Saghar Khayyami: Humor & Poetry | ساغر خیامی: مزاح اور شاعری
ادب نامہ کی اس خصوصی قسط میں ساغر خیامی کی زندگی، شخصیت اور شاعری کے مختلف پہلوؤں پر سیر حاصل گفتگو پیش کی جا رہی ہے۔
معین شاداب نہایت دلکش انداز میں ساغر خیامی کے مزاح، طنز، سماجی شعور اور ان کے منفرد شعری اسلوب کو بیان کرتے ہیں، ساتھ ہی ان کے منتخب اشعار بھی پیش کیے گئے ہیں۔
This special episode of Adab Nama explores the life, personality, and poetry of Saghar Khayyami.
Moien Shadab beautifully highlights his humor, satire, social insight, and unique poetic style, along with selected verses.
#SagharKhayyami #AdabNama #UrduPoetry #MoienShadab #QaumiAwaz #Mushaira
ادب نامہ کی اس خصوصی قسط میں ساغر خیامی کی زندگی، شخصیت اور شاعری کے مختلف پہلوؤں پر سیر حاصل گفتگو پیش کی جا رہی ہے۔
معین شاداب نہایت دلکش انداز میں ساغر خیامی کے مزاح، طنز، سماجی شعور اور ان کے منفرد شعری اسلوب کو بیان کرتے ہیں، ساتھ ہی ان کے منتخب اشعار بھی پیش کیے گئے ہیں۔
This special episode of Adab Nama explores the life, personality, and poetry of Saghar Khayyami.
Moien Shadab beautifully highlights his humor, satire, social insight, and unique poetic style, along with selected verses.
#SagharKhayyami #AdabNama #UrduPoetry #MoienShadab #QaumiAwaz #Mushaira
Category
✨
PeopleTranscript
00:07نیشنل ہیرارڈ نو جی ون اور قومی آواز کے مشترکہ عدوی پروگرام عدب نامہ میں آپ کا تہہ دل سے
00:14استقبال ہے
00:14میں ہوں عمران اے ایم خان اور آج کی نششت میں ہم گفتگو کریں گے ایک ایسے شاعر پر جنہوں
00:22نے اردو شاعری میں تنز مزاہ اور حقیقت نگاری کو ایک منفرد انداز میں پیش کیا
00:29مدت ہوئی ہے بچڑے ہوئے اپنے آپ سے دیکھا جو آج تم کو تو ہم یاد آگئے اور کتنے چہرے
00:39لگے ہیں چہروں پر کیا حقیقت ہے اور سیاست کیا
00:44جی ہاں ہم بات کر رہے ہیں ساغر خیامی کی ساغر خیامی کی شاعری میں جہاں ہلکا سا مزاہ جلگتا
00:52ہے وہیں سماج کی گہری سچائیاں بھی پوری شدت کے ساتھ سامنے آتی ہیں
00:58وہ اپنے اشعار کے ذریعے نہ صرف دل کو خوشگوار بناتے ہیں بلکہ سنجیدہ سوچ کی طرف بھی متوجہ کرتے
01:06ہیں اور آج کی
01:08نشط میں بھی ہمیشہ کی طرح ہمارے ساتھ موجود ہیں ایک ایسی شخصیت جو نہ صرف ایک قادر القلام شاعر
01:16ہیں
01:16بلکہ مشاعرے کی روایت کو زندہ رکھنے والوں میں نمائع نام رکھتے ہیں
01:22نہایت شستہ لہجے گہری عدبی بصیرت اور دلنشی نظامت کے حوالے سے جانے جاتے ہیں جناب مہین شاداب صاحب
01:32شاداب صاحب آپ کی آمد ہمارے لیے بعض سے مسررت ہے عذب نامہ میں آپ کا دل سے خیر مقدم
01:39ہے
01:43سب سے پہلے ساغر خیامی کے خانوادے ان کے پسے منظر اور ابتدائی زندگی کے حوالے سے ناظرین کو آگاہ
01:51کیجئے
01:52تاکہ ان کی شخصیت کو بنیاد سے سمجھا جا سکے
01:57قہقہوں کے لیے فریاد کرے گی دنیا ہم نہ ہوں گے تو ہمیں یاد کرے گی دنیا
02:06میں جشنِ غم منانا چاہتا ہوں میں جشنِ غم منانا چاہتا ہوں میں آنسوں کو ہسانا چاہتا ہوں
02:16ان دو شیروں سے اندازہ ہوتا ہے کہ ساغر خیامی تنز و مزاہ کے حوالے سے اپنی ایک خاص شناخت
02:24رکھتے ہیں
02:25کچھ غزلے بھی انہوں نے کہی جس طرح آپ نے ان کی غزل کا ایک شیر پڑھا
02:31لیکن غزلوں کے بعد وہ تنز و مزاہ کے طرف آگئے ہیں
02:35بارحال آپ نے خاندانی پس منظر کی بات کی اس ماحول کا ذکر آپ کرنا چاہتے ہیں
02:41کہ جس میں ساغر خیامی صاحب نے آنکھیں کھولی ہے جس میں پروان چاہے
02:44ساغر خیامی کا تعلق ایسے لکنوں کے ایک ایسے علمی اور عدبی اور تحذیبی خانوادی سے تھا
02:50کہ ایک کی مثال دے جاتی ہے
02:53یعنی جہاں عدب تھا جہاں تحذیب تھی
02:56جہاں ثقافت کا اس طرح کے ایک ماحول تھا
03:01اس کو تحفظ پرام کیا جاتا تھا
03:03تو اپنی تحذیبی پاسداریوں اور اپنی عدبی اور عاملی سرگرمیوں کی وجہ سے
03:09جناب ساغر خیامی صاحب کا جو خانوادہ تھا
03:13وہ پورے لکنوں کیا بلکہ پورے ہندوستان میں
03:16اپنی خاص شناف کرتا تھا
