- 1 day ago
- #adabnama
- #makhmoorsaeedi
Makhmoor Saeedi | Adab Nama | مخمور سعیدی: شاعری، صحافت اور یادگار اشعار
ادب نامہ کی اس خصوصی قسط میں معروف شاعر، ناظمِ مشاعرہ اور برصغیر کی شعری روایت پر گہری نظر رکھنے والے معین شاداب گفتگو کر رہے ہیں اردو کے معتبر اور باوقار شاعر مخمور سعیدی کی زندگی، شخصیت، شعری اسلوب اور فکری تشکیل پر۔
اس گفتگو میں جانیے:
🔹 مخمور سعیدی نے شاعری کا آغاز کیسے کیا؟
🔹 ان کے والد شاعری کے خلاف کیوں تھے؟
🔹 توقیر سعیدی سے اصلاح لینے کا مشورہ کیوں دیا گیا؟
🔹 ٹونک، راجستھان کے ماحول نے ان کی شاعری کو کیسے متاثر کیا؟
🔹 اختر شیرانی اور ادبی رسائل نے مخمور سعیدی کی شعری تعمیر میں کیا کردار ادا کیا؟
🔹 صحافت اور اخبار سے مخمور سعیدی کا تعلق
🔹 معین شاداب کی زبانی مخمور سعیدی کے منتخب اشعار
قسط میں شامل یادگار اشعار:
"خون میں ڈوبی ہیں سب اخبار کی
آج کے دن کوئی اخبار نہ دیکھا جائے"
"کتنی دیواریں اٹھی ہیں ایک گھر کے درمیاں
گھر کہیں گم ہو گیا دیوار و در کے درمیاں"
#AdabNama #MakhmoorSaeedi
ادب نامہ کی اس خصوصی قسط میں معروف شاعر، ناظمِ مشاعرہ اور برصغیر کی شعری روایت پر گہری نظر رکھنے والے معین شاداب گفتگو کر رہے ہیں اردو کے معتبر اور باوقار شاعر مخمور سعیدی کی زندگی، شخصیت، شعری اسلوب اور فکری تشکیل پر۔
اس گفتگو میں جانیے:
🔹 مخمور سعیدی نے شاعری کا آغاز کیسے کیا؟
🔹 ان کے والد شاعری کے خلاف کیوں تھے؟
🔹 توقیر سعیدی سے اصلاح لینے کا مشورہ کیوں دیا گیا؟
🔹 ٹونک، راجستھان کے ماحول نے ان کی شاعری کو کیسے متاثر کیا؟
🔹 اختر شیرانی اور ادبی رسائل نے مخمور سعیدی کی شعری تعمیر میں کیا کردار ادا کیا؟
🔹 صحافت اور اخبار سے مخمور سعیدی کا تعلق
🔹 معین شاداب کی زبانی مخمور سعیدی کے منتخب اشعار
قسط میں شامل یادگار اشعار:
"خون میں ڈوبی ہیں سب اخبار کی
آج کے دن کوئی اخبار نہ دیکھا جائے"
"کتنی دیواریں اٹھی ہیں ایک گھر کے درمیاں
گھر کہیں گم ہو گیا دیوار و در کے درمیاں"
#AdabNama #MakhmoorSaeedi
Category
✨
PeopleTranscript
00:07نیشنل حیرالد نفجیون اور قومی آواز کے مشترکہ عدنی پروگرام عدب نامہ میں آپ کا تہہ دل سے استقبال ہے
00:16میں ہوں عمران ایم خان اور آج کی نششت میں ہم ذکر کریں گے ایک ایسے شاعر کا جس کی
00:23شاعری میں خاموشی بھی بولتی ہے
00:25تنہائی بھی سانس لیتی ہے اور محبت بھی ایک محذب اداسی کے ساتھ سامنے آتی ہے
00:33وہ شاعر جس نے لفظوں کو شور نہیں بنایا بلکہ احساس کی دھیمی آنچ پر پکایا
00:40جس کے یہاں داخلی کرب بھی ہے وقت کی بے رہمی بھی اور انسانی رشتوں کی نمی بھی
00:48ملاحظہ کیجئے راستے شہر کے سب بند ہوئے ہیں تم پر
