Skip to playerSkip to main content
Khumar Barabankvi: The Soul of Urdu Ghazal | خمار بارہ بنکوی: درد، سادگی اور غزل کا سفر
اردو غزل کے ممتاز شاعر خمار بارہ بنکوی کی شاعری اپنی سادگی، روانی اور گہرے جذبات کی وجہ سے آج بھی دلوں کو چھوتی ہے۔ اس قسط میں خمار صاحب کی شخصیت، ان کے منفرد اسلوب، غزل سے ان کے عشق اور ان کے یادگار اشعار پر گفتگو کی گئی ہے۔
“وہ ہیں پاس اور یاد آنے لگے ہیں...”
اور
“اس کو جاتے ہوئے تو دیکھا تھا، پھر بصارت نے ساتھ چھوڑ دیا”
جیسے اشعار کے ذریعے خمار بارہ بنکوی کے احساس، درد اور فکر کو سمجھنے کی کوشش کی گئی ہے۔
This episode explores the timeless poetry, emotional depth, and literary legacy of Khumar Barabankvi — one of the most beloved voices of Urdu ghazal.
#KhumarBarabankvi #UrduPoetry #Ghazal #AdabNama #Shayari

Category

People
Transcript
00:07حیرالڈ نفجیون اور قومی آواز کے مشترکہ عدبی پروگرام عدب نامہ میں آپ کا تہہ دل سے استقبال ہے
00:15میں ہوں عمران ایم خان اور آج کی اس نششت میں ہم گفتگو کریں گے ایک ایسے شاعر پر جن
00:24کے اشعار میں محبت کی کسک بھی ہے
00:26ہجر کی اداسی بھی اور دل کی وہ کیفیت بھی جو برسوں بعد بھی انسان کا ساتھ نہیں چھوڑتی
00:35چراغوں کے بدلے مکان جل رہے ہیں نیا ہے زمانہ نئی روشنی ہے
00:41بھولے ہیں رفتہ رفتہ انہیں مدتوں میں ہم قشتوں میں خودکشی کا مزہ ہم سے پوچھئے
00:49جی ہاں آج ہم ذکر کر رہے ہیں خمار بارہ بنکوی کا وہ شاعر جنہوں نے محبت یاد جدائی اور
00:59انسانی جذبات کو
01:01نہایت سادہ مگر دل میں اتر جانے والے انداز میں پیش کیا
01:06ان کے اشعار میں نہ تسنو ہے نہ لفظ نوائش بلکہ ایک ایسی روانی ہے جو سامع اور قاری دونوں
01:15کو اپنے حسار میں لے لیتی ہے
01:18اور آج کی اس عدبی نششت میں بھی ہمیشہ کی طرح ہمارے ساتھ موجود ہیں ایک ایسی معتبر آواز جن
01:26کی گفتگو میں عدب کی سنجیدگی بھی ہوتی ہے اور محفل کی دلکشی بھی
01:31جو شیر کو صرف پڑھتے نہیں بلکہ اس کے پسے منظر اس کے احساس اور اس کی روح تک رسائی
01:39رکھتے ہیں
01:39محترم موین شاداب صاحب شاداب صاحب عدب نامہ میں آپ کی تشریف آوری ہمارے لیے باعث مسررت ہے
01:47آپ کو دل کی گہرائیوں سے خوش آمدید کہتے ہیں
01:52اور شکریہ
01:54شاداب صاحب سب سے پہلے ہم خمار بارہ بنکوی کی ابتدائی زندگی
01:59ان کے خاندانی پسے منظر اور شائدی کی طرف ان کے ابتدائی رجحان کے بارے میں جاننا چاہیں گے
02:06آخر وہ کون سے حالات اور اثرات تھے جنہوں نے ایک حساس نوجوان کو خمار بارہ بنکوی بنا دیا
02:15جی خمار بارہ بنکوی جن کے بارے میں یہ مشہور ہے
02:19یا سچ بھی ہے کہ جگر مرد آبادی کے بعد
02:23اگر کسی کو مشہوروں میں مقبولیت حاصل ہوئی تو وہ خمار بارہ بنکوی صاحب کی
02:31بلکہ ان کو شم جگر کی آخری
02:34محفل جگر کی آخری شما بھی کہا جاتا ہے
02:38نصف صدی تک انہوں نے مشہوروں پر راج کیا
02:43جیسا کہ نام سے ظاہر ہے بارہ بنکی سے ان کا تعلق تھا
02:46اور بارہ بنکی لکنوں کے بہت پرید میں واقع ہے
