Skip to playerSkip to main content
ادب نامہ کی اس خصوصی نشست میں ہم گفتگو کر رہے ہیں ایک ایسے شاعر پر جنہوں نے روایت، شعور اور دل کی کیفیات کو اپنی شاعری میں خوبصورتی سے سمویا— منصور عثمانی۔ معروف شاعر اور نظامت کے حوالے سے پہچانے جانے والے معین شاداب اس نشست میں منصور عثمانی کی شخصیت، ان کے خاندانی پس منظر، شعری سفر اور فکری پہلوؤں پر روشنی ڈال رہے ہیں۔ اس قسط میں آپ سنیں گے: • منصور عثمانی کا ادبی پس منظر • شاعری کا آغاز اور تربیت کا سفر • منتخب اشعار اور ان کی معنویت • ایک شاعر اور ناظم کی حیثیت سے ان کی انفرادیت ✨ A special episode of Adab Nama exploring the life and poetry of Mansoor Usmani— his legacy, literary journey, and powerful verses. Featuring insights by poet and host Moien Shadab, this episode brings you closer to the depth of Urdu poetry and tradition.

#MansoorUsmani #AdabNama #UrduPoetry #MuyeenShadab #PoetryLegacy #Mushaira

Category

People
Transcript
00:07نیشنل حیرارڈ نفجیون اور قومی آواز کے مشترکہ عدوی پروگرام عدب نامہ میں آپ کا تہہ دل سے استقبال ہے
00:14میں ہوں عمران ایم خان اور آج کی نششت میں ہم گفتگو کریں گے ایک ایسے شاعر پر جنہوں نے
00:22روایت اور جدت کے سنگم پر کھڑے ہو کر اپنے عہد کے احساسات کو نہایت سلیقے اور جرعت کے ساتھ
00:29لفظوں میں ڈھالا
00:30ایک ایسا لہجہ جو اپنے اندر درد بھی رکھتا ہے اور وقار بھی مضامت بھی رکھتا ہے اور تہذیبی شائستگی
00:39بھی
00:40جس کو بچائے رکھنے میں اجداد بگ گئے ہم نے اسی حویلی کو نیلام کر دیا
00:47تم نے نظر جھکا کے جہاں بات کٹ دی ہم نے وہیں فسانے کا انجام کر دیا
00:54جی ہاں ہم بات کر رہے ہیں منصور عثمانی کی وہ شاعر جن کے کلام میں داخلی کرب سماجی شعور
01:02اور فکری بالید کی ایک ساتھ جلوہ گر ہوتی ہے
01:05اور نظامت کی بات کی جائے تو منصور عثمانی نہ صرف ایک صاحب اسلوب شاعر ہیں
01:12بلکہ محفل کو سمالنے کا ایسا ہنر بھی رکھتے ہیں کہ سامین خود کو پوری طرح اس فضا کا حصہ
01:19محسوس کرنے لگتے ہیں
01:20ان کے نظامت میں شائستگی بھی ہے برجستگی بھی اور ایک ایسا ربط بھی جو محفل کو بکھرنے نہیں دیتا
01:29اور آج کی اس خوبصورت عدوی نششت میں بھی ہمارے ساتھ موجود ہیں ایک ایسی باوقار شخصیت
01:36جن کی آواز میں ٹھہراو لہجے میں وقار اور گفتگو میں گہرائی نمائی طور پر محسوس کی جا سکتی ہے
01:44وہ نہ صرف قادر القلام شائر ہیں بلکہ مشاعرے کی روایت کو نئی زندگی دینے والوں میں ایک محتبر نام
01:52بھی ہیں
01:53اپنی دلنشی نظامت ششتہ اسلوب اور عدبی فہم کے باعث سامین کے دلوں میں خاص مقام رکھتے ہیں
02:00جناب مہین شاداب صاحب
02:02شاداب صاحب عدب نامہ میں آپ کی آمد ہمارے لیے یقیناً باعث سعادت ہے
02:07آپ کو دل کی گہرائیوں سے خوش آمدید کہتے ہیں
02:12بہت شکریہ بھائی
02:14سب سے پہلے ہم منصور عثمانی کی ابتدائی زندگی
02:18ان کے خاندانی پس منظر اور اس ماحول کے بارے میں جاننا چاہیں گے
02:23جس نے ان کی شخصیت اور شائری کی بنیاد رکھی
02:28بلکل کسی شائر یا عدیب یا کسی بھی فنکار کی جو شخصیت بنتی ہے
02:34شخصیت یا فنی شخصیت
02:36ان میں ان تمام چیزوں کا بڑا تخل ہوتا ہے جن کا ذکر آپ نے کیا
02:40چاہے وہ خاندانی پس منظر ہو
02:41یا ان کی ابتدائی زندگی ہو
02:45اگر ہم منصور عثمانی صاحب کی شیری شخصیت کی بات کریں
02:50تو ہم دیکھتے ہیں کہ ان کی شیری شخصیت کی تعبیر و تشکیل میں
