- 2 days ago
- #adabnama
- #rahatindori
Adab Nama | Rahat Indori | ادب نامہ | راحت اندوری
نیشنل ہیرالڈ، نو جیون اور قومی آواز کے مشترکہ ادبی پروگرام "ادب نامہ" کی اس خصوصی نشست میں ہم اردو کے ممتاز شاعر راحت اندوری کی زندگی، شخصیت اور شاعری کے مختلف پہلوؤں پر گفتگو پیش کر رہے ہیں۔ اس گفتگو میں ہمارے ساتھ موجود ہیں معروف شاعر، نقاد اور ناظمِ مشاعرہ معین شاداب۔ اس نشست میں راحت اندوری کی ابتدائی زندگی، خاندانی پس منظر اور ان کے تعلیمی سفر پر تفصیل سے روشنی ڈالی گئی ہے۔ یہ بھی بتایا گیا ہے کہ شاعری سے پہلے ان کا ذریعۂ معاش پینٹنگ اور سائن بورڈ لکھنا تھا۔ بعد ازاں انہوں نے برکات اللہ یونیورسٹی بھوپال سے ایم اے کیا اور اردو ادب میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ان کے تحقیقی مقالے کا موضوع بھی مشاعرہ تھا۔ گفتگو کے دوران معین شاداب راحت اندوری کی شاعری کے اسلوب، ان کے بے باک لہجے اور عوامی مقبولیت پر بھی روشنی ڈالتے ہیں۔ ساتھ ہی ان کے چند یادگار اشعار بھی سنائے جاتے ہیں جو ان کی فکر، خودداری اور مزاحمتی لہجے کی نمائندگی کرتے ہیں۔ اگر آپ اردو شاعری اور اس کی روایت میں دلچسپی رکھتے ہیں تو ادب نامہ کی یہ نشست ضرور دیکھیں۔
Poet, critic, and Mushaira host Moein Shadab discusses Indori’s early life, family background, and academic journey. Before gaining fame as a poet, Rahat Indori worked as a painter and signboard artist. He later completed his M.A. from Barkatullah University, Bhopal, and earned a PhD in Urdu literature, with his research focusing on the tradition of the Mushaira. The conversation also highlights the bold tone, popular appeal, and intellectual depth of Rahat Indori’s poetry, along with the recitation of some of his memorable couplets. Watch the full conversation to gain deeper insight into the legacy of one of the most influential voices in modern Urdu poetry. #AdabNama #RahatIndori
نیشنل ہیرالڈ، نو جیون اور قومی آواز کے مشترکہ ادبی پروگرام "ادب نامہ" کی اس خصوصی نشست میں ہم اردو کے ممتاز شاعر راحت اندوری کی زندگی، شخصیت اور شاعری کے مختلف پہلوؤں پر گفتگو پیش کر رہے ہیں۔ اس گفتگو میں ہمارے ساتھ موجود ہیں معروف شاعر، نقاد اور ناظمِ مشاعرہ معین شاداب۔ اس نشست میں راحت اندوری کی ابتدائی زندگی، خاندانی پس منظر اور ان کے تعلیمی سفر پر تفصیل سے روشنی ڈالی گئی ہے۔ یہ بھی بتایا گیا ہے کہ شاعری سے پہلے ان کا ذریعۂ معاش پینٹنگ اور سائن بورڈ لکھنا تھا۔ بعد ازاں انہوں نے برکات اللہ یونیورسٹی بھوپال سے ایم اے کیا اور اردو ادب میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ان کے تحقیقی مقالے کا موضوع بھی مشاعرہ تھا۔ گفتگو کے دوران معین شاداب راحت اندوری کی شاعری کے اسلوب، ان کے بے باک لہجے اور عوامی مقبولیت پر بھی روشنی ڈالتے ہیں۔ ساتھ ہی ان کے چند یادگار اشعار بھی سنائے جاتے ہیں جو ان کی فکر، خودداری اور مزاحمتی لہجے کی نمائندگی کرتے ہیں۔ اگر آپ اردو شاعری اور اس کی روایت میں دلچسپی رکھتے ہیں تو ادب نامہ کی یہ نشست ضرور دیکھیں۔
Poet, critic, and Mushaira host Moein Shadab discusses Indori’s early life, family background, and academic journey. Before gaining fame as a poet, Rahat Indori worked as a painter and signboard artist. He later completed his M.A. from Barkatullah University, Bhopal, and earned a PhD in Urdu literature, with his research focusing on the tradition of the Mushaira. The conversation also highlights the bold tone, popular appeal, and intellectual depth of Rahat Indori’s poetry, along with the recitation of some of his memorable couplets. Watch the full conversation to gain deeper insight into the legacy of one of the most influential voices in modern Urdu poetry. #AdabNama #RahatIndori
