Skip to playerSkip to main content
Abu Lahab Kon Tha Aur Us Ne Nabi Pak Ke Sath Kitni Dushamani Ki Us Ka Anjam Kya Hua
Voiced By: Qadir Kalhoro
#motivationalvideo #motivational #story #storytime #storytelling #storyteller #qadirkalhoro

Category

📚
Learning
Transcript
00:00ابو لحب کون تھا اور اس نے کیا کچھ کیا
00:02بسم اللہ الرحمن الرحیم
00:04السلام علیکم ورحمت اللہ وبرکاتہو
00:07میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں
00:10اور محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
00:13اللہ کے سچے رسول ہیں
00:15آج کی اس ویڈیو میں ہم آپ کو ان عذیتوں
00:18تکالیف اور آزمائشوں کے بارے میں بتائیں گے
00:21جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
00:24اور ان کے صحابہ نے اسلام کے ابتدائی دور میں برداشت کی
00:28یہ ویڈیو ان دشمنان اسلام کے بارے میں ہے
00:30جنہوں نے اپنی زد، ہٹ، دھرمی اور شیطانی رویوں کے سبب حق کو جھٹلایا
00:35اور نہ صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
00:39بلکہ تمام مسلمانوں کو ستانے میں کوئی قصر نہ چھوڑی
00:43ہم آپ کو ان واقعات کے ذریعے یہ بتائیں گے
00:45کہ کس طرح اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
00:49نے صبر و حوصلے کے ساتھ ان آزمائشوں کا مقابلہ کیا
00:53اور اسلام کو سر بلندی عطا کی
00:55آج کی اس ویڈیو کو آخر تک دیکھئے
00:58تاکہ آپ ان افراد کے بارے میں جان سکیں
01:00جنہوں نے اپنے غلط رویوں کے بارے میں دنیا میں بھی زلت اٹھائی
01:05اور آخرت میں دردناک عذاب کے مستحق ٹھہرے
01:08اللہ سے دعا ہے کہ اللہ تعالی ہمیں سرات مستقیم پر چلنے کی کامل توفیق عطا فرمائے
01:14آمین
01:15تو آئیے سٹارٹ کرتے ہیں آج کی ویڈیو
01:17آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور اسلام کے سخت ترین دشمنوں میں سے
01:22ایک ابو لہب تھا جس نے باست کے بعد سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دشمنی اور بخص رکھا
01:30اور اپنی نفرت کا برملہ اظہار کیا
01:32اس نے نہ صرف آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
01:35بلکہ مسلمانوں کو بھی مختلف طریقوں سے عذیتیں دیں
01:39ان پر ظلم کیے اور اسلام کو مٹانے کی کوششوں میں شامل رہا
01:43قرآن مجید میں اس کے بارے میں ارشاد ہوتا ہے
01:46ابو لہب کے دونوں ہاتھ ٹوٹ گئے اور وہ خود بھی تباہ ہو گیا
01:50کیا آپ جانتے ہیں کہ یہ دشمن جس کا ذکر قرآن کریم میں آیا ہے
01:55اس نے کیا اقدامات کیے تھے
01:57اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس کا کیا تعلق تھا
02:01ابو لہب کی بیوی کون تھی
02:02اور اس کا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زندگی میں کیا کردار تھا
02:07آپ جانتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت کی خوشخبری پہنچی
02:12تو ابو لہب نے کیا رد عمل کیا اور کیا کیا
02:15اس ویڈیو میں آپ کو ان سوالات کے مکمل جوابات ملیں گے
02:19گزارش ہے کہ ویڈیو کو آخر تک ضرور دیکھئے
02:21ناظرین ابو لہب قریش کے معزز سرداروں میں شمار ہوتا تھا
02:25اس کا اصل نام عبدالعوزہ بن عبدالمطلب تھا
02:28اور کنیت ابو عطبہ تھی
02:30اس کا رنگ سرخی مائل اور چمکتا ہوا تھا
02:33اور چہرہ انتہائی خوبصورت تھا
02:35ابو لہب کا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے قریبی تعلق تھا
02:40کیونکہ یہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا حقیقی چچا تھا
02:44یہ شخص بہت دولتمند تھا لیکن اپنی فطرت میں نہایت کنجوس تھا
02:49آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پیدائش کی خبر
02:52ابو لہب کو اس کی لونڈی سوبیا نے دی
02:55جس پر اس نے خوش ہو کر سوبیا کو آزاد کر دیا
02:58چونکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے والد کا انتقال
03:02آپ کی پیدائش سے پہلے ہو چکا تھا
03:05اس لیے ابو لہب نے بڑے چچا ہونے کے ناتے
03:08اپنے آپ کو والد کا قائم مقام سمجھا
03:10اور اپنی طبیعت کے برخلاف اس خوشی کا اظہار کیا
03:14یا شاید اس پر مجبور ہوا
03:16یہ بھی اس کی بخل کی ایک جھلک تھی
03:18کہ جب آپ کے دادا عبد المطلب وفات پا رہے تھے
03:22تو انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی کفالت
03:25ابو لہب کے بجائے ابو طالب کے سوپرت کی
03:29حالانکہ ابو طالب مالی طور پر ابو لہب سے کمزور تھے