02:4822-23 کلومیٹر کا فاصلہ ہے
02:52حالانکہ بارہ بنکی اور وہاں کے آس پاس کی سب زبان جو ہے وہ
02:56عودی ہے
02:57لیکن بارہ بنکی کے جو شرفہ ہیں جو تعلیمی آفتہ افراد ہیں
03:01وہ لکنوی زبان سے وابستہ ہے
03:04لکنوی زبان میں باتیں کرتے ہیں
03:06لکنوی زبان کا استعمال کرتے ہیں
03:08تو ابتداء جو ہے بہت کم عمری میں
03:13نشستوں میں شرکت کے ساتھ ہو گئی تھی
03:17خمار بارہ بنکی ساتھ کی
03:19اس کے بعد لکنوی لکنو کی کچھ پہلے نیجی محفلوں میں
03:22ان کو سنا جانے لگا
03:25کمال کا ترنم تھا
03:27جو اس میں سوز تھا
03:30اس میں جو دلکشی تھی
03:32وہ لوگوں کو بہت متاثر کرتی تھی
03:34اس کے بعد وہ باقاعدہ مشاعروں میں بلائے جانے لگے
03:38اور پھر صاحب دیکھتے ہی دیکھتے
03:40دیکھتے ہی دیکھتے ہی دیکھتے ہی جو پورا منظر نامہ ہے
03:43جو پورا افق شاعری ہے
03:46افق مشاعرہ ہے
03:47اس پر وہ چھا گئے
03:48کسی بادل کی طرح
03:51انہوں نے کئی لکھا ہے
03:52کسی کتاب میں
03:52قرار بارہ بنکی صاحب
03:55وہاں کے ایک بڑے مشہور شاعر تھے
03:57ان کو امہ محترم لکھا ہے
03:59یعنی اندازہ ہوتا ہے ان کی چچا تھے
04:01تو اندازہ ہوتا ہے کہ خاندانی
04:04روایت رہی ہے ان کے ہاں شہر و عدب کی
04:07اور جب بارہ بنکی کا ذکر آتا ہے
04:09تو بارہ بنکی صلی میں رودولی ہے
04:11بڑے بڑے وہاں پر
04:12عدیب اور شورہ پیدا ہوئے
04:15مجاز لکھنوی ایک بڑا نام ہے
04:17تو اس سے اس پورے علاقے کی
04:19جو لکھنو ہے
04:21یا بارہ بنکی صلی اللہ ہے
04:22اس کی جو پوری عدبی حیثیت ہے
04:24یا وہاں کی جو ذرخیزی ہے
04:27وہاں کی جو مردم خیزی ہے
04:28اس کا اندازہ ہوتا ہے
04:30تو ظاہر ہے کہ اسی ماحول کی دین تھے
04:34محترم خمار بارہ بنکی صاحب
04:35اس کے بعد صاحب پھر تو وہ
04:37انہوں نے جگر مراد آبادی کے شاگرد ہو گئے
04:41اور اس کے بعد
04:42ظاہر ہے کہ جس طرح میں نے عرض کیا
04:44کہ وہ مقام اور مرتبہ
04:46جو بہت کم لوگوں کو حاصل ہوتا ہے
04:48وہ خمار صاحب کو حاصل ہوا ہے
04:50اور
04:52بڑی خوبصورت آواز تھی ان کی
04:54جو غزل کو موافق آتی ہے
04:55اس کو بڑا دلنشی
04:57دلنشی ترنم کہا جا سکتا ہے
04:59وہ خمار صاحب کے یہاں
05:01ملتا ہے
05:02ایک اور بڑی بات یہ ہے کہ انہوں نے
05:05اس زمانے میں جب جگر تھے
05:07جب فانی اور حسنہ تو
05:09یگانہ جیسے شورہ
05:11موجود تھے تو ان بڑے شورہ
05:13اور بڑے قابل ذکر شورہ
05:15کے درمیان اپنی لی اور انہیں ایک جگہ
05:17بنائی
05:18یہ جو ہے
05:20بڑی بڑی بات ہے خمار بارہ بنکی صاحب
05:23اور
05:25ظاہر ہے کہ جگر کے بعد
05:26خمار صاحب کو جو مقبولیت حاصل ہوئی
05:29اور خمار صاحب تو خلیدی
05:31ممالک میں گئے امریکہ گئے کناڑا گئے
05:33یوروپ گئے تو ایسے
05:35کئی ملکوں کا دورہ خمار صاحب
05:37کو کرنے کا مقابلہ
05:39اور مشہروں کے حوالے سے انہیں
05:41یاد کیا جاتا ہے ایک بار میں اور ایڈ کر رہا ہوں
05:43کہ ان کو مشہروں کے حوالے سے
05:45یاد کیا جاتا ہے لیکن ان کی عدبی اہمیت
05:47بھی ہے
05:48چار شیری مجموعے
05:51خمار صاحب کے مندر عام پر آئے جس میں