Category
✨
PeopleTranscript
00:06امیران نبیون اور قومی آواز کے مشترکہ عدبی پروگرام عدب نامہ میں آپ کا تہہ دل سے استقبال ہے
00:13میں ہوں عمران ایم خان اور آج کی نششت میں ہم گفتگو کریں گے
00:17اس شاعر پر جو لفظوں سے نہیں لہجے سے پہچانا جاتا تھا
00:21جو مشاعرے میں کھڑا ہوتا تو سامعین کی سانسیں ٹھہر جاتی
00:25جو محبت بھی پوری شدت سے کرتا تھا اور اختلاف بھی پوری جرعت سے
00:31سبھی کا خون ہے شامل یہاں کی مٹی میں کسی کے باپ کا ہندوستان تھوڑی ہے
00:37جی ہاں ہم بات کر رہے ہیں راحت اندوری کی
00:40اور آج کی اس نششت میں بھی ہمیشہ کی طرح ہمارے ساتھ موجود ہیں
00:45وہ شخصیت جو شاعری کو محض روایت کے طور پر نہیں
00:49بلکہ زندہ فکری عمل کے طور پر دیکھتی ہے
00:52اردو عدب کے باریک بین قاری
00:55نازم مشاعرہ کی حیثیت سے منفرد پہچان رکھنے والے
00:59اور برے سخیر کی شہری روایت کے گہرے شناسہ
01:03مہین شاداب
01:04شاداب صاحب عدب نامہ میں آپ کا خیر مقدم ہے
01:08بہت شکریہ بھائی
01:10شاداب صاحب سب سے پہلے ہم یہ جاننا چاہیں گے
01:13کہ راحت اندوری کے خانوادے ابتدائی زندگی اور تعلیمی سفر نے
01:18ان کی شخصیت اور شاعری کی تشکیل میں کیا ارکیردار ادا کیا
01:25دیکھیں بڑا اہم موضوع ہے آج کا راحت اندوری صاحب
01:30اور راحت اندوری صاحب پر جب ہم بات کرتے ہیں تو
01:33ساہرے کے ان کے لہجے میں
01:36اتنی کشش تھی اور ایسا ان کا انداز تھا کہ بس
01:40اس سے باہر کوئی انسان آ ہی نہیں پاتا ہے
01:43یا پھر مشاعرہ ان کی شخصیت پر بہت حاوی تھا
01:46لیکن اگر دیکھا جائے تو
01:48ایک ورسٹائل پرسنالیٹی تھی راحت اندوری صاحب کی
01:52اور وہ جسے کہتے ہیں گھرا شاعر
01:55سچا شاعر جو ہوتا ہے
01:57اس قسم کے انسان تھے راحت اندوری صاحب
02:00آپ نے ان کے خاندانی پسمنسر کے حوالے سے بات کی ہے
02:03اور ظاہرے کے خاندانی پسمنسر کا
02:05یا ماحول کا بڑا اثر ہوتا ہے
02:08کسی شخص کی یا کسی شاعر کی شاعری پر
02:11یا اس کے فن پر
02:14کوئی ایسا خاص علمی پسمندر تو نہیں تھا
02:17راحت اندوری صاحب کا
02:18کیونکہ ان کے خانوادے میں کوئی شاعری سے شکف بھی نہیں رکھتا تھا
02:22ان کے والد محترم ایک مل میں ملازمت کرتے تھے
02:27والدہ صاحبہ بہتہا سادہ اور بڑی خصوصیات کے مالک تھی
02:32لیکن راحت اندوری جو کچھ اپنے آس پاس دیکھ رہے تھے
02:38یعنی وہ جو زندگی کے تصادات تھے
02:41اور عوامی زندگی خاص طور سے
02:43کیونکہ وہ عوام کو بہت قریب سے دیکھا رہا تھا اندوری صاحب
02:47تو وہ ان کے اثرات ان کی شاعری پر تھے
02:51جس طرح میں نے ذکر کیا کہ والد محترم کا تعلق
02:54ایک مل سے تھا مل میں ملازم تھے
02:57اور وہی اس معاشی اور سماجی زندگی
03:00جو اس وقت وہ دیکھ رہے تھے
03:02وہ انہیں عام آدمی کے مسائل سے بہت قریب تر کرتے جا رہے تھے
03:09عام آدمی کے مسائل سے یہ قربت جو ہے
03:11ان کی شاعری کا بنیادی پہل ہوئے
03:14تو کل بلا کر دو تین چیزیں سامنے آتی ہیں
03:17یعنی خاندانی ساتھ کی
03:19عوامی فضا
03:21اور ایک چیز تیسری چیزیں اس میں علمی تربیہ
03:24کہ انہوں نے تعلیم حاصل کی پہلے اندور سے تعلیم حاصل کی
03:27اس کے بعد وہ برکت اللہ یونیورسٹی بھوپال سے احمی کیا
03:31اور بعد میں انہوں نے پی ایج ڈی کی ڈگری بھی حاصل کی
03:35تو اس طرح سے تعلیمی پس منظر بھی انہوں کا ایک بڑا بھرپور پس منظر ہو جاتا ہے
03:41بھوج اوپن یونیورسٹی سے انہوں نے اردو عدب میں پی ای ڈی کی
03:45اور اس کا موضوع بھی مشاعرہ تھا
03:47نے چسپ آتی ہے
03:49رات اندوری کا جو تحقیقی مقالہ تھا
03:51اس کا عنوان ہی مشاعرہ تھا
03:53ملنہ مشاعرے کا انہوں نے بہت قریب سے جائزہ لیا
03:55تو اس طرح سے ہم یہ کہہ سکتے کہ خاندانی ساتھ کی
03:58جس کا میں نے ذکر کیا
04:00عوامی زندگی سے قروبت
