Skip to playerSkip to main content
Wali Asi | والی آسی: سادگی کا شاعر | Moeen Shadab | Adab Nama
ادب نامہ کی اس خصوصی نشست میں معروف شاعر و نقاد معین شاداب گفتگو کر رہے ہیں اردو کے منفرد شاعر والی آسی کی زندگی، شخصیت، شاعری اور ادبی خدمات پر۔
والی آسی کی شاعری اپنی سادگی، سچائی، نرم احساسات اور انسانی رشتوں کی خوبصورت ترجمانی کے لیے جانی جاتی ہے۔ اس نشست میں اُن کی ابتدائی زندگی، مکتبہ دین و ادب، لکھنؤ کی ادبی فضا، منور رانا سے تعلق، یادگار واقعات اور منتخب اشعار پر تفصیلی گفتگو کی گئی ہے۔
✨ منتخب اشعار
“ہم اپنے آپ پہ بھی ظاہر کبھی دل کا حال نہیں کرتے”
“ہمیں تیرے سوا اس دنیا میں کسی اور سے کیا لینا دینا”
“وہاں ہمارا کوئی منتظر نہیں پھر بھی
ہمیں نہ روک کہ گھر جانا چاہتے ہیں ہم”
This special episode of Adab Nama explores the life, poetry, and literary legacy of Wali Asi with noted poet and speaker Moeen Shadab.
Discover the simplicity, emotional depth, and timeless charm of Wali Asi’s poetry along with rare anecdotes, literary memories, and beautiful recitations.

#WaliAsi #والی_آسی #UrduPoetry #UrduAdab #AdabNama #MoienShadab #MunawwarRana #Lucknow #Ghazal #UrduShayari

Category

People
Transcript
00:08نیشنل ہیرالڈ نوجیون اور قومی آواز کے مشترکہ عدبی پروگرام عدب نامہ میں آپ کا تہہ دل سے استقبال ہے
00:16میں ہوں عمران ایم خان اور آج کی نششت میں ہم گفتگو کریں گے ایک ایسے شائد پر جنہوں نے
00:23اپنی سادہ مگر اثر انگیز شائری کے ذریعے دلوں میں گھر کیا
00:29جن کے اشعار میں زندگی کی تلخیاں بھی ہیں اور امید کی نرم روشنی بھی انہیں بھی جینے کے کچھ
00:38تجربے ہوئے ہوں گے جو کہہ رہے ہیں کہ مر جانا چاہتے ہیں ہم
00:46اور ہم خون کی قسطیں تو کئی دے چکے لیکن ایخا کے وطن قرض ادا کیوں نہیں ہوتا
00:55جی ہاں آج ہم ذکر کر رہے ہیں والی آسی کا والی آسی کی شائری میں ایک عجیب سادگی اور
01:03سچائی ہے
01:04وہ پیچیدہ استعاروں کے بجائے سیدھے لفظوں میں دل کی بات کہتے ہیں مگر یہی سادگی قاری کے دل پر
01:12گہرا اثر چھوڑتی ہے
01:14ان کے یہاں محبت بھی ہے محرومی بھی معاشرتی شعور بھی اور انسان کے باطن کی کچھ مکش بھی
01:22اور آج کی اس نششت میں بھی ہمیشہ کی طرح ہمارے ساتھ موجود ہیں ایک ایسی شخصیت
01:29جو اپنی منفرد طرز اظہار ٹھہراؤ بھری گفتگو اور گہری عدبی بصیرت کے باعث مشاعروں میں خاص پہچان رکھتے ہیں
01:39جن کے گفتگو سننے والا نہ صرف محضوظ ہوتا ہے بلکہ کچھ نہ کچھ سیکھ کر بھی اٹھتا ہے
01:46جناب مہین شاداب صاحب شاداب صاحب عدب نامہ میں آپ کی آمد ہمارے لیے بھائی سے اعزاز ہے
01:53دل سے خوش آمدین
01:55بہت شکریہ بھائی
01:57شاداب صاحب سب سے پہلے ہم یہ جاننا چاہیں گے کہ والی آسی کے ابتدائی زندگی
02:03ان کا خاندانی پسے منظر اور شائری کی طرف ان کا ابتدائی رجحان کس طرح تشکیل پایا
02:12دیکھیں والی آسی کے اگر ہم خاندانی پس منظر کی بات کریں
02:19جو ان کی ابتدائی شائری زندگی سے بھی جڑا ہے
02:23اور شائری کی طرف ان کے رجحان کا بھی پتہ دیتا ہے
02:27تو یہ جڑے بڑی بڑی گہرائی تک پیوست ہیں
02:30بہت گہرائی تک پیوست ہیں ان کی
02:32جو ایک خاندانی صورتحال ہے وہ عدبی حوالوں سے
02:39والی آسی صاحب کے والد محترم
02:44محترم آسی اندنی صاحب
