Skip to playerSkip to main content
Nabi Pak Ke Mojizzat
Voiced By: Qadir Kalhoro
#motivationalvideo #motivational #story #storytime #storytelling #storyteller #qadirkalhoro

Category

📚
Learning
Transcript
00:00بسم الله الرحمن الرحيم
00:01السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
00:04ناظرین اگرامی آج کی یہ ویڈیو موجزات نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر مبنی ہے
00:10محترم خواتین و حضرات
00:12رسول اکرم حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات اقدس موجزات کا مجموعہ ہے
00:19سابقہ انبیاء علیہ السلام کو دیئے گئے تمام موجزے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شخصیت میں یکچا ہوئے
00:28یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ہر پہلو ایک موجزہ بن گیا
00:33آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے موجزات میں سے کئی جمادات نباتات اور حیوانات سے منصوب ہیں
00:40کنکریاں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دست مبارک میں تسبیح پڑتی تھیں
00:46درخت اور پتھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود و سلام بھیجتے اور تعظیم میں جھکتے تھے
00:54ہرنیاں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اپنا زامن تسلیم کرتی تھیں
00:59اونٹ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے اپنا حال بیان کرتے تھے
01:05سیرت مبارکہ اور احادیث کی کتب میں ایسے درختوں کا ذکر بھی ملتا ہے
01:11جنہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعظیم کی اور نبوت کے مقام کو پہچانا
01:17کچھ درخت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بلانے پر زمین کو چیر کر دربار رسالت میں حاضر ہوئے
01:24اور اقرار نبوت کی سعادت پائی
01:26ناظرین اللہ تعالیٰ نے ہر نبی کو مخصوص موجزات عطا کیے
01:31لیکن سرور کائنات صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو جہاں بے شمار عملی موجزات ملے
01:37وہیں قرآن پاک کی صورت میں ایک عظیم علمی موجزہ بھی عطا فرمایا
01:43یہ ہمیشہ باقی رہنے والا موجزہ اپنی موجزانہ شان کے ساتھ آج بھی امت کے پاس محفوظ ہے
01:50ناظرین لفظ موجزہ عربی زبان میں عجز سے نکلا ہے
01:54جس کا مطلب ہے ایسی چیز جس کے سامنے عقل عاجز ہو جائے
01:59کوئی ایسا غیر معمولی واقعہ جو انسان کو حیرت میں مبتلا کر دے
02:03انبیاء کے موجزات دراصل قدرت الہی کا اظہار ہوتے ہیں
02:07ایک دفعہ مکہ کی ایک ویران گھاٹی میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا سامنا
02:13رکانہ بن عبد یزید سے ہوا جو کہ قریش کا ایک نامور پہلوان تھا
02:19نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے اسلام کی دعوت دی
02:24اس نے شرط رکھی کہ اگر آپ مجھے کشتی میں شکست دے دیں تو میں اسلام قبول کرلوں گا
02:30آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے ایک بار نہیں بلکہ دو بار کشتی میں شکست دی
02:37جس پر وہ حیران رہ گیا
02:39رکانہ نے تعجد سے کہا کہ یہ بڑی عجیب بات ہے کہ آپ نے مجھے شکست دے دی
02:44نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ میں تمہیں اس سے بھی عجیب چیز دکھا سکتا ہوں
02:51مگر شرط یہ ہے کہ تم اللہ سے ڈرو اپنی روش بدل لو اور میری پیروی اختیار کرو
02:57اس نے پوچھا کہ آپ کیا دکھانا چاہتے ہیں