00:54راستے شہر کے سب بند ہوئے ہیں تم پر
00:58گھر سے نکلو گے تو مخمور کدھر جاؤ گے
01:03اور ایک اور شیر دل پہ ایک غم کی گھٹا چھائی ہوئی تھی کب سے
01:08دل پہ ایک غم کی گھٹا چھائی ہوئی تھی کب سے
01:12آج ان سے جو ملے ٹوٹ کے برسات ہوئی جی ہاں ہم بات کر رہے ہیں اردو
01:18غزل کے ایک نہایت موتبر اور باوقار شاعر مخمور سعیدی کی جنہوں نے
01:25اپنی شاعری میں محبت تنہائی خوف یاد شکستگی اور انسانی رشتوں کی
01:32پیچیدگی کو نہایت نرم مگر گہرے انداز میں پیش کیا اور آج
01:39کی اس نششت میں بھی ہمیشہ کی طرح ہمارے ساتھ موجود ہیں معروف
01:44شاعر نہایت مقبول نازم مشاعرہ اور برے سغیر کی شہری روایت پر
01:49گہری نظر رکھنے والے جناب مہین شاداب صاحب شاداب صاحب عدب
01:55نامہ میں آپ کا تہے دل سے استقبال ہے اور شکر دیا شاداب صاحب گفتگو
02:01کا آغاز مخمور سعیدی کے خانوادے ابتدائی زندگی اور اس
02:05ماحول سے کرتے ہیں جس نے ان کے اندر شاعری کا رجحان پیدا کیا
02:11مخمور سعیدی کس عدبی اور سماجی فضا سے آئے تھے
02:17محمد سلطان خان مخمور سعیدی جو صرف شاعر نہیں بلکہ شاعری
02:26کے ساتھ ساتھ وہ عدیب تھے مترجم تھے صحافی تھے اور عدبی
02:34صحافت کے حوالے سے ان کا ایک بڑا روشن نام ہے بڑا مخمور سعیدی
02:41صحاف کا تعلق جو ہے وہ راجستان صوبے کے قصبہ ٹونک سے تھا جو ایک
02:47بڑا تاریخی تہذیبی اور عدبی حضبہ ہے جہاں پہلے سے ہی اختر
02:53شیرانی اور بسمل سعیدی جیسے بڑے شہرہ کا بڑے شہرہ کا
02:59پورے جہان میں شہرہ تھا اس سرزمین سے تعلق ہے جہاں تک خاندانی
03:06روایت کا تعلق ہے مخمور سعیدی صاحب کے دادا اور خود ان کے والد
03:12محمد خان نازش ان کا تخلص تھا وہ شاہر کے بودھ اچھے مخمور سعیدی
03:21صاحب کو ظاہر ہے کہ یہ شہری روایت اپنے خانوادے سے ملی اپنے ٹونک کی
03:26جو عدبی فضا تھی اس سے ان کو تحریک حاصل ہو اور ایک فطری جذبہ اور
03:31فطری شوق بھی ان کے یہاں تھا تو اس کے بعد انہوں نے آگرہ میں تعلیم
03:38حاصل کی بعد میں وہ دہلی آگیا اور پھر دہلی کے ہی ہو کر رہ گئے اور
03:41یہی پر اپنی پوری زندگی انہوں نے گزار دیلی آ کر وہ گوپال مطل کا جو
03:48ایک پرچہ نکلتا تھا تحریک بڑا آہ چرچہ تھا اس کا بڑا شہرہ
03:54تھا اس سے وہ شامل ہو گئے جو اس وقت جو جدید رجحان تھا شاعری
04:00کا جدیدیت کا علم بردار تھا ایک طرح سے تحریک جو ہے تحریک کے حالے سے
04:06بعد میں بات کریں گے میں اگر یہاں رسالی کی بات کر رہا ہوں تو میں آپ
04:09کو بتا دوں کہ جب وہ اردو اکیڈیوی کے سیکریٹری بھی ہوئے اور اردو
04:16اگرمی کے سیکریٹری ہونے کے ساتھ ساتھ وہ اس رسالے کے مدیر بھی
