Skip to playerSkip to main content
Anwar Jalalpuri: Poetry & Legacy | انور جلال پوری: شاعری، نظامت اور فکری سفر
ادب نامہ کی اس خصوصی قسط میں انور جلال پوری کی ہمہ جہت شخصیت، ادبی خدمات اور فکری جہات پر تفصیل سے گفتگو کی گئی۔ وہ صرف ایک شاعر نہیں تھے بلکہ ایک باوقار ناظمِ مشاعرہ، سنجیدہ نثر نگار اور مترجم بھی تھے، جنہوں نے اپنے منفرد اسلوب اور بے باک اظہار کے ذریعے اردو ادب میں ایک نمایاں مقام حاصل کیا۔
In this episode of Adab Nama, we discussed the life and legacy of Anwar Jalalpuri—a poet of truth, a distinguished compere, and a literary figure known for his clarity, depth, and impactful expression.
ان کی شاعری میں حقیقت نگاری، سادگی اور فکری گہرائی نمایاں نظر آتی ہے، جبکہ ان کی نظامت نے مشاعروں کو ایک نئی تازگی اور وقار عطا کیا۔ اس قسط میں ان کے خاندانی پس منظر، تعلیمی سفر، ادبی اثرات اور مشاعروں میں ان کے منفرد اندازِ پیشکش پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ ان کی شخصیت کے مختلف پہلوؤں—شاعری، نثر نگاری، نظامت اور ترجمہ نگاری—کو ایک مربوط انداز میں پیش کیا گیا ہے تاکہ ناظرین ان کی مکمل ادبی حیثیت کو سمجھ سکیں۔
His contributions extended beyond poetry into meaningful translations and prose. His work on the Bhagavad Gita, Gitanjali, and selected Quranic portions reflected a deep commitment to cultural harmony, dialogue, and shared intellectual heritage. The episode also highlights his early literary influences, his evolution as a performer on stage, and the depth of thought reflected in his writings.

#AnwarJalalpuri
#AdabNama
#AnwarMirza

Category

People
Transcript
00:07نیشنل ہیرارڈ نوجیون اور قومی آواز کے مشترکہ عدبی پروگرام عدب نامہ میں آپ کا تہہ دل سے استقبال ہے
00:15میں ہوں عمران ایم خان اور آج کی نششت میں ہم گفتگو کریں گے
00:20ایک ایسے شاعر پر جنہوں نے لفظوں کو سچائی کا آئینہ بنایا
00:25جن کے اشعار میں فکر کی گہرائی بھی ہے اور اظہار کی بیبا کی بھی
00:30جب مخاطب کیا قاتل کو تو قاتل لکھا لکھنوی بن کے مسیحہ نہیں لکھا میں نے
00:38میرا ہر شعر حقیقت کی ہے زندہ تصویر اپنے اشعار میں قصہ نہیں لکھا میں نے
00:45جی ہاں ہم بات کر رہے ہیں انور جلال پوری کی
00:49وہ شاعر جن کے کلام میں تصنع نہیں بلکہ زندگی کی اصل دھڑکن سنائی دیتی ہے
00:55اپنی منفرت انداز پیشکس سے ایک الگ پہچان قائم کرنے والے انور جلال پوری
01:01نہ صرف ایک سنجیدہ اور فکر انگیش شاعر تھے
01:04بلکہ مشاعروں کی دنیا میں ایک موتبر اور باوقار نازم کے طور پر بھی جانے جاتے تھے
01:11اور آج کی نششت میں بھی ہمیشہ کی طرح ہمارے ساتھ موجود ہے
01:15ایک ایسی شخصیت جو نہ صرف ایک قادر کلام شاعر ہیں بلکہ مشاعرے کی روایت کو زندہ رکھنے والوں میں
01:23نمائی نام رکھتے ہیں
01:25نہایت شستہ لہجے گہری عدبی بصیرت اور دل نشی نظامت کے حوالے سے جانے جاتے ہیں جناب موین شاداب صاحب
01:34شاداب صاحب آپ کی آمد ہمارے لیے بائی سے مسرت ہے عدب نامہ میں آپ کا دل سے خیر مقدم
01:40ہے
01:41بہت شکریہ عمران بھائی بہت شکریہ آپ کا
01:43شاداب صاحب سب سے پہلے ہم انور جلال پوری کے خاندانی پسے منظر اور جائے پیدائش کے بارے میں جاننا
01:49چاہیں گے
01:50ان کا تعلق کس ماحول سے تھا اور اس نے ان کی شخصیت کو کس حد تک متاثر کیا
01:58دیکھیں انور جلال پوری یہ سرحاں ان کے نام کا حصہ ہے جلال پوری
02:02تو یہ ان کی وطنی نظبت ہے جلال پوری قصبہ ہے جو
02:08ظلہ امبیٹ کر نگر میں واقع ہے اور اس کی تاریخی اور علمی اہمیت ہمیشہ ترکی
02:17اجودھیا سے پچھتر کلومیٹر کی دوری پر واقع ہے جلال پور