02:55خاندانی روایات
02:58اور ان خاندانی روایات کی شیری وراست
03:01اسازہ کی صحبت
03:03اور روایتی
03:06شیری تربیت کا بڑا بنیادی کردار ہے
03:10اور انہی تمام چیزوں نے نہ صرف ان کے اندر شیری زوق پیدا کیا
03:15بلکہ زبان پر گرفت کا سلیقہ بھی سکھایا
03:19اور پھر انہوں نے نہ صرف اپنی شائری میں
03:24بلکہ نظامت میں بھی
03:26سامعین سے براہ راست
03:28مقالمہ پوری دنیا میں بہت کامیادی کے ساتھ کیا
03:33جب ہم منصور عثمانی صاحب کا ذکر کرتے ہیں
03:35تو شہر جگر کا ذکر ہوتا ہے
03:37آپ کا تعلق شہر جگر مرادعباد سے
03:40جب مرادعباد کی بات ہوتی ہے تو
03:41قمر مرادعبادی صاحب کا نام ہمارے ذہن ماتا ہے
03:44اور جب قمر مرادعبادی صاحب کا تذکرہ ہوگا
03:48تو جناب گوھر عثمانی صاحب کا ذکر بھی ضرور ہوگا
03:54گوھر عثمانی صاحب جو جناب قمر مرادعبادی صاحب کے شاگر تھے
04:00تو منصور عثمانی صاحب کے والد محترم جناب گوھر عثمانی صاحب ہیں
04:06گوھر عثمانی صاحب نے ایک زمانے تک مشاعروں پر راج کیا
04:09مشاعروں میں شیر بھی سنائے مشاعروں کی نظامت بھی کی اور ان کا اس شیر بڑا مقبول ہے کہ کھنڈر
04:16دیارے وفا کے پورید کر دیکھو ہمارے نام کا پتھر ضرور نکلے گا
04:23تو اس خانوادی سے تعلق تھا تعلق ہے جناب منصور عثمانی صاحب کا والد محترم گوھر عثمانی صاحب کا ان
04:32کا جو گھر ہے گوھر عثمانی صاحب کا اس کا نام ہے ماہو انجم منزل
04:38تو منصور عثمانی صاحب اسی ماہو انجم منزل کا ایک پڑا روشن ستارہ ان کو کہا جا سکتا ہے
04:45اور پورا عدوی ماحول تھا جناب گوھر عثمانی صاحب کے علاوہ خود منصور عثمانی صاحب کے بھائی کشور عثمانی صاحب
04:56اور وہ اسلاحی قطات کہا کرتے تھے اس کے لیے ان کو مشاعروں بھی بلائے جاتا تھا اور ایک ان
05:01کا انتیاز تھا اسلاحی قطات کہنے کا
05:05اور اگر ہم تھوڑا سا بات کی بات کریں منصور عثمانی صاحب کے جو چھوٹے وائی ہیں احمد میاں عثمانی
05:11ابھی حال ہی میں ان کا انتقال ہوا
05:13وہ بھی شاعر تھے حالانکہ انہوں نے شاعری زرادت آخری سے شروع کی تھی ممکن ہے کہ حد عدب رہا
05:20ہو کچھ بڑوی لوگوں کا پاس رہا ہو بھائیوں کا والد محترم کا لیکن وہ بھی بہت اچھے شاعر تھے
05:26اس کے بعد اگر ہم آگے بڑھیں ذرا سا تو یہ سلسلہ تیسری دسل میں داخل ہو رہا ہے منصور
05:34عثمانی صاحب کے جو فرزند ہیں
05:35جناب تنویر جمال عثمانی صاحب وہ بھی شاعر ہیں اور وہ ناتے خاص طور سے کہتے ہیں
05:43تنویر جمال عثمانی صاحب کا ایک ناتیا شیری مجموعہ تنویری عقیدت کے نام سے منصور عام پر آ چکا ہے
05:51تو یہ ایک خاندانی سلسلہ ہے وہ خانوادہ ہے جو بھرا پورا ہے عدب سے شاعری سے جس طرح میں
05:58نے گوھر عثمانی کا تذکرہ کیا
06:00پھر بعد میں ان کے بھائیوں کا ذکرہ ہوا ان کے بچوں کا ذکرہ ہوا
06:04تو ایسے ماحول میں جناب منصور عثمانی صاحب نے آنکھیں کھولی
06:12بہت بڑے بڑے شورا اکرام چونکہ خود مشاعروں سے تعلق تھا گوھر عثمانی صاحب کا
06:17تو ان کے ہاں ہمیشہ بڑے بڑے شورا اکرام کی آمد و رفت رہتی تھی
06:22اس میں نشور واحدی صاحب راج الاحوادی جیسے بڑے لوگ دلاور فگار اور وسیم بریلوی تک
06:29کتنے شورا ایک پوری کہکشا ہے جو ماہو انجم منزل کا روح کرتی تھی مختلف ماواقع پر
06:37تو بس انہی شورا کی صحبت میں گھر کی عدبی ماحول میں منصور عثمانی صاحب میں کچھ دلچسپی بڑھی ان
06:47شورا کی باتیں سننے میں
06:48بڑی دلچسپی لیا کرتے تھے ان کو باتیں اچھی لگتی تھی شاعر ہوگی شاعری اچھی لگتی تھی
