Skip to playerSkip to main content
Hazrat Bahlool Dana Ki Daanai | Bahlool Ki Zindagi Aur Sabaq 🌟
Voiced By Qadir Kalhoro

✨ Is video mein hum aapko Hazrat Bahlool Dana ki zindagi aur unki daanai ke dilchasp qisse dikhayenge.
Hazrat Bahlool ek aise shaks the jo aqalmandi, sabr, aur hikmat ke liye mashhoor hue.

📖 Is video mein shamil hain:

Hazrat Bahlool ki zindagi ka khulas 🌱

Unki daanai aur aqalmandi ke qisse 🧠

Unke funny aur sabak amoz waqiat 😄

Zindagi ke liye aham sabaq jo har shakhs seekh sakta hai 🌟

🎥 Dekhein aur seekhein Hazrat Bahlool ki zindagi ke anmol sabaq.

#HazratBahlool #IslamicStories #SabarAurHikmat #QasasUlAnbiya #qadirkalhoro

Category

📚
Learning
Transcript
00:00بسم الله الرحمن الرحيم السلام عليكم
00:02پیارے دوستو بحلول کا نام تو آپ نے ضرور سنا ہوگا جنہیں بحلول دانا بھی کہا جاتا ہے
00:08یہ پانچمیں عباسی خلیفہ حارون رشید کے زمانے میں ایک فلسفی اللہ کے ولی اور دنیا سے کنارہ کش درویش کے طور پر جانے جاتے تھے
00:18ان کا کوئی مستقل ٹھکانا نہ تھا بلکہ وہ ننگے پاؤں شہر کی گلیوں میں گھومتے رہتے اور جہاں تھکن محسوس کرتے وہیں رک جاتے
00:26کچھ لوگ انہیں عشق الہی میں گم رہنے کی وجہ سے مجذوب بھی کہتے ہیں وہ عام طور پر لوگوں سے کم بات کرتے
00:33مگر جب کبھی بات کرتے تو ایسی گہری اور دانش بھری باتیں کرتے کہ لوگ حیران رہ جاتے
00:40دوستو کوفہ میں پیدا ہونے والے بحلول کا اصل نام وحب بن عمرو تھا اور ان کا تعلق عرب قبیل بنو امان سے تھا
00:48ان کے والد چھٹے امام جعفر صادق علیہ السلام کے شاگر تھے
00:52مگر انہوں نے کچھ وقت ساتویں امام موسیٰ قاظم کی صحبت میں بھی گزارا
00:57بحلول خود بھی امام موسیٰ قاظم کے پیروکار تھے
01:01جب خلیفہ حارون رشید نے امام موسیٰ قاظم علیہ السلام کو قید کیا
01:06اور ان کے عقیدت مندوں کے خلاف کاروائیاں شروع کی
01:09تو وحب اور چند دیگر عقیدت مندوں نے قید خانے میں امام سے ملاقات کی
01:14اور آئندہ کے لاحے عمل کے لیے رہنوائی چاہی
01:18امام نے ان کے سامنے ایک خط میں صرف ایک حرف جیم لکھ کر بھیج دیا
01:23ہر پیروکار نے اس حرف کو اپنے طور پر سمجھا
01:26بعض نے اسے جلا وطن کے معنی میں لیا
01:29جبکہ کچھ نے اسے پہاڑوں میں روپوشی سے تعبیر کیا
01:33مگر وحب نے اسے جنون یعنی دیوانگی کا مفہوم دیا
01:37چنانچہ انہوں نے اپنی آسودہ زندگی ترک کر دی
01:40سادہ پھٹے پرانے کپڑے پہنے اور گلیوں میں نکل آئے
01:44خلیفہ حارون رشید سے بحلول کی ملاقات 188 ہجری میں اس وقت ہوئی
01:49جب خلیفہ حج کے سفر پر کوفہ آیا ہوا تھا
01:52اس ملاقات کا ذکر امام ابن کفیر نے بھی کیا ہے
01:56بحلول نے خلیفہ کو ایسی حکیمانہ نصیحتیں کی
02:00کہ حارون رشید ان سے متاثر ہو کر انہیں اپنے ساتھ بغداد لے گیا
02:04وہاں پہنچنے کے بعد بحلول نے بغداد کی گلیوں کو ہی اپنا ٹھکانہ بنا لیا
02:10قابل ذکر بات یہ ہے کہ بحلول کا مزار بھی بغداد میں ہی واقع ہے
02:14روایت ہے کہ اس مزار کے ایک گوشے میں سکھ مذہب کے بانی
02:19گرو نانک جی نے بھی چلا کٹا تھا
02:22دوستو بحلول کی دانائی کے بے شمار واقعات مشہور ہیں
02:25اور ان واقعات کو سن کر ہی اندازہ ہوتا ہے
02:28کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں کتنی بے مثال حکمت اور بصیرت سے نوازا تھا
02:33ان کا اللہ تعالیٰ کے ساتھ تعلق بھی انہیں حکایات سے ظاہر ہوتا ہے
02:38بحلول دانا رحمت اللہ علیہ کے چند اہم واقعات آپ کو سنانے جا رہے ہیں
02:43لہٰذا ویڈیو کو آخر تک ضرور دیکھئے گا
02:46اور اپنے دوستوں احباب کے ساتھ شیئر کرنے کے ساتھ ساتھ
02:50کمنٹس میں اس ویڈیو کے بارے میں فیڈبیک بھی ضرور دیجے گا
02:53دوستو کہا جاتا ہے کہ ایک دن بحلول دریائے دجلہ کے کنارے گیلی ریت کی دھیر بنا رہے تھے
02:59خلیفہ حارون رشید کی محبوبہ ملکہ زبیدہ
03:02اپنے محل کے جھروکے سے بڑی توجہ سے انہیں دیکھ رہی تھی
03:06بحلول ریت کی دھیری بناتے اور پھر خود ہی اسے نسمار کر دیتے
03:11ملکہ کو تجسس ہوا
03:12تو وہ اپنی سہیلیوں کے ہمراہ دریہ کنارے ان کے پاس آ گئی
03:16اور پوچھا کیا کر رہے ہو بحلول
03:18بحلول نے بینیازی سے جواب دیا
03:20جنت کے محل بنا رہا ہوں
03:22ملکہ نے ہنستے ہوئے کہا
03:24اگر کوئی یہ محل تم سے خریدنا چاہے
03:27تو کیا بیچوگے
03:28بحلول نے فورا کہا ہاں کیوں نہیں
03:30میں بناتا بھی ہوں اور بیچتا بھی ہوں
03:33ملکہ نے پوچھا اچھا
03:35تو بتاؤ کہ ایک محل کی کیا قیمت ہے
03:38بحلول نے بے ساختگی سے جواب دیا
03:40تین درہم
03:41کچھ روایات کے مطابق ایک درہم بھی لکھا گیا ہے
03:44ملکہ نے یہ سن کر فوراں بحلول کو تین درہم دے دیئے
03:48یہ واقعہ جب ملکہ زبیدہ نے خلیفہ حارون رشید کو بتایا
03:52تو خلیفہ نے اسے مذاق میں لے لیا
03:54لیکن رات کو حارون نے ایک خواب دیکھا جس میں جنت کے دلکش مناظر تھے
04:00ان میں حسین محلات آبشاریں اور سبز مرغرار شامل تھے
04:04ان محلات میں سے ایک محل سرخ یاقود سے بنا ہوا تھا
04:08اور اس پر زبیدہ کا نام لکھا ہوا تھا
04:11حارون نے سوچا کہ یہ تو میری بیوی کا گھر ہے
04:14دیکھوں تو سہی جب وہ محل کے دروازے پر پہنچا
04:17تو دربان نے اسے روک دیا
04:19خلیفہ نے کہا کہ اس محل پر میری بیوی کا نام ہے
04:22مجھے اندر جانے دو دربان نے جواب دیا
04:25کہ یہاں کا دستور یہ ہے
04:26کہ جس کا نام ہو صرف اسے ہی اندر جانے کی اجازت ہے
04:30آپ کو داخل ہونے کی اجازت نہیں
04:32اس پر حارون کی آنکھ کھل گئی
04:35بیدار ہونے کے بعد اس نے سوچا
04:36کہ اللہ تعالیٰ نے زبیدہ کے حق میں بحلول کی دعا قبول کر لی ہے
04:41یہ خیال اسے پریشان کیے رہا
04:43اور وہ ساری رات کروٹیں بدلتا رہا
04:46اگلے دن وہ بحلول کو تلاش کرتا ہوا
04:48دریائے دجلہ کے کنارے پہنچا
04:50جہاں بیلول دوبارہ ریت کے محلات بنا رہے تھے
04:54حارون نے ان سے پوچھا
04:55کیا کر رہے ہو
04:56بیلول نے جواب دیا
04:57کہ جنت کے محل بنا رہا ہوں