03:32ابو لہب کی بیوی عم جمیل جس کا اصل نام عروا بنت حرب تھا
03:36اور کنیت ام جمیل تھی ابو صفیان کی بہن تھی
03:40وہ بھینگی تھی
03:41اس وجہ سے اسے اورہ یعنی کانی کہا جاتا تھا
03:45اپنے بدنصیب شہر ابو لہب
03:48یعنی عبدالعزہ بن عبد المطلب کی طرح
03:50یہ عورت بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سخت دشمن تھی
03:55یہ ہمیشہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
03:58اور آپ کے خاندان کو عزیت اور تکلیف دینے میں پیش پیش رہتی تھی
04:03ابو لہب کے دو بیٹے عطبہ اور عطبہ تھے
04:06ابو لہب کی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دشمنی کا آغاز نبوت کے بعد ہوا
04:12باست کے بعد تین سال تک اسلام کی دعوت خفیہ انداز میں جاری رہی
04:17پھر جب یہ حکم نازل ہوا
04:18اپنے قریبی رشتے داروں کو اللہ کے عذاب سے خبردار کریں
04:23تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس حکم کے تحت
04:27بنو حاشم اور بنو عبد المطلب کو کھانے پر مدعو کیا
04:31جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے رشتے داروں کے سامنے
04:35لا الہ الا اللہ کی دعوت پیش کی
04:37تو ابو لہب فوراں بول اٹھا
04:39دیکھو یہ سب لوگ تمہارے چچا یا چچازاد بھائی ہیں
04:43بے وقوفی چھوڑ دو اور سمجھ لو کہ تمہارا خاندان
04:47سارے عرب کے مقابلے کی طاقت نہیں رکھتا
04:49اور میں سب سے زیادہ حق رکھتا ہوں
04:51کہ تمہیں روک ہوں
04:52تمہارے لیے تمہارے باپ کا خاندان ہی کافی ہے
04:55اگر تم اپنی بات پر ڈٹے رہے اور عرب کے تمام قبائل تم پر حملہ آور ہو گئے
05:01تو تم سے زیادہ اپنے خاندان کے لیے بدنامی اور تباہی کا سبب کوئی اور نہیں ہوگا
05:07ابو لہب کی ان تلخ باتوں کے بعد
05:09آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خاموش ہو گئے
05:12اور باقی لوگ بھی اپنے گھروں کو لوٹ گئے
05:15کچھ دن بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دوبارہ
05:18اپنے قریبی رشتے داروں کو مدعو کیا
05:20اور اس بار اپنی دعوت کھل کر بیان کی
05:23اس موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چھوٹے چچا
05:27ابو طالب نے آپ کی حمایت کا اعلان کیا
05:30لیکن یہ بھی واضح کر دیا
05:32کہ وہ عبد المطلب کے دین کو چھوڑنے کے لیے تیار نہیں
05:36اس پر ابو لہب نے کہا
05:38کہ خدا کی قسم یہ دعوت توحید ایک خرابی ہے
05:41اس لیے دوسروں سے پہلے
05:43تم خود محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو روک لو
05:47ابو طالب نے جواب دیا
05:48کہ اللہ کی قسم جب تک ہم زندہ ہیں
05:51ہم اس کی حفاظت کرتے رہیں گے
05:53اس دوسری ملاقات سے یہ بات واضح ہوئی
05:56کہ بنو حاشم کے معززین میں
05:58کم از کم ایک شخص
05:59یعنی جناب ابو طالب ایسے ہیں
06:02جس کی حمایت پر بھروسہ کیا جا سکتا ہے
06:04اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
06:07نے ایک اور جرت مدانہ اقدام کیا
06:10ایک دن آپ صفحہ کی پہاڑی پر چڑھ گئے
06:13اور ایک فریادی کی طرح آواز بلند کی
06:15قریش کے ایک ایک قبیلے کا نام لے کر پکارا
06:18اے بنی فہر اے بنی عدی اے بنی قاب
06:22اور اس طرح دیگر قبائل کے نام
06:25یہاں تک کہ سب قبائل کے اہم افراد
06:27آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس جمع ہو گئے
06:30اور جو خود نہ آ سکا
06:32اس نے اپنا نمائندہ بھیج دیا
06:34آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
06:36نے ایک بلند جگہ سے مخاطب ہو کر سوال کیا
06:38اگر میں تم سے کہوں
06:40کہ اس پہاڑی کے پیچھے ایک لشکر جمع ہے
06:43جو تم پر حملہ کرنے والا ہے
06:45تو کیا تم میری بات مان لوگے
06:47سب نے یک زبان ہو کر جواب دیا
06:49ہاں کیونکہ ہم نے
06:50ہمیشہ آپ کو سچ بولتے ہوئے پایا ہے
06:52آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
06:55نے فرمایا تو پھر سن لو
06:56میں تمہیں ایک سخت عذاب سے
06:59خبردار کرنے آیا ہوں
07:00اپنے آپ کو جہنم سے بچاؤ
07:02میں تمہیں اللہ کے عذاب سے بچانے کی طاقت نہیں رکھتا
07:05یہ سن کر ابو لہب اچانک غزبناک ہو کر بولا
07:09کیا تم نے ہمیں صرف اس بات کے لئے جمع کیا تھا
07:12اگرچہ ابو لہب کی اس بدتمیزی کی وجہ سے
07:15یہ اجتماع کسی ٹھوس نتیجے پر نہ پہنچ سکا
07:18لیکن اس کا ایک اہم فائدہ ہوا
07:21آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