06:53اور پھر انہیں شیر ذہن نشی ہونے لگے اور پھر وہ وقت آیا کہ وہ بسرے موضوع کرنے لگے اور
07:02پھر باقاعدہ شاعر ہو گیا
07:04جب انہوں نے ابتداء میں شاعری شروع کی تو مسئلہ تھا کہ کس کو کلام دکھائیں
07:10تو والد محترم سے تو کہنے کی ہمت نہیں ہو رہی تھی ایک پاس تھا لحاظ تھا ایک تکلف تھا
07:16کہ وہ کس طرح سے گھر عثمانی صاحب کو اپنا کلام دکھائے تو ہمت نہیں کر پا رہی تھی
07:22بہرحال ان کو خیال آیا کہ کیوں نہ قمر مراد آبادی صاحب کو کلام دکھایا جائے ان سے اصلاح لی
07:27جائے
07:28تو ابتدائی کچھ غزلیں منصور عثمانی صاحب نے قمر مراد آبادی صاحب کو دکھائی
07:35لیکن وہ ان اصلاح سے کچھ مطمئن نظر نہیں آئے
07:40ظاہرے کہ قمر مراد آبادی صاحب گوھر صاحب کے بھی استاد تھے اور ایک طبیل فیلسطین کے اصاز
07:45لیکن منصور عثمانی صاحب یہ سمجھنا چاہتے تھے کہ اگر میرے کلام میں اصلاح کی ہے
07:52تو اس کی کیا وجہ ہے کوئی لفظ ترمیم کیا ہے تو کیوں کیا ہے مصرہ بدلہ ہے تو کیوں
07:57بدلہ ہے
07:57اور پھر ان کی اصلاح کی ہوئی غزلوں کو کس طرح سے اپنی شاعری بتائے
08:02تو یہ منصور عثمانی صاحب کے ذہن میں ہمیشہ ایک سوال رہا
08:07تو عموماً جو اچھے اصازہ ہیں وہ یہ کرتے ہیں کہ توجیحات بھی اصلاح کی ساتھ ساتھ لکھتے جاتے ہیں
08:16لیکن یہ بھی روایت غزل کہی کاغذ پر لکھی استاد کو تھما دی
08:22استاد نے غزل دیکھی اس میں کچھ کانٹ چھاٹ کی کچھ قدر بیوت کی
08:27اور اس میں اصلاح کر کے وہی کاغذ یا کسی دوسرے کاغذ پر غزل لکھ کر اپنے شاگرت کو دی
08:34دی
08:34یہ بھی ایک کامری وایت ہے لیکن منصور عثمانی اس سے مطمئن ہونے والے نہیں تھے
08:38ان کو یہ سمجھنا تھا کہ کیوں ترمین کی جا رہی ہے
08:42یہ لفظ بدلہ ہے تو کیوں بدلہ ہے
08:45تو وہ تمام سوالات جو منصور عثمانی صاحب کے ذہن میں جاگزی ہو رہے تھے
08:49ان کا جواب ان کو نہیں بلنا تھا
08:52پھر یہ ہوا کہ انہوں نے وہ اپنے اشعار جو وہ کہتے تھے
08:54بس یوں ہی بغیر شاعر کا نام لیے
08:56اپنے والد محترم جناب گوھر عثمانی قبلہ کو دکھانے شروع کر دی
09:02وہ ان کو سناتے
09:05اور اس پر کوئی رائے ظاہر کرتے اپنی
09:09ایک دن یہ ہوا کہ گوھر صاحب نے پوچھا منصور عثمانی صاحب سے
09:14کہ یہ مجھے آپ آئے دن کس کے شعر سناتے رہتے ہیں
09:18کون صاحب ہے
09:20تو انہوں نے کہا کہ بڑی حمد کرے کہا کہ یہ میرے شعر ہیں
09:25تو نہیرت رکھ کیا تم شعر کہتے ہو
09:28بارحال گوھر صاحب پر یہ کھلا کہ منصور عثمانی صاحب بھی
09:32جو ان کے چھوٹے صاحب زادے ہیں
09:34فشور صاحب تو شاعری کر ہی رہے تھے
09:36وہ بھی شعر گوئی سے شغف رکھتے ہیں
09:40بارحال پھر وہ گوھر صاحب ان کے اشار میں اصلاح کرتے رہے
09:44لفظ ترمیم کرتے رہے
09:46بتاتے رہے
09:47کہ کہاں کیا کمی ہے
09:48تو یہ جو انداز تھا اصلاح کا
09:51منصور عثمانی صاحب کو پسند آیا
09:53جس طرح حضرت گوھر عثمانی صاحب ان کی تربیت کر رہے
09:55کوئی لفظ بدلائے تو کیوں بدلائے
09:58اور نشش تو برخواست کیا ہوتا ہے
10:01شعر کو کس طرح سے روانی اس میں پیدا کی جا سکتی ہے
10:04یہ تمام باتیں ان سے
10:06ڈسکس وہ کرتے رہے
10:07اور پھر انہوں نے اپنا ایک شعر
10:10انہوں نے کہا
10:12منصور صاحب نے ان کو سنایا
10:14شاید ان کا پہلا شعر تھا
10:15انہوں نے سنایا کہ لکھنے کے لیے
10:18دل کی کہانی بھی نہیں ہے
10:22لکھنے کے لیے دل کی کہانی بھی نہیں ہے
10:24پڑھنے کے لیے میر کے اشار بہت ہے
10:28تو یہ شعر اصلاح کیلئے دیا
10:30گوھر صاحب کو تو گوھر صاحب نے اس میں
10:31بہت معمولی سی ایک ترمیم کی