04:02یعنی عوائی مسائل سے کس طرح سے باخبر تھے
04:05اور پھر علمی تربیت جو انہوں نے حاصل کی اپنی محض سے
04:09یہ تینوں چیزیں مل کر
04:12راحت اندوری کا جو ایک شیری خبیر ہے
04:15اس کو تیار کرتا ہے
04:17پھر اس کے علاوہ انہوں نے
04:19جو صوبتیں حاصل کی اس زمانے کے بڑے شورا سے
04:22وہ ان کی شائرے کا حصہ بن جاتا ہے
04:24تو ایک بھرپور
04:25اور ایسا ماہول انہوں نے اپنے اردگرد بنا لیا تھا
04:30یہ جو سراسر کسی شخص کو شائر بنا سکتا ہے
04:33جی اور یہی وجہ تھی کہ عام آدمی کو بہت زیادہ متاثر کرتی تھی ان کی شائری
04:38راحت اندوری کی شائری میں جو جرعت خود اعتمادی اور عوامی لہجہ دکھائی دیتا ہے
04:44آپ کے خیال میں اس کی بنیادیں کس سماج اور فکری عوامل میں پیوست ہیں
04:51دیکھئے جس اہد میں راحت اندوری صاحب سانس لے رہے تھے
04:55کہیں نہ کہیں ایک جمہوری کشمگر کا زمانہ تھا
04:59ایک خاص طبقے کے سامنے بہت سے مسائل تھے
05:02آزادی کے بعد کا جو پورا ایک سینیریو تھا
05:07تقسیم نے جس طرح سے دونوں طرف کی نصف جغرافیائی صورتحال کو تبدیل کیا تھا
05:12بلکہ بہت دنوں تک سماجی اور سیاسی اتھل پتھل بھی رہی تھی
05:17اس علمیے کے بعد تو اس اہد میں وہ سانس لے رہی
05:21اس لیے آپ محسوس کریں گے
05:24کہ ان کے ہاں ایک خاص طبقے کے ساتھ جو ہونے والی
05:28ایک سیاست تھی یا ایک تعصب تھا
05:32وہ ان کے ذہن پر بہت گہرائی سے اثر کرتا تھا
05:35اور وہ ان کی خوبی یہ تھی کہ اس
05:39اس انداز کو یا اس لہجے کو وہ سب کا لہجہ بنا کر پیش کر دیتے
05:45یعنی بات کو کسی خاص اقلیت کی کر رہے ہوتے تھے
05:48کسی خاص طبقے کی کر رہے ہوتے تھے
05:49لیکن وہ ایسا لگتا تھا کہ اس سب کی بات ہے
05:52وہ سب کی زبان ہے
05:53تو اس زبانے کے جو سیاسی اتھا چڑھاؤ تھے
05:56جو یہاں کا ایک جمہوری کشمکش کا زمانہ تھا
06:00اور پھر شہری زندگی کے تضادات کو انہوں نے محسوس کیا تھا
06:04جو شہری زندگی میں تضادات ہو سکتے ہیں
06:07اور عام انسان کی جو بیبسی ہو سکتی ہے
06:10تو ان تمام چیزوں نے
06:13راحت اندوری کے یہاں ایک مضاحمت کی لہجہ پیدا کر دیا تھا
06:17ایک احتجاج کی لے
06:19ان کی شاعری کی بنیاد بن گئی تھا
06:22چاہے وہ رومان ہو یا پھر عام مسائل ہو
06:25ایک احتجاج ان کی حمل کرنا
06:27یہ ان کے ہاں پوری اس ماحول کا اثر تھا
06:30جو ان کو دوسرے شورہ سے مختلف کر رہا تھا
06:33اور یہی ان کو یہی جو حالات اور عباملتیں
06:36یہی ان کو انقلابی بنا رہے تھے
06:38یا ان کے اندر ایک جررت پیدا کر رہے تھے
06:40یا خود اعتمادی کی فضاء ان کے اندر پیدا کر رہے تھے
06:43تو دراصل یہ اعتماد یہ جررت اور یہ خود اعتمادی
06:46ان کی ذاتی خصوصیات نہیں تھی
06:49بلکہ وہ اپنی شاعری سے
06:52اپنے سننے والوں میں
06:53اپنے معاشرے میں
06:55یا ان کی شاعری سے جو استفادہ کر رہے تھے لوگ
06:58ان کے اندر وہ یہ جسارت
06:59یہ اعتماد اور یہ حوصلہ پیدا کر رہے تھے
07:03واقعی ان کے شعر جسارت پیدا کرتے ہیں
07:06مشاعروں میں ان کا اندازے پیشکش
07:08ایک الگ شناخت رکھتا تھا
07:10کیا یہ محض ادائیگی تھی
07:11یا اس کے پیچھے کوئی فکری حکمت عملی بھی کار فرما تھی
07:17ہاں دیکھیں اس میں بڑا دلچسپ سوال ہے آپ کا
07:20اور اس کا جواب یہ بھی ہو سکتا ہے
07:22کہ اس میں فطری
07:25طور پر بھی وہ یہ سب کر رہے تھے
07:27لیکن کہیں نہ کہیں ان کی اس میں
07:29شعوری کوشش بھی شامل تھی
07:32کیونکہ ان کا جو مشاعروں کا اس لیوپ
07:33طور جس طرح آپ نے سکرکیا
07:34ایک بلند آہنگی اس کے اندر پائی جاتی تھی
07:38اور شیر کی ادائیگی
07:40یعنی ادھر جو
07:42تحت میں پڑھنے والے شورہ ہیں
07:44ان میں جنہوں نے
07:45اپنا ایک الگ جدہ گانا انداز
07:47نکالا تھا اس میں راحت اندوری صاحب
07:49بڑا نمائی نام
07:51ان کا کہا جا سکتا ہے
07:52ایک اور دلچسپ بات میں آپ کو بتاؤں کہ
07:55وہ پہلے ترنم سے کلام پڑھا کرتے تھے
07:59ترنم سے کلام