02:22وہی سے جنابی انور جلال پوری صاحب کا تعلق تھا
02:26بنیادی تعلیم انور صاحب نے جلال پور کے ہی ایک اسکول میں حاصل کی
02:35اور اس کے بعد وہ آزم گڑ چلے گئے جہاں شیبلی کولیج میں انہوں نے تعلیم حاصل کی
02:42اور آزم گڑ کے بعد انہوں نے علی گڑ میں تعلیم حاصل کی جہاں سے انہوں نے پہلے
02:55پھر فیض آباد میں عبد یونیورسٹی سے اردو میں ہمیں کیا
03:01تو یہ ان کا تعلیمی سلسلہ ہے
03:04ان کا مطالعہ بہت وسیع تھا
03:07ہمیشہ پڑھتے تھے اور بہت پڑھا ہے انہوں نے
03:10شاعری کے علاوہ نصر پڑھی ہے تاریخ پڑھی ہے
03:14اور انگریزی عدد پڑھا ہے
03:15تو ایک علمی اعتبار سے بھری پوری شخصیت ہمارے سامنے آتی ہے
03:22دوسری بات جب وہ آزم گڑ میں تھی تو وہاں دارو المسنفین میں
03:25جو شبلی کالیج کے لائبریری ہے
03:30وہاں ان کے اردگرد کتابیں تھیں
03:32اور ظاہرے کے لائبریری بہت مشہور تھے
03:34وہاں انہوں نے اپنے مطالعے کو بہت وسط دی
03:38اور وہی سے جو ہے ان کی جو شخصیت کا جو ایک عدبی ایک حصہ تھا
03:44جو ایک شاعر ان کے اندر تھا
03:47اس کو مہمیز لگتی ہے
03:49اور اس میں ایک طرح سے نئی سمتے اور نئی جہتے پیدا ہوتی
03:53شاعرین کا آغاز تنہوں نے نبی جماعت میں کر دیا تھا
03:56کہیں میں نے پڑھا تھا لکھا تھا
03:57کہ نبی جماعت میں انہوں نے شاعرین کا باقاعدہ آغاز کر دیا تھا
04:01دورانے تعلیم
04:04لیکن
04:05سب سے بڑی بات یہ ہے
04:07کہ انور جلالپوری صاحب
04:10کی شخصیت ایک نازم کے طور پر
04:14اتنی بڑی ہو کر اُبھرتی ہے
04:17کہ ان کا جو شاعر ہے
04:20جو ان کا عدیب ہے
04:21جو ان کی دوسری خوبیاں ہے
04:23وہ کہیں بہت پیچھے چلے جاتی
04:26بہت کم لوگوں کو معلوم تھا
04:28کہ انور جلالپوری صاحب
04:30ظاہرے کے شیر تو پڑھتے تھے
04:32مشاعروں میں
04:32اور شیری حیثیت بھی ان کی تھی
04:35لیکن اس طرح
04:37شیری اظہار کا موقع نہیں ملا
04:39کیونکہ ان کا پورا زور
04:41مشاعرے کی کامیابی پر ہوتا تھا
04:43مشاعرے کی نظامت پر ہوتا تھا
04:45اور ایک بڑے نازم کے طور پر
04:46وہ اُبھر کر سامنے آئے تھے
04:49لیکن عموماً ہوتا یہ ہے
04:51کہ جب کسی ہما جہاں شخصیت کا
04:53کسی کوئی ایک پہلو
04:56اور اس کا کوئی ایک رخ
04:57بڑا مضبوط ہو جاتا ہے
04:59بڑا ہو جاتا ہے
05:00تو اس کی شخصیت کے جو دوسرے پہلو ہیں
05:02جو دوسرے اس کی خوریاں ہیں
05:04وہ کہیں پیچھے چلی جاتی ہیں
05:05اور یہ بہت لوگوں کے ساتھ ہوا ہے
05:07ایک پوری تاریخ ہے اس کی
05:09جو ہما جہاں صلاحیتیں ہوتی ہیں
05:11ہما زہانتیں ہوتی ہیں
05:13تو ان کا کوئی ایک پہلو
05:14اتنا مضبوط ہو جاتا ہے
05:15کہ وہ باقی پہلو کہیں
05:17پیچھے چلے جاتے ہیں
05:19انور جلال پوری صاحب کے ساتھ بھی یہ
05:22انور جلال پوری صاحب
05:24نازم اور شہر تو تھے ہی
05:26لیکن بہت اچھے نسل نگار تھے
05:30اور ترجمے کا کام بھی انہوں نے کیا
05:33دوسری بات ایک زمنی حوالہ یہ ہے
05:34کہ انہوں نے اکبر دے گریٹ
05:35جو ایک ٹی وی سیریل تھا
05:37اکبر خان کا
05:38اس میں انہوں نے مقالبے لکھے
05:41اور بہت کامیاب یہ ٹی وی سیریل دہا
05:44اس میں وہ انور مرزا کے نام سے
05:48مقالبے لکھا کر دیتے
05:49اس کی سکرپٹ انہوں نے لکھے دیتے
05:51اور یہی سے اگر ہم اور ذکر کریں
05:54جب بات سیریل کی آئی ہے
05:57تو انہوں نے ڈیرڈ عشقیہ فلم
05:59جو نسیر الدین خواہ کی ڈیرڈ عشقیہ فلم ہے
06:01اس میں ایک رول بھی کیا تھا
06:05باقید کردار ادا کیا تھا
06:06اس میں ایک مشاعرہ ہوتا ہے
06:08اس کی نظامت کرتے ہیں
06:09اپنے کوئی شیر بھی پڑھتے ہیں
06:11تو اداکاری بھی کی
06:13جنابِ انور جلال پولی صاحب
06:17کتابیں
06:17تقریباً چوبیس کتابیں لکھی انہوں نے
06:20اور اس میں چار تو ان کے شیری مجموعے تھے