10:33اور ایک لفظ کی ترمیم سے
10:36مصرہ کہاں سے کہاں پوجھ گیا
10:38اس کے معنی و مفہوم کی نئی پڑھتے کھلنے لگی
10:42انہوں نے کہا کہ لکھنے کے لیے
10:44دل کی کہانی تو نہیں ہے
10:46اب بھی کو وہ تو سے بدل دیتے ہیں
10:48لکھنے کے لیے
10:49دل کی کہانی تو نہیں ہے
10:52پڑھنے کے لیے میر کے اشار بہت ہے
10:56تو یہ بہت پسند آئی منصور صاحب کو
10:58دیکھئے ایک ذرا سی ترمیم سے
11:00مصرہ کہاں سے کہاں پہنچ جاتا ہے
11:02اور یہ اصلاح سخن کی خوبی بھی ہے
11:04یہ وصف ہے
11:05جو لوگ شہری سکھاتے ہیں اس آزا
11:07کہ اس سے اندازہ ہوتا
11:10کہ ایک ہلکی سی ترمیم سے
11:11لفظ کو ادھر ادھر کرنے سے
11:13لفظ بدل دینے سے
11:14اس کا متوادل لانے سے
11:16شیر کہاں سے کہاں پہنچ جاتا ہے
11:18اور پھر اس کا ایک لذف پیدا ہو جاتا ہے
11:21تو اس شیر پر ایک روانی پیدا ہوئی
11:22اس کا ایک تیور پیدا ہوا
11:24اس طرح ایک بار منصور عثمانی صاحب بتا رہے تھے
11:27کہ جیسے شما کا وزن ہے یہ
11:29نمران صاحب یہ بڑا پریشان کرتا ہے
11:31اس کو لوگ ہمیشہ
11:32بہت سے لوگ بظاہر اس کو
11:33وفا یا دفا کے وزن پر مان لیتے ہیں
11:36اور مار کھا جاتے ہیں
11:37جبکہ وزن جو ہے یہ
11:40یہ شین
11:42میم اس میں جو ہے وہ
11:44ساکین ہے اور این بھی ساکین ہے
11:47یعنی شین میم
11:48زبر شم اور این ساکین
11:49تو یہ دونوں ساکین ہیں
11:52صرف شین پر حرکت ہے
11:54تو اس طرح کی پیچیدگیا ہوتی ہیں
11:56اس کا شم و کا وزن نہیں کر پاتے
11:58بان نہیں پاتے
11:58تو اس کا ایک آسان طریقہ بتایا
12:00گوھر عثمانی صاحب نے
12:02اور اسازہ
12:02اسی طرح کی باتیں بتایا کرتی تھی
12:04کہ ہم جہاں لف شم آئے
12:06وہاں لف شام رکھ کر دیکھیں
12:09شام آسان ہے
12:10تو اگر شام آ رہا ہے
12:11وزن میں تو ٹھیک ہے
12:12وہ شم و کا وزن بھی بننا
12:14شیر خارج از بہر
12:16ہو سکتا ہے
12:17تو اس طرح
12:19یہ تمام چیزیں
12:20منصور عثمانی صاحب نے
12:21اپنے والد مطرف سے سیکھی
12:23اور ان کا
12:24اس پورے ماحول کا بڑا دخل تھا
12:27اب ان کے
12:28نازم بننے اقصہ بھی سن لیجی
12:30کیونکہ آپ نے تار روح بھی کر آیا
12:31کہ وہ
12:31نازم مشاہرہ بھی ہیں
12:33اور ایک بڑی پہچان ہے ان کی
12:35نازم مشاہرہ کے طور پر
12:36اور اتنی بڑی پہچان ہے
12:38کہ وہ ان لوگوں میں شامی لوگ ہیں
12:40جن کی شائری
12:41پر اس لی توجہ نہیں تھی گئی پھر
12:43ان کی نظامت کے آگے
12:44تو یہ ملی زادہ منظور احمد صاحب
12:47اور انور جلال پونی صاحب
12:49اور عمر خوریشی صاحب
12:50جو بڑے نازمین تھے
12:52اس زمانے میں
12:52اور کچھ دیگر لوگ بھی
12:54نظامت کر رہے تھے
12:55جس میں جو کیجول نظامت کرتے تھے
12:57بشیر بدر صاحب تھے
12:59یا اور دیگر بہت سے لوگ تھے
13:00کور مہندر سنگھ سہار تھے
13:03تو
13:03اس زمانے میں
13:05انہوں نے ایک بڑا مقام حاصل کیا
13:11کہ ایک مرتبہ
13:12گوھر عثمانی صاحب
13:14چونکہ تمام شہر کے جلسوں میں
13:16شامل ہوتے تھے
13:17نششتوں میں شامل ہوتے تھے
13:18مشہروں میں شامل ہوتے تھے
13:20تو وہ نظامت بھی کیا کرتے تھے
13:21گوھر عثمانی صاحب
13:22شاید یہ بہت کم
13:23لوگوں کو معلوم ہو یہ بات
13:26تو منصور عثمانی صاحب
13:27بتا رہے تھے مجھے
13:28کہ ایک مشہرہ تھا
13:30مرادواد آفیس کلب میں
13:32وہاں منصور عثمانی صاحب بھی
13:34ساتھ تھے گوھر صاحب
13:35گوھر صاحب کو نظامت کرنی تھی
13:37پھر اچانک انہوں نے
13:39منصور صاحب سے کہا
13:40کہ مشہرے کی نظامت کیجئے
