- 2 days ago
- #adabnama
- #malikzadamanzoorahmad
علم، تہذیب اور مذہبی ماحول میں پروان چڑھنے والی ایک شخصیت—
ملک زادہ منظور احمد اردو غزل کا وہ معتبر نام ہیں جن کی شاعری میں عہد کی بے چینی، سماجی شعور اور انسانی احساسات کی گہری جھلک ملتی ہے۔
اس قسط میں ادب نامہ کے تحت ان کی شخصیت، فکری پس منظر اور شعری جہات پر تفصیل سے گفتگو کی گئی ہے۔ بچپن کے مذہبی و علمی ماحول سے لے کر ادبی تشکیل تک، اور روایت و جدت کے امتزاج سے لے کر ان کے منفرد اسلوب تک—یہ نشست ایک مکمل ادبی سفر پیش کرتی ہے۔
گفتگو میں یہ اہم پہلو زیر بحث آئے ہیں:
• ابتدائی زندگی اور خاندانی پس منظر
• ادبی تربیت اور شعری اثرات
• ترقی پسند تحریک کے عہد سے تعلق اور اس کی جھلک
• روایت اور جدت کے درمیان توازن
• منتخب اشعار کے ذریعے ان کی شاعری کی تاثیر
اس نشست میں معروف شاعر اور نقاد معین شاداب ملک زادہ منظور احمد کی شخصیت اور شاعری کے مختلف پہلوؤں پر بصیرت افروز گفتگو کرتے ہیں۔
A personality shaped by knowledge, culture, and faith—
Malikzada Manzoor Ahmad stands as a distinguished voice in Urdu poetry, reflecting the pulse of his age through depth, awareness, and human sensitivity.
This episode of Adab Nama presents a comprehensive exploration of his life, thought, and poetry. From his early upbringing in a scholarly and religious environment to his literary development, the discussion traces his journey across tradition and modernity.
Key highlights of this episode:
• Early life and intellectual background
• Literary influences and poetic formation
• His relation to the Progressive era
• Balance between tradition and innovation
• Selected verses showcasing his poetic depth
Renowned poet and critic Moien Shadab offers valuable insights into Malikzada Manzoor Ahmad’s literary personality and contribution.
#adabnama #MalikzadaManzoorAhmad
ملک زادہ منظور احمد اردو غزل کا وہ معتبر نام ہیں جن کی شاعری میں عہد کی بے چینی، سماجی شعور اور انسانی احساسات کی گہری جھلک ملتی ہے۔
اس قسط میں ادب نامہ کے تحت ان کی شخصیت، فکری پس منظر اور شعری جہات پر تفصیل سے گفتگو کی گئی ہے۔ بچپن کے مذہبی و علمی ماحول سے لے کر ادبی تشکیل تک، اور روایت و جدت کے امتزاج سے لے کر ان کے منفرد اسلوب تک—یہ نشست ایک مکمل ادبی سفر پیش کرتی ہے۔
گفتگو میں یہ اہم پہلو زیر بحث آئے ہیں:
• ابتدائی زندگی اور خاندانی پس منظر
• ادبی تربیت اور شعری اثرات
• ترقی پسند تحریک کے عہد سے تعلق اور اس کی جھلک
• روایت اور جدت کے درمیان توازن
• منتخب اشعار کے ذریعے ان کی شاعری کی تاثیر
اس نشست میں معروف شاعر اور نقاد معین شاداب ملک زادہ منظور احمد کی شخصیت اور شاعری کے مختلف پہلوؤں پر بصیرت افروز گفتگو کرتے ہیں۔
A personality shaped by knowledge, culture, and faith—
Malikzada Manzoor Ahmad stands as a distinguished voice in Urdu poetry, reflecting the pulse of his age through depth, awareness, and human sensitivity.
This episode of Adab Nama presents a comprehensive exploration of his life, thought, and poetry. From his early upbringing in a scholarly and religious environment to his literary development, the discussion traces his journey across tradition and modernity.
Key highlights of this episode:
• Early life and intellectual background
• Literary influences and poetic formation
• His relation to the Progressive era
• Balance between tradition and innovation
• Selected verses showcasing his poetic depth
Renowned poet and critic Moien Shadab offers valuable insights into Malikzada Manzoor Ahmad’s literary personality and contribution.