04:59حارون نے پوچھا
05:00کیا یہ محل فروخت کروگے
05:02بیلول نے کہا
05:03کہ ہاں کیوں نہیں
05:05خلیفہ نے قیمت پوچھی
05:06تو بیلول نے کہا
05:07کہ تیری پوری سلطنت
05:09حارون رشید نے حیران ہو کر کہا
05:11کل تو تم تین درہم کے بدلے محل دے رہے تھے
05:14آج پوری سلطنت مانگ رہے ہو
05:16بیلول نے مسکراتے ہوئے جواب دیا
05:18کل تم نے بن دیکھے معاملہ کیا تھا
05:21اور آج تم دیکھ کر آئے ہو
05:23یہ سن کر خلیفہ نے آجزی سے کہا
05:25کہ حضرت میں اپنی ساری سلطنت دینے کو تیار ہوں
05:29لیکن مجھے جنت کا ایک محل دے دو
05:31بیلول نے خلیفہ کی یہ آجزی دیکھ کر کہا
05:34کہ مجھے تمہاری سلطنت سے کوئی غرص نہیں
05:37اس دنیا کی محبت بہت سے گناہوں کی جڑھ ہے
05:40جاؤ اپنی سلطنت اپنے پاس رکھو
05:43میں تمہیں یہ محل آج بھی تین درہم کے بدلے فروخت کرتا ہوں
05:47دوستو بیلول دانا رحمت اللہ علیہ کے اس واقعے سے
05:50ان کے اللہ تعالیٰ کے ساتھ تعلق کا بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے
05:55خود سوچیں کہ جو شخص دنیا میں جنت کے محل فروخت کر رہا ہو
05:59اس کی اللہ تعالیٰ کے ساتھ وابستگی کتنی گہری ہوگی
06:02بہلول کا ہر واقعہ دل کے کانوں سے سننے کے لائق ہے
06:06کیونکہ ان میں انسان کے لئے گہرے اسباق پوشیدہ ہیں
06:10جو دل و دماغ کو جھنجھوڑ دیتے ہیں
06:13بہلول دانا رحمت اللہ علیہ کا ایک اور مشہور واقعہ
06:17سیدھنا سری سقتی رحمت اللہ علیہ سے منصوب ہے
06:20وہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دن میں قبرستان گیا
06:23تو میں نے بہلول کو دیکھا
06:25کہ وہ ایک قبر کے قریب بیٹھے ہوئے تھے
06:28اور مٹی میں لوٹ پوٹ ہو رہے تھے
06:30میں نے ان سے پوچھا کہ آپ یہاں کیوں بیٹھے ہیں
06:32بہلول نے سکون سے جواب دیا
06:35میں ان لوگوں کے ساتھ ہوں
06:37جو مجھے کوئی عذیت نہیں دیتے
06:39اور اگر میں ان کی محفل سے غائب بھی ہو جاؤں
06:42تو میری غیبت نہیں کرتے
06:43دوستو بہلول دانا رحمت اللہ علیہ کے اس واقعے سے
06:46ہمیں ایک اہم سبق ملتا ہے
06:48کہ غیبت ایک ایسا گناہ ہے
06:51جو ہماری روح کو برباد کر دیتا ہے
06:53دنیا میں غیبت کا رواج عام ہے
06:56اور اکثر لوگ دوسروں کی عدم موجودگی میں
06:59ان کی برائی کرنے میں مبتلا ہیں
07:01یہ ایک ایسا گناہ ہے
07:02جسے لوگ اب گناہ سمجھتے بھی نہیں ہیں
07:05حالانکہ یہ ہلاک کر دینے والا گناہ ہے
07:08اللہ ہمیں اس بری عادت سے محفوظ رکھے
07:11ناظرین بہلول کا ایک اور معنی خیز واقعہ یہ ہے
07:14کہ ایک دن وہ بازار میں بیٹھے ہوئے تھے
07:17تو ایک شخص نے آ کر پوچھا
07:18بہلول کیا کر رہے ہو؟
07:20بہلول نے جواب دیا
07:21اس شخص نے پوچھا
07:25پھر کیا نتیجہ نکلا؟
07:27بہلول نے کہا
07:28کہ اللہ تو مان رہا ہے
07:29لیکن بندے نہیں مان رہے
07:31کچھ عرصے کے بعد
07:32وہی شخص قبرستان کے قریب سے گزرا
07:34تو دیکھا کہ بہلول وہاں بیٹھے ہیں
07:36ان سے قریب جا کر پوچھا
07:38بہلول کیا کر رہے ہو؟
07:40بہلول نے کہا
07:41کہ بندوں کی اللہ سے صلح کر آ رہا ہوں
07:43اس شخص نے پوچھا
07:45اب کیا نتیجہ نکلا؟
07:46بہلول نے جواب دیا
07:47کہ اب بندے تو مان رہے ہیں
07:49مگر آج اللہ نہیں مان رہا
07:51دوستو بحلول رحمت اللہ علیہ
07:54کی اس حکمت بھری بات میں
07:55ایک بہت ہی غیرہ سبق
07:57چھپا ہوا ہے آج اللہ تعالی
07:59اپنے بندوں کا منتظر ہے
08:01کہ وہ اس کی طرف رجوع کریں
08:03توبہ کریں اور اللہ کو راضی کریں
08:05لیکن افسوس کی بات یہ ہے
08:07کہ بندے اس سے غافل ہیں
08:09ہمیں یہ یاد رکھنا چاہیے
08:11کہ جب ہماری آنکھیں بند ہو جائیں گی
08:13اور حقیقت آشکار ہو جائے گی
08:15تو تب ہم بے حد پچتائیں گے
08:17اس وقت ہمارے دل کی تمنا ہوگی
08:20کہ کاش ہمیں دوبارہ محلت ملے
08:22تاکہ ہم زندگی کا ہر لمحہ
08:24اللہ کی عبادت میں گزار دیں
08:26مگر تب ہمیں کوئی محلت نہیں ملے گی
08:29آج ہمیں یہ موقع ملا ہوا ہے
08:31زندگی کی یہ قیمتی محلت
08:33ہمارے ہاتھ میں ہے
08:34جتنا ممکن ہو
08:36ہمیں اللہ کے حضور سجدہ ریز ہونا چاہیے
08:39لیکن آج ہماری کیا حالت ہے
08:41آزان کی آواز سن کر بھی
08:43بہت کم لوگ ہیں جو مسجد کا
08:46رخ کرتے ہیں یہ غفلت
08:47ہمیں کہیں ہلاکت کی طرف نہ لے جائے
08:49دوستو اللہ کی اس محلت کو
08:51ضائع نہ کریں اسے غنیمت سمجھیں
08:54اور اللہ کو راضی کرنے کی
08:55کوشش کریں آج کا دن ہے
08:57آج کا موقع ہے کہ ہم
08:59اپنے آمال کو سمار لیں
09:01تاکہ کل کے دن ہمیں پچتاوہ
09:03نہ ہو دوستو بحلول رحمت اللہ
09:05علیہ سے بے شمار حکمت
09:07بھری باتیں اور نصیحت آموز
09:09واقعات منصوب ہیں
09:11کچھ لوگ ان قصوں کو محض کتابی
09:13باتیں سمجھتے ہیں جبکہ بعض
09:15انہیں روحانیت کا عالی مقام
09:17مانتے ہیں لیکن یہ بات تو تیہ ہے
09:19کہ بحلول دانا کی ہر
09:21بات میں گہرائی اور سچائی ہے
09:23جیسے وہ اپنے وقت کی سچائیوں
09:25کو پتھر پر لکیر کی
09:27مانند بیان کر گئے ہیں
09:29کہا جاتا ہے کہ ایک دن بحلول رحمت اللہ
09:31علیہ بادشاہ کے پاس گئے
09:33اس وقت بادشاہ گہری سوچ
09:35میں گم تھا بحلول نے پوچھا
09:37کیا سوچ رہے ہو بادشاہ نے جواب
09:39دیا کہ میں اس وقت دنیا کی
09:41بے وفائی پر غور کر رہا ہوں
09:43کہ اس نے کسی کے ساتھ
09:45بھی وفا نہیں کی بحلول نے
09:47مسکراتے ہوئے کہا اگر دنیا وفادار
09:49ہوتی تو تم آج بادشاہ
09:51نہ ہوتے اسے چھوڑو اور ایسی
09:53بات پر سوچو جو تمہارے
09:55لیے حقیقت میں فائدہ مند ہو
09:57دوستو بحلول رحمت اللہ علیہ کے
09:59ایک اور واقعے سے ہمیں موت اور
10:01زندگی کی حقیقت کا گہرا سبق
10:03ملتا ہے ایک دن بارش کی وجہ سے
10:05قبرستان کی کچھ قبریں کھل گئیں
10:07اور کئی مردوں کی ہڈیاں
10:09اور کھوپڑیاں نمائی ہو گئیں
10:11بحلول قبرستان میں بیٹھے
10:13ان کھوپڑیوں کو غور سے دیکھ رہے
10:15تھے کہ بادشاہ کی سواری
10:17وہاں آن پہنچی بادشاہ نے
10:19انہیں اس طرح مصروف دیکھ کر پوچھا
10:21بحلول یہ کیا کر رہے ہو
10:23بحلول نے جواب دیا کہ تمہارے