03:21حیرت ہوگی آپ کو سن کر
03:23کہ ساغر خیامی صاحب کے دادا بھی شاعر تھے
03:26ان کے والد محترم بھی شاعر تھے
03:29ان کے کئی بھائی شاعر تھے
03:31اور وہ خود بھی شاعر تھے
03:33تو ایک ایسے ماحول میں انہوں نے آکے کھولیا
03:35اگر میں نے یہاں ان کے آبا و ازاد کا ذکر کیا ہے
03:38تو پہلے میں اسی پر بات کر لیتا ہے
03:39ان کے دادا زاخر لکنوی
03:42بڑے مشکور شاعر تھے
03:44اور وہ نوحہ نگاری کا ایک اہم نام تھا
03:47یعنی اگر ہم نوحہ نگاروں میں
03:49کچھ ایسے نام تلاش کریں
03:51کہ جو بنیاد گزار ہیں نوحہ نگاری کے
03:53اس میں زاخر لکنوی صاحب کا نام بھی بڑا نمائی اہمیت کا حامل تھا
04:00اور میں یہ بھی بتا دینا چاہتا ہوں
04:02کہ زاخر لکنوی جس زمانے میں عزیز لکنوی تھے
04:04آرزو لکنوی ساقب لکنوی
04:07اور صفی لکنوی جیسے بڑے شورا کی دھون تھی لکنو میں
04:12اس وقت زاخر لکنوی بھی موجود تھے
04:15یعنی یہ ان کے معاثرین ہیں جن لوگوں کا میں نے ذکر کیا ہے
04:19اور سب بہت اہم ہیں
04:20تو یہ تو دادا کا معاملہ تھا
04:23اب صاغر خیامی صاحب کے والد محترم پہ آ جائیے
04:26شاعر لکنوی
04:28شاعر تھے عدیب تھے خطیب تھے موررخ تھے
04:33اور ان کی کتاب سبد گل
04:36رضا لیبریری رامپور میں موجود ہے
04:39انہوں نے ایک شیر کہا تھا صاحب جو میں نے نوحہ خانی کر ذکر کیا
04:43وہ سوز لکھا کرتے تھے
04:46تو اس سے ان کی اہمیت کا اندازہ ہوتا ہے
04:49تعلی کا شیر ہے لیکن بارحال
04:51تعلی کوئی شیر کرتا ہے
04:53اپنی تعریف کرتا ہے
04:54تو اس کا اپنا تعریف ہوتا ہے
04:56اپنے بارے میں بتاتا ہے
04:57تو شیر لکنوی صاحب کا ایک شیر ہے
05:00کہ تذکرے سوز کے
05:02مٹ جائیں گے
05:03گر مر گیا میں
05:06تذکرے سوز کے مٹ جائیں گے
05:09گر مر گیا میں
05:10آگ لیلے کوئی بستی ہوئی چنگاری سے
05:13تو یہ اس سے ان کی سوز نگاری کا اندازہ ہوتا
05:15کہ اس کی کیا اہمیت تھی جو انہوں نے اپنے شیر بیان کیا ہے
05:19ان کے بڑے بھائی مہدی نظمی
05:22ایک بڑے پڑھے لکھے انسان
05:24اور ایک طرح سے ایک ہمہ جا شخصیت کے مالک تھے
05:28شائر تھے
05:29صحافی تھے
05:30افسانہ نگار تھے
05:31نوویل نگار تھے
05:32مضمون نگار تھے
05:33یعنی کس کس پہلو کا ان کا ذکر کیا جائے
05:36مہدی نظمی صاحب کا
05:37اور سو سے زیاد کتابیں ملتی ہیں
05:39مہدی نظمی صاحب کی
05:42ایک بڑی خوبی
05:44ایک بڑا کمال
05:45یا ایک بڑا کارنامہ ان کا یہ تھا
05:46کہ مہدی نظمی صاحب نے
05:50ہندوستان کے مختلف صوبوں کی جو
05:52ثقافتی اور معاشرتی زندگی ہے
05:55اس کو خوبصورتی کے ساتھ نظم کیا تھا
05:58یہ ان کا ایک بڑا کام تھا
06:00اس سے چھوٹے بھائی ان کے سید شمس الحسن تاج
06:04یہ بھی شائر تھے لیکن بعد بھی انہوں نے
06:06قلم چھوڑ دیا
06:08اور برش انہوں نے اختیار کر لیا
06:10یعنی ایک بڑے آرٹسٹ تھے
06:13جو بڑے مصور ہو سکتے ہیں
06:15آرٹسٹ ہو سکتے ہیں ہندوستان کے
06:17اس میں ان کا نام تھا
06:19بلکہ
06:20یوں کہہ سکتے ہیں کہ
06:21بین القوامی شورتوں کے امین تھے
06:23سید شمس الحسن تاج صاحب
06:26اور شمسی آرٹسکول ہے لکنو میں
06:29وہ انہی کا قائم کیا ہوا ہے
06:30انہی کا اسکول ہے
06:30اسی طرح جو ان کے تیسرے بھائی تھے
06:34شہریار عزمی وہ بھی شائر تھے
06:36وہ ذرا گوشہ نشین قسم کے شائر تھے
06:39شہریار عزمی صاحب
06:42اور پھر ناظر خیامی صاحب
06:45یہ بھی تنظر میں تھا کے شائر تھے
06:46اور بعد میں ساغر خیامی تو ہیں
06:48تو عمران صاحب آپ کو اندازہ ہوا ہوگا
06:51کہ دادا سے لے کر والد تک
06:53اور پھر بھائیوں میں تمام لوگ
06:55نہ صرف شائر
06:57بلکہ عدب کی کئی
06:59جہتوں کے حوالے سے
07:00جانے پہچانے جاتے ہیں
07:03ساغر خیامی کی جو ابتدائی تعلیم ہے
07:05وہ عربی فارسی میں ہوئی
07:08لیکن بعد میں
07:09انہوں نے نئے تقاضوں کو
07:11محسوس کرتے ہوئے انگریزی تعلیم بھی حاصل
07:14جو عام
07:15اثری تعلیم تھی
07:16وہ انہوں نے حاصل کی
07:17اور پھر جیلیو میں انہوں نے
07:19ملازمت کی
07:20غیر تدریسی عملے سے مابستہ رہے
07:23تو شروع میں
07:24عربی فارسی کا ذکر میں
07:26اس لیے کہ وہ مولوی تھے باقاعدہ