#adabnama #MalikzadaManzoorAhmad
Category
✨
PeopleTranscript
00:07ڈیشنل حیراد نو جیون اور قومی آواز کے مشترکہ عدبی پروگرام عدب نامہ میں آپ کا تہہ دل سے استقبال
00:14ہے
00:14میں ہوں عمران ایم خان اور آج کی نششت میں ہم گفتگو کریں گے ایک ایسے شاعر پر جن کی
00:21شاعری میں عہد کی بیچینی سماجی شعور اور انسانی احساسات کی گہری جھلک ملتی ہے
00:28ان کی غزل میں شہر کی فضا بھی بولتی ہے اور انسان کے باطن کی آواز بھی سنائی دیتی ہے
00:35چہرے پہ سارے شہر کے گرد و ملال ہے جو دل کا حال ہے وہی دلی کا حال ہے
00:43دیکھو گے تو ہر موڑ پہ مل جائیں گی لاشیں دیکھو گے تو ہر موڑ پہ مل جائیں گی لاشیں
00:50ڈھونڈو گے تو اس شہر میں قاتل نہ ملے گا
00:54جی ہاں ہم بات کر رہے ہیں ملک زادہ منظور احمد کی
00:58جنہوں نے اپنی شاعری کے ذریعے اردو غزل کو ایک باوقار اور بامانی آواز عطا کی
01:05اور آج کی نششت میں بھی ہمیشہ کی طرح ہمارے ساتھ موجود ہیں
01:09وہ شخصیت جو نہ صرف معروف شاعر ہیں
01:12بلکہ نہایت کامیاب ناظم مشاعرہ اور برے سغیر کی شہری روایت کے گہرے شناسہ کے طور پر بھی پہچانے جاتے
01:20ہیں
01:20مہین شاداب شاداب صاحب عدب نامہ میں آپ کا خیر مقدم ہے
01:26بہت شکریہ جناب آپ کا
01:28شاداب صاحب گفتگو کا آغاز ہم یہی سے کرنا چاہیں گے
01:32کہ آپ ملک زادہ منظور احمد کے خانوادے پیدائش اور ابتدائی زندگی کے بارے میں ہمارے ناظرین کو بتائیں
01:40وہ کس ماحول میں پروان چڑھے اور ان کی ابتدائی تربیت نے ان کی شخصیت اور شائری پر کیا اثر
01:48ڈالا
01:50دیکھیں ملک زادہ منظور احمد صاحب
01:55جو سوال آپ نے کیا ہے اس کا جواب ان کی شخصیت میں جھلکتا تھا
01:59جو ان کی شخصیت تھی جن لوگوں نے انہیں دیکھا ہے
02:03اور انہیں سنا ہے
02:05ان کا تعلق ایک ایسے خانوادے سے تھا
02:09کہ جہاں پر عدب اور شائستگی اور زبان کی عداب سکھائے جاتے تھے
02:17پیز آباد کے ایک چھوٹے سے گاؤں میں
02:22ان کی پیدائیش ہوئی لیکن گاؤں بہت پسماندہ تھا جہاں پر انہوں نے اپنی
02:28جو خود نوشت ہے
02:30رقص شرر اس میں
02:31اس کا منظر نامہ بیان کیا ہے
02:34کہ وہاں پر تبکتی ہوئی چھتے ہیں
02:36اور مٹی اور گرد سے
02:39اٹے ہوئے راستے ہیں
02:40کیچڑھے راست ہوئے
02:41تو ایک بہت چھوٹے گاؤں سے ان کا تعلق ہے
02:43جو
02:44عیض آباد میں واقع تھا
02:47لیکن بعد میں
02:49ان کے والد محترم گورہ پور چلے گئے تھے
02:52وہیں ان کی تعلیم ہوئی
02:55اس کے بعد ان کی تعلیم الاحباد میں بھی ہوئی
02:58لیکن یہاں یہ ذکر ضروری ہے
03:00کہ جس بستی سے ان کا تعلق تھا
03:02وہ چھوٹا سا گاؤں تھا
03:05جہاں ان کی پیدائیش ہوئی تھی
03:06تو وہاں سے کچھ میلوں کی فاصلے پر