10:25اور میرے والد دونوں کا
10:27انتقال ہو چکا ہے میں یہ
10:29دیکھنے کی کوشش کر رہا ہوں
10:31کہ تمہارے والد کی کھوپڑی کونسی ہے
10:33اور میرے والد کی کونسی
10:35بادشاہ نے حیرت سے کہا
10:37کیا مردہ امیر اور غریب
10:39یا بادشاہ و فقیر کی ہڈیوں میں
10:41بھی کوئی فرق ہوتا ہے
10:42کہ تم انہیں پہچاند سکو گے
10:44بحلول نے مسکرا کر جواب دیا
10:46اگر مرنے کے بعد امیر اور غریب میں
10:48کوئی فرق نہیں
10:49تو پھر دنیا میں چار دن کی جھوٹی شان
10:52و شوقت پر لوگ کیوں مغرور
10:54ہو جاتے ہیں
10:54اور غریبوں کو حقیر کیوں سمجھتے ہیں
10:57بادشاہ کو یہ بات دل پر لگی
10:59اور اس دن کے بعد
11:01اس نے سادگی کو اپنانا شروع کر دیا
11:03دوستو حقیقت یہی ہے
11:05کہ مرنے کے بعد قبر میں
11:06ہر کسی کا انجام ایک ہی جیسا ہوگا
11:08ہر جسم چاہے وہ بادشاہ کا ہو
11:11یا فقیر کا ہو
11:12بالاخر مٹی میں مل جائے گا
11:14ہم سب مٹی سے بنے ہوئے ہیں
11:16اور مٹی ہی ہماری آخری منزل ہے
11:18اس دنیا میں غرور و تکبر سے
11:21کچھ حاصل نہیں ہوتا
11:22کیونکہ اللہ کے نزدیک اصل قدر
11:24تقوی کی ہے
11:25نہ کہ دنیاوی رتبے کی
11:27ہمیں چاہیے کہ ہم دنیا کی
11:29ظاہری چمک دمک سے متاثر نہ ہوں
11:31اور آجزی و انکساری اختیار کریں
11:34تاکہ ہم اللہ کے ہاں قدر پائیں
11:36دوستو بحلول دانا رحمت اللہ علیہ کے
11:39حکمت سے بھرپور واقعات میں
11:40انسان کے لیے بڑے سبق ہیں
11:42ایک بار کسی نے ان سے کہا
11:44کہ بحلول بادشاہ نے تمہیں
11:46پاگلوں کی مردم شماری کرنے کا
11:48حکم دیا ہے
11:49بحلول نے مسکراتے ہوئے جواب دیا
11:51کہ اس کے لیے تو پورا دفتر چاہیے ہوگا
11:53لیکن اگر اقل مندوں کو گننے کا حکم
11:56دیا جائے تو وہ انگلیوں پر ہی
11:58گنے جا سکتے ہیں
11:59یہ واقعہ ہمیں اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتا ہے
12:02کہ دنیا میں حقیقی دانشمند
12:04بہت کم ہیں
12:05ان کی کمی کا اندازہ وہی لوگ کر سکتے ہیں
12:07جو حقیقت شناس ہیں
12:09ایک اور دلچسپ واقعہ ہے
12:11جس میں بحلول رحمت اللہ علیہ نے
12:13ایک شرابی حاکم کے ساتھ مقالمہ کیا تھا
12:16شرابی نے بحلول سے پوچھا
12:18کہ جناب اگر میں کھجوریں کھاؤں
12:20تو کیا آپ کو کوئی اعتراض ہے
12:22بحلول نے جواب دیا کہ بالکل نہیں
12:24شرابی نے کہا اور اگر
12:26اس کے ساتھ کچھ جڑی بوٹیاں کھا لوں
12:29بحلول نے جواب دیا
12:30کہ اس پر بھی کوئی اعتراض نہیں
12:32پھر شرابی نے کہا اور اگر
12:34میں ان میں پانی بھی شامل کر لوں
12:36بحلول نے کہا کہ بڑے شوق سے پیو
12:38شرابی نے آخرکار کہا
12:40کہ جب یہ سب چیزیں جائز ہیں
12:42تو آپ شراب کو کیوں حرام کہتے ہیں
12:45شراب تو انہی چیزوں
12:47یعنی کھجوریں پانی اور جڑی بوٹیوں
12:49کا مرقب ہے
12:50بحلول نے مسکراتے ہوئے اس سے پوچھا
12:52کہ اگر تم پر صرف پانی پھینکا جائے
12:55تو کیا تمہیں اعتراض ہوگا
12:57شرابی نے کہا کہ نہیں
12:59پانی سے کیا فرق پڑتا ہے
13:01بحلول نے پھر پوچھا اچھا
13:03اگر اس پانی میں مٹی ملا دی جائے
13:05تو کیا اس سے کوئی نقصان ہوگا
13:07شرابی نے کہا کہ نہیں
13:09مٹی سے بھی کوئی فرق نہیں پڑتا
13:11تب بحلول نے کہا لیکن اگر
13:13میں پانی اور مٹی کو ملا کر
13:15ایک اینٹ بنا لوں اور پھر
13:17اسے خشک کر کے تم پر پھینکوں
13:19تو کیا ہوگا شرابی نے کہا
13:21کہ جناب ایسا کرنے سے تو آپ
13:23مجھے مار ڈالیں گے
13:24بحلول نے حکمت سے بھرپور جواب دیا
13:27کہ شراب کا بھی یہی حال ہے
13:29اللہ تعالی نے جن چیزوں کو
13:31حرام قرار دیا ہے
13:32اس میں ہماری بھلائی ہے
13:34ہمیں اپنی طرف سے تعویلیں گھڑنے کے بجائے
13:37اللہ کے احکامات کی پیروی کرنی چاہیے
13:39دوستو بحلول رحمت اللہ علیہ
13:41نے کس خوبصورت انداز میں
13:43اور کیسی گہری دانائی سے
13:45اس شرابی حاکم کو جواب دیا
13:47ان کی باتوں نے نہ صرف
13:49اس شرابی کو سبق دیا
13:51بلکہ پوری امت کو یہ پیغام دیا
13:53کہ اللہ تعالی کے احکام میں
13:55کوئی حیل و حجت نہیں ہونے چاہیے
13:58اللہ کے ہر حکم کو
14:00بغیر کسی سوال کے قبول کرنا ہی
14:02حقیقی ایمان کی نشانی ہے
14:05اب حارون رشید اور بحلول دانا کے حوالے سے
14:07ایک دلچسپ واقعہ بھی نکل کیا گیا ہے
14:10جو آپ کی خدمت میں پیش کرتے ہیں
14:12ناظرین کہا جاتا ہے
14:14کہ ایک بار حارون رشید نے
14:16بحلول سے ملاقات کی
14:17اور یہ ملاقات بھی ایک معنی خیز
14:20اور حکمت بھری گفتگو پر مبنی تھی
14:22اس قصے میں حارون رشید کو سبق ملا
14:25کہ دنیاوی شان و شوقت میں
14:27پھنسا ہوا انسان
14:28آخرت کی حقیقت سے کتنا غافل ہو سکتا ہے
14:31اور بحلول نے اپنی دانائی سے
14:33خلیفہ کو یاد دلایا
14:34کہ اصل کامیابی اللہ کی رضا میں ہے
14:37نہ کہ دنیاوی رتبے میں
14:39اگر آپ مزید تفصیلات سننے میں
14:41دلچسپی رکھتے ہیں
14:42تو یہ واقعہ بھی بہت سبق آموز ہے
14:44کہا جاتا ہے کہ خلیفہ حارون رشید
14:46ہمیشہ حضرت بحلول دانا رحمت اللہ علیہ سے
14:49ملاقات کی تمنا میں رہتا تھا
14:51مگر بحلول رحمت اللہ علیہ
14:53کبھی کبھار ہی اس کے دربار میں جاتے تھے
14:55ایک دن حارون رشید
14:56اپنے محل کی چھت پر بیٹھا ہوا تھا
14:58تو اس نے حضرت بحلول رحمت اللہ علیہ
15:01کو محل کے قریب سے گزرتے دیکھا
15:03فوراں اس نے حکم دیا
15:05کہ انہیں کمند ڈال کر
15:07محل کی چھت پر کھینچ لیا جائے
15:09جب حضرت بحلول رحمت اللہ علیہ
15:11حارون رشید کے سامنے پہنچے
15:13تو خلیفہ نے ان سے پوچھا
15:15کہ مجھے بتائیں کہ آپ
15:17اللہ تک کیسے پہنچے
15:18بحلول نے حکمت بھری مسکراہت کے ساتھ
15:21جواب دیا جس طرح میں آپ تک پہنچا
15:24حارون رشید نے
15:25حیران ہو کر پوچھا میں سمجھا نہیں
15:27حضرت بحلول نے وضاحت کرتے ہوئے
15:29فرمایا اگر میں خود آپ تک
15:31پہنچنا چاہتا تو مجھے
15:33نہا دھو کر شاندار لباس پہننا پڑتا
15:35دربانوں سے التجا کر کے
15:37محل کے اندر داخل ہونا پڑتا
15:39پھر عرضی پیش کرتا
15:41گھنٹوں انتظار کرتا اور تب بھی