04:20رہے جب سیکریٹری تھی تب بھی مدیر رہے ایوان اردو جو اردو اکادمی
04:24دہلی کا ترجمان ہے اس کے مدیر رہے اس کے بعد انہوں نے قومی کانسل
04:29براہ فروغ اردو زبان میں ملازمت کی وہاں وہ جو وہاں سے دو رسالے
04:36شائع ہوتے ہیں اردو دنیا اور فکر تحقیق اسے ماہی ہے اور اردو دنیا
04:40اس کے وہ ایڈیٹر رہی تو یہ ان کو ادارتی سفر ہے جس کا ذکر میں نے
04:45کیا تھا کہ وہ صحافی بھی ہے اب اگر ہم مخمور سعیدی کا جو شیری
04:52ماحول ہے یا جو ان کی شیری تعمیر و تشکیل میں جن آناسیر کا بڑا دخل
04:57ہے انہوں نے تین چیزوں میں اس کو ان تقسیم پسکتے ہیں پہلا تو گھر کا
05:01ماحول تھا حالانکہ انہوں نے جب دس برس کی اور میں شائعی شوکی تو ان کے
05:06والی سخت ناراض ہوتے تھے ان کے اس عمل سے کہ وہ شائعی کیوں کرتے ہیں
05:10تو پہلا تو ایک ادگ ان کا گھر کا ماحول تھا پھر ٹونک کا ماحول
05:14تھا میں نے ذکر کیا اختر شیرانی صاحب کا بسمن سعیدی صاحب کا ایسے
05:18بڑے شورا وہاں سے ان کا تعلق تھا اختر شیرانی لاہوٹے لے گئے
05:25تھے لیکن اب اختر شیرانی وہاں آیا کرتے تھے ٹونک ان کے والی سے
05:29ملتے تھے وہ تو وہاں سے وہ کچھ رسالے لیا کرتے تھے جن کے وہ
05:34ایڈیٹر تھے اختر شیرانی صاحب بہارستان اور رومانی
05:40رومان غالباً اس کا نام تھا بہارستان اور رومان یہ نکالا
05:43کرتے تھے وہ لے کر آتے تھے تو مخمور سعیدی صاحب وہ رسالے
05:47پڑھا کرتے تھے تو یہاں سے ان کی جو شیری صلاحیت تھی اس میں
05:53نکھار پیدا ہوا اس میں مزید محمیز لگی یہ ان کا سلسلہ ہے اس کے
05:59بعد وہ تحریک سے واپستہ ہو گئے جس طرح میں نے ارز کیا کہ تحریک
06:03اس زمانے میں جدیدیت کا ایک بڑا ایک ترجمان کہا جا سکتا ہے تو یہ
06:12کلم لائے کہا جا سکتا ہے کہ جس زمانے میں جدیدیت پر پرزے نکال
06:18رہی تھی اور ترقی پرسند تحریح ختم ہو رہی تھی اس زمانے میں مخمور
06:22سیدی صاحب کے شیری روئیے پروان چڑھ رہے تھے اور اس میں کلاسکیت
06:28بھی ہم شامل کر لیتے ہیں کیونکہ وہ اختر شیرانی جیسے شورا کی
06:33صحبت میں رہے بسمیل سیدی ان کے استاد تھے تو اتنا سے ان کا جو
06:39تعلق تھا وہ کلاسکیت سے بھی تھا اور وہ علامہ اقبال سے متاثر
06:43تھے اختر شیرانی سے متاثر تھے جوش ملی آبادی سے متاثر تھے اور
06:48نظمے بھی لکھتے تھے تو یہ پورا ماحول تھا وہ پورا پس منظر تھا
06:52جس میں تین تحریکیں شامل تھی نظم بھی شامل تھی غزل بھی شامل
06:56تھی گھر کا ماحول بھی تھا کہ ادارے بھی تھے اور ادارتی خدمات
07:00بھی تھی جس سے مخمور سیدی کا پورا وجود جو ہے وہ تیار ہو جاتا
07:05ہے جی آپ نے مخمور سیدی کے خانوادے ابتدائی زندگی اور ان کے جو
