- 2 days ago
- #adabnama
- #ameeraghaqazalbash
ادب نامہ | امیر آغا قزلباش | Adab Nama | Ameer Agha Qazalbash
نیشنل ہیرالڈ، نو جیون اور قومی آواز کے مشترکہ ادبی پروگرام ادب نامہ کی اس خصوصی نشست میں ہم گفتگو کر رہے ہیں امیر آغا قزلباش پر — وہ شاعر جن کی غزل میں مجروح آدرش، داخلی کرب، امید، احتجاج اور وجودی شعور ایک ساتھ جلوہ گر ہوتے ہیں۔
معین شاداب نے امیر آغا قزلباش کی زندگی، خاندانی پس منظر، فکری جہات، شعری اسلوب اور ان کے ادبی مقام پر تفصیلی روشنی ڈال رہے ہیں۔ گفتگو میں نئی غزل کو عطا کی گئی توانائی اور منتخب اشعار کی معنوی جہات پر بھی سنجیدہ تبصرہ شامل ہے۔
In this special episode of Adab Nama, we explore the life and poetry of Ameer Agha Qazalbash — a poet whose ghazals reflect wounded ideals, inner fracture, quiet resistance, existential awareness, and the resilience to endure.
Renowned Poet Moien Shadab, offers a thoughtful analysis of Qazalbash’s life, family background, intellectual dimensions, poetic style, and literary stature. The discussion also reflects on his contribution to the evolving ghazal tradition, and selected verses with interpretive insight.
#AdabNama #AmeerAghaQazalbash
نیشنل ہیرالڈ، نو جیون اور قومی آواز کے مشترکہ ادبی پروگرام ادب نامہ کی اس خصوصی نشست میں ہم گفتگو کر رہے ہیں امیر آغا قزلباش پر — وہ شاعر جن کی غزل میں مجروح آدرش، داخلی کرب، امید، احتجاج اور وجودی شعور ایک ساتھ جلوہ گر ہوتے ہیں۔
معین شاداب نے امیر آغا قزلباش کی زندگی، خاندانی پس منظر، فکری جہات، شعری اسلوب اور ان کے ادبی مقام پر تفصیلی روشنی ڈال رہے ہیں۔ گفتگو میں نئی غزل کو عطا کی گئی توانائی اور منتخب اشعار کی معنوی جہات پر بھی سنجیدہ تبصرہ شامل ہے۔
In this special episode of Adab Nama, we explore the life and poetry of Ameer Agha Qazalbash — a poet whose ghazals reflect wounded ideals, inner fracture, quiet resistance, existential awareness, and the resilience to endure.
Renowned Poet Moien Shadab, offers a thoughtful analysis of Qazalbash’s life, family background, intellectual dimensions, poetic style, and literary stature. The discussion also reflects on his contribution to the evolving ghazal tradition, and selected verses with interpretive insight.
#AdabNama #AmeerAghaQazalbash
Category
✨
PeopleTranscript
00:06ڈیشنل حیرارٹ نو جیون اور قومی آواز کے مشترکہ عدوی پروگرام عدب نامہ میں آپ کا تہہ دل سے استقبال
00:13ہے
00:14میں ہوں عمران ایم خان اور آج کی نششت میں ہم گفتگو کریں گے
00:19اس شاعر پر جو اپنی خاموشی میں بھی ایک چیخ رکھتا ہے
00:23جو محبت کو محض جذبہ نہیں بلکہ وجودی سوال کے طور پر برطا تھا
00:29اور جس کی غزل میں شہر کی اداسی انسان کی تنہائی اور وقت کی بے سمتی ایک ساتھ سانس لیتی
