Skip to playerSkip to main content
Mystery Beneath Jerusalem | Taboot E Sakina | Qayamat Ka Alarm Baj Chuka | Noor TV

Jerusalem – ek aisa sheher jahan anbiya ka qadam, Allah ki rehmat aur akhir zaman ke raaz chhupe hue hain.
Aaj hum baat karenge ek bohot pur-asrar aur roohani raaz par — Taboot-e-Sakina — jo Qur'an aur tareekh dono mein zikr shuda hai, aur jiska zahoor Qayamat ke qareeb ek badi nishani banega.

📜 Is Video Mein Aap Seekhein Ge:
✅ Taboot-e-Sakina kya tha? | Qurani nuktah-e-nazar
✅ Jerusalem ke neeche ki excavation aur roohani raaz
✅ Taboot ke saath kya mo'jizat aur barakaat juday hain
✅ Qayamat ke alarm ki nishaniyan aur is waqt ki halaat
✅ Israeli Excavation Plans aur Muslim World ka reaction

🕌 Islamic Insights:
📖 Qur'an (Surah Al-Baqarah: 248):
“Aur unka Nabi unse keh kar raha tha ke Taboot tumhare paas aa jayega, usmein tumhare Rubb ki taraf se sakoonat hai...”
🕌 Ye ek nishani hai Allah ki rehmat, nusrat aur imaan ki taazgi ki.

⚠️ Roohani Paigham:
🔔 Jab duniya Taboot-e-Sakina ko dhoondhne mein lagi hai, to yaqeenan akhir zamana ka waqt qareeb hai
🤲 Musalmanon ke liye yeh waqt hai apne imaan ko taaza karne, tawba karne aur amal mein sudhaar ka

Yeh sirf ek video nahi — yeh ek roohani intebaah (warning) hai!
Dekhiye, samjhiye, aur apni zindagi ko akhirat ki tayyari ke liye aaj hi badliye.

📢 Like, Share & Subscribe
🔔 Bell Icon Dabayein Roohani Aur Tareekhi Waqiyat Ki Videos Pane Ke Liye

#TabootESakina #JerusalemMystery #QayamatKiNishaniyan #NoorTV #EndTimesSigns #IslamicProphecies #QuranAurHadees #MysteryOfJerusalem #RoohaniAlarm #QuranicMiracles

Category

📚
Learning
Transcript
00:28ڈجال
00:31ناظرین
00:31کیا آپ نے کبھی سوچا
00:33کہ دنیا کے سب سے مقدس سمجھ جانے والے مقام کے نیچے
00:36کیا چھپا ہو سکتا ہے
00:38کیا بیت المقدس صرف ایک عبادتگاہ کا مقام ہے
00:41یا وہ دروازہ ہے ایک اور دنیا کا
00:43کیا وہ مقام ہے جسے مسلمان حرم شریف
00:46اور یہودی ٹیمپل ماؤنٹ کہتے ہیں
00:48دراصل درحقیقت یہ ایک ایسا راست چھپائے بیٹھا ہے
00:51جو انسانیت کے شعور کو جھنج اڑ سکتا ہے
00:54کیا تیسرا حقل جس کی تیاریاں خاموشی سے مکمل ہو چکی ہیں
00:57صرف مذہبی جنون کا نتیجہ ہے
00:59یا یہ دجال نظام کے آغاز کا بٹن ہے
01:02اور سب سے اہم
01:03کیا ہم سب ایک بہت بڑی چال
01:06ایک گہری سازش
01:07اور ایک نا دکھائے دینے والے فریب کا شکار ہو چکے ہیں
01:10آج کی ویڈیو ایک معمولی گفتگو نہیں
01:12بلکہ ایک ایسی کھوج ہے
01:14جو وقت تاریخ اور حقیقت سے بھی آگے ہے
01:17ہم بیت المقدس کی سرنگوں سے لے کر
01:19خفیہ داروں کی منصوبہ بندی
01:21اور قدیم صحیفوں سے لے کر
01:22جدید سازشی نظریات تک
01:24ہر اس سوال کا تاقب کریں گے
01:25جو آپ کو کبھی نہ کبھی اندر سے جھنجوڑ چکا ہے
01:28تو اگر آپ سچ کو سننے سمجھنے
01:30اور شاید اس کا سامنا کرنے کے لئے تیار ہیں
01:33تو یہ ویڈیو آپ کے لئے ہے
01:34ناظرین بیت المقدس دنیا کا وہ مقدس ترین مقام ہیں
01:37جہاں وقت عقیدہ اور تاریخ
01:39ایک دوسرے میں گھلتے نظر آتے ہیں
01:40یہ وہ جگہ ہے جہاں تینوں ابراہیمی مذہب
01:43یہودیت عیسائیت اور اسلام
01:45اپنے عقیدے کے بنیادیں رکھتے ہیں
01:47یہودیوں کے نزدیک یہی وہ مقام ہیں
01:48جہاں حضرت ابراہیم علیہ السلام نے قربانی پیش کی
01:50اور جہاں حضرت سلمان علیہ السلام نے پہلا حیکل تعمیر کیا
01:53جو حیکل سلمانی کہلاتا ہے
01:55وہ اسے خدای موجودگی کا مرکز مانتے ہیں
01:57اور ان کا عقیدہ یہ ہے کہ تیسرا حیکل
01:59یہاں دوبارہ تعمیر ہوگا
02:00جس کے بعد ان کا مسیح ظاہر ہوگا
02:02عیسائیوں کے نزدیک بیت المقدس وہ مقام ہے جہاں