13:43وہ حیران و پریشان
13:44کہ میں
13:45تو نے کہا ہاں
13:46میں آپ ہی سے کہہ رہا ہوں
13:48بہرحال انہوں نے
13:49والد محترم کے احترام میں
13:52ان کے حکم مانتے ہوئے
13:53مشہرے کی نظامت کی
13:54اللہ کا نام لے کر
13:55اور بڑی کامیابی بھی لی
13:58شہر بھر میں چلچا رہا
13:59بات ہوئی کہ
14:00منصور عثمانی نے
14:01بڑی اچھی نظامت کی
14:02وہاں
14:03انہوں نے نوجوان نے
14:04تو یہ نظامت کا ان کا
14:06نکتہ آغاز تھا
14:08وہ خود بھی کہتے ہیں
14:09کہ سب والد صاحب کی
14:10عظمتوں کا صدقہ تھا
14:11اور اللہ کا کرم تھا
14:13کہ وہ
14:14اس مشہرے کی نظامت
14:16کرنے میں کامیاب رہے
14:17اور پھر
14:18شہر بن نظامت کی
14:20معاملہ شہر سے نکل کر
14:22زلے تک مہستا ہے
14:23زلے کے مختلف مقامات پر
14:25نظامت کی
14:26پھر سوبے میں نظامت کی
14:27پھر
14:27سوبے سے نکل کر
14:29ملکی سطح پر منازم
14:30اور پھر پوری دنیا میں
14:31یعنی وطن سے باہر
14:32انہوں نے
14:32ایک خاص انداز میں
14:35خود کو تسلیم کرایا
14:36اور ان کے
14:37ان کی نظامت کی
14:38جو خوبی ہے
14:40وہ ان کے ہاں
14:41ایک وقار ہے نظامت میں
14:42اس میں آواز کا وقار بھی ہے
14:44اس میں لفظوں کا وقار بھی ہے
14:46اور
14:48اس میں ایک شائستگی ہے
14:49اور ایک شگفتگی ہے
14:51یہ منصور عثمانی صاحب کی
14:52خوبی ہے نظامت کی
14:54لیکن شیری طور پر
14:56ان کا نخصان ہوا
14:56بس بات چونکہ
14:58طویل ہو رہی ہے
14:59لیکن ان کی خصہ
14:59یہی ختم کرتا ہوں
15:01یہ جواب اہم بھی تھا
15:02کہ
15:03اس وقت
15:04ملک زیادہ منظور صاحب
15:06اور انور جلال کوری
15:07اور سخلین حیدر
15:08ان لوگوں کی صفوں میں
15:10یا اس زمانے میں
15:11مشاعرے میں
15:12ایک نازم کے طور پر
15:14تسلیم کر لے جانے
15:15ایک بڑی بات تھی
15:15تو ایک چیلنج تھا
15:16منصور عثمانی صاحب کے سامنے
15:18کہ اب میں اس کو
15:19برقرار کیسے رکھتا ہوں
15:20اس طرح سے
15:20میں اس دوڑ میں شامل لہوں
15:23تو انہوں نے
15:24ساری توجہ جو ہے
15:25وہ نظامت کو
15:26سمارنے
15:26سجانے
15:27اور نکھارنے میں لگا دی
15:29اور بطالہ کرتے رہے
15:30اور بہت اچھی نظامت
15:31وہ کرتے رہے
15:32بہرحال
15:34اس طرح سے
15:35ان کی شاعری کا
15:36تھوڑا سا نقصان ہوا
15:37لیکن شاعری بھی
15:37وہ بہرحال کرتے رہے
15:40لیکن شاعری پر
15:40توجہ کم دی
15:41حالانکہ
15:41چار شاعری مجموعے
15:43ان کے شاعر ہو چکے ہیں
15:50شاگیرد کی روایت
15:51جو کہ ان کے والد صاحب
15:53بھی استاد تھے
15:53اور پھر ان کی نظامت پر
15:55بڑی تفصیلی روشنی ڈالی
15:57جو ہمارے ناظرین کے لیے
15:59بہت ہی سود مند بھی رہی ہوگی
16:02باتشیت کا سلسلہ
16:03اب آگے بڑھاتے ہیں
16:04منصور عثمانی کی شاعری میں
16:06روایت اور جدت کا
16:07ایک خوبصورت امتزاج
16:08نظر آتا ہے
16:09آپ اس پہلو کو
16:10کس طرح دیکھتے ہیں
16:12جی بہت اچھا سوال ہے
16:14انہوں نے روایت اور جدت
16:15کا امتزاج ملتا ہے
16:16ایک سنگم ملتا ہے
16:18لیکن انہوں نے
16:19یوں ہی نہیں
16:20بلا وجہ نہیں
16:21فیشن کے طور پر
16:22اس کو قبول نہیں کیا
16:23بلکہ انہوں نے روایت
16:24اور قدیم غزل کو
16:26جو ہمارے
16:27اسازہ کی روایات ہیں
16:28جو کلاسی کی غزل ہے
16:30اس کو تخلیقی عمل میں
16:32رہنمائی کے لیے قبول کیا
16:34جو روایت جس کی ہم بات کر رہے ہیں
16:36اس کو تخلیقی عمل میں
16:38کس طرح سے رہنوائی حاصل کیا سکتی ہے
16:39کس طرح سے رموز سیکھے جا سکتے ہیں
16:41جو بنیادیں ہیں
