Meraj Faizabadi | Adab Nama | ادب نامہ | معراج فیض آبادی: سچ کی صدا اور خودداری کی شاعری
معراج فیض آبادی—ایک ایسا نام جس کی شاعری میں سادگی بھی ہے اور گہرائی بھی۔ اس قسط میں ہم ان کے منفرد اسلوب، طنز، اخلاقی قدروں اور خودداری سے بھرپور شاعری کا جائزہ لیتے ہیں۔ یہاں آپ دیکھیں گے: ✔️ غزل میں متضاد انسانی رویے ✔️ سادہ زبان میں گہری باتیں ✔️ خودداری اور کردار کی جھلک ✔️ وہ اشعار جو دل کو چھو جائیں معراج فیض آبادی کی شاعری صرف الفاظ نہیں، بلکہ ایک سوچ، ایک نظریہ اور ایک احساس ہے۔ Meraj Faizabadi — A voice of simplicity with depth. In this episode, we explore his poetic style, subtle satire, moral reflections, and powerful sense of self-respect. What you’ll discover: • Contrasting human behaviors within a ghazal • Deep meaning in simple language • A strong message of dignity and values • Verses that resonate with the heart His poetry is not just expression—it’s a perspective, a philosophy.
#AdabNama #MerajFaizabadi #UrduPoetry #Shayari #Ghazal #UrduAdab #PoetryLovers #VoiceOfTruth
معراج فیض آبادی—ایک ایسا نام جس کی شاعری میں سادگی بھی ہے اور گہرائی بھی۔ اس قسط میں ہم ان کے منفرد اسلوب، طنز، اخلاقی قدروں اور خودداری سے بھرپور شاعری کا جائزہ لیتے ہیں۔ یہاں آپ دیکھیں گے: ✔️ غزل میں متضاد انسانی رویے ✔️ سادہ زبان میں گہری باتیں ✔️ خودداری اور کردار کی جھلک ✔️ وہ اشعار جو دل کو چھو جائیں معراج فیض آبادی کی شاعری صرف الفاظ نہیں، بلکہ ایک سوچ، ایک نظریہ اور ایک احساس ہے۔ Meraj Faizabadi — A voice of simplicity with depth. In this episode, we explore his poetic style, subtle satire, moral reflections, and powerful sense of self-respect. What you’ll discover: • Contrasting human behaviors within a ghazal • Deep meaning in simple language • A strong message of dignity and values • Verses that resonate with the heart His poetry is not just expression—it’s a perspective, a philosophy.
#AdabNama #MerajFaizabadi #UrduPoetry #Shayari #Ghazal #UrduAdab #PoetryLovers #VoiceOfTruth
Category
✨
PeopleTranscript
00:07نیشنل ہیرارڈ نو جیون اور قومی آواز کے مشترکہ عدبی پروگرام عدب نامہ میں آپ کا تہہ دن سے استقبال
00:14ہے
00:14میں ہوں عمران ایم خان اور آج کی نششت میں ہم بات کریں گے ایسے شائر کی جس نے اپنے
00:21منفرد لہجے سادہ مگر سرنگیز اسلوب اور فکرنگیز اشعار کے ذریعے
00:27اردو شائری میں ایک خاص مقام حاصل کیا ایک ایسا شائر جس کے اشعار میں زندگی کی تلخ حقیقتیں بھی
00:36ہیں اور حوصلے کی روشن کرن بھی
00:38زندہ رہنا ہے تو حالات سے ڈرنا کیسا جنگ لازم ہو تو لشکر نہیں دیکھے جاتے
00:45جی ہاں ہم بات کر رہے ہیں میراج فیضابادی کی جن کی شائری میں مضاحمت بھی ہے شہور بھی اور
