Skip to playerSkip to main content
علی سردار جعفری | ترقی پسند تحریک کے عہد ساز شاعر | Adab Nama Ep 15 | Ali Sardar Jafri
اردو شاعری کے درخشاں نام علی سردار جعفری پر ادب نامہ کی خصوصی نشست پیشِ خدمت ہے۔
Ali Sardar Jafri — a towering figure of the Progressive Writers’ Movement — is the focus of this special episode of Adab Nama.
اس نشست میں معین شاداب گفتگو کرتے ہیں علی سردار جعفری کی شاعری، ان کی نظریاتی وابستگی، امن اور انسانیت کے پیغام، اور اس تاریخی واقعے پر جب ان کی نظموں کا البم “سرحد” سفارتی سطح پر پیش کیا گیا۔
In this episode, Moein Shadab explores Jafri’s poetry, his ideological commitment, his message of peace and humanity, and the remarkable historical moment when his poetry album “Sarhad” was presented at a diplomatic level.
انقلابی فکر، مزاحمتی شاعری اور امید کی آواز —
یہ نشست نہ صرف ادبی بلکہ فکری اعتبار سے بھی اہم ہے۔
A conversation on revolutionary thought, resistance poetry, and the enduring voice of hope.
📌 ادب نامہ کی تمام اقساط یہاں دیکھیں:
https://www.youtube.com/playlist?list=PLJElCyBGdQcnaMNzXtjF-azrZvGIE48nb
🔔 چینل کو سبسکرائب کیجیے اور بیل آئیکن دبانا نہ بھولیے تاکہ ادب نامہ کی ہر نئی نشست آپ تک بروقت پہنچتی رہے۔
Subscribe to the channel and turn on notifications to stay updated with every new episode of Adab Nama.

#adabnama #AliSardarJafri #MoeinShadab

Category

People
Transcript
00:06ایراند نوجیون اور قومی آواز کے مشترکہ عدبی پروگرام عدب نامہ میں آپ کا تہہ دل سے استخبال ہے
00:13میں ہوں عمران ایم خان اور آج کی نششت میں ہم اردو شاعری کے اس بڑے نام پر گفتگو کریں
00:20گے
00:21جنہوں نے لفظ کو مضامت کی توانائی بکشی اور نظم کو اجتماعی شعور کی آواز بنایا
00:27میں جہاں تم کو بلاتا ہوں وہاں تک آؤ میری نظروں سے گزر کر دلو جہاں تک آؤ
00:34لوگ و صدیوں کے جہنم کی حدے ختم ہوئی اب ہے فردوس ہی فردوس جہاں تک آؤ
00:42جی ہاں ہم بات کر رہے ہیں ترقی پسند تحریک کے درخشان ستون
00:46امن انسان دوستی اور انقلابی فکر کے نمائندہ شاعر علی سردار جعفری کی
00:53اور آج کی اس نششت میں بھی ہمیشہ کی طرح ہمارے ساتھ موجود ہیں
00:58وہ شخصیت جو شاعری کو محض روایت کے طور پر نہیں بلکہ زندہ فکری عمل کے طور پر دیکھتی ہے
01:05اردو عدب کے باریک بن قاری نازم مشاعرہ کی حیثیت سے منفرد پہچان رکھنے والے
01:12اور برے سغیر کی شاعری روایت کے گہرے شناسہ
01:15مہین شاداب شاداب صاحب عدب نامہ میں آپ کا خیر مقدم ہے
01:22شاداب صاحب بہت شکریہ بھائی
01:23یہ بتائیے کہ علی سردار جعفری کی شخصیت اور شاعری کو آپ کس زاویے سے دیکھتے ہیں
01:30کیا وہ محض ترقی پسند شاعر تھے یا اس سے آگے بھی کچھ اور تھے
01:36بہت شکریہ عمران صاحب
01:39سوال بڑا دلچسپ ہے
01:41اور اس سوال کا جواب دینے سے پہلے ہمیں علی سردار جعفری کی جو ہما جاتی ہے
01:47اس کو دیکھنا ہوگا
01:49جس سے ان کی جو مختلف جہتے ہیں ان کی شخصیت کی مختلف پہلوں ہیں