00:36ہے
00:37رات جلتی ہوئی ایک ایسی چتہ ہے جس پر تیری یادیں ہیں سلکتے ہوئے سندل کی طرح
00:45جی ہاں ہم بات کر رہے ہیں امیر آغا غزل باش کی
00:49اور آج کی اس نششت میں بھی ہمیشہ کی طرح ہمارے ساتھ موجود ہیں
00:53وہ شخصیت جو شاعری کو محض روایت کے طور پر نہیں
00:58بلکہ زندہ فکری عمل کے طور پر دیکھتی ہے
01:02اردو عدب کے باریک بینقاری نازیم مشاعرہ کی حیثیت سے منفرد پہچان رکھنے والے
01:09اور برے سغیر کی شہری روایت کے گہرے شناسہ مہین شاداب
01:14شاداب صاحب عدب نامہ میں آپ کا خیر مکتم ہے
01:17شکریہ جناب
01:20شاداب صاحب سب سے پہلے ہم یہ جاننا چاہیں گے
01:22کہ امیر آغا قزل باش کی ابتدائی زندگی کیسی رہی
01:26ان کے خاندانی پس منظر اور ماحول نے ان کی شخصیت اور شاعری کی تشکیل میں کیا کردار ادا کیا
01:35دیکھ اس سے قبل کہ آپ کے سوال کا جواب دیا جائے
01:37یہ خاندانی پس منظر کی آپ بات کر رہے ہیں
01:42یہ پتانا ضروری ہے
01:43کہ امیر آغا قزل باش کے بہت ہی ممتاز لہجے کے شاعر تھے
01:49اور ان کی شہرت جو ہے وہ فلمی نغمہ نگاری کے طور پر ہوئی تھی
01:54شاعر کے طور پر تو مشہور تھے لیکن جو لوگ انہیں یاد حد رکھتے ہیں
01:58وہ رام تری گنگا میلی اور پریم روگ یہ دو فلمیں آئی تھی
02:02جس کے گانے جو ہے وہ امیر قزل باش صاحب نے لکھے تھے
02:06وہ بڑی مقبول ہوئی تھی یہ فلمیں
02:07ان کے لکھے ہوئے نغمی بڑے مشہور ہوئے تھے
02:10اور پاس شہری مجموعے ان کے آئے ہیں
02:13جس میں پہلا مجموع ان کا بازگرشت تھا
02:15دوسرا انکار تھا
02:17تیسرا شکایت میری
02:19رجز اور پھر بعد میں منظر نامہ شاہ ہوا تھا
02:23ان کا کلیات بھی کچھ لوگوں نے شائع کیا ہے
02:25امیر قزل باش صاحب کا
02:27اور ان کے بہت سے اشار ہیں جب ذکر آئے گا
02:29جس کی وجہ سے وہ مشہور ہیں
02:31جہاں تک ان کے خاندانی بس منظر کا
02:35اور شہری ماحول پر اس کے اثر کا ذکر آپ نے کیا ہے
02:38تو ان کا تعلق قزل باش
02:40گھرانی سے تھا
02:41اور قزل باش جو خاندان ہے
02:44اس کی بڑی پرانی روایت ہے
02:46جو ایران اور پاکستان سے ہوتے ہوئے
02:48ہندوستان تک پہنچتے ہیں
02:50قزل باش جو ایک
02:54گھرانہ تھا جو ایک خاندان تھا
02:56اس کی خوبی یہ تھی کہ ان کے ہاں
02:57بڑے پڑے لکھے لوگ ہوا کرتے تھے
02:59اور سیاست میں ان کے جلچسپی تھی
03:01عدلیہ میں ان کا دخل ہوا کرتا تھا
03:03تو جو بڑے عہدے ہیں
03:05ان پر جو ہے یہ قزل باش خاندان کے لوگ
03:08پوری طرح سے قابض رہے ہیں
03:10یا اس پر ایک طرح سے ان کا
03:12سلسلہ رہا ہے
03:13تو یہ جو ان کا خاندانی پس منظر ہے
03:16یہ ان کے عدبی
03:17زوغ کے دلیل ہے کہ
03:20ان کیا جو سلسلہ ہے
03:22جو پورا تعلق ہے اس میں عدبی زوغ
03:24اور تہذیبی شعور جو ہے
03:25وہ ہمیں پہلے سے ہی دیکھنے کا نظر آتا ہے
03:28تو یہ تمام چیزیں
03:30ان کی شخصیت پر بھی
03:31ہم کو نظر آتی ہیں اور اس کا اثر
03:34ان کے شائری پر بھی ہم
03:35دیکھ سکتے تھے کہ جو تہذیبی شعور