03:10چند میل کے فاصلے پر
03:11کی چھوٹا شریف جیسی
03:12ایک عظیم
03:14روحانی جگہ موجود ہے
03:16روحانی مرکل
03:17تو یہ بھی کہا جاتا ہے
03:19بلکہ انہوں نے لکھا ہے
03:20کہ جو ان کے آبا و اجزاد تھے
03:22تو انہوں نے
03:23مغدوم اشرف جہانگیز سمنانی
03:26کی چھوٹا شریف میں
03:28ان کی میزبانی کا شرف حاصل کیا تھا
03:30ان کے آبا و اجزاد تھے
03:32ملک زیادہ منظور احمد صاحب
03:34تو یہ ان کے خاندانی
03:37اس منظر کا ایک بڑا نوایہ پہلو
03:40بہرحال جب انہوں نے آکھیں کھولی
03:41تو گھر میں تعلیم کا ماحول تھا
03:44علم کا ماحول تھا
03:46مذہبی ماحول تھا
03:48مذہبی خانوادی سے ان کا تعلق تھا
03:51ان کے نرحال اور ددھیال میں
03:52بہت سے عالم اور فاضل موجود تھے
03:56تو انہوں نے جب بچپن
03:57جس ماحول میں گزارا
03:59وہاں مصنوی گزار رسین
04:00یہ آوازیں ان کے اکانوں میں پڑھ رہی تھیں
04:02مصنوی سہر البیان سنائی جا رہی تھیں
04:05تو یہ ان کی شخصیت
04:08میں یہ تمام چیزیں
04:10کہیں نہ کہیں شامل ہو رہی تھیں
04:12ان کا جو ننحال تھا
04:14اور ٹانہ میں تھا
04:14ان کی والدہ مدرمہ خودیں بہت تھی
04:16بڑی لکھی خاتون تھی
04:18بہت سے ان کے اندر
04:20اوصاف تھے
04:21وہ بھی اثر ان کی شخصیت پر تھا
04:23تو ایک طرح سے اس تمام ماحول کا اثر
04:26ان کی شخصیت پر پڑھا
04:28اور پھر جب وہ گورکپور گئے
04:30تو انہوں نے اسلامیہ کالیج میں
04:32ان کا داخلہ ہوا
04:33تو وہاں ابھی ایک عدبی مرکز تھا
04:34وہاں مشاعرے ہوا کرتے تھے
04:37اور ان کا ذکر بھی کیا ہے
04:38ملکزادہ منصور احمد صاحب نے
04:40کہ وہی سے ان کے اندر
04:42جو ہے ایک شہری
04:43فضا پیدا ہوتی ہے
04:44تو یہ تمام ماحول تھا
04:47چاہے ان کے اپنے
04:49گورکپور کا
04:50ان کا اپنا گھر کا معاملہ ہو
04:51یا لینہال کا سلسلہ ہو
04:53یا پھر
04:54جب انہوں نے کالیج میں
04:56تعلیم حاصل کی
04:57یا پھر وہ الہباد چلے گئے
04:59تو وہاں جو عدبی فضا تھی
05:01وہ ان کی شخصیت کو تیار کر رہی
05:04جی
05:04ملکزادہ منصور احمد کی شاعری میں
05:07روایت کی خوشبو بھی محسوس ہوتی ہے
05:09اور اہد حاضر کے مسائل کی
05:11بازگشت بھی سنائی دیتی ہے
05:13آپ کے خیال میں ان کی عدبی تربیت
05:16اور شہری اثرات
05:17کن شوہرہ یا روایتوں سے
05:19وابستہ تھے
05:23ظاہر ہے کہ انہوں نے وہ عدب کے
05:26سکولر رہے
05:26انہوں نے پی ایڈی کے ڈگری حاصل کی
05:29ریسرچ کی
05:31تو انہوں نے جو تمام
05:33کلاسی کی شورہ ہیں
05:35ان سے استفادہ کیا چاہے
05:36اس میں مرد تقیمیر ہو
05:37یا اس کے بعد مرزا غالب ہو
05:41اقبال ہو
05:41فانی ہو
05:42یہ سب ان کے
05:44متعلیمے رہی
05:45ان کی تعلیم کے دوران بھی