02:46بڑے شائر تھے بڑے عدیب تھے نصر نگار تھے
02:50اور بڑے عالموں میں ان کا شمار ہوتا تھا
02:53نصف اردو بلکہ عربی فارسی کے بھی وہ عالم تھے
02:58اور ایک بڑا نام ہے
03:00اور خود ان کے دادا بھی بہت اچھے شائر تھے والی آسی صاحب کے
03:05پھر وہ اور آگے تک جڑے گہری ہوتی ہیں
03:07یعنی آسی اندنی صاحب کے والد محترم بھی شائر تھے
03:11ان کے دادا بھی شائر تھے
03:13تو یہ جڑے بڑی گہرائی تک پیوست ہیں
03:16عدبی حوالوں سے دیکھا جائے
03:18اور آسی اندنی صاحب تو جس طرح میں نے ذکریا
03:21کہ عربی فارسی کے وہ عالم بھی تھے
03:24اور اس کے علاوہ وہ مذہبی مذہبی تعلیم بھی انہوں نے حاصل کی تھی
03:28احادیث انہوں نے پڑھی
03:29فقہ انہوں نے پڑھا
03:30عربی فارسی کے وہ ایک طرح سے عالم تھے
03:34اور طبقی تعلیم بھی انہوں نے حاصل کی
03:37یعنی ایک بھری پوری شخصیت
03:40عدبی حوالے سے اگر ہم دیکھیں
03:42تو آسی اندنی صاحب کی تھی
03:43ان کا ایک شیر
03:45مجھے اس وقت یاد آ رہا ہے آسی اندنی صاحب کا
03:47جو والی آسی کے والد محترم کے
03:50کیا تم نے زخمی کیا دل ہمارا
03:54کیا تم نے زخمی کیا دل ہمارا
03:56بڑا تیر مارا
03:57بڑا تیر مارا
03:58تو یہ بڑا مشہور شیر ہے آسی اندنی صاحب کا
04:01اور اس سے ہم اندازہ کر سکتے ہیں
04:03کہ والی آسی صاحب کا جو میں نے خاندانی پسمند سے بتایا
04:07ان کا شہر بن دیتا ہے تھا
04:09اور بات یہاں ختم کرتا ہوں میں آسی اندنی صاحب کی
04:13کہ آسی اندنی صاحب کے بڑے بڑے
04:16جو شاگر تھے اس میں بڑے نام تھے
04:19اس میں شوکتھانوی صاحب ان کے شاگر تھے
04:21اندازہ کر سکتے ہیں
04:22مجرور سلطانپولی صاحب آسی اندنی کے شاگر تھے
04:26ایک ایسی تقریل فیرست ہے
04:27جو بڑے قابل ذکر شاگرد رہے ہیں
04:31آسی اندنی صاحب
04:33ایک خاندانی روایت بڑی مضبوط ہے
04:36والی آسی صاحب
04:36اور اس کے بعد بھی
04:38یہ سلسلہ جاری رہتا ہے
04:39ان کی جو بہن ہے
04:42والی آسی صاحبہ کی بہن
04:43آئیشہ صدیقی
04:45بڑا افسارہ نگار
04:46ان کو تسلیم کیا جاتا ہے
04:49تو اس سے اندازہ ہوتا ہے
04:51کہ والی آسی صاحب کی جو
04:53شیری
04:56شخصیت ہے
04:57اس کے تعمیر و تشکیل میں
04:58ایک بڑا اہم تردار ہے
05:00آسی اندنی صاحب
05:01شاہ جہان پور پر فارسی پڑھاتے تھے
05:03اور پھر وہی سے وہ
05:04لکھنو چلے گئے
05:06اور پھر لکھنو کے ہی ہو رہے
05:07تو یوں والی آسی صاحب
05:10لکھنو کے ٹھہرے
05:12والی آسی کے جو
05:14والد محترم تھی
05:15آسی اندنی
05:15اندن ایک جگہ ہے
05:18زلہ میرٹ میں
05:19جو پہلے تیسیر ہاپور میں آتا تھا
05:21تو یہ یہاں ان کی جڑے
05:23فیوست ہیں
05:24جو عدبی اور مذہبی حوالوں سے
05:26بڑی سرزمین نہیں
05:28اس کے بعد وہ لکھنو رہے
05:29اور والی آسی کا
05:30جو اپنا وطن ہے
05:32وہ لکھنو ہے
05:32تو یہ ان کا خاندانی پس بنظر ہے
05:35اور یہی ان کی
05:36ابتدائی زندگی آپ
05:37کہہ سکتے ہیں
05:38بارال
05:39یہاں یہ بتانا بھی ضروری ہے
05:41کہ والی آسی صرف ایک شاعر نہیں تھے
05:43بلکہ وہ ایک ادھارہ تھے
05:45اپنے آپ میں
05:46ان کا کتابوں کا
05:49نشروعشات کا کام تھا
05:50کتابوں کی تبات کا کام تھا
05:52ان کے ایک مکتبہ تھا
05:52امین آباد میں
05:53مکتبہ دین و عدب
05:54شاید آج بھی وہ
05:55واقعی لیکن اب وہاں کتابی نہیں
05:57بلکہ کچھ اور شاید پر اوپتے ہوتا ہے
05:58تو مکتبہ دین و عدب
06:01صرف ان کا ایک کاروباری