01:54اس سے آگاہ ہونے کا موقع ملے گا
01:56اور تب ہی ہم یہ فیصلہ کر سکیں گے کہ کیا وہ صرف ایک ترقی پسند شاعر تھے
02:02یا ایک ترقی پسند شاعر کے علاوہ بھی جس طرح آپ نے سوال کیا
02:06کہ اس سے آگے بھی کچھ تھے
02:10تو ایک صحیح انسان تھے
02:12علی سردار جعفری کہا جاتا کہ جب ان کی عمر آٹھ سال تھی
02:16تو میر انیس کے مرسیوں کے ایک ہزار شیر ان کو اذبر تھے
02:21آٹھ سال کی عمر میں
02:24اور دوسری بات یہ کہ شاعری سے پہلے انہوں نے افسانے لکھے
02:29افسانوں سے انہوں نے اپنی عدبی زندگی کا آغاز کیا
02:33ترجمے کی انہوں نے مثلا شیکسپیر کو بہت ترجمہ کیا
02:37شیکسپیر کی تحریروں کو روشناس کرایا
02:40ہندوستان کے لوگوں سے ہندوستانی قارعین سے
02:43اردو والوں سے
02:46اس کے علاوہ وہ ایک
02:49میکزین شایع ہوتا تھا
02:50اس کے مدیر تھے
02:52اس کا نام تھا نئے عدب
02:53تو نئے عدب کے آپ مدیر رہے
02:56تیسری بات یہ ہے کہ انہوں نے ایک طرح سے غالب
03:00میر کبیر اور میرا
03:03تو ٹھیک ہے غالب کو اب اگر ہم الک کر دیں تو اس میں جو
03:06اس میں جو یا میر کو الک کر دیں اس میں جو کبیر اور میرا کو آپ دیکھ رہے ہیں
03:12یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ محض ایک
03:16نظریاتی شاعر نہیں تھے بلکہ وہ ایک تہذیبی مفقر تھے
03:20اور یہ ان کی جو فکر کی جڑے ہیں وہ ہندوستانیت میں گہرائی تک پیوست تھیں
03:26جب ہم کبیر کا ذکر کرتے ہیں جب ہم میرا کے بات کرتے ہیں
03:30تو اس لیے ان کے شراغ جو ہے محض ایک شاعر کی نہیں
03:33اور شاعری میں بھی محض ایک طرح کی پسر شاعر کی نہیں ہے
03:38بلکہ وہ اپنی ہندوستانی تہذیب اور کلاسی کی ہمارے جو نظریات ہیں
03:45اور اس میں خاص طرح سے انسان دوستی کا انصر ان کے ہاں غالب ہے
03:50اس کا گہرہ شعور ان کے شاعری میں ان کے شخصیت میں ملتا ہے
03:54اس لیے ان کو ہم ایک طرح کی پسر شاعر سے بڑھ کر دیتے ہیں
03:58جس کا دائرہ بڑا وسیع ہے
04:01اور یہی وجہ ہے کہ بہت سے ناقیدین نے
04:04جس میں ڈاکٹر محمد حسن صاحب بڑا نام لے
04:07اردو تنقید کا
04:09پروفیسر گوبیچن نارنگ
04:10تو انہوں نے اس بات کی نشاندہ ہی کی ہے
04:13اپنے یہاں اس بات کے طرح اشارہ دیا ہے
04:14اور اس بات کے ثبوت پیش کی ہیں
04:16کہ سردار جعفری کے یہاں
04:19ایک نظریاتی وابستگی
04:21جب ہم نظریاتی وابستگی کی بات کرتے ہیں
04:24تو ہم یاد کرتے ہیں کہ وہ
04:27انڈین
04:28کمنیس پارٹی آف انڈیا
04:31ہندوستانی کمنیس پارٹی سے وہ وابستہ تھے
04:33ٹریڈ یونینوں سے وہ وابستہ رہے
04:35اور تلقی پسند عدب
04:38جو ایک شاخ تھی اس وقت کے جو کمنیس تھا
04:42جو کمنیس لوگ تھے
04:43اس کے ایک بڑے سرگرم
04:45ایک صرف رکر نہیں بلکہ ایک ستون تھے
04:49تو جب ہم یہ نظریاتی وابستگی کی بات کر رہے ہیں
04:51جیسے میں نے کہا تھا کہ وہ صرف
04:54محمد حسن صاحب کے حوالے سے
04:56یا گوبیچن نارنگ کیا
04:57یا آپ بھی اور ہم بھی دیکھ سکتے ہیں بہت آسانی کے ساتھ
05:00تو اس نظریاتی وابستگی کے باوجود
05:03ان کی جو کلاسی کی شیری روایت سے جڑاؤ ہے
05:08اور جو جمالیاتی ان کے ہاں ایک ماحول ہے