05:53حدیث اتیرہ
05:54اس کے بعد آتش تر
05:56اس کے بعد رخصے میں اور شبطات
05:58اس سے ہم ان کی عدبی حیثیت
06:01کا اندازہ کر سکتے ہیں
06:03اور امران صاحب
06:04صرف یہی نہیں بلکہ ان پر نیا دور
06:07جیسے موقع رسالے کا
06:09نمبر شرہ ہوتا ہے
06:10اس میں بڑے بڑے شوراں نے ان کے
06:13فن کی عداد دی ہے
06:14علی صرداد جعفری شہریار
06:16اور جون ایلیا جیسے لوگوں نے ان کی خضر پر
06:19تفسرہ کیا ہے
06:20تو اس طرح سے اندازہ ہو سکتا ہے کہ ان کی
06:23عدبی وقت بھی ہے اور ہم ان کو صرف
06:25مشاعروں کے حوالے سے نہیں سمجھ سکتے
06:29آپ نے خمار بارہ بنکوی کے پسے منظر
06:32ابتدائی رجحان اور
06:33ان کی بلند شہری
06:35جو ان کی روایت ہے
06:37اور جو ان کی شخصیت ہے اس کے بارے میں
06:39بہت ہی شاندار انداز میں
06:41تذکیرہ کیا
06:43خمار بارہ بنکوی کی شاعری میں
06:45محبت اور ہجر کے جذبات
06:46نہایت سادگی مگر بڑی تاثیر کے ساتھ سامنے آتے ہیں
06:51آپ کے خیال میں ان کے اسلوب کی سب سے نمائی خوبی کیا تھی
06:56جی بلکل آپ نے ذکر کیا سادگی
06:59سادگی ان کی ان کی شاعری کی سب سے بڑی خوبی ہے
07:04اور یہ جن کا آپ نے ذکر کیا محبت اور ہدر
07:07یہ بھی بڑی سادگی کے ساتھ جی مزامین ان کے شاعریں آتے ہیں
07:11اور اس سے ان کا ایک اسلوب خیام ہوتا ہے
07:14نرم لہجہ ہے
07:16شاہستہ ان کی آواز ہے
07:18روانی ہے
07:20برجستگی ہے
07:22اور ایک دھیمہ دھیمہ لہجہ ہے
07:23شور نہیں اس میں کہیں
07:25اور دلچسپ بات یہ ہے کہ جب
07:27خمار بارہ بنکی صاحب
07:29نے اپنے شہری سفر کا آغاز کیا تھا
07:31تو ترقی پسند تحرین
07:33جو ہے وہ زور پکڑنے لگی
07:35اس کی اپتعداد تو ہوئی گئی تھی
07:38لیکن اس زمانے میں غزل گو شورہ ایک بڑی تعداد میں موجود تھے
07:41غزل کے چاہنے والے بڑی تعداد میں موجود تھے
07:44پھر یہ ہوا
07:45کہ غزل کے اور شورہ دھیرے دھیرے کم ہوتے چلے گئے
07:49حالانکہ غزل کے شورہ نے ہار نہیں مانی کبھی
07:51ترقی پسند شورہ کے سامنے
07:53لیکن جب ان کے افتار دھیرے دھیرے کم ہوتی چلی گئی
07:55اور غزل کی مخالفت ہوئی
07:56اور غزل ایک نئے مزاد سے ہم آہنگ ہو رہی تھی
08:00تو خمار بارہ بم کی بھی ان شورہ کی
08:03جو چند شورہ کی سب تھی
08:05اس میں کھڑے ہوئے تھے
08:07جنہوں نے غزل کو کبھی
08:09اپنے دامن سے جدہ نہیں ہونے دیا
08:12اور پھر غزل کے لوگ میں نے جس طرح عرض کیا
08:15کہ دھیرے دھیرے جب کم ہوتے چلے گئے
08:16اور غزل پر برا وقت آیا
08:17تو تب بھی انہوں نے خمار بارہ بم کے سامنے
08:20غزل کا دامن جو ہے وہ
08:22بالکل نہیں چھوڑا
08:23بلکہ غزل کو اپنا
08:24اپنے سینے سے لگائے رکھا
08:25اور وہ غزل کو انہوں نے اپنا میدان منایا
08:29حالانکہ انہوں نے دوسری اسناف میں بھی تبازمائی کی ہے
08:34سلام بھی گئے ہیں
08:35خصیدے بھی گئے ہیں
08:36نظمیں لکھی تھی ابتدا میں انہوں نے دو تین
08:39لیکن پھر غزل کو ہی انہوں نے
08:41اپنا میدان منا لیا
08:43اور ایک بڑا اچھا جملہ ہے ان کا خمار صاحب
08:48انہوں نے کہا کہ جب تک انسان ہستا رہے گا