00:54ایک ایسا سچ بھی جو دل میں اترتا چلا جاتا ہے
00:58اور آج کی نششت میں بھی ہمیشہ کی طرح ہمارے ساتھ موجود ہیں نامور شائر نہایت مقبول نازم مشاعرہ اور
01:07برے سغیر کی شہری روایت کے گہرے شناسہ
01:10مہین شاداب شاداب صاحب عدب نامہ میں آپ کا خیر مقدم ہے
01:16بہت شکریہ جناب
01:18سب سے پہلے ناظرین کے لیے یہ جاننا چاہیں گے کہ میراج فیضابادی کے مقام پیدائش ان کے خانوادے اور
01:26ابتدائی زندگی کے بارے میں آپ کیا بتانا چاہیں گے
01:33میراج فیضابادی اس طرح ان کے نام کا جو حصہ ہے فیضابادی
01:38اس سے ان کے بطن کی مناظبت کا اندازہ ہوتا ہے کہ ان کا تعلق فیضاباد سے تھا
01:45میراج فیضابادی صاحب فیضاباد کے کولا شریف ایک چھوٹا سا گاؤں
01:51وہاں آپ ایک زمیدار گھرانے میں پیدا ہوتے ہیں
01:55زمیدار گھرانا لیکن اس کا جو علمی میار ہے وہ اس وقت بڑا ممتاز تھا بہت نمائی تھا
02:04کیونکہ ان کے والد محترم اس زمانے میں جب میڈل تھے تو بڑا چرچہ تھا ان کا اسپاس گاؤں میں
02:09کہ یہ میڈل کلاس پڑھے ہوئے ہیں
02:12تو اس سے آپ اندازہ کر سکتے ہیں کہ وہ آلہ تعلیم یافتہ ان کے والد محترم تھے
02:18اس کے بعد ان کو ہجرت کرنی پڑی تقریباً آٹھ بھی جماعت میں وہ فیضاباد چلے آئے
02:23اور فیضاباد میں وہ مقیم رہے وہاں انہوں نے تعلیم حاصل کی اور پھر اس کے بعد لکھنو یونیورسٹی سے
02:34انہوں نے تعلیم حاصل کی
02:35اس طرح سے جو فیضاباد کے گاؤں سے سلسلہ شروع ہوتا ہے وہ ریاست طرف پردیش کی راجدھانی تک پہنچتا
02:43ہے
02:44جہاں تھا ان کے خانوازے کا تعلق میں نے ارز کیا کہ تعلیم یافتہ خاندان تھا زمیدار خاندان تھا
02:49تو ان کے جو آبا وعزداد تھے ان کے والد محترم کے بعد جو ایک سلسلہ تھا اس سے قبل
02:56تو اس میں جو زمیدارانہ ایک تھاٹ باٹ ہوتا ہے جو ایک طرح سے جاگیز دارانہ نظام کے عکس ہوتے
03:05ہیں
03:05وہ موجود تھے ان کے خاندان میں بھی اس کی بہت سی داستانیں انہوں نے اپنی کتاب میں لکھی
03:11جو ان کا شیری مجموعہ ناموس کے نام سے منظر عام پر آیا تھا
03:15اس میں انہوں نے اس کا ذکر کیا ہے کہ ان کے جو آبا وعزداد تھے
03:20اور ان کے جو قصے ہیں اس وقت کی جو ایک انہ ہوتی تھی زمیدارانہ
03:25اس کا ذکر انہوں نے کیا ہے
03:28دوسری بات یہ ہے کہ انہوں نے اس سب کچھ دیکھا جو ان کو شاید ناغوار بھی لگتا تھا وہ
03:33ماحول
03:35آزادی کے وقت تقریباً وہ پیدا ہوئے انہوں نے اس اکتالیس کی ان کی پیدائش ہے
03:39تو چھ سال بعد ہندوستان آزاد ہوتا ہے
03:43آزاد ہندوستان کے بعد جو فسادات ہوئے اور لوگوں کی منتقلی کا سلسلہ شروع ہوا
03:49اور ایک بڑا طبقہ اس سے متاثر ہوا
03:50وہ بھی ان کے معصوم ذہن پر کہیں نہ کہیں اس کے عقص نظر آ رہے تھے
03:55تو گویا قل ملا کر ہم اگر وہ جو انہوں نے اپنا دیباچہ لکھا ہے
04:00اپنا ایک مضمون لکھا ہے ناموس میں اپنے شیری مجموعے ہیں
04:03پاس شیری مجموعے تھے میراز صاحب کے
04:06تو ان میں سے شاید جو ولین شیری مجموع ہے اس میں انہوں نے اس کا ذکر کیا ہے