07:11شیری جو روایت ہے اس کی وہ روایت اور ان کی جو شیری رجحان کی
07:18تشکیل پر بہت خوبصورت انداز میں گفتگو کی
07:22شاداب صاحب مخمور سیدی کی شائری پڑھتے ہوئے ایک خاص قسم کی
07:26نرمی اور تہذیبی وقار محسوس ہوتا ہے آپ ان کی شیری اسلوپ
07:31کو کس طرح دیکھتے ہیں جی جو نرمی اور جس وقار کا ذکر کیا ہے دراصل
07:37یہ ان کے اسلوپ کی تشکیل کرتے ہیں چیزیں اور پھر وہیں سے میں بات
07:42شروع کرتا ہوں جہاں سے میں نے ختم کی تھی کہ اس وقت جب ان کی
07:44وہ شیری شعور پروان چڑھ رہا تھا تو وہ ترقی پسند تحریک کا
07:50آخری وقت تھا جب ترقی پسند تحریک جو ہے وہ کہیں نہ کہیں وہ دم
07:56توڑ رہی تھی اس کا شیرازہ بکھر رہا تھا اور جدیدیت جو ہے وہ اپنے
07:59پرپرزے نکال رہی تھی غزل ایک جدید لہیے سے ہمہان ہو رہی تھی
08:03بنیادوں میں ان کے کلاسی کے شامل تھی ان کے استاد خود بسم سعیدی
08:07صاحب کلاسی کی روئیوں کے مشہور شاعر تھے ان کے والد محترم بھی
08:11کلاسی کی رجحانات کی پیروی کرتے تھے تو ایک طرح سے کلاسی کیت
08:16ترقی پسندی اور جدیدیت ان تین تین رجحانات کا اثر جو ہے ان کی
08:23شاعری پر پڑتا ہے شعوری یا لا شعوری طور پر ترقی پسند کے حالان
08:29کہ وہ مخالف تھے لیکن وہ مکمل ترقی پسندی کو مکمل طور
08:33پر یہ کلیتاً رد بھی نہیں کرتے تھے وہ کہتے تھے کہ ترقی
08:37پسندوں نے جو اچھی شاعری کی ہے جو اچھا ترقی پسند عدب لکھا
08:42گیا ہے اس کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا اس کو پسے کچھ نہیں
08:46ڈالا جا سکتا البتہ یہ ضرور تھا وہ سکہ بن تحریک کیوں خلاف
08:51رہی ہمیشہ وہ ہمیشہ جو منشور ہے کسی منشور کے تیہ کردہ
08:58اصول ہو کہتا ہے شاعری کرنے کے خلاف بھی رہے ہیں ان کا کہنا
09:01تھا کہ آزاد دنیا میں آزاد شاعری ہونی چاہیے شاعر کی فکر آزاد
09:05ہونی چاہیے شاعر کو آزاد ہونا چاہیے عدیب کو آزادی کے ساتھ
09:08اپنا کام کرنا چاہیے تو اس آزادی کے قائل تھے اور ان کا کہنا
09:14تھا کہ شاعر اپنے آپ میں جو کچھ لکھنا چاہتا ہے اس کو اس کو ہمیں
09:22سننا چاہیے اس کو ہمیں پڑھنا چاہیے اور ہم اس کو کسی خانوں میں تقصیم
09:27نہیں کر سکتا ہے شاعر کا کام لکھنا آیا وہ لکھے گا اس کو آزادی دیجئے
09:32لیکن بس یہ تین گزانات ان کے یہاں کہیں نہ کہیں شعوری اور لا شعوری
09:36طور پر شامل تھے کلاسکیت ترخ کی پسندی اور جدیدیت اور اس کے بعد
09:41انہوں نے ماباد جدیدیت اہد میں بھی اپنی کافی زندگی گزاری ایک چوتھا
09:47رجحانی ان کے شامل ہو جاتا ہے لیکن کل ملا کر ان کی شاعری ایک عام
09:53انسان کی شاعری ہے ان کی پریشانیاں وہی ہیں جو عام انسان کی ہے ان کے