07:23نے اللہ کے حکم کے مطابق
07:25اپنے قبیلے کو اپنی دعوت سے آگاہ کر دیا
07:27اور آپ کا پیغام مکہ کے ہر شخص تک پہنچ گیا
07:31ابو لہب کی گستاخی کے جوابیں
07:33اللہ تعالیٰ نے سورہ لہب نازل فرمائی
07:39باوجود ابو لہب کا ذکر قرآن میں نام لے کر کیوں کیا گیا
07:43اس کی دو اہم وجوہات ہیں
07:44پہلی وجہ یہ ہے کہ عرب میں کسی منظم حکومت کا نظام موجود نہیں تھا
07:49جہاں مظلوم اپنی فریاد لے جا سکے
07:52وہاں قبائلی غیرت اور حمایت ہی واحد سہارہ ہوتی تھی
07:56جب کوئی بھی شخص مشکل میں ہوتا
07:58تو وہ اپنے قبیلے کی مدد طلب کرتا
08:00اور پورا قبیلہ اس کی حمایت میں کھڑا ہو جاتا
08:03ابو لہب وہ بد قسمت شخص تھا
08:06جس نے اس قبائلی قانون کی پرواہ نہ کرتے ہوئے
08:10اپنے قبیلے کے خلاف جا کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مخالفت کی
08:15جب بنو حاشم اور بنو متلب کو شعب ابی طالب میں محصور ہونا پڑا
08:19تب بھی ابو لہب نے اپنے قبیلے کا ساتھ نہیں دیا
08:22یہ وہ وقت تھا جب محصورین میں ایسے لوگ بھی شامل تھے
08:27جو ایمان نہیں لائے تھے
08:29مگر قبائل حمیت کے باعث انہوں نے ہر مصیبت کو قبول کیا
08:33آپ کے چھوٹے چچا جناب ابو طالب نے آپ کی حفاظت کے لیے
08:38اپنی پوری زندگی قریش کی مخالفت برداشت کی
08:41دوسری وجہ یہ ہے کہ قبائلی معاشرے میں چچا کو باپ کا درجہ حاصل تھا
08:46خاص طور پر اس صورت میں جب حقیقی والد کا انتقال ہو چکا ہو
08:50ابو لہب پر لازم تھا کہ وہ آپ کی حفاظت کرے
08:53خواہ وہ ایمان لاتا یا نہ لاتا
08:55مگر اس نے حفاظت کرنے کی بجائے دشمنی میں تمام حدیں پار کر دیں
09:00اور آپ کے شدید ترین مخالفین میں شامل ہو گیا
09:04کوئی صفحہ پر اس نے جو گستاخی اور بدتمیزی کی
09:07آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا خاموش رہنا
09:10اس بات کا عکاس تھا
09:12کہ وہ معاشرتی لحاظ سے باپ کے مقام پر تھا
09:15اور اس کے عدب کا لحاظ آپ کے کردار کا حصہ تھا
09:19لیکن اس کی گستاخی کا جواب اللہ تعالی نے خود دیا
09:22اور اس کا نام لے کر اسے قرآن میں مضمت کا نشانہ بنایا
09:27یہ بھی واضح رہے کہ تبت یدہ ابھی لحب میں
09:30جسمانی طور پر ہاتھوں کے ٹوٹنے کا ذکر نہیں
09:33بلکہ یہ بد دعا کے کلمات ہیں
09:36جو ناراضگی کے اظہار کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں
09:39یہ انداز صرف عربی زبان تک محدود نہیں
09:42بلکہ دنیا کے ہر زبان میں اس طرح کے الفاظ موجود ہیں
09:45اسما بنت ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ کا بیان ہے
09:49کہ جب صورت لحب نازل ہوئی اور ام جمیل نے اسے سنا
09:53تو وہ غصے سے بھر کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ڈھوننے کے لیے نکلی
09:58اس کے ہاتھوں میں پتھر تھے
10:00اور وہ راستے میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حجو میں اشعار پڑتی جا رہی تھی
10:05جب وہ حرم میں پہنچی
10:07تو وہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حضرت ابوبکر کے ساتھ موجود تھے
10:12حضرت ابوبکر نے عرض کیا کہ
10:15یا رسول اللہ یہ یہاں آ رہی ہے
10:17اور مجھے اندیشہ ہے کہ آپ کو دیکھ کر کوئی نازب حرکت نہ کرے
10:21آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا
10:24یہ مجھے نہیں دیکھ سکے گی
10:26اور پھر ویسا ہی ہوا
10:28ام جمیل آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس موجود ہونے کے باوجود
10:33آپ کو دیکھ نہیں سکی
10:34اس نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے کہا
10:38کہ میں نے سنا ہے کہ تمہارے صاحب نے میری حجو کی ہے
10:41حضرت ابوبکر نے جواب دیا کہ اس گھر کے رب کی قسم
10:44انہوں نے تیری کوئی حجو نہیں کی
10:46یہ سن کر وہ وہاں سے واپس لوٹ گئی
10:49جب ابوبکر کے بیٹے عطیبہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شان میں
10:54شدید گستاخی کرتے ہوئے نہایت نازبہ الفاظ استعمال کیے
10:58اور یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قریب آوکر
11:02آپ کے مبارک لباس کو پھار ڈالا
11:05تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دل کو اس بد وقت کی اس حرکت سے گہرا صدمہ پہنچا
11:11آپ نے فرمایا یا اللہ اپنے کتوں میں سے کسی کو اس پر مسلط فرما
11:17آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زبان مبارک سے نکلے الفاظ ہمیشہ پورے ہوتے تھے