04:09تو اس میں عمر کا راستہ روکے ہے یہ پاگل لڑکا
04:13عمر کا راستہ روکے ہے یہ پاگل لڑکا
04:16اس عنوان سے انہوں نے لکھا ہے
04:17تو اس میں انہوں نے ذکر کیا ہے کہ انہیں اخترال ایمان کی نظم ایک لڑکا بہت پسند تھی
04:22یعنی اس اخترال ایمان کی نظم کا جو ایک لڑکا کردار ہے
04:26اس میں وہ اپنا چہرہ دیکھتے تھے اس کے آئینے میں
04:29اس میں خود کو محسوس کرتے تھے جن لوگوں نے اخترالیمان کی نظم ایک لڑکا پڑھی ہے
04:36تو اس سے اندازہ ہو سکتا ہے کہ ان کی ذہنی کیفیت کیا تھی
04:40ان کے دل و دماغ میں کیا چل رہا تھا وہ کس ماحول میں پرورش پا رہے تھے
04:44اور کیا دیکھ رہے تھے وہ تمام چیز اس کے اندر ملتی ہے
04:47انہوں نے کہیں کہیں ہلکا سا اشارہ بھی دیا کہ جو ایک آگ کا دریہ نوویل ہے
04:54قرآن حیدر کا تو اس کا جو کردار ہے گوتم نیلامبر
04:59تو وہ لکھتے کہ میں گوتم نیلامبر تو نہیں لیکن پھر وہ داستان چھڑتے ہیں
05:04تو وہ اندازہ ہوتا کہ ان دو کرداروں کے آئینی میں ہم میراج فیضابادی کی شخصیت کو دیکھ سکتے ہیں
05:11جہاں تک علم کی بات ہے کہ ان کے جو دادا تھے ان کے خانوادے کے ان کے رشتے میں
05:17دادا لگتے تھے
05:17وہ ان کے بڑی کتابیں ہوتی تھیں اور وہ کتابیں داستانوی سب کتابیں تھیں
05:21تو انہوں نے ان سے کتابیں لے کر جو ان کے محلے کے یا ان کے خاندانی دادا تھے
05:29وہ کتابیں انہوں نے پڑھی یہ ہے تو انہوں نے عبدالحلیم شہر کو پڑھا نسیم حجازی کو پڑھا
05:33اور اس زمانے میں جو اچھا نوویل لکھنے والے لوگ تھے سادیف سردھنوی صاحب تھے
05:39ان کو پڑھ رہے تھے
05:41لیکن سادسادی وہ تریسے میں ہوش ربا
05:44الف لیلہ اور حاتم تائی جیسے قصے بھی پڑھ رہے تھے
05:47تو یہ تمام داستانیں اور یہ تمام جو ایک پورا پس منظر تھا
05:51ان کی شخصیت میں کہیں نہ کہیں جگہ بنا رہا تھا
05:55اور وہ تمام چیزیں ان کی شائری میں نکل کر سامنے آتی ہیں
05:59جس کا آپ نے ذکر بھی کیا ہے
06:01ایک احتجاج کی لے ہے
06:02یا اور جو سماجی مسائل سے ان کی ہم آہنگی تھی
06:05تو یہ ان کی اس شخصیت کا اثر تھا
06:08یہ ان کی شخصیت کا حصہ تھا
06:10اور یہی ان کی شائری کا بھی اس کو سمجھنے کا ایک ذریعہ ہو سکتا ہے
06:14جی شاداب صاحب آپ نے بہت ہی خوبصورتی سے
06:18ان کی ابتدائی زندگی اور ان کی شائری کے اصل کو منظر عام پر رکھا
06:25میراج فیضابادی کی شائری کا بنیادی مزاج کیا ہے
06:30ان کے یہاں کن موضوعات کو نمائی حیثیت حاصل ہے
06:36دیکھیں ان کے یہاں جو خاص طور پر ان کے اخلاقی پہلو بہت اجاگر ہو کر سامنے آتا ہے
06:43انسانی اخلاقیات یا ہمارے معاشرے کی جو بھی اخلاقیات ہو سکتی ہیں
06:47علمی اخلاقیات پہذیبی اخلاقیات
06:50اس پر بڑا زور ہے ان کا
06:53دوسری بات وہ جو
06:57ایک طرح سے اس کا ذکر آپ نے کہا تھا احتجاج
07:01وہ سوالات کھڑے کرتے ہیں جو صورتحال ہے جو سیاسی جبر ہے ہو سکتا ہے
07:07یا اور بھی جو سماجی ہمارے یہاں دوا ہو سکتا ہے
07:11اس کے زیر اثر جو بھی صورتحال ہے وہ ان کی شائری میں سمٹ کر آتی ہے