03:38ہے جو سیاسی شعور ہے
03:39اور جو عدبی زوغ ہے
03:41وہ ان کو کہیں نہ کہیں
03:42وراست میں ملا تھا
03:45جی امیر آگا قزل باش کی
03:47غزل کا لہجہ روایتی بھی محسوس
03:49ہوتا ہے اور جدید بھی
03:51آپ کے نزدیک ان کی شائری کو کس عدبی دھارے
03:53میں رکھ کر دیکھا جانا چاہیے
03:57دیکھیں امیر قزل باش صاحب
03:59ان لوگوں میں شمار کی جاتے ہیں
04:01کہ جن لوگوں نے روایتوں کی
04:03بنیاد پر کچھ نیا کہنے کی کوشش کی
04:07ورنہ لوگ ہوتا ہے کہ
04:08روایتی انداز میں شائری کرتے ہیں
04:10یا پھر وہ بہت جدید ہو جاتے ہیں
04:11یا کچھ ایسے تجربات وہ اپنی شائری میں کرنے لگتے ہیں
04:14جو غزل کے لیے
04:16مناسب نہیں ہے یا شائری کے لیے مناسب نہیں ہے
04:19لیکن جو
04:20ہمارا کلاسی کی رویہ ہے
04:22جو ہمارے روایتیں ہیں
04:24اور بہت ہی ایک طرح سے
04:26ان کو میاری اور بہت ہی
04:28پروکار روایت کہا جا سکتا ہے
04:30تو اس کی بنیاد پر یعنی جو فنی لوازمات ہیں
04:34جو غزل کا ایک بھاچہ ہے
04:35یا نظموں کا ایک تسلسل ہے
04:38یا ڈسیپلین ہے
04:38یہ لفظیات ہے لفظوں کو برتنے کا سلیخہ ہے
04:41اس سب کا احترام کرتے ہوئے
04:44اگر آپ کچھ نئے تجربات کر رہے ہیں
04:48موضوع کے اعتبار سے
04:50یا اپنی فکر کی سطح پر
04:51تو وہ لوگ یقیناً ان کا نوٹس لیا گیا
04:54اور امیر خزلواش صاحبی ایسے ہی شائر تھے
04:57جنہیں نہ ہم مکمل طور پر
05:00روایت کا شائر کہہ سکتے ہیں
05:02اور نہ مکمل طور پر
05:03کہ ان کو جدید شائر کہا جا سکتا ہے
05:05لیکن جو ایک نئی غزل
05:07اس زمانے میں پنپ رہی تھی
05:08آزادی کے بعد کا جو منظر نامہ تھا
05:10جب آزادی کا ایک انتشار
05:13اور ایک استراب ہمارے معاشرے میں تھا
05:15اس کے بعد جو نئے تجربات ہو رہے تھے
05:18اور ان سماجی اور معاشی تجربات کے ساتھ ساتھ
05:22جب انسان آپ نے وجودی ایک مسئلے سے
05:28نبردازمہ تھا
05:28اس کے سامنے اس طرح کے چیلنج تھے
05:30تو اس میں بالکل ایک جدت
05:33ترازی کا سلسلہ شروع ہوا تھا
05:35لیکن امیر قزل باش نے ایک
05:38میانہ رہوی اختیار کرتے ہو
05:39نہ بہت زیادہ کلاسی کی خود کو کیا
05:41نہ خود کو بہت زیادہ
05:45جدید شائر بنایا
05:46لیکن جو نئی غزل جس کو کہہ سکتے ہیں
05:48اس کو انہوں نے ایک نئی توانہی عطا کی
05:51اور یہ ان کی پہچان ہے
05:52اور یہ ہی ان کی خوبی ہے
05:54جس کی وجہ سے امیر قزل باش جو ہے وہ
05:56یاد کیا جا سکتے ہیں
05:58کہ فکری سطح پر انہوں نے
06:00کس طرح سے متاثر کیا
06:02اپنے معاصلے کو
06:04جی
06:05قزل باش کی شائری میں
06:07تنہائی شائستگی اور داخلی
06:10کرب کی کیفیت نمائی ہے
06:11کیا یہ محض فنی اظہار تھا
06:13یا ان کی ذاتی زندگی کے تجربات کا عقص؟
06:17یہ بڑا دلچسپ سوال ہے
06:18کہ یہ اس کو اگر ہم
06:20بہت زیادہ تو ان کے بارے میں نہیں ملتا ہے
06:23کہ ان کی زندگی کی طرح گزری ہے
06:24لیکن جو ان کے
06:27دیوان آئے جو ان کے مجموعہ
06:28کلام آئے ہیں
06:29کہیں کہیں خال خال ایسے اشارے ملتے ہیں