05:46اور ان کی جب وہ
05:48ریسرچ کر رہے تھے
05:49اس کے دوران بھی
05:50اور جب وہ
05:51باقیدت درس و تدریس سے
05:53وابستہ رہے
05:54اس دوران بھی
05:55تو ظاہر ہے کہ جب درس و تدریس سے
05:57کوئی شخص
05:58اس طرح سے وابستہ ہوتا ہے
06:01یا
06:01عدب پر کام کرتا ہے
06:03تو اسے
06:04جو ہماری کلاسکس ہے
06:06جو ہماری روایات ہیں
06:08شاعری کی
06:08جو ہمارا
06:09اقدیم سرمایہ ہے
06:11اس سے تو کہینے کے
06:12روشناس ہونا پڑتا ہے
06:13تب ہی وہ نئی جہتوں پر کام کرتا ہے
06:16حالانکہ ملکزادہ منظور احمد صاحب کا جو مزاج تھا
06:18وہ
06:20جموت کے قائل نہیں تھے
06:21وہ چاہتے تھے کہ روایتیں تبدیل ہوتی رہنی چاہیے
06:25لیکن
06:26روایت سے
06:26رشتہ نہیں ٹوٹنا چاہیے
06:29یہ ان کا
06:30مطمئے نظر تھا
06:31اور ان کا مشن بھی تھا
06:33اس لئے اختلف جہاں انہوں نے
06:34کلاسکس کو پڑھا
06:35وہیں انہوں نے جدیش شورا کو بھی پڑھا
06:37جب وہ مشاہروں کی دنیا آمائے
06:39تو وہاں پر
06:39جگر مرادوادی
06:41اور فراق گورکپوری جیسے شورا سے ان کا سابقہ پڑھا
06:44تو اس طرح سے
06:46ان روایت
06:48اور
06:49جو اس کے بعد نئی شاعری آ رہی تھی
06:51غزل میں نئے تجربات ہو رہے تھے
06:53اس کی آمیزش سے
06:54ان کی ذہنی پرورش ہوتی ہے
06:56اور ان کا
06:57جو ایک عدبی
06:58اور ذہنی شعور ہے
06:59اس کا خمیر تیار ہوتا ہے
07:01اس طرح ہم کہہ سکتے ہیں
07:02کہ انہوں نے روایتوں کی بنیادوں پر
07:05اپنی شاعری اور اپنی شخصیت کی تعمیر کی
07:08اور نئے زمانے سے
07:10خود کو ہم آہنگ رکھا
07:12اور یہی چیز جو ہے
07:13ان کو دوسرے شورا سے
07:15ممتاز کرتی ہے
07:17بہت شاندار انداز میں
07:19آپ نے تذکیرہ کیا
07:20ملک زادہ منظور احمد
07:22خود ایک گفتگو میں کہتے ہیں
07:24کہ وہ ترقی پسند تحریک کے دور میں پروان چڑھے
07:27اور اس عہد کے بعد استعارے اور علامتیں
07:30ان کی شاعری میں بھی نظر آتی ہیں
07:32ایسے میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے
07:34کہ جب ان کی شاعری میں
07:35اس عہد کی فضا موجود ہے
07:38تو پھر انہیں بازابتہ طور پر
07:40ترقی پسند تحریک کے شورا میں
07:42کیوں شمار نہیں کیا جاتا
07:46نہیں وہ خود بھی اس کے قائل نہیں تھے
07:48وہ دراصل جمال پسند انسان تھے
07:51جو غضل کی جمالیات ہو سکتی ہے
07:52اور وہ عدب کو
07:54کسی خانے میں تخصیم کرنے کے قائل نہیں تھے
07:58آئے گا جس پر انہوں نے آنکھیں کھولی
07:59تو ملک کا ماحول بھی ایک ظاہرہ جب تخصیم ہوئی
08:01ان کے شعوری طور پر
08:05وہ تمام چیزیں دیکھ رہے تھے
08:06اس زمانے میں
08:07ایک عجیب و غریب فضا پیدا ہو گئی تھی
08:10ایک پرقیواریت کی لہر بھی