05:12تو اس کا ایک خوبصورت امتزاج ملتا ہے
05:15یہ ان کی خوبی تھی
05:16کہ نظریاتی وابستگی کے باوجود
05:19ہندوستان ہندوستان کی مٹی
05:20ہماری تحصیب اور تاریخ
05:23اور اس میں رومانس بھی شامل تھا
05:24رومانس کے وغیرہ تو کچھ ہوتا نہیں ہے
05:26یہ ایک رومان ہے
05:27تو یہ اس سب کا ایک بڑا مربوط
05:30ایک فکری نظام لے کر
05:31علی صدی اللہ علیہ وسلم جاپری ہمارے سامنے آتے ہیں
05:33ان کا ثبوت میں یہ بھی کہہ کر دے سکتا ہوں
05:37کہ نئی دنیا کو سلام جو ان کی کتاب ہے
05:39یا خون کی لکیر ہے
05:40یہ امن کا ستارہ ہے
05:41وہ اس بات کا ثبوت ہے
05:43کہ وہ صرف ایک سیاسی شاعر نہیں تھے
05:47ایک نظریاتی شاعر نہیں تھے
05:48بلکہ ایک تہذیبی وزن
05:50ایک تہذیبی نظریہ رکھنے والے شاعر تھے
05:52یہ ان کے خوبی تھی
05:54جی ترقی پسند تحریک کے ہی تناظروں میں بات کرتے ہیں
05:57اس تحریک میں ان کا کردار کتنا موثر اور فیصلہ کن تھا
06:02کیا ان کی شاعری نظریاتی وابستگی کے باوجود
06:05فنی سطح پر بھی مضبوط دکھائی دیتی ہے
06:10بلکہ وہ ترقی پسند تحریک کے بنیاد گزاروں میں شامل تھے
06:13جس کا ذکرہ بھی ہو رہا ہے
06:14جو سوال آپ نے اٹھایا ہے
06:17جو سیاسی نظریات تھے
06:19اس کے ساتھ ساتھ جو ترقی پسند عدد تھا
06:21ترقی پسند ایک تحریک تھی باقیت ہے
06:23ایک بڑی مضبوط تحریک تھی
06:24اور بڑا اہم کردار ہے اس کا شروع دب کے
06:28فروغ میں اور ایک نیا شریع رویہ
06:31وہاں متعارف کرانے میں
06:32تو اس کے ایک ساتون تھے
06:34اور ترقی پسند تحریک کی جو ایک انجمن تھی
06:36انجمن ترقی پسند مسننفین
06:38جو پروگریسیو رائٹرز اسوسییشن تھی
06:41پرگریسیو شیل لیکھا گو کا ایک منج تھا
06:44اس سے وہ عملی طور پر وابستہ رہے
06:46یعنی پیکٹیکلی اس میں شامل تھے
06:47صرف نظریاتی طور پر نہیں
06:49بلکہ اس کے جو نظریات تھے
06:51اس کے فروغ میں بھی
06:52علی سردار جعفری ایک اہم کردار
06:54ادا کر رہے تھے
06:561930 سے 1940 تک کا زمانہ
06:59جب ترقی پسند تحریک اپنے پورے
07:01اروج پر تھی
07:02تو علی سردار جعفری نے
07:04نہ صرف شائری کی
07:06جو ترقی پسند رجحان کو لے کر
07:08صاحب نے آ رہی تھی
07:09بلکہ انہوں نے
07:11اس زمانے میں عدبی تنقید بھی کی
07:13اور ایک عدبی تنظیم سازی کے ذریعے
07:16اس تحریک کو مضبوط کیا
07:19جو ایک طرف ترقی پسند تحریک تھی
07:20اور ان کے معاصلین سے آپ اندازہ کر سکتے ہیں
07:23ان کے معاصلین میں جو ان کے کنٹمپریری
07:25کوئیٹس تھے
07:26اس میں فیض احمد فیض تھے
07:27ساحل لدھیانوی تھے
07:29یہ بڑے نام تھے
07:31جن کے ساتھ علی سردار جعفری
07:33مل کر کام کر رہے تھے
07:35اور عدب کو سماجی تبدیلی کا
07:38ذریعہ بنانے کی کوشش کر رہے تھے
07:40پھر وہی بات آئے گی جس کا ذکرہ بھی
07:42ہم نے پچھلے سوال کے جواب بکیا کہ
07:44نظریاتی بابستگی
07:46کہیں ایک نظریاتی تو پر
07:48کہیں سے منسلک ہونے کے باوجود
07:50ان کی شاعری کبھی
07:52نعرہ نہیں بنی صرف نعرہ نہیں بنی
07:54علیہ السردار جعفری کے شاعری
07:55بلکہ اس میں فنی حسن تھا
07:58اس میں عرامتیں تھیں گہری عرامتیں