11:22اور اس بات سے مشرقین بھی بخوبی واقف تھے
11:25لیکن ان کی زد اور گمراہی نے ان پر پردہ ڈال دیا تھا
11:30اگلے روز ابو لب اپنے بیٹے عطیبہ کے ساتھ
11:33تجارت کے لیے ایک قافلے کے ہمراہ شام کی طرف روانہ ہوا
11:38سفر کے دوران جب رات ہوئی تو قافلے نے زرقہ کے مقام پر ایک راہب کے پاس قیام کیا
11:44راہب نے قافلے والوں کو خبردار کیا
11:47کہ اس علاقے میں درندے بہت ہیں اس لیے مختات رہیں
11:50یہ سن کر ابو لب کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بد دعا یاد آگئی
11:56اس نے قافلے والوں سے کہا
11:57کہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرے بیٹے کے لیے ہلاکت کی دعا کی ہے
12:03اس لیے میں یقین رکھتا ہوں کہ کسی درندے کا حملہ ہوگا
12:07تم لوگ تمام سامان ایک جگہ جمع کر دو
12:10اور اس کے اوپر عطیبہ کا بستر لگا دو
12:12اور سب اس کے گرد سو جاؤ تاکہ وہ محفوظ رہے
12:16قافلے والوں نے عطیبہ کی حفاظت کے لیے مکمل انتظام کیا
12:20اور سب اس کے گرد سو گئے
12:23کچھ وقت کے بعد ایک شیر وہاں آن پہنچا
12:26حیرت انگیز طور پر اس نے کسی کو نقصان نہیں پہنچایا
12:30بلکہ لوگوں کو سونگتا ہوا آگے بڑھتا رہا
12:33وہ تمام لوگوں کے قریب سے گزرا
12:35مگر کسی کو خراش تک نہ دی
12:38جیسے اسے کسی مخصوص بو کی تلاش ہو
12:41آخر کار شیر تجارتی سامان تک پہنچ گیا
12:45جس کے اوپر عطیبہ کا بستر تھا
12:47سامان کی اونچائی کے باوجود
12:49شیر نے ایک بلند چھلانگ لگائی
12:52اور سیدھا عطیبہ کے بستر پر جا پہنچا
12:55جیسے ہی شیر نے عطیبہ کو دیکھا
12:57وہ خون خوار انداز میں دہارنے لگا
13:00اور پھر پوری قوت سے اس کے سر کو
13:03اپنے دانتوں سے دبوچ لیا
13:05کافلے والے شیر کی دہار سے جاگ گئے
13:07مگر کوئی اس کے قریب جانے کی حمت نہ کر سکا
13:11ابو لہب بے بسی سے اپنے بیٹے کی جان بچانے کی فریاد کرتا رہا
13:16لیکن شیر نے عطیبہ کو شدید زخمی کیا
13:19اور وہ تڑپ تڑپ کر مر گیا
13:21حیرت انگیز بات یہ تھی کہ شیر نے نہ تو عطیبہ کا خون پیا
13:25نہ گوشت کھایا بلکہ صرف اس کا سر چبا کر چھوڑ دیا
13:30اس کے بعد شیر کسی کو نقصان پہنچائے بغیر
13:33اچانک وہاں سے غائب ہو گیا
13:35قافلے والوں نے اسے تلاش کیا
13:37مگر شیر کا کوئی سراغ نہ ملا
13:39یہ واقعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دعا کی تاثیر
13:44اور اللہ تعالیٰ کی قدرت کا مظہر تھا
13:46حضرت تارق بن عبداللہ محاربی رضی اللہ تعالیٰ عنہو بیان کرتے ہیں
13:51کہ ایک موقع پر میں بازار زل مجاز میں خرید و فروخت میں مصروف تھا
13:56جہاں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا
14:00آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سرخ جبا پہنا ہوا تھا
14:04اور بلند آواز سے فرما رہے تھے
14:06اے لوگو لا الہ الا اللہ کہو کامیاب ہو جاؤگے
14:10آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے
14:13ایک شخص مسلسل پتھر پھینک رہا تھا
14:16جس سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پنڈلی
14:19اور ایڑی زخمی ہو کر خون سے تر ہو چکی تھی
14:23وہ شخص ساتھ ساتھ کہہ رہا تھا
14:25لوگو اس کی بات نہ سنو یہ جھوٹا ہے
14:28میں نے لوگوں سے پوچھا کہ یہ عظیم ہستی کون ہے
14:31جواب دیا گیا کہ یہ بنی عبد المطلب کے نوجوان ہیں
14:35میں نے پھر دریافت کیا کہ وہ شخص کون ہے
14:37جو ان کا پیچھا کر رہا ہے اور پتھر مار رہا ہے
14:40لوگوں نے کہا کہ یہ ان کے چچا عبدالعزا
14:43یعنی ابو لہب ہے
14:45حضرت رابیہ بن عباد جو بعد میں اسلام لے آئیں
14:49جاہلیت کے دور کا ایک واقعہ بیان کرتے ہوئے فرماتی ہیں
14:52کہ میں نے ظلمجاز کے بازار میں دیکھا
14:55کہ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے گرد جمع ہیں
15:00اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرما رہے ہیں
15:03اے لوگوں لا الہ الا اللہ کہو کامیابی حاصل کرو گے
15:08آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے ایک شخص کھڑا تھا
15:12جس کا چہرہ صاف سترا اور آنکھیں بھینگیں تھیں
15:15اور اس کے سر پر دو چوٹیاں تھیں
15:18وہ لوگوں سے کہتا جا رہا تھا
15:20یہ بے دین ہے جھوٹا ہے
15:22آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جہاں بھی تشریف لے جاتے
15:26وہ شخص بھی پیچھے پیچھے جاتا
15:28میں نے اس شخص کے بارے میں پوچھا