03:00آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ میں اس درخت کو اپنے پاس بلاؤں گا
03:06رکانہ نے کہا کہ بلائیں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے درخت کو حکم دیا
03:11تو وہ اپنی جگہ سے چل کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا
03:16پھر آپ نے حکم دیا کہ واپس چلا جائے تو وہ واپس اپنی جگہ پر چلا گیا
03:22اسی طرح حضرت عکاشہ بن محسن رضی اللہ تعالیٰ عنہو موارکہ بدر میں بڑی دلیری سے لڑ رہے تھے
03:29کہ ان کی تلوار ٹوٹ گئے
03:31وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے
03:34تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں ایک خجور کی چھڑی عطا فرمائی
03:39اور فرمایا عکاشہ جا دشمنوں سے لڑ
03:42حضرت عکاشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہو نے اس چھڑی کو ہاتھ میں لیا
03:46اور جیسے ہی جھٹکا دیا وہ ایک لمبی تلوار بن گئی
03:51جس کی دھار تیز اور چمکدار تھی اور مضبوط بھی تھی
03:55حضرت عکاشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہو نے اس تلوار کو میدان بدر میں خوب استعمال کیا
04:01اس تلوار کا نام العون تھا
04:04اور وہ حضرت عکاشہ کے پاس ایک مدت تک رہی
04:08جس سے وہ جہاد میں اپنی شجاعت کا مظاہرہ کرتے تھے
04:12اسی طرح حضرت قطادہ بن نعمان رضی اللہ تعالیٰ عنہو نے بھی
04:16میدان عہد میں اپنی دلیری کے جوہر دکھائے
04:19جنگ کے دوران حضرت قطادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہو کی آنکھ زخمی ہو گئی
04:24اور اس کی پتلی نکل کر ان کے گال پر لٹکنے لگی
04:28حضرت قطادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہو روایت کرتے ہیں
04:32کہ جب ان کی آنکھ زخمی ہو کر گال پر لٹکنے لگی
04:35تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے
04:38اپنے دستہ مبارک سے اسے واپس آنکھ کی جگہ پر رکھ دیا
04:43اللہ کی قدرت سے وہ آنکھ نہ صرف ٹھیک ہو گئی
04:46بلکہ دوسری آنکھ کے مقابلے میں زیادہ تیز نظر اور بہتر ہو گئی
04:51حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہو فرماتے ہیں
04:55کہ میں عقبہ بن ابی معید کی بکریاں چرایا کرتا تھا
04:59ایک دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا وہاں سے گزر ہوا
05:03آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے دریافت کیا
05:07کہ اے لڑکے کیا تمہارے پاس دودھ ہے
05:09میں نے عرص کیا کہ ہاں دودھ تو ہے مگر وہ کسی کی امانت ہے
05:14اور مجھے اسے دینے کا حق نہیں ہے
05:17نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا
05:20کیا تمہارے پاس کوئی ایسی بکری ہے جو کبھی حاملہ نہ ہوئی ہو
05:24اور نہ ہی دودھ دینے والی ہو
05:26میں نے عرص کیا کہ ہاں ایسی بکری ہے
05:29پھر میں نے وہ بکری پیش کر دی
05:31نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے تھنوں پر ہاتھ پھیرا
05:35اور تھوڑی دیر تک سہلاتے رہے جس کے نتیجے میں اس کے تھنوں میں دودھ اتر آیا
05:41آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک برطن میں دودھ بھرا
05:45اور خود بھی پیا اور اپنے ساتھی حضرت ابو بکر کو بھی پلایا
05:50اس کے بعد بکری کے تھن دوبارہ پہلے کی طرح ہو گئے
05:54جیسے کہ کچھ بھی نہ ہوا ہو
05:55ایک بار ابو لہب کے بیٹے عطیبہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شان میں گستاخی کی