08:00تھیں اس میں اشارے تھے
08:02اس میں کنائے تھے
08:04اور یہ تمام چیزیں جب ہم
08:06انسانی مسائل کی بات کرتے ہیں
08:08تو فن کہیں پیچھے چلا جاتا ہے
08:10اور جو فنی
08:13اوصاف ہیں وہ غیب
08:14ہو جاتے ہیں انسان سیدھی سیدھی بات کرتا ہے
08:17شاعری نعرے میں
08:18تبدیل ہو جاتی ہے اخبار کی سرخی بن جاتی ہے
08:21لیکن اگر فنی
08:22حسن کا خیال لکھا جائے جو
08:24فن کے تقاضے ہیں ان کو ساتھ لے کر چلا جائے
08:26تو پھر ایک شیری توازن
08:29برخرا رہتا ہے
08:30تو ان کی نظموں میں ایک بیانی
08:33قوت ملتی ہے جہاں ان کا
08:34ایک تہذیب شعور جو ہے وہ نمائی طور پر
08:36ہمارے سامنے آتا ہے
08:39جی بہت ہی خوبصورت
08:41توازن کی آپ نے بات کی
08:42علی سردار جعفری کی نظموں میں
08:45جو عالمی امن انسان دوستی
08:47اور مضامت کا تصور ملتا ہے
08:49کیا وہ آج کے اہد میں بھی
08:51اسی شدت سے معنویت رکھتا ہے
08:54بلکل
08:55آج تو بہت زیادہ ضرورت ہے آج جو
08:57سیاسی منظر ناما ہے پوری دنیا کا
09:00اور ہر طرف آپ دیکھتے ہیں کہ ایک
09:02ٹکراؤ ہے ایک تصادم ہے
09:05اور ایک نئی طرح کی جنگ جو ہے وہ پوری دنیا پر
09:09مسلط کی جانے کی کوشش کی جا رہی ہے
09:10کچھ لوگوں کو تو تیسری عالمی جنگ کا خطرہ بھی
09:14محسوس ہو رہا ہے کہ شاید یہ جو
09:16علاقوں میں اور خطوں میں تصادم ہو رہا ہے
09:19خوریزی ہو رہی ہے کہیں
09:21ایک تیسری عالمی جنگ میں تبدیل نہ ہو جائے
09:23تو ایسے میں علی سردار جعفری بہت ریلیونٹ ہو جاتے ہیں
09:28ان کی شاعری پڑھ کر اس جو ایک چیلنج ہے زمانے کا
09:33اس کو نمٹا جا سکتا ہے
09:36اس سے اس کا مقابلہ کیا جا سکتا ہے
09:38اور علی سردار جعفری کا ہمیشہ جو مرکزی موضوع رہا ہے
09:41وہ عالمی امن رہا ہے
09:44انسان کی آزادی رہا ہے
09:46خطوں سے معورہ ہو کر
09:47ملکوں سے معورہ ہو کر
09:49پوری دنیا کو پورا جو ایک قرعہ عرض ہے
09:52اس میں وہ امن کی بات کرتے ہیں
09:55اس میں ایک سکون کی بات کرتے ہیں
09:58کہ انسان انسانیت کے ساتھ زندہ رہ سکے
10:00اور ایک دوسرے کے حقوق کا خیال لگ سکے
10:02ایک دوسرے کی جو حق ہے
10:05ان کی پامالی نہیں ہونی چاہیے
10:08عالمی امن کی جہاں تک بات ہے
10:10ان کی جو نظم ہے امن کا ستارہ
10:12وہ دراصل جنگ کے خلاف ایک عدبی احتجاج ہے
10:16اب یہاں عدبی پر میرا زور ہے
10:18کہ عدبی احتجاج
10:19احتجاج تو ظاہر ہے کہ وہ ترقی پسندوں سے
10:22میں شامل تھے
10:23کمنس پارٹی سے مابستہ تھے
10:25لیکن ان کا احتجاج ایک عدب کی شکل بھی لے لیتا ہے
10:29کہ عدب میں کس طرح سے
10:31جو موجودہ صورتحال ہے
10:32جو ہمارے چیلنجز ہیں
10:34جو ہمارے سامنے مسائل ہیں
10:36ان کا کس طرح سے مقابلہ کیا جا سکتا ہے
10:38تو انہوں نے عالمی سطح پر امن کی بات کی
10:41انسانیت کے حق کی آواز بلند کی
10:43اور یہ موضوعات آج کے دور میں
10:46اور زیادہ اہم ہو گئے ہیں
10:48کیونکہ آج بھی جس طرح میں نے اپنے جواب کا آغاز کیا تھا
10:51کہ ہماری جو دنیا ہے
10:52وہ جنگ جنگ سے
10:54کا شکار کر رہی ہے
10:56تاثب ہے سماجی ادم مسائلات ہے
10:58تو یہ مسائل پوری دنیا کے مسائل