15:30تو بتایا گیا کہ یہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چچا ابو لہب ہیں
15:35ناظرین ابو لہب چچا ہونے کے باوجود
15:37آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خلاف اس حد تک دشمنی رکھتا تھا
15:42کہ اس کے مقابلے میں باقی دشمن معمولی دکھائی دیتے تھے
15:45اگر اسلام کے مخالفین کا جائزہ لیا جائے
15:48تو انہیں چار درجوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے
15:51پہلے درجے میں وہ لوگ شامل ہیں جو اسلام قبول نہ کر سکے
15:55مگر انہوں نے اسلام یا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نقصان نہیں پہنچایا
16:00بلکہ حتی لے امکان مدد کی
16:02ایسے افراد مسلمانوں کے لیے محسنین کا درجہ رکھتے ہیں
16:06ان میں معتم بن عدی جو زیادہ معروف نہیں ہیں وہ شامل تھے
16:10لیکن ان کے کردار کو نظر انداز کرنا نائنصافی ہوگی
16:14جب طائف سے واپسی پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مکہ واپس آنا چاہتے تھے
16:21اس خطرناک صورت حال میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے امان طلب کی
16:27معتم بن عدی نے اپنے بیٹوں کے ساتھ باہر آ کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مکہ میں اپنی امان میں داخل کیا
16:36اس کے اس احسان کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگائیں
16:40کہ جنگ بدر کے موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا
16:44کہ اگر متعم زندہ ہوتا اور جنگی قیدیوں کی رہائی کی درخواست کرتا
16:49تو انہیں بغیر معافضے کے آزاد کر دیتا
16:52یہ وہ صاحب تھے جو کفر پر رہتے ہوئے بھی مصبت کردار کے حامل تھے
16:57اگر یہ امان لے آتے تو شاید مقام صدیقیت پر فائز ہوتے
17:01دوسرے درجے میں وہ افراد آتے ہیں جو اسلام اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حقیقی دشمن تھے
17:08مگر ان کی دشمنی خلوص اور بہادری سے بھری ہوئی تھی
17:11ان کی دشمنی خاندانی تعصب اور ذاتی غرور کی بنیاد پر تھی
17:15لیکن ان میں منافقت یا بخل جیسی صفات نہیں تھی
17:19ان میں ابو جہل اور عطبہ بن ربیہ کے نام نمائی ہیں
17:23ابو جہل نے کبھی چھپ کر وار نہیں کیا
17:26بلکہ کھلے میدان میں مقابلہ کیا
17:28ان کی سخاوت کا یہ عالم تھا
17:30کہ وہ بنو حاشم کے دسترخوانوں سے بڑھ کر مہمان نوازی کرتے تھے
17:34تیسرے درجے میں وہ لوگ شامل ہیں جن کا کردار انتہائی پست تھا
17:38یہ حق کو پہچانتے تھے
17:40لیکن منافقت اور بزدلی کی وجہ سے حق کا سامنا کرنے سے قطر آتے تھے
17:45یہ لوگ سماجی حیثیت کو بچانے کے لیے سازشوں کا سہارہ لیتے
17:49قرآن میں ایسے منافقین کا ذکر کسرت سے ملتا ہے
17:53جن میں ولید بن مغیرہ نمائیہ ہے
17:55اگر یہ ایمان لے آتے
17:57تو شاید عبداللہ بن عبی کے ہم پلہ ہوتے
18:00آخری درجے میں وہ شخص شامل ہے
18:02جو دشمنی، منافقت، کمینگی، ہٹ دھرمی اور بخل میں سب سے آگے تھا
18:07یہ شخص نارشتے داری کا پاس رکھتا تھا
18:10اور نہ ہی شرافت یا ہمسائیگی کا احساس
18:13جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صاحب زادے قاسم کی وفات ہوئی
18:18تو اس بدبخت نے باقاعدہ خوشی منائی
18:21یہ ہمسائیہ اور حقیقی چچا ہونے کے باوجود ایسی حرکات کا مرتقب ہوا
18:26جن کی توقع بدترین دشمن سے بھی نہیں کی جا سکتی
18:29سماجی سطح پر اس قدر کمینہ پر اختیار کیا
18:32کہ کعبہ کے بیت اللہ کے خزانچی کی حیثیت سے چڑھاوا چڑھائے جانے والے سونے کے حرن تک چرا لیے
18:40اور مکہ میں حرن چور کے لقب سے مشہور ہوا
18:42اس کی بزدلی بخل منافقت اور نجاست کو قرآن نے اس کا نام لے کر نشانہ بنایا
18:49اور اس کی بربادی کو بیان کیا
18:51یہ شخص بنی حاشم کا سردار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا چچا
18:56اور آپ کا ہمسایہ ابو لحب تھا جو اپنی روایات اور خیر کے کسی پہلو سے قطعی نہ آشنا تھا
19:03جب قریش نے دیکھا کہ ان کی تمام تر کوششوں کے باوجود اسلام قبول کرنے والوں کی تعداد بڑھ رہی ہے
19:10اور حضرت حمزہ اور حضرت عمر کے اسلام لانے کے بعد ان کے سارے منصوبے ناکام ہو چکے ہیں
19:17تو انہوں نے ایک نیا اور زیادہ سخت حربہ اپنانے کا فیصلہ کیا
19:22ابن سحاق موسیٰ بن اقبا اروہ بن زبیر ابن سعد اور دیگر معارقین کا کہنا ہے
19:28کہ جب قریش نے محسوس کیا کہ صحابہ حبشہ میں امن و سکون سے رہ رہے ہیں
19:34اور مکہ میں اسلام تیزی سے پھیل رہا ہے