06:02نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے حق میں بد دعا فرمائی
06:07کہ اے اللہ اپنے کتوں میں سے کسی کتے کو اس پر مسلط کر دے
06:11اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی یہ بد دعا جلد پوری ہوئی
06:17کچھ عرصے کے بعد عطیبہ اپنے باپ ابو لہب کے ساتھ شام کے تجارتی سفر پر روانہ ہوا
06:23سفر کے دوران انہوں نے ایک مقام پر پڑا اٹھالا
06:26وہاں کے لوگوں نے بتایا کہ اس علاقے میں شیر عام بکریوں کی طرح گھومتے ہیں
06:32ابو لہب کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بد دعا یاد آگئی
06:37اور وہ فکر مند ہو گیا
06:39اس نے قافلے کے لوگوں سے کہا
06:41کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرے بیٹے کو بد دعا دی ہے
06:45اور میں اس کے لیے سخت پریشان ہوں
06:48تم سب سامان گر جا کے سہن میں جمع کر دو
06:51اور اس کے اوپر میرے بیٹے کا بستر لگا دو
06:54پھر سب اس کے گرد حصار بنا کر سو جاؤ
06:57قافلے والوں نے اس کی ہدایت پر عمل کیا
07:00رات کے وقت جب سب لوگ سو رہے تھے
07:03تو جنگل سے ایک شیر آیا
07:05اس نے قافلے کے ہر فرد کو سنگا
07:07مگر کسی کو کچھ نہ کہا
07:09وہ گستاخِ رسول کی تلاش میں تھا
07:12پھر شیر پیچھے ہٹا
07:13اور ایک بلند چھلانگ لگا کر
07:16سامان کے ڈھیر پر چڑھ گیا
07:18وہاں اس نے اتیبہ کے چہرے کو سنگا
07:21اور اسے چیر پھاڑ کر مار ڈالا
07:24اس واقعے کے بعد ابو لہب کا حال برا تھا
07:27اور وہ بار بار کہتا جا رہا تھا
07:29کہ مجھے یقین تھا
07:30کہ میرا بیٹا محمد کی بد دعا سے
07:33کبھی نہیں بچ سکے گا
07:34ناظرین فتحِ خیبر کے بعد
07:36جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
07:39کچھ اتمنان سے تشریف فرما ہوئے
07:42تو ایک یہودیہ عورت زینب بنت حارس نے
07:45نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
07:48کی قتل کی ناپاک سازش کی
07:50اس نے ایک بکری کا گوشت زہر آلودہ کر کے
07:53نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
07:56کی خدمت میں بطور حدیہ پیش کیا
07:59اس سے پہلے اس عورت نے معلوم کیا
08:01کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
08:04کو بکری کے کس حصے کا گوشت زیادہ پسند ہے
08:07اور اسے بتایا گیا
08:08کہ آپ کو دستی کا گوشت زیادہ پسند ہے
08:11اس نے دستی کے حصے کو خاص طور پر زہر آلودہ کیا
08:16اور پھر اسے اچھی طرح سے بھون کر
08:18نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
08:21کی خدمت میں پیش کر دیا
08:22آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
08:25نے دستی کا گوشت اٹھایا
08:26اور ایک نوالہ مو میں لیا
08:28مگر اسے نگلا نہیں
08:30بلکہ فوراں اگل دیا اور فرمایا
08:32کہ اس بکری کی ہڈی مجھے بتا رہی ہے
08:35کہ اسے زہر آلودہ کیا گیا ہے
08:37اس عورت کو بلائیا گیا
08:39اور اس نے اقرار کیا
08:41کہ اس نے گوشت میں زہر ملایا تھا
08:43جب اس سے پوچھا گیا
08:44کہ اس نے ایسا کیوں کیا
08:46تو اس نے جواب دیا
08:47کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
08:49نے میری قوم کے ساتھ جو معاملہ کیا
08:52وہ میرے سامنے ہے
08:53میرا ارادہ تھا
08:55کہ اگر آپ عام بادشاہوں کی طرح ہیں
08:58تو زہر کے اثر سے
08:59نعوذ باللہ حلاق ہو جائیں گے
09:01اور میں راحت پالوں کی
09:03لیکن اگر آپ واقعی نبی ہیں
09:05تو اللہ آپ کو اس کی خبر دے دے گا