11:00بن گئے ہیں اس گلوبل ویلیج میں
11:02ہر طرف ایک سے مسائل ہیں
11:04تو یہ
11:05اس موجودہ اہد میں سردار جاپلی کی
11:08شائری انسان کو
11:10مرکز میں رکھنے والی شائری
11:11وہ ہمیں کسی بھی قسم کے ظلم کے خلاف
11:16مضاحمت کے لیے آمادہ کرتی ہے
11:19مضاحمت کے ہم کو طاقت دیتی ہے
11:21ہمت دیتی ہے
11:21اور ناقیدین نے اس بات پر زور دیا ہے
11:25اکثر ناقیدین نے جب ان پر بات کی ہے
11:27ان پر مضامین لکھے ہیں
11:29ان پر مفتگو کی ہے
11:30تو انہوں نے کہا ہے کہ
11:31علی سردار جاپلی کی شائری
11:33وقتی سیاست سے بلند ہو کر
11:36یہ دیکھیں آپ کا سوال کا جواب چھوٹے جنگلے
11:38کہ وقتی سیاست سے بلند ہو کر
11:41انسانی تاریخ اور تہذیب کا حصہ ہے
11:43علی سردار جاپلی کی شائری
11:44تو وہ شائری جو وقت سے ماورہ ہے
11:47جو کسی وقت کی قید میں نہیں ہے
11:49جو کسی علاقی کی قید میں نہیں ہے
11:51تو وہ آج بھی ہمارے لیے
11:54اتنی عام ہے جتنی اس زمانے میں ہے
11:56جو زمانے میں علی سردار جاپلی
11:58اس وقت کے مسائل کے خلاف لڑ رہے تھے
12:01جی
12:01علی سردار جاپلی کی زندگی پر بات کرتے ہیں
12:04ان کی زندگی سے جڑا
12:06کوئی ایسا واقعہ جو ان کی
12:08جرعت نظریاتی وابستگی
12:10یا عدبی وقار کو نمائع کرتا ہو
12:12کیا آپ ہمارے ناظرین سے شیئر
12:14کرنا چاہیں گے
12:16اب اس سے واقعہ تھے لیکن بعد جب
12:17اس کی چل رہی ہے جو اس وقت کے فضاء
12:20تھی تو انیس سو چالیس کے دہائی میں
12:22جب برطانوی حکومت نے طرف
12:23پسند تحریک کو کچلنے کی کوشش
12:27اور جو طرف کے پسند
12:28عدب لکھا جا رہا تھا
12:29جو طرف کے پسند تحریک کے چل رہی تھی
12:31جو اتجاج ہو رہا تھا جل سے جلوس ہو رہے تھے
12:34اس کو کچلنے کی کوشش
12:36اس لیے کی کہ ان کے لئے بہت بڑا خطرہ
12:38بن کر سامنے آ رہا تھا یہ رجحان
12:41تو یہ تحریک
12:42کو کچلنے میں
12:44اس حد تک جو ہے برطانی حکومت چلی جاتی ہے
12:46کہ کچھ عدیبوں گرفتار کیا جاتا ہے
12:49علی سردار جعفی کو بھی
12:50جیل بھی دیا جاتا ہے
12:52اور انہیں
12:54صعوبت سے گزارا جاتا ہے جیل میں رکھا جاتا ہے
12:56وہ قیدوبند سے گزرتے ہیں
12:58لیکن وہ جو برطانی استعمار تھا
13:01اس کے خلاف جو ان کی عدمی مضاہمت تھی
13:04جس کی وجہ سے گرفتار کیے گئے تھے
13:05انہوں نے اس کو جیل میں جا کر بھی ختم نہیں کیا
13:10کیونکہ عدبی مضاہمت کار تھے
13:11تو انہوں نے وہاں پر
13:12اپنی یہ شاعری جاری رکھی
13:14اور جیل میں لکھے گئے
13:16کیونکہ بہت سے شاعری ہے
13:16جو ہمارا منیفیسٹو بن جاتا ہے
13:18جو اتجاز کی لے بن جاتی ہے
13:20اتجاز کا ایجنڈا بن جاتا ہے
13:22وہ شاعری انہیں جیل میں رہ کر دی
13:24اور ان کی خودنوشت ہے
13:26اس میں انہوں نے لکھا ہے
13:27کہ انہوں نے کبھی
13:28کسی قسم کا کبھی
13:30کوئی سمجھوتا کرنے کی کوشش
13:33اختدار کے ساتھ نہیں کی
13:34بلکہ عدب کو ہمیشہ سماجی انصاف
13:38اور انسانیت کے لیے کی جانے والی جد و جہد کا
13:40ذریعہ بنائے رکھا
13:42ایک اور چیز واقعات کا ذکر ہے
13:44تو میں عرض کر دوں کہ
13:45جس طرح ذکر ہوا
13:46کہ عالمی امن کی وہ بات کرتے تھے