08:12اس زمانے میں چل رہی تھی
08:14اور اس کے بعد
08:15جو ترقی پسند عدب کا زمانہ ہے
08:18جس کا ذکرہ آپ نے کیا
08:18تو ان تمام رویوں کے درمیان
08:21رہنے کے باوجود
08:22انہوں نے جو عدب کی جمالیات ہیں
08:25جو عدب کی روایات اور بنیادی چیزیں ہیں
08:29ان کا دامن کبھی حاصل نہیں جانے دیا
08:32آپ نے صحیح کہا
08:33کہ ان کے بہت سے اشار میں
08:35ترقی پسند
08:37تحریک سے وابستہ جو عدب ہے
08:38اس کی بہت سے استرحات ان کے یہاں
08:40مل جائیں گی
08:41ان کے بہت سے اشار بھی ایسے مل جائیں گی
08:44جو ترقی پسند
08:45عدب کا ایک طرح سے
08:47کہیں نہ کہیں نمائندگی کرتے ہیں
08:49مثلا ان کے ایک شعر ہے
08:50کہ دیکھو گے تو
08:52ہر مورت میں مل جائیں گی لاشیں
08:55ڈھونڈو گے تو اس شہر میں قاتل نہ ملے گا
08:57یہ سچ ہے
08:59گہت سے استرحات ان کے یہاں آئی ہیں
09:01اور
09:03گہت سے گزانات بھی ان کے یہاں آئے ہیں
09:05لیکن وہ عدب کو
09:07اور شاعری کو کسی تحریک سے
09:09وابستہ کرنا ان کا نظریہ نہیں تھا
09:12بلکہ وہ عدب کو
09:13عدب کے خانے میں
09:14رکھنے کے پیل تھے
09:16کہ شاعری شاعری ہونی چاہیے
09:17اس کا کسی عدم سے براہ راست
09:20اگر تعلق ہے بھی
09:21تو اس پر وہ نیبل نہیں لگنا چاہیے
09:24اور یہی ان کا نظریہ
09:26ان کی شاعری میں ہم کو نظر بھی آتا ہے
09:28شاہداب صاحب ابھی
09:30آپ نے ان کے اہد اور فکری پسے منظر کی بات کی
09:32اس تناظر میں یہ بھی بتائیے
09:34کہ ملک زیادہ منظور احمد کی شخصیت
09:36کا وہ کون سا خاص پہلو تھا
09:38جس نے انہیں صرف ایک اچھا شاعر ہی نہیں
09:41بلکہ عدبی حلقوں میں
09:43ایک ممتاز اور محترم شخصیت
09:45کے طور پر بھی پہچان دلائی
09:50جی بلکل بلکل
09:51ان کی بڑی پہچان یہی ہے
09:53دیکھیں عموماً ہوتا کیا ہے
09:54جو شخص مشاعروں میں داخل ہو جاتا ہے
09:57اور مشاعروں میں بھی
09:59کوئی شخص اگر نظامت کر رہا ہے
10:01تو اس کو ظاہر ہے کہ وہ
10:02اہمیت حاصل نہیں ہوتی جس طرف آپ
10:05توجہ ہماری دلائی
10:08مشاعروں میں شامل ہونا
10:09اپنے آپ میں ایک
10:10جو ہمارا ایک عدد بھی حلقہ ہے
10:12ان کی نظر میں کوئی قابل اتنا بات نہیں
10:14کیونکہ یہ ایک ڈیفرنس آیا ہے
10:16جو اس زمانے کے شورت ہے
10:18جو جگر مردوادی تھے
10:19فراخ تھے
10:20مجاز تھے
10:21یہ سب مشاعریں پڑھتے تھے
10:23لیکن عدب کا بھی یہ کہین کا حصہ تھا
10:25لیکن اس کے بعد جو
10:27مشاعروں کا اہد ہمارے سامنے آتا ہے
10:29وہاں تقسیم ہو جاتی ہے
10:31کہ یہ مشاعروں کا شاعر ہے
10:32یہ عدب کا شاعر ہے
10:33تو ایک بڑا چیلنج تھا ان کے لیے
10:35اور اس چیلنج میں
10:37چونکہ ایک تو وہ ان کا تعلق دسو ددریس سے تھا
10:39اور عدب کے تعلق علم تھے