06:23چار نسری کتابیں تھیں
06:25اور چار چیزیں ان کی مقدس اسناب پر مبنی تھی
06:28جس میں انہوں نے
06:31حمدیہ شائری کی
06:33ناتیہ شائری کی
06:34اور یہ جو
06:36ہمارے صحابی رسول ہیں
06:38خلفہ راشدین
06:40ان کے اوپر انہوں نے منقبتیں
06:42اور لکھیں
06:44سب سے ان کا جو بہت اہم کام ہے
06:46وہ انہوں نے گیتا کا ترجمہ کیا
06:49ٹیگور کی کتاب کی تانجلی کا ترجمہ کیا
06:51تو یہ میں
06:53اس پہلے سوال میں اس لیے بتا رہا ہوں
06:56تاکہ ہم
06:57سمجھ سکیں انور جلال پری صاحب کی شخصیت کو
06:59کہ وہ صرف ایک نازم مشارہ نہیں تھے
07:02بلکہ بھری پری شخصیت کے مالک تھے
07:05اور ان کا
07:06سیاسی اور سماجی
07:08کردار بھی رہا ہے
07:09وہ کئی اہم
07:11اداروں سے جس طرح مدرسہ بوٹ کے وہ چیئرمین
07:13بنائے گئے
07:14اور بھی بہت زمنی اردو اکیڈمی میں رہے
07:16حج کمیٹی میں رہے
07:17تو ایک طرح سے بڑی پھیلی بھی شخصیت جہاں جنابی انور جلال پری صاحب کی ہمارے سامنے آتی ہے
07:23شاہد آپ صاحب آپ نے انور جلال پری کے ابتدائی زندگی اور ان کی مختلف جہات پر بڑی خوبصورتی سے
07:31روشنی ڈالی
07:31اب ان کے ابتدائی سفر کی بات کرتے ہیں انور جلال پری کے عدبی سفر کا آغاز کیسے ہوا
07:37کن اساتیزہ شغرہ سے انہوں نے اثر قبول کیا
07:41ان کے ابتدائی عدبی سفر اور مشاعروں میں ان کے قیام اور ارتقاء کو آپ کس نظر سے دیکھتے ہیں
07:48دیکھیں میں نے ابھی ذکر کیا تھا کہ نوی جماعت سے ہی ان کو شعری صغف تھا
07:51اس وقت انہوں نے شعر کہنا شروع کر دیا تھا
07:54اور پھر زمانے تعلیبی علمی میں ہی انہوں نے ایک مشاعرے کی بلکہ ایک شعری نشست کی نظامت کی
08:04تو گویا ایک شعری نشست میں انہیں نظامت کا موقع ملا بہت کم عمری میں
08:11تو یہی سے ان کا پورا سلسلہ جو ہے وہ شروع ہو جاتا ہے
08:15جنہیں شعرہ سے متاثر ہونے کے بعد آپ نے کہی تو انہوں نے کہیں لکھا بھی ہے
08:22آنمر صاحب نے کہیں لکھا ہے کہ وہ علام اقبال سے بہت متاثر تھے
08:26غالب کو انہوں نے پڑھا میر کو پڑھا سودا کو پڑھا
08:31تو وہ اپنے جو ہمارے روایتی شعرہ ہیں جو اسازہ ہیں
08:36ان سے انور جلال پوری صاحب استفادہ کر رہے تھے
08:39اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ان کا جو شیری نظریہ تھا
08:42یا جو شیری میار وہ دینا چاہتے تھے اپنی شخصیت کو
08:46اس کا اندازہ ہمیں اس سے لگتا ہے کہ انہوں نے
08:49ان تمام بڑے شعرہ کو نہ صرف ایک تعلیم علم کے طور پر پڑھا
08:53بلکہ جب انہوں نے شاعری کا آغاز کیا
08:55اور جب اپنی تعلیم مکمل کی اس کے بعد بھی انہوں نے
08:59ان تمام شعرہ کا مطالعہ جاری رکھا
09:03انگریزی کے آپ استاد تھے
09:05انگریزی عدب پڑھا
09:06تو انگریزی عدب میں انہوں نے جن شعرہ کو پڑھا
09:10جن عدیبوں کو پڑھا جن نوون لگاروں کو پڑھا
09:13ظاہر ہے کہ ان کی اثرات بھی ان کی شیری شخصیت پر
09:16کہیں نہ کہیں مرتب ہو رہے تھے
09:19دوسری بات نظامت
09:20جو ان کے شعری وجود کا ایک حصہ ہے
09:24کیونکہ پہلے جو ناظرے مشاعرہ ہوتے تھے
09:27وہ بڑی شخصیتیں
09:28خاص طور سے ہم سکر کریں
09:30محترم
09:32ملی زالہ منصور احمد صاحب کا
09:34کور مہندر سنگی بیدی سہر صاحب کا
09:36جو نظامت اکیار کرتے تھے
09:38تو یہ خود اپنے آپ نے بڑے
09:39پڑھ لکھی لوگ تھے
09:41اور ان کی شعری شخصیتیں بھی بڑی برند و بالا تھیں
09:45انور جلالپوری صاحب
09:47صاحب کی جو نظامت کا معاملہ ہے
09:49ایک بڑے ناظرین کے طور پر
09:51ایک یونیک
09:52یعنی یہاں یہ ذکر کرنا ضروری ہے
09:54کہ ان کی آواز کا ایک وقار تھا
09:57ان کے ایک ٹھہراو تھا لہجے میں
10:00لفظوں کا انتخاب ان کے ہاں ہوتا تھا
10:03آواز کا ایک بڑا اتار چڑھاؤ کا
10:05ایک سلیخہ ان کو آتا تھا
10:06اور ایسا لگتا ہے