15:43ممکن تھا کہ میری درخواست
15:45رد کر دی جاتی لیکن جب آپ
15:47نے خود مجھے بلانا چاہا
15:49تو چند لمحوں میں ہی مجھے اپنے سامنے
15:51بلالیا اسی طرح جب اللہ تعالیٰ
15:53کو اپنے بندے کی کوئی ادا
15:55پسند آتی ہے تو وہ اسی لمحوں
15:57میں ہی قرب کی ایسی منزلیں
15:59عطا کر دیتا ہے جو بڑے
16:01بڑے عابدوں کے لیے باعث رشک
16:03ہوتی ہیں سبحان اللہ
16:05بیلول دانا رحمت اللہ علیہ کے واقعات
16:07سے دانائی اور حکمت جھلکتی ہے
16:09اللہ تعالیٰ نے انہیں ایسی
16:11سمجھ عطا فرمائی تھی کہ وہ
16:13بلا جھجک فوری اور
16:15موقع کے مطابق حاضر جوابی
16:17سے جواب دیتے تھے ایک مرتبہ
16:19بیلول رحمت اللہ علیہ کہیں سے
16:21گزر رہے تھے کہ انہوں نے
16:23ایک بچے کو روتے ہوئے دیکھا
16:25دوسرے بچے اخروٹ سے کھیل رہے تھے
16:27تو بیلول نے سوچا کہ شاید
16:29اس بچے کے پاس اخروٹ نہیں ہے
16:31اس لیے وہ رو رہا ہے
16:33بیلول نے اس سے کہا کہ بیٹا رو نہیں
16:35میں تجھے اخروٹ لے کر دیتا ہوں
16:37تاکہ تو بھی کھیل سکے
16:39بچے نے روتے ہوئے جواب دیا کہ
16:40اے بیلول کیا ہم دنیا میں کھیلنے
16:43کے لیے آئے ہیں بیلول کو بچے سے
16:45ایسے جواب کی توقع نہیں تھی
16:47تو انہوں نے پوچھا اچھا
16:49تو پھر ہم کیا کرنے آئے ہیں
16:50بچے نے جواب دیا کہ ہم یہاں
16:52اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے آئے ہیں
16:54بیلول نے کہا لیکن تم ابھی
16:57تو بہت چھوٹے ہو تمہارے لیے
16:58ابھی غم کی یہ بات نہیں ہے
17:00تمہارے اس منزل پر پہنچنے میں
17:02ابھی بہت وقت ہے بچہ کہنے لگا
17:05اے بیلول مجھے دھوکہ نہ دو
17:07میں نے اپنی ماں کو دیکھا ہے
17:09کہ جب وہ صبح آگ جلاتی ہے
17:15مجھے خوف ہے کہ کہیں دوزخ میں
17:18بھی پہلے مجھے نہ جلایا جائے
17:20اور میرے اوپر بعد میں
17:22بڑوں کو نہ ڈالا جائے
17:23بیلول دانا رحمت اللہ علیہ کے
17:25اکثر واقعات ہمیں فکر آخرت
17:27کی طرف متوجہ کرتے ہیں
17:29اور ان سے ہمیں یہ سیکھنے کو ملتا ہے
17:31کہ اللہ تعالیٰ کے حضور پیش ہونے
17:34کی تیاری کرنی چاہیے
17:35لیکن آج ہم آخرت پر ایمان
17:37رکھتے ہوئے بھی اس کی تیاری سے
17:40غافل ہیں اگر ہم واقعی
17:41اس حقیقت کو سمجھ لیں تو ہماری
17:43مساجد بھری ہوتی اور معاشرے
17:46میں عدل و انصاف قائم ہوتا
17:48ناظرین بہلول رحمت اللہ
17:49علیہ کے ایک اور دلچسپ واقعے میں
17:52ایک تاجر کے ساتھ ان کی
17:53ملاقات نقل کی گئی ہے
17:55ایک دن وہ نخلستان میں تشریف فرما
17:58تھے کہ ایک تاجر ان کے پاس آیا
18:00سلام کیا اور بڑی
18:01آجزی سے پوچھا حضور
18:03میں کون سی ایسی چیز خریدوں
18:05جس میں زیادہ نفع ہو
18:07بہلول دانا رحمت اللہ علیہ نے فرمایا
18:09کہ کالا کپڑا لے لو
18:11تاجر نے ان کا شکریہ آدھا کیا
18:13اور جا کر بازار سے تمام دستیاب
18:15سیاہ کپڑا خرید لیا
18:17کچھ دن بعد شہر کے ایک معزز شخص
18:20کا انتقال ہوا
18:21اور ماتمی لباس کے لیے پورے شہر میں
18:23سیاہ کپڑے کی مانگ بڑھ گئی
18:26اس تاجر کے پاس ہی سیاہ کپڑے کا
18:28زخیرہ موجود تھا
18:29لہذا اس نے اسے مو مانگے داموں پر بچا
18:32اور بے حد نفع کمایا
18:34جس سے وہ انتہائی امیر ہو گیا
18:36کچھ عرصے کے بعد جب وہ تاجر
18:38دوبارہ بہلول کے پاس سے گزرا
18:40تو اب کے وہ گھوڑے پر سوار تھا
18:43اور اس نے قدرِ گستاخی سے کہا
18:45اوے دیوانے اب کی بار کیا خریدوں
18:47بہلول نے جواب دیا
18:49کہ تربوز لے لو
18:50تاجر بھاگا بھاگا گیا
18:52اور اپنی ساری دولت سے ملک بھر سے
18:55تربوز خرید لیے
18:56مگر ایک ہفتے کے اندر ہی وہ تربوز خراب ہو گئے
18:59اور وہ مختاجی کے حالت میں کوڑی کوڑی کا مختاج ہو گیا
19:03تنگ دستی میں پھرتے ہوئے
19:04دوبارہ اس کی ملاقات بہلول سے ہوئی
19:07اس نے شکایت بھرے لہجے میں کہا
19:09آپ نے میرے ساتھ یہ کیا کر دیا
19:11بہلول نے مسکرا کر فرمایا
19:13میں نے نہیں
19:14تمہارے اپنے لہجے اور الفاظ نے یہ سب کیا ہے
19:17جب تم نے عدب سے پوچھا
19:19تو تمہیں بے پناہ نفع ملا
19:21اور جب گستاخی کی
19:22تو سب کچھ کھو دیا
19:24دوستو یہ واقعہ ہمیں سبق دیتا ہے
19:26کہ باعدب بانصیب بےعدب بے نصیب
19:30اللہ تعالیٰ کے قرب اور اس کی رحمت کے لیے بھی
19:33عدب شرط اول ہے
19:35اگر ہم عاجزی اور عدب سے زندگی گزاریں
19:38تو اللہ ہمیں اس کا بہترین بدلہ دیتا ہے
19:41اللہ تعالیٰ ہمیں بھی عاجزی عدب
19:43اور احترام کے ساتھ جینے کی توفیق عطا فرمائے
19:47آمین
19:48آپ بھی آمین کمنٹس میں ضرور لکھئے
19:50دوستو بحلول دانا رحمت اللہ علیہ
19:52ایک ایسے فلسفی اور درویش تھے
19:55جن کی زندگی کا کوئی مستقل ٹھکانہ نہیں تھا
19:58وہ ننگے پاؤں شہر کی گلیوں میں گھومتے پھرتے تھے
20:01اور جہاں بھی تھک جاتے
20:02وہیں رک جاتے
20:03ان کے گرد لوگوں کا حجوم رہتا
20:06جو ان کی حکمت بھری باتوں کو غور سے سنتے
20:09اور ان کے اقوال لکھتے رہتے
20:11ان کے اقوال ہمیشہ دانائی سے بھرپور ہوتے
20:14اور لوگوں کے دلوں کو جھنجھوڑ دیتے تھے
20:17جب ان کا موڈ خوشگوار ہوتا
20:19تو وہ سوالات کے جوابات بھی دیتے تھے
20:21ایک دن بیلول دانا رحمت اللہ علیہ شاہی محل کے پاس آگئے
20:25جب حارون رشید کو ان کی موجودگی کا علم ہوا
20:28تو وہ فوراں ان کی خدمت میں حاضر ہوا
20:30بیلول رحمت اللہ علیہ نے اسے دیکھتے ہی غصے سے پوچھا
20:34ہاں بتاؤ کیا مسئلہ ہے
20:36حارون رشید نے عدب سے پوچھا
20:38حضور جب اللہ تعالیٰ کسی حکمران سے خوش ہوتا ہے
20:42تو اسے کیا تحفہ دیتا ہے
20:43بیلول نے جواب دیا
20:45کہ اللہ تعالیٰ اسے درست اور بروقت فیصلے کی قوت عطا کرتا ہے
20:50حارون نے پھر پوچھا
20:51اور اگر اللہ کسی حکمران سے ناراض ہو جائے
20:54تو وہ کیا چیز اس سے چھین لیتا ہے
20:56بیلول نے مسکرا کر کہا
20:58فیصلہ کرنے کی قوت
21:00یہ جواب سن کر حارون نے سوال کیا
21:02کہ بادشاہ کو کیسے معلوم ہوگا
21:05کہ اللہ اس سے خوش ہے یا ناراض
21:07بیلول نے چند لمحے سوچا