09:58مسائل بھی وہی ہیں جو عام انسان کی ہے انہوں نے بالکل ایک عام طریقے سے
10:01زندگی گزاری شاعر بڑے تھے لیکن زندگی ان کی بہت عام تھی بڑی سادہ
10:06تھی تو وہ ایک عام انسان کی طرح سوچتے تھے اور بہت کم عمری میں ہی
10:12انہوں نے انہیں کام کرنا پڑ گیا تھا ایک معاشی مسالہ بھی ان کے سامنے
10:16درپش تھا تو اس کا بھی اثر ان کی شاعری پر پڑا موقع ان لکھتے بھی ہیں اور
10:20ہم نے دیکھا بھی ہے کہ انہوں نے خسارے پر خسارے اٹھائے کہ وہ سون
10:22پسند انسان تھے خوددار تھے اور ان کی طبیعت میں ایک آزاد خیالی تھی
10:28تو وہ کسی کے اسیر ہو کر نہیں رہ سکتے تھے اس لیے وہ خساروں پر
10:31خسارے اٹھاتے رہے اور وہ سب چیزیں ان کی شاعری کا حصہ بن گئے اور
10:37یہی چیزیں ان کی شاعری کا ایک اسلوب تہہ کرتی ہیں اور پرانے
10:41الفاظ سے انہوں نے کبھی گریز نہیں کیا ان کا استعمال جاری رکھا ان سے
10:45محبت کی روایت کی پاسداری کی ان کا نظریہ یہی تھا کہ روایت
10:50سے کٹ کر انسان کا وجود جو ہے وہ ختم ہو سکتا ہے یہی ان کے
10:55اسلوب کی ایک خاص بات ہے شاداف صاحب آپ نے مخمول صاحب کے شہری
11:01رجحانات اور ان کے اسلوب پر بہتی امدہ امدہ طریقے سے روشنی
11:05ڈالی مخمول صحیدی کی زندگی کی طرف رفت کرتے ہیں جیسا کہ آپ نے
11:10بتایا کہ انہوں نے ایک بہت اچھے شاعر ہونے کے باوجود ایک عام
11:14زندگی گزاری تو ان کے زندگی سے جڑا کوئی ایسا واقعہ یا پہلو
11:18ہے جس سے ان کی شخصیت کو بہتر طور پر سمجھا جا سکے پہلا واقعہ
11:23تو یہی ہے جب وہ شاعری شروع پر دین رس برس کی عمرے تو ان کے
11:27والد صاحب سخت ناراض ہو جاتے اور لیکن وہ شاعری نہیں چھوڑتے
11:31کیونکہ فطری شاعر تھے ماحول کا بھی اثر تھا اور اس کے بعد جب ان کو
11:35لگا ان کے والد محترم کو نادش صاحب کو نادش ٹونکی کو کہ یہ
11:39تو شاعری کرے گا ہی تو وہ شاعر ہے تو انہوں نے مشورہ دیا کہ
11:43بسمیل سعیدی صاحب سے آپ رجوع کریں ان سے اصلاح دیں تو بسمیل
11:47سعیدی صاحب ان کے استاد تھے یہاں سے بھی اس واقعے سے بھی ان کی
11:51زندگی کو ان کی شاعری کو سمجھا جا سکتا ہے کہ والد کی سخت
11:55ناراضگی کے بعد وہ شاعری کرتے ہیں اس کے بعد ان کی خودداری اور ان کی
12:01جو غیرت تھی جو عزت نفس تھی اس کا انہوں نے پوری زندگی مظاہرہ
12:05کیا پوری زندگی مظاہرہ کیا اور کبھی اپنی شخصیت سے اپنے اندر کی
12:11ٹوٹن کا یا اپنے اندر کی شکست کا انہوں نے کبھی احساس نہیں ہو
12:15دیا اور ایک جو تبدوہ ہے ٹوک کا جو وہاں کا ایک خاص پتھانی کلچر ہے
12:22وہ ان کے شخصیت میں نظر آتا تھا بڑے وجی انسان تھے اور اس ان سب کے
12:28باوجود وہ ایک بڑے نرم دل انسان تھے بڑی نرمی کے ساتھ