07:16اور یہ سلسلہ گھریلو معاملات تک بھی پہنچتا ہے
07:19تو یہ ایک خاص پہلو ان کی شائری کا
07:22جو ہم اخلاقی پہلو کہہ سکتے ہیں
07:24جس کو ہم سوال کہہ سکتے ہیں وہ سوال قائم کر رہے ہیں
07:27اور وہ نصیحتیں بھی کرتے ہیں
07:31ان کے ہاں پندوں نصائح کی بڑی ایک صورتحال ملتی ہے
07:35جو ان کے ہاں دیکھنے کو ملتی ہے
07:37اور بڑا گہرا ایک احساس ہے ان کے ہاں
07:40وہ بنیادی طور پر بہت حساس انسان تھے
07:43خوددار تھے
07:44اور چھوٹی چھوٹی باتوں کو چھوٹی چھوٹی چیزوں کو
07:48بہت گہرائی کے ساتھ محسوس کر سکتے تھے
07:50تو یہ احساس کی شدد بھی
07:52ان کی شائری کا ایک بنیادی پہلو ہو سکتا ہے
07:55اور جو ان کے جذبات کی فراوانی ہے
07:58لیکن وہ جذبات ایک بہت کھل کر سامنے نہیں آتے
08:01بلہ ان کا انداز تو براہ راست ہے
08:04لیکن ایک بڑا محذب انداز
08:06اور ایک بڑا دبا چھپا ہوا لہجہ
08:09کئی مرتبہ اس صورتحال کو پیش کرتا ہے
08:12تو یہ ان کی چیزوں کے ان کی شائری کا خاص پہلو تھا
08:18کیا ان کی زندگی سے جڑا
08:19کوئی ایسا واقعہ یا پہلو ہے
08:21جو ان کی شخصیت یا شائری کو سمجھنے میں
08:23خاص طور پر مدد دیتا ہو
08:27جس طرح میں نے ارز کیا تھا
08:29کہ وہ بیسیکلی خوددار انسان تھے
08:31وہ بڑا حساس انسان تھے
08:32وہ اپنا کبھی ذاتی غم
08:35یا اپنا ذاتی دکھ جو ہے وہ کبھی
08:38کسی کے سامنے آیا نہیں کرتے تھے
08:41مثلا جس طرح وہ آخری وقت میں
08:43ایک بڑے موزی مرض کا شکار رہے
08:45لیکن بڑا مردانہ وار مقابلہ کیا
08:48انہوں نے اور بہت ہمت کے ساتھ
08:50مقابلہ کیا
08:51اور پوری زندگی جو ان کے مشاعروں کی ہے
08:54اس میں کبھی انہوں نے اپنی جو
08:56خودداری ہے اس کا دعوان ہاتھ سے نہیں جانے دیا
08:59دوسرے ان کے ہاں
09:00ایک سپاس گزاری کا جذبہ بہت تھا
09:03میراز صاحب کے ہاں
09:04مثلا انہوں نے جب
09:06اپنی کتاب شائع کی تو اس میں ذکر بھی کیا ہے
09:08خاص طور سے
09:09ان لوگوں کا جنہوں نے مشاعری میں
09:12ان کو لانے میں ان کی مدد کی
09:14اور ان کو مشاعروں میں
09:16انٹروڈیوز کرایا اور ان کا تعبون بھی کیا
09:18مثلا انہوں نے
09:20ذکر کیا ہے
09:21وسیم بریلوی صاحب کا
09:23کشن بیہاری نور صاحب کا
09:25اور اسی زمانے کے ایسے کئی شورہ کا انہوں نے خاص طور سے ذکر کیا ہے
09:29تیسری بات
09:30یہ سی کہ وہ
09:32اپنے فن کی داد
09:33کے لیے
09:35اپنے فن پر کسی گفتوگ کے لیے
09:37یا تنقید یا نکتہ جو
09:39آج کے لیے ہمارے تنقید نگار ہیں ان تک وہ کبھی انہوں نے
09:43رجوع نہیں کیا
09:44اپنی کتابیں بھی چھپائیں تو کسی سے کوئی بڑا مضمون نہیں لکھوایا
09:48بلکہ انہوں نے اپنی شاعری کو سیدھے سیدھے قارین کے سامنے پیش کر دیا
09:52اور انہوں نے لکھا بھی اپنی کتاب میں
09:54کہ مجھ پر اس لیے نہیں لکھا گیا
09:56کہ میں نے کسی ناقت کو کبھی کوئی شاعری نہیں بھیجی اپنی
10:00میں اس لیے رسائل میں شاعر نہیں ہوا
10:02کہ میں نے کسی رسائل کوئی غزل نہیں بھیجی
10:04تو وہ یہ چاہتے تھے