08:00پڑھتے تھے
08:01اور راحت قیسری
08:03ان کا غالباً تخلص تھا
08:04قیسری اندوری کے شاگر تھے
08:07تو نام بھی
08:10انہوں نے بعد بھی تبدیل کیا
08:11اور اپنا لہجہ بھی بتلا
08:13جس زمانے وہ مشہرے میں آئے
08:15اور وہ ترنم سے کلام پڑھ رہے تھے
08:17تو زمانے میں نور اندوری جیسا شاعر
08:19اور فران نظامی جیسے
08:21دل لکنبی جیسے
08:23یہ وہ لوگ تھے
08:23جو ترنم کے بادشاہ کہلاتے تھے
08:26تو بڑی دشواری
08:27کہیں نہ کہیں رہی ہوگی
08:28اس ترنم کے
08:29ماحول میں
08:31اور بڑے شورہ کے بیچ
08:32خود کو منوانے میں
08:33یا خود کو ایڈجس کرانے میں
08:35تو انہوں نے اپنے انداز نکالا
08:37اور یہ انداز تو ظاہر ہے
08:39کہ اس کی جتنی تعریف کی جائے
08:40کم ہے
08:41ان کا اپنا جدہ گانہ دہجہ تھا
08:43اور اس میں
08:44ایک خاص بات یہ بھی تھی
08:45میں اکثر
08:46میں کہا کرتا ہوں
08:47کہ وہ
08:48لفظوں سے تصویریں بنایا کرتے تھے
08:51آوازوں سے تصویریں بناتے تھے
08:53یعنی جو آواز تھی
08:54ان کی
08:54اس کا جو
08:55زیروبم تھا
08:56جو اس کا اتنا چلہاؤ تھا
08:57جو نشب و فرازتی
08:58اس سے وہ تصویریں بناتیا کرتے تھے
09:00اور ایک بسری پیکر
09:02ایک پکچر ہمارے سامنے
09:04آ جائے کرتی تھی
09:05یہ بھی بتا جاتا ہے
09:07کہ باقعہ تو انہوں نے
09:08اس کی
09:09ٹریننگ بھی لی تھی
09:10کہ کس طرح سے
09:12اتا چڑھا ہو سکتا ہے لیچے کا
09:14خاص طور جو
09:14تھیٹر کے لوگ ہیں
09:16جو
09:16ڈرامی کے لوگ ہیں
09:18وہ
09:18ڈیلیوری
09:19کرنا جانتے ہیں
09:20کس لفظ کو
09:21کس طرح پڑھنا ہے
09:22کہاں وقفہ لینا ہے
09:24کہاں ساس ٹوڑے بغیر جو ہے
09:26رکھنا ہے
09:27کہیں ساس ٹوڑنا ہے
09:28تو یہ سب چیزیں
09:30جو ایک
09:30ٹھیٹر میں ہو سکتی ہیں
09:32جو
09:32ایک فلم میں ہو سکتی ہیں
09:34کہ مقالمہ
09:35کس طرح سے
09:36ادا کیا جائے
09:36تو یہ انداز
09:38ان کا شائری میں تھا
09:40اور یہی چیزیں
09:41ان کو دوسرے شورہ سے
09:42مختلف کرتی تھی
09:43پھر ان کا جو
09:44ہاؤ ہاؤ تھا
09:45مصروں کو دھورانا
09:46مصرے کو کہاں
09:47ٹوڑنا ہے
09:48اور ان کے جو
09:49ہاتھوں کے اور آنکھوں کے
09:51اشارے کام کر سکتے تھے
09:52یہ سب
09:53دراصل ایک
09:54شعوری تقنیق تھی
09:55رات اندوری صاحب کے
09:56وہ شعوری تقنیق
09:58بعد میں
09:59ان کی شخصیت کا
10:00حصہ بن گئی تھی
10:01یعنی بعد میں
10:02وہ فطری انداز
10:03اختیار کر گئی تھی
10:04لیکن ان کی
10:05کوشش
10:06شعوری کوشش تھی
10:07تاکہ وہ لہجوں کے
10:08حجوم میں
10:08اپنے ایک لہجہ
10:09بنا سکیں
10:09اپنے ایک انداز
10:10بنا سکیں
10:11کچھ لوگ تو ان کو
10:12صرف
10:13ان کا انداز
10:14سننے کیلئے
10:14مشاعرے میں
10:15جایا کرتے ہیں
10:15ان کا انداز
10:16سنا جائے
10:16شیر نہ سنے جائے
10:17انداز دیکھا جائے
10:18تو انداز
10:19سننے کیلئے
10:19جایا کرتے تھے
10:20تو یہ ان کی
10:22جو ایک شعوری
10:23کوشش تھی
10:23میرے خیال سے
10:24یہ ان کی
10:25فطرت میں
10:26شامل ہو گئی تھی
10:27وہ اس پراہت
10:28اندوری سے
10:28پوری طرح
10:29ہم آہن ہو گئی تھی
10:31اور ایک اور بات
10:32میں ختم کر رہا ہوں
10:33پھر بات طبیل ہو رہی
10:34کہ بہت سے لوگ
10:35انہیں نقل
10:35کیسے لہجے کی
10:37لیکن وہ لوگ
10:38نہیں جانتے تھے
10:38کہ صرف چیخ
10:39نہیں ہیں
10:39رہا صاحب کے
10:40یہاں
10:40صرف بلد آہنگی
10:42نہیں ہے
10:42صرف وہ
10:43تیز پڑھتے
10:43نہیں ہیں
10:44بلکہ
10:44ان کو معلوم تھا
10:45کس لفظ کو
10:46کیسے ادا کرنا ہے
10:48کس لفظ کو
10:49ادا کرتے
10:50مائک سے
10:50کیا دوری رکھنی ہے
10:51کیا فاصلہ
10:52بنا کر رکھنا ہے
10:53کتنا دائیں
10:54طرف اٹنا ہے
10:55کتنا بائیں
10:55طرف اٹنا ہے
10:56تو یہ لوگ
10:58دوسرے لوگ
10:58نقل نہیں کر پائے
10:59وہ صرف
11:00چیخ چلہ کر
11:01رات اندوری
11:02بننے کی کوشش
11:02کرتے رہے
11:03لیکن رات اندوری
11:04تو اکیلے تھے