12:32گھتو کرتے تھے آجزی اور انکساری ان کے اندر موجود تھی انہیں کبھی یہ
12:37احساس نہیں ہوا کہ وہ بڑے شاعر ہیں نہ انہوں نے کبھی اس کا احساس
12:40دلانے کی کوشش کی تو جس طرح کی زندگی انہوں نے گزاری تو وہ ان کی
12:46زندگی کے ایسے پہنسے واقعات سمیٹے ہوئے ہیں کہ جن کا ذکر کرنے
12:51کے لیے کافی عرصہ چاہیے لیکن بہرحال وہی زندگی جو زندگی اصل
12:57اندہان لیتی ہے انسان کا وہ اس سے گزرے مختلف آزمائشوں سے گزرے
13:00اس میں کامیاب رہے ہیں ابھی تک کی باتچیت سے ایسا محسوس ہوتا ہے
13:05کہ مقمور صاحب کی زندگی کوئی مقمل کی طرح نہیں تھی اور جدید
13:09اردو غزل میں مقمور سیدی کی اہمیت کو آپ کس نظر سے دیکھتے ہیں اور
13:14یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ کیا انہیں وہ مقام ملا جس کے وہ
13:18مستحق تھے ہاں جی بالکل بالکل ان کو مقام ملا کیونکہ
13:23ہے جدید غزل کے حوالے سے بلکہ نظموں کے حوالے سے بھی ہم بات
13:28کر ایک اہم نام ہے مطلب مخبور سیدی ایک نئی غزل کا اہم نام ہے
13:33نظموں کا اہم نام ہے اور اپنی انفرادیت رکھتے ہیں وہ اور ان کے
13:38مرتبے کا تعیون کرنے کی اس لیے ضرورت نہیں ہے یا ان کے ان کے
13:43وقار کا اندازہ اس بات سے ہوتا ہے کہ ان کو بشیر بدر سردار جافی
13:46اور کیفی آزمی کے برابر رکھا جاتا ہے تو ان کو مقام ملا جس کے مستحق تھے
13:53لیکن یہ ٹھیک ہے کہ عوامی طور پر ان کو مقبولیت نہیں ملی
13:57حالانکہ وہ مشاعروں میں جایا کرتے تھے مشاعروں کا حصہ ہوا
14:00کرتے تھے لیکن جو عام مشاعر ہیں مشاعروں کے جو عام مقبولیتیں
14:04جن کو حاصل ہوتی ہیں وہ ان کے حصے میں ذرا کم کم آئی لیکن وہ
14:09مشاعروں میں شامل رہے سرے فیرست رہے تو عوامی طور پر بھی ان کو
14:14کہیں نہ کہیں ان کی ان کی موجودگی جو ہے وہ رہی ہے اور جدید اور تو شاعری
14:19ایک اہم نام جس طرح وہ تحریک سے وابستہ رہے ایک بڑا رسالہ تھا
14:22اس سے جڑے رہے تو اپنی انفرادی شناخت انہوں نے قیم کی جدید شاعری میں
14:27رہتے ہوئے کیونکہ وہی جو انہوں نے کہا کہ آزاد ہونا چاہیے
14:30پکر کے اعتبار سے کسی بھی انسان کو اور محمل گوئی سے انہوں نے
14:34ہمیشہ گریز کیا محمل گوئی سے گریز کیا ابحام ان کے یہاں نہیں
14:38ملتا ہے علیہاؤ نہیں ہے کوئی فلسفہ نہیں ہے ایسا بڑا اور روایس
14:43سے وابستگی کلاسی کی رچاؤ ان کا اسلوب اور ان کا ڈکشن
14:47جو بہت سادہ اور سلیس تھا یہ ان کو غزل اور نظم دونوں کے دونوں
14:54ہی شعبوں میں ایک اہم مقام عطا کرتے ہیں اور جو ان کی موضوعات
14:59پر دسترز ہے وہ بھی ان کو جدید اردو شاعری میں ایک اہم مقام دلاتی