07:28ساغر خیامی صاحب باقاعدہ
07:31مولوی تھے
07:32لیکن بعد میں انہوں نے
07:34اثری تعلیم حاصل کی
07:36اور باقاعدہ ملازمت بھی کی
07:38وہ کہتے تھے کہ دیکھئے
07:39صرف ثواب سے کام نہیں چلتا
07:41یعنی وہ اپنی مذہبی تعلیم کے حوالے سے
07:44بات کر رہے ہوتے تھے
07:46یہ صرف ثواب سے کام نہیں چلتا
07:48بلکہ کباب کی ضرورت بھی پڑتی زندگی
07:50اس لیے وہ انہوں نے
07:52اثری تعلیم بھی حاصل کی
07:54اور پھر پوری دنیا میں انہوں نے
07:55دھوم بچا دی اپنی تنزیہ
07:57اور مزاہیہ شاعری کے حوالے سے
07:58اور جو چند
08:01اہم مزاہ نگار ہیں
08:04ہمارے
08:05عدب کے
08:06اس میں ان کا شمار ہوتا ہے
08:08خاص طور سے
08:09جب دلاور فگار کے بعد
08:11ایک بڑا خلاسہ محسوس ہو رہا تھا
08:13تو ساغر خیامی صاحب نے
08:15ان کی وہ جگہ سمح لی
08:17اور ایک طبیل عرصے تک
08:19مشاعروں پر
08:20راج کیا
08:21اور صرف مشاعریں نہیں
08:23جواب طبیل ہو رہا
08:24لیکن نہیں بتا دوں کہ
08:25ان کے تین شیری مجموعے
08:28منظر عام پر آئے
08:29ساغر خیامی صاحب سے
08:30تو صرف مشاعرہ نہیں
08:32بلکہ کاغذ پر بھی انہوں نے
08:34اپنی موجود کی دلز کرائی
08:36ان کی یہ کتابیں ہیں
08:38اندر کریز
08:38ان کا پہلا شیری مجموعہ تھا
08:40جو مزاریہ تھا
08:41قیقہوں کی بارات
08:42اس کے بعد شائع ہوا
08:43اور بعد میں پسے روشنی شائع ہوا
08:47لیکن یہاں یہ تذکرہ بھی ضروری ہے
08:49کہ بعد میں انہوں نے
08:50ایک شیری مجموعہ لکھا تھا
08:52اس کا نام تھا کچھ وہاں کے لیے
08:54اس کے عنوان سے اندازہ ہوتا ہے
08:56کہ کچھ شائری انہوں نے
08:57وہاں کے لیے
08:58یعنی آخرت کے لیے کی تھی
09:00اور اس میں ان کے سلام تھے
09:02نوہے تھے
09:04مسدسے تھیں
09:04اور قطع تھے
09:06یعنی مذہبی شائری
09:07خاص طور سے اس میں
09:08رسائی عدف شامل تھا
09:10تو یہ ان کی چار کتابیں ہیں
09:11جس سے اندازہ ہوتا کہ
09:13سیب مشاعروں کے حوالے سے ہی
09:14ہم ساغر خیامی صاحب کا ذکر کر کے
09:17آگے نہیں بڑھ سکتے
09:20جہاں تک
09:21ان کے کلام کی بڑی خوبی
09:23کی باتیں وہ یہ تھی
09:24کہ ان کے یہاں
09:27مزا کے ساتھ جو ایک تنز تھا
09:29اور تنز اور مزا کے ساتھ جو ایک سبق آموز پیغام ملتا تھا
09:33وہ ان کی بڑی خوبی تھی
09:35یعنی صرف لوگ کو ہسانا ان کا مقصد نہیں تھا
09:38بلکہ
09:38اصلاح معاشرہ تھا اس کا مقصد
09:40اس لیے ان کی شائری سنتے سنتے
09:43کئی بار لوگ ہستے ہستے جو ہے وہ
09:45غم زدہ ہو جاتے تھے
09:47وہ کسی کا شیر ہے نا
09:49کہ ای کے ساتھ میرا غم نباہ دو
09:51اتنا ہسو
09:53کہ آنکھ سے آنسو نکل پڑیں
09:56یہی ساغر صاحب کو ہم سنتے تھے
09:58سامین کے ساتھ ہوتا تھا
10:00ہمارے ساتھ ہوتا تھا
10:03بہت خوبصورت انداز میں آپ نے
10:05ساغر خیامی کے ابتدائی زندگی
10:08ان کے خانوادے کا ذکر کیا
10:10اور بہت دلچسپ انداز میں بتایا
10:12جیسا کہ آپ نے کہا
10:13کہ وہ چنگاری لینے والی بات تھی
10:15تو انہوں نے اس نوایت کو
10:17خود بھی اپنے اوپر جو ہے
10:19وہ خود بھی کیا ایسا
10:21اور دوسروں کو بھی اس کی تلقین کی
10:23ساغر خیامی کی آپ نے
10:25اسلوب کی بات کی
10:26تنز و مزہ ان کی شائری میں بہت ملتا ہے
10:29تو ساغر خیامی کی شائری میں
10:31جو سادہ انداز اور براہ راست
10:33اظہار ملتا ہے اسی کے ساتھ
10:35اس کے ساتھ ساتھ گہری
10:37معنویت بھی نظر آتی ہے
10:38آپ کے خیال میں یہی خصوصیات ان کی پہچان
10:41کیسے بنی
10:44ہاں یہ بڑا
10:45بڑا اچھی بات آپ نے کی
10:47ان کے ہیں گہری معنویت تھی
10:48سادگی کے ساتھ تھا
10:49سادگی ان کے کلام کا جوہر تھا
10:53لیکن
10:54ان کی شائری آپ پڑھیں گے
10:56تو اندازہ ہوگا کہ
10:58جیسے کوئی غزل کا شائر شیر کہہ رہا ہے
11:00جو ان کے لفظیات تھی
11:02جو ان کا خصورت انداز تھا
11:04لہجہ تھا
11:05عاموماً جو مزہ کے شورہ ہوتے ہیں
11:08بڑی عام سی زبان اور بڑی غیر
11:10معیوب
11:12جو معیوب چیزیں ہیں وہ استعمال کرنے لگتے ہیں
11:15لیکن ساغر صاحب کے معاملہ نہیں تھا
11:17اور اس کی سب سے بڑی وجہ یہ تھی
11:19جس گہری معنیت کا ذکر آپ کر رہے ہیں