10:08جیسے کبھی پھول ڈھڑ رہے ہوں جب گفتو کرتے تھے
10:10ایک خاص جو
10:13مشرقی علاقے کا ایک لہجہ ہے
10:15وہ بھی ان کی
10:16ان کی نظامت کے دوران در آتا تھا
10:18لیکن بڑا خوبصورت لگتا تھا
10:19یہ بات میں اس لیے کہہ رہا ہوں
10:21کہ انہوں نے جب نظامت کا فن اختیار کیا
10:24وہ خود بتاتے تھے
10:26زوانی بھی اور کہیں لکھا بھی ہے
10:28اور انہوں نے
10:29کہ اس زوانے میں جب انور جلالپوری صاحب
10:31کا شعور پروان چل رہا تھا
10:34اور وہ مشاعروں کی طرف آ رہے تھے
10:36یا شاعری کر رہے تھے
10:38شاعری سیکھ رہے تھے
10:39تو اس وقت جناب ملک زادہ منظور احمد صاحب
10:43کا بڑا شہرہ تھا
10:44اور جناب عمر قریشی صاحب کا
10:47یہ دونوں
10:49اہلہ گلہ قسم کے نظامت کرتے تھے
10:50ملک زادہ منظور احمد صاحب
10:53بڑی عدبی
10:54اور بڑی ایک طرح سے
10:56شائستہ اور شستگی
10:58کے لیے مشہور تھے
11:00کہ وہ ایک عدبی لہجہ تھا
11:02ان کا ایک عدبی وقار تھا
11:04ان کی نظامت میں
11:05اور عمر قریشی صاحب
11:07جو ہے وہ جو مشاعرے کی آوڈینس ہوتی تھی
11:10مشاعرے کے سامعین ہوتے تھے
11:11ان کی سماتوں کا خیال لگتے ہوئے
11:14نظامت کرتے تھے
11:16اور اپنی نظامت کو دلچسپ بناتے تھے
11:18کچھ عوامی بھی ان کا لہجہ تھا
11:21خوبصورت اور دلشی وہ بھی
11:23مجمع کو باندھ لیا کرتے تھے
11:24اگر ملک زادہ منظور احمد صاحب
11:27اپنی عدبی چملوں سے
11:28اپنی علمی
11:31صلاحیتوں سے
11:32اپنی ذہانتوں سے
11:33مجمع کو باندھے رکھتے تھے
11:35تو لوگ بتاتے ہیں کہ
11:37عمر قریشی صاحب
11:38دلچسپ واقعات
11:38اور کسی شاعر کا
11:40بڑا خوصورت تعارف
11:41کراتے ہوئے
11:43لوگوں کو
11:44سامعین کو
11:44اپنی گرفت پر رکھتے تھے
11:46اب انبر جلالپوری صاحب
11:48کے سامنے
11:49ایک چیلنج تھا
11:50کہ وہ دو
11:50وہنے ناظموں کے درمیان
11:51کیسے خود کو
11:52سروائیو کر پائیں گے
11:54ان کے بقا کا
11:56کیا طریقہ ہو سکتا ہے
11:57تو انہوں نے
11:58دونوں کے درمیان سے
12:00اپنے لئے
12:00ایک راستہ بنانے کی کوشش کی
12:02بلکہ ایک سنگم
12:03بنا دیا
12:04دونوں نظامتوں کا
12:05تو اس طرح سے
12:06انبر جلالپوری کا
12:07ایک تیسرا لہجہ
12:08ہمارے سامنے آتا ہے
12:09اور یہی روئیے
12:13ان کی شاعری میں
12:14پائے جاتے ہیں
12:15جس طرح میں نے ذکر کیا ہے
12:17یعنی وہ خواص کو بھی
12:18دیکھ رہے تھے
12:18وہ عوام کو بھی
12:19دیکھ رہے تھے
12:20اور پھر اسی انداز سے
12:21وہ اپنی شاعری
12:23کو سجا سمار رہے تھے
12:26لیکن ان کی شاعری
12:28جو ہے
12:29ان کا اپنا لہجہ ہے
12:30خاص قسم کا
12:32نہ وہ بہت زیادہ
12:33نوائیتی ہے
12:33نہ بہت زیادہ جدید ہے
12:35تو درمیان کا راستہ
12:36انہوں نے
12:37ان اسادزہ کو پڑھ کر
12:39اور نئے زبانے کے
12:40مشاعروں کے شورہ کو سن کر
12:42اپنے لئے کے اختیار کیا تھا
12:47جی شاداب صاحب
12:48آپ نے انور جلال پوری کی
12:49نظامت پر جس طرح سے
12:51تذکیرہ کیا
12:52اور وہ خصوصیات بیان کی
12:56جو ان کو دوسروں سے
12:57منفرد بناتی ہیں
12:58وہ بہت خابل تعریف ہیں
13:00اب ہم چاہیں گے
13:02کہ ان کی زندگی سے جوڑا
13:03کوئی ایسا واقعہ
13:04آپ بیان کریں
13:05جو آپ کے نزدیک نیایت اہم ہو
13:07اور ان کی شخصیت کو
13:08سمجھنے میں مدد دیتا ہو
13:14دلچسپ
13:15سوال ہے
13:16اس کا جواب
13:19بہت سے واقعات
13:20ان کی زندگی میں ہو سکتے ہیں
13:22لیکن جو سب سے
13:24بڑے کچھ واقعات
13:25بلکہ اس کو
13:26ایک مجموعی طور پر
13:27اگر ہم دیکھیں گے
13:29انور جلال پوری صاحب
13:30جو
13:31اپنی نظامت میں
13:33اپنی شائری میں
13:35اپنی نصر نگاری میں
13:36اور جو دوسرا کام
13:38وہ کر رہے تھے
13:39لکھنے پڑھنے کا
13:40اس میں بے انتہا
13:41مصروف تھے