02:05حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے تعلیمات دیں
02:07موجودات دکھائے اور بالاخر مسلوب ہوئے
02:09یہ شہر ان کے ایمان کا مہور ہے
02:11جبکہ مسلمانوں کے لیے بیت المقدس کی
02:13اہمیت اس سے کہیں زیادہ وسیع اور گہری ہے
02:16یہی وہ مقام ہے جہاں
02:18نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
02:19نے میراج کی رات آسمانوں کی طرف
02:21سفر کیا اور جہاں
02:23صحابہ اکرام نے پہلی قبلہ گاہ کی طرف
02:25رکھ کر کے نماز ادا کی
02:26مسجد اقصہ جو قرآن میں ذکر کی گئی ہے
02:29مسلمانوں کا تیسرا مقدس ترین مقام ہے
02:31اس کے آہاتے میں موجودہ
02:33قبط السخرہ
02:34یعنی وہ سنہری گمبد والا مقام
02:36وہ جگہ مانی جاتی ہے جہاں سے
02:38حضور علیہ السلام نے میراج کا سفر شروع کیا
02:41سخرہ یعنی وہ چٹان
02:43اسلامی روایات میں نہات متبرک سمجھی جاتی ہے
02:46اور یہی وہ مرکز ہے جو
02:48صدیوں سے روحانیت اقتدار اور سازش
02:50کا مرکز بھی بنا ہوا ہے
02:51یہ مقدس مقام صرف عبادت کا مرکز نہیں
02:53بلکہ ہر مذہب کے لئے پنشناخ تاریخ
02:55اور آخرت سے جڑا ہوا ایک مضبوط ستون ہے
02:58یہی وجہ ہے کہ بیت المقدس کو
03:00محض ایک زمین کا ٹکڑا نہیں
03:01بلکہ روحانی نظریاتی اور کائناتی
03:04کشمکش کا مرکز کہا جاتا ہے
03:05ایک ایسی جگہ جہاں زمین اور آسمان
03:07مادہ اور روح اور انسان
03:10اور خالق کے درمیان رابطے کا یقین
03:11کیا جاتا ہے
03:12حیکل سلمانی جسے یہودی
03:15ٹیمپل آف سولومن کہتے ہیں
03:16یہودی قائد میں روحانیت طاقت اور نجات کی
03:19علامت سمجھا جاتا ہے
03:20یہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ یہ وہ مقام ہے
03:22جہاں حضرت سلمان علیہ السلام نے
03:24اللہ کے حکم سے ایک عظیم عبادتگاہ تعمیر کی تھی
03:27توراک کے مطابق یہ حیکل نہ صرف
03:29عبادت کے لئے مخصوص تھا بلکہ
03:30اسے خدا کی سکونت کی جگہ قرار دیا گیا
03:33یہاں پر وہ تابوت عہد رکھا گیا
03:35جسے بنی اسرائیل اپنے تمام مارکوں میں
03:37ساتھ لے کر چلتے تھے
03:38اور جو ان کے نزدیک خدای طاقت کا مظہر تھا
03:40تاہم حیکل کی اصل نویت اور مقصد پر
03:43سوالات وقت کے ساتھ بڑھتے چلے گئے
03:45کچھ موقعین اور سازشی نظریدانوں کا کہنا ہے
03:48کہ حیکل محض عبادت گانا تھی
03:50بلکہ یہ کسی خفیہ روحانی
03:52یا معفوق الفطرت مقصد کے لیے
03:54بنایا گیا تھا
03:54بعض تاریخی اور مذہبی متعون
03:56اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں
03:58کہ حیکل میں استعمال ہونے والی مقصوص اشیاء
04:00طرز تعمیر اور رسومات ایسی تھیں
04:02جو توہید سے زیادہ جادو
04:04قربانی اور طاقت کے حصول سے جڑی ہوئی تھی
04:06یہودی تلمود اور قبالہ
04:08کی کتابوں میں موجود بعض حوالجات
04:10اس حیکل کو ایک روحانی دروازہ
04:12قرار دیتے ہیں جسے مقصوص طاقتوں
04:14کی رضا کے لیے استعمال کیا جاتا تھا
04:16یہ بھی کہا جاتا کہ حضرت سلمان
04:18علیہ السلام کو جنات پر اختیار حاصل تھا
04:20اور انہیں کی مدد سے حیکل تعمیر کیا گیا
04:23تو کیا یہ تعمیر واقعی
04:24اللہ کی عبادت کے لیے تھی
04:25یا کسی اور مخلوق کی رضا اور خدمت کے لیے
04:28کیا یہ حیکل اس دنیا اور کسی اور جہاں
04:30کے درمیان ایک پل تھا
04:31یہ وہ سوالات ہیں جو اس حیکل کی
04:33اصل حقیقت کو مزید پور اثرار بنا دیتے ہیں
04:36حیکل کی وہ تفصیلات جو تورات
04:38اور دیگر یہودی متون میں موجود ہیں
04:40کسی عام عبادتگاہ سے مختلف نظر آتی ہیں
04:42سونے ساراستہ شیعہ
04:44مخصوص قربان گاہیں
04:45خفیہ تہخانے اور مخصوص
04:47مقدس ترین مقام کی موجودگی یہ ظاہر کرتی ہے
04:50کہ یہ محض عبادت کے لیے نہیں
04:52بلکہ کسی خاص ممکنہ طور پر
04:54ماورائی مقصد کے لیے بنایا گیا تھا
04:56یہی وہ پیچیدہ پہلو ہے
04:58جس نے حیکل سلمانی کو صرف ایک
05:06مرکز بنا دیا ہے
05:07تیسرا حیکل جسے تھر ٹیمپل کہا جاتا ہے
05:10یہودی عقید کے مطابق ایک ایسا
05:12مقدس مقام ہے جس کی دوبارہ تعمیر
05:14کا عمل آخری زمانے کی