06:32کہ شائر جو ہے وہ کسی نہ کسی
06:35ایک کرب کا شکار ہے
06:37ایک داخلی
06:38یا وجودی کسی
06:40مسئلے سے وہ دوزار ہو رہا ہے
06:42تو اس کا ذکر ملتا ہے
06:44جس طرح کسی نے لکھا تھا
06:47کہ اس کے ہاں کچھ کھویانے کا
06:50کچھ گمشدہ
06:51کچھ ایسی چیزیں ہیں
06:53جس کا ذکر بار بار
06:54جو ہے ہمیں قدرباش کی شائری میں آتا ہے
06:57تو جس طرح آپ نے جس سے
06:58شکستگی اور داخلی کرب
07:00اور کا ذکر کیا ہے
07:02تو وہ محض ان کا ایک فنی تجربہ
07:05نہیں کہا جا سکتا
07:06بلکہ وہ ایک جیہ ہوا سچ تھا
07:09یعنی یہ تمام تر مسائل
07:12جن کا تذکر آپ نے کیا ہے
07:13یہ کہیں نہ کہیں وہ جی رہا تھا
07:16وہ شائر
07:17اس کے اندر سے وہ چیزیں گزر رہی تھی
07:20اور یہی وجہ ہے کہ وہ شائری
07:23یا وہ خضر ہمارے دل پر
07:24اثر کرتی ہے
07:25تو زندگی میں جس وقت
07:28وہ شائری کر رہے تھے
07:29آزادی کے بعد کا زمانہ
07:31یا آزادی کے وقت کا زمانہ
07:32جس میں ہجرت بھی تھی
07:33اور جو ایک سماجی استراب تھا
07:36وہ بھی تھا
07:37لیکن اس کے بعد جو ان کے اپنا
07:39ذاتی ایک تجربہ تھا
07:41تنہائی کے حوالے سے
07:42یا خودشکرتگی کے حوالے سے
07:44یا کچھ محرومیاں تھی
07:46جن کا ذکر جا بجا
07:47ان کی شائری میں ملتا ہے
07:49اور کئی کئی بات ہوتی
07:51کہ کچھ بے گھری کا سا معاملہ
07:52بھی ان کے ہی سامنے آتا ہے
07:53کہ وہ بے گھری
07:55مکمل بے گھری
07:57یا گھر ہوتے ہوئے
07:59ایک خاص قسم کی بے گھری
08:00جس کا ذکر جو ہے
08:01ان کے شائری میں ملتا ہے
08:04تو یہ کہا جا سکتا ہے
08:05کہ ان کا جو ایک ترب ہے
08:06یہ محض نمائشی نہیں ہے
08:08یہ محض کوئی فنی اظہار نہیں ہے
08:11بلکہ ان کا اپنا ایک
08:14سچا احساس ہے
08:15صداقت پر مبنی
08:16یہ عذیتیں ہیں
08:18جو امیر قزل باش کی شائری میں
08:20سامنے آتی ہیں
08:21اور اس لیے وہ ہمیں
08:21اندر تک متاثر کرتی چلی جاتی ہے
08:25کیا امیر آغا قزل باش کی زندگی میں
08:28کوئی ایسا واقعہ رونو ما ہوا
08:30جس نے ان کی فکر اور شائری کا رخ
08:32بدل دیا
08:32اگر ہاں تو کیا تھا
08:34اور اس کا اثر
08:35کس صورت میں نظر آتا ہے
08:38یہ کوئی ایسا واقعہ تو نہیں ملتا
08:39ہماری نظر سے نہیں گزرا
08:41کہ اس کو ہم بتا سکیں
08:42کوئی ایسا واقعہ
08:43ہم کی زندگی میں گزرا ہوگا
08:44لیکن جس طرح کے واقعات
08:46میں نے ذکر کیا
08:47کہ جو اپنے وجود کے تقوار سے
08:50یا اپنے آس پاس کے
08:53ماحول میں
08:53وہ جس طرح کے مسائل سے
08:56نبرد آزمہ تھے
08:57تو کہیں نہ کہیں وہ چیزیں
08:59ان کی شائری میں
09:01شائری کو متاثر بھی کر رہی تھی
09:03اور زمانے کو بھی متاثر کر رہی تھی
09:05ان کے ذاتی کچھ
09:08مسائل رہے ہوں گے
09:09جو
09:10جس طرح میں نے ذکر کیا
09:11کہ بے گھری کا ایک احساس
09:14یا گھر میں رہتے ہوئے
09:15کوئی بے گھری
09:16ان کے ہاں جو ہمارے
09:17سامنے آتی ہے ان کی شائری کی شکل میں
09:19یا اس وقت کا جو ایک استماعی قرب تھا
09:22اس کا اظہار ان کے ہاں