21:09پھر آسمان کی طرف نظریں اٹھائیں
21:11اور مسکراتے ہوئے بولے
21:13جب اللہ کسی شخص سے خوش ہوتا ہے
21:15تو اسے عزت اور مرتبہ عطا کرتا ہے
21:18لیکن جب وہ کسی سے ناراض ہوتا ہے
21:21تو وہ شخص نفرت کی علامت بن جاتا ہے
21:23اور خلق خدا اس سے پناہ مانگنے لگتی ہے
21:26اس کی زندگی ایک عبرت کا نشان بن جاتی ہے
21:30حارون رشید نے گہری سوچ میں
21:32ڈوبتے ہوئے ایک لمبی سانس لی
21:34پھر پوچھا
21:35حضور جب اللہ کسی بادشاہ سے ناراض ہو جائے
21:39تو اس کا انجام کیا ہوتا ہے
21:40بحلول نے غور سے حارون رشید کی طرف دیکھا
21:43پھر مسکراتے ہوئے کہا
21:45جب قدرت کسی شخص کے خلاف ہو جائے
21:47تو وہ شخص در در کی ٹھوکریں کھاتا ہے
21:50وہ سونا پانا چاہتا ہے
21:52مگر اس کے ہاتھ میں ریت آتی ہے
21:54وہ اپنے تائیں اچھے فیصلے کرنے کی کوشش کرتا ہے
21:57مگر قدرت اسے بے عزت کر دیتی ہے
22:00اس کے اپنے لوگ اس سے مو موڑ لیتے ہیں
22:03اور اس کی زندگی میں ایسی تلخیاں آتی ہیں
22:05کہ وہ اپنی زندگی سے تنگ آ کر
22:08خود کو ختم کرنے پر مجبور ہو جاتا ہے
22:11یہ باتیں سن کر حارون رشید کو
22:13اپنی ذمہ داری کا احساس شدت سے ہونے لگا
22:16پیارے دوستو
22:17بحلول دانا رحمت اللہ علیہ کا مقام اتنا بلند تھا
22:20کہ نہ صرف عام لوگ
22:22بلکہ اللہ کے مقرب اولیاء بھی
22:24ان کی تلاش کرتے تھے
22:26اور ان سے رہنمائی حاصل کرنا چاہتے تھے
22:29ایک واقعہ بیان کیا جاتا ہے
22:31کہ ایک بار جنید بغدادی رحمت اللہ علیہ
22:33اپنے کچھ مریدوں کے ہمراہ
22:35بغداد کے سفر پر روانہ ہوئے
22:37راستے میں انہوں نے مریدوں سے پوچھا
22:39کہ کیا تم لوگوں کو بحلول کا حال معلوم ہے
22:42مریدوں نے جواب دیا
22:44کہ حضرت وہ تو ایک دیوانہ ہے
22:46آپ اس سے مل کر کیا کریں گے
22:47شیخ نے کہا کہ ذرا بحلول کو تلاش کرو
22:50مجھے اس سے ایک کام ہے
22:52مریدوں نے اس بات کو سعادت سمجھا
22:54اور کچھ تلاش کے بعد
22:56سہرا میں بحلول کو ڈھون نکالا
22:58شیخ جنید بغدادی رحمت اللہ علیہ
23:01ان کے پاس پہنچے
23:02اور دیکھا کہ بحلول ایک اینڈ کو
23:04تکیہ بنا کر لیٹے ہوئے ہیں
23:06شیخ نے سلام کیا
23:07تو بحلول نے جواب دیا
23:09اور پوچھا تم کون ہو
23:11شیخ نے کہا کہ میں ہوں جنید بغدادی
23:13بحلول نے کہا
23:14تو تم ہی وہ شیخ ہو
23:16جو لوگوں کو بزرگوں کی باتیں سکھاتے ہو
23:19شیخ نے جواب دیا
23:20جی ہاں کوشش کرتا ہوں
23:22بحلول نے پوچھا
23:23اچھا
23:24تو تمہیں کھانا کھانے کا طریقہ تو آتا ہی ہوگا
23:27شیخ نے جواب دیا
23:28کیوں نہیں
23:28میں بسم اللہ پڑھتا ہوں
23:30اپنے سامنے کی چیز کھاتا ہوں
23:32چھوٹا نوالہ لیتا ہوں
23:34آہستہ آہستہ چباتا ہوں
23:36دوسرے کے نوالوں پر نظر نہیں ڈالتا
23:38اور اللہ کی یاد سے غافل نہیں ہوتا
23:40کھانے کے بعد
23:41الحمدللہ کہتا ہوں
23:43اور کھانا شروع کرنے سے پہلے
23:45اور بعد میں ہاتھ دھوتا ہوں
23:47یہ سن کر بحلول اٹھے
23:49اور اپنا دامن جھٹکتے ہوئے کہا
23:50تم لوگوں کے پیر مرشد بننا چاہتے ہو
23:53اور ابھی تک کھانے پینے کا طریقہ بھی نہیں جانتے
23:56یہ کہہ کر بحلول وہاں سے چل پڑے
23:58مریدوں نے کہا
23:59کہ حضرت یہ تو دیوانہ ہے
24:01جنید بغدادی نے جواب دیا
24:03کہ ہاں دیوانہ تو ہے
24:05مگر ہوشیاری میں
24:06اقل مندوں کے بھی کان کاٹتا ہے
24:08اس سے اچھی باتیں سننی چاہیے
24:10آؤ اس کے پیچھے چلیں
24:12مجھے اس سے کچھ اور سیکھنا ہے
24:14بحلول ایک ویران جگہ پر جا کر بیٹھ گئے
24:17شیخ بغدادی وہاں دوبارہ ان کے پاس پہنچے
24:20بحلول نے ان سے دوبارہ سوال کیا
24:22کون ہو تم
24:23شیخ نے کہا
24:24کہ میں وہی بغدادی شیخ ہوں
24:26جسے تم نے کہا تھا
24:27کہ کھانا کھانے کا طریقہ نہیں آتا
24:29بحلول نے کہا
24:30اچھا
24:31کھانا کھانے کے آداب تو چھوڑو
24:33تمہیں گفتگو کرنے کا طریقہ تو آتا ہی ہوگا
24:36شیخ نے جواب دیا
24:37کہ جی ہاں میں جانتا ہوں
24:39میں ہر بات ایک اندازے سے کرتا ہوں
24:41سننے والوں کو سمجھ کا خیال رکھ کر
24:44اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
24:48کی باتوں کی طرف توجہ دلاتا ہوں
24:50اور یہ بھی خیال رکھتا ہوں
24:51کہ اتنی زیادہ بات نہ کہوں
24:53کہ لوگ بیزار ہو جائیں
24:55یہ سن کر بحلول نے کہا
24:57کھانا کھانے کے آداب تو تم چھوڑو
24:59تمہیں تو بات کرنے کا دھنگ بھی نہیں آتا
25:02حضرت جنید بغدادی رحمت اللہ علیہ
25:04اور بحلول دانا رحمت اللہ علیہ
25:06کے اس واقعے سے بہت بڑا سبق ملتا ہے
25:08شیخ جنید نے بحلول سے گفتگو کا طریقہ
25:11اور سونے کے آداب کے بارے میں پوچھا
25:14اور بحلول نے انہیں یاد دلایا
25:16کہ اصل بات ظاہری آداب میں نہیں
25:18بلکہ دل کی نیت اور اخلاص میں ہے
25:21بحلول نے انہیں بتایا
25:22کہ کھانے میں سب سے پہلے حلال روزی ہونا چاہیے
25:25ورنہ آداب سے کھانے کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا
25:28اور دل روشن ہونے کی بجائے تاریخ ہو جائے گا
25:32گفتگو کے متعلق انہوں نے کہا
25:34کہ بات کرنے سے پہلے نیت کو صاف رکھنا
25:37اور اللہ کی رضا مندی کو پیش نظر رکھنا ضروری ہے
25:40اگر بات میں غرض
25:42یا دنیاوی مطلب شامل ہو
25:44تو وہ بات وبال بن سکتی ہے
25:46چاہے الفاظ کتنے ہی خوبصورت ہوں
25:48اس لیے خاموشی بہتر ہے
25:50سونے کے متعلق بحلول نے بتایا
25:53کہ اس سب سے اہم بات یہ ہے
25:55کہ دل بخص کینا اور حسد سے خالی ہو
25:58دنیا اور اس کی محبت دل میں نہ ہو
26:00اور نید آنے تک
26:02اللہ کے ذکر میں مشغول رہو
26:04یہ باتیں سن کر حضرت جنید بغدادی رحمت اللہ علیہ
26:08نے بحلول کے ہاتھوں کو بوسا دیا
26:10اور ان کے لیے دعا کی
26:11شیخ کے مرید یہ منظر دیکھ کر حیران رہ گئے
26:15اور انہیں اپنی غلطی کا احساس ہوا
26:17کہ کس کو دیوانہ سمجھنا دانائی نہ تھی
26:20انہیں سیکھنے کا قیمتی سبق ملا
26:23کہ جو بات ہم نہیں جانتے
26:25اس میں شرمانے کے بجائے
26:26اسے سیکھنا چاہیے
26:28حضرت جنید اور بحلول کے اس واقعے سے
26:30ہمیں سبق ملتا ہے