05:16سب سے بڑی نشانیوں میں شمار کیا جاتا ہے
05:18اس حیکل کی تعمیر کا تصور
05:20نہ صرف یہودیوں کے لیے بلکہ
05:22عیسائیوں اور مسلمانوں کے لیے بھی
05:23ایک اہم مذہبی حوالے کا درجہ رکھتا ہے
05:25یہودی عقیدے کے مطابق جب تیسرا حیکل
05:28دوبارہ تعمیر ہوگا
05:29تو یہ وہ وقت ہوگا جب ان کے مسیحہ کی آمد ہوگی
05:32جو دنیا میں عدل انصاف قائم کرے گا
05:34یہ مسیحہ وہی شخصیت ہے جسے
05:36مسلمان دجال کے نام سے جانتے ہیں
05:38مسلمانوں کے عقیدے کے مطابق
05:39دجال کا ظہور دنیا کے لیے ایک سنگین
05:41اور پورا سرار دور کی ابتدا ہوگا
05:44جو انسانیت کے لیے ایک عظیم آزمائش
05:46اور فتنہ ثابت ہوگا
05:47یہی وجہ ہے کہ تھرڈ انسٹیٹیوٹ نامی ادارہ
05:50جو کہ ایک اسرائیلی تنظیم ہے
05:51تیسرا حیکل بنانے کے لیے مکمل طور پر تیار ہو چکا ہے
05:54یہ ادارہ کئی دہائیوں سے
05:56اس مقصد کے لیے سرگرم عمل ہے
05:57اور اس کی کوششیں صرف نظریاتی اور روحانی نہیں
06:00بلکہ عمل اقدامات کی صورت میں بھی دکھائی دیتی ہیں
06:02اس ادارے کی سرگرمیاں
06:04یروشلم میں واقع ہیں
06:05اور یہ اسرائیلی حکومت کی خاموش حمایت
06:08حاصل کرنے میں کامیاب رہا ہے
06:09ٹیمپل انسٹیٹیوٹ نے
06:11تیسرا حیکل تیار کرنے کے لیے
06:12ضروری تمام عبادتی سامان تیار کر لیا ہے
06:15جیسے سونے سے بنے ہو مقدس برطن
06:17مخصوص لباس
06:18جو صرف لیوی قبیلے کے پجاریوں کے لیے تیار کیے گئے ہیں
06:21قربانی کے اوزار اور اس کے علاوہ
06:23وہ افراد بھی منتخب کر لیے گئے ہیں
06:25جو اس حیکل میں خدمات انجام دیں گے
06:27ایک خاص تحقیقی منصوبہ جسے
06:29جسے ریڈ ہیفر یا سرخ بچیا کہا جاتا ہے
06:31بھی اس تیاری کا حصہ ہے
06:33تلمودی حکام کے مطابق
06:34حیکل کی تطہیر اور اس کی تقدیز
06:36صرف اور صرف سرخ بچیا کی راک سے کی جا سکتی ہے
06:39اس لیے یہ بچیا خصوصی طور پر تحقیق کا موضوع بنی ہوئی ہے
06:42اس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ تیسرا حیکل
06:45محض ایک مذہبی تعمیر نہیں
06:46بلکہ ایک بہت بڑے منصوبے کا حصہ ہے
06:48جو دنیا میں ایک نیا مذہبی اور سیاسی نظام
06:51قائم کرنے کی کوشش کر رہا ہے
06:52یہ سب تیاریاں اس مقام پر کی جا رہی ہیں
06:54جہاں آج مسجد اقصہ
06:56قبط السخرا قائم ہیں
06:59یہ وہ مقام ہے جسے مسلمانوں کے لئے
07:01ایک عظیم روحانی مرکز کی حیثیت حاصل ہے
07:03اور یہ بھی وہی جگہ ہے
07:04جس کے بارے میں یہودی عقیدہ ہے
07:06کہ یہی وہ مقام ہے جہاں تیسرا حیکل تعمیر کیا جائے گا
07:09اس لئے گزشتہ کئی برسوں سے
07:10مسجد اقصہ کے نیچے
07:11افیہ سرنگوں کی ایک خدائی کی جا رہی ہے
07:13ان خدائیوں کا مقصد یہ دعویٰ کیا جا رہا ہے
07:16کہ وہ پرانے حیکل کے آثار تلاش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں
07:19تاکہ اس بنیاد پر مسجد اقصہ کو گرا کر
07:21تیسرا حیکل تعمیر کیا جا سکے
07:23اگرچہ اسرائیلی حکومت
07:24اس بات سے لا تعلقی ظاہر کرتی ہے
07:26اور ان خدائیوں کو محض مذہبی سرگرمی اقرار دیتی ہے
07:29لیکن وقتاً فوقتاً مختلف ریپورٹس
07:31لیکھ ہونے والی ویڈیوز
07:32اور مقامی لوگوں کے بیانات
07:34اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں
07:35کہ مسجد اقصہ کی بنیادوں کو
07:37اندر ہی اندر کھوکلا کیا جا رہا ہے
07:39بعض مقامات پر دیواروں میں درانے پڑ چکی ہیں
07:41اور سہن میں گھرے گھرے نظر آنے لگے ہیں
07:45جو اس بات کی طرف اشارہ ہے
07:47کہ مسجد کی ساخت کو نقصان پہنچایا جا رہا ہے
07:49تاکہ اس کے نیچے تیسرا حیکل بنانے کی راہ ہمبار کی جا سکے
07:52ان تمام سرگرمیوں کو بظاہر مذہبی اور روحانی رنگ دیا جا رہا ہے
07:56مگر حقیقت میں یہ سب ایک عالمی منصوبے کا حصہ ہیں
07:59جس کا مقصد صرف ایک حیکل کی تعمیر نہیں
08:01بلکہ ایک وسیع ترین منصوبہ ہے
08:03جس میں دنیا بھر میں ایک نئے نظام
08:05ایک نئی روحانیت
08:06اور ایک عالمی اختیار کی راہ ہمبار کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے
08:09یہ سب نہ صرف مذہب بلکہ عالمی سیاست سے جڑا ہوا ہے
08:12اور اس کا اثر پوری انسانیت پر پڑھنے والا ہے
08:15اس بات کو مد نظر رکھتے ہوئے یہ سوال اٹھتا ہے
08:17کہ کیا یہ محض ایک مذہبی سرگرمی ہے
08:19جس کا مقصد صرف حیکل سلمانے کی دوبارہ تعمیر ہے
08:22یا کیا یہ ایک بڑی عالمی سازش ہے
08:24جس کا مقصد انسانیت کو ایک ایسے دجالی نظام کی طرف دھکیلنا ہے
08:28جس کا اثر دنیا بھر میں پھیل جائے گا
08:30کیا یہ نظام عالمی حکومت اور عالم اقتدار کی طرف قدم بڑھانے کی اپتدا ہے
08:34یہ وہ سوالات ہیں جو اس بات کی حقیقت کو واضح کرنے کیلئے ضروری ہیں
08:38اور ان کا جواب دنیا کے مستقبل کا فیصلہ کر سکتا ہے
08:41ناظرین دجال اسلامی عقائد کے مطابق آخری زمانے کی سب سے بڑی آزمائش ہے
08:46وہ ایک فریب کا اردھوکہ دینے والا اور تباہ کن شخصیت ہے
08:49جو دنیا کو اپنے جال میں پھسائے گا
08:51قرآن حدیث میں دجال کے بارے میں تفصیل سے ذکر آیا ہے
08:54اور اسے ایک ایسی شخصیت کے طور پر بیان کیا گیا ہے
08:56جس کی آمد انسانیت کے لیے ایک عظیم امتحان بنے گی
08:59دجال کا ظہور ایک عالمی فتنے کا آغاز ہوگا
09:02جس میں لوگوں کو اپنے جال میں پھسانے کے لیے
09:04جادو جادوگری اور غیر معمولی طاقتوں کا استعمال کرے گا
09:08اس کی آنکھ ایک ہوگی اور اسے قذاب یا جھوٹا کہا جائے گا
09:11کیونکہ یہ دنیا بھر کے لوگوں کو اپنی حقیقت سے پردہ ڈال کر گمراہ کرے گا
09:15اب سوال یہ ہے کہ یہ نجات دہندہ کون ہے
09:18جس کا یہودی عقائد میں ذکر کیا گیا ہے
09:20یہودیوں کے مطابق ان کا مسیحہ یا نجات دہندہ وہ ہستی ہے
09:23جو آخر کار آ کر ان کو دنیا میں برطری دے گا
09:26اور ان کے دشمنوں کو شکر دے گا
09:28یہ شخص ایک طاقتور رہنما ہوگا
09:30جو یہودیوں کو اس کی مذہبی تقدیر کے مطابق عزت و مقامتہ کرے گا
09:34اس مسیحہ کے آنے کے انتظار
09:36یہودی مذہب میں ایک اہم جز ہے
09:38اور ان کی تمام دعائیں اور عقیدے اس شخصیت کے منتظر ہیں
09:42اب ایک حیرت انگیز سوال اٹھتا ہے
09:44کیا یہ دونوں شخصیات یعنی دجال اور یہودیوں کا مسیح ایک ہی شخصیت ہیں
09:47یہ کیسا سوال ہے جو ہر دو مذہب کے پیاروکاروں کے لیے ایک اہم گتھی بن چکا ہے
09:52یہودیوں کے مسیحہ کی خصوصیات اور دجال کے خصوصیات میں حیرت انگیز مماثلتیں موجود ہیں
09:57دونوں کا مقصد دنیا پر حکومت حاصل کرنا
10:00اور لوگوں کو اپنی طرف مائل کرنا
10:01اور ایک نئے عالمی نظام کا قیام ہے
10:03دونوں کی آمد ایک سنگین وقت کا آغاز کرے گی
10:06اور دونوں کی شخصیتیں ہر قوم کے لیے ایک آزمائش ہوں گی
10:09یہودیوں کا مسیح اور مسلمانوں کا دجال
10:11دونوں ایک ایسے عالمی انقلاب کے طرف اشارہ کرتے ہیں
10:14جو ہر چیز کو بدل کر رکھ دے گا
10:16مسلمانوں کے لیے دجال ایک عذاب اور فتنے کا مظہر ہے
10:19جس کا مقابلہ امام مہدی علیہ السلام کے ہاتھوں ہوگا
10:21جبکہ یہودیوں کے عقیدے میں
10:23مسیح کی آمد ان کے لیے نجات کا ذریعہ بنے گی
10:25دونوں عقائد کی بنیاد پر ایک دوسرے سے متضاد نظریات اُبھرتے ہیں
10:28یہ فرق واضح کرتا ہے کہ آخر کار وہ مسیحہ
10:31جو یہودیوں کے لیے نجات دہندہ ہوگا
10:33مسلمانوں کے لیے دجال کی شکل اختیار کر سکتا ہے
10:35اور یہ متضاد نظریات ایک عالمی تصادم کا آغاز بھی کر سکتے ہیں
10:39سوال یہ ہے کہ کیا ہم کسی ایسی حقیقت سے بے قبر ہیں
10:43جس کا تعلق دونوں مذاہب کے درمیان
10:45ایک نیا عالمی فریب ہونے سے ہے
10:47کیا یہ دونوں شخصیات دراصل ایک ہی حقیقت کو ظاہر کر رہی ہیں
10:50اور وہ حقیقت انسانیت کی تقدیر پر اثر انداز ہونے والی ہے
10:53اگر ایسا ہے تو یہ ہمارے لیے
10:55ایک نا ختم ہونے والے سوال کا سبب بن سکتا ہے
10:58کیا ہم اس فریب کا شکار ہو چکے ہیں
11:00جسے ہم اپنی حقیقت سمجھتے ہیں
11:02ناظرین تابوت سکینہ
11:03ایک انتہائی مقدس اور تاریخی چیز ہے
11:06جس کا ذکر مختلف مذہبی متون میں کیا گیا ہے
11:08یہ تابوت حضرت موسیٰ علیہ السلام کے زمانے میں موجود تھا