09:24ملتا ہے
09:24اور اس طرح میں نے ذکر کیا تھا
09:27کہ شاید بانی نے لکھا ہے
09:29کہ کوئی شائع تھی
09:31جو کہیں گم ہو گئی تھی
09:32کچھ کھو گیا تھا
09:34چاہے وہ تہذیب تھی
09:35یا روایت تھی
09:36تو اس کا تجربہ
09:37ان کے ہاں
09:38ان کے شائری میں بار بار نظر آتا ہے
09:40اور بہت سے شیروں میں
09:41اس کا اظہار بھی انہوں نے کیا ہے
09:43جی
09:44شادہ صاحب
09:45اب ہم آپ سے درخواست کریں گے
09:47کہ آپ
09:47امیر آگا قزلباش کے
09:49چند منتخب اشعار
09:50ہمارے ناظرین کے لئے پڑھیں
09:52اور مختصر طور پر
09:53ان کے مانوی جہتوں پر
09:55بھی روشنی ڈالیں
09:57بہت سے اشعار ہیں
09:58ان کے جو بہت مشہور ہیں
09:59بہت مقبول ہیں
10:00ان کے غزل تو بہت مشہور ہوئی تھی
10:02ایک بات اور دلچس پہ
10:04کہ ان کو مشاعروں کا شاعر بھی کہا گیا
10:05تو جو اچھا شاعر ہوتا ہے
10:08ظاہر ہے
10:08اس کو مشاعرہ قبول کرتا ہے
10:09لیکن ہمارے کچھ عدبی رویہ
10:12اور جو عدبی رجحانات ہیں
10:13وہ اس کو مشاعرے کا شاعر مان کر
10:16اس کی اہمیت کو کم کرنا چاہتے ہیں
10:18لیکن مشاعرہ ایک مضبوط حصہ ہے
10:21ہماری شاعری کا
10:21اور پرانے تمام جو قدیم شورہ ہیں
10:24وہ تو عدب کے ساتھ ساتھ
10:25مشاعروں میں بھی اسی طرح
10:26محبت سے بلائے جاتے تھے
10:28اور ان کا جو
10:29ہم جائزہ لیتے تھے
10:31وہ ان کی شاعری
10:33اور ان کے مشاعرے جاتی
10:34زندگی کے حوالے سے لیتے تھے
10:35تو عمیر قضل باہج بھی
10:37مشاعروں میں خوب بلائے جاتے تھے
10:52اسی غزل کا ایک شعر تھا
10:54جو بہت مشہور ہے
10:55اور آج بھی غالباً
10:56آپ کو بھی یاد آ جائے گا
10:57اور آپ تائید کریں گے
10:59کہ بڑا کوٹ کیا جاتا ہے
11:00اور آج کے ماحول میں
11:02تو بڑا سچ ثابت ہوتا ہے
11:03ہر اہد میں جو شعر ہے
11:05وہ سچا ثابت ہوتا ہے
11:06تو اسی غزل کا شعر ہے
11:07کہ میرے جنو کا نتیجہ
11:08ضرور نکلے گا
11:09اسی سیاہ سمندر سے نور نکلے گا
11:11اسی کا شہر
11:13وہی مدعی
11:15وہی منصف
11:17اسی کا شہر
11:18وہی مدعی
11:19وہی منصف
11:20ہمیں یقیتہ
11:22ہمارا خصور نکلے گا
11:24ہمیں یقیتہ
11:25ہمارا خصور نکلے گا
11:27بڑا مشہور شعر ہے
11:29ان کا بہت مقبول شعر ہے
11:30ایک شعر اور ان کا سناتا ہوں
11:33جو زندگی جینے کا صلیقہ سکھاتا ہے
11:35وہ کہتے ہیں
11:35کہ لوگ جس حال میں
11:38مرنے کی دعا کرتے ہیں
11:40لوگ جس حال میں
11:42مرنے کی دعا کرتے ہیں
11:43میں نے
11:44اس حال میں
11:45جینے کی قسم کھائی ہے
11:47میں نے اس حال میں
11:49جینے کی قسم کھائی ہے
11:50تو ایک بڑے
11:50ایک مایوس انسان کو
11:52یہ
11:54ایک ٹوٹے ہوئے انسان کو
11:55بکرے ہوئے انسان کو
11:56طاقت دیتا ہے یہ شعر
11:58کہ جہاں
11:59لوگ
12:00زندگی کو
12:01چھوڑ دینے کا ارادہ کرتے ہیں
12:02ان حالات میں اگر جیا جائے
12:03تو دراصل زندگی یہی ہے
12:05جس کا اظہار انہوں نے
12:07اس شعر میں بڑی
12:08خوبی کے ساتھ کیا ہے
12:11ایک خضر ان کی اور مشہور ہوئی تھی