11:21کہ یہ سلیقہ ان کو
11:24میرانیز کو پڑھنے سایا تھا
11:27کیونکہ گھر میں ماحول تھا
11:29میرانیز
11:30اکثر لوگ کہتے ہیں کہ
11:31اگر کوئی غزل کہنا چاہتا ہے
11:33تو وہ پہلے مرسیہ اور سلام
11:35یہ پڑھے
11:37خاص طور سے مرسیہ پڑھے
11:38تو اس کو غزل کہنا جائے گا
11:40قصیرے پڑھے
11:40غزل کہنے آ جائے گا
11:41اس میں جو زبان و اعیان ہیں
11:43جو اس میں مانی کی پڑھتے ہیں
11:45جو اس میں سنائے بدائے ہیں
11:46وہ سب ہمیں مرسیہ سے حاصل ہوتی ہیں
11:49رسائی عدب سے حاصل ہوتی ہیں
11:50اور میرانیز کا ایک خاص لہجہ تھا
11:52یعنی بڑی سلاست تھی اس میں
11:54بڑی روانی تھی
11:56تو وہ چیزیں
11:59جو مرسیہ پڑھنے سے ان کی ہائیں تھی
12:01وہ ان کے لیے بڑی کارامہ ثابت ہوئی
12:04اور آپ نوٹ کریں گے
12:06کہ ان کی یہاں جو زیادہ تر بہرے ہیں
12:08جو زیادہ زمینوں کو احتمال کیا
12:10وہ وہیں سائی تھی میرانیز کے یہاں
12:15شبنم نے بھر دیئے تھے کٹورے گلاب کے
12:17تو یہ بہر ان کے یہاں خاص طور سے چلتی تھی
12:19ایک دو بہروں میں وشار کہتے تھے
12:21تو یہ سادقی کے ساتھ
12:23معنیت جو ہے
12:23یہ ان کے اس متعلق کا نتیجہ تھا
12:26جو انہوں نے پڑھا تھا
12:28ابتدائی طور پر انہوں نے غزلی بھی کہیں تھی
12:31اور اس کے بعد
12:33وہ اپنے بھائی نازد خیامی
12:35سے متاثر ہو کر
12:36نازد خیامی سے متاثر ہو کر
12:39وہ مزاہیہ شاعری
12:40کرنے لگے تھے
12:41ورنہ پہلے وہ غزل ہی کہتے تھے
12:44تو جو لوازمات غزل کی ہو سکتے ہیں
12:47وہ ان کی مزاہیہ شاعری میں
12:49بھی درائے تھے
12:53ناظرین کی دلچسپی کے لیے
12:55ساغر خیامی کی زندگی سے جڑا
12:57کوئی ایسا واقعہ بیان کیجئے
12:59جو ان کی شخصیت یا مزاہ کی
13:01بھرپور اکاسی کرتا ہو
13:05دیکھو جس طرح سے
13:08مزاہیہ شاعری کرتے تھے
13:09وہ شغفتگی
13:11ان کی زندگی میں بھی شامل تھی
13:13ان کے
13:15کردار میں بھی نظر آتی تھی
13:16ان کی شخصیت میں بھی نظر آتی تھی
13:18بلہ بڑے شوخ قسم کے انسان تھے
13:21ان کے ساتھ رہے تو کوئی بور نہیں ہو سکتا تھا
13:24ہمیشہ
13:25زندہ دل رہتے تھے خود بھی
13:27اور دوسروں کو بھی بہت تازہ دم رکھا کرتے تھے
13:29کہ ان کی خوبی تھی
13:31بہت سے واقعات ہو سکتے ہیں
13:33کوئی ایسا واقعہ تو
13:34مجھے اس وقت
13:35میرے ذہن میں نہیں آ رہا
13:36جس سے ان کی زندگی بدل گئی ہو
13:39لیکن ان کے ساتھ
13:40جو لطیفے ہیں
13:42ان کے ساتھ جو واقعات ہیں
13:43وہ بہت سے واقعات ہیں
13:44مثلا وہ بڑے خوبصورت تھے
13:46بہت گورے چٹے تھے
13:48اور اتنے گورے چٹے
13:50اور اتنے خوبصورت ووجی تھے
13:51کہ وہ بلکل غیر ملکی لگتے تھے
13:54آپ نے تو ان کو دیکھا ہی ہوگا
13:59ایسے ہندوستان کے باہر کا کوئی شخص ہے
14:01نفیسہ ساتھ سترا
14:03تو عموماً لوگ ان کو
14:05انگریز سمجھ گیا کرتے تھے
14:07وہ بتاتے ہیں کہ ایک مرتبہ
14:09واللہ عموماً
14:10ایک مرتبہ کی عموماً لوگ
14:12ان کو دیکھ کر انگریزی میں بات کرنے لگتے تھے
14:15جب ان کو دیکھتے تھے
14:16غیر ملکی سمجھ کر
14:18یا انگریز سمجھ کر
14:19ان سے انگریزی میں سوال کرنے لگتے تھے
14:21تو وہ کہتے تھے
14:22کہ جب میں ان کو اردو میں جواب دیتا تھا
14:24تو وہ لوگ یہ سمجھتے تھے
14:26کہ اردو وہ ترقی کر رہی ہے
14:29یہ غیر ملکی آدمیت کی اچھی اردو بولا ہے
14:32ویسے بہت سے واقعات ان کے ساتھ
14:34ان کی زندگی کی جڑے ہوئے ہیں
14:35اور ان کی شخصیل تھا
14:37یہ بڑا نمائک کرتا تھا ان کو
14:40بڑا منفرد کرتا تھا
14:42اور بڑی سادگی تھی ان کو
14:43کوئی ان کے یہاں کوئی طوا نہیں تھی
14:45کوئی حرس نہیں تھی
14:46کوئی لالس نہیں تھا
14:47بڑی سادگی کے ساتھ
14:49اور بڑی شان کے ساتھ
14:50انہوں نے اپنی زندگی گزاری
14:52ایک باغو بہا شخصیت
14:55بہت دلچسپ انداز میں
14:56آپ نے ان سے جڑا یہ واقعہ بیان کیا
14:58ان کے کلام میں
15:00سماجی روئیوں
15:01سیاست اور انسانی تضادات پر
15:03جو تفسرہ ملتا ہے
15:04اسے آج کے حالات میں
15:06کس نظر سے دیکھتے ہیں
15:07ہاں دیکھیں بلکل
15:08بلکل آج جو مسائل ہیں
15:12ان کا انہوں نے نظر ذکر کیا