13:42بڑے منہمک
13:43رہا کرتے تھے
13:46لیکن
13:47انہوں نے
13:48اپنی شائری میں
13:50جو
13:50خاص طور سے
13:53مذہبی
13:53چیزوں کو
13:54اختیار کیا
13:55یعنی جس طرح
13:56انہوں نے
13:56حمدیہ شائری کی
13:57ناتیہ شائری کی
13:58خلفائر عاشدین
14:00کے بارے میں
14:00لکھا
14:00تو
14:01یہ کام
14:02ان کا بہت
14:03اہم ہے
14:04جو مذہبی
14:06شائری انہوں نے
14:07کی ہے
14:08یا مذہب سے
14:09متعلق شائری کی ہے
14:10تو
14:12خلفائر عاشدین
14:12کی انہوں نے
14:13پوری ایک تاریخ
14:14لکھی
14:14جس میں تمام
14:15خلفائر کا
14:15ذکر ملتا ہے
14:16اس سے پہلے
14:16الگ الگ لوگوں نے
14:17کہا
14:17الگ الگ لکھا
14:19لیکن
14:19با غیتگی کے ساتھ
14:21انور جرالپوری
14:21نے لکھا
14:22اور ان کی
14:22شائری کی جو
14:23کتابیں
14:23اس میں
14:24تین چار
14:24مذہبی
14:25شائری کی
14:25کتابیں
14:26مثلا
14:26توشہ آخرت
14:27ہیں
14:29جس میں
14:29انہوں نے
14:30کلام پارک کے
14:31تیسوے سپارے کا
14:33جو
14:34سپارہ
14:35امہ ہے
14:35اس کا
14:37ترجمہ
14:37منظوم
14:38ترجمہ کیا ہے
14:39یہ ان کی
14:39ایک بڑی
14:41ایک طرح
14:41سی زندگی
14:42کی تبدیلی
14:42ہم کہہ سکتے
14:43اور ایسا واقعہ ہے
14:44وہ خود بھی
14:45کہتے ہیں کہ
14:45یہ میرے لیے
14:46ذریعہ
14:47نجات بھی
14:48ہو سکتا ہے
14:49اور یہ
14:50جو انہوں
14:50ترجمہ کیا تھا
14:52وہ
14:54بتاتے ہیں
14:54کہ وہ
14:55اچانک
14:55ان کے
14:56سیاسی
14:57مقاصد بھی
14:57تھے
14:58میں نے
14:59ذکری بھی
14:59کیا کہ
15:00وہ
15:00مدرسہ
15:00بوٹ کے
15:01چیئرمین
15:01رہے
15:02اردو
15:02اکیڈمی
15:02میں
15:02رہے
15:03حج
15:03کمیٹی
15:03میں
15:04رہے
15:04اور
15:05کچھ
15:05اور
15:05جو
15:05مقامی
15:06سیاسی
15:07باس
15:08اور
15:08شخصیات
15:08تھے
15:09ان سے
15:09بھی
15:09ان کے
15:09تعلقات
15:10تھے
15:10تو ان کا
15:10ایک
15:11کہیں
15:11نہ
15:11کہیں
15:12کچھ
15:12سیاسی
15:13مقاصد
15:13تھے
15:13سیاست
15:14میں
15:14جانا
15:15ان کے
15:15لیے
15:16وہ
15:16ضروری
15:17سمجھتے
15:17کچھ
15:17ایمبیشیس
15:18تھے
15:18سیاست
15:19کے لیے
15:20لیکن
15:20وہ
15:20کہتے ہیں
15:20کہ
15:21اچانک
15:21منہ دل
15:22میں
15:22خیال آیا
15:23کہ میں
15:23یہ
15:24سب
15:25چیزیں
15:25چھوڑ کر
15:25دنیا
15:26داری
15:26چھوڑ کر
15:26اب
15:27کچھ
15:27آخرت
15:28کے لیے
15:28کرنا
15:28چاہتا
15:29ہوں
15:30اور
15:30بس
15:31بیق
15:31جنبش
15:32ایک قلم
15:32یہ سمجھ لیجی
15:33کہ انہوں نے
15:34وہ
15:34تمام چیزیں
15:35جو ان کی
15:35سیاسی
15:36نظری
15:36ایک طرح سے
15:37سیاسی
15:38خواہشات
15:38تھی
15:38ان کو
15:39وحی پر
15:40ختم کر دیا
15:41اور یہ
15:41جو عام کا
15:42سپارہ ہے
15:43اس کا انہوں نے
15:43منظوم ترجمہ کیا ہے
15:44تو ان کے لیے
15:46یہ بڑی
15:46ایک فیضان تھا
15:48ایک طرح سے
15:49یہ
15:50اللہ تعالیٰ ان کو
15:51اپنے نزدیک بلا رہا تھا
15:52اب یہی
15:53میں جو
15:54زمدی طور پر
15:55بلکہ برابر سے
15:56ذکر کرنا چاہوں گا
15:57اور بلکہ
15:58جس طرح آپ نے
15:59سوال کے
15:59اس سوال کا جواب
16:00یہ بھی ہو سکتا تھا
16:00اگر میں
16:01اس حصے کو
16:01ہٹا دوں
16:03کہ انہوں نے جو
16:05گیتہ کا منظوم
16:06ترجمہ کیا ہے
16:08وہ ان کا
16:09ایک بڑا
16:10قابل
16:10قدر کارنامہ ہے
16:11اور اس کی وجہ سے
16:12ان کی ایک
16:13ایسی شخصیت
16:14ہمارے سامنے آتی ہے
16:15جو ایک گنگا
16:16جملی تحزیب
16:17کو آگے لے جانا چاہتی ہے
16:19جہاں پر
16:20مذہبی رواداری ہے
16:21جو دلوں کو
16:22جوڑنی کی بات کرتی ہے
16:23جہاں ہندوستان ہے
16:24حب الوطنی ہے
16:25تو گیتہ کا
16:27منظوم ترجمہ
16:28انہوں نے کیا ہے