06:03یا ان کا معاشی مرکز نہیں تھا
06:06بلکہ وہ عدیبوں اور شاعروں کی آماجگاہ تھا
06:10مکتبہ دین و عدب
06:12وہاں پر تمام شہر کے شاعر عدیب
06:15صحافی
06:16بڑی شخصیت
06:17مسلفین
06:18اسازہ
06:19وہاں پر ان کی بیٹھکیں ہوتی تھی
06:21اور لکھنو سے باہر
06:24جو بھی شاعر عدیب
06:25اور یا قلمکار لکھنو
06:27آتا تھا
06:28تو وہاں ضرور حاضری دیتا تھا
06:31وہاں سے استفادہ کرتا تھا
06:33تو یہ ایک طرح سے ادارہ تھے
06:35والی آتی صاحب
06:39اور مکتبہ
06:40وہاں دانش محل ہے
06:41جو کتابوں کی دکان ہے
06:43امین آباد میں
06:43اس کے بعد ایک بڑا
06:45یہ ادارہ تھا
06:46مکتبہ دین و عدب
06:47ایک چھوٹی سی دکان
06:48لیکن ایک بڑا ادارہ
06:49پوری دنیا اس کے اندر
06:50سمائی ہوئی تھی
06:51پورا عدب سمائی ہوا تھا
06:53طالب علم وہاں استفادہ کرتے تھے
06:55تو ایک طرح سے
06:56والی آسی کی شخصیت کو
06:58ہم ایک ادارے کے طور پر دیکھیں
07:00اور
07:01کتابی بھی ان کی شائع ہوئی
07:02انہوں نے اپنی کتابیں
07:03شہد اور موم
07:04ان کا شہری مجموع آئے لیکن
07:05اس کے علاوہ بھی انہوں نے
07:06اور کتابیں لکھی
07:07کوئی شورہ کے انتخاب بھی کیا
07:09مشاعروں میں بہت وہ مقبول تری
07:11شورہ بھی ان کا شمار ہوتا تھا
07:12اور جو تحت لفظ میں
07:14پڑھنے والے
07:15اہم شورہ تھے
07:16ان میں ان کا شمار ہوتا تھا
07:17اس زمانے میں جو
07:18شاہد جمالی صاحب تھے
07:20والی آسی صاحب تھے
07:21تو یہ
07:22تحت میں پڑھنے والے
07:24اہم شورہ بھی ان کا شمار ہوتا تھا
07:26ایک بات اور ختم کرتا ہوں
07:27اس سوال کا جواب
07:28کہ یہ تو میں نے بتایا
07:30ان کے بڑوں کا سلسلہ
07:32کہ ان کے والی
07:32محترم ان کے دادا
07:34ان کے خاندان
07:35ان کے دیگر لوگ
07:37لیکن والی آسی کے جو شاگرد ہیں
07:40یعنی یہ سلسلہ جاری رہتا ہے
07:41چراغ سے چراغ جل رہا ہے
07:44والی آسی کے بہت سے شاگرد تھے
07:45جو ان سے فن سیکھتے تھے
07:47شاعری سیکھتے تھے
07:49تین نام ہوتا ہاں گا سوئے
07:50جس میں جناب منورانہ صاحب
07:54خوشبیر سنگھ شاد
07:55اور رئیس انساری
07:57منورانہ صاحب
07:58کہا کس دن وقبل انتقال ہوا
08:00رئیس انساری بھی ابھی حالی میں
08:01ہم سجدہ ہو گئے
08:02خوشبیر سنگھ شاد صاحب
08:03حیات ہے
08:04تو ان کے شاگرد بھی
08:06تین نام ایسے تھے
08:08جن کی مشاعروں پر
08:09ایک طرح سے
08:10نہ صرف مشاعروں کی ضرورت تھے
08:12بلکہ ان کی حکمرانی تھی
08:13مشاعروں پر
08:14تو یہ ایک بڑا
08:15بھرا پورا
08:17منظر نامہ ہے
08:18جناب آسی لکھنوی صاحب کی
08:21شخصیت کا
08:21ان کی شاعری کا
08:23ان کی عدبی حیثیت کا
08:25جی شاد آپ صاحب
08:27آپ نے والی آسی کے
08:28ابتدائی زندگی
08:29خانوادے
08:30اور دیگر مشکلات پر
08:32بڑی خوبصورت
08:33اور دلچسپ انداز میں
08:34روشنی ڈالی
08:35اب ہم باتچیت کا
08:37سلسلہ آگے بڑھاتے ہیں
08:38والی آسی کی شاعری میں
08:40سادگی اور
08:41اثر انگیزی
08:42ساتھ ساتھ چلتی ہیں
08:43آپ کے خیال میں
08:44یہ خوبی
08:45ان کے آنکھ
08:46کیسے پیدا ہوئی
08:49جی بڑا دلچسپ سوال ہے آپ کا
08:52دیکھیں انہوں نے
08:53کلاسکس کا
08:54بڑا بطالہ کیا تھا
08:55یعنی آپ
08:56ان کے شعری مجموعے پڑھیں
08:58شہد اور موم
09:00یا مشاعروں پڑھی جانے والی
09:02شاعری سنو
09:04حالانکہ مشاعروں میں
09:05وہ بلکل جدید
09:06انداز کی
09:06بڑی آسان