09:07آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
09:10نے اس وقت اس عورت کو معاف فرما دیا
09:12مگر بعد میں اس زہر کے اثر سے
09:14حضرت بشیر بن برا رضی اللہ تعالیٰ عنہو کی شہادت ہو گئی
09:19تب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
09:22نے حضرت بشیر رضی اللہ تعالیٰ عنہو کے قصاص میں
09:25اس عورت کو قتل کرنے کا حکم دیا
09:28ناظرین غزوہ احزاب
09:30جسے جنگ خندق بھی کہا جاتا ہے
09:33ایک تاریخی موقع تھا
09:34جب خندق کی تیاری کے دوران
09:37ایک بڑا اور سخت پتھر سامنے آ گیا
09:39جسے توڑنے میں سب بیبس ہو گئے
09:42اس پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
09:45کو اطلاع دی گئی
09:47آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
09:49تشریف لائے
09:50اور خود قدال اٹھا کر پتھر پر زرب لگائی
09:53پہلی زرب سے چنگاریاں نکلیں
09:55اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
09:57نے فرمایا
09:58روم فتح ہو گیا
10:00پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
10:02نے دوسری زرب لگائی
10:07صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
10:08نے فرمایا
10:09ایران فتح ہو گیا
10:11پھر تیسری زرب لگائی
10:12چنگاریاں نکلیں
10:14اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
10:16نے فرمایا
10:17خدا کی قسم
10:18بہرین کے سرخ محلات
10:20اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا ہوں
10:22بعد میں آنے والے دنوں میں
10:24نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
10:26کی یہ پیشنگوئیاں
10:28حقیقت میں بدل گئیں
10:29روم اور ایران کے بیشتر علاقے
10:31جلد ہی اسلامی سلطنت میں شامل ہو گئے
10:34اور روم کے مختلف علاقوں پر
10:36اسلام کا پرچم لہر آیا گیا
10:38البتہ قسطنطنیہ کا شہر باقی رہ گیا
10:41جسے فتح کرنے کے لیے
10:43اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
10:46کی پیشنگوئی کو مکمل کرنے کے لیے
10:48کئی بادشاہوں نے کوششیں کی
10:50آخر کار تقریباً آٹھ سو سال کے بعد
10:53قسطنطنیہ کا یہ تاریخی شہر
10:56بھی اسلام کے زیر نگیں آیا
10:58اور یوں سچی نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
11:01کی پیشنگوئی پوری ہو گئی
11:03غزوہ خندق کے موقع پر
11:05بھوک اور افلاس کا یہ عالم تھا
11:07کہ صحابہ قرآن رضوان اللہ عنہم نے
11:10اپنے پیٹ پر پتھر باندھ رکھے تھے
11:13تاکہ بھوک کا احساس کم ہو
11:15اسی دوران ایک صحابی رضی اللہ عنہو
11:18جنہوں نے اپنے پیٹ پر باندھے گئے
11:20پتھر کا بوجھ محسوس کیا
11:22اپنے گھر گئے اور اپنی استطاعات کے مطابق
11:25مہمان نوازی کا ارادہ کیا
11:27انہوں نے ایک بکری کا بچہ زبہ کیا
11:30اور گھر والوں کو موجود آٹے سے
11:32روٹیاں پکانے کا کہہ کر
11:34نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
11:36کی خدمت میں حاضر ہوئے
11:38وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
11:40کی قریب آ کر
11:41کان میں عرض کرتے ہیں
11:43کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
11:47ساتھ سے آٹھ افراد کے لیے
11:49کھانا تیار ہے
11:50آپ اپنے چند ساتھیوں کے ساتھ
11:52تشریف لے آئیں
11:53نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
11:56ان کی دعوت قبول کرتے ہوئے
11:58ساٹھ سے ستر افراد کے ساتھ وہاں پہنچے