10:06کہ ہمیں
10:07کسی ناقت کو یا کسی قاری کو
10:10یا سامنے کو خود شاعر تک پہنچنا چاہیے
10:12جو فن کے قدردان ہیں
10:14وہ اگر فنکار تک پہنچے
10:17تو ظاہر ہے کہ اس سے
10:18فنکار کو ایک بڑی تقویت ملتی ہے
10:20اور یہ تمام چیزیں جو ان کی زندگی
10:22کا حصہ تھی یہ ان کی شاعری میں بھی
10:24اس کا بڑا اظہار ملتا تھا
10:27اور وہ جو ان کے ہاں
10:29ایک اصلاحی فکر تھی
10:30وہ ان کی زندگی کا بہت اہم حصہ تھی
10:33جی
10:35میراج فیضابادی کے
10:36اسلوب بیان اور زبان کی خصوصیات پر
10:39اگر روشنی ڈالیں تو آپ کیا کہیں گے
10:42اسلوب سادہ تھا ان کا
10:44اور زبان بلکل سادہ
10:46عام فہم زبان جو
10:47لوگ کو آسانی کے ساتھ میں مان جائے
10:49لیکن اس سادہ زبان میں
10:52اور اس سامنے کی بات میں
10:54بڑی گہری باتیں ہوتی تھی
10:56بڑا گہرہ تنز ہوتا تھا
10:58بڑی گہرہی کے ساتھ
11:01ہماری اخلاصی قدروں کو وہ اپنی شاعری میں
11:03پیش کر دیا کرتے تھے
11:05مثلا اپنے اسلوب کی سادگی کے باوجود
11:08ان کا لہجہ
11:09بڑا اثر انگیز تھا
11:10جو گہرہی تک اثر کر سکتا تھا
11:13اور انہوں نے براہ راست
11:16تخاتب کیا ہے
11:18ان کے شاعری میں
11:19براہ راست ایک فضا ملتی ہے
11:22کہ وہ سیدھی سیدھی
11:23بات کہتے تھے بغیر کسی لاغ لپیٹ کے
11:26لیکن اس کا جو شعری حسن تھا
11:27وہ پوری طرح برقرار رہتا تھا
11:30جو ہمارے اسازہ سے
11:32زبان کو برتنے کا
11:34چلن ہم تک پہنچا تھا
11:35وہ اس کا نئے تجربات کے باوجود بھی
11:38اس کا التزام رکھے ہوئے تھے
11:39اس کا احترام کر رہے تھے
11:40موضوعات کے سطح پر انہوں نے بہت تجربات کیے
11:43ایسے ایسے موضوعات کنہوں نے ذکری کیا
11:46کہ جو قرعین
11:47یا سامعین کے دل کو چھو جاتے تھے
11:50اور لگتا تھا کہ شخص
11:52آج کی بات کر رہا ہے
11:53آج کے مسائل کے بات کر رہا ہے
11:55تو اسلوب کی سادگی کے باوجود جو ہے
11:58ان کے ایک گہرائی تھی
12:00اور
12:00اس کا ایک اثر ہوتا تھا سننے والے پر
12:03سامنے پر
12:04تو ایک طرح سے انہوں نے شائری کو
12:06اظہار کا نہیں بلکہ اصلاح کا ذریعہ بھی برایا
12:08یہ ان کے خوبیتی بیسکلی ان کے اسلوب کی
12:12جی شاداب صاحب آپ نے
12:15میراج فیضابادی کی زندگی
12:16اسلوب اور ان کی شائری پر
12:19بہت خوبصورت انداز میں روشنی ڈالی
12:21اگر آپ میراج فیضابادی کے چند منتخب
12:23اشعار ناظرین کو سنائیں
12:25تو یقیناً نششت اور بھی یادگار ہو جائے گی
12:29دیکھیں میراج فیضابادی کے ایک شیر بڑا مشہور ہوا تھا
12:31اس کی وجہ سے پہچانے جاتے تھے
12:34مجھ کو تھکنے نہیں دیتا
12:36یہ ضرورت کا پہاڑ
12:39میرے بچے مجھے بڑھا نہیں ہونے دیتے
12:41یہ پہچان بن جگہ تھا
12:44میراج فیضابادی صاحب کی شائری کا
12:46اور یہ آج کے زمانے کا ایک سجبی ہے
12:49جو آج کل
12:50ایک ماحول ہے
12:54جو آج کل کے بچوں کا اپنے والدین کے تین
12:57اور والدین کی ذمہ دائیوں کا ختم نہ ہونا
12:59تو انہوں نے یہ ایک بھرپور مشاہدہ تھا