13:49امن ان کا بنیادی پہلو تھا
13:51بنیادی نقطہ تھا ان کا
13:53تو جب
13:55اٹل بیہاری واجپئی صاحب
13:57پاکستان گئے تھے جب وہاں کچھ کوشش
13:59چلی تھی پاکستان کے ساتھ
14:00رشتے بہتر ہو جائے
14:02غالباً انیس سنی نیانوے کا زمانہ تھا
14:04اور تو وہ یہاں سے
14:06علی سردار جعفری کی نظموں کا ایک
14:08album لے کر گئے تھے
14:10علی سردار جعفری کے ان نظمیں جو
14:12امن کی بات کرتی ہیں جو انسانیت کی بات کرتے ہیں
14:14اور اس کا نام سرحت تھا
14:17اب یہ سرحت کا جو
14:19موضوع ایک طرح کا
14:20ٹوپک
14:22نہ کہا جائے
14:23جو ٹائٹل تھا اس album کا
14:26تو اس وقت چونکہ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان
14:28ہمیشہ سردی طرازیات رہی
14:30اور یہ جاری ہے جو
14:33دونوں کے درمیان ایک قسم کا
14:35یہ سمجھ لیجئے کہ اختلاف
14:37ہے ایک اس چیزوں کو لے کر
14:38تو سرحت album جس میں علی سردار
14:41جعفری کی نظمیں تھی
14:42وہ اٹل بیہاری واجپائی صاحب نے
14:44اپنے پاکستانی ہم منصب
14:46نواز شریف کو اس پر پیش کیا تھا
14:48اس کے علاوہ ایک نظم بھی تھی
14:50جو ایک مقالمہ تھا علی سردار جعفری
14:52نے نظم کہی تھی
14:54اور احمد فراز صاحب
14:56نے اس کا جواب دیا تھا
14:57تو وہاں سے محبتوں کا اور امن کا
15:00ایک نیا پیغام پہنچا تھا خاص طور سے
15:02ہندوستان اور پاکستان کی دوستی کی حوالے سے
15:05یہ بڑا اہم واقعہ ہے
15:06کیونکہ وہ نظموں کا album
15:08جو ہے انہیں پیش کیا جاتا ہے
15:09اس واقعی کی طرح جیلے میں انہوں نے
15:12طرف پسند عدب لکھنا جاری رکھا
15:15اسی طرح انہوں نے امن کی کوششیں بھی
15:17ہمیشہ آخری دم تک جاری رکھی
15:20جی شاہداب صاحب
15:22اب ہم آپ سے درخواست کریں گے
15:24کہ آپ ہمارے ناظرین کی
15:25دلچسپی کے لیے علی سردار جعفری
15:28کے چند منتخب اشار پڑھ کر سنائیں
15:32بہت اچھی ان کے اشار ہیں
15:34خاطر سے ظاہر ہے کہ اس میں جو نظمیں ہیں ان کی
15:36اور آپ نے جو اشار پڑھے ابتدا میں
15:39اس سے اندازہ کیا جا سکتا ہے ان کی
15:42اس شائری کا
15:43اس سخن کا
15:45اس کلام کا جو بڑا مؤثر ہے
15:47جہاں فن بھی ہے
15:49جہاں تہذیب بھی ہے
15:50جہاں اتجاج بھی ہے
15:51اور جہاں پر جو فنی تقاضے ہیں
15:55جو فن کا حسن ہے
15:56جو تہذیب ہے وہ اس کو برقرار رکھا ہے
15:59اب دیکھیں شیر مطلع ان کا بڑا
16:01کوٹ کیا جاتا ہے
16:02لکھتے ہیں کہ کام اب کوئی نہ آئے گا
16:05بس ایک دل کے سوا
16:08کام اب کوئی نہ آئے گا
16:11بس ایک دل کے سوا
16:13راستے بند ہیں سب کو جہاں قاتل کے سوا
16:17اس شیر کا دوسرا مصر اکثر
16:19اس کو لوگ جو ہے حوالہ بنا جاتے ہیں
16:21اب یہاں دیکھیں کام جو آرہا ہے
16:23صرف دل آرہا ہے
16:25اب یہ دل کی جو مانویت ہے
16:28دل کی جو خوبیاں ہیں
16:29کہ دل محض جذبات لے کر ساتھ نہیں آتا
16:32دل میں صرف
16:33اپنے ساتھی احساسات نہیں ہوتے
16:35بلکہ دل رہنمائی بھی کر سکتا ہے
16:38اپنے دل کی بات
16:40اپنے دل کی بات کو سننا
16:42تو وہ دیکھئے جب سب راستے بند ہو گئے
16:45پوچھے قاتل کے علاوہ کوئی راستہ کلاوہ نہیں ہے