10:41خود ایک سکولر تھے
10:42اور ان کی جو شخصیت کی تعامل و تشکیل ہو رہی تھی
10:47اس میں مذہبی اقدار بھی شامل تھی
10:49اس میں تہذیبی
10:51اور جو تہذیبی خطریں ہیں
10:54وہ بھی کہیں نہ کہیں شامل تھی
10:55تو انہوں نے ان تمام چیزوں کو
10:57اپنی شخصیت سے کبھی
10:58جدہ نہیں ہونے دیا
11:00اور مشاعروں میں رہ کر
11:02وہ عدب کا حصہ بنے رہے
11:04اور مشاعروں میں بھی ان کی شخصیت
11:07ان شورہ میں شمار کی جاتی تھی
11:09جنہوں نے عدب کے تقاضوں کا خاص طور سے خیال لگتا
11:14جس میں زبان مل ہے
11:15جس میں ہمارا انداز شامل ہے
11:17تو زبان و بیان کی جو
11:19شائستگی ہو سکتی ہے
11:21جو نفاست ہو سکتی ہے
11:22جو اصول و زوابیت ہو سکتے ہیں
11:24ان کا انہوں نے ساری زندگی خیال لگتا
11:27جہاں تک نظامت کا تعلق ہے
11:29اچھکل تو نظامت جو ہے
11:30وہ انتہائی غیر میاری ہو گئی ہے
11:33لیکن ملک زادہ منظور
11:35احمد صاحب کے بارے میں تو یہ کہا جاتا
11:37کہ انہوں نے نظامت کو
11:38باقاعدہ فن بنایا
11:41جو قدیم روایت بلتی ہے
11:43اس میں مشاعروں میں
11:44اس میں نظامت کا کوئی تصور نہیں تھا
11:46پہلے صدر مشاعرہ آواز دیا کرتا تھا
11:50یا شمع محفل
11:51جو ہے وہ شورہ کے
11:53جو ہے سامنے
11:55وہ سفر طے کرتی جاتی تھی
11:56جس کے سامنے شمع آ جاتی تھی
11:58وہ اپنا کلام پڑھتا تھا
11:59اس کے بعد صرف نام پکارے جانے کا سلسلہ شروع ہوا
12:03لیکن ملک زادہ منظور احمد صاحب نے
12:06اپنے کچھ پیش روح سے
12:08کچھ روشنی حاصل کی
12:09اور خود اپنے شعور سے کام لیتے ہوئے
12:13باقاعدہ مشاعروں کی
12:14نظامت کو ایک ایسا
12:16شعبہ بنا دیا
12:17کہ اب یہ
12:19ایک مکمل ایک بغار حاصل ہے
12:21شعبے کو نظامت میں شعبے کو
12:23تو یہ ان کی شخصیت کا حصہ تھا
12:25اور یہ تمام چیزیں ان کی شخصیت کی تعبیر و تشکیل کرتے ہیں
12:30یعنی ان کا عدف سے تعلق
12:31ان کا درس و تدریس سے وابستگی
12:35ان کی تصنیف اور تعلیف کا سلسلہ
12:38یہ ایٹی کی ہے تو ظاہر ایک کتاب لکھی
12:40مران آزاد پر انہوں نے تحقیق کی تھی
12:42اس کے علاوہ
12:43انہوں نے جو کلاسک سے اس کا بڑا تجزیہ کیا
12:48مثلاً غبار خاطر کا انہوں نے بڑا جائزہ لیا
12:54اور ان سیوزوں سے وابستگی رہنا
12:57اور پھر مشاعروں میں بھی اپنے خاص
13:00ایک دارہ ایکار وضع کر دینا
13:02اور اس میں اپنی ایک شناخت قائم رکھنا
13:04ایک شکو قائم رکھنا
13:05بلکہ کچھ لوگ تو ان کو مشاعروں کی شاہ جہانی شخصیت کی سے لکھا ہے
13:09کہ مشاعروں کی شاہ جہانی شخصیت
13:11ان کا ایک شکو تھا
13:13ان کا ایک بڑا وقار تھا
13:15ان کا ایک ڈگنیٹی تھی
13:16تو یہ تمام چیزیں ان کو ایک شخصیت کے طور پر پیش کرتی ہیں