16:43جو مبادیات ہیں
16:44اس سمت میں انہوں نے
16:46ان بزرگوں کی شیری روایت سے
16:48جو ہے استفادہ کیا
16:50لیکن
16:51کبھی اپنے مضامین کو
16:52پاوال نہیں ہو لے دیا
16:55وہاں ایک نیاپن اختازہ کاری
16:57انہوں نے ہمیشہ قائم رکھی
16:58اور اگر جدت کی بات کرے
17:00تو جدید اسلوب کو انہوں نے
17:04اس کے تقاضوں کو
17:05اس حد تک اختیار کیا
17:08اخلاقیات متاثر نہ ہو
17:10احترام آدمیت متاثر نہ ہو
17:12زبان و بیان کا کوئی خزانہ نہ ہو
17:14شائستگی میں کوئی فرق نہ آئے
17:16تو یہ ان تمام
17:18حدود میں رہتے ہوئے
17:20ان تمام چیزوں کا خیال لگتے ہوئے
17:22انہوں نے جدید جو
17:24ہمارے ایک طرح سے
17:27رزانات ہو سکتے ہیں
17:28جدید نظریات ہو سکتے ہیں
17:30یا جس طرح سے جدید غزل ہمارے سامنے آ رہی تھی
17:32اس کو انہوں نے قبول کیا
17:34لیکن انہوں نے جو لہجہ تھا
17:36جو ایک نفاست تھی
17:38کلاسی کے رویت کے اس کو ہمیشہ برغدار رکھا
17:41اور ہمیشہ یہ
17:42کوشش کی کہ معاشرے میں کوئی بگاڑ پیدا نہ ہو
17:45جدید شائری سے
17:46اور جدید اصری مسائل کو
17:48اپنی شائری میں
17:50قبول کرنے سے یا ان کا استعمال
17:52کرنے سے بڑی خرابیاں بھی پیدا ہوئی ہیں
17:54شائری میں زبان کی سطح پر
17:56موضوعات کی سطح پر
17:57اس سے اخلاقی بگاڑ بھی ہوا
17:59لیکن منصور عثمانی صاحب نے اس کا خیال لکھا
18:01مطلب روایات کہا تک لینی
18:04اور جدید رجانات کا کہا تک
18:06خیال کرنا یہ انہوں نے
18:07بہت خیال لکھا یہ ان کی خوبی بھی
18:10ایک شیر میں ان کا سناتا ہوں کہ دشمنی میں بھی
18:13محبت کا نہ چھوٹے دامن
18:15دشمنی میں بھی
18:16محبت کا نہ چھوٹے دامن
18:18کام مشکل ہے
18:19مگر دوستو کوشش کرنا
18:22تو یہ وہی
18:24یہ وہی تھا جس کا ہم نے ذکر نہیں کیا
18:26کہ مشکل کام تھا لیکن انہوں نے اس کا خیال لکھا
18:29ایک اور شیروں کا پڑھتا ہوں کہ دل کو بچا کے
18:31رکھا تھا دنیا سے آج تک
18:35دل کو بچا کے
18:36رکھا تھا دنیا سے آج تک
18:38لے آج ہم نے یہ بھی
18:39تیرے نام کر دیا
18:41لے آج یہ بھی ہم نے تیرے نام کر دیا
18:43تو یہ بلکل جو ہمارے
18:45ہماری جو شیری روایتوں سے وہ استفادہ کر رہے تھے
18:48اور ایک شیر اور سن لینے
18:49کہ میں نے تو زندگی کو تیرے نام کر دیا
18:52اب مشکل انتظار
18:54تیرے فیصلے کا ہے
18:56تو بہرحال
18:57یہ کیسے ہوتے ہیں کہ
18:58ریلو جور کے یہاں
19:02اور ایک جو ہمارا
19:04ایک روایتی سانچا یا ڈھانچا ہے
19:06رزل کا
19:08اس کو خوبصورت برانے کیلئے انہوں نے
19:10روایتوں سے استفادہ کیا
19:13اور جدت کا اظہار
19:15انہوں نے اس لیے کیا
19:16کہ انہوں نے مزواد چتید دیکھے
19:18اثری مسائل اور
19:20جو ایک لہجہ ہو سکتا ہے
19:22اس کی انہوں نے پیروی کی
19:24اور اس طرح سے ایک حسین سنگم
19:26ان کی شاعری کا بن جاتا ہے
19:28اور پھر وہ کہتے ہیں کہ
19:29زندگی
19:30زندگی بھر کی کمائی ہے
19:32غزل کی خوشبو
19:33زندگی بھر کی کمائی ہے
19:35غزل کی خوشبو
19:35ہم نے مشکل سے بچائی ہے
19:37غزل کی خوشبو
19:38تو غزل کی خوشبو بچاتے رہے
19:40جدید رجحانات کے دریان
19:43جی
19:44نئی نسل کے شمرا کے لیے منصور
19:46عثمانی کی شاعری اور شخصیت سے
19:48کیا سیکھنے کو ملتا ہے
19:53دیکھیں منصور عثمانی کی شاعری سے
19:55ہم یہ سبق حاصل کر سکتے ہیں
19:57کہ اس میں
19:59فکر کی گہرائی بھی ہوئی چاہیے
20:00اور سماری شعور بھی ہونا چاہیے
20:02یعنی یہ دونوں پہلو
20:04ان اناثر کا انتظاج
20:06ان کی شاعری میں ملیاتا ہے