12:00یہ منظر دیکھ کر
12:02وہ صحابی کے چہرے پر تشویش نمائع ہو گئی
12:05کہ اتنے زیادہ افراد کے لیے
12:07اس تھوڑے سے کھانے میں
12:08کس طرح کفایت ہوگی
12:10آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
12:12نے ان کی پریشانی بھانپ لی
12:14اور انہیں تسلی دی
12:15پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
12:18نے ارشاد فرمایا
12:19کہ سالن نکالتے رہو
12:20مگر تھالی کو ہٹانے کی ضرورت نہیں ہے
12:24اور روٹی نکالتے رہو
12:25مگر اوپر سے رومال نہ ہٹاؤ
12:28معجزے کی شان یہ تھی
12:30کہ سات آٹھ افراد کے لیے
12:32تیار کردہ کھانے سے
12:33ساٹھ سے ستر افراد نے
12:35خوب سیر ہو کر کھانا کھایا
12:37جب تمام مہمان کھا کر چلے گئے
12:39تو کھانا اسی طرح سے بچا ہوا تھا
12:42جیسے پہلے رکھا گیا تھا
12:43نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
12:46کو اللہ تعالی نے
12:47معجزاتی طور پر
12:49جانوروں کی زبان سمجھنے کی
12:51صلاحیت بھی عطا فرمائی تھی
12:53ایک مرتبہ کچھ لوگ
12:54آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
12:56کی خدمتِ اقدس میں حاضر ہوئے
12:58تو ان کا ایک اونٹ بھی
13:00ان کے ہمراہ تھا
13:01اونٹ نے اپنا سر لمبا کر کے
13:03نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
13:06کے قدموں پر رکھ دیا
13:07اور اپنی زبان میں
13:09ڈکا رہا
13:10نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
13:12نے اونٹ کی شکایت کو سمجھتے ہوئے فرمایا
13:15یہ مجھ سے شکایت کر رہا ہے
13:17کہ تم اس سے زیادہ کام لیتے ہو
13:19لیکن کھانے پینے کا خیال نہیں رکھتے
13:22اور اس پر سختی بھی کرتے ہو
13:24ان لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
13:27کی بات کو سن کر
13:28اس پر عمل کیا
13:29اور اس اونٹ کو دو ماہ تک خوب کھلایا پلایا
13:33اور آرام دیا
13:34دو ماہ بعد وہ دوبارہ
13:36اسی اونٹ کو لے کر
13:37نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
13:40کی خدمت میں حاضر ہوئے
13:41اور عرض کی کہ یا رسول اللہ
13:44اس عرصے میں ہم نے اس سے کوئی کام نہیں لیا
13:47اور صرف اس کی دیکھ بھال کی ہے
13:49اب اگر آپ اجازت فرمائیں
13:51تو ہم اسے دوبارہ کام میں لائیں
13:53نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
13:55نے اونٹ کی صحت کا جائزہ لیا
13:57اور ان کو اجازت دے دی
13:59اس معجزے سے ظاہر ہوا
14:01کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
14:03نہ صرف انسانوں کے حقوق
14:05بلکہ جانوروں کے حقوق کا بھی خیال رکھتے تھے
14:08اور ان کی مشکلاتوں کو بھی سمجھتے تھے
14:11ناظرین ایک مرتبہ
14:12ایک صحابی نے
14:13نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
14:15کے لیے لکڑی کا ممبر تیار کر کے
14:18مسجد نبوی میں رکھ دیا
14:20جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
14:22پہلی مرتبہ
14:23اس نئے ممبر پر خطبہ دینے کے لیے رونق افروز ہوئے
14:27تو مسجد نبوی میں موجود خوشک درخت کا وہ ستون
14:31جس سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
14:34پہلے خطبہ دیتے وقت ٹیک لگایا کرتے تھے
14:37بلک بلک کر رونے لگا
14:39اس کے سسکنے اور بے قراری کو محسوس کرتے ہوئے
14:42نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
14:45نے خطبہ مؤخر کر دیا