16:28یہ ان کا
16:29ایک بڑا کام ہے
16:30اس سے قبل
16:32وہ گیتانجلی کا بھی
16:33منظوم ترجمہ
16:34کر سکتا چکے ہیں
16:35جو
16:35ایگور کی
16:36گیتانجلی ہے
16:37جس پر ان کو
16:38نوبل پرائز ملا تھا
16:39اس کا بھی
16:40انور جلال پوری صاحب
16:42نے منظوم ترجمہ کیا ہے
16:43حالہ گیتانجلی
16:44کے ترجمے بھی ہوئے
16:46گیتہ کے تو
16:46بے شمار ترجم ہیں
16:47پچاس سے قریب
16:48ترجم بلتے ہیں
16:49اس سے منظوم ترجم بھی ہیں
16:50اور بڑے لوگوں
16:51نے کیے ہیں
16:52اس میں
16:52کئی اہم لوگوں
16:53کا نام آتا ہے
16:54اسی طرح
16:55جو مذہبی شاعری ہے
16:57جس طرح
16:58حفی جالنفری نے کی ہے
16:59حسد موحانی صاحب
17:00نے کی ہے
17:01یہ بھی ایک تسلسل ہے
17:03لیکن
17:04انور جلال پوری صاحب
17:06نے بھی
17:06ان دوسرے
17:07مذاہب کے
17:08کی جو مقدس کتابیں
17:10ہیں
17:10ان کے تراجم
17:11منظوم ترجمے
17:13اور جو ہماری
17:15ادھر
17:15مسلمانوں کی
17:16مذہبی چیزیں ہیں
17:17ان کے
17:18انہوں نے جو منظوم
17:19تراجم کیے
17:20یا ان پر کلام لکھا
17:21یہ
17:22اس میدان میں بھی
17:24انور جلال پوری صاحب
17:25نے اپنی ایک بڑی
17:27مضبوط
17:28انٹری کرائی
17:28اور اپنا نام
17:30سنہرے لفظوں میں
17:31درز کرایا
17:32اور انور جلال پوری
17:33کی بات جب بھی ہوتی ہے
17:34تو اگر ان کی
17:37ایک بڑا ٹیک تھا
17:38وہ ہٹتا ہے
17:38تو وہ گیتہ کے
17:40منظوم ترجمے سے
17:41ہٹتا ہے
17:41گیتانجلی کے
17:42منظوم ترجمے سے
17:43ہٹتا ہے
17:43یا ادھر جو انہوں نے
17:44مذہبی شاعری کی
17:45توشہ آخرت
17:46اور دوسری کتابیں
17:47لکھیں
17:47ان سے
17:48ان کی ایک نیو شخصت
17:50ہمارے سامنے
17:50اُبھر کر سامنے آتی ہے
17:52اور یہی سے
17:54انور جلال پوری صاحب
17:56کی زندگی جو ہے
17:56وہ ایک پوری
17:57طرح سے کربٹ لیتی ہے
17:59اور ان کا
18:07وہ متاثر تے
18:08سیاست سے
18:08سماس سے
18:09تو اس سے
18:10ان کا ذہن
18:11ہٹ جاتا ہے
18:11جب وہ
18:12توشہ آخرت
18:13لکھتے ہیں
18:13جی شادب صاحب
18:15آپ نے جس طرح
18:16نظامت کی
18:16بات کی
18:17اسی طرح سے
18:18آپ نے بتایا
18:19کہ
18:20ایک سنگم
18:21یہاں بھی تھا
18:22جو مذہبی
18:22ہم آہنگی والا
18:23کہ ادھر والی
18:25کتابوں کا بھی
18:25درجمہ
18:26اور ادھر کا بھی
18:26تو ایک سنگم
18:28ادھر بھی ایک
18:28انہوں نے
18:28بنا کر رکھا
18:30اگر آپ
18:38بلکل
18:38ان کے بہت سے
18:39اشار
18:39ہیں جو
18:43ہمارے
18:44ہمارے سہنوں
18:44کو جھنجوڑتے ہیں
18:46اور
18:48ایک شیئر
18:49تو میں
18:49ان کا پڑا
18:49مجھے
18:50پسند ہے
18:52جو میں
18:52اکثر
18:53اس کا
18:54ذکر بھی
18:54ہوتا ہوں
18:55کہ
18:56وہ جس کو
18:58پڑھتا نہیں
18:58کوئی
18:59بولتے
19:00سب ہیں
19:02وہ جس کو
19:03پڑھتا نہیں
19:04وہ جس کو
19:05پڑھتا نہیں
19:05کوئی بولتے
19:06سب ہیں
19:08جنابِ میر
19:08بھی
19:09کیسی زبان
19:09چھوڑ گئی
19:11جنابِ میر
19:12بھی
19:12کیسی زبان
19:13چھوڑ گئی
19:15جس طرح
19:15اردو
19:16رسم الخط
19:16دھیرے دھیرے
19:17ختم ہو رہا تھا
19:18اور آج
19:18تو اور بھی
19:19عجیب
19:19صورتحال
19:20ہے
19:20لیکن اردو
19:21زندہ تھی
19:21اردو آج بھی
19:22زندہ ہے
19:22ایک بولی
19:23بن کر رہے گئی
19:24تو اس
19:25صورتحال
19:26کو
19:26اور ان کا
19:27کہیں نہ کہیں
19:28درد بھی
19:28اس میں جھلک رہا تھا
19:30کہ وہ
19:30جس کو پہتا نہیں
19:31کوئی بولتے
19:32سب ہے
19:32جنابِ میر
19:33بھی
19:34کیسی زبان
19:34چھوڑ گئی
19:35یہ ان کا
19:36بڑا اچھا شیر ہے
19:37ایک شیر
19:38اور وہ
19:38اکثر
19:38مشاعروں
19:39کے سنایا
19:39کرتے تھے
19:40کہ
19:40تحمتیں
19:42آئیں گی
19:43نادر شاہ پر
19:46تحمتیں