08:50جب تک انسان روتا رہے گا
08:52تب تک غزل کا جو کلاسی کی لہزہ ہے
08:55وہ زندہ رہے گا
08:56یہ اس سے ہم ان کے اسلوب کو سمجھ سکتے ہیں
09:00غزل سے ان کے عشق کو سمجھ سکتے ہیں
09:02سادگی اور برجستگی اور روانی کی بات میں نے کی
09:04بڑے ان کی مشہور اشار ہیں
09:06ایک پل میں ایک صدی کا مزا ہم سے پوچھئے
09:10دو دن میں
09:12ایک پل میں ایک صدی کا مزا ہم سے پوچھئے
09:15دو دن کے زندگی کا مزا ہم سے پوچھئے
09:18بھولے ہیں رفتہ رفتہ
09:20انہیں مدتوں میں ہم
09:22قسطوں میں خودکوشی کا مزہ ہم سے پوچھئے یہ سادگی تھی یہ ان کا سیدھا سیدھا لہجہ تھا جو بے
09:28ساختگی تھی اور روانی تھی مجھ کو شکست دل کا مزہ یاد آ گیا تم کیوں اداس ہو کہو کیا
09:36یاد آ گیا تو ان کی خوبیت یہ بھی تھی ان کے اسلوپ کی جس کا آپ نے ذکر ہی
09:42کیا اسلوپ کا کہ اس میں نہ اس میں تشبیحات ہیں نہ استارے ہیں نہ الڈھاؤں ہیں نہ فلسفہ ہے
09:50ایسی مثال بہت کم دیکھنے کو ملتی ہے جو خمار صاحب کی شاعری میں ہم کو ملتی ہے آپ نے
09:56محبت اور ہجر کا ذکر کیا تو یہ محبت اور ہجر جو ہے یہ ان کے ہاں ان کا جو
10:02لہجہ تھا اسی سے پیدا ہوتا ہے
10:07وہ ایک جگہ لکھتے ہیں کہ میری شاعری جو ہے وہ حسن عشق سے متعلق ہے وہ خود کہہ رہا
10:13ہے اس بات کو اور ان کی پوری شاعری ثبوت ہے اس بات کا
10:17تو یہ حسن عشق تو ان کی زندگی کا حصہ تھا تو جب دل کے کسی انہوں نے یہ بھی
10:24کہا کہ جب کسی خاص حاصے یا کسی خاص موقع سے یا واقع سے وہ متاثر ہوئے ہیں
10:30تب تب ان کے ان کے ہاں شعر ہو جاتا ہے تو یہ جذبات حسن عشق کا تجربہ ہی دراصل
10:35خمار بارہ بنکی شاعری کی شاعری ہے
10:38یہ مصرا نہیں ہے وظیفہ میرا ہے یہ مصرا نہیں ہے وظیفہ میرا ہے خدا ہے محبت محبت خدا ہے
10:47اب دیکھیں ایک شعر میں اور سناتا ہوں اس اسلوب کے حوالے سے جگر صاحب ان کے استاد تھے ان
10:52کا شعر تھا کہ یہ عشق نہیں آسان بس اتنا سمجھ لیجئے
10:57ایک آگ کا دریہ ہے اور ڈوب کے جاتا ہے خمار صاحب اپنے شعر میں کہتے ہیں کہ وہ کانٹا
11:03ہے جو چپ کر ٹوٹ جائے
11:09وہ کانٹا ہے جو چپ کر ٹوٹ جائے محبت کی بس اتنی داستہ ہے
11:18اب یہ کانٹا چپ کر ٹوٹنے کی جو کسک ہے یہی وہ حضر ہے اور یہی وہ کیفیت ہے جس
11:25کا آپ نے اپنے سوال میں
11:26ذکر کیا تھا
11:28بڑی خوبصورتی سے انہوں نے شائری
11:30کا نچوڑ پیش کر دیا کہ ہستا
11:32اور روتا انسان رہے گا
11:34تو شائری بھی ہوتی رہے گی
11:36کیا خمار بارہ بنکوی کی زندگی
11:38سے وابستہ کوئی ایسا واقعہ
11:40تجربہ یا تعلق ہے جو
11:42ان کی شخصیت اور ان کے کلام کو
11:44سمجھنے میں خاص اہمیت
11:46رکھتا ہو
11:48جی بلکل وہ
11:50دیکھئے ان کی جو
11:51اپنا جملہ ہے یہ بھی
11:54ان کے حوالے سے
11:56کہ وہ عشق ہی
11:58میری زندگی کا مہور ہے اور بڑے
12:00جذباتی اور حساس طبیعت انسان
12:02تھے ہمارا بارہ بن کے ساتھ
12:04کہیں تو یہ بھی لکھا ہے کہ
12:06میں کہیں پڑھ رہا تھا کہ وہ پہلے پولیس کی
12:08ملازمت میں تھے لیکن
12:10انہوں نے پولیس کی ملازمت چھوڑ دی