15:14بلکہ ان کا حل بھی
15:17پیش کیا
15:18اور بڑا شغفتہ انداز میں
15:20وہ شائستہ انداز میں
15:21ان کے مسائل پیش کیے
15:23اور اس مزا کے پہلو سے
15:24انہوں نے کوئی نہ کوئی
15:25ایک پیغام دینے کی کوشش کی
15:29ایک یہ چاہا کہ جو خرابیاں ہیں
15:31یہ دور ہو جائیں
15:32جس طرح میں نے ارز کیا تھا
15:34کہ ہستے ہستے آدمی
15:35رونے لگتا تھا
15:37کیونکہ ایسا بیسے چھوڑ جاتے تھے
15:39اور بہت سی ان کے نظمیں ہیں
15:43یہ آشار ہے ان کا جس میں
15:45اس طرح کا ذکر ملتا ہے
15:47تو اگر ہم ان کی نظمیں پڑھتے ہیں
15:49ان کی شخصیت کو سمجھتے ہیں
15:51تو بہت آسانی رہے گی
15:54آج کے اس سماج کی جو خرابیاں ہیں
15:56ان کو دور کرنے کے لیے
15:58وہ یہی کرتے رہے زندگی بھر
16:00ایک خوبصورت ماحول رہے
16:02ایک ہستہ آمسورتہ
16:04معاشرہ تشکیل پائے
16:05یہ ان کی ایک خواہش بھی تھی
16:07اور یہی انہوں نے اپنے کلام کے ذریعے
16:10زندگی بھر کیا دی
16:12جی اب ان کی شائری پر ہی
16:14متوجہ ہوتے ہیں
16:15اب وہ لمحہ جس کا ناظرین کو
16:17ہمیشہ انتظار رہتا ہے
16:19چاداب صاحب آپ سے گزاریش ہے
16:21کہ ساغر خیامی کے چند منتخب اشار
16:23ناظرین کے لیے پیش کریں
16:25تاکہ ان کے کلام کی اثر انگیزی کو
16:27براہ راست محسوس کیا جا سکے
16:32ہاں جی بلکل
16:34دیکھئے
16:35میں نے ذکر کیا تھا کہ
16:38خزل سے آغاز کیا تھا
16:39پھر تنزو مزاہ میں نام کم آیا
16:41اور پھر ایک نظم انہوں نے کچھ وہاں کے لیے
16:43کچھ وہاں کے لیے
16:45تو اب دیکھئے جب وہ
16:48سرہاں سے
16:49اس کلام کا
16:50اپنے جو ان کا
16:52ایک مذہبی
16:53کل تھا
16:54اس کا بھی کس پہرائے میں
16:56وہ تارلو کر آ رہے ہیں
16:58وہ کہتے ہیں کہ
17:00زمانے بھر میں میری شائری کا ہے
17:03چرچہ زمانے بھر میں
17:05میری شائری کا ہے
17:07یعنی میرا کلام
17:10خزانہ ہسی کا ہے
17:12یعنی میرا کلام
17:13خزانہ ہسی کا ہے
17:14یہ مرتبہ حقیر کو
17:16بخشا نبی کا ہے
17:19یہ مرتبہ حقیر کو
17:20بخشا نبی کا ہے
17:21جو کچھ ہے میرے پاس
17:23وہ صدقہ علی کا ہے
17:25جو کچھ ہے میرے پاس
17:27وہ صدقہ علی کا ہے
17:27اب دیکھیں ان کا
17:28مزاہ کا پہلو ان کے
17:29ہا رہا ہے
17:30یہ مصر پڑھ
17:31پھر میں آتا ہوں
17:32آتا ہے کہ
17:32چرچہ
17:33بھرے
17:33چرچہ زمانے بھر میں
17:34میری شائری کا ہے
17:35یعنی میرا کلام
17:36خزانہ علی کا ہے یہ مرتبہ حقیر کو بخشہ نبی کا ہے جو کچھ
17:40ہے میرے پاس وہ صدقہ علی کا ہے اب جو میرے کلام کو محمل
17:44بتائے گا اب جو میرے کلام کو محمل بتائے گا اللہ اس کو
17:50عرش پہ مرغہ بنائے گا تو یہ دیکھیں ایک مزا کا پہلو تلاش
17:55کر لیا انہوں نے شائری میں بھی عمران بھائی میں نے کہا تھا کہ
17:59شائری سے انہوں نے آغاز کیا تھا اور شائری معاف کیجئے غزل
18:03سے آغاز کیا تھا غزل کے کچھ شیر پہلے میں پڑھ دیتا ہوں آپ
18:06نے بھی آغاز کیا تھا ان کی ان کا جو تعارف کر رہا تھا غزل
18:09کے شیر سے ہی کرایا تھا تو ایک دو تین غزلوں کو کچھ شیر پڑھتا
18:13ہوں ایک ایک دو دو شیر وہ کہتے ہیں کہ ساری جفائیں سارے کرم یاد
18:16آگئے ساری جفائیں سارے کرم یاد آگئے جیسے بھی یاد آئے ہوں ہم
18:24یاد آگئے جیسے بھی یاد آئے ہوں ہم یاد آگئے مدت ہوئی ہے بچھڑے
18:31ہوئے اپنے آپ سے سب دیکھیں کہ خود سے بچھڑنا مدت ہوئی ہے
18:35بچڑے ہوئے اپنے آپ سے
18:38دیکھا جو آج
18:39تم کو تو ہم یاد آگئے
18:42دیکھا جو آج
18:43تم کو تو ہم یاد آگئے
18:45کیا مزید شعر ہے
18:46غزل کا مطلب شعر
18:48اور سماعت کیجئے
18:50اٹھ چلے وہ
18:51تو اس میں حیرت کیا
18:54اٹھ چلے وہ
18:55غزل کا جو ایک روایتی معشوق ہے
18:57اٹھ چلے وہ
18:58تو اس میں حیرت کیا
19:00ان کے آگے
19:01وفا کی قیمت کیا
19:03ان کے آگے وفا کی قیمت کیا
19:06اب شیر دیکھ لیں
19:07کسی غدل کا
19:08اس کے کوچے سے ہو کے آیا ہوں
19:11اس کے کوچے سے
19:13ہو کے آیا ہوں
19:15اس سے اچھی ہے کوئی جنت کیا
19:18اس سے اچھی ہے کوئی جنت کیا
19:20یہ مطلب بھی سن لیں
19:21گلوں سے پیار کیا اور گلے لگا کے چلے
19:25گلوں سے پیار کیا