19:47آئیں گی
19:48نادر شاہ پر
19:49آپ
19:50دلی
19:50خوب
19:51لوٹا کیجئے
19:53آپ
19:53دلی
19:54خوب
19:54لوٹا کیجئے
19:56یہاں
19:56ایک بات
19:56اور میں
19:56عرض کر دوں
19:57کہ
19:57انور جلال
19:58پری صاحب
19:58کے یہاں
20:00وہ ستھی
20:01شاعری نہیں
20:01ہے جس طرح
20:02حسن عشق کے
20:02معاملات ہیں
20:03وہ بہت
20:03ستھی
20:04ہو کر
20:04نہیں آئے
20:06اور ان کے
20:06جو جمعی
20:07فضا ہے
20:08وہ
20:08ایک پورا
20:09ہندوستان
20:09اس میں
20:09نظر آتا ہے
20:10اس میں
20:10محبت
20:10نظر آتی ہے
20:11انسان دوست
20:11ہی نظر آتی ہے
20:12یہ ان کی
20:13شاعری کا
20:14ایک خاص
20:15موقع تھا
20:16ایک غزل
20:17کا ایک
20:18مطلع میں
20:18سنا رہا ہوں
20:19کہ
20:19ظلف کو
20:20عبر کا
20:20ٹکڑا
20:21نہیں
20:22لکھا
20:22میں نے
20:28آج تک
20:29کوئی
20:29قصیدہ
20:30نہیں
20:30لکھا
20:31میں نے
20:32آج تک
20:33کوئی
20:33قصیدہ
20:34نہیں
20:34لکھا
20:35میں نے
20:36کہتے ہیں
20:37کہ میرا
20:37ہر شعر
20:39حقیقت
20:40کی ہے
20:40روشن
20:41تصویر
20:42میرا
20:43ہر شعر
20:43حقیقت
20:44کی ہے
20:44زندہ
20:44تصویر
20:46اپنے
20:47اشعار
20:47میں
20:47قصہ
20:48نہیں
20:48لکھا
20:48رہے
20:50اپنے
20:50اشعار
20:51میں
20:51قصہ
20:51نہیں
20:52لکھا
20:52رہے
20:52تو یہ
20:53ان کا
20:54کہیں
20:54نہ
20:54کہیں
20:54شعری
20:54موقع
20:55بھی
20:55ہے
20:55کہ
20:55کس طرح
20:55کی
20:55شاعری
20:57کرنا
20:57پسند
20:58کرتے
20:58تھے
20:59یہ
20:59ان کے
21:00اشعار
21:00سے
21:01ظاہر
21:01ہوتا
21:02ہے
21:02چاہو
21:03تو
21:03میری
21:04آنکھوں
21:04کو
21:05آئی
21:05نہ
21:05بنالو
21:11دیکھو
21:11تمہیں
21:12ایسا
21:12کوئی
21:12درپن
21:13نہ
21:13ملے
21:13گا
21:14چاہو
21:15تو
21:15میری
21:15آنکھوں
21:15کو
21:16آئی
21:16نہ
21:16بنالو
21:17دیکھو
21:18تمہیں
21:18ایسا
21:19کوئی
21:19درپن
21:20نہ
21:20ملے
21:20گا
21:20اب
21:21میں
21:21ایک
21:21بات
21:22کی
21:22چی
21:22کہ
21:22ان کے
21:22ستھی
21:23شاعری
21:23نہیں
21:23ملتی
21:24جو
21:24مذہبی
21:26رومانی
21:26شاعری
21:27شاعری
21:27وہ
21:27کبھی
21:28تقدس
21:28ملتا
21:29ہے
21:29وہ
21:29کہتے
21:30ہیں
21:30کہ
21:30میں
21:30نے
21:30لکھا
21:31ہے
21:31اسے
21:31مریم
21:32سیتا
21:33کی
21:33طرح
21:34میں
21:35نے
21:35لکھا
21:36ہے
21:36اسے
21:36مریم
21:37سیتا
21:37کی
21:38طرح
21:39جسم
21:39کو
21:39اس
21:40کے
21:40اجنتہ
21:41نہیں
21:41لکھا
21:41میں
21:41نے
21:42ہے
21:45اجنتا
21:45نہیں
21:45لکھا
21:46میں
21:46نے
21:46näm
21:50تو
21:53یہ
21:54تقدس
21:55جو
21:55ان کی
21:55ملتا
21:56تھا
21:56ایک
21:57اور
21:57مطلب
21:57ان
21:57کا
21:57سنا当
21:58ہوت
21:58کہ ملتا
22:00یہ زندگی کیا ہے؟ کوئی پوچھے کا جس دن واقعی یہ زندگی کیا ہے؟ زمین
22:08سے ایک مٹھی خاک لے کر ہم اڑا دیں گے زمین سے ایک مٹھی خاک لے کر ہم
22:15اڑا دیں گے زندگی ناصاباتی زندگی کا جو ناپائیدار ہونا ہے زندگی
22:21حقیقت دو بیان کر رہے شیر میں زمین سے ایک مٹھی خاک لے کر ہم اڑا دیں
22:25ایک اور بڑا اچھا شیر ہے ان کا مسلسل تھوپ میں جلنا چرا
22:30چراغوں کی طرح جلنا
22:33مسلسل دھوپ میں جلنا
22:35چراغوں کی طرح جلنا
22:37یہ ہنگامے تو
22:38مجھ کو وقت سے پہلے تھکا دیں گے
22:42یہ ہنگامے تو
22:43مجھ کو وقت سے پہلے تھکا دیں گے
22:45اب دیکھیں اس میں پہلے
22:47مسلے میں مران صاحب کے
22:49مسلسل دھوپ میں جلنا
22:50اور چراغوں کی طرح جلنا
22:52تو جلنے کی دو الگ الگ
22:54کیفیتیں اس میں شعر بنان کر رہا ہے
22:57جو شعر کا حسن ہے جو اس کی بیوٹی ہے
23:00مسلسل دھوپ میں جلنا چراغوں کی طرح جلنا