09:07اور بڑی سادہ شاعری
09:08کرتے ہیں
09:08سادگی کا ذکر
09:09آپ نے کیا دیا
09:11تو یہ
09:12آپ ان کی شاعری پڑھیں گے
09:14تو
09:15آپ کو اندازہ ہوگا
09:16کہ وہ
09:17بڑی سے متاثر
09:18نظر آتے ہیں
09:18ولی دکھنی جو
09:20اپنی دائی شورہ میں
09:21وہ سراج
09:22سراج
09:24سے متاثر
09:25نظر آتے ہیں
09:26تو یہ
09:28یہ جو
09:29گنیادیں ہیں شاعری کی
09:30جہاں سے دیوائیتیں شروع ہوتی ہیں
09:32تو وہ اس کے اثرات
09:34ہم والی آسی کی شاعری پر
09:36بھی دیکھ سکتے ہیں
09:36وہی سے ان کی اثراتی آتی ہے
09:40اس کے بعد
09:40وہ بیر و غالب کو پڑھتے ہیں
09:42وہ انداز بھی نظر آتے ہیں
09:44تو میر کی سادگی
09:46اور وہ غالب کا فلسفہ
09:48اور جو سماجی شعور ہے
09:49وہ بھی ان کی شاعری میں
09:50نظر آتا ہے
09:51تو ایک طرح سے
09:52ان کے یہاں
09:54جو شاعری میں
09:55روانی اور آسانی ہے
09:56یہ
09:58ہمارے ان
09:58اسازہ کی بھی دین ہے
09:59جن کا ذکر میں نے کیا تھا
10:02اور یہ وقت کی ضرورت بھی ہے
10:04کیونکہ وہ مشاعروں کے شاعر تھے
10:05اور مشاعروں بڑی عام فہم زبان کا
10:08استعمال کیا جانا چاہیے
10:09تاکہ سامعین کو آسانی سے
10:11وہ شعر
10:12سمجھ میں آسکے
10:13شامعین ان اشار کو
10:16رسیو کر سکے
10:17تو یہ
10:18یہ روانی اور سادگی
10:20اگر ایک طرف ان کو
10:21بزرگوں سے حاصل ہوتی ہے
10:23تو دوسری طرف
10:24وقت کا
10:25تقاضہ بھی تھا
10:27مشاعروں کے ضرورت بھی تھی
10:28کہ وہ شاعروں
10:29اپنی شاعری میں روانی پیدا کریں
10:30آسانی پیدا کریں
10:32اور مشاعروں میں شعبولیت ہوتی ان کی ہوتی تھے
10:34وہ جو
10:35سر فیرس شورہ تھے
10:37اس زمانے کے ان کے اثر کے ان میں ان کا
10:39شمار ہوتا تھا
10:41اور
10:42ان کا انداز بھی بڑا متاثر کن تھا
10:45ان کا اسلوب بھی بہت متاثر کن تھا
10:49کیا ایک مطلب
10:50سناتا ہوں ان کا
10:51کہ سنو یہ غم کی سیاہ رات
10:53جانے والی ہے
10:56سنو یہ غم کی سیاہ رات جانے والی ہے
10:59ابھی آزان کی آواز آنے والی ہے
11:02ابھی آزان کی آواز آنے والی ہے
11:04یا اور دیکھیں سادگی ہے سہل انداز دیکھیں
11:07وہ مشاعروں کی ضرورت بھی ہے
11:08اس میں
11:09وہ کہتے ہیں
11:09وہ چھتی لگا کی گھر سے نکلنے لگے ہیں
11:11ہم
11:12اب کتنی احتیاس سے چلنے لگے ہیں
11:15تو یہ وہی سادگی ہے
11:17اور یہ تازگی بھی ہے
11:18یعنی یہاں جدید لہجہ
11:20بول لہا ہے
11:21جدید لہجہ کا جادو بول لہا ہے
11:23جو میں نے ان اشار میں
11:24یہاں پر پیش کیا ہے
11:26تو یہ
11:26ان کی
11:27ان کی
11:28اثر انگیزی بھی ہے
11:29اور ایک سماجی شعور بھی
11:30ان کے ہاں پایا جاتا ہے
11:32وہ یہ تمام چیزیں
11:33ان کو بطالے سے آئیں
11:33ماحول سے آئیں
11:34اور
11:35جو انہوں نے دنیا کو پڑھا
11:37اور اس کا بطالہ کیا
11:38کائنات کا
11:39اس سے ان کے یہاں پیدا ہوتی ہے
11:41والی آسی کی شائری
11:42تو دلچسپ ہے ہی
11:43اور کہا جاتا ہے
11:45کہ جو شائر کی شائری ہوتی ہے
11:47وہ اس کی زندگی کا
11:48آئینہ دار ہوتی ہے
11:49تو کیا والی آسی کی زندگی سے
11:51وابستہ ایسا
11:52کوئی واقعہ
11:53یا پہلو ہے
11:53جو ان کی شخصیت
11:55یا شائری کو سمجھنے میں
11:56خاص اہمیت رکھتا ہو
11:59دیکھو والی آسی
12:01کی زندگی پر
12:03ہم دیکھیں
12:03وہ بڑے
12:03مذہبی تھی
12:04تھے
12:04اپنی زندگی
12:06یا ان کے بارے
12:07یہ مشہور تھا