15:05ہے اور اب وہ مرخلہ جس کا ناظرین کو ہمیشہ سے انتظار رہتا ہے شاداب
15:12صاحب ہم آپ سے گزارش کریں گے کہ مخمور سعیدی کے چند منتخب
15:16اشعار سنائیں تاکہ محفل کا لطف دو والا ہو جائے ہاں وہ بڑے بڑے
15:23اچھے اچھے اشعار ہیں ان کے مخمور صاحب کے سب سے پہلے تو یہی شعر میں
15:27سناتا ہوں جو ان کا بڑا مشہور ہوا اور وہ سے لوگوں کو معلوم بھی
15:30نہیں کہ مخمور صاحب کا شعر ہے کیا غزب کا مطلب ہے مدتوں بعد ہم
15:34کسی سے ملے مدتوں بعد ہم کسی سے ملے یوں لگا جیسے زندگی سے
15:42ملے یوں لگا جیسے زندگی سے ملے یہ گائی بھی ہے کچھ سنگرس نے
15:47غزب کچھ یوں لگتا ہے تیرے ساتھ ہی گزرا ہے وہ بھی کچھ یوں لگتا ہے
16:00ہم نے جو وقت تیرے ساتھ گزرا ہی نہیں اور دل پہ غم کی گھٹا
16:08چھائی ہوئی تھی کب سے دل پہ غم کی گھٹا چھائی ہوئی تھی کب سے آج
16:15ان سے جو ملے ٹوٹ کے برسات ہوئی آج ان سے جو ملے ٹوٹ کے برسات ہوئی
16:22یہ وہ کلاسی کی لہجہ ہے جس کا ذکر ہم نے کیا تھا اور وہ ایک شعر آپ
16:26نے پڑھا بہت اچھا شیر ہے وہ جس کا میں پھر دہراتا ہوں کہ راستے شہر کے سب
16:31بند ہوئے ہیں تم پر گھر سے نکلو گتو مخمور کدھر جاؤ گا اب دیکھیں یہ جدید
16:36زندگی کا شیر ہے یہ بڑے شہروں کو عالمیاں ہے یہ یہ گھر سے بے گھری کا قصہ
16:42ہے جس کرب کو بیان کیا ہے اور شاید آپ نے بھی اس پر انتخاب اسی لئے کیا کہ
16:46عام انسان اس طرح کے مسائل سے دو چار ہے یعنی ان کی تو کتاب نہیں بھیڑی
16:52اکیلا تو بھیڑ میں رہ کر بھی کس طرح سے انسان خود کو تنہا محسوس کر سکتا
16:56ہے اور کس طرح دروازے بند ہو جاتے ہیں اس کا ذکر ہے راستے شہر کے سب
17:01بند ہوئے ہیں تم پر گھر سے نکلو کہ تو مخمور کدھر جاؤ گے اور مخمور
17:09کیسی رہا تھے مخمور کیسی رہا تھی تم جس پہ چل پڑے یہ بھی اسی سے جڑتا ہے
17:16کہیں نہیں جو پیچھے شیر ہے مخمور کیسی رہا تھی تم جس پہ چل پڑے آئی تھی جس طرف سے
17:22اسی سمت پھر گئی آئی تھی جس طرف سے اسی سمت پھر گئی یہ اپنی تہذیب کی طرف
17:29واپسی کا ایک عمل ہے کہ وہ دلی میں ضرور رہے لیکن ٹاک کی جو تہذیبی
17:35روایات تھی وہ ان کے ذہن سے کبھی نہیں نکلی وہ ان کے دل سے کبھی نہیں
17:39نکلی وہ وطن واپس جانا چاہتے تھے لیکن ظاہر ہے کہ معاشی مجبوریاں ہوتی
17:44ہے انسان کی تو یہ شیر اسی کی نمائندگی کر رہا ہے مخمور کیسی رہا
17:50تھی ہم جس پہ چل پڑے آئی تھی جس طرف سے اسی سمت پھر گئی جانبے
17:56پوچھاو بازار نہ دیکھا جائے اب یہاں وہی اسی سے کنیکٹ ہو رہا کہ تہذیبی
18:01شہر سے آنا والا انسان پھر دلی جیسے بڑے شہر میں جو کس طرح کے مسائل سے
18:05دوچار ہوتا ہے عام انسان بھی وہ کہتے ہیں جانبے پوچھاو بازار نہ دیکھا