12:12تو یہ ان کے
12:14حساس ہونے کی علامت ہے
12:16یہ ان کی نرم اور ملائم طبیعت
12:20کی ایک روشن مثال ہے
12:22کہ وہ یہ ملازمت اور وہ بھی
12:23پولیس کی چھوڑ دیتے ہیں اور پھر
12:25شاعری کی طرف جو ہے وہ رجوع کر
12:27لیتے ہیں تو اہم پہلو ان کی
12:30شخصیت کا جو ہے وہ ایک جذباتی
12:32اور حساس طبیعت کا
12:33ہونا ہے اور انہوں نے
12:36محبت کو ان کی کوئی
12:38زندگی دیکھی
12:40محبت کو کسی تصور
12:42کے طور پر نہیں بلکہ زندگی کے
12:44گہرے تجربے کے ساتھ
12:46انہوں نے اس کو جیا ہے محبت کو
12:49یہ یہ
12:50انہوں نے جب ان کی بیٹی تھی
12:52ایک جماع سال بیٹی اس کا انتقال ہوا تھا
12:54تو اس سے بڑے متاثر ہوئے تھے تو انہوں نے
12:56صرف ایک شعر کہا تھا
12:59اور وہ شعر
13:00ایک شعر نہیں بلکہ پورا مرسیہ ہے جو انہوں نے
13:02کہا تھا اس سے ان کی حساس
13:04طبیعت اور کسی غن کی شدت
13:06کا انلازہ کیا جا سکتا ہے
13:08وہ کہتے ہیں اپنی جماع سال بیٹی
13:10کے انتقال پر بلکہ کسی کتاب
13:12میں یہ شعر انہوں نے لکھا بھی ہے اس کو
13:14انتصاب کرتے ہوئے کہ اس کو جاتے ہوئے
13:16تو دیکھا تھا
13:18اس کو جاتے ہوئے تو دیکھا تھا
13:20پھر بسارت نے
13:22ساتھ چھوڑ دیا
13:23اب اس کی پرتیں بیان کرتے جائیے آپ شعر کی
13:26تو یہ صرف ایک شعر نہیں
13:28یہ ایک مرسیہ ہے
13:31ایک واقعہ ان کا
13:32اور ہم سناتے ہیں
13:34حالکہ اس میں دو طرح سے واقعہ ملتا ہے
13:36کہ انہوں نے فلمی نقوہ نگاری بھی کی
13:38اور ایک مرتبہ
13:40یہ کہا جاتا کہ جگر صاحب
13:42اپنے دونوں شاگردوں کے ساتھ
13:44مجروح صاحب بھی ان کے شاگرد تھے
13:46اور یہ خمار صاحب
13:49ان کے ساتھ مشاعرے میں ممبئے گئے تھے
13:51جو پہلے بممبئے تھا
13:53تو وہاں اس مشاعرے میں
13:54فلمی دنیا کی بڑی شخصیتیں بھی تشریف لائیں تھیں
13:57مشاعرہ سننے کے لیے
13:58پہلے سنا کرتے تھے
13:59تو وہاں اے آر کاردار صاحب
14:01جو بڑے فلم پروڈیوسر ہیں وہ موجود تھے
14:03نوشاز صاحب جو شاعر بھی ہیں
14:05بڑے مشہور نوسیخار ہیں وہ بھی موجود تھے
14:09تو بہرحال انہوں نے
14:11اے آر کاردار صاحب نے
14:13جگر صاحب سے
14:14خواہش کا اظہار کیا کہ میں
14:16فلم شاہ جہاں کے لیے آپ سے
14:18نغمے لکھوانا چاہتا ہوں
14:20تو انہوں نے اپنی کسی مصروفیت کے وجہ سے منع کر دیا
14:23اور خمار صاحب کا نام
14:25اور ان کا نام مجروح صاحب کا نام دے دیا
14:27اب ظاہر ہے کہ جگر صاحب
14:29جیسی بڑی شخصیت
14:31کون نظر انداز کر سکتا ہے
14:33ان کی سفارش کو
14:36پھر دوسری بات وہ ان کو سنی چکے تھے
14:38تو ان کو پسند آئے
14:39تو بہرحال جب اے آر کاردار نے
14:41فلم شاہ جہاں بنائی تو اس کے
14:43اس کے دس گانے
14:46جو کیل سہگل وغیرہ نے گائے تھے
14:48اور نوشاہ صاحب نے اس کی محسیقی دی تھی
14:50اس میں دس گانے لکھے گئے تھے
14:52جس میں سات جو ہے وہ مجروح سلطان قرین نے لکھے تھے
14:54اور تین گانے جو ہیں
14:55وہ اپنے خمار صاحب نے لکھے تھے
14:59خمار صاحب نے گانے تھے
15:00اے دلے بے قرار بڑا مشہور گانہ ہے