19:26اور گلے لگا کے چلے
19:28چمن میں خاروں سے دامن نہم بچا کے چلے
19:30دیکھیں وہ جو آپ نے سوال کیا تھا
19:32تھا کہ آج کے معاشرے میں تو کہہ رہا ہے کہ صرف گل ہی نہیں بلکہ
19:36ہمیں خاروں سے بھی پیار کرنا ہے جیسے جگر کا اوشید ہے کہ گل ہی
19:42نہیں عزیز کاٹوں سے بھی نباہ کی جا رہا ہوں تو یہ ہے ساگر خیابی
19:48صاحب کا غزل کا لہجہ گلوں سے پیار کیا اور گلی لگا کے چلے چمن
19:51میں خاروں سے دامن نہ ہم بچا کے چلے اب ان کی نظم ان کی مزایہ
19:57شاعری کی طرف آتے ہیں ان کی بہت مشہور نظمیں ہیں جس میں عشق
20:01بزریہ پتنگ جس میں جو عشق کی پیچیدگیاں ہیں عشق کی جو
20:05جھنے ہیں وہ پتنگ کے ذریعے پتنگ کو اپنا ایک حوالہ بنا کر
20:11بیان کرتے جاتے ہیں اور اس بڑا مزایہ انداز میں انہوں نے عشق
20:14کی پیچیدگیوں کا ذکر کیا ہے عشق بزریہ پتنگ ایک نظم ہے ان کے
20:19کار برائے فروخت اس میں وہ جو بڑے لوگوں کے معاملات ہیں اس کا
20:25وہ ذکر کرتے ہیں کہ کس طرح سے بڑے لوگوں کے یہاں جو اس کی
20:29اس کی سچائی ہے وہ کیا ہے جو بدلے ایک دکھاوہ ہے اور اس کے
20:33اندر کیا ہے تو کار برائے فروخت بسکر کرتے ہیں کرکٹ میں جن کی
20:37بڑے اچھی نظمیں اور کرکٹ پر تو ان کی ایک سے زیادہ نظمیں ہیں ایک
20:41نظم تو ان کی بہت سنی جاتی تھی وہ تو مقبول تھی وہ اس کا ایک
20:44کچھ چیز سناتا ہوں کہ بیزار ہو گئے تھے جو شائر حیات سے یہ کرکٹ
20:49کو انہوں نے جو کرکٹ کا جنون ہے اور اس سے جڑے واقعات ہیں اس کو انہوں
20:53شائر اور شائرات کا میچ اپنی طرح سے بنا کر پیش کیا ہے تو بڑی
20:58دلچسپ نظمیں بڑی فرمائش ہوتی تھی اس نظمیں بیزار ہو گئے تھے جو
21:04شائر حیات سے کرکٹ کا میچ کھیل لیا شائرات سے اب اس میں کچھ مختلف
21:10اشار سنا رہا ہوں اسے اتر سے جس سے اندازہ ہوتا ہے جس نے آپ نے
21:14ذکر ہی کیا تھا ان کی خضل کی تہداری کارخورت سورتی کا کس طرح سے
21:18تھی تھی تھی تھی تھی تھی تھی تھی تھی تھی تھی تھی تھی تھی تھی تھی تھی تھی تھی تھی
21:34تھی تھی تھی تھی تھی تھی تھی تھی تھی تھی تھی تھی تھی تھی تھی تھی تھی تھی تھی تھی
21:43تھی تھی تھی تھی تھی تھی تھی تھی تھی تھی تھی تھی تھی تھی تھی تھی تھی تھی تھی تھی
21:44تھی تھی تھی تھی تھی تھی تھی تھی تھی تھی تھی تھی تھی تھی تھی تھی تھی تھی تھی تھی
21:46تھی تھی تھی تھی تھی تھی تھی تھی تھی تھی تھی تھی تھی تھی تھی تھی تھی تھی تھی تھی
21:47تھی تھی تھی تھی تھی تھی تھی تھی تھی تھی ت
21:47جس طرح دستیناد میں ساغر شراب کا جب بول پھیکتی تھی وہ گیسو سوار کے نزدیک اور ہوتے تھے حالات
21:56ہار کے کہتے تھے میچ دیکھنے والے پکار کے استاد جا رہے ہیں شبیغ غم گزار کے استاد کہہ رہے
22:04تھے کہ پھٹکار میچ پر دو دو لپک رہی ہیں شریفوں کے کیچ پر یہ دلچسلنگ تھی اس میں ایک
22:10اور بڑا بڑا خوبصورت پہلورن تلاش کیا ہے کیا نکتہ نکالا اوروں نے کہا ہے کہ جتنی تھی بیوٹیفل
22:16وہ سلپ اور گلی پہ تھی میچ کی حکمت عملی کہ جب کوئی کپتان کس طرح سے فیلڈنگ سیٹ کرتا
22:23ہے اب شاید ہی بناتے ہیں اس کو جتنی تھی بیوٹیفل وہ سلپ اور گلی پہ تھی جتنی تھی اوور
22:30ایج وہ سب باؤنڈری پہ تھی یہ ہے ان کی جو کرکیٹ میچ ہے اس کی نظم ہے اور عام
22:36ان کی بڑی خوبصورت نظم تھی بڑی وائرل ہو جاتی ہے آج بھی اور اس کو ایک شیر سناتا ہوں
22:43کہ عام تیری یہ خوش نصیبی ہے
22:46ورنہ لنگڑوں پہ کون مرتا ہے کیا پہلو نکالا ہے کیا بات سے بات پیدا کی عام تیری یہ خوش
22:53نصیبی ہے ورنہ لنگڑوں پہ کون مرتا ہے وہ لنگڑا ہم سب پسند کرتے ہیں مرتے ہیں لنگڑوں پہ
22:59کبوتر ایک نظم ہے ان کی اور اس کے علاوہ جس میں انہوں نے سماج پر تنس کیا ہے غالب
23:04پر ان کی بڑی نظمیں ہیں جو مرزا غالب پر کہی ہے مرزا غالب دلی میں اور غالب کے حوالے
23:10سے کئی نظمیں انہوں نے کہی ہیں
23:12اب میں کچھ قطات ان کے سناتا ہوں جو بڑے بشہور تھے یہ بولا اور اس سے دیکھیں قطات کے
23:19پیچھے جو میسیج ہے جیسے گاؤں اور شہر کی زندگی کا فرق میں بتا رہا ہوں آپ کو
23:23کہ گاؤں میں چھوٹے چھوٹے فیلیٹس میں کس طرح سے لوگ رہتے ہیں زندگی گزارتے ہیں