23:02یہ ہنگامیں تو مجھ کو وقت سے پہلے تھکا دیں گے
23:07اور ان کا ایک آشیر سنیے
23:08ساتھ رکھتا ہوں
23:10سدا اخلاق کا پارس
23:12اسی پتھر سے چھوکے
23:15مٹی میں سونا بناتا ہوں
23:18اسی پتھر سے چھوکے مٹی میں سونا بناتا ہوں
23:22اسی پتھر سے چھوکے مٹی میں سونا بناتا ہوں
23:27ایک قبل کے چند شیر اور مجھے یاد آ رہے
23:30کہ سوچتا ہوں کہ تیرے پیار کا توفہ کیا ہے
23:40تیرے پتھر سے میرے زخم کا رشتہ کیا ہے
23:45تیرے پتھر سے میرے زخم کا رشتہ کیا ہے
23:47اور اس میں بہت ہی اچھا ایک شیر سن لیجئے صاحب
23:50کیا اچھا شیر کہا ہے
23:52کہتے ہیں کہ شادمان لوگو
23:54میرے زخم سے دلچسپی کیوں
23:58شادمہ لوگو
23:59میرے زخم سے دلچسپی کیوں
24:02اس کا پتھر ہے
24:03میرا سر ہے
24:05تمہارا کیا ہے
24:08کیا مزے کا شعر ہے
24:10شادمہ لوگو
24:11میرے زخم سے دلچسپی کیوں
24:13اس کا پتھر ہے میرا سر ہے
24:15تمہارا کیا ہے
24:17کبھی چراغ کبھی
24:19تیرگی سے ہار گئے
24:21جو بے شعور تھے وہ ہر کسی سے ہار گئے
24:24کبھی چراغ کبھی تیرگی سے ہار گئے جو بے شعور تھے وہ ہر کسی سے ہار گئے
24:29عجیب کھیل کا میدان ہے یہ دنیا بھی
24:32عجیب کھیل کا میدان ہے یہ دنیا بھی
24:35کہ جس کو جیت چکے تھے اسی سے ہار گئے
24:39کہ جس کو جیت چکے تھے اسی سے ہار گئے
24:42تو ایسے ایسے بڑے غزب کے شیر انور جلال پوری صاحب نے کہیں ہیں
24:47دو اور اچھے شیر ان کے سنے کہ چلو سچ بولنے والوں سے رشتہ کر لیا جائے
24:54چلو سچ بولنے والوں سے رشتہ کر لیا جائے
24:57خود اپنے آپ کو دنیا میں تنہا کر لیا جائے
25:02خود اپنے آپ کو دنیا میں تنہا کر لیا جائے
25:05بہت برباد کر ڈالا ہے ہم دونوں کو نفرت میں
25:11کیا اچھا شعر ہے
25:14بہت برباد کر ڈالا ہے ہم دونوں کو نفرت میں
25:17اٹھو لفظ محبت لکھ کے سجدہ کر لیا جائے
25:22اٹھو لفظے محبت لکھ کے سجدہ کر لیا جائے
25:26بہت برباد کر ڈالا ہے ہم دونوں کو نفرت میں
25:31چلو لفظے محبت لکھ کے سجدہ کر لیا جائے
25:36وہی پہ صبح پتنگوں کی لاش پاؤ گے
25:40وہی پہ صبح پتنگوں کی لاش پاؤ گے
25:44اسی گلی میں جہاں روشنی زیادہ ہے
25:49جہاں ہے پیار وہیں رنجشیں بھی دیکھو گے
25:56جہاں ہے پیار وہیں رنجشیں بھی دیکھو گے
25:59جہاں غرض ہے وہاں دوستی زیادہ ہے
26:06اور کیا اچھا شعر کہا ہے صاحب
26:10ابھی محاص پہ جانے کی بات مت کرنا
26:15ابھی محاص پہ جانے کی بات مت کرنا
26:17ابھی تمہاری صفوں میں کجی زیادہ ہے
26:21ابھی تمہاری صفوں میں کجی زیادہ ہے
26:24یہ تھے انور جلال پوری صاحب
26:27ان کا ایک خاص اپنا لہجہ تھا
26:29اس میں اخلاقیات تھی
26:31اس میں وطن تھا
26:31اس میں انسانیت تھی
26:32یہ انور جلال پوری صاحب کی شائری تھی
26:35بہت شاندار شخصیت اور شائری ہے
26:38ناظرین وقت نے اجازت نہیں دی
26:40ورنہ انور جلال پوری پر
26:42ان کی شخصیت پر اور ان کی شائری پر
26:45بات مت کا سلسلہ بہت طبیل ہے
26:47شاداب صاحب آپ نے جس گہرائی اور محبت کے ساتھ
26:52انور جلال پوری کی شخصیت اور شائری کے
26:54مختلف پہلوں کو ہمارے سامنے رکھا
26:57اس کے لیے ہم آپ کے دل سے ممنون ہیں
27:00یقیناً یہ گفتگو ہمارے ناظرین اور قارین کے لیے
27:04نہ صرف معلوماتی بلکہ فکری طور پر بھی
27:07نہایت سود مند رہی ہوگی
27:09ناظرین و سامین اگر آپ کو
27:11عدب نامہ کی یہ قسط پسند آئی ہو
27:13تو ویڈیو کو لائک کریں
27:15چینل کو سبسکرائب کریں
27:16اور بیل آئیکن کو ضرور دبائیں
27:19تاکہ ہر نششت آپ تک بروقت پہنچتی رہے
27:22ہم اگلی نششت میں کسی اور شائر کی زندگی
27:26اسلوک اور نظریات پر گفتگو کے ساتھ
27:30آپ کی خدمت میں دوبارہ حاضر ہوں گے
27:32تب تک کے لیے اجازت دیجئے
27:34اپنا فیال رکھیے گا پھر ملاقات ہوگی
Comments

Recommended