26:31کہ کچھ نہ جانتے ہوئے بھی
26:33اپنے آپ کو بڑا سمجھنا
26:35اور علم میں خود کو مکمل سمجھنا
26:37بہت بڑا نقصان ہے
26:39اس سے انسان کے اندر اصلاح
26:41اور ترقی کے راستے بند ہو جاتے ہیں
26:43اور وہ گمراہی میں پھنس جاتا ہے
26:45آج ہمارا حال بھی یہی ہے
26:47کہ ہم میں سے ہر کوئی خود کو
26:50بڑا جانکار اور عالم سمجھتا ہے
26:52چاہے علم نہ ہونے کے باوجود
26:54ہم ایسی باتیں کر جاتے ہیں
26:56جو غلط ہوتی ہیں
26:57یاد رکھیں کہ سچا علم وہ ہے
26:59جو آجزی پیدا کرے
27:01اور ہمیں ہمیشہ علم کی جستجو میں رہنا چاہیے
27:04اللہ ہمیں بھی اپنی اصلاح کا جذبہ عطا فرمائے
27:07اور ہر دم علم کے حصول کی توفیق دے
27:10آمین
27:11کہا جاتا ہے کہ ایک دن حارون رشید نے
27:14بحلول رحمت اللہ علیہ سے پوچھا
27:16کہ نیک لوگ پلسرات سے پلک جھپکنے میں
27:19کیسے گزریں گے
27:20جبکہ برے لوگوں کو اتنا وقت کیوں لگے گا
27:23بحلول رحمت اللہ علیہ نے کہا
27:25کہ اسے سمجھنے کے لیے ایک تجربہ کرنا ہوگا
27:28کل ایک چولہ لکڑیاں پانی سے بھرا ہوا دیکھ چا
27:33اور ایک بڑی پرات لے کر میرے پاس آنا
27:35اگلے دن حارون رشید بحلول کے پاس
27:37وہ سامان لے کر پہنچا
27:39بحلول نے حارون رشید سے کہا
27:41کہ آگ جلا کر پانی کو اتنا گرم کرو
27:44کہ وہ اُبَلنے لگے
27:45جب پانی اُبَلنے لگا
27:46تو بحلول رحمت اللہ علیہ نے
27:48اسے پرات میں ڈالا
27:50اور اپنے جوتے اُتار کر کہا
27:52جب میں اس پانی میں کھڑا ہوں
27:54تو مجھ سے میرے آج کے آمال کے بارے میں پوچھو
27:57پھر بحلول گرم پانی میں کھڑے ہو گئے
27:59حارون رشید نے پوچھا
28:01آج تم نے کیا کھایا
28:02بحلول نے اتمنان سے جواب دیا
28:04میں نے سوکھی روٹی سے سہری کی
28:07اور اللہ کا شکر ادا کیا
28:08اس کے بعد بحلول پانی سے باہر آئے
28:11اور حارون رشید سے کہا
28:12کہ وہ گرم پانی میں کھڑے ہو جائیں
28:14جیسے ہی حارون رشید پانی میں داخل ہوا
28:17تو اس کے پاؤں جلنے لگے
28:19اور وہ فوراں باہر نکل آیا
28:20بحلول نے پوچھا بھاگ کیوں نکلے
28:22حارون رشید نے جواب دیا
28:24کہ میں اس کھولتے ہوئے پانی میں
28:26کیسے کھڑا رہا ہوں
28:27میں تو دن میں ستر مختلف کھانے کھاتا ہوں
28:29یہ حساب دینے میں وقت لگے گا
28:31اور میرے پاؤں جل رہے تھے
28:33بحلول نے مسکراتے ہوئے کہا
28:35بس ایسے ہی نیک لوگ پلس رات سے
28:38اپنا حساب دے کر فوراں نکل جائیں گے
28:40مگر جو ستر کھانے کھانے والے ہوں گے
28:43وہ پھنس جائیں گے
28:44اس لئے اتنا ہی کھاؤ جتنا حساب دے سکو
28:47دوستو یہ ہے حضرت بیلول دانا رحمت اللہ علیہ کی کمال کی دانائی
28:51کہ انہوں نے پلس رات کی مشکل کو اتنے سادہ
28:55مگر اثر انگیز انداز میں سمجھا دیا
28:58آج ہمیں بھی یہ سوچنے کی ضرورت ہے
29:00کہ کیا ہم نے کبھی اپنے آمال پر غور کیا ہے
29:04کیا ہم نے پلس رات پر اپنا حساب دینے کے بارے میں بھی کبھی سوچا ہے
29:08اللہ تعالی ہمیں ایسی زندگی گزارنے کی توفیق عطا فرمائے
29:12کہ حساب آسان ہو اور ہم کامیابی کے ساتھ پلس رات عبور کر سکیں آمین
29:18دوستو بیلول دانا کی دانائی کا ایک واقعہ یوں بھی نقل کیا گیا ہے
29:23کہتے ہیں کہ ایک سیاہ کے بارے میں مشہور تھا
29:26کہ اس نے گھاٹ گھاٹ کا پانی پی رکھا ہے
29:28ملکوں ملکوں سفر کے دوران وہ وہاں کے ذہین اور قابل لوگوں کی صحبت میں رہا ہے
29:34اور بڑا فیض اٹھایا ہے
29:36اور اب جس ملک میں رہ رہا ہے
29:38وہاں بھی بڑے بڑے عالم اس کا سامنا کرنے
29:42اور اس سے کسی موضوع پر گفتگو کرنے سے قطراتے ہیں
29:45کیونکہ وہ اس جیسا علم نہیں رکھتے
29:48اس سیاہ کی شہرت اس ملک کے بادشاہ کے کانوں تک بھی پہنچی
29:52جہاں وہ ان دنوں قیام پذیر تھا
29:54بادشاہ نے سوچا کہ کیوں نہ وہ اپنے درباریوں کی ذہانت کا امتحان لے
29:59اس نے خاموشی سے سیاہ کو اپنے دربار میں طلب کیا
30:02اس کا علم وزیروں مشیروں کو نہ تھا
30:05بادشاہ نے سیاہ کو دربار میں پایا
30:07تو سب سے اس کا تعرف کروایا
30:10اور وزیروں اور مشیروں کی ذہانت کا امتحان لینے کی غرص سے کہا
30:15کہ وہ دربار کے عمراء اور معززین سے کچھ سوالات کریں
30:19لیکن کوئی بھی اس سیاہ کو درست جواب نہ دے سکا
30:22بادشاہ اپنے وزیروں اور مشیروں کی نالائقی پر بہت شرمندہ ہوا
30:27اس نے سیاہ کو رخصت کرنے کے بعد درباریوں پر غصہ کرتے ہوئے کہا
30:31کہ تم سب لوگ میرے لئے باعث شرمندگی ہو
30:35آج اس سیاہ نے تم سب کو آجز کر دیا
30:37یوں معلوم ہوتا ہے کہ تم اس کے مقابلے میں کسی مدرسے کے کوئی بچے ہو
30:43کیا تم یا کوئی بھی ایسا عالم فاضل اس ملک میں نہیں ہے
30:46جو اس شخص کے علم کا جواب دے سکے
30:49درباریوں نے شرم سے اپنے سر جھکا لئے
30:51کسی کے پاس اپنی صفائی میں کہنے کے لئے کچھ بھی نہیں تھا
30:54اس دوران بادشاہ کا غصہ مزید شدت اختیار کر گیا
30:58اس نے حکم دیا کہ کل اس سیاہ کو دوبارہ دربار میں حاضر کیا جائے گا
31:03اور اگر کل تم لوگوں نے اس کے سوالات کے جوابات نہ دیے
31:08تو میں تم سب لوگوں کی دولت اس سیاہ کو دے دوں گا
31:11اس سے قبل دربار میں حضرت بحلول دانا بھی ہوا کرتے تھے
31:15مگر درباریوں نے انہیں سازش کر کے وہاں سے نکلوا دیا تھا
31:19بادشاہ کی بات سن کر درباریوں میں تو کھلبلی مچ گئی
31:22ان کی پریشانی کا کوئی ٹھکانہ نہ رہا
31:25سب ایک جگہ جمع ہو کر سوچنے لگے
31:27کہ بادشاہ کے غصے سے کیسے بچا جا سکتا ہے
31:30آخر ایک شخص خوشی سے بولا
31:33دوستو اس مشکل کو حل کرنے کے لئے ہمارے پاس بحلول دانا موجود ہے
31:37مجھے یقین ہے کہ وہ ہماری خطائیں بھول کر
31:40اور تمام رنجشیں ختم کر کے
31:42ہماری عزت کی خاطر اس سیاہ کا سامنا کرے گا
31:46اور اسے لا جواب کر دیکھا یہ سن کر باقی سب لوگوں کی جان میں جان آئی
31:51سب لوگ مل کر بحلول کے پاس پہنچے
31:53اور اس سے معافی چاہتے ہوئے سارا ماجرہ سنا دیا
31:57بحلول دانا نے انہیں تسلی دی اور کہا
32:00کہ میں کل دربار میں ضرور آؤں گا
32:02اگلے روز دربار آ راستہ ہوا
32:04وزیر مشیر سب کرسیوں پر بیٹھے ہوئے تھے