23:27تو سنیے قطات اس کا عنوان ہے دلی کا کتہ
23:29یہ بولا دلی کے کتے سے گاؤں کا کتہ
23:34یہ بولا دلی کے کتے سے گاؤں کا کتہ
23:37کہاں سے سیکھی عدہ
23:39تم نے دم دبانے کی
23:42کہاں سے سیکھی عدہ تم نے دم دبانے کی
23:45وہ بولا دم کے دبانے کو بزدلی
23:47نہ سمجھ
23:47جگہ کہاں ہے یہاں دم تلکھ لانے
23:51بڑے شہر ہوگا جو مسئلہ ہے چھوٹی جگہوں کا
23:53چھوٹی چھوٹے فیلیٹس میں رہنے کا
23:55اس کا کیا خوصورت ذکر کیا ہے
23:57ایک عاشق اثر
23:59عاشق اثر حاضر
24:00یعنی جدید احت کا کیا عاشق ہو سکتا ہے
24:03وہ کہتے کہ یہ عشق نہیں مشکل
24:05بس اتنا سمجھ لیجے
24:09مشکل بس اتنا سمجھ لیجیے
24:12کب آگ کا دریاء ہے
24:13کب ڈوب کے جانا ہے
24:16مایوس نہ ہو عاشق
24:17مل جائے گی معشوقہ
24:19بس اتنی سی زہمت ہے
24:21موبائل اٹھانا ہے
24:23اب یہ ساغر صاحب کہہ رہے ہیں
24:25دس پندرہ سال پہلے کہ موبائل شروع ہوا تھا
24:27اور آج تو آپ خود دیکھ رہے ہیں
24:29کہ کتنی آسانیاں ہو گئی ہیں
24:30آج کے عہد میں رسائی کتنی آسان ہیں
24:33کہ آپ چوبیس گھنٹے میں
24:35کبھی بھی مل سکتے ہیں
24:36اور پرانے زمانے کا عاشق جو ہے وہ اتظار کرتا تھا
24:39کہ جھلک مل جائے
24:40خط نہیں جا پاتا تھا
24:42یہ فرق بیان کرتے ہیں اپنے اس خطے میں
24:46اور ایک شیر جو
24:47مشاعروں میں آج کل بڑی خطرناک شاعری لوگ پڑتے ہیں
24:50بڑا ایک طرح سے
24:52انقلابی ہونے کے نام پر بڑی
24:54پسل پسل مچاتے ہیں
24:55ہنگامہ خیر شاعری
24:56تو اس پر انہوں نے بڑا خوبصورت تنس کیا تھا
24:59انہوں نے کہا تھا کہ عدب میں آگئے
25:01خم ٹھوک شاعر
25:03عدب میں آگئے
25:04خم ٹھوک شاعر
25:06غزل کیا مہربانی کر رہی ہے
25:10غزل کیا
25:11مہربانی کر رہی ہے
25:13جمن کھلتے تھے کل
25:15جس کے بدن پر
25:17وہ لڑکی پہلوانی کر رہی ہے
25:20وہ لڑکی
25:21ابھی غزل کے ساتھ
25:23جو حرکتیں ہو رہی ہیں
25:25غزل کے نام پر جو بھونڈی حرکتیں ہو رہی ہیں
25:27اس پر کیا خوبصورت تک احساس ہے
25:31اس پر بیان کیا
25:31اس پر تنس بھی کیا ہے
25:33غزل
25:35غزل
25:35آپ اپنا درد بیان کر رہی ہے
25:37چمن کھلتے تھے کل
25:39جس کے بدن پر
25:40وہ لڑکی
25:41پہلوانی کر رہی ہے
25:43کہاں نکلتی تھی
25:45نمکین صورتیں گھر سے
25:47نمک کی شہر میں قیمت جو بڑھ گئی پیارو
25:49ایک بار نمک کریڈ بڑھ گئے تھے
25:51تو انہوں نے یہ قطع کہا تھا
25:53کہاں نکلتی تھی
25:54نمکین صورتیں گھر سے
25:56اب نمکین صورتیں گھر وہ
25:57اس کو شائری بنا رہے
25:59کہاں نکلتی تھی
26:00نمکین صورتیں گھر سے
26:02نمک کی شہر میں
26:04قیمت جو بڑھ گئی پیارو
26:05نمک حلالوں کی
26:07یوں ہی کمیٹی دنیا میں
26:08نمک حراموں کی اوقات بڑھ گئی ہے
26:11کیا بڑا بڑا باریک سا
26:13بڑا لطیر سا تنز اس میں
26:16یہ قطعہ
26:17سنیں بڑا دلچسپ قطع ہے
26:20رفتہ رفتہ
26:21ہر پولیس والے کو شائر کر دیا
26:25رفتہ رفتہ
26:26ہر پولیس والے کو شائر کر دیا
26:30محفلے شیرو سخن میں
26:32بھیج کر سرکار
26:34رفتہ رفتہ ہر پولیس والے کو شائر کر دیا
26:36محفلے شیرو سخن میں بھیج کر سرکار
26:39ایک قیدی صبح کو
26:41پھانسی لگا کر مر گیا
26:43ایک قیدی صبح کو
26:45پھانسی لگا کر مر گیا
26:46رات بھر غزلیں سنائی
26:48اس کو تھانے دار میں
26:50رات پر غزلیں سنائیں اس کو تھانے دار میں
26:53تو یہ بڑا دلچسپ ان کا قطع ہے
26:56ٹرین ایک نظم ہے ان کی
26:57ٹرین میں جو حال ہوتا تھا خاصتوں سے پیسنجر ٹرینوں میں
27:00جس آج بھی اس قدر بھیڑ ہوتی ہے
27:03جو اس کی صلاحیت ہے
27:05اس سے تین چار گناہ زیادہ
27:07مسافر اس میں چلک سوار ہو جاتے ہیں
27:09تو اس چند لائنے میں اس کی سنہ رہا ہوں
27:11اس کا نظم کونوان ہے ٹرین کا سفر
27:15کھاتے تھے لوگ لے کے سموں سے سڑے ہوئے
27:17اب یہ پورا پورا نظام بیان کر رہی ہے نظم کی
27:21کیا نظام ہے کیا سسٹم ہے
27:22ریلوے کا اور ملک کا
27:24کھاتے تھے لوگ لے کے سموں سے سڑے ہوئے
27:27کچھ لوگ تھے زمین پہ اوندھے پڑے ہوئے
27:30گاڑی تھی اتنی لیٹ کے بچے بڑے ہوئے
27:33گاڑی تھی اتنی لیٹ کے بچے بڑے ہوئے