19:37تو انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو قتل کرنے کی سازش کی
19:42جب اس منصوبے کی خبر حضرت ابو طالب کو ملی
19:45تو انہوں نے بنو حاشم اور بنو مطلب کو اکٹھا کیا
19:48ان دونوں قبائل نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو شعب ابو طالب میں منتقل کر دیا
19:55تاکہ آپ کو قریش کی سازشوں سے محفوظ رکھا جا سکے
20:00قریش نے اس منصوبے کی ناکامی کے بعد ایک معاہدہ تیار کیا
20:04جس کے تحت بنو حاشم اور بنو مطلب کے ساتھ
20:07ہر قسم کے تعلقات جیسے خرید و فروخت اور شادی بیاہ ممنوع قرار دیے گئے
20:13یہ معاہدہ ایک دستاویز کی صورت میں کعبہ کے اندر لٹکا دیا
20:18یہ دستاویز منصور بن اکرمہ نے لکھی
20:21اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بد دعا کے نتیجے میں
20:25اس کی انگلیاں شل ہو گئیں
20:27بعض روایات کے مطابق دستاویز لکھنے والے کا نام
20:31نظر بن حارس تلحہ بن ابی تلحہ یا بغیز بن عامر تھا
20:36تمام بنو حاشم اور بنو مطلب حضرت ابو طالب کے پاس جمع ہو گئے
20:40سوائے ابو لحب کے جو قریش کے ساتھ مل گیا تھا
20:44محرم الحرام سات نبوت سے یہ محاصرہ شروع ہوا
20:47اور تقریباً دو سے تین سال جاری رہا
20:51موسیٰ بن عقبہ کے مطابق یہ مدت تین سال پر محیط تھی
20:55ان تین سالوں کے دوران محصورین کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا
21:00بائیکارٹ اتنا سخت تھا کہ ان تک کھانے پینے کی اشیاء بھی نہیں پہنچنے دیں
21:05قریش کو جس کے بارے میں معلوم ہوتا کہ اس نے خفیہ طور پر کچھ پہنچانے کی کوشش کی ہے
21:11اسے تشدد کا نشانہ بنایا جاتا تھا
21:13کچھ بہادر افراد نے اس ظلم کے خلاف آواز بلند کی
21:17اور بائیکارٹ کی دستاویز کو ختم کرنے کی بات کی
21:20ان افراد میں حاشم بن عمرو
21:23زبیر بن ابی امیہ
21:25متعم بن عدی
21:26زمعہ بن اسود
21:28اور ابو البختری بن حشام شامل تھے
21:31جن کا بنو حاشم اور بنو متلب سے قریبی تعلق تھا
21:35ابن ابی شیبہ کی روایت کے مطابق جنگ بدر کے دن
21:38رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اعلان فرمایا
21:42کہ مشرقوں میں سے کسی کو امان حاصل نہیں
21:45سوائے ابو البختری کے
21:47اگر کوئی مسلمان اسے گرفتار کرے تو آزاد کر دے
21:51کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے امان دی ہے
21:55تاہم جب اسے ڈھونڈا گیا تو معلوم ہوا
21:57کہ وہ پہلے ہی قتل ہو چکا تھا
22:00ابن حشام بیان کرتے ہیں
22:01کہ جب بائیکارٹ کی دستاویز اتاری گئی
22:04تو یہ ظاہر ہوا کہ دیمک نے اللہ کے نام کے سوا
22:07باقی سب کچھ ختم کر دیا تھا
22:10ایک روایت میں ذکر ہے
22:11کہ محصورین کو بائیکارٹ کے دوران شدید بھوک
22:15سخت مشکلات اور مسائب کا سامنا کرنا پڑا
22:18یہاں تک کہ انہیں جھاؤ اور کی کر کے پتے کھانے پڑے
22:22حضرت سعد بن ابی وقاس رضی اللہ تعالی عنہو نے فرمایا
22:26کہ بھوک کے عالم میں ایک رات زمین پر کوئی نرم چیز محسوس ہوئی
22:31تو وہ اٹھا کر کھا لی اور آج تک معلوم نہیں
22:34کہ وہ کیا تھی
22:35ایک اور روایت میں حضرت سعد رضی اللہ تعالی عنہو فرماتے ہیں
22:39کہ انہوں نے ایک بار اونٹ کے چمڑے کا ٹکڑا ڈھونڈ کر
22:43اسے جلا کر پیسا اور اس پر تین دن گزارا
22:46جب بھی کوئی قافلہ غلا لے کر مکہ آتا
22:49اور بنو حاشم کے لوگ کچھ خریدنے جاتے
22:52ابو لہب تاجروں کے پاس پہنچ کر کہتا
22:55محمد کے ساتھیوں کو اتنا مہنگا بیچو
22:57کہ وہ کچھ نہ خرید سکیں
22:59اگر تمہیں نقصان ہوا تو میں پورا کروں گا
23:02نتیجتاً مسلمان خالی ہاتھ واپس آتے
23:05اور ان کے بچے بھوک سے تڑپتے
23:07ابو لہب بعد میں تاجروں کی باقی چیزیں خرید لیتا
23:11ابو لہب کی بیوی بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سخت دشمن تھی
23:16اور قرآن مجید میں اس کے متعلق فرمایا گیا
23:20کہ وہ اپنے شوہر کی آگ پر لکڑیاں ڈالے گی
23:23یہ اس کی دنیاوی حرکتوں کا عذاب ہوگا
23:26بعض روایات کے مطابق وہ کانٹے دار جھاڑیاں جمع کر کے
23:31آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے راستے میں ڈالتی تھی
23:34جبکہ کچھ کہتے ہیں کہ یہ اس کی چغل خوری کی طرف اشارہ ہے
23:39کیونکہ وہ کفار کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خلاف بھڑکاتی رہتی تھی
23:44ایک روایت میں آتا ہے کہ ابو لہب جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے شدید دشمنی اور نفرت رکھتا تھا