16:47وہاں پر انجام جو ہے
16:49وہ بہت بریب ہے
16:50تو وہاں بات کر رہے ہیں
16:51کہ کام اب کوئی نہ آئے گا
16:53بس ایک دل کے سوا
16:53اپنے دل کی بات سنی جائے
16:55اور دل ان کا ظاہر ہے
16:56کہ بڑا شفاف تھا
16:58پاک تھا
16:59تو یہ شیر ان کا بہت بڑا
17:01مقبول ہے
17:02ایک اور شیر ہے
17:03شکایتیں بھی بہت ہیں
17:05حکایتیں بھی بہت
17:08شکایتیں بھی بہت ہیں
17:11حکایتیں بھی بہت
17:12مزا تو جب ہے
17:13کہ یاروں کے رو برو کہیے
17:16اب یہ جو لطف ہے
17:17کہ اگر آپ کچھ شکایتیں ہیں
17:19آپ کی کچھ بسے ہیں
17:20کچھ آپ کہنا چاہتے ہیں
17:21تو آپ رو برو کہیے نا
17:24اس کو غیر موجودگی میں کہہ کر
17:26آپ کے دل کا بوجھ ہلکا نہیں ہوگا
17:28بلکہ آپ اگر رو برو ہوں گے
17:30تو یہ بھی ایک قسم کا
17:32عمران صاحب اتجاج ہے
17:35ایک بڑا شائستہ اتجاج ہے
17:36کہ آپ سامنے کہی وہ بات
17:38اگر کوئی شکایت ہے
17:38کوئی شکوا ہے
17:40کچھ آپ کہنا چاہتے ہیں
17:41شکایتی بھی بہت ہیں
17:43حکایتیں بھی بہت
17:44مزا تو جب ہے
17:46کہ یاروں کے رو برو کہیے
17:50اور آوارگی پر
17:51ان کا بڑا مشہور شہر
17:52آوارگی کے بغیر
17:53تو کوئی کام ہوتا نہیں
17:53کہا جاتا کہ
17:54رائٹرز کے لیے
17:55عدیبوں کے لیے
17:56صحافیوں کے لیے
17:57آوارگی وہ ضروری ہے
17:58اس لئے تمام لوگوں نے
18:00سفر کیے
18:01سفرنامی لکھے
18:02تو وہ آوارگی ہی ہے
18:03قسم کی
18:04جو بڑی مضبط معنی میں ہے
18:06وہ کہتے ہیں
18:06کہ سو ملی زندگی سے
18:08سو غاتیں
18:10سو ملی
18:12زندگی سے
18:13سو غاتیں
18:13ہم کو آوارگی ہی راست آئی
18:16تو اس آوارگی میں
18:17پورا قصہ سمٹ گیا ہے
18:19پوری داستان آگئی ہے
18:20ان کے ذہن کی
18:22ان کے فکر کی
18:22ان کے عمل کی
18:23ان کے نظریات کی
18:24کہ ہم کو
18:25بہت سی چیزیں ملی زندگی میں
18:27چھلے گئے
18:27آوارگی ہی ہم کو راست آئی
18:29سو ملی زندگی سے
18:31سو غاتیں
18:31ہم کو آوارگی ہی
18:33راست آئی
18:35بڑا دلچفش ہے
18:36جو
18:37مذہبی لوگوں سے
18:38چھلے چھاڑ ملتی ہے
18:40ہمارے قائدین سے
18:41چھلے چھاڑ ملتی ہے
18:41وہ بھی ان کی
18:42ہمیں بتایا
18:42کہتے ہیں کہ
18:43اسی دنیا میں دکھا دیں
18:44تمہیں جنت کی بہار
18:47اسی دنیا میں دکھا دیں
18:49تمہیں جنت کی بہار
18:51شیخ جی
18:52تم بھی ذرا
18:53کوئے بطا تک آؤ
18:56شیخ جی
18:57تم بھی ذرا
18:57کوئے بطا تک آؤ
18:58اسی دنیا میں دکھا دیں
19:00تمہیں جنت کی بہار
19:01شیخ جی
19:02تم بھی ذرا
19:02کوئے بطا تک آؤ
19:04یہ حسن کی تعریف ہے
19:06ایک عشق کا
19:07قصہ ہے
19:08عشق کی خوبی ہے
19:09وہ رومانز جو
19:10شائری کو بھی
19:11اگر کرتا ہے
19:12وہ رومانز کتنے ضروری ہے
19:13انسانی زندگی میں
19:14وہ شیخ جی کو
19:14نصیحت کر رہے ہیں
19:16مقتل شوق کے
19:18آداب نرانے ہیں بہت
19:19یہ مقتل دیکھے کے
19:21ایک لفظ ہے
19:22قلیدی طرح سے مقتل
19:23جس جس
19:24جس طرح کے حراف سے
19:25وہ نبردازمہ تھے
19:26وہاں مقتل کا
19:27کتنا سکھ رو رہا ہے
19:29مقتل شوق کے
19:30آداب نرانے ہیں بہت
19:32دل بھی قاتل
19:34کو دیا کرتے ہیں