14:46اور اس ستون کے پاس تشریف لائے
14:49آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
14:51نے اسے سینے سے لگایا اور اسے دلاسا دیا
14:54پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
14:56نے صحابہ اکرام سے فرمایا
14:58کہ یہ ستون میری جدائی میں غمگین ہے
15:01قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے
15:04اگر میں اسے سینے سے نہ لگاتا
15:07تو یہ قیامت تک میری جدائی کے غم میں روتا رہتا
15:10اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
15:13نے اس ستون سے مخاطب ہو کر فرمایا
15:16کیا تو پسند کرتا ہے
15:17کہ میں تجھے اسی باغ میں دوبارہ لگا دوں
15:20جہاں سے تجھے کاٹا گیا تھا
15:22تجھے سر سبز و شاداب کر دیا جائے
15:25یہاں تک کہ قیامت تک
15:26مشرق و مغرب سے آنے والے
15:29اللہ کے دوست حجاج قرام
15:31تیرا پھل کھائیں
15:32اس درخت کے تنین جواب میں گویا عرض کیا
15:35کہ اے پیکر رحمت
15:37میں تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
15:39کی لمحاتی جدائی برداشت نہیں کر سکا
15:42قیامت تک کی جدائی کیسے برداشت کروں گا
15:45اس پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
15:48نے اس سے پوچھا کہ کیا تو یہ پسند کرتا ہے
15:51کہ میں تجھے جنت میں سر سبز و شاداب درخت بنا دوں
15:55جہاں تو جنت کی بہاروں کے مزے لوٹے
15:57درخت کے اس تنین جسے
15:59ہنانا کے نام سے یاد کیا جاتا ہے
16:02اس نے یہ انعام قبول کر لیا
16:05چنانچہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
16:08کے حکم پر اس تنین کو
16:10ممبر کے قریب دفن کر دیا گیا
16:12تدفین کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
16:15نے فرمایا
16:16کہ اس نے فانی دنیا پر باقی رہنے والی آخرت کو ترجیح تھی ہے
16:21ناظرین حضرت ابو حریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہو
16:24نے ایک مرتبہ
16:25نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
16:28کی خدمت اقدس میں حاضر ہو کر
16:30عرض کی
16:30کہ میری والدہ کے لیے ہدایت کی دعا فرمائیں
16:34آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
16:36نے ان کے لیے دعا فرمائیں
16:38حضرت ابو حریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہو
16:41جب گھر واپس پہنچے
16:42تو دیکھا کہ ان کی والدہ اسلام قبول کرنے کی نیت سے غسل کر رہی تھیں
16:48غسل کے بعد انہوں نے کلمہ شہادت پڑھا
16:50اور دائرہ اسلام میں داخل ہو گئیں
16:53ناظرین اسی طرح سے
16:54ایک مرتبہ
16:55نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
16:58جمعہ المبارک کا خطبہ ارشاد فرما رہے تھے
17:01کہ ایک صحابی نے حاضر ہو کر
17:03عرض کیا
17:04کہ یا رسول اللہ
17:05مال ہلاک ہو گیا ہے
17:07اور اہل وعیال بھوکے ہیں
17:09بارش کے لیے دعا فرمائیں
17:12صاف تھا اور بادل کا کوئی نام و نشان نہ تھا
17:16نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
17:18نے دونوں ہاتھ اٹھا کر بارش کی دعا فرمائیں
17:21ابھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
17:24نے دعا سے ہاتھ نیچے نہیں فرمائے تھے
17:26کہ پہاڑوں کی طرح گھنے
17:29بادل آسمان پر چھا گئے
17:30آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
17:33ابھی ممبر سے نیچے بھی نہ آئے تھے
17:35کہ بارش شروع ہو گئی
17:37اور مسلسل آٹھ دن تک برستی رہی