23:52اسی طرح اس کی بیوی بھی اس دشمنی اور عذا رسانی میں برابر کی شریک تھی
23:57قرآن مجید میں بیان کیا گیا ہے کہ یہ بدبخت عورت بھی اپنے شوہر کے ساتھ جہنم میں جائے گی
24:03اسے حمالت الحتب کہا گیا ہے جس کے لغوی معنی ہے لکڑیاں لادنے والی یعنی آگ لگانے والی
24:12عرب کے محاورے میں چگل خور کو بھی حمالت الحتب کہا جاتا ہے
24:17کیونکہ چگل خوری افراد اور خاندانوں کے درمیان نفرت کی آگ بھڑکاتی ہے
24:22اس عورت کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
24:27اور صحابہ قرآن کو نقصان پہنچانے کے لیے چگل خوری کرتی تھی
24:32ابن عباس مجاہد اکرما اور دیگر مفسرین نے بھی اس کی تشریح یوں کی ہے
24:38کہ یہ چگل خور تھی
24:39کچھ مفسرین جیسے ابن زید اور زحاق اس کو حقیقی معنی میں لیتے ہیں
24:45اور بتاتے ہیں کہ یہ عورت خاردار لکڑیاں جمع کر کے لاتی
24:49اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے راستے میں بچھاتی
24:53تاکہ آپ کو تکلیف پہنچے
24:55قرآن نے اس حرکت کو حمالت الحطب کے طور پر بیان کیا ہے
25:00بعض مفسرین کا کہنا ہے کہ قیامت کے دن اس کا یہ حال ہوگا
25:04کہ جہنم کے درختوں زقوم وغیرہ کی لکڑیاں اٹھا کر
25:08اپنے شوہر کی آگ کو بھڑکائے کی
25:11جیسا کہ دنیا میں وہ اس کے کفر اور ظلم کو بڑھاتی تھی
25:15صحیح حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا
25:19کہ چگل خور جنت میں داخل نہ ہوگا
25:22حضرت فضیل بن آیاز نے کہا
25:25کہ تین عامال انسان کے تمام نیک عامال کو برباد کر دیتے ہیں
25:29غیبت چگل خوری اور جھوٹ
25:31عطا بن صاحب نے حضرت شعبی سے روایت کیا ہے
25:35کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا
25:39تین قسم کے لوگ جنت میں داخل نہ ہوگے
25:42نہ حق خون بہانے والا چگل خور اور سود خور
25:46ابو لہب اور اس کی بیوی وہ بدنصیب تھے
25:49جو قریب ترین رشتے دار ہو کر بھی سب سے زیادہ دشمنی پر اترے ہوئے تھے
25:53ان کے دل رحم اور انسانیت جیسے جذبات سے خالی تھے
25:57نہ صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
26:01بلکہ عام مسلمانوں کو بھی عذیتیں پہنچانے میں کوئی قصر نہیں چھوڑتے تھے
26:07مجاہد اکرمہ اور قطادہ نے بیان کیا ہے
26:10کہ ابو لہب کی بیوی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے راستے میں کانٹے بچھایا کرتی تھی
26:16اور قیامت کے دن اس کی گردن میں مونج کی رسی ہوگی
26:20جس سے اسے گھسیٹ کر جہنم میں لے جائے جائے گا
26:23زحاق کا بیان ہے کہ ام جمیل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو
26:29غربت اور تنگ دستی کا تانہ دیتی تھی
26:31اور اپنی گردن میں رسی ڈال کر لکڑیاں لاتی تھی
26:35اسی رسی کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے اس کی گردن گھونٹ دی
26:39اور اسے حلاق کیا
26:41قیامت کے دن اس کی گردن میں آگ کی زنجیر ہوگی
26:45مجاہد اور ارواح بن زبیر کہتے ہیں
26:48کہ وہ زنجیر اس کے موں سے داخل ہو کر
26:51اس کے جسم کے نیچے سے باہر نکلے گی
26:54سعید بن مسیب کے مطابق
26:56ام جمیل کے پاس ایک قیمتی حار تھا
26:59جس کے بارے میں اس نے کہا
27:01کہ وہ اسے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مخالفت میں خرچ کرے گی
27:06قیامت کے دن اسی حار کے ذریعے اسے عذاب دیا جائے گا
27:10جب صورت لہب نازل ہوئی اس وقت ابو لہب اور اس کی بیوی زندہ تھے
27:15اللہ تعالیٰ نے خبر دی کہ وہ دونوں جہنم میں عذاب پائیں گے
27:20یعنی وہ ایمان نہیں لائیں گے اور کفر کی حالت میں مریں گے
27:24چنانچہ یہ پیش کوئی پوری ہوئی اور دونوں کفر پر حلاق ہو گئے
27:28یہ اللہ تعالیٰ کی غیب کی ایک عظیم نشانی ہے
27:32ابو لہب جنگِ بدر میں شریک نہ ہو سکا
27:35جب کفارِ مکہ شکست کھا کر واپس آئے اور جنگ کے حالات سنائے
27:40تو ابو لہب کو شدید صدمہ ہوا
27:42اس کے فوراں بعد وہ بڑی چیچک میں مبتلا ہو گیا
27:45جس سے اس کا پورا جسم گل سڑ گیا
27:48اور وہ آٹھ میں دن مر گیا
27:50عرب کے لوگ چیچک کو منحوس سمجھتے تھے
27:53اس لئے ابو لہب کے بیٹوں نے تین دن تک اس کی لاش کو ہاتھ تک نہیں لگایا
27:58جب لوگوں کے تانوں کا خوفہ تو ایک گڑھا کھود کر
28:02لاش کو لکڑیوں سے دھکیلتے ہوئے گڑھے میں ڈال دیا
28:06اور اوپر مٹی ڈال دی
28:08بعض مورخین کا کہنا ہے
28:10کہ لوگوں نے دور سے اس گڑھے میں پتھر پھینکے
28:13یہاں تک کے پتھروں نے اس کی لاش کو ڈھام دیا