12:07کہ جو وہ کسی
12:08مشاعرے میں جاتے تھے
12:09پہلے وضو
12:10اور
12:11نماز پڑھنے کے
12:13انتظام کی بات کرتے تھے
12:14کہ وہ نماز پڑھنے میں
12:15کتنے آسانیاں ہیں
12:16وضو کرنے میں
12:17کتنی آسانیاں ہیں
12:18یہ تمام چیزیں
12:19وہ
12:20عموماً
12:21پوچھا کرتے تھے
12:21تو بڑے مذہبی تھے
12:22وہ اپنی
12:23اپنی شخصیت کے حوالے سے
12:25ان کی زندگی کے
12:26مجھ سے واقعہ تھے
12:27بڑی بے باق شخصیت
12:28کے مالک تھے
12:30ایک واقعہ تھا
12:31ان کی زندگی میں
12:32کہ
12:32ان کو
12:33ایک مرتبہ
12:35اردو اکادمی
12:37اتردیش
12:37اردو اکادمی کا
12:38صدر
12:39بنا دیا گیا تھا
12:41لیکن اس سے قبل
12:42کہ وہ چارج لیتے
12:44کچھ ایسی
12:45سیاسی مداخلت ہوئی
12:46اوپر سے
12:46وزیراعظم کی سطح پر
12:47جو اس وقت
12:47وزیراعظم تھے
12:48کہ وہ اپنے
12:49کسی پارٹی کے
12:50لیڈر کی
12:51اپنی کوئی
12:51پسندیدہ شخصیت
12:53ان کی
12:54بیٹی کو وہ
12:57صدر بنانا چاہتے تھے
12:58وہاں کا
12:58چیئر بیر بنانا چاہتے تھے
13:00تو یہ
13:01واقعہ تھا
13:01کہ وہ
13:02ان کا نام
13:03تیہ ہو چکا تھا
13:04اور
13:06چارج لیتے پہلے
13:06جو ہے
13:07اس وقت کی
13:07وزیراعظم
13:08جو ہے
13:08ان کا
13:09ایک طرح سے
13:10ان کا نام
13:12جو ہٹا دیا گیا
13:13اور وہ
13:13کوئی اور
13:14جو ہے
13:14ان کی جگہ
13:16صدر بنا دیا گیا
13:17تو یہ واقعہ
13:18ان کی زندگی
13:19بہت اہم
13:19اس کے بعد
13:20بڑی دکتچینی ہوئی
13:21بڑی لیدے بھی
13:21مچی تھی
13:22اور بڑا اثر بھی رہا
13:24اس واقعہ کا
13:24ان کی شاعری پر
13:26دوسری بات
13:27ایک واقعہ
13:27میں اور سناتا ہوں
13:28منورانہ صاحب
13:29ان کے بہت
13:30عزیز شاگلت
13:32اور وہ
13:33منورانہ صاحب
13:33کو بہت چاہتے تھے
13:34منورانہ صاحب
13:35بھی ان کا
13:36ہمیشہ ذکر کرتے تھے
13:37بلہ کوئی لمحہ
13:39کوئی پل ایسا نہیں تھا
13:41جب وہ
13:41والی آسی کا
13:42زندگی نہ کرتے
13:42ان کی دعاوں کی
13:43بات نہ کرتے
13:44ان کے فیض کی
13:44بات نہ کرتے
13:46تو منورانہ صاحب
13:47یہ واقعہ سناتے تھے
13:48کہ مرتبہ
13:48جب یہ منورانہ
13:50نے شاعری کا
13:50آغاز کیا تھا
13:52ابتدائی زندگی
13:52تھی ان کی
13:54تو وہ
13:55ان کو
13:55اپنے ساتھ لے گئے
13:56والی آسی صاحب
13:57دلی کی کسی
13:58مشاعرے میں
14:00اور ساتھ لے گئے
14:01تو انہوں نے کہا
14:01بھئی منورانہ
14:02کو پڑھوا بھی
14:03دیتے ہیں
14:03ہم اس میں
14:04تو انہوں نے
14:05ان سے کہا
14:05کروینٹ سے
14:07کہ بھئی ان کو
14:09پڑھوا دیجئے گا
14:11تو بہرحال
14:12یا تو ان کو
14:12پڑھوایا نہیں گیا
14:13اگر پڑھوا دیا
14:14تو ان کا
14:14معاوضہ
14:15جو ہے
14:15ان کو نہیں دیا
14:16تو وہ
14:18والی آسی صاحب
14:19جب ہم نے
14:19ہوتل میں پہنچے
14:21اور منورانہ سے
14:22ان کی
14:23ملاقات
14:24منورانہ ساتھ
14:25میں تھے
14:25دنہوں نے
14:25منورانہ صاحبہ
14:26سے معافی بات
14:28تو منور
14:29ہمیں معاف کر دینا
14:29ہم نے
14:30تمہاری ویل سے
14:31بہت
14:31تمہاری
14:32ہتک ہوئی ہے
14:33اور انہوں نے
14:34دعا کی اسی وقت
14:36کہ جاؤ آج
14:37کئی وقت
14:38نوٹ کر لو
14:38گھڑی کی سوئیاں
14:39دیکھ لو کہاں
14:41دنیا
14:43تم ضرورت بن جاؤ گے
14:44مشہروں کی
14:46تو منورانہ صاحب
14:47خود بتاتے
14:48کہ شاید وہ
14:48اس طاعت کی دعا تھی
14:49اس گھڑی