19:35سر سے پہلے
19:36یہاں بھی
19:37وہی رومانز ہے
19:38ایک طرح کا
19:38جو اتجاج کے ساتھ
19:40رومانی فضا
19:40ان کے ہاں ملتی ہے
19:41اس
19:43رجحان کی دلیل ہے
19:44یہ شیر
19:45مقتل شوق کے آداب
19:47نرانے ہیں بہت
19:48دل بھی قاتل
19:53اب دیکھیں انقلاب
19:54کے لیے انہوں جو کچھ کیا
19:55جو ایک توانائی دی
19:57ایک ہمت دی
19:58استقلال دیا
19:58وہاں اپنے پڑھے والوں کو
20:00اپنے لوگوں کو
20:03بہت برباد ہیں
20:04لیکن صدائے انقلاب آئے
20:08بہت برباد ہیں
20:11لیکن صدائے انقلاب آئے
20:13وہی سے وہ پکار اٹھے گا
20:15جو ذرہ جہاں ہوا
20:18کتنی بھی پریشانی میں ہیں
20:19کتنی بھی مصیبت میں ہیں
20:21کتنے بھی ہم نہ آئے لے
20:22لیکن اگر صدائے انقلاب بلند ہوتی ہے
20:24تو جو جہاں ہیں
20:25وہی سے پکار اٹھے گا
20:27وہی سے لبیک کہے گا
20:28ان صداؤں پر
20:29بہت برباد ہے
20:30لیکن صدائے انقلاب آئے
20:32وہی سے وہ پکار اٹھے گا
20:34جو ذرہ جہاں ہوگا
20:35پھوٹنے والی ہے
20:36مزدور کے ماتے سے کرن
20:39سرخ پرچم
20:40افقِ سرخ پر لہراتے ہیں
20:42ابھی سرخ پرچم دیکھیں
20:44دیکھیں وہی لال سلام
20:45جس کی طرح بشارہ ہوا
20:46جو کم نظم تھا
20:47جو ایک طرف کی پسندی تھی
20:49اس کی جانی بھی شارہ کر رہے ہیں
20:50اور اس پر بڑے ایک طرح سے
20:52فرمید ہیں
20:53کہ ایک طرح ایک طرح سے
20:54تحریک رنگ لائے
20:56پھوٹنے والی ہے
20:56مزدور کے ماتے سے کرن
20:57سرخ پرچم
20:59افقِ سرخ سے
21:01لہراتے ہیں
21:01اب ایک شہر سلیس آم
21:03جو عام آج کے
21:04لوگ نوجوان بھی استعمال کرتے ہیں
21:06اور جب نئے سال کا
21:08موقع آتا
21:08تو ہم لوگ پھونٹے ہیں
21:09کچھ اشار
21:09کہ ہم حضرت شہر ہے
21:11جعفری صاحب کا
21:12کہتے ہیں کہ
21:13یہ کس نے
21:13فون پہ دی
21:14سالے نو کی
21:15تہنیت مجھ کو
21:17یہ کس نے دی
21:18یہ کس نے
21:19فون پہ دی
21:20سالے نو کی
21:21تہنیت مجھ کو
21:22کمنہ رخص کرتی ہے
21:23تخجر بن بناتا ہے
21:26یہ شہر نئے سال کی
21:27مبارک بار
21:28دینے کے لیے جو اشار ہیں
21:29مفصوص ہیں
21:30اس میں
21:31اس شہر کا بڑا
21:32اہم مقام ہے
21:33جی
21:34شادہ صاحب
21:35ہم آپ کے تہے دل سے
21:36شکر گزار ہیں
21:37کہ آپ نے
21:38علی سردار جعفری
21:39جیسے اہد ساد
21:40شاعر پر
21:41نہایت واضح
21:42اور بامانی
21:43گفتگوگی
21:44جو یقیناً
21:45ہمارے ناظرین
21:45کے لیے عدبی شعور
21:47کو غصعد دینے والی
21:48رہی
21:48ناظرین
21:49اگر آپ کو
21:50عدب نامہ کی
21:51یہ قص پسند آئی ہو
21:52تو ویڈیو کو
21:53لائک کیجئے
21:54چینل کو
21:54سبسکرائب کیجئے
21:56اور بیل آئیکون
21:57کو ضرور دبائیے
21:58تاکہ
21:59عدب نامہ کی
21:59ہر نئی نششت
22:00آپ تک
22:01بروقت پہنچتی رہے
22:02اپنے تاثرات
22:03کمنٹ میں
22:04ضرور
22:04درج کیجئے
22:06آپ کی رائے
22:07ہی ہماری
22:07رہنمائی ہے
22:08اگلی نششت میں
22:09کسی اور شاعر
22:10کی زندگی
22:11شاعری
22:11اور اسلوپ پر
22:12گفتگو کے ساتھ
22:13پھر حاضر ہوں گے
22:14اپنا خیال
22:15رکھیے گا
22:16پھر ملاقات ہوگی
Comments

Recommended