13:01ان کے زندگی کا
13:03یہ ان کا ذاتی تجربہ تو نہیں تھا
13:05اس کا اظہار بھی کیا انہوں نے
13:08لیکن ایک مشاہدہ تھا جو انہوں نے دیکھا تھا
13:11کہ ایسا ہوتا ہے تو اس کو انہوں نے
13:12بڑی خوصورتی کے ساتھ اس شیر میں ڈھالا تھا
13:15اسی غزل کے ان کے اور شیر بھی بہت اچھے ہیں
13:18تو میں پہلے اس غزل کے چند شیر آپ کو سنا دیتا ہوں
13:21اس کا مطلع ہے کہ ہم غزل میں تیرا چرچہ نہیں ہونے دیتے
13:26ہم غزل میں تیرا چرچہ نہیں ہونے دیتے
13:30تیری یادوں کو بھی رسوا نہیں ہونے دیتے
13:34تیری یادوں کو بھی رسوا نہیں ہونے دیتے
13:36اب یہاں حسن کا تقدس اور حسن کا جو ایک طرح سے رکھ رکھاؤ
13:42ایک عشق کا ہو سکتا ہے
13:43اس کا پورا بھرپوری ظاہر ملتا ہے
13:46کہ کتنا اعترام ہے
13:47حسن کا اور اس کی رسوائی
13:49نہیں چاہتا ہے کوئی عاشق
13:51ہم غدل میں ترہ چرچہ نہیں ہونے دیتے
13:54تیری یادوں کو بھی
13:55رسوائی نہیں ہونے دیتے
13:57کچھ تو ہم خود بھی نہیں چاہتے
13:59شہرت اپنی
14:02کچھ تو ہم خود بھی نہیں چاہتے
14:05شہرت اپنی
14:06اور کچھ لوگ بھی
14:08ایسا نہیں ہونے دیتے
14:10اور کچھ لوگ بھی ایسا
14:12نہیں ہونے دیتے
14:13عظمتیں اپنے چراغوں کی
14:16بچانے کے لیے
14:18عظمتیں اپنے چراغوں کی
14:20بچانے کے لیے
14:21ہم کسی گھر میں
14:23اجالہ نہیں ہونے دیتے
14:25ہم کسی گھر میں اجالہ نہیں
14:28ہونے دیتے
14:29آج بھی گاؤں میں
14:31کچھ کچھ مکانوں والے
14:34آج بھی گاؤں میں
14:35کچھ کچھ مکانوں والے
14:38گھر میں ہمسائے کے فاقع نہیں ہونے دیتے ہیں
14:41گھر میں ہمسائے کے فاقع نہیں ہونے دیتے ہیں
14:43اب دیکھیں مران صاحب دو متعداد صورتیں کی غزل میں
14:46جو غزل کی ریضہ خیالی ہے نا کہ غزل ہر شیر ایک الگ یونٹ رکھتا ہے
14:51تو جہاں وہ کہہ رہی ہیں کہ عظمتیں اپنے چراغوں کی بچانے کے لیے
14:56ہم کسی گھر میں اجالہ نہیں ہونے دیتے ہیں
14:59یہ ایک رویہ ہے انسان کا
15:01کہ وہ کس طرح سے چاہتا کہ صرف ہم ہی ہم رہیں
15:03لیکن دوسری طرف وہ ایک اچھا پہلو پیش کر رہے ہیں
15:06اگلے شیر میں
15:07کہ آج بھی گاؤں میں کچھ کچھے مکانوں والے
15:10گھر میں ہمسائے کے فاقع نہیں ہونے دیتے
15:13تو دو مختلف صورتیں خزل کے اندر پیش کرتے ہیں
15:16ذکر کرتے ہیں ترہ نام نہیں لیتے ہیں
15:18ہم سمندر کو جزیرہ نہیں ہونے دیتے
15:22ہم سمندر کو جزیرہ نہیں ہونے دیتے
15:25اور وہی شیر پھر دور آ رہا ہوں
15:27مجھ کو تھکنے نہیں دیتا
15:29یہ ضرورت کا پہاڑ
15:31میرے بچے مجھے بڑھا نہیں ہونے دیتے
15:34میرے بچے مجھے بڑھا نہیں ہونے دیتے
15:37ایک اور غزل وہ عموماً پڑھا کرتے تھے
15:39مشہارہ بڑی مشہور غزل تھی
15:42ان کا جو لہجہ ہے جو ان کی شخصیت ہے
15:44وہ بھی اس میں کھل کر سامنے آتی ہے
15:46وہ کہتے ہیں کہ اسی
15:49اسی تھکے ہوئے دستے طلب سے مانگتے ہیں
15:53جو خداری تھی ان کیا
15:54اسی تھکے ہوئے دستے طلب سے مانگتے ہیں
15:57جو مانگتے نہیں رب سے
15:59وہ سب سے مانگتے ہیں