32:08بادشاہ بھی اپنے تخت پر بیٹھ چکا تھا
32:10سیاہ کو بھی ایک کرسی پیش کر دی گئی تھی
32:14بادشاہ نے اہل دربار پر نظر ڈالی اور پوچھا
32:17کون ہے جو اس سیاہ کے سوالوں کا جواب دے گا
32:20اہل دربار نے آنکھوں ہی آنکھوں میں ایک دوسرے سے سوال کیا
32:24کہ بحلول کا نام آخر کس طرح لیں
32:26کہیں اس کا نام بادشاہ کو غصہ نہ دلا دے
32:29اس وقت بحلول کے آواز گونجی
32:31یہ دیوانہ حاضر ہے
32:33میں اس سیاہ کے سوالوں کا جواب دوں گا
32:36بادشاہ نے اجازت دے دی
32:38سیاہ نے بحلول کی طرف بڑی حیرت سے دیکھا
32:41اور پھر بولا کیا میں آپ سے سوال کروں
32:44بحلول نے جواب دیا جی ہاں کیوں نہیں
32:46سیاہ اٹھا اور اپنی چھڑی سے زمین پر ایک دائرہ کھینچ دیا
32:51بحلول نے فوراں ہی اٹھ کر
32:53اپنے اسہ سے اس دائرے کے درمیان
32:56ایک لکیر کھینچ کر دو حصوں میں تقسیم کر دیا
33:00سیاہ کے چہرے پر مسکرہ ہٹائی
33:02اور اس نے ایک اور دائرہ کھینچ دیا
33:05بحلول نے اس مرتبہ دائرے کو چار حصوں میں بانٹ دیا
33:08اور ایک حصے پر اپنی چھڑی رکھ کر کھٹ کھٹائی
33:11سیاہ نے قدر حیرت سے اس کی جانب دیکھا
33:14اور زمین پر اپنا ہاتھ الٹی حالت میں رکھ کر
33:18انگلیاں آسمان کی طرف اٹھا دیں
33:21بحلول نے اٹھ کر اپنا ہاتھ زمین پر اس طرح سے رکھا
33:24کہ اس کے ہاتھ کی پشت اوپر یعنی آسمان کی طرف تھی
33:29سیاہ اپنی نشست پر واپسہ بیٹھا
33:32اور توصیفی لہجے میں بولا
33:34کہ مرحبا مرحبا عالی جاہ آپ کو بہت بہت مبارک ہو
33:38آپ کے یہاں ایک ایسا دانشمند اور عالم موجود ہے
33:42جس پر فخر کیا جا سکتا ہے
33:44ایسے شخص کی قدر کرنی چاہیے
33:46بادشاہ نے حیرت سے پوچھا
33:48کیا بحلول نے تمہارے سوالات کے جوابات ٹھیک ٹھیک دیے ہیں
33:52سیاہ بھلا جی جناب
33:54اس نے کسی درسگاہ سے تعلیم حاصل کی ہے
33:57جو اس کے پاس اتنا علم ہے
33:59کہ میرے اشاروں کو سمجھ کر ان کا ٹھیک ٹھیک جواب دیا
34:03اب وہ سیاہ جانا ہی چاہتا تھا
34:06کہ بادشاہ نے اس سے کہا
34:07اگر تم ان اشاروں کو ذرا کھول کر بیان کر دو
34:10تو دربار میں موجود اہل علم بھی محضوظ ہو سکیں گے
34:14اور ان کے علم میں اضافہ ہو جائے گا
34:16سیاہ نے کہا
34:17کیوں نہیں بادشاہ سلامت
34:19چند لمحے رکھ کر بولا
34:20کہ آپ نے دیکھا
34:22کہ میں نے زمین پر ایک دائرہ کھینچا تھا
34:24اس دائرے سے میرا مقصد زمین کا کر رہ دکھانا تھا
34:28آپ کے علم فوراں سمجھ کے
34:30اور اس نے دائرے کے دو برابر حصے کر کے
34:33مجھ پر ظاہر کر دیا
34:35کہ میں زمین گول ہونے پر یقین رکھتا ہوں
34:38اور اس کے اسرار اور رموز سے بھی واقف ہوں
34:41پھر اس نے ایک سیدھی لکیر کھینچی
34:44جس نے زمین کو شمالی اور جنوبی کرے میں بانٹ دیا
34:47پھر آپ نے دیکھا
34:48کہ ایک اور دائرہ کھینچا
34:50آپ کے علم نے
34:52اس کے چار حصے کر کے مجھے سمجھا دیا
34:55کہ تین حصے پانی
34:57اور ایک حصہ خوشک ہے
34:59اور جب میں نے اپنے ہاتھ کی انگلیوں سے
35:01زمین پر اگنے والی نباتات کی طرف اشارہ کیا
35:04یعنی جب اپنے ہاتھ کو نیچے رکھا
35:07اور انگلیاں اوپر کی
35:09تو اس کا مقصد نباتات اور پودوں کی طرف اشارہ کرنا تھا
35:13تو اس کے بعد بحلول نے اپنے ہاتھ کو نیچے رکھا
35:17اور پشت آسمان کی جانب
35:19تو بارش اور سورج کی نشان دہی کی
35:21اور مطلب تھا
35:23کہ یہ دونوں نباتات اور پودوں کی بڑھوتری میں
35:26اور ان کی بالدگی میں
35:27مددگار ثابت ہوتے ہیں
35:29یہ کہہ کر اس سیاہ نے
35:31بحلول دانا کی طرف دیکھا
35:33اور عقیدت سے بولا
35:34میں ایک بار پھر کہتا ہوں
35:36کہ آپ کو ایسے دانشمند پر فخر کرنا چاہیے
35:39یہ کہہ کر سیاہ نے دربار سے رخصت ہونا چاہا
35:43بادشاہ نے اسے رکنے کو کہا
35:45اور بہت سا انعام دے کر جانے کی اجازت دے دی
35:48اس سے رخصت ہونے کے بعد
35:50بادشاہ نے اپنے درباریوں سے کہا
35:52کہ علم کہیں سے بھی ملے
35:53اسے حاصل کرنے کی کوشش کرو
35:56اور اپنے درمیان موجود
35:57اقل مند اور ذہین لوگوں کو عزت دو
36:00آج اسی بحلول نے
36:01تمہاری عزت اور مال بچایا ہے
36:03جس کے خلاف تم لوگوں نے محاز بنا رکھا تھا
36:06تمام درباری اس پر شرمندہ ہوئے
36:08اور بحلول کی تعریف کر کے
36:10بادشاہ کو رازی کر لیا
36:12اور جب بحلول دربار سے رخصت ہو رہا تھا
36:15تو عمرہ اسے باہر چھوڑنے آئے
36:17اور امدہ نسل کے گھوڑے پر سوار کروا کے
36:20محافظوں کی معیت میں روانہ کیا
36:23دوستو یاد رہے کہ بحلول دانا
36:25اور خلیفہ حارون رشید کا
36:27آپس میں زبردست لگاؤ تھا
36:29کہا جاتا ہے کہ حارون رشید
36:31بحلول دانا کی باتوں سے
36:32ذرافت کے مزے لیا کرتے تھے
36:34کبھی کبھی جذب کے عالم میں
36:36وہ پتے کی باتیں بھی کہہ جایا کرتے تھے
36:39ایک مرتبہ بحلول مجذوب
36:41حارون رشید کے پاس پہنچے
36:43حارون رشید نے ایک چھڑی اٹھا کر دی
36:45مزہن کہا کہ بحلول
36:47یہ چھڑی تمہیں دے رہا ہوں
36:49جو شخص تمہیں اپنے سے زیادہ بیوقوف
36:51نظر آئے اسے دے دینا
36:53بحلول مجذوب نے بڑی سنجیدگی
36:55کے ساتھ چھڑی لے کر رکھ لی
36:57اور واپس چلے آئے بات آئی گئی
36:59ہو گئی شاید حارون رشید بھی
37:01بھول گئے ہوں گے عرصے کے بعد
37:03حارون رشید کو سخت بیماری
37:05لاحق ہو گئی بچنے کی کوئی امید
37:07نہ تھی اتبا نے جواب دے دیا
37:09بحلول مجذوب عیادت کے لیے
37:11پہنچے اور سلام کے بعد پوچھا
37:13امیر المومنین نے کہا کیا حال
37:15پوچھتے ہو بحلول بڑا لمبا
37:17سفر درپیش ہے بحلول نے پوچھا
37:19کہاں کا سفر ہے جواب دیا
37:21کہ آخرت کا بحلول نے سادگی
37:23سے پوچھا واپسی کب ہوگی
37:25جواب دیا بحلول تم بھی عجیب
37:27آدمی ہو بھلا آخرت کے سفر
37:29سے بھی کوئی واپس ہوا ہے بحلول
37:31نے تعجب سے کہا اچھا
37:33آپ واپس نہیں آئیں گے تو آپ نے
37:35کتنے حفاظتی دستے آگے روانہ
37:37کیے اور ساتھ کون کون جائے گا
37:39جواب دیا کہ آخرت کے سفر میں
37:41کوئی ساتھ نہیں جایا کرتا خالی
37:43ہاتھ جا رہا ہوں بحلول مجذوب
37:45بولا اچھا تو جہاں جا