12:12اس کا ایک شعر مجھے یاد آ رہا ہے
12:14وہ کہتے ہیں
12:15تم راہ میں
12:17چپچاب کھڑے ہو تو گئے ہو
12:19تم راہ میں چپچاب کھڑے ہو تو گئے ہو
12:22کس کس کو بتاؤگے
12:24کہ گھر کیوں نہیں جاتے
12:27اب دیکھی
12:27وہ سوال کا جواب بھی ملنا ہے
12:29عمران صاحب
12:29جس کا آپ نے ذکر کیا تھا
12:30کہ کوئی ایسا واقعہ
12:32یا ان کی جو ان کا جو کرب تھا ان کی شعری میں وہ یہ تھا جس کا میں نے
12:36ذکر بھی کیا تھا
12:37یہ شعر کا اپنا ذاتی احساس بھی ہو سکتا ہے
12:40اور یہ ذاتی احساس جو ہے استماعی کرب بھی بن جاتا ہے
12:43بہت سے لوگ کا مسئلہ ہے
12:44تم راہ میں چپچاب
12:46کھڑے ہو تو گئے ہو
12:48کس کس کو بتاؤگے کہ گھر کیوں نہیں جاتے
12:51تو یہ گھر نہ ہونے کا کرب اور گھر ہوتے ہوئے
12:55بے گھری کا کرب جو ہے اس شعر میں آپ پوری طرح سے دیکھ سکتے ہیں
12:59تو اس طرح کے بہت سے اشاعر ہیں ان کے جو ان سوالوں کا جواب دیتی ہیں
13:04اور ان کے شعر سناتا ہوں کہ ایک پرندہ ابھی اڑان میں ہے
13:08ایک پرندہ ابھی اڑان میں ہے
13:11تیر ہر شخص کی کمان میں ہے
13:14تیر ہر شخص کی کمان میں ہے
13:16کوئی شخص جب کامیاب ہو رہا ہوتا ہے
13:20اور اس کو مقبولیتیں یا شہرتیں حاصل ہو رہی ہوتی ہے
13:23تو کس طرح سے لوگ اس کو نشانہ بنانے کی پوشش کرتے ہیں
13:26یہ موضوع جو ہے
13:28یہ مضمون جو ہے
13:29امیر قدرباش صاحب نے شعر میں پیش کیا ہے
13:31ایک پرندہ ابھی اڑان میں ہے
13:32تیر ہر شخص کی کمان میں ہے
13:34اور بھی بہت سے شعر ہیں
13:39ایک اور شعر سنیے جو رومانٹی ہے
13:41حالانکہ ان کی محبت جو ہے
13:42وہ اس طرح جسے زیادہ تر شورہ کے ہی ہاں ملتا ہے
13:46اس طرح سامنے نہیں آتی ہے
13:47یعنی جو عشق کا تصور ہے
13:49وہ اس طرح سامنے نہیں آتا
13:51کہ اس میں بہت زیادہ بہتات کے ساتھ شعر کہے گئے ہیں
13:55لیکن تغذل بہرحال ان کے ہاں برقرار رہتا ہے
13:57اور یہی ان کے خوبی ہے
14:00اسے بیچین کر جاؤں گا میں بھی
14:04اسے بیچین کر جاؤں گا میں بھی
14:06خموشی سے گتر جاؤں گا میں بھی
14:09یہ بہت اچھا شعر ہے
14:10اس حوالے سے کہ تغذل عامی شعر ہے
14:13اور تغذل تو ان کے ہاں دوسرے موضوعات میں ملتا ہے
14:16جس کا ذکر ہم نے اوپر کیا ہے
14:18آپ یہ شعر سنیئے صاحب
14:19جس کرب کا اظہار ہم کر رہے تھے بار بار
14:23کہ وہ کرب کیا ہو سکتا ہے
14:24ان کا آس پاس کا درد بھی ہو سکتا ہے
14:25کہ میرے پڑوس میں ایسے بھی لوگ بستے ہیں
14:29کیا مزے کا شعر ہے
14:31میرے پڑوس میں ایسے بھی لوگ بستے ہیں
14:34جو مجھ میں
14:37دھونڈ رہے ہیں برائیاں آپ
14:40اس صلیقے سے کہا کہ جو نفتہ چینیاں کرتے ہیں
14:42تو اس کا کیا خوبصورت جواب دیا ہے
14:45جو مجھ میں دھونڈتے رہتے ہیں
14:47جو مجھ میں دھونڈ رہے ہیں برائیاں آپ
14:51میرے گھر میں تو کوئی بھی نہیں ہے
14:53یہ آج کا شعر ہے جو یہ خوف ہیں
14:54جو خطشے اور اندیشے ہیں
14:55جو ایک ماحول پوری دنیا میں تیار ہو رہا ہے
14:58اس ماحول میں شعر کتنا سٹیک بیٹھتا ہے