15:02اس کے علاوے ایک گانہ اور
15:04ان کا مشروعہ چاہ برباد
15:05کرے گی ہمیں معلوم نہ تھا
15:08ہم پیسے بھی پڑے گی ہمیں معلوم نہ تھا
15:11بہرحال
15:12یہ واقعہ ملتا ہے لیکن
15:14جہاں کہیں لکھا ہے کہ ایک مرتبہ
15:16جب اے آر کاردار صاحب نے
15:18مجروح صاحب اس فلم کے گانے لکھ رہے تھے
15:21تو ان کا
15:22دل نہیں لگا اور یہ واپس لوٹ آئے
15:25اگلے سال شکیل بدائیونی صاحب
15:27کو متعرف کر آیا تو دیکھیں
15:29اس میں دو باتیں ہیں ایک تو یہ
15:30کہ مجروح صاحب نے
15:33ملازمت چھوڑی
15:35ان کا حکمت کا کام تھا مجروح صاحب
15:37کا ملازمت نہیں تو انہوں نے وہ کام
15:39چھوڑا اور ممبئی چلے گئے
15:41شکیل بدائیونی صاحب دلی میں کئی
15:43ملازم تھے وہ ممبئی چلے گئے
15:45گانے لکھنے کے لئے لیکن
15:47خمار صاحب نے فلمی دنیا
15:49پر مشاعروں کو ترجیح دی
15:51یہ ان کی زندگی کا ایک
15:53واقعہ ہے جس سے ایک اور واقعہ ہے
15:55جس سے ان کی شاعری کا مندازہ کر سکتے ہیں
15:56ایک اور چھوٹا تھا واقعہ بات ختم کرتا ہوں
15:58کہ مجروح صاحب کسی فلم کے گانے
16:01لکھ رہے تھے تو
16:02پروڈیوسر کا فون ان کے پاس آیا کہ
16:04خمار صاحب آپ گانے لکھ دیجئے تو انہوں نے
16:06بنا کر دیا انہوں نے
16:08کہا کہ بھائی مجروح لکھ رہے ہیں
16:10تو آپ مستقل لکھا رہے ہیں
16:12یہ مجروح کے ساتھ نائنصافی ہوگی
16:15تو پروڈیوسر نے کہا
16:16کہ ان سے ہمارا کونٹرٹ ختم ہو کرتا ہے
16:18تو یہ وہ سوچ تھی
16:20اور فکر تھی جس سے ہم ان کی شخصیت
16:22تو سمجھ سکتے ہیں
16:23خمار بارابنکوی کے اشعار عام لوگوں
16:26میں بھی بے حد مقبول ہوئے
16:28آپ کے خیال میں ان کی اس غیر
16:30معمولی مقبولیت کی اصل وجہ
16:32کیا تھی
16:34دیکھیں اس کی اصل وجہ تو ان کی سادگی تھی
16:36اور وہ بلکل وہ باتیں
16:38جس طرح میں نے کہا کہ اس میں اشارے بھی نہیں ہوتے
16:40تھے اس میں تنائے بھی نہیں ہوتے تھے
16:42سیدھی سیدھی بات ہوتی تھی
16:44اور بڑے
16:47ایسا لگتا تھا کہ
16:49یہ ہماری بات کرنا ہے
16:51اور محبت ایک آفاقی جذبہ ہے
16:53اس کے ساتھ انہوں نے کچھ
16:56دوسرے تیور بھی ان کیاں ملتے ہیں
16:57جو وائز کے ساتھ چھیرشار ہے
17:00کہیں کہیں سیاسی
17:02سیاسی چیزیں بھی ان کے ہی آئی ہیں
17:04تو یہ چیزیں وہ تھیں جو انسانی
17:06زندگی سے کہیں نہ کہیں ہم آہان تھی
17:08اور اس کو ایک عام
17:10طبقہ بھی بہت آسانی کے ساتھ
17:12سمجھ لیتا ہے تو ان کی جو سادگی ہے
17:14اور اس کا ان کی جو
17:16ایک طرح سے جذباتی
17:18وابستگی جو ہے وہ شعروں کے ساتھ
17:20لفظوں کے ساتھ
17:22وہ ساب لوگوں کو متاثر کرتی ہے
17:24اور کہیں جب لوگوں کے
17:26احساسات سے شاعر کے احساسات
17:28ہم آہان ہو جاتے ہیں
17:29اور کوئی شاعر سامعین کے جذبات کی
17:32اکاسی کر دیتا ہے
17:33تو وہ شاعری جو ہے وہ سامعین کا حصہ بن جاتی ہے
17:36خارین کا حصہ بن جاتی ہے
17:38اور یہی جو ہے خمار صاحب کی
17:40ایک سب سے بڑی خوبی تھی
17:42جو ان کی سادگی تھی
17:43جو ان کی نفاست تھی
17:46اور ایک اتنا سے
17:48اس میں ایک اثر انگیزی تھی