14:50کہ جب ایک مشہرے میں
14:51منورانہ کو
14:52پڑھایا نہیں جا رہا ہے
14:54جب پڑھا دیا گیا
14:55تو شاید
14:56معاوضہ نہیں دیا جا رہا ہے
14:58لیکن وہ وقت
14:58کی ضرورت بن گئے
14:59منہ ایک کنمیل درست
15:00ان کے پیچھے بھاگتے تھے
15:03مشہرہ منورانہ صاحب
15:04کی پیچھے بھاگتا تھا
15:05ایک یہ وقت بھی آیا
15:06تو یہ واقعہ
15:07ان کی زندگی کا ہے
15:08جو ان کے متقی ہونے کا ہے
15:10ان کے مذہبی ہونے کا ہے
15:13اس طرح کے واقعات
15:14ان کی زندگی سے
15:15جڑے ہوئے ہیں
15:16والی آسی کے کلام میں
15:18محبت
15:19سماجی شعور
15:20اور داخلی کشمکش
15:21ایک ساتھ نظر آتی ہے
15:23آپ اس تنو کو
15:24کس طرح دیکھتے ہیں
15:28ہاں دیکھیں
15:29محبت
15:29شعور
15:29محبت
15:30اور سماجی شعور
15:31اور داخلی کشمکش
15:32ان کے یہاں ہے
15:32اس کا اثر
15:35متعلیہ بھی تھا
15:35اس کا میں نے ذکر کیا
15:37اور
15:38جو اپنے معاشرے کو
15:40وہ پڑھ رہے تھے
15:40جس معاشرے میں رہ رہے تھے
15:42جو سماجی اور سیاسی
15:44اتھل پتھل تھی
15:45اس زمانے کی
15:46جو سیاست کے مکاریاں تھی
15:48یا
15:49ایک خاص طبقے کے ساتھ
15:51جو سلوک ہو رہا تھا
15:52ملک میں
15:53تو یہ تمام اثرات
15:54ان کے یہاں
15:55ان کے یہاں
15:56آفاقیت بھی تھی
15:58اور جو شعر
15:59آپ نے ابھی پڑھا تھا
16:00جو آپ نے
16:01اس کا ذکر کیا
16:05چکے لیکن
16:06خاکی وطن
16:07قرض ادھا کیوں نہیں ہوتا
16:08یہ سماجی شعور تھا
16:10ایک ملک میں
16:12کوئی شخص کتنا
16:13اپنے ملک سے محبت کر رہا ہے
16:15اس کے ساتھ کیا
16:15اس کی جو
16:17وابستگیہ ہیں
16:18اس کی جڑے کتنی گہری
16:19اس کے باوجود بھی
16:21کسی شہری کو
16:22یا کسی تفقے کو
16:24یا کسی سماج کو
16:25ایک شک کی نظر سے
16:26دیکھا جاتا ہے
16:28تو یہ جو
16:29وہی سماجی شعور ہے
16:31جس کی آپ نے بات کی ہے
16:32اور یہ کہیں نہ کہیں
16:33داخلی
16:34جو ایک کشمکش ہے
16:35یہ اس کا بھی اثر ہے
16:37تو یہاں یہ
16:39اس بات کا اندازہ ہوتا ہے
16:40کہ والی آسی صاحب کا
16:41روایت سے رشتہ ضرور تھا
16:43میں نے جنی شورہ کا ذکر کیا تھا
16:45یہ جو پرچھائیہ
16:46ان کے کلام میں
16:47نظر آتی ہے
16:48لیکن
16:49وہ اپنے
16:50آس پاس کے مسائل سے بھی
16:52پوری طرح باخوار
16:54یوں ان کے یہاں
16:55جو ایک روایتی
16:57حسن ہے
16:58اس کے ساتھ ساتھ
16:59سماجی شعور
17:00بیدار ہوتا ہے
17:01اور یہ جو صورتحالی
17:04یہ اندر ایک داخلی
17:05کشمکش پیدا کرتی ہے
17:06جو ان کے
17:06جو ان کے ذات سے لے کر
17:08ان کے کائنات تک کے سفر
17:09کو آگے کرتا ہے
17:11اور
17:12اسی کا ذکر جو
17:13میں نے ایک شعر سنایا تھا
17:14جو انہوں نے ذکر کیا
17:15حالانکہ بڑا آسان سا شعر ہے
17:17جدید ذکر
17:18کہ اس مصرات ہیں
17:19کہ چھتی لگا کے
17:20گھر سے نکلنے لگے ہیں
17:22اب کتنی احتیاط سے
17:23چلنے لگے ہیں
17:24تو یہ
17:26یہ جو احتیاطیں ہیں
17:28یہ پورے ایک معاشرے کی احتیاط ہے
17:30یعنی کہ اگرسان
17:32جو مسائل ہیں
17:33جو مسائل ہیں
17:34ان کا خیال کرتے ہوئے
17:36کہ ان احتیاطوں کے ساتھ
17:37زندگی گزار رہا ہے
17:38تو یہ جدید رن تھا
17:39ان کی شعری کا
17:40جس کا انہوں نے ذکر کیا
17:42تو اس طرح سے ان کے یہاں
17:44محبت
17:45تو ہے ہی ظاہر ہے
17:46جس کا آپ نے ذکر کیا ہے
17:47اور حسن عشق بھوس سے
17:49اشار ہے ان کے ہاں