13:21کہ وہ محض اسکولر نہیں تھے
13:23وہ محض ایک پروفیسر نہیں تھے
13:27ایک استاد نہیں تھے
13:28صرف شہر نہیں تھے
13:30صرف ایک ناظم نہیں تھے
13:32بلکہ تمام عوامل
13:34اور ان تمام عوامل کی جو شاہستگی
13:37اور ایک تہذیب اور ایک بخار تھا
13:39وہ سب ملا کر ان کو ایک شخصیت کے طور پر پیش کرتے ہیں
13:43جس کا ذکر آپ نے پر سوال بھی کیا ہے
13:46کہ یہ ان کو ایک شخصیت بنا دیتے ہیں
13:48اور اپنے معاصلین سے ان کو ممتاز بھی رکھتے ہیں
13:52جی
13:53شاداب صاحب ابھی تک آپ نے
13:55ملک زادہ منظور احمد صاحب کی زندگی
13:58پسے منظر
13:59ان کے خانوادے
14:00اور کا بہت ہی خوبصورتی سے آپ نے بیان کیا
14:04اب ہم چاہیں گے
14:06کہ آپ ملک زادہ منظور احمد کے چند منتخب اشعار
14:09ہمارے ناظرین کے لیے سنائیں
14:11تاکہ ان کی شائری کی اصل فضاء
14:13اور تاتیر کو براہ راست محسوس کیا جا سکے
14:18کہ دو شیر تو آئی گے
14:19ایک شیر میں نے اپنی گفتو کے دوران پڑھا تھا
14:21کہ دیکھو گے تو ہر موڑ پہ مل جائیں گی لاشیں
14:25ڈھونڈو گے تو اس شہر میں قاتل نہ میلے گا
14:27یہ ان کا بڑا مشہور شیر ہے
14:30ایک شیر جو آپ نے
14:31اس پروگرام کے آغاز میں پڑھا تھا
14:33کہ چہرے پہ سارے شہر کے گردے ملال ہے
14:37جو دل کا حال ہے وہی دلی کا حال ہے
14:40یہ دو شیر بڑے معروف ہیں ان کے ملک زادہ منظور احمد صاحب
14:43کچھ اور شیر میں ان کے سناتا ہوں
14:45کہ دریا کے تلاتم سے تو بچ سکتی ہے کشتی
14:51دریا کے تلاتم سے تو بچ سکتی ہے کشتی
14:53کشتی میں تلاتم ہو تو ساحل نہ ملے گا
14:56بہت خوب
14:57اگر طوفان کشتی کے اندر ہی شامل ہو جائے
15:00تو یہ ان کے مشہور شیروں میں شامل یہ شیر بھی
15:03ایک شیر ان کا اور پڑھتا ہوں
15:05کہ جن سفینوں نے کبھی توڑا تھا موجوں کا غرور
15:10جن سفینوں نے کبھی توڑا تھا موجوں کا غرور
15:14اس جگہ ڈوبے جہاں دریا میں تغیانی نہ تھی
15:19اس جگہ ڈوبے جہاں دریا میں تغیانی نہیں تھی
15:24اسی شیر سے ملتا ہوں جلتا ہے کہ شیر ان کا اور سناتا ہوں
15:27کہ انہیں پھیرے سمندر نے ڈوبویا
15:32انہیں پھیرے سمندر نے ڈوبویا
15:36جنہیں طوفا کا اندازہ بہت تھا
15:40جنہیں طوفا کا اندازہ بہت تھا
15:43ایک بڑا ان کا بہت خوبصورت شیر ہے جو
15:47اکثر آپ کوٹ کر سکتے ہیں
15:49اور بڑا خیال لکھنا پڑتا جس شخصیت کا ذکر آپ نے کیا
15:52اور شخصیت سازی میں اس کی تعبیر و تشکیل میں
15:55بڑا خیال لکھنا پڑتا کچھ چیزوں کا
15:58ملک زیادہ منظور احمد صاحب کہتے ہیں کہ
15:59رسم تعظیم نہ رسوا ہو جائے
16:04رسم تعظیم نہ رسوا ہو جائے
16:06اتنا مجھکیے کہ سجدہ ہو جائے
16:10بہت چاندہ ہے
16:11اتنا مجھکیے کہ سجدہ ہو جائے