27:37جھرمٹ میں مہوشو کے تھے ملہ کھڑے ہوئے
27:40بھرپور وہاں شباب یہ زندہ تھے نام کے
27:45یاسین پڑھ رہے تھے کلیجے کو تھام کے
27:48یہ چند لائنیں اس نظم کی ہیں
27:51کرکٹ پہ بھی ان کا بڑا ایک خاص موضوع تھا
27:53میں نے ایک نظم کے کوئی شیرس ہوئے
27:54ایک خطہ بھی سن لیجئے کرکٹ کا
27:56کہتے کہ عشقہ گیم بھی کرکٹ ہے
27:59یہ تماشا نہیں ہے بھالو کا
28:02سینچوری کے قریب بھی یارو
28:04خطرہ رہتا ہے ل بی ڈبلیو کا
28:07کیا خوبصورت خطہ ہے
28:09اور جو آج کل
28:11ماحول ہے ایک نظم ہے ان کی
28:12نظم کیا قطع ہے وہ بھی اس کے دو
28:14مصرے مجھے سوٹی آدھا رہے ہیں کہ نفردوں کی
28:17جنگ میں دیکھو تو کیا کیا
28:18کھو گیا بھالا غور کرنے کا سوال ہے
28:21یہ آپ کی اس سوال کا جوابی جو آپ نے
28:23کہا تھا کہ آج کے معاشرے میں کیا
28:24اس طرح ریلیونٹ ہے ان کی شائع
28:27کہتے ہیں کہ نفردوں کی جنگ میں دیکھو
28:29تو کیا کیا کھو گیا
28:30سبزیاں ہندو ہوئی پکرا مسلمہ ہو گیا
28:33یہ بالکل آج کا ماحولات
28:36تو بالکل شدت پر ہے
28:36تو اس طرح کی شائعی ان کی ملتی ہے
28:40ایک اور قطع میں
28:42سنا دیتا ہوں آپ کو کہ
28:43بولا دکاندار کے کیا چاہیے تمہیں
28:46مزہ ہے بھرپور مزہ
28:48بولا دکاندار کے کیا چاہیے تمہیں
28:50جو بھی کہو گے
28:51میری دکا پر وہ پاؤ گے
28:53میں نے کہا
28:55کہ کتے کے کھانے کا کیک ہے
28:58بولا یہیں پہ کھاؤ گے
28:59یا لے کے جاؤ گے
29:01بولا یہیں پہ کھاؤ گے
29:03یا لے کے جاؤ گے
29:04تو یہ تمام قطعات اور تمام اشار
29:06جو ہیں ساغر خیامی صاحب کا
29:08جو مزہیاں اس لئے
29:09اس کی بہترین مثالیں ہیں
29:10جو میں نے یہاں پر پیش کی
29:11ان کا کبال یہی تھا
29:13کہ جو ہسی تھی
29:15اس کے پردے میں
29:16کہیں نہ کہیں سماجی اور تنقید
29:19جو ہے
29:19وہ چھپی ہوتی تھی
29:21ایک شیر
29:22یہ چند شیر میں ان کے اور سناؤں گا
29:24جو آج کل کے ماحول میں
29:26ایک پیغام دیتا ہے
29:28ساغر خیامی صاحب کا
29:30وہ کہہ دے کہ ہندو یہ سوچتے ہیں
29:31کہ بیکنٹ جائیں
29:32بیکنٹ جائیں
29:35ہندو یہ سوچتے ہیں
29:36کہ بیکنٹ جائیں
29:38مسلم یہ سوچتے ہیں
29:39کہ فردوس پائیں گے
29:40عیسائیوں کو ناس کے عیسیٰ بچائیں گے
29:44میرا خیال ہے
29:45سبھی سیٹی بجائیں گے
29:46اب یہ ایک دم مزہ پیدا ہو جاتا ہے
29:48میرا خیال ہے سبھی سیٹی بجائیں گے
29:50ہندو ہی جائے گا
29:51نہ مسلمان جائے گا
29:52جنت میں گھر گیا بھی تو انسان جائے گا
29:57یہ جو آج کے ماحول میں ان کی شائری ہو سکتی ہے
30:01اس کا ایک سلسلہ ہو سکتا ہے
30:04یہ تھے ساغر خیامی صاحب جن کے بارے میں
30:07بشیر بدر صاحب نے میں ان کا ایک جملہ ضرور یہاں پر کوٹ کروں گا
30:10بشیر بدر صاحب نے لکھا تھا ایک جگہ
30:14کہ اکبر الہبادی اور نرزا نقوی واہی کے خانوادے کے شاعر ہیں
30:19ساغر خیامی بڑا اخراج عقیدت ہے بڑا اخراج تحسین ہے
30:23بشیر بدر کا یہ کہنا ہے کہ اکبر الہبادی کے اور رضا واہی نقوی کے خانوادے سے
30:27تعلق ہے طرح سے ساغر خیامی صاحب کا
30:30جی شاغر خیامی صاحب کی شائری اور ان کی زندگی اور ان کے زندگی سے جڑے واقعات کو
30:36آپ نے بہت دلچسپ انداز میں پیش کیا
30:38شاداب صاحب آپ نے جس دلسوزی اور گہرائی کے ساتھ
30:41ساغر خیامی کی شخصیت اور ان کی شائری کے مختلف پہلموں کو
30:45ہمارے سامنے اجاگر کیا
30:47اس کے لیے ہم تہے دل سے آپ کے شکر گزار ہیں
30:50یہ گفتگو یقینا ہمارے ناظرین اور قارئین کے لیے
30:54نہ صرف معلومات افضار ہی ہوگی
30:57بلکہ فکر اور سوچ کی
30:59نئی سمت دینے کا بھی باعث بنے گی
31:01ناظرین و سامنین اگر آپ کو عدب نامہ کی یہ
31:05نشست پسند آئی ہو
31:06تو ویڈیو کو لائک کیجئے
31:08چینل کو سبسکرائب کیجئے
31:09اور بیل آئیکن ضرور دبائیے
31:12تاکہ ہماری ہر نئی پیشکش آپ تک بروقت پہنچتی رہے
31:15ہم اگلی نشست میں ایک اور اہم عدبی شخصیت کی زندگی
31:20اور اسلوپ اور نظریات پر گفتگو کے ساتھ
31:24دوبارہ حاضر ہوں گے
31:25تب تک کے لیے اجازت دیجئے
31:27اپنا خیال رکھئے گا
31:29پھر ملاقات ہوگی
Comments