17:50جو سنائے جا سکتے ہیں
17:51جس جو اثرات ہیں
17:53روایتی شعری کے
17:54جو ایک روایتی عشق ہے
17:55وہ بھی ہے
17:55اس کو انہوں نے
17:56کوئی جدید
17:57جدید نہجہ بھی
17:58انہوں نے اختیار کیا ہے
17:59تو یہ تمام چیزیں
18:01کل ملا کر
18:01ان کی شخصیتی
18:03تعبیل و تشکیل
18:04کرتی ہیں
18:04ان کی شعری شخصیت
18:05کو براتی ہے
18:07اب وہ مرخلہ
18:08جس کا ناظرین
18:09کو بے سبری سے
18:10انتظار رہتا ہے
18:11شاداب صاحب
18:12آپ سے گزارش ہے
18:14کہ والی آسی کے
18:15چند منتخب
18:16اشعار
18:17ہمارے ناظرین
18:18کے لئے پیش کریں
18:19اور اس نشیشت
18:20کو مزید
18:21یادگار بنا دیں
18:23ان کے بہت
18:24بہت مشہور
18:25ان کے اشعار ہیں
18:26اور بڑا
18:26بڑا اچھا پڑتے تھے
18:28بہت والی حانہ انداز میں
18:29اگر تک آپ نے سنا ہو
18:31اور
18:32لگتے تھے
18:32لوگ کے شاعر
18:34آفاقی شیر سنا
18:35تام صاحب ان کا
18:36جو آفاقیت لے ہوئے
18:38اور آپ جو
18:39موجودہ سینیڈیو ہے
18:41جو منظرنامہ ہے
18:42اس سے
18:42کتنا ہم آہاں ہیں
18:43اور ہمیشہ یہ ہوتا ہے
18:45وہ کہتے ہیں کہ
18:46وقت
18:47ہر ظلم تمہارا
18:49تمہیں لوٹا دے گا
18:52وقت
18:52ہر ظلم تمہارا
18:54تمہیں لوٹا دے گا
18:55وقت کے پاس
18:56کہاں رحم و کرم ہوتا ہے
18:59وقت کے پاس
19:00کہاں
19:01رحم و کرم ہوتا ہے
19:02تو یہ
19:03بڑی آفاقیت ہے شیر
19:05اور
19:05ایک شیر سنیئے کہ
19:07تکلف سے
19:08تسننوں سے
19:10اداکاری سے ملتے ہیں
19:13تکلف سے
19:14تسنوں سے
19:15اداکاری سے ملتے ہیں
19:16ہم اپنے آپ سے بھی
19:19کتنی تیاری سے ملتے ہیں
19:21ہم اپنے آپ سے بھی
19:22کتنی تیاری سے ملتے ہیں
19:24فرضی ہو چکا ہے سب کچھ
19:26سب کچھ فیک ہے
19:27سب ڈراما
19:27تماشا
19:28جو نئے اہد کا ہے
19:29جو اس ایج کا ہے خاصتوں سے
19:31جو ورچول سپیس کا اہد ہے
19:33یہ کتنا کھوکلا ہو چکا انسان
19:35کہ وہ
19:36خود سے بھی تکلف کرنا پڑ رہا ہے
20:07بھرپور اشارہ
20:08یہ ان کی ہے تمام جس کا آپ نے ذکر کیا تھا سماجی شعور اور داخلی قیفیت
20:14یہ سب ان شعروں نے آپ کو نظر آدھا ایک شعر ان کا بڑا مشہور ہے اور
20:20بڑا سامنے کا ایسا شعر ہے لیکن ظاہریں انہوں نے ایک ایسے موضوع
20:23کو شاعری بنا دیا ہے پہلے شعر سناتا ہوں کہ سگرٹے چائے دھواں رات
20:29گئے تک بیسے سگرٹے چائے دھواں رات گئے تک بیسے اور کوئی پھول
20:36ساچل کہیں نم ہوتا ہے اب یہ دیکھیں کہ کسی شعر کی زندگی کسی
20:41فنکار کی زندگی کسی آرٹسٹ کی زندگی یا اس کے علاوہ بھی جو عام
20:45لوگوں کی زندگی ہے کہ وہ راتوں کو بیٹھے ہیں بیٹھے کے ہو رہی ہیں
20:49چائے بن رہی ہے سگرٹے چل رہی ہیں لیکن جو اہل خانہ ہیں وہ بلکل
20:55بھی ان کو پریشانی نہیں ہے بندہ وہ پوری طرح ان کو اس طرح سے اس کا
21:00رگارڈ کر رہے ہیں اس کو احترام کر رہے ہیں یہ بڑا نازک شعر ہے جو خانگی
21:05مسائل کی طرف اشارہ کرتا ہے اور کس طرح سے کس طرح کے مسائل
21:09پریش آتے ہیں سگرٹے چائے دھوا رات بے تک بیسے اور کوئی پھول
21:13ساچل کہیں نم ہوتا ہے آج تک جو بھی ہوا اس کو بھلا دینا ہے آج تک
21:20جو بھی ہوا اس کو بھلا دینا یہ وہی محبت اس کا آپ نے سوال کیا تھا
21:24کیا محبت ہے یہ محبت اس محبوبہ سے ہونے والی محبت سے آگے نکل
21:29جاتی ہے انسانیت سے محبت آج تک جو بھی ہوا اس کو بھلا دینا ہے آج سے تہہ کے