37:47رہے ہیں وہاں رہنے کے لیے
37:49کچھ تیاری کی ہے یا نہیں
37:50حارون رشید نے جواب دیا کہ نہیں
37:53کچھ بھی تو پاس نہیں ہے خالی دامن
37:55بحلول مجذوب بولے اتنا
37:57لمبا سفر اور کوئی معین
37:59و مددگار نہیں پھر تو لیجیے
38:01حارون رشید کی چھڑی بغل سے
38:03نکال کر کہا کہ یہ امانت
38:05واپس ہے مجھے آپ کے سوا
38:07کوئی انسان اپنے سے زیادہ بے وقوف
38:09نہیں مل سکا آپ جب کبھی
38:11چھوٹے سفر پر جاتے تھے تو ہفتوں
38:13پہلے اس کی تیاری ہوتی تھی حفاظتی
38:15دستے آگے چلے جاتے تھے حشم
38:17خدم کے ساتھ لشکر ہم
38:19رکاب ہوتے تھے اتنے لمبے سفر
38:21میں جس میں واپسی بھی
38:23ممکن نہیں ہے آپ نے تیاری نہیں کی
38:25حارون رشید نے یہ سنا تو
38:27رو پڑے اور کہا بحلول ہم تجھے
38:29دیوانہ سمجھا کرتے تھے مگر آج
38:31پتا چلا کہ تمہارے جیسا
38:33کوئی اقل مند نہیں پیارے دوستو
38:35یہاں ہمیں اپنے بارے میں سوچنے
38:37کی ضرورت ہے کہ ہمارا شمار
38:39کس کٹیگری میں ہوتا ہے
38:41اقل مندوں میں یا بے وقفوں میں
38:43ہمیں سوچنے کی ضرورت ہے
38:44کہ ہم اپنے سفر آخرت کے لیے
38:47کیا کچھ تیار کر رہے ہیں
38:49یا کیا کچھ تیار کر رکھا ہے
38:51اور اس سفر کی کتنی تیاری
38:53دن رات میں ہم کرتے ہیں
38:55اس بات کو نظرانداز نہیں کرنا چاہیے
38:57بلکہ ہمیں اپنے آخرت کے
38:59سفر کی فکر ہر لمحہ
39:01کرنے چاہیے کیونکہ
39:02اس دار فانی سے ہم کسی وقت
39:05بھی کوچھ کر جائیں گے اور
39:07کس وقت یہ کسی کو کوئی خبر نہیں
39:09دوستو خلیفہ حارون رشید کے بارے میں
39:11آپ کو بتاتے چلیں کہ آج کا
39:13کوئی شخص بھی عباسی خلیفہ حارون
39:15رشید کی امارت اور ثروت
39:17کو نہیں پہنچ سکا اس کی سلطنت
39:19تین برے آزموں تک پھیلی ہوئی تھی
39:21آج کے دور کے کئی
39:23امریکہ اس کی مٹھی میں تھے
39:25مکمل اقل مندی
39:27دانش مندی اور حکمت کے ساتھ
39:29اتنی بڑی سلطنت پر
39:31بخیر و خوبی حکومت کرنے والا
39:33اس دنیا سے جاتے ہوئے اس بات کی تصدیق کرتا ہے
39:37کہ وہ
39:37اقل مند نہیں بلکہ
39:39بےوقوف تھا کہ دنیاوی سفر
39:41کے لیے تو وہ لاو لشکر اور
39:43ساز و سامان کا انتظام کرتا رہا
39:45لیکن اپنے آخرت کے سفر
39:47کے لیے وہ ایسا کچھ نہ کر سکا
39:49لہذا اقل مند اور دانا
39:51وہی ہے جو اپنے سفر آخرت
39:53کے لیے نیک آمال کا
39:55زخیرہ جمع کرے اور حارون
39:57رشید کے بارے میں تاریخ بتاتی ہے
39:59کہ انتہائی نیک بادشاہ تھا
40:01تحجد کی پابندی کرتا تھا
40:03عدل و انصاف کرتا تھا
40:05لیکن اس کے باوجود اس بات کا تسلیم کرنا
40:08کہ وہ اقل مند نہیں ہے
40:09بےوقوف ہے لیکن افسوس
40:11کہ آج ہم مسلمانوں کی سوچ بدل گئی ہے
40:13ہم نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
40:16سے محبت کرنے کا دعویٰ تو کیا ہے
40:19لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
40:21کی بات کی مخالفت کرتے ہوئے
40:23ہر اس شخص کو اقل مند سمجھتے ہیں
40:26جو بس مال کمانا اور مال بنانا جانتا ہو
40:29چاہے اس کے لئے وہ رشوت خوری
40:31بد عنوانی اور کرپشن ہی کیوں نہ کرے
40:34جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
40:37نے فرمایا
40:38کہ اقل مند وہ ہے
40:39جو اپنے نفس کا محاسبہ کرے
40:41اور موت کے بعد کی زندگی کے لئے عمل کرے
40:44اور آجز وہ ہے
40:46جو اپنے نفس کو خواہشوں پر لگا دے
40:48پھر اللہ تعالیٰ سے تمنا کرے
40:50سورة الحشر آیت نمبر اٹھارہ میں
40:52اللہ رب العزت کا فرمان ہے
40:55اے ایمان والو
40:56اللہ سے ڈرتے رہو
40:58اور ہر شخص کو دیکھنا چاہیے
41:00کہ اس نے کل
41:01یعنی قیامت کے لئے
41:02کیا بھیجا ہے
41:03اور پھر اللہ سے ڈرتے رہو
41:05یقیناً اللہ تمہارے عامال سے باخبر ہے
41:09دوستو یقیناً اللہ سے ڈرنے والا ہی
41:11روزانہ اپنا محاسبہ کرتا ہے
41:13اور اپنی آخرت کے لئے
41:14نیک عامال کا زخیرہ جمع کرتا ہے
41:17اور ان کی حفاظت بھی کرتا ہے
41:19اور جو ایسا نہیں کرتا
41:21اسے وعید سنائی ہوئی ہے
41:23اللہ تعالیٰ فرماتا ہے
41:24اور ان کی طرح نہ ہو جانا
41:26جنہوں نے اللہ کو بھلا دیا
41:28پھر اللہ نے بھی ان کو ایسا کر دیا
41:31کہ وہ اپنے آپ ہی کو بھول گئے
41:33کہ وہ اپنی جانوں کے لئے ہی
41:35کچھ بھلائی آگے بھیج دیتے
41:37یہی لوگ نافرمان ہیں
41:39دوزخی اور جنتی برابر نہیں ہو سکتے
41:42جنتی ہی بامراد ہیں
41:44دوستو اس بات میں شک نہیں
41:45کہ دوزخی اور جنتی برابر نہیں ہو سکتے
41:48اے اللہ ہمیں اپنے بامراد
41:50جنتی بندوں میں شامل فرمالے
41:53ہمیں اپنے ان اقل مند بندوں میں شامل فرمالے
41:56جو روزانہ اپنا محاسبہ کرتے ہیں
41:58اور اپنے گناہوں سے توبہ کر کے
42:00نیک عامال کی کسرت کرتے ہیں
42:03تاکہ کل آخرت میں تیرے سامنے سرخ روحوں
42:06اور تیری جنت کے وارث بنے
42:08آمین ثم آمین
42:10یارب العالمین
42:11دوستو ہم نے کوشش کی کہ آپ کے سامنے حضرت بحلول رحمت اللہ علیہ کی زندگی کے چند واقعات بیان کریں
42:18جس میں انسان کے لیے بہت سے پیغامات اور اسباق موجود ہیں
42:23خود بھی بحلول دانا رحمت اللہ علیہ کی ان تعلیمات سے استفادہ حاصل کرنے کی کوشش کریں
42:29اور صدق جاریہ کی نیت سے اس ویڈیو کو اپنے دوست و احباب کے ساتھ شیئر بھی کر دیں
42:35تاکہ باقی مسلمان بہن بھائی بھی ان واقعات کو سن کر اپنی اصلاح کی کوشش کرنے والے بن سکیں
42:42ہم امید کرتے ہیں کہ ویڈیو آپ کو پسند آئی ہوگی
42:46اور سب سے پہلے اس ویڈیو کو لائک بھی کر دیں
42:48اور اپنی رائے کا اظہار کمنٹ سیکشن میں لازمی کیجئے کا
42:52آخر میں آپ سے ایک بار پھر درخواست ہے
42:55کہ آپ ہمارے چینل کو سبسکرائب ضرور کر لیں
42:58اور گھنٹی کے بٹن کو بھی پریس کر لیں
43:00تاکہ یہاں پر جب بھی کوئی ویڈیو اپلوڈ ہوتی ہے
43:03تو اس کا نوٹفکیشن آپ کو بروقت ملتا رہے
43:07اب آنے والی ویڈیو تک آپ کا اپنا میزبان قادر بخش کلھوڑو
43:11آپ سے اجازت چاہتا ہے
43:13فی امان اللہ
43:14السلام علیکم ورحمت اللہ وبرکاتہ

Recommended