17:50جو متاثر کرتی ہے سامعین
17:52اور اب وہ لمحہ
17:55جس کا ہمارے ناظرین اور سامعین
17:57کو ہمیشہ بے سبری سے انتظار
17:59رہتا ہے شاداب صاحب
18:01آپ سے گزارش ہے کہ خمار
18:03باربنگوی کے چند
18:05پسندیدہ اشار اپنے
18:07خوبصورت انداز میں سنائیں
18:09اور اس نششت کو
18:10مزید یادگار بنا دیں
18:13دیکھیں یہ غزلتون کی مشہور ہے
18:15جس کا ذکرہ بھی آ بھی چکا ہے
18:16حوالے میں پھر دہرہ دیتا ہوں
18:18ان کے اشاری ہے کہ ایک پل میں
18:19ایک صدی کا مزہ
18:21ہم سے پوچھئے
18:23ایک پل میں ایک صدی کا مزہ
18:25ہم سے پوچھئے
18:26دو دن کی زندگی کا مزہ
18:28ہم سے پوچھئے
18:30بھولے ہیں رفتہ رفتہ
18:31انہیں مدتوں میں ہم
18:33ترستو میں خودکوشی کا مزہ
18:35ہم سے پوچھئے
18:36اب یہ ترستو میں جو خودکوشی کی
18:38ایک بات پیدا ہو رہی ہے
18:39اور کسی قرف طرف تب بھولنا
18:41یعنی کوئی یک لخت
18:42الگ نہیں ہو رہا ہے
18:43تو یہ جو ترستو میں خودکوشی ہے
18:45جو مرنے سے زیادہ
18:47عذیتناک ہے
18:48اس کا ذکر کوئی شاعری میں
18:49کر رہے ہیں
18:50ایک شعروں کا بڑا مشہور ہے
18:51جو انہوں نے
18:53وائزوں کے ساتھ
18:54چھڑ چھڑ کی تھی
18:55ناسحہ کے ساتھ
18:56چھڑ کی تھی
18:57کہ محبت کو
18:58سمجھنا ہے
18:59تو نادا خود محبت کر
19:01اور یہ سیاسی شعر بھی ہے
19:03محبت کو سمجھنا ہے
19:05تو نادا خود محبت کر
19:07کنارے سے کبھی
19:08اندازہ یہ طوفہ نہیں ہوتا
19:10کنارے سے کبھی
19:11اندازہ یہ طوفہ نہیں ہوتا
19:14ایک بڑا اچھا شعر ان کا ہے
19:16جو سیاسی صورتحال کو بھی
19:17واضح کرتا ہے
19:18کہ میں نے دیکھا ہے
19:20بہاروں میں چمن کو جلتے
19:21میں نے دیکھا ہے
19:24بہاروں میں چمن کو جلتے
19:25ہے کوئی خواب کی تعبیر بتانے والا
19:28ہے کوئی خواب کی
19:30تعبیر بتانے والا
19:32اور
19:34یہ شعر بن کا بڑا مشہور تھا
19:37رات باقی تھی
19:38جب وہ بچھڑے تھے
19:41رات باقی تھی
19:43جب وہ بچھڑے تھے
19:44کٹ گئی عمر
19:46رات باقی
19:47کیا بات ہے ملد
19:49رات کا سفر ختم نہیں ہونے
19:51وہاں رہا ہے
19:51عمر اسے بڑا کر دیا ہے
19:54رات باقی تھی جب وہ بچھڑے تھے
19:55کٹ گئی عمر
19:56رات باقی ہے
19:58برسے بغیر ہی جو گھٹا
19:59گھر کے کھل گئی
20:02برسے بغیر ہی
20:04جو گھٹا گھر کے کھل گئی
20:05ایک بے وفا کا
20:07اہد وفا یاد آ گیا
20:08ایک بے وفا کا اہد وفا یاد آ گیا
20:11کچھ اور شعر میں
20:11سناتا ہوں جو میں نے
20:13نوٹ کیے ہیں
20:15یہ کہتے ہیں
20:16قیامت یقیناً قریب آ گئی ہے
20:19قیامت یقیناً قریب آ گئی ہے
20:22خمار اب تو مسجد میں جانے لگے ہیں
20:25خمار اب تو مسجد میں جانے لگے ہیں
20:27ایک ان کی غزل ہے
20:28اس غزل کا شعر یہ بھی ہے
20:30کہ حیرت سے تم کو دیکھ
20:33کہ مسجد میں خمار
20:35کیا بات ہو گئی کہ خدا یاد آ گیا
20:38کیا بات ہو گئی کہ خدا یاد آ گیا
20:40تو یہ ان کے بڑے
20:43مشہور اشار ہیں
20:44اور میں ابھی گانوں کا ذکر کر رہا تھا یہاں پھر ذکر کر دوں
20:47ان کے کلام کی بات ہے جو میں نے ذکر کیا تھا