15:01کہ میرے گھر میں تو کوئی بھی نہیں ہے
15:02خدا جانے میں کس سے ڈر رہا ہوں
15:05ایک اندیشہ ایک وسوسہ جو ہے خوف کا ماحول ہے
15:08جس کا ذکر امیر غزرباش صاحب
15:10بڑی خوبصورتی سے کر رہی ہے
15:12ایک شعر اور بڑا مشہور ہوا تھا
15:14ان کا مشاعروں کی نظامت میں بھی لوگ استعمال کرتے تھے
15:17یا کوئی
15:18کسی بھی میدان میں بڑی نمائی شخصت ہوتی تھی
15:21تو اس کو حوالہ بنایا جاتا تھا
15:23کیا مزے کا شعر ہے کہتے ہیں
15:24کہ وہ سرپھری ہوہ تھی سمجھنا پڑا مجھے
15:28وہ سرپھری ہوہ تھی سمجھنا پڑا مجھے
15:31میں آخری چراک تھا جلنا پڑا مجھے
15:35مائے آخری چراک تھا جلنا پڑا مجھے
15:39یہ بھی ایک روشنی دیتا ہے
15:40اجالہ دیتا ہے
15:41زندگی دیتا ہے شعر
15:45एक शायदी का कर्भ बताता हूं जो शायरों का कर्भ है या किसी भी फंकार का स्ब्सायर ही क्यों जुब
15:51होती है उनके संदके का प्रकाल
16:05. . . . . . . .
16:13foreign
16:17foreign
16:18foreign
16:19Yeah, I was a little bit of a car. This is a show. It's a show. It's a show. It's
16:26a show. It's a show. It's a show. It's a show. It's a show.
16:48It's a show. Give me love.
16:59foreign
17:29And then people go to an end of the day, and then they have to go in. So this is
17:32a
17:32self-serveer, which is the name of the law. I'm going to be at home to buy a
17:39house, or can I get to go in there? So I'm going to go in and out, and I'll go
17:43again. This is also a self-serveer. It's a personal experience.
17:48There is a self-serveer, a person, which is an ideal life, which is like a
17:55foreign
18:24our
18:26body
18:26body
18:27body
18:27do
18:28I
18:28do
18:29I
18:30I
18:30I
18:30I
18:30Oh, I can't say that I should be a very good person that I want to get here with
18:35more and more.
18:37Yeah, I need this.
18:41If you've been there, you can't find it.
18:45I'm going to get it.
18:48I'm going to get it.
18:48But I'm going to get it.
18:50I'm going to get it.
18:51And the law comes, which I pay for our eyes.
18:54And I'm going to get it.
18:56We're going to get it.
18:59foreign
19:07foreign
19:08foreign
19:08So this is a way to get into it.
19:38is
19:39a
19:39a
19:39a
19:40a
19:42a
19:43a
19:44a
19:46a
19:51a
19:52It's been a popular. They say that
19:55He can't be a new year
19:59He can't be a new year
20:02He can't be a new year
20:04December, I'll ask you
20:06December, I'll ask you
20:08What's this?
20:10It's a new year
20:11That's how it is
20:12That's how it is
20:13So this type of a lot of
20:16Amir, Agha, Puzzle Bajk
20:18That's how every time we have
20:25Jee.
20:26Jee.
20:28Jee.
20:28Jee.
20:30Jee.
20:35Jee.