21:36دشمن کو دعا دینا ہے تو یہ ان کی جو شخصیت کی ایک فقیری تھی اس کا اثر بھی ہے
21:42شیر دشمن کو بھی دعا دینے والا آج تک جو بھی ہوا اس کو بھلا دینا ہے آج سے
21:48تہہ کے دشمن کو دعا دینا ہے یہ شیر بھی سلی جی کے مسلح رکھتے ہیں سہبہ
21:54جام رکھتے ہیں یہ بھی بڑا مشہور شعر ہے اس سے ناظرین آج بھی پڑھتے ہیں
21:58شعر مسلح رکھتے ہیں تذبیح مسلح رکھتے ہیں سہوا جام رکھتے ہیں فقیر
22:04سب کے لیے انتظام رکھتے ہیں فقیر سب کے لیے انتظام رکھتے ہیں یہ
22:10سب کو قریب لانے کی کوشش ہے ہمیں انجام بھی معلوم ہے لیکن نجانے کیوں
22:15ہمیں انجام بھی معلوم ہے لیکن نجانے کیوں چراغوں کو ہواوں سے بچانا
22:20چاہتے ہیں
22:22چراغوں سے ہواوں کو
22:24ہواوں سے بچانا چاہتے ہیں
22:29یہ
22:30یہ ان کے بہت سے اشار ہیں
22:32کچھ شیر ان کے اور میں سنا جاتا ہوں
22:36بڑی مشکل زمینوں میں انہوں نے اشار کہے
22:38لیکن آسان کر دی ہے
22:39ایک شیر سناتا ہوں
22:42موجہ
22:44ہوا آب رما
22:46اور یہ زمین و آسمان
22:48موجہ ہوا آب رما
22:51اور یہ زمین و آسمان
22:53ایک روز سب جائیں گے
22:55تھک
22:56اللہ بس باقی غوث
22:59اللہ بس باقی غوث
23:01تو بڑی زمینوں میں بھی انہوں نے اشار کہے
23:03اور مشکل زمینوں میں آسانیہ پیدا کی
23:05ایک غزل مجھے ان کی بہت پسند ہے
23:07اس کے شیر میں سناتا ہوں
23:09بڑی سچی سی غزل ہے
23:10کہ ہم اپنے آپ پہ بھی ظاہر
23:13کبھی دل کا حال نہیں کرتے
23:15ہم اپنے آپ پہ بھی ظاہر کبھی دل کا حال نہیں کرتے
23:18چپ رہتے ہیں
23:19دکھ سہتے ہیں
23:21کوئی رنج و ملال نہیں کرتے
23:23چپ رہتے ہیں
23:24دکھ سہتے ہیں
23:25کوئی رنج و ملال نہیں کرتے
23:26اور اس میں والی آسی کی پوری شخصیت
23:29آپ کو نظر آئی گی
23:30کہتے ہیں
23:31ہم جو کچھ ہیں
23:33ہم جیسے ہیں
23:35ویسے ہی دکھائی دیتے ہیں
23:38ہم جو کچھ ہیں
23:39ہم جیسے ہیں
23:40ویسے ہی دکھائی دیتے ہیں
23:42چیرے پہ بھبوت نہیں ملتے
23:43کبھی کالے وال نہیں کرتے
23:46چیرے پہ بھبوت نہیں ملتے
23:48کبھی کالے بان نہیں کرتے
23:50ہم تیرے سوا
23:52اس دنیا میں
23:54کسی اور
23:56کسی اور سے کیا لینا دینا
23:58ہمیں تیرے سوا
24:00اس دنیا میں کسی اور سے کیا لینا دینا
24:02ہم سب کو جواب نہیں دیتے
24:04ہم سب سے سوال نہیں کرتے
24:07ہم سب کو جواب نہیں دیتے
24:09ہم سب سے سوال نہیں کرتے
24:10تو یہ والی آسی صاحب ہیں
24:13نسفیکل نقص ہے شاعری کا
24:15سادگی ہے
24:16حسن ہے جدت ہے
24:18روانی ہے سلاست ہے
24:21شادہ آپ صاحب آپ نے
24:22نہایت دل نشین انداز میں
24:24والی آسی کی شخصیت
24:26اور ان کے فن کے مختلف
24:28پہلووں کو ہمارے سامنے
24:30اجاگر کیا اور جس فکری
24:32گہرائی کے ساتھ ان کے کلام کی تشریح
24:34کی وہ واقعی قابل قدر
24:37ہے آپ کی گفتگو نے
24:38اس نششت کو یادگار بنا دیا
24:40ہم تہے دل سے آپ کے شکر گزار ہیں
24:42ناظرین و سامین
24:44اگر آپ کو عدب نامہ کی یہ
24:46نششت پسند آئی ہو
24:47تو ویڈیو کو لائک کیجئے چینل کو
24:50سبسکرائب کیجئے اور بیل آئیکن
24:52ضرور دبائیے تاکہ ہماری
24:54ہر نئی پیشکش آپ تک
24:56بروقت پہنچتی رہے
24:57ہم اگلی نششت میں ایک اور اہم
25:00عدبی شخصیت کی زندگی
25:01اسلوب اور نظریات پر گفتگو
25:04کے ساتھ دوبارہ حاضر ہوں گے
25:06تب تک کے لیے اجازت دیجئے گا
25:08اپنا خیال رکھئے گا
25:10پھر ملاقات ہوگی
25:16موسیقی
Comments

Recommended