حکم سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں
09:02نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے رمل کے بارے میں سوال کیا رمل
09:06ایک ایسا علم ہے جس میں ریت پر مخصوص لکیریں کھینچ کر کچھ معلوم کیا جاتا ہے
09:11تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا یہ علم ایک نبی نے لکھا
09:15لہذا جس شخص کا لکھا ہوا ان کے طریقے سے ملتا ہو وہ قابل قبول ہے
09:19تفسیر کے علماء فرماتے ہیں کہ حضرت عدریس علیہ السلام وہ پہلے شخص تھے
09:22جنہوں نے دین کی تبلیغ کے لیے واز و خطاب کا آغاز کیا
09:26ناظرین حضرت عدریس علیہ السلام کے زندگی میں دو چیزیں بہت نمائی ہیں
09:29ایک تو ان کا واز و تبلیغ کا عمل اور دوسرا آل قابیل کے ساتھ جہاد
09:33چونکہ آپ علیہ السلام کو واز و نصیت دینے کا خاص ملکہ حاصل تھا
09:37آپ کی ابتدائی کوشش یہی رہی کہ آل قابیل کو اچھی نصیتوں اور واز کے ذریعے اللہ کی طرف رجوع
09:42کرایا جائے
09:43اور دنیا کو برائیوں سے پاک کر کے ایک اللہ کی عبادت کرنے پر آمادہ کیا جائے
09:47لیکن شیطان نے ان لوگوں کو اپنے چنگل میں اس حد تک جکڑ لیا تھا
09:50کہ جب آپ علیہ السلام ان سے اللہ کی وحدانیت ایک اللہ کی عبادت اور برائیوں سے بچنے کی بات
09:55کرتے
09:56تو یہ باتیں ان پر گران گزرتیں
09:57اور وہ آپ کو عذیت دینے تمسخور اڑانے اور پتھر پھینکنے تک پہنچ جاتے
10:02دراصل طبیل عرصے تک شیطان کے زیر اثر رہ کر ملوگ شرک کفر اور بدکاری میں غرق ہو چکے تھے
10:08اور دنیا دو بازے گروپوں میں تقسیم ہو چکی تھی
10:10ایک گروہ شیطان کے پیروکاروں کا تھا اور دوسرا اللہ کے راستے پر چلنے والوں کا
10:15حضرت عدریس علیہ السلام ان کی اس حالت پر دل گرفتہ اور پریشان رہتے تھے
10:20آپ علیہ السلام نے اپنی تبلیغ کے ذریعے ان لوگوں کو ہدایت دینے کی بہت کوشش کی
10:23مگر جب یہ دیکھتے ہوئے کوئی نتیجہ نہ نکلا
10:25تو اللہ کے حکم سے آپ نے ان لوگوں کے خلاف جہاد کا فیصلہ کیا
10:29آپ علیہ السلام نے ایمان لانے والے نوجوانوں کی ایک جماعت کے ساتھ آل قابل کے خلاف جہاد کیا
10:35جس میں اللہ نے آپ کو کامیابی دی اور بہت سے لوگ دین حق کے طرف راغب ہو گئے
10:39حضرت عدریس علیہ السلام کی تعریمات کا بنیادی پیغام یہ تھا
10:42اللہ کی ہستی اور اس کی توہید پر ایمان لانا
10:45صرف اللہ کی عبادت کرنا
10:46آخرت کے عذاب سے بچنے کے لیے آمال صالحہ کی پیروی کرنا
10:50دنیا سے بے رغبتی اور تمام امور میں عدل و انصاف کا خیال رکھنا
10:54عبادت کو مخصوص طریقے سے ادا کرنا
10:56آیام بیعز میں روزے رکھنا
10:58دشمنان اسلام سے جہاد کرنا
11:00زکاة ادا کرنا
11:02طہارت و نظافت پر عمل کرنا
11:04خاص طور پر جنابت، کتے اور سور کے اجتناب
11:08ہر قسم کے نشاور اشیاء سے پرہیش کرنا
11:10انہوں نے اپنے پیروکاروں کے لیے
11:12اللہ کی حکم سے مخصوص ایام میں عیدیں مقرر کی
11:15اور چند مخصوص وقات میں
11:16نظر و قربانی کو فرض قرار دیا
11:18ان ایام میں کچھ رویت حلال پر
11:20کچھ سورج کے کسی خاص برج میں داخل ہونے پر
11:23اور کچھ سیاروں کے مخصوص
11:24بیوت یا برج میں داخل ہونے کے
11:26وقت ادا کی جاتی تھی
11:28ناظرین یاد رہے کہ اسے تدریس علیہ السلام کے زمانے میں
11:31نظرات اور قربانیوں کے حوالے سے
11:33تین چیزیں بہت اہمیت رکھتی تھی
11:34خوشبوں کی دھونی
11:35جانبروں کی قربانی اور شراب