20:50اس میں تصویر بناتا ہوں تصویر نہیں بنتی
20:53یہ بڑا مشہور گانا ان کا بڑا مقبول ہے
20:56اور جس کا میں نے ذکر کیا وہ شیر بھی
20:59کسی گانے میں آیا ہے محبت خدا ہے محبت خدا ہے
21:03دل کی محفل سجی ہے چلے آئیے
21:05تو یہ بہت سے ان کے اشار ہیں کچھ اور شیر میں سناتا ہوں
21:16نہارا ہے عشق اور دنیا تھکی ہے یہ غزل بہت سنی جاتی ہے
21:24جس طرح مشاعروں میں
21:31نہارا ہوا چلیں
21:32اب یہ صدیوں پرانی داستان بیان کر دیتے ہیں
21:35اس کے چیلنج بیان کر دیتے ہیں ایک شیر جو
21:37جس چلا آ رہا ہے کہ دیا جل رہا ہے
21:39ہوا چل رہی ہے
21:42وہ موجود ہیں اور ان کی کمی ہے
21:44وہ موجود ہیں اور ان کی کمی ہے
21:48محبت بھی تنہائی یہ دائمی ہے
21:52محبت کی تنہائی یہ دائمی ہے
21:55چراغوں کے بدلے مکان جل رہے ہیں
21:57یہ صاحب بڑا مشہور شیر ہے
21:59چراغوں کے بدلے مکان جل رہے ہیں
22:02نیا ہے زمانہ نئی روشنی ہے
22:05نیا ہے زمانہ نئی روشنی ہے
22:08تو یہ غزل بھی ان کی بہت سنی جاتی تھی مشاعروں میں
22:10اور وہیں پاس اور یاد آنے لگے ہیں
22:16اب دیکھیں وہیں پاس اور یاد آنے لگے ہیں
22:20محبت کے ہوش اب ٹھکانے لگے ہیں
22:23محبت کے ہوش اب ٹھکانے لگے ہیں
22:25وہی پھر مجھے یاد آنے لگے ہیں
22:29وہی پھر مجھے یاد آنے لگے ہیں
22:33جنہیں بھولے میں زمانے لگے ہیں
22:36جنہیں بھولے میں زمانے لگے ہیں
22:38سنا ہے ہمیں وہ بھولانے لگے ہیں سنا ہے ہمیں وہ بھولانے لگے ہیں تو کیا ہم انہیں یاد آنے
22:46لگے ہیں یہ یہ وہ سادگی ہے یہ وہ سادگی ہے جو چند لفظوں میں ایک بڑی گہری بات جو
22:52ہے وہ وہ کہہ دیتے ہیں
22:58یہ کہنا تھا ان سے محبت ہے مجھ کو یہ بھی سی غدل کا شعر ہے یہ کہنا تھا ان
23:04سے محبت ہے مجھ کو یہ کہنے میں مجھ کو زمانے لگے ہیں یہ کہنے میں مجھ کو زمانے لگے
23:10ہیں اور دو ٹین شرور دیکھ لیجئے بس دشمنوں سے پیار ہوتا جائے گا دوستوں کو آزماتے جائیے
23:19دشمنوں سے پیار ہوتا جائے گا دوستوں کو آزماتے جائیے اور یہ تو ان کا لازاوال شیر ہے بڑا کوٹ
23:26کہہ جاتا ہے کہ دوسروں پر اگر تفسرہ کیجئے
23:31دوسروں پر اگر تفسرہ کیجئے سامنے آئینہ رکھ لیا کیجئے یہ صاحب ان کے بہت سے اشعار ہے جو پڑھے
23:40جا سکتے ہیں
23:40جی بہت ہی شاندار آپ نے ان کے اشعار کو سنایا شہداب صاحب آپ نے نہایت دلنشین انداز میں خمار
23:50بارہ بنکوی کی شخصیت ان کے فن کے مختلف پہلووں کو ہمارے سامنے اجاگر کیا
23:56اور جس فکری گہرائی کے ساتھ ان کے کلام کی تشریح کی وہ واقعی قابل قدر ہے آپ کی گفتگو
24:03نے اس نشست کو یادگار بنا دیا
24:06ہم تہے دل سے آپ کی شکر گزار ہیں ناظرین و سامنے اگر آپ کو عدب نامہ کی یہ نشست
24:14پسند آئی ہو تو ویڈیو کو لائک کیجئے چینل کو سبسکرائب کیجئے اور بیل آئیکون ضرور دبائیے
24:21تاکہ ہماری ہر نئی پیشکش آپ تک بروقت پہنچتی رہے ہم اگلی نشست میں ایک اور عدبی شخصیت کی زندگی
24:31اسلوب اور نظریات پر گفتگو کے ساتھ دوبارہ حاضر ہوں گے
24:36تب تک کے لیے اجازت دیجئے اپنا خیال رکھئے گا پھر ملاقات ہوگی
24:45موسیقی
Comments

Recommended