11:05اور اکیل ہی رہے
11:06بہت شاندار
11:07آپ نے ان کے
11:08اندازے بیان کو
11:09بہت دلچسپ
11:10طریقے سے پیش کیا
11:11اگر آپ ان کی
11:12زندگی سے جڑا
11:13کوئی ایسا
11:14واقعہ بیان کریں
11:15جو ان کی شخصیت سے
11:16کسی شخصیت کے
11:18کسی کم معروف
11:18پہلو کو سامنے
11:19لاتا ہو
11:20تو ہمارے ناظرین
11:21کے لیے یقیناً
11:22بہت دلچسپ ہوگا
11:25دیکھیں ان کی
11:26زندگی کے
11:26بہت سے واقعات ہیں
11:27بڑے دلچسپ
11:28سے ان کی شخصیت
11:29بھی تھی
11:29لیکن ایک پہلو
11:30میں ان کا
11:32واضح کرنا چاہتا
11:33ہو بہت کم
11:34لوگ واقع ہیں
11:34کہ وہ
11:35بنیادی طور پر
11:38آرٹسٹ تھے
11:39رات اندوری صاحب
11:40یعنی وہ
11:41سائن بورڈ
11:41لکھا کرتے تھے
11:42جو بڑے بڑے
11:43ہورڈنگز ہوتے ہیں
11:45تو یہ
11:46ان کا
11:46ذریعہ
11:47معاش تھا
11:48شائع اس سے پہلے
11:49شائعری سے پہلے
11:50یا بعد میں
11:52پی ایج ڈی کرنے کے
11:53بعد تو انہوں نے
11:54غیطہ دسو تدریز
11:55بھی کی
11:56اور کلاس روم میں
11:57عدب پڑھایا بھی
11:59لیکن اس سے پہلے
12:00جو ان کا
12:00معاش کا
12:01ذریعہ تھا
12:02وہ پینٹنگ تھی
12:04لیکن خاص بات یہ ہے
12:05کہ اس پینٹنگ میں
12:06یا اس سائن بورڈ
12:07لکھنے میں
12:07وہ صرف
12:12ان کے پیشے نظر رہتی تھی
12:14حرف کی
12:15کیا ساخت ہو سکتی ہے
12:17رنگ کس طرح
12:18ہم آہنگ ہو سکتے ہیں
12:19تو یہ تمام چیزیں
12:21وہ ایک بڑے
12:22بڑے بڑے مشہور تھے وہ
12:23اور اس لئے ان کے
12:25جو آرٹسٹ ہیں
12:26اندوستان کے بڑے
12:27مثلاً
12:27ایمی ف حسین صاحب کے ساتھ
12:29بھی ان کی تصویریں ملیں گی
12:30تو ان کی ہم آہنگی تھی
12:32ایمی ف حسین صاحب سے بھی
12:33اور پینٹنگ اور آرٹ
12:35ان کا
12:35خاص میدان تھا
12:37یہ بات میں نے اس لئے کہی ہے
12:38کہ یہ جو پینٹنگ اور آرٹ تھا
12:40یہ جو سائن بورڈ لکھنے کا
12:41ان کا ہنر تھا
12:42یہ ان کے شاعری میں بہت کام آیا
12:45یعنی انہوں نے
12:46لفظوں سے پھر تصویریں بنائی
12:48اور ان کو معلوم تھا
12:49کہ جس طرح
12:50رنگوں کی ہم آہنگی کیا ہوتی ہے
12:52تو وہ اسی پیٹرن کو
12:54شاعری میں استعمال کر رہے تھے
12:56کہ شاعری کے لفظوں کے رنگ
12:58کس طرح سے ہم آہنگ ہو سکتے ہیں
13:00کس طرح سے اس میں
13:00تضادات کی صورتحال پیدا ہو سکتی
13:02کنٹراسٹ ہو سکتا ہے
13:03میچنگ ہو سکتی ہے
13:05تو یہ ان کی زندگی کا ایک ایسا پہلو ہے
13:09جس سے شاید بہت کم لوگ
13:10واقف ہیں
13:11اور اس نے
13:12ان کی زندگی میں
13:14اور ان کی شاعری میں
13:15جو رنگ بھرے
13:16وہ بلکل
13:17ایک ان کی شخصیت کو
13:18زندگی کو
13:19ایک دھنک رنگ
13:20بنا دیتی ہے
13:22واقعات تو ان کی بہت سے ہیں
13:23جو اور ہیں
13:23لیکن اس وقت
13:25چونکہ مختصہ سا پروگرام ہوتا ہے
13:27لیکن میں نے سمجھا کہ
13:28یہ پہلو آنا چاہیے
13:29کہ بنیادی طور پر
13:30وہ ایک آرٹسٹ تھے
13:32اور یہ آرٹ
13:32ان کی شاعری میں بھی
13:33جھلکتا ہے
13:34جی بہت شاندار
13:36موین صاحب
13:36آپ نے ان کی
13:37فن کی ایک نئی جہد
13:39کو سامنے لا دیا
13:40اور اب ہم چاہیں گے
13:42کہ آپ ان کی شاعری کے رنگوں
13:43کو بھی یہاں پر بکھیریں
13:44ہم چاہیں گے
13:45آپ ان کے چند منتخب
13:47اشعار پڑھ کر سنائیں
13:48وہ اشعار جو آپ کے نزدیک
13:50ان کے فن کی نمائندگی کرتے ہیں
13:55دیکھیں راہت اندوری صاحب
13:56جن شعروں سے مشہور ہوئے
13:57بڑے سامنے کے اشار تھے
13:59مثلا جب احتجاج
14:01کہیں ہوتا تھا
14:01تو ڈاکٹر راہت اندوری صاحب
14:03کے شعر پڑھے جاتے تھے
14:04اور یہ ایک سر کہتا تھا
14:06جب یہ سی اے والا
14:08پروٹیس چل رہا تھا
14:09اور شہریت بل لائے گیا تھا
14:12تو لوگ میں نے
14:13کئی ترقی پسند شورہ سے
14:14بات کی
14:15میں نے کہا کہ
14:16وہ لوگ کہاں چلے گئے
14:18جو اہد حاضر کے آواز بن جاتے تھے
14:20ترقی پسند لوگ کیا کر رہے ہیں