20:07اور ہمیں معلوم پڑھتا ہے
20:08کہ یہ
20:08ان کے ہر دونوں چیزیں ہیں
20:10ذاتی مشاہدات بھی ہیں
20:11اور شعوری
20:12عدبی کوششیں بھی ہیں
20:14تو بہرحال
20:16یہ سماجی شعور
20:17جو ہے وہ صرف کتابوں سے نہیں آتا ہے
20:19بلکہ وہ مشاہدات سے آتا ہے
20:21وہ ایک
20:23زندگی کو دیکھنے کے احساس کا نام ہے
20:25اور ایک سنجیدہ اور ذمہ دار شعر ہونے کے ناتے
20:28منصور عثمانی صاحب نے
20:30سماجی سلوکار کو شعوری طور پر
20:32اپنے کلام کا حصہ بنایا
20:35اور
20:36وہ صرف یہ محسوس نہیں کرتے
20:38بلکہ اس کا عدبی اظہار
20:40بلکہ کوئی چیزوں محسوس نہیں کرتے
20:41بلکہ اس کا عدبی اظہار
20:43جو ہو سکتا ہے
20:45کتنا خطورت ہو سکتا ہے
20:46یا اس کو عدبی
20:48سانچے میں ڈھالنے کا ہنر بھی
20:50منصور عثمانی صاحب کو معلوم ہے
20:51تو
20:52ہم ان کی شاعری میں اگر دیکھیں
20:54ایک سماجی موضوعات جس طرح ہے
20:56تو وہ صرف نعرہ بن کر نہیں آتے ہیں
20:57بلکہ وہ
20:59ایک فکر کی سطح پر
21:00اثر انداز ہوتے ہیں
21:01ہمارے ذہنوں پر
21:03ہمارے معاشرے پر
21:05ناظرین و سامین
21:06ہمیشہ اس لمحے کا انتظار کرتے ہیں
21:09آپ سے گزارش ہے
21:10کہ منصور عثمانی کے
21:12چند منتخب اشار سنا کر
21:13اس نشست کو
21:15مزید دل کش بنا دیں
21:18ہاں بہت سے اشار
21:20بے شمار اشار ہیں
21:21ان کے جو پیش کے جا سکتے ہیں
21:24میں اس وقت
21:25ایک شیئر مجھے بڑا پسند ہے
21:27اور میں اس کو کوڑ بھی کرتا ہوں
21:28اکثر نظامت میں
21:29وہ کہتے ہیں کہ
21:30مجھ سے دلی کی نہیں
21:32دل کی کہانی سنیے
21:34مجھ سے دلی کی نہیں
21:36دل کی کہانی سنیے
21:39شہر تو یہ بھی
21:40کئی بار لٹا ہے مجھ میں
21:43شہر تو یہ بھی
21:44کئی بار لٹا ہے مجھ میں
21:47جہاں جہاں
21:48کوئی اردو زبان بولتا ہے
21:51جہاں جہاں کوئی اردو زبان بولتا ہے
21:53وہیں وہیں میرا ہندوستان بولتا ہے
21:56وہیں وہیں میرا ہندوستان بولتا ہے
21:59کیا مزے کا شعر کہا ہے
22:00کہ خوشبو سے کس زبان میں باتیں کریں گے لوگ
22:04یہ ہماری شعری روایت ہے
22:07خوشبو سے کس زبان میں باتیں کریں گے لوگ
22:11میفل میں یہ سوال تجھے دیکھ کر ہوا
22:16میفل میں یہ سوال تجھے دیکھ کر ہوا
22:19ایک شعر اور سناتا ہوں
22:20کہ ہم نے کچھ گیت لکھے ہیں
22:22جو سنانا ہے تمہیں
22:24ہم نے کچھ گیت لکھے ہیں جو سنانا ہے تمہیں
22:27تم کبھی بزم سجانا تو خبر کر دینا
22:30تم کبھی بزم سجانا تو خبر کر دینا
22:35وقت ہوتا ہے بے وفا یارو
22:40وقت ہوتا ہے بے وفا یارو
22:43آدمی بے وفا نہیں ہوتا
22:46آدمی بے وفا نہیں ہوتا
22:49میں نے وہ دلی کا شیر سنایا تھا
22:51ہم کا مجھ سے دلی کے نہیں دل کی کہانی سنی ہے شہر تو یہ بھی کئی
22:54بال لٹا ہے مجھ میں تو وہ دیکھ کے انہیں خیال بھی ہے کہ وہ کہتے ہیں
22:59کہ دلوں کی بات کو دلی سے جوڑ کر یارو دلوں کی بات کو دلی سے جوڑ
23:04کر یارو غزل کو ہم نے بڑی کشمکش میں ڈال دیا تو یہ غزل جب ایک
23:10اس سے گزر رہی تھی جو موضوعات غزل مار رہے تھے اور یہ منصور
23:14عثمانی صاحب کا جو شیری مجموعہ ہے کشمکش اس کا ایک ٹائٹل شیر
23:19بھی ہے جو میں نے آپ کو سنایا دلوں کی بات کو دلی سے جوڑ کر
23:22یارو غزل کو ہم نے بڑی کشمکش میں ڈال دیا ایک اور بہت مزے گر
23:26سے شیر سنیں کہ محبت کا مقدر تو ادھورا تھا ادھورا ہے محبت
23:32کا مقدر تو ادھورا تھا ادھورا ہے کبھی آنسو نہیں ہوتے کبھی دامن
23:38نہیں ہوتا کبھی آنسو نہیں ہوتے کبھی دامن نہیں ہوتا ایک اور