11:37ان کے علاوہ موسم کی پہلی پیداوار بھی نظر کی جاتی تھی
11:40جیسے میٹھے پھل
11:41خاص طور پر سیب
11:43اور اناج مگیوں ہوں
11:44جبکہ پھولوں میں گلاب کو ترجیح دی جاتی تھی
11:46حضرت ادریس علیہ السلام نے اپنی امت کو یہ بھی بتایا
11:49کہ میری طرح اور بھی انبیاء آئیں گے
11:51جو دینی اور دنیاوی اصلاح کے لیے اپنی امتوں کو ہدایت دیں گے
11:54ان انبیاء کے خصوصیات یہ ہوں گی
11:56کہ وہ ہر بوری بات سے پاک ہوں گے
11:57ان میں فضائل کا کمال ہوگا
11:59اور وہ زمین و آسمان کے احوال سے باخبر ہوں گے
12:02وہ وحی الہی کے ذریعے
12:03اس طرح آگا ہوں گے
12:05کہ کوئی بھی سوال کرنے والا تشنہ نہ رہے گا
12:07اور ان کے دعائیں قبول ہوں گی
12:09ان کے پیغامات کا خلاصہ
12:11اصلاح کائنات ہوگا
12:12جب حضرت عدری صلی اللہ علیہ وسلم کو
12:13اللہ کی زمین کا مالک بنایا گیا
12:15تو آپ نے علم و عمل کے اعتبار سے
12:17لوگوں کو تین طبقات میں تقسیم کیا
12:19کاہن، بادشاہ اور ریعت
12:21ان کے مراتے بھی اس طرح تھے
12:23کہ کاہن سب سے بلند درجہ رکھتے تھے
12:24کیونکہ وہ اپنے نفس کے علاوہ
12:26بادشاہ اور ریعت کے معاملات میں بھی جواب دیتے
12:28بادشاہ کو دوسرا درجہ دیا گیا
12:30کیونکہ وہ اپنے اور مملکت کے امور کے متعلق جواب دیتے
12:34اور ریعت کو تیسر درجہ دیا گیا
12:36کیونکہ وہ صرف اپنے نفس کے متعلق جواب دیتے
12:39یہ طبقات صرف فرائض کے اعتبار سے تھے
12:41نہ کہ نسل یا خاندان کے لحاظ سے
12:43حضرت عدری صلی اللہ علیہ وسلم
12:45رفائل اللہ تک اپنی شریعت
12:47اور سیاست کے قوانین کی تبلیغ کرتے رہے
12:49اس دوران از قلیبوس نام کا بادشاہ
12:52بہت پختاظم اور ارادے کا مالک تھا
12:54اور اس نے حضرت عدری صلی اللہ علیہ وسلم
12:55کے کلمات اور قوانین شریعت کی حفاظت کی
12:57حضرت عدری صلی اللہ علیہ وسلم
12:58کے اٹھا لیے جانے کے بعد
13:00اس قلیبوس نے گہرے غم و ملال کا اظہار کیا
13:03اور حضرت عدری صلی اللہ علیہ وسلم
13:04کی تصاویر بنوائیں جن میں ان کی
13:06رفع کی حالت کو دکھایا گیا
13:08اس قلیبوس جو کہ یونان کے علاقے پر حکمرانی کرتا تھا
13:11نے طوفان نوح کے بعد
13:13بچ جانے والے حیکلوں میں
13:14حضرت عدری صلی اللہ علیہ وسلم کی تصویریں دیکھیں
13:16یونانیوں نے جب ان تصاویر کو دیکھا
13:18اور اس قلیبوس کی عظمت سنی
13:20تو انہیں یہ غلط فہمی ہوئی کہ اس قلیبوس ہی وہ شخص ہے
13:22جس کا رفع ہوا
13:23حالانکہ یہ غلط فہمی تھی جو محض قیاس سے پیدا ہوئی
13:27حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے
13:29حضرت قعب رضی اللہ عنہ سے پوچھا
13:31کہ قرآن میں اس آیت
13:32اور ہم نے ان کو اونچی جگہ اٹھا لیا
13:34کا کیا مطلب ہے
13:35حضرت قعب رضی اللہ عنہ نے بتائے
13:37کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت عدری صلی اللہ عنہ کو
13:39وحی بھیجی
13:39کہ وہ ہر دن تمام
13:41بنی آدم کے عمال کے برابر درجات عطا کرے گا
13:43حضرت عدری صلی اللہ عنہ نے یہ چاہا
13:45کہ وہ ملک الموت سے مل کر
13:47اپنی زندگی کے بارے میں دریافت کریں
13:49جب فرشتے آئے
13:50تو حضرت عدری صلی اللہ عنہ نے انہیں بتایا
13:51کہ وہ ملک الموت سے بات کرنا چاہتے ہیں
13:53فرشتے نے انہیں اپنے پڑوں پر اٹھایا
13:55اور آسمان کی طرف لے گئے
13:57اور جب چوتے آسمان پر پہنچے
13:58تو ملک الموت سے ملاقات ہوئی