20:36menzernamے میں بھی ان کی اہمیت مسلم ہے بلکھل وسیعتر عدبی منzernamے میں
20:43ان کو تسلیم کیا جاتا ہے ان کو الگ الگ طرح سے یاد کیا جاتا ہے ان
20:48کو ان کی توصیف کی گئی ان کا اطراف کیا گیا جدید غزل گوش شائر کے
20:53طور پر مشہور ہوئے شدت احساس کا شائر ان کو کہا گیا ہے اور ان کے
20:57یہاں جو تہداری ہے اور ان کا اپنا اسلوب ہے یہ ان کو ذرا مختلف
21:03کرتا ہے اور ان کے غزلوں کے متعلق سے جس کا میں ذکر کر رہا تھا
21:07بانی کے حوالے صاحب کے سوال کے جواب میں جس کا ذکر ہو رہا تھا کہ
21:12کیا تھا وہ جو ان کا جس کا ان کی شائری پر اثر تھا یا ان کا جو
21:17منظر نامہ تھا ذاتی وہ کیا تھا تو بانی نے لکھا ہے انہوں لکھا
21:22کہ عمیر غزل باش کی غزلوں سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ کوئی آدرش
21:26ہے ان کا کوئی آدرش ہے جس جس کو شدید چوٹ لگی ہے اور وہ خود کو
21:32مکمل ٹوٹنے کے عمل سے بچا رہے ہیں یہ بڑا اہم جملہ ہے بانی
21:37کا اس وقت میں نے اشارہ دیا تھا وہ اصل جملہ یہ ہے کہ کوئی
21:41ایک آدرش ہے جس کو چوٹ لگی ہے اور یہی درد اور قرب تھا جس کا
21:44اظہار ان کی پوری شائری میں ملتا ہے تو یہ سب چیزیں ہیں انہوں نے
21:49شیر بھی کہا انہوں نے اب اپنی ہی دہلیز پہ چپچاپ کھڑا ہوں اب
21:53اپنی ہی دہلیز پہ چپچاپ کھڑا ہوں صدیوں کا عقیدہ ہوں مگر ٹوٹ چکا
21:58ہوں صدیوں کا عقیدہ ہوں مگر ٹوٹ چکا ہوں میں نے خود تصادمی ان کے
22:04ہاں بہت ملتی ہے یعنی ایک ٹکراؤں ملتا ہے اور یہ کئی سطح پر
22:07پھیلتا ہے دو شیر مجھے یاد آگئے کہ وہ وہ اپنے سائے سے وہ اپنے
22:13سامنے خود ہی کھڑا تھا وہ اپنے سامنے خود ہی کھڑا تھا یہ منظر دور
22:19تک پھیلا ہوا تھا اور دوسر شیرے وہ اپنے ہی سائے سے ٹکرا گیا رہا پھر یہی
22:25سلسلہ دور تک تو یہ خود تصادمی خود سے ٹکرانے کا عمل یا آدھرش
22:30ٹوٹنے کا سلسلہ جو ہے یہ امیر غزل باش کی پہچان ہے اور وہ کلاسی کی
22:35بنیادوں پر کھڑا ہوا ایک جدید غزل کا خوبصورت ایک منظر نامہ ہے
22:41خوبصورت عمارت ہے امیر غزل باش صاحب کی شائر ہے جی تو خوبصورت تنتاز میں
22:47آپ نے امیر آگا غزل باش کی زندگی ان کی شائری ان کے اسلوب کو بیان
22:53کیا شاداب صاحب ہم آپ کے تہے دل سے شکر گزار ہیں کہ اپنے اتنے
22:58گہرے اور احساس اور فکری وقار کے شائر پر ایک بامانی گفتگو کی جو
23:04یقینا ہمارے ناظرین کے لیے عدبی شعور کو غصہ دینے والی رہی ناظرین
23:09اگر آپ کو عدب نامہ کی یہ قص پسند آئی ہو تو ویڈیو کو لائک کیجئے
23:14چینل کو سبسکرائب کیجئے اور بیل آئیکن کو ضرور دبائیے تاکہ عدب
23:19نامہ کی ہر نئی نششت آپ تک بروقت پہنچتی رہے اپنے تاثرات
23:24کمنٹ میں ضرور درج کیجئے آپ کی رائے ہی ہماری رہنمائی ہے اگلی
23:29نششت میں کسی اور شائر کی زندگی شائری اور اسلوب پر گفتگو کے ساتھ
23:35پھر حاضر ہوں گے اپنا خیال رکھیے گا پھر ملاقات ہوگی
Comments