23:45مطلب ان کا میں سنا رہا ہوں بڑا اچھا مطلب ہے کہ آنکھوں سے محبت
23:48کے اشارے نکل آئے آنکھوں سے محبت کے اشارے نکل آئے بارسات کے
23:55موسم میں ستارے نکل آئے بارسات کے موسم میں ستارے نکل آئے تو اس
24:01کو چاہا تھے وفاقی تو مجھے غور سے پڑھت وہ کتابوں میں کہا ہے وہ
24:06کتابوں میں کہاں ہے جو لکھا ہے مجھے یہ وہی بات ہے کہ آدمی سے
24:11کتابیں نہیں بلکہ اپنے آسواز کو بھی پڑھنا پڑھتا ہے اپنے معاشرے
24:14کو پڑھنا پڑتا تو اس کو چاہتے وفا کی تو مجھے غور سے پڑھا وہ کتابوں
24:19میں کہاں ہے جو لکھا ہے مجھ میں سمجھو کہ زندگی کی وہیں شام ہو
24:24گئی اب دیکھیں یہ جو انسانی وقار ہے اس کا اس کا جو اپنا ایک
24:28حصت نفس ہے ڈگنٹی ہے اس کی بات کر رہے ہیں منصور اسوالی صاحب
24:33سمجھو کہ زندگی کی وہیں شام ہو گئی کردار بیچنے کا جہاں بھی سوال
24:39آئے کردار بیچنے کا جہاں بھی سوال آئے میں ضرور آؤں گا منصور
24:44تمہاری خاطر تم جو مقتل کو سجانا تو خبر کر دینا وہ ایک بار وہ غزل
24:52سنانے کے بات کر رہے تھے میں نے کچھ گیت تمہارے لیے بھی لکھے ہیں تم
24:55کوئی بزم سجانا تو خبر کر دینا اب وہ کہہ رہے کہ میں ضرور آؤں گا
24:58منصور تمہاری خاطر تم جو مقتل کو سجانا تو خبر کر دینا تم جو مقتل
25:04کو سجانا تو خبر کر دینا تو بہت سے اشعار ہیں ان کے جو سنایا جا سکتے
25:08ہیں اور دو شیر دو تین شیر اور سن لیجی مجھ کو بجھنے نہ دو چراغ
25:16وفا جاگتے رہو بجھنے نہ دو چراغ وفا جاگتے رہو بجھنے نہ
25:24دو چراغ وفا جاگتے رہو پاگل ہوئی ہے آپ کے ہوا جاگتے رہو
25:28دیکھیں پورا عالمی منظر نام آپ دیکھ سکتے ہیں موجودہ صورتحال
25:32بھی دیکھ سکتے ہیں یہ کچھ اور آن دو یہ بجھنے نہ دو چراغ وفا جاگتے
25:36رہو پاگل ہوئی ہے آپ کے ہوا جاگتے رہو اور کہتے ہیں کہ الفاظ
25:41سو نہ جائیں کتابوں کو اوڑ کر الفاظ سو نہ جائیں کتابوں کو
25:47اوڑ کر دالشوران قوم ذرا جاگتے رہو دالشوران قوم ذرا جاگتے
25:54رہو جاگتے رہو کچھ بھی ہو یہ تو میرے یار نہیں ہو سکتا کچھ
26:01بھی ہو یہ تو میرے یار نہیں ہو سکتا میں تیرا حاشیہ بردار نہیں
26:05ہو سکتا مہترہ حاشیہ بردار نہیں ہو سکتا رسم اظہار محبت میں ضروری
26:11ہی سہی یہ تماشا سر بازار نہیں ہو سکتا یہ روایتوں کا تقدس ہے جو
26:16ان کے ہاں ملتا ہے یہ تماشا سر بازار نہیں ہو سکتا تو ایسے بہت
26:21سے اشار ہیں منصور عثمانی صاحب کے جو کوٹ کیا سکتے ہیں تو بہرحال
26:25روایت سے وابستگی اور زوار و بیان کا احترام اور لحاظ اور عدوی
26:29اخلاقیات یہ منصور عثمانی صاحب کی شخصیت کا بھی حصہ ہے اور
26:33ان کی شاعر کا بھی حصہ ہے
26:35چاداب صاحب آپ نے جس حلوث فہم اور محبت کے ساتھ منصور عثمانی
26:42کی شخصیت اور ان کے کلام کے مختلف پہلوں کو ہمارے سامنے
26:47رکھا وہ یقیناً قابل قدر ہے آپ کی گفتگو نے نہ صرف ایک
26:52شاعر کو سمجھنے میں ہماری رہنمائی کی بلکہ عدب کے کئی نئے
26:57دریچے بھی عدا کیے ناظرین و سامین ہمیں امید ہے کہ آج
27:03کی یہ نششت آپ کے لیے فکر انگیز اور معلوماتی ثابت ہوئی
27:07ہوگی اگر آپ کو عدب نامہ کی یہ پیش پسند آئی ہو تو ویڈیو
27:12کو لائک کریں چینل کو سبسکرائب کریں اور بیل آئیکن ضرور
27:16دبائیں تاکہ ہماری ہر نئی عدبی نششت آپ تک بروقت پہنچتی
27:21رہے اگلی نششت میں ہم ایک اور عدبی شخصیت کے ساتھ آپ کی
27:26خدمت میں حاضر ہوں گے تب تک کے لیے اجازت دیجئے اپنا خیال
27:30رکھیے گا جلد دوبارہ ملاقات ہوگی
Comments

Recommended