14:22کہ آج وہی ہم فیض کو پڑھ رہے ہیں
14:25حبیب جالب کو پڑھ رہے ہیں
14:27اس طرح کے شعر پڑھے جا رہے تھے
14:29لیکن جس ہم اثر شعر کے شعر
14:33اس احتجاج کے دوران پڑھے جا رہے تھے
14:35یہ اندوستان میں جہاں جہاں بھی
14:37کوئی احتجاج کی صورتحال پیدا ہوتی ہے
14:39مزاہمت کی کوئی تحریک چلتی ہے
14:42تو وہاں راہت اندوری کی شعر بھی پڑھے جاتے ہیں
14:45اور اس سی اے کے احتجاج کے دوران بھی
14:48ان کے شعر پڑھے جا رہے تھے
14:49پالے میٹ میں بھی ان کے شعر پڑھے جا رہے تھے
14:52لیکن میں کہنا یہ چاہتا ہوں
14:53کہ وہ شائری راہت اندوری کو
14:55پوری طرح واضح نہیں کرتی ہے
14:57وہ ٹھیک ہے
14:59ایک احتجاج کی لے اور ایک پروٹیسٹ
15:01اور ایک جلرت اور اعتماد
15:03جس کی بات آپ کر رہے تھے
15:04وہ ضرورت ہے سماج کی
15:07اور اس کی ضرورت پڑھتی ہیں
15:08بس لئے ان کے وہ غزر بڑی مشہور ہوئی
15:11کہ اگر خلاف ہے
15:12وہ نے تو جان تھوڑی ہے
15:14یہ سب دھواں ہے
15:16کوئی آسمان تھوڑی ہے
15:18اور جو آج صاحبِ مسند ہیں
15:21کل نہیں ہوں گے
15:22قرائے دار ہیں
15:23ذاتی مکان تھوڑی ہے
15:25سبی کا خون ہے شامل یہاں کی مٹی میں
15:30کسی کے باپ کا ہندوستان تھوڑی ہے
15:33یہ وہ اشار ہیں
15:35کہ جنہوں نے رہات اندوری صاحب کو
15:37مشہور بھی کیا
15:37مقبول بھی کیا
15:38اور بدنام بھی کیا
15:40یہ بات میں اس لئے کہہ رہا ہوں
15:41کہ جو ایک دوسرا طبقہ ہے
15:43جس کے خلاف احتجاج ہو رہا تھا
15:45جو صاحبانِ اقتردار ہیں
15:48جن سے مظلومین
15:50اپنے مطالبات رکھ رہے تھے
15:52ان کی نظر میں رہات اندوری
15:54ایک ویلن کے روح پر سامنے آتے ہیں
15:56ان شیروں کے ذریعے
15:57یہ بڑا دلچسپ معاملہ ہے
15:59یہی شیر ان کو مقبول اور ہیرو بناتے ہیں
16:02اور یہی شیر جو دوسرے
16:04سیاسی نظریات کے لوگ ہیں
16:06یا جو صاحبانِ اقتردار ہیں
16:08ان کو یہ ناغوار لگتے ہیں
16:10ان کی آنکھوں میں کھٹکتے ہیں
16:13ایک اور دلچسپ بات بتاؤں گا میں آپ کو
16:16وہ یہ ہے کہ
16:17مسئلہ یہ مزی کے بات یہ
16:18کہ یہ اشار رہات اندوری صاحب نے
16:20کوئی آج نہیں کہے تھے
16:22یہ آج کے اقتردار کے خلاف نہیں تھے
16:24بلکہ یہ بہت پہلے کہے تھے انہوں نے
16:26اصل بات یہ تھی کہ کوئی بھی فنکار
16:29یا کوئی بھی شیر یا عدیب
16:31اقتردار کے خلاف باتیں کرتا ہے
16:34جو کچھ غلط ہو رہا ہوتا ہے
16:36اس کے خلاف آواز بلند کرتا ہے
16:38اس کا تعلق کسی جماعت سے نہیں ہوتا ہے
16:41کہ صاحب آج ان کی حکومت ہے
16:42کل حکومت بدل سکتی ہے
16:45مخالفت تو صرف حکومت کی ہوتی ہے
16:47اقتردار کی ہوتی ہے
16:48لیکن اس پوائنٹ کو سمجھا نہیں گیا
16:49اس لئے رہا دن دوری کو ماتوب بھی کیا گیا
16:52انہوں تمام سرکاروں کے خلاف یہ شائری پڑھی
16:54صاحب آج اقتردار کے خلاف شائری پڑھی
16:57اب ہم موضوع پر آتے ہیں
16:58جس کا آپ بھی تظار کر رہی ہوں گے
17:01کہ ان کے بہت سے ایسے اشاعر ہیں
17:02جو ان کی شیری صلاحیت کو
17:04شیری شخصیت کو سمجھنے کے لیے
17:06ان شیروں کی قرض ضروری ہے
17:08جو انہیں غزل کا جو لہجہ ہے
17:11تغزل جسے کہتے ہیں
17:13اور جس کے بغیر شائری نہیں ہوتی ہے
17:15تو
17:17وہ کس طرح سے رات اندوری صاحب کی
17:19بنیادوں میں شامل تھا
17:20ان کو موقع نہیں ملا
17:22حالانکہ مشہروں میں اس طرح کی شیر پڑھتے تھے
17:24لیکن پسند کو ہی کیا جاتے تھے ان کے
17:25اتجاج بالے شیر
17:26اب دیکھیں کیا اچھا شیر کا
17:28اس کی یاد آئی ہے
17:30سانسو
17:31ذرا آہستہ چلو
17:34اس کی یاد آئی ہے
17:36سانسو ذرا آہستہ چلو
17:39دھڑکنوں سے بھی عبادت میں خلق پڑھتا ہے
17:44دھڑکنوں سے بھی عبادت میں خلق پڑھتا ہے
17:46ہاں اس کا مطلع بھی مجھے یاد آئی کیا
17:48کہ روز
17:51اس کا دوسرا شیر ہے کہ
17:52روزتاروں کو
17:54نمائش میں خلل پڑھتا ہے
17:55اس کا مطلع ہے غزل کا
17:57روزتاروں کو نمائش میں خلل پڑھتا ہے
17:58چاند پاگل ہے
18:00اندھیرے میں نکل پڑھتا ہے