16:01جو مانگتے نہیں رب سے
16:04جو مانگتے نہیں رب سے وہ سب سے مانگتے ہیں
16:07وہ بھیق مانگتا ہے
16:09حاکموں کے لہجے میں
16:12وہ بھیق مانگتا ہے
16:15حاکموں کے لہجے میں
16:16ہم اپنے بچوں کا حق بھی عدب سے مانگتے ہیں
16:21ہم اپنے بچوں کا حق بھی عدب سے مانگتے ہیں
16:24یہ بھی زمانی کی تبدیلیاں ہیں
16:26کہ کس طرح سے تبدیل ہو جاتی ہیں
16:30کہ جن کا جو مقام ہوتا ہے وہ کہاں پہنچ جاتے ہیں
16:32یا جن کا جو لہجہ ہوتا ہے وہ کس طرح تبدیل ہو جاتا ہے
16:35لوگ اپنی حدیں نہیں پہچانتے ہیں
16:37اور کئی شائستگی کام کرتی ہے
16:39ہم اپنے بچوں کا حق بھی عدب سے مانگتے ہیں
16:41میرے خدا انہیں توفیق خود شناسی دے
16:46میرے خدا انہیں توفیق خود شناسی دے
16:53چراغ ہو کے اجالا جو شب سے مانگتے ہیں
16:55چراغ ہو کے اجالا جو شب سے مانگتے ہیں
16:59وہ باشاہ ادھر مل کے دیکھتا ہی نہیں
17:05ہم اپنے حصے کی خیرات کب سے مانگتے ہیں
17:10اب یہ دیکھئے بھی آج کی صورت کے حالے
17:13کس طرح تک مستقین تک ان کے حق نہیں پہنچ پاتا ہے
17:18وہ باشاہ ادھر مل کے دیکھتا ہی نہیں
17:20ہم اپنے حصے کی خیرات کب سے مانگتے ہیں
17:24میں شہزادہ غربت امیر دشت انہ
17:29اب اس چیر میں تراقیب آ رہی ہے جہاں ایک طرف سادہ لہجہ اختیار کرتے ہیں
17:34وہاں اس طرح کی تراقیب بھی استعمال کرتے ہیں
17:37شہزادہ غربت اور امیر دشت انہ کی تراقیب ہیں
17:41میں شہزادہ غربت امیر دشت انہ
17:44یہ لوگ کیا میرے نام و نصب سے مانگتے ہیں
17:51اور بھی ان کی ایک غزل بہت مشہور تھی
17:53اگر اس نے کوئی شیر سناتا ہوں
17:55کہ زندگی دی ہے تو جینے کا ہنر بھی دینا
18:00زندگی دی ہے تو جینے کا ہنر بھی دینا
18:03پاؤں بخشے ہیں تو توفیق سفر بھی دینا
18:12یہ غزل بیود کی بہت مشہور تھی
18:14اور ایک شیر دیکھئے بلکل ایک عجیب موضوع ہے
18:18جو بلکل گھرانگن کا ہے
18:19جو غزل کے لیے نامانوس موضوع ہو سکتا ہے
18:22لیکن وہ استعمال کر رہے ہیں
18:23یہ مسئلہ بڑا عام ہے
18:24وہ کہتے ہیں کہ لہو کے رنگ کو
18:26مہدی کے رنگ نے چھین لیا
18:29لہو کے رنگ کو مہندی کے رنگ نے چھین لیا
18:32ہوا جوان جو بیٹا بھو نے چھین لیا
18:37ہوا جوان جو بیٹا بہو نے چھین لیا
18:39تو کس طرح کے موضوعات کو غزل قبول کر رہی ہے
18:43میں راج فرز آبادی کے یہاں جا کر
18:44ہوا جوان جو بیٹا لہو نے چھین لیا
18:49تخت شاہی کی حوص کیا
18:51یہ گدائی ہے بہت
18:53تخت شاہی کی حوص کیا یہ گدائی ہے بہت
18:56ہم فقیروں کے لیے ایک چٹائی ہے بہت
19:00ہم فقیروں کے لیے ایک چٹائی ہے بہت
19:07اور دیکھیں کہ ہو مبارک تمہیں دنیا کے خزانے لوگو
19:11ہو مبارک تمہیں دنیا کے خزانے لوگو
19:16ہم کو محنت کیے تھوڑی سی کمائی ہے بہت
19:19ہم کو محنت کی یہ تھوڑی سی کمائی ہے بہت
19:23تو وہ جو اخلاقی اخلاقی قدروں کا تحفظ ان کے ہاں ملتا ہے
19:26وہ ان تمام ان شیروں میں آپ محسوس کر رہے ہیں
19:33ایسا محسوس ہوتا ہے کہ کچھ اشعار میراج فیضابادی سے بھی اوپر چلے گئے ہیں