11:11اور اس میں وہ اہم اشیاء رکھی گئی تھی
11:13جنہیں بنی اسرائیل کے مقدس میراث سمجھا جاتا ہے
11:15جیسے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے صحیفے
11:18حصہ اور دیگر اہم دینی اشیاء
11:19قرآن اور بائبل دونوں میں
11:21تابوت سکینہ کا ذکر ملتا ہے
11:23اور اسے ایک ایسی مقدس چیز سمجھا جاتا ہے
11:26جو بنی اسرائیل کے ساتھ تھی
11:27اور ان کی فلاہ اور کامیابی کے علامت تھی
11:29تابوت سکینہ کا موجود ہونا
11:32ایک گہرا روحانی اور مذہبی پیغام دیتا ہے
11:34اسلامی روایات کے مطابق
11:35تابوت حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بعد
11:37حضرت دعوت علیہ السلام اور پھر
11:39حضرت سلیمان علیہ السلام کے دور میں بھی موجود رہا
11:41اس تابوت کو ایک ایسا طاقتور
11:43اور مقدس چیز سمجھا جاتا ہے
11:45جو قوم بنی اسرائیل کو فتح اور کامیابی دیتی تھی
11:48یہ تابوت خاص طور پر جنگوں کے دوران
11:50بنی اسرائیل کے ساتھ تھا
11:51اور یہ دشمنوں کے مقابلے میں کامیابی دلانے کی قوت رکھتا تھا
11:54تاہم تاریخ میں اس کا ذکر گھوم ہو جاتا ہے
11:56اور اس کی موجودگی ایک معمہ بن گئی ہے
11:59آج کے دور میں تابوت سکینہ کی تلاش
12:01ایک عالمی نویت کی تحقیق کا موضوع بن چکی ہے
12:03جدید سائنسی تحقیق اور ٹیکنالوجی
12:05جیسے جیوفیزیکل ریڈارز
12:07سیٹلائٹ ایمیجز
12:08اور آرکیولوجیکل خدائیوں کے ذریعے
12:11تابوت سکینہ کی ممکنہ
12:12جگہوں کا پتہ چلانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں
12:14ان تحقیقات میں مختلف سائنسی ٹولز
12:17کا استعمال کیا جا رہا ہے
12:18تاکہ زمین کے نیچے مدفن اشیاء کی تلاش کی جا سکے
12:21اور تابوت سکینہ کی موجودگی کے آثار مل سکیں
12:23یہ خدائیاں مسجد اقصہ
12:25اور بیت المقدس کے نیچے خاص طور پر
12:26اہمیت رکھتی ہیں
12:27یہاں جاری تحقیقات اور کھدائییں اس لیے کی جا رہی ہیں
12:30کہ ماہرین کا خیال ہے کہ تابوت سکینہ وہیں دفن ہے
12:33اس کی تلاش میں اس جگہ کی تاریخ اور مذہبی
12:35اہمیت کا بھی ایک اہم انصر ہے
12:37کیونکہ یہ وہی مقام ہے جہاں
12:39حضرت سلمان علیہ السلام کا حیکل سلمانی بھی واقعہ تھا
12:41چنانچہ کچھ سادشی نظریات کے مطابق
12:44تابوت سکینہ دراصل پہلے ہی دریات ہو چکا ہے
12:46لیکن اس کی حقیقت کو عوام سے چھپایا جا رہا ہے
12:49اس نظری کے مطابق خفیت انظیم اور طاقت پر گروہ
12:53تابوت سکینہ کی طاقت کا استعمال کرنے کی کوشش کر رہے ہیں
12:56اور اس کے افشاہ ہونے سے پہلے
12:57اسے اپنے قبضے میں لے چکے ہیں
12:58کہا جاتا ہے کہ اس تابوت کی موجودگی کا
13:03علم انفرادی اور عالمی سطح پر کئی بڑی طاقتوں کو ہے
13:05اور وہ اس کا استعمال اپنے مقاصد کے لیے کر سکتے ہیں
13:08کوئی ذرائع کے مطابق تابوت سکینہ کی کھوج میں
13:11اس قدر سنجیدہ تحقیقات اور سیکیورٹی کے اقدامات کیے گئے ہیں
13:14کہ یہ ظاہر ہو رہا ہے کہ اگر باقی
13:16اس تابوت کا پتہ چل چکا ہے
13:17تو اس کی حقیقت کو راز رکھنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں
13:20تاہم اس کے بارے میں کوئی قطعی ثبوت
13:22یا تصدیق موجود نہیں ہے
13:23اور یہ اب تک گہرہ راز بنا ہوا ہے
13:26آخر سوال یہ ہے کہ کیا تابوت سکینہ
13:28واقعاً موجود ہے
13:29اور اگر ہے تو کیا اس کی تلاش کے پیچھے
13:32کوئی خفیہ عالمی مقاصد ہیں
13:33کیا اس تابوت میں وہ طاقت موجود ہے
13:35جو دنیا کی تقدیر کو بدل سکتی ہے
13:37اور کیا ہمیں کبھی اس تابوت کا پتہ چل پائے گا
13:39یا یہ ہمیشہ کے لیے ایک رازی بن کر رہ جائے گا
13:42ناظرین بیت المقدس اور محجید اقصہ کے نیچے
13:44موجود سرنگوں کا ایک سنسنی خیز
13:47اور پورا سرار پہلو ہے
13:56اور راستے ہیں جو زمین کی گہرائی میں جا کر
13:58دور دراست کی جگہوں تک پہنچتی ہیں
14:00ماہرین کا خیال ہے کہ یہ سرنگیں
14:02قدیم دور میں بنی تھیں اور ان کا مقصد
14:04مختلف مذہبی اور تابتت پر مقاصد کیلئے تھا
14:07یہ سرنگیں صرف تاریخی آثار