18:12جائے جانبے پوچھاو بازار نہ دیکھا جائے غور سے شہر کا کردار
18:17نہ دیکھا جائے وہ کہتے ہیں کہ آپ غور سے مت دیکھیں شہر کے
18:21کردار کو ورنہ تو آپ کو بڑی مایوسی ہوگی بڑی اداسی ہوگی اگر آپ
18:25غور سے شہر کا کردار دیکھو گے بلا لطیف تنز ہے یہ شہر کے زندگی
18:29پر اور شہر کے حالات پر ایک کے غزل وہ مشاعروں میں پڑھا کرتے تھے
18:33مجھے کچھ اشار یاد رہ گئے اس کے دو شیر پڑھتا ہوں کہ جو زخم ہمیں
18:37اپنے عزیزوں سے ملے ہیں جو زخم ہمیں اپنے عزیزوں سے ملے ہیں وہ
18:44زخم زمانے کو دکھانے نہیں ہوتے وہ زخم زمانے کو دکھانے نہیں
18:49ہوتے ہو جائے جہاں شام وہی ان کا بسیرہ ہو جائے جہاں شام وہی ان
18:56کا بسیرہ آوارہ پرندوں کے ٹھکانے نہیں ہوتے آوارہ پرندوں کے ٹھکانے
19:02نہیں ہوتے یہ یہ بھی
19:04اسی کرب کے نشاندہ ہی کر رہا ہے
19:06جو ایک ان کی آزاد خیالی تھی
19:08جو وطن سے دوری تھی پردیس کا کرب تھا
19:10اس شیر میں پوری طرح واضح ہو رہا ہے
19:12ہو جائے جہاں شام مہین
19:13ان کا بسیرہ آبارہ پرندوں
19:16کے ٹھکانے نہیں ہو جائے اخبار سے ان کا
19:18تعلق رہا صحافہ سے تعلق رہا
19:21بیان کرتے ہیں کچھ ایسے
19:22واقعات جب ہو جاتے ہیں کہ اخبار
19:24دیکھنے میں آگے روپ پڑتی
19:26ہماری سرخیاں خون
19:28میں دوبی ہیں
19:30سب اخباروں کی
19:32سرخیاں خون میں دوبی ہیں سب اخباروں کی
19:34آج کے دن کوئی اخبار نہ دیکھا جائے
19:37آج کے دن
19:38کوئی اخبار نہ دیکھا جائے
19:40اور ایک شیر
19:42ان کا بڑا مشہور ہے ان کا شیری مجموعہ بھی تھا
19:46دیواروں در کے درمیان
19:48کتنی دیواریں اٹھی ہیں
19:50ایک گھر کے درمیان
19:53کتنی دیواریں
19:54اٹھی ہیں ایک گھر کے درمیان
19:56گھر کہیں گم ہو گیا دیواروں در کے درمیان
20:00گھر کہیں گم ہو گیا دیواروں در کے درمیان
20:04یہ بھی علاقنات پیل ہو گئے
20:06کتنی دیواریں اٹھی ہیں یہ گھر کے درمیان
20:09گھر کہیں گم ہو گیا دیواروں در کے درمیان
20:12بہت شکریہ شاداب صاحب
20:14آپ نے جس انداز نرمدلی اور ذہانت سے
20:17مخمور سعیدی کی زندگی
20:19اشعار اور اسلوک پر گفتگو کی
20:23یقینا ناظرین نے اسے بہت پسند کیا ہوگا
20:26ناظرین و سامین اگر آپ کو عذب نامہ کی
20:29یہ نشش پسند آئی ہو تو ویڈیو کو لائک کیجئے
20:32چینل کو سبسکرائب کیجئے اور بیل آئیکون
20:35کو ضرور دبائیے تاکہ ہماری ہر نئی نشش
20:39آپ تک بروقت پہنچتی رہے ہم اگلی نشش
20:43میں ایک اور اہم عدب شخصیت کی زندگی
20:46اسلوک اور نظریات پر گفتگو کے ساتھ
20:49دوبارہ حاضر ہوں گے تب تک کے لیے اجازت دیجئے
20:53اپنا خیال رکھیے گا پھر ملاقات ہوگی
Comments