18:02اس کی یاد آئی ہے
18:04سانسو
18:04ذرا آہستہ چلو
18:07دھڑکنوں سے بھی عبادت میں خلل پڑھتا ہے
18:10تو یہ
18:10یہ لہجہ تھا غزل کا جون کے ہاں
18:13پائے جاتا تھا
18:13ایسے اور بھی بہت سے اشارہ ہیں کہ
18:15سورت ستارے چاند میرے ساتھ میں رہے
18:19سورت ستارے چاند میرے ساتھ میں رہے
18:22جب تک تمہارے ہاتھ میرے ہاتھ میں رہے
18:26جب تک تمہارے ہاتھ میرے ہاتھ میں رہے
18:29تو
18:30اور اب آپ دیکھئے
18:32کہ اسی غزل کا ایک شیر ہے
18:34جو اتجاج کی بات بھی کرنا لیکن غزل کا شیر ہے
18:36شاخوں سے ٹوٹ جائیں
18:38وہ پتے نہیں ہیں ہم
18:41شاخوں سے ٹوٹ جائیں وہ پتے نہیں ہیں ہم
18:44آندھی سے کوئی کہہ دے کہ اوقات میں رہے
18:52ایک مطلب اور یاد ہے کہ نہ ہم سفر نہ کسی ہم نشین سے نکلے گا
18:58نہ ہم سفر نہ کسی ہم نشین سے نکلے گا
19:02ہمارے پاؤں کا کانٹا ہمی سے نکلے گا
19:06ہمارے پاؤں کا کانٹا ہمی سے نکلے گا
19:10وہ چاہتا تھا کہ کاسا خرید لے میرا
19:12وہ چاہتا تھا کہ کاسا خرید لے میرا
19:16میں اس کے تاج قیبت لگا کے لوٹ آیا
19:20یہ جو ایک شان اور شکو ہے
19:23یہ شیر سے مجھے یاد آگیا
19:25کہ جو کسی قوم کا کسی ملک کا
19:30یا کسی تپے کا ایک شاندار ماضی ہو سکتا ہے
19:34اس کا ذکر بہت ہے ان کی شائری
19:36جو ایک انہ ہے
19:37جو ایک ایگو ملتی ہے
19:39جو ایک ایروگینس ہے
19:41اپنی خوبیوں کے حق میں
19:43وہ ان کے افوت ملتا ہے
19:44جب میں نے شیر سنائے کہ وہ چاہتا تھا
19:46کہ کاسا خرید لے میرا
19:47میں اس کے تاج کی قیبت لگا کے لوٹ آیا
19:50یہ ایک ایسا سماج
19:51ایک طبعہ کچھلہ سماج
19:52وہ اپنی عظمت رفتہ کو یاد کر رہا ہے
19:54اور یہی ان کا وہ شیر
19:56وہ شیر بھی آ گیا
19:57اتفاق سے باتوں کے درمیان عمران بھائی
20:00جو شیر رہا تندوری کی پہچان بنا تھا
20:03ان کا شیر تھا
20:04آپ نے یقین سنا ہوگا
20:06ہمارے سر کی پھٹی
20:08ٹوپیوں پہ تنز نقر
20:10ہمارے تاج
20:11اجائب گھروں میں رکھیں
20:12بہت شاندار
20:13یہ شیر نے رہا تندوری کو مقبول کیا تھا
20:15تو وہ ہی اسی کا حصہ ہے
20:18میں ایک بات کہنا چاہتا ہے
20:22کہ
20:23رہا تندوری کے یہ جو اشعار ہیں
20:25ان کو کسی ایک طبقے سے
20:27ہم منصوب کر سکتے ہیں
20:28لیکن یہ یونیورسل اپیل رکھتے ہیں
20:30ان کو ہر ایک طبقے کا شخص کوٹ کرتا ہے
20:36بہت اچھی بات گئی آپ نے
20:38میں اسی طرح اشارہ کیا تھا
20:39کہ جو شیر ان کو مقبول بنا رہے تھے
20:41وہ ان کو لوگ ناپسند بھی کر رہے تھے
20:43تو اس کی بچہ یہی ہے کہ شیر
20:46ان کا شیر سپکا ہے
20:47پارلیمنٹ میں پڑھا جاتا ہے
20:49اگر ان کا شیر سپکا نہ ہوتا
20:52تو ظاہر ہے کہ ہر طبقے کام نہیں آتا
20:54ان کا شیر پارلیمنٹ میں پڑھا گیا
20:58ہر طبقے کے لوگ پڑھتے ہیں
21:00دوسری بات اسی بات سے میں چھڑتا ہوں
21:02کہ ان پر جو الزامات بھی لگے
21:03کہ صاحب وطن کے خلاف شیر پڑھتے ہیں
21:06اقتدار کے خلاف پڑھنے کو
21:07وطن کی مخالفت کہاں جانے لگا ہے
21:09یہ ایک عام روزان ہو گیا ہے
21:11کہ اگر آپ حق کی بات کریں گے
21:12تو انٹی نیشنل ہو جائیں
21:15لیکن رات اندوری کے فن کی جو بنیاد ہے
21:19وہ ہندوستان تھا
21:20محبت تھی
21:21اور اس کا انہوں نے پوری عمر
21:23اس کی تبلیغ کی
21:24مثلا میں ان کے دو شیر سناتا ہوں
21:25جو ظاہر کرتے ہیں
21:27کہ وطن سے کتنی محبت تھی ان کے یہاں
21:29وہ کہتے ہیں کہ میں مر جاؤں تو
21:31میری الگ پہچان لکھ دینا
21:33میں مر جاؤں
21:34تو میری الگ پہچان لکھ دینا
21:37لہو سے میری پیشانی پہ ہندوستان لکھ دینا
21:41یہ ہے دیکھیں
21:42اس میں جذبہ شہادت بھی ہے
21:43وطن سے محبت بھی ہے
21:45دوسری بات کہ
21:46ہم کسی طرح کے حالات میں رہتے ہوئے بھی
21:49اپنے وطن سے محبت کرنا نہیں بھولتے
21:51وہ کہتے ہیں ہم اپنی جان کے دشمن کو
21:54اپنی جان کہتے ہیں
21:56ہم اپنی جان کے دشمن کو
21:58اپنی جان کہتے ہیں
22:00محبت کی اسی مٹی کو