19:39کہ ان کا نام پیچھے رہ گیا ہے اور صرف شیر بار بار کوٹ کیے جاتے ہیں
19:45بالکل صحیح فرمایا آپ نے ان کے اشعار بار بار کوٹ کی جاتے ہیں
19:49اور واقعی یہ خوبی ہوتی ہے کسی شیر کی بھی
19:52اور شیر پیچھے چلا جاتا ہے کئی مرتبہ اور شیر آگے چلا جاتا ہے
19:56اب یہ شیر سنیے صاحب جو ان کے بہادریوں کے حوصلہ ملتا ہے
20:00لیکن سادگی کا مطلب یا آجزی یا انکساری کا مطلب یہ بھی نہیں
20:03کہ انسان اپنی انا کا سودا کر لے
20:05یا اپنے عزم سے اور اپنی شجاعت سے کھلوار کرے
20:08وہ شیر پڑھتے ہیں کہ زندہ رہنا ہے تو حالات سے ڈرنا کیسا
20:13زندہ رہنا ہے تو حالات سے ڈرنا کیسا
20:17جنگ لازم ہو تو لشکر نہیں دیکھے جاتے
20:20جنگ لازم
20:26اور سناتا ہوں ان کا بہت اچھا شیر ہے
20:28کہ آئی نہ جھوٹ بھی بولے تو کہاں تک بولے
20:33آئی نہ جھوٹ بھی بولے تو کہاں تک بولے
20:35لوگ اب اکس یہاں قد سے بڑا مانگتے ہیں
20:40لوگ اب اکس یہاں قد سے بڑا مانگتے ہیں
20:43یہ خوف کی فضا یہ بھی پورا دیکھیں عالمی منظر نامہ اور پورا
20:47اس کو کہیں بھی آپ اپلائی کر سکتے ہیں شیر کو
20:50یہ خوف کی فضا یہ عزیت پسند لوگ
20:53یہ خوف کی فضا
20:55یہ خوف کی فضا یہ عزیت پسند لوگ
20:59جانے کہاں چلے گئے وہ درد مند لوگ
21:02تو اپنے ماضی کو بھی اپنے روشن ماضی کو یاد کر رہے ہیں
21:05اور آج جو مظالم ہیں یہ ان سب کل سکر بھی کر رہے ہیں
21:08ایک شیر ان کا اور بہت مشہور ہوا تھا وہ
21:11جس طرح مجھ کو تھکنے نہیں دیتا ہے ضرورت کا پہاڑ ہے
21:14ایک اور شیر ہوا تھا
21:16کیونکہ
21:18جب بابری بزیت کے شہادت ہوئی تھی
21:20تو اس کے بعد کا یہ شیر ہے
21:22اور ان کو بڑا گہرائی سے انہوں نے محسوس کیا تھا
21:24اس پورے سانحے کو
21:25وہ کہتے ہیں کہ اپنے کعبوں کی حفاظت تمہیں خود کرنی ہے
21:30اپنے کعبوں کی حفاظت تمہیں خود کرنی ہے
21:33اب ابابیلوں کے لشکر نہیں آنے والے
21:37اب ابابیلوں کے لشکر نہیں آنے والے
21:40تو یہ یہ تھا ان کے یہاں
21:43تو یہاں وہ جو نصیحت کی بات کی تھی
21:45وہ نصیحت بھی کرتے ہیں
21:46اور آگاہ کرتے چلتے ہیں
21:47کہ کیا کیا اندیشیں ہیں
21:48اور کیا کرنا ہے
21:49تو یہ ان کے ہیں
21:51ایک بڑا راز فضا تھی پوری شائری کی
21:53جو اشار میں نے پیش کی
21:55یہ بھی براہ راز گفتگو کرتے ہیں اپنے سامعین سے
22:00جی شاداب صاحب ہم آپ کے تہے دل سے شکر گزار ہیں
22:04کہ آپ نے میراج فیضابادی جیسے اہم اور فکر انگیز شاعر پر بامانی گفتگو کی
22:10جو ہمیں یقین ہے کہ ہمارے ناظرین اور قارعین کے علمی زخیرے کو غصعت دینے والی رہی
22:17ناظرین و سامعین اگر آپ کو عدب نامہ کی قسط پسند آئی ہو
22:21تو ویڈیو کو لائک کریں چینل کو سبسکرائب کریں
22:24اور بیل آئیکن کو ضرور دبائیں
22:26تاکہ ہر تازہ نشست آپ تک بروقت پہنچتی رہے
22:30اگلی نشست میں کسی اور شاعر کی زندگی اسلوب اور شاعری پر گفتگو کے ساتھ پھر حاضر ہوں گے
22:37تب تک کے لیے اجازت دیجئے اپنا خیال رکھئے گا پھر ملاقات ہوگی
Comments