14:08یا عبادت گاہوں تک پہنچنے کا راستہ
14:10تو نہیں بتاتی بلکہ ان میں ایک ایسی
14:12غیر مرے قوت چھپی ہو سکتی ہے
14:14جو انسانوں کی ذہنی حالت پر اثر انداز ہو سکتی ہے
14:17تحقیقات سے پتہ چلتا ہے
14:18کہ ان سرنگوں میں جانے والے افراد
14:20اکثر پورا سرار تجربات کا سامنا کرتے ہیں
14:22وہاں جا کر بعض لوگ بے ہوش ہو جاتے ہیں
14:24جبکہ کچھ ذہنی دباؤ یا خوف کا شکار ہو جاتے ہیں
14:27اس کے علاوہ
14:28کئی افراد ایسے غیر معمولی اور پورا سرار
14:30خوابوں کا ذکر کرتے ہیں
14:31جن میں انہیں غیر مرے مخلوقات یا قوتوں کا سامنا ہوتا ہے
14:34کچھ سائنسی تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے
14:36کہ ان زیر زمین سرنگوں سے ایسی لہریں خارج ہوتی ہیں
14:39جو انسانی دماغ پر خاص اثر ڈال سکتی ہیں
14:42یہ لہریں ایسی توانائی کی لہریں ہیں
14:44جو کسی بھی انسان کی ذہنی حالت کو متاثر کر سکتی ہیں
14:47بعض افراد ان لہروں کے اثر سے پورا سرار خواب دیکھتے ہیں
14:50ذہنی خلل کا شکار ہو جاتے ہیں
14:52یا پھر ان میں غیر معمولی ذہنی اور جسمانی ردعمل ظاہر ہوتا ہے
14:55یہ لہریں غیر مری قوتوں کی موجودگی کا ایک ممکنہ اشارہ ہیں
14:59جو ان سرنگوں یا مخصوص مقامات پر موجود ہو سکتی ہیں
15:02اس بارے میں مختلف نظریات ہیں
15:04کیا یہ لہریں قدرتی طور پر پیدا ہو سکتی ہیں
15:07یا یہ کسی غیر معمولی قوت کے اثرات ہو سکتے ہیں
15:09جو ان سرنگوں میں موجود ہیں
15:11یہ تجربات وہ افراد بیان کرتے ہیں
15:13جن سرنگوں یا جگہوں کے قریب پہنچتے ہیں
15:15جہاں تحقیقات ہو رہی ہیں
15:17کئی افراد نے کہا ہے کہ
15:18وہ وہاں جانے کے بعد عجیب و غریب خواب دیکھنے لگے
15:21جو عام طور پر کسی غیر مری طاقت
15:23یا مخلوق کے متعلق ہوتے ہیں
15:25ان خوابوں میں اکثر ایسی موجودگیاں ہوتی ہیں
15:27جو غیر انسانی اور پورا سرار دکھائے دیتی ہیں
15:30بعض اوقات ان خوابوں میں
15:32لوگوں کو ایسی حقیقتوں کا سامنا ہوتا ہے
15:34جو انسان کے فہم سے باہر ہوتی ہیں
15:36جیسے قدی مخلوق کی موجودگی
15:38یا ایسی معلومات جن کا ان کے بارے میں
15:40کوئی تصور نہ ہو
15:41یہ خواب اور تجربات اکثر ذہنی دباؤ
15:43ذہنی دنگی اور خوف کا باعث بنتے ہیں
15:45ان افراد کے ساتھ کچھ ایسا ہوتا ہے
15:47جس سے ان کی زندگی کے معاملات میں
15:49خلال آتا ہے اور وہ ان پورا سرار
15:51تجربات کے اثر سے باہر نہیں نکل پاتے
15:53کیا یہ لہریں واقعی قدرتی ہیں
15:55یہ ان کا تعلق کسی دوسرے سائنسی
15:57یا غیر سائنسی عمل سے ہے
15:58اس پر مزید تحقیق کی ضرورت ہے
16:00یہ سوال اکثر تحقیق کرنے والوں کی زبان پر آتا ہے
16:03کیا ان زیر زمین سرنگوں میں
16:04کوئی غیر مرئی مخلوق یا طاقت موجود ہے
16:07بعض لوگ یقین رکھتے ہیں
16:09کہ یہ سرنگیں صرف زمین کے نیچے نہیں
16:11بلکہ ایک ایسی بود میں موجود ہیں
16:13جہاں غیر انسانی مخلوقات آ جا سکتی ہیں
16:15اس کے مطابق یہ مخلوق وہی ہے
16:17جو اکثر پورا سرار خوابوں
16:18اور غیر مرئی قوتوں کے اثرات میں پائی جاتی ہیں
16:21یہ مخلوق شاید وہی ہو
16:23جو کئی ہزار سالوں سے انسانوں سے چھپی ہوئی ہے
16:25اور جس کا علم صرف مخصوص افراد
16:27یا طاقتور گروہ رکھتے ہیں
16:29ان سرنگوں کی خودائی اور تحقیقات سے
16:31یہ مفروضے اور نظریات
16:32مزید مضبوط ہوتے جا رہے ہیں
16:34کہ یہاں کوئی ایسی طاقت موجود ہو سکتی ہے
16:36جو ہمارے فہم سے بالتر ہو
16:37ناظرین ان سرنگوں اور لہروں کی حقیقت
16:39ابھی تک ایک معمہ بنی ہوئی ہے
16:41ان میں سے کوئی غیر مری طاقت ہے
16:43جو ان جگہوں کو خاص بناتی ہے
16:45یا یہ سب انسانی دماغ کے مخصوص اثرات ہیں
16:47چاہیے قدرتی ہو یا کسی دیگر قوت کا اثر ہو
16:50یہ سب سوالات اس پور اثرات جگہ کو
16:52اور بھی گہرا اور سنسنی خیز بنا دیتے ہیں
16:55بیت المقدس کو تاریخی اور مذہبی لحاظ سے
16:57ایک بے حد اہم مقام مانا جاتا ہے
16:59لیکن کیا یہ صرف زمین کا ایک اہم مقام ہے
17:02یا کچھ اور