16:13تو یہ ایک شخصیت کا بغار جلک رہا ہے شیر
16:17اور ایک درس بھی ہے ایک سبق بھی ہے
16:19ایک شیر پڑھتا ہوں
16:22عجیب درد کا رشتہ ہے ساری دنیا میں
16:26عجیب درد کا رشتہ ہے ساری دنیا میں
16:30کہیں ہو جلتا مکاں اپنا گھر لگے ہے مجھے
16:34کہیں ہو جلتا مکاں اپنا گھر لگے ہے مجھے
16:37یہ وہی ہے کہ خنجر سیلے کہیں پہ تڑکتے ہیں
16:41ہم امیر
16:41سارے جہاں کا درد ہمارے جگر میں
16:45یہ شاعر کی اور کسی فنکار کی بڑی پہچان ہوتی ہے
16:48کہ وہ تمام دنیا کے درد کو
16:51اپنا درد محسوس کرتا ہے
16:53بلکہ کبھی کبھی تو اسے اپنا درد چھوڑا لگنے لگتا ہے
16:56جب وہ زمانے کا درد دیکھتا ہے
16:57اپنے آس پاس کا درد دیکھتا ہے
16:59تو یہ کسی کے درد کو اپنا بنا لینا
17:02یہ جو درد سے لگاؤ ہے
17:04وہ صرف اپنے درد سے نہیں
17:05بلکہ زمانے کے درد سے اور غن سے اور دکھوں سے
17:07یہ شاعر کو بڑا بنا دیتا ہے
17:10کہ عجیب درد کا رشتہ ہے ساری دنیا میں
17:12کہیں ہو جلتا مکہ
17:13اپنا گھر لگے ہیں مجھے
17:15اس کا مطلب ہی مجھے یاد آگیا ہے
17:18اس غزل کا بڑی اچھی غزل پڑھا کرتے تھے
17:19وہاں سے مشاعروں میں
17:21ان کا پورا مجموعہ ہے لیکن وہ کچھ غزلیں ہی مشاعروں میں
17:24عموماً پڑھا کرتے تھے جو بڑی مقبول تھی
17:26نہ خوف برق
17:28نہ خوف شر لگے ہیں مجھے
17:32یہ شیر توجہ سنی ہے گا
17:33یہ بالکل آج کی پوری صورتحال
17:36کو بیان کر رہا ہے جو پوری دنیا کی صورتحال
17:40نہ خوف برق نہ خوف شرر لگے ہیں مجھے
17:43خود اپنے باغ کے مالی سے ڈر لگے ہیں مجھے
17:47بہت ہی نہائیت ہی شاہر
17:48خود اپنے
17:50خود اپنے باغ کے مالی سے ڈر لگے ہیں مجھے
17:52نہ خوف برق نہ خوف شرر لگے ہیں مجھے
17:56خود اپنے باغ کے مالی سے ڈر لگے ہیں مجھے
17:59اور یہ شیر بھی بڑا خوبصورت شیر ہے
18:01There is a relationship between us.
18:07We had a sense to understand, but, there is a relationship between us and our relationship with us to Repeat
18:20with us.
18:23people who have these ideas
18:26who have a copy of them
18:27that look at this one
18:28how is this one
18:29other thing
18:30do you think
18:31of it
18:34they do
18:42this one
18:43the
18:44for
18:45it
18:46That's why it's not.
19:26So this is the Rewaity Sharii and Torakya Pesan Sharii.
19:34So this is the Rewaity Sharii and Torakya Pesan Sharii.
20:07So this is the Rewaity Sharii and Torakya Pesan Sharii.
20:36So this is the Rewaity Sharii and Torakya Pesan Sharii.
21:03So this is the Rewaity Sharii and Torakya Pesan Sharii.
21:14So this is the Rewaity Sharii.