14:00ملک الموت نے حیرانی سے پوچھا
14:02کہ حضرت عدری صلی اللہ عنہ کہاں ہے
14:04جب فرشتے نے بتایا
14:05کہ وہ میرے ساتھ ہیں
14:06تو ملک الموت نے کہا
14:07کہ اللہ کی طرف سے مجھے یہ حکم ملا ہے
14:09کہ حضرت عدری صلی اللہ عنہ کی روح
14:10چوتے آسمان پر قبض کرنی ہے
14:12اور یہ سوچ کر
14:13میں نے ان کی روح قبض کرنے کے لئے
14:15زمین پر آنا تھا
14:16ابن ابی حاتم نے اسی آیت کی تفسیر میں
14:18ایک اور حدیث ذکر کی ہے
14:19جس کے مطابق
14:20حضرت عدری صلی اللہ عنہ نے
14:21فرشتے سے کہا
14:22کہ وہ ملک الموت سے پوچھیں
14:23کہ میری کتنی عمر باقی ہے
14:25حالانکہ حضرت عدری صلی اللہ عنہ
14:27خود فرشتے کے ساتھ موجود تھے
14:28جب ملک الموت سے پوچھا گیا
14:30تو انہوں نے کہا
14:30کہ جب تک وہ
14:31حضرت عدری صلی اللہ عنہ کو
14:33نہ دیکھ لیں
14:33وہ کچھ نہیں کہہ سکتے
14:35پھر جب ملک الموت نے
14:36حضرت عدری صلی اللہ عنہ کو دیکھا
14:37تو انہوں نے کہا
14:38کہ تم مجھ سے ایسے شخص کے بارے میں
14:40سوال کر رہے ہو
14:40جس کی زندگی پلک جپکنے سے بھی کم ہے
14:43اس کے بعد فرشتے نے جب
14:44حضرت عدری صلی اللہ عنہ کو دیکھا
14:46تو ان کی وفات ہو چکی تھی
14:47ناظرین جیسا کہ پہلے بھی ذکر کیا گیا
14:49حضرت عدری صلی اللہ عنہ کی وفات
14:50کے حوالے سے مختلف آ رہا ہیں
14:52ایک روایت ہے کہ حضرت عدری صلی اللہ عنہ کی وفات
14:54چوتھے آسمان پر ہوئی
14:55بعض کا کہنا ہے کہ حضرت عدری صلی اللہ عنہ
14:57جنت میں زندہ ہیں
14:58اور کچھ روایات میں یہ ذکر ہے
15:00کہ آپ کی وفات سورج کے فرشتے کے ساتھ
15:02تعلق اور طلوع آفتاب کے مقام پر ہوئی
15:04آئیے اس حوالے سے
15:06احادیث کی روشنی میں مزید تفصیل سے بات کرتے ہیں
15:08ویڈیو کو مکمل دیکھیں
15:09تاکہ آپ کو مکمل معلومات مل سکیں
15:11سب سے پہلے میراج کے دوران
15:13نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے
15:15حضرت عدری صلی اللہ علیہ وسلم کو
15:16کس آسمان پر دیکھا
15:18امام بخاری رحمہ اللہ
15:19نے اپنے صحیح بخاری میں
15:20واقعہ میراج کا ذکر کرتے ہوئے
15:22حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ سے روایت کی
15:24کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے
15:26کہ کس آسمان پر
15:28حضرت عدری صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات کی
15:29but this character is not made to give it
15:33Jackie.
15:34Geddesir
15:34over What He wrote that
15:36that Δ
15:36He said
15:40not made the수id
15:41right to give it
15:50that
15:51Heavenly Prophetiza方
15:51He
15:54on
15:55I'll see you next time.
16:28I'll see you next time.
16:55I'll see you next time.
17:25I'll see you next time.
18:01I'll see you next time.
18:30I'll see you next time.
19:07I'll see you next time.
19:28I'll see you next time.
20:00I'll see you next time.
20:37I'll see you next time.
21:06I'll see you next time.
21:29I'll see you next time.
22:24I'll see you next time.
22:30I'll see you next time.
22:56I'll see you next time.
23:32I'll see you next time.
23:57I'll see you next time.
24:28I'll see you next time.
25:16I'll see you next time.
25:25I'll see you next time.
Comments