17:03بعض نظریات کہتے ہیں کہ بیت المقدس دراصل ایک سٹار گیٹ ہے
17:06یعنی ایک ایسا دروازہ جو مختلف سیاروں
17:08یا بودوں کے درمیان
17:10رابطہ قائم کرتا ہے
17:12اس نظریہ کے مطابق بیت المقدس کا مقام ایسا ہے
17:15جہاں سے کائنات کے مختلف حصوں کے دروازے کھل سکتے ہیں
17:18اور اس کی خاصیت یہ ہے کہ یہ زمین پر موجود
17:20روحانی اور کائناتی جنگ کا مرکز بن چکا ہے
17:23اس نظریہ کے مطابق بیت المقدس میں
17:25وہ توانائیاں موجود ہیں
17:26جو کسی دوسرے سیارے یا کائناتی بود میں
17:29جاننے کے لیے دروازہ کھولنے کا کام کر سکتی ہیں
17:31یہ دروازے یا گیٹس ایسی جگہوں پر باقی ہوتے ہیں
17:34جو قدرتی طور پر قوتوں سے بھرے ہوں
17:36جیسے کہ بیت المقدس
17:38جو خود ایک روحانی طور پر
17:39طاقت پر مقام سمجھا جاتا ہے
17:41قدیم ثقافتوں اور مذہبی تحریروں میں
17:43ایسی جگہ کا ذکر موجود ہے
17:44جہاں انسانوں اور دیگر مخلوقات کے درمیان
17:47رابطہ قائم کیا جا سکتا ہے
17:49اور بیت المقدس کو ان میں سے
17:50ایک اہام دروازہ سمجھا جا رہا ہے
17:52کیا وہ پرانی مخلوق جو کبھی انسانوں کے ساتھ جوڑی تھی
17:55اب دوبارہ باپس لائی جا رہی ہے
17:57کچھ نظریات کہتے ہیں
17:58کہ بیت المقدس کا مقام ایک ایسا دروازہ ہے
18:00جس کے ذریعے پدیم اور غیر مرئی مخلوقات کا
18:03دوبارہ زمین پرانا ممکن ہو سکتا ہے
18:05یہ مخلوق شاید وہی ہو جو تاریخ کے مختلف
18:08ادوار میں مختلف اقوام کی حکمرانی
18:10کے دوران موجود تھی
18:11اور اب ان کی باپسی کا حمل جاری ہو رہا ہے
18:13اس کے مطابق بیت المقدس کو یہ خاص طوانائی
18:16کے مرکز کے طور پر استعمال کیا جارہا ہے
18:18جس کے ذریعے مخلوق دوبارہ زمین پر
18:20وارد ہو سکتی ہے
18:21اگر بیت المقدس واقعی ایک اسٹار گیٹ ہے
18:23تو یہ زمین پر جاری روحانی جنگ کا مرکز بن چکا ہے
18:26اس جنگ میں مختلف قوتیں
18:35مخمرانی طاقت اور روحانی تسلط
18:37یہ لی بھی ہو سکتی ہے
18:38بہت سے لوگوں کا ماننا ہے کہ اس جنگ کا مقصد انسانوں کو
18:41کسی خاص راستے پر لے جانا ہے
18:43اور بیت المقدس اس کا مرکز ہے
18:45مختلف قوتوں کی جنگ جاری ہے
18:47ناظرین کیا بیت المقدس واقعی ایک سیاروی دروازہ ہے
18:49یہ سوال وہ سوالات ہیں
18:51جس پورا سرار مقام کی حقیقت کو
18:53مزید پیچیتہ بناتے ہیں
18:54اگر یہ سٹار گیٹ ہے تو اس کا مطلب یہ ہے
18:56کم ایک ایسی کائناتی جنگ کے مرکز میں ہیں
18:59جو زمین کے علاوہ بھی کئی بودوں میں جاری ہے
19:01یہ نظریات اس بات کو مزید گہرہ کرتے ہیں
19:03کہ بیت المقدس کی اہمیت
19:04محض مذہبی یا تاریخی نہیں
19:06بلکہ ایک کائناتی جنگ کا حصہ ہو سکتی ہے
19:08جو انسانیت کی تقدیر بدلنے کے لیے جاری ہے
19:11دنیا میں اس وقت مختلف سازشی نظریات
19:13اور عالمی سیاست کے بارے میں
19:15ایسے بیانات گردش کر رہے ہیں
19:16جو نہ صرف تاریخ بلکہ مذہب
19:18اور روحانیت سے بھی جڑے ہوئے ہیں
19:19ان میں سے ایک سب سے اہم اور پور اثرار نظریہ
19:22نیو ورلڈ آرڈر ہے
19:24جو دنیا بھر میں ایک عالمی حکومت کے قیام کی بات کرتا ہے
19:27اس نظریہ کے مطابق تیسرا حقل
19:29اور اس سے جڑے مذہبی عقائد کا
19:30ایک گہرہ تعلق عالمی سیاست
19:32مذہب اور نئی عالمی حکومت کے قیام سے ہے
19:35یہ سب مل کر ایک ایسا نظام تشکیل دے رہے ہیں
19:37جو انسانت کے مستقبل کو بدل کر رکھ سکتا ہے
19:40اور اس نظام کا آغاز نہ صرف
19:41سیاسی معاملات میں بلکہ مذہبی مفاہمتوں
19:44اور عالمی طاقتوں کے درمیان
19:46تعلقات میں بھی تبدیل لانے کا سبب بن سکتا ہے
19:48نیو ورلڈ آرڈر کا نظریہ
19:50دراصل ایک وسیع اور پیچیدہ عالمی نظام کے قیام کا
19:52مقصد رکھتا ہے
19:53جو ایک مرکزی قوت کے زیر اثر ہوگا
19:55اس نظریہ کے مطابق عالمی حکومت کی تشکیل میں
19:58مذہب سیاست معاشرتی تنظیم
20:00اور طاقتور عالمی دارے شامل ہوں گے
20:02جن کے ذریعے دنیا کو ایک نئی سیاسی
20:04اقتصادی اور مذہبی تشکیل دی جائے گی
20:07اس نظام میں تین اہم پہلو ہوں گے
20:09عالمی حکومت