28:17ناظرین مشرقینِ مکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تکلیف دینے کے لیے
28:22ان کا مزاق اڑاتے اور ان کی ذات پر حملہ کرتے تھے
28:26ان کا مقصد یہ تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تنہا کر دیں
28:31عوام الناس کے سامنے آپ کی عزت کو مجروح کریں
28:34اور آپ کو دین کی دعوت دینے سے روک دیں
28:37رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جو کہ سچائی اور عزت کے پیکر تھے
28:43اس رویے سے متاثر ہوئے بغیر ثابت قدم رہے
28:46اور اپنی دعوت کو جاری رکھا
28:48ابن سعد ابن اسحاق اور بلازری نے ان مشرقین کے نام گنوائے ہیں
28:54جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مزاق اڑایا کرتے تھے
28:58ان میں سے دو افراد کے سوا باقی سب جنگوں میں مارے گئے
29:02یا فتح مکہ سے پہلے ہلاک ہو گئے
29:05یہ بد دعا کے اثرات تھے
29:07جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے حق میں کی تھی
29:11ان بد وختوں میں ابو جہل، ابو لہب، اسود بن عبد یغوس، ولید بن مغیرہ، عاس بن وائل، اقبا بن ابی معید اور ابو سفیان شامل تھے
29:22ابو لہب جو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قریبی رشتے دار تھے
29:27لیکن اپنی عداوت میں سب سے نمائی تھے
29:29بلازری نے ایک واقعہ بیان کیا
29:32کہ باست سے قبل بھی ابو لہب اور ابو طالب کے درمیان اختلافات تھے
29:37اور ایک جھگڑے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ابو لہب کو ابو طالب سے ہٹایا تھا
29:43اپنی مخالفت کے دوران ابو لہب اکثر یہ کہتا تھا
29:46کہ اسلام ایک بری چیز ہے اور بنی عبد المطلب کو چاہیے
29:50کہ وہ خود اس کا خاتمہ کر دیں
29:52ورنہ عربوں کے درمیان زلت اٹھانی پڑے گی
29:55جب باپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی دعوت کا اعلانیہ آغاز کیا
30:00تو ابو لہب اور اس کی بیوی ام جمیل نے شدت سے پروپیگنڈا شروع کر دیا
30:05ابو لہب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے چلتا
30:10اور آپ کو پتھر مارتا اور لوگوں سے کہتا کہ آپ کی بات نہ سنیں
30:14اس دشمنی کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ نے قرآن میں ان دونوں کا ذکر کیا
30:19اور ان کے انجام کو بیان کیا
30:21ناظرین یہ وہ لوگ تھے جنہیں دنیاوی مال و دولت صحت اور آرام میسر تھے
30:26لیکن انہوں نے اپنے رب کو پہچاننے
30:29اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قدر کرنے کی بجائے
30:33شیطان کے پیروکار بن کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور مسلمانوں کو عذیتیں دیں
30:39ان کا انجام دنیا میں عبرتناک ہوا
30:41اور آخرت میں بھی ان کے لئے دردناک عذاب مقدر ہے
30:46اہل مکہ اور ابو لہب نے اسلام کے خلاف بھرپور کوششیں کی
30:50آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ڈرانے لالچ دینے اور دھمکانے کی ہر ممکن کوشش کی
30:56لیکن اللہ کے یہ مقرب نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ثابت قدم رہے
31:02اور حق بات کہنے سے کبھی نہ گھبرائے
31:04آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ قرآن نے بھی آپ کی محبت میں ہر رازمائش کو خندہ پیشانی سے قبول کیا
31:12اور ان کی قربانیوں کے نتیجے میں اسلام کی فتح ہوئی
31:16اور دشمنوں کو شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا
31:19دعا ہے کہ اللہ تعالی ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی محبت اور اسلام کی سچی پیروی عطا فرمائے
31:28آمین
31:28ناظرین یہ تھی ہماری آج کی ویڈیو
31:31ہم امید کرتے ہیں کہ آپ کو ویڈیو پسند آئی ہوگی
31:33اگر پسند آئی ہے تو لائک کریں اور اپنے دوستوں کے ساتھ شیئر کریں
31:38کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں
31:40اور ہمیں بتائیں کہ آپ اور کن موضوعات پر ہماری ویڈیوز دیکھنا چاہتے ہیں
31:44سوالات بھی پوچھ سکتے ہیں
31:46چینل کو سبسکرائب کریں اور بیل آئیکن کو دبائیں
31:48تاکہ آپ ہماری مزید ویڈیوز کا نوٹفکیشن حاصل کر سکیں
31:52کمنٹس میں لکھ کر بتائیے گا
31:54کہ کیا آپ نے یہ ویڈیو مکمل دیکھی
31:56اگر مکمل یا کمپلیٹ کا لفظ لکھیں گے
31:59تو ہمیں پتا چلے گا
32:00کہ کتنے لوگوں نے یہ ویڈیو مکمل دیکھی ہے
32:03اگلی ویڈیو تک اپنے میزبان قادر بخش کلھوڑوں کو اجازت دیجئے
32:08فی امان اللہ
32:09السلام علیکم ورحمت اللہ وبرکاتہ
Comments

Recommended