22:02ہندوستان کہتے ہیں محبت کی اسی مٹی کو ہندوستان کہتے ہیں تو آپ نے
22:06بالکل صحیح کہا کہ ان کی شاعری تو اس کے اندر یونیورسالیٹی ہے اور میں
22:12سناتا ہوں یہ شعر دیکھی جو پوری دنیا کا شعر ہے ہر شخص کا شعر ہے وہ
22:17کہتے ہیں کہ میں نے اپنی خوشک آنکھوں سے پھر بات تغذل کی ہو رہی ہے میں نے
22:24اپنی خوشک آنکھوں سے لہو چھلکا دیا ایک سمندر کہہ رہا تھا مجھ کو پانی
22:30چاہیے ایک سمندر کہہ رہا تھا مجھ کو پانی چاہیے بڑا نازک سا شعر
22:36ہے کہ روز پتھر کی حمایت میں غزل لکھتے ہیں روز پتھر کی حمایت میں غزل
22:42لکھتے ہیں روز شیشوں سے کوئی کام نکل آتا ہے تو یہ دیکھتا زبزب کی
22:47کیفیت ہے کہ ہم کسی کا ساتھ دے رہے ہوتے ہیں اور کام کسی اور سے ہوتا
22:52ہے تو ایک جو آئی کشمکش کی صورتحال ان کی ہم ملتی ہے یہ اس شعر میں ملاحظہ
22:56آپ نے کی اب ایک شعر اور سن لیجے کہ اب اتنی ساری شبوں کا حساب
23:01کون رکھے اب اتنی ساری شبوں کا حساب کون رکھے پڑے سواب کمائے گئے
23:08جوانی ایسے اشاعر جو ان کے یہاں بہت تھے ایک شعر سنیے دیکھئے
23:13صاحب کے قبر کے پتھر کے نیچے تھی میریا یاشیاں اور میرے آمال کا سایہ
23:18میرے بچوں پہ تھا اخلا کی تربیت والا شعر ہے تو ان کے یہاں بہت پہلو
23:24تھے لیکن چونکہ مشاعرہ اتنا حابی تھا ان پر یا وہ مشاعرے پر
23:28اتنے حابی تھے اور ایک طبقہ جو ہے ان کی خاص شعری سننا چاہتا تھا
23:32تو وہ ایک خاص لہجے کے شعر ہو کر رہ گئے تھے حالکہ انہیں خود
23:37اس کا بھی ان کا ایک قلق رہتا تھا وہ کہتے تھے کہ یار لوگ وہ شعری
23:42نہیں سننا چاہتے جو میں سنانا چاہتا ہوں جو مورید الراہ تندوری
23:45تھے لیکن غزل کی بات بھی ہو کرتے تھے جب وہ شعر آتا تھا تو تغزل
23:50تغزل آمیر شعری وہ اسی حوالے سے پڑھتے تھے ایک تنز کرتے ہوئے
23:54کہ لوگ مجھے غزل کا شعر نہیں مانتے لیکن تغزل تھا ان کے ہاں
23:58وہ بھی یہ تھی کہ انہوں نے چاہے احتجاز کی بات کی ہو جد و جہد کے
24:01بات کی وہ بھی سب کچھ شعری کے دائرے میں تھا اور غزل کے دائرے میں
24:05تھا وہ اس سے ان کے غزلیں مشہور ہیں غزل کے چند شعر سنا دیتا ہوں
24:11وقت بہت ہو رہا ہے غزل کا شعر دیکھے کبھی اکیلے میں مل کر جھوڑ دوں گا
24:16اسے یہ سب کے شاعری جو آپ کر رہے تھے بعد کبھی اکیلے میں
24:22مل کر جھنجوڑ دوں گا اسے جہاں جہاں سے وہ ٹوٹا ہے جھوڑ دوں گا
24:27گا یہ کمال ہے اس کا مجھے ہی چھوڑ گیا یہ کمال ہے اس کا ارادہ
24:39میں نے کیا تھا کہ چھوڑ دوں گا اسے وہ مجھ کو چھوڑ گیا یہ کمال ہے
24:44اس کا ارادہ میں نے کیا تھا
24:46کہ چھوڑ دوں گا اسے اب دیکھیں
24:48یہ دیکھیں آپ یونیورسیلیٹی
24:50کی بات کر رہے تھے عالمگیر شیئر سناتا ہوں
24:52آپ کو یہ پوری دنیا کا شیئر ہے
24:55پسینہ باٹتا پھرتا ہے
24:56ہر طرف سورج
24:58پسینہ باٹتا پھرتا ہے
25:00ہر طرف سورج کبھی جو
25:02ہاتھ لگا تو نچوڑ دوں گا اسے
25:04بہت شاندہ
25:05کبھی جو ہاتھ لگا تو
25:07نچوڑ دوں گا اسے تو ایسے بہت سی اشارے
25:09وہ سی غزلے ہیں جو سنائی جا سکتی ہیں
25:11جی شاداب صاحب
25:13ہم آپ کے تہے دل سے شکر گزار ہیں
25:16کہ آپ نے راحت اندولی جیسے
25:18انقلابی گہرے
25:19احساس اور فکری وقار کے
25:22شاعر پر نہایت واضح
25:24اور بامانی گفتگو کی
25:25جو یقینا ہمارے ناظرین کے لیے
25:28عدلی شعور کو
25:29وسعد دینے والی رہی
25:31ناظرین اگر آپ کو عدب نامہ کی
25:33یہ قص پسند آئی ہو
25:35تو ویڈیو کو لائک کیجئے
25:37چینل کو سبسکرائب کیجئے
25:38اور بیل آئیکن کو ضرور دبائیے
25:41تاکہ عدب نامہ کی ہر نشست
25:43آپ تک بروقت پہنستی رہے
25:44اپنے تاثرات اور کمنٹ
25:46ضرور درج کیجئے
25:48آپ کی رائے ہی ہماری رہنمائی ہے
25:50اگلی نشست میں کسی اور شاعر کی
25:53زندگی شاعری اور اسلوپ
25:55اور گفتگو کے ساتھ پھر حاضر ہوں گے
25:57اپنا خیال رکھئے گا
25:59پھر ملاقات ہوگی
26:04موسیقی
Comments