20:10عالمی قانون اور عالمی عقیدہ
20:12اور اس سب کا آغاز حیکل سلمانی کے
20:14تعمیر ہونے کے بعد ہوگا
20:15جو ایک مذہبی اور سیاسی اعتبار سے
20:17دنیا کی تقدیر بدل سکتا ہے
20:19تیسرا حیکل جس کی تعمیر کی بات کی جارہی ہے
20:21محض ایک عبادتگاہ نہیں
20:23بلکہ عالمی سیاست کا ایک اہم پیشیدہ جز بن چکا ہے
20:26یہ حیکل محض ایک دینی مقام نہیں
20:28بلکہ عالمی سیاست میں
20:29ایک طاقت اور علامت کی حیثیت اختیار کر چکا ہے
20:32بعض سازشی نظریات کے مطابق
20:34جب تیسرا حیکل تعمیر ہوگا
20:35تو یہ دجال نظام کی آمد کا پیش خیمت ثابت ہوگا
20:38جو دنیا میں ایک مرکزی طاقت کی شکل اختیار کرے گا
20:41اس عالمی حکومت کے قیام کے دوران
20:43مختلف ممالک کے حکمران
20:44ایک ہی مرکزی طاقت کے تحت کام کریں گے
20:47اس وقت مذہب کا استعمال
20:48عالمی حکومت کی طاقت بڑھانے کے لیے کیا جائے گا
20:50اور دجال کو ایک نجات دہندہ کے طور پر پیش کیا جائے گا
20:53جسے دنیا کے مختلف حصوں میں
20:55ایک مسیحہ کی حیثیت حاصل ہوگی
20:57اس دوران دنیا کے عوام کو
20:58ایک عالمی رہنمہ کی مکمل اطاعت کرنا ہوگی
21:01اور اس طرح عالمی طاقت
21:02ایک مرکزی شخصیت کے ہاتھ میں آ جائے گی
21:04جو اس نظام کو چلاتا رہے گا
21:06مذہب اور سیاست ہمیشہ سے
21:07ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں
21:09اور نیو ورلڈ آرڈر کے تحت
21:10یہ رشتہ مزید مضبوط ہو جائے گا
21:12جب تیسرا حیکل تعمیر ہوگا
21:13تو اس کا مقصد صرف عبادت نہیں ہوگا
21:15بلکہ اسے عالمی سیاست کے ایجنڈے کے طور پر استعمال کیا جائے گا
21:18اس کا مقصد یہ ہوگا
21:20کہ دنیا کے تمام لوگ
21:21ایک ہی عقیدے میں ڈھالے جائیں
21:23اور ایک ہی رہنما کو اپنا نجات دہندہ تسلیم کریں
21:26اور اس طرح کے نظام میں مذہب
21:27نہ صرف روحانی تسکین کا ذریعہ ہوگا
21:29بلکہ اسے ایک سیاسی قوت کے طور پر استعمال کیا جائے گا
21:33جس کے ذریعے لوگوں کے ذہنوں اور دلوں پر مکمل کنٹرول حاصل کیا جائے گا
21:36اس عمل کے ذریعے
21:37دنیا کے عوام کو ایک مرکزی سوچ
21:39اور ایک عالمی قوانین
21:41اور عالمی شناخت میں
21:42زم کرنے کی کوشش کی جائے گی
21:44نیو ورلڈ آرڈر کے نظریہ کے مطابق
21:45ایک نیا عالمی مذہب قائم کیا جائے گا
21:48جس میں ایک عالمی رہنما کی اہمیت انتہائی بڑھ جائے گی
21:50یہ رہنما نہ صرف سیاسی اعتبار سے
21:52بلکہ روحانی سطح پر بھی
21:54ایک نئی حقیقت کو پیش کرے گا
21:55اس رہنما کا مقصد دنیا کے تمام لوگوں کو یکجہ کرنا
21:58اور ایک ایسی عالمی حکومت قائم کرنا ہوگا
22:00جس میں تمام ممالک کے حکمران ایک کی طاقت کے تحت ہوں گے
22:04اگر آپ کو اس موضوع پر دلچسپی ہے
22:05تو آپ کا کام صرف ویڈیو تک محدود نہیں ہونا چاہیے
22:08آپ کو اس موضوع پر مزید متعلق
22:10اور تحقیق کرنا چاہیے
22:11تاکہ آپ خود اپنی رائے قائم کر سکیں
22:13اور اس دنیا کے مستقبل کے بارے میں صحیح فیصلے کر سکیں
22:16کہ آپ بھی اس جدید دنیا کے چیلنجز کا حصہ بننا چاہتے ہیں
22:19کہ آپ تیار ہیں اس پورا سرار نظام کا راز کھوجنے کے لیے
22:22ان تمام سوالات کے جوابات آپ کی طرف سے متوقع ہیں
22:25اور ہمیں یقین ہیں کہ آپ کا جواب
22:27اس ویڈیو کے ذریعے دنیا تک پہنچے گا
22:29ناظرین یہ تھی ہماری آج کی ویڈیو
22:31ہم امید کرتے ہیں کہ آپ کو ہماری آج کی یہ ویڈیو
22:33ضرور پسند آئی ہوگی
22:34اگر آپ کو ہماری آج کی یہ ویڈیو پسند آئی ہے
22:36تو آپ سے گزارش کرتے ہیں
22:37کہ آپ ہمارے چینل کو ضرور سبسکرائب کر لیں
22:40اور ساتھ ہی لگے بیل کے بٹن کو بھی پریس کر لیں
22:42تاکہ آپ کے پاس ہماری آنے والی
22:44مزید معلوماتی ویڈیوز کا نوٹفیکشن
22:46بروقت ملتا رہے
22:47سبسکرائب کے ساتھ ہماری ویڈیوز کو لائک بھی کریں
22:49اور اپنی قیمتی رائے کا اظہار کمنٹس میں ضرور کریں
22:52کمنٹس میں آپ اپنے سوالات بھی ہم تک پہنچا سکتے ہیں
22:54اللہ تعالیٰ آپ کو اپنے حفظ و مان میں رکھے
22:56آمین
Comments

Recommended