17:40پھر اگلے جمعے کو وحی صحابی دوبارہ حاضر ہوئے
17:43اور عرض کی کہ یا رسول اللہ
17:45بارش کی وجہ سے راستے بند ہو گئے ہیں
17:48اور تکلیف کا سامنا ہے
17:49دعا فرمائیں کہ بارش رک جائے
17:52نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
17:54نے دوبارہ دعا فرمائی
17:56اور اللہ کے حکم سے بارش رک گئی
17:59حضرت ابو حریرہ رضی اللہ تعالیٰ
18:01انہو بیان کرتے ہیں
18:02کہ وہ چند خجوریں
18:03نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
18:06کی خدمت میں لے کر حاضر ہوئے
18:07اور برکت کی دعا کی درخواست کی
18:10نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
18:12نے وہ خجوریں
18:13اپنے ہاتھ میں لے کر دعا فرمائی
18:15اور حضرت ابو حریرہ رضی اللہ تعالیٰ
18:18انہو سے فرمایا
18:19کہ انہیں ایک برطن میں ڈال دو
18:21اور جب ضرورت ہو
18:22تو اس میں سے ہاتھ ڈال کر نکالتے رہنا
18:25مگر برطن کو کبھی
18:26الٹا کر کے خالی نہ کرنا
18:29حضرت ابو حریرہ رضی اللہ تعالیٰ
18:31انہو فرماتے ہیں
18:32کہ ان خجوروں میں اتنی برکت ہوئی
18:34کہ وہ برسوں چلتی رہیں
18:36اور کبھی ختم نہ ہوئیں
18:38یہاں تک کہ حضرت عثمان کی شہادت کے دن
18:41وہ برطن گر کر گم ہو گیا
18:43مگر جب تک وہ برطن ان کے پاس رہا
18:46اس میں سے خجوریں کبھی ختم نہیں ہوئیں
18:49ناظرین حجرت کے سفر کے دوران
18:51نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
18:54حضرت ابو بکر کے ہمراہ
18:55ام معبد کے خیمے کے قریب پہنچے
18:58ام معبد کے پاس
19:00ایک کمزور بکری تھی
19:02جس میں دودھ نہ تھا
19:03نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
19:06نے اس بکری پر
19:07اپنا دستہ مبارک فیرہ
19:09بسم اللہ پڑھا
19:11اور ام معبد کے حق میں دعا فرمائی
19:14پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
19:16نے ایک بڑے برطن میں
19:18دودھ دوہا
19:19یہاں تک کہ وہ برطن بھر گیا
19:21اسی برطن میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
19:24نے دوبارہ دودھ دوہا
19:26اور یہ دوسری مرتبہ بھی
19:28برطن لبا لب بھر گیا
19:30جس سے ام معبد اور ان کے
19:32اہل خانہ نے سیر ہو کر پیا
19:34اس سفر میں ایک دہاتی نے
19:36نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
19:38سے اسلام کی دعوت پر
19:41دلیل مانگی
19:41اس نے پوچھا کہ اس کلمے کی گواہی
19:44کون دیکھا
19:45آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
19:47نے ایک کیکر کے درخت کی طرف
19:49اشارہ کیا اور فرمایا
19:51یہ درخت اس کی گواہی دیکھا
19:53آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
19:55نے درخت کو بلایا
19:57تو وہ درخت اپنی جگہ سے چلتا ہوا
19:59آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
20:02کے سامنے آیا
20:03اور تین مرتبہ کلمے تیبہ پڑھا
20:05اسی طرح ایک اور دہاتی نے
20:07نبوت کی صداقت کی دلیل مانگی
20:10نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
20:12نے خجور کے ایک خوشے کو بلایا
20:15تو وہ نیچے آیا
20:16اور نبوت کی گواہی تھی
20:18بعد ازہاں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
20:21نے اسے واپس جانے کا حکم دیا
20:23تو وہ خوشہ واپس اپنی جگہ پر چلا گیا
20:26ناظرین خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
20:30کے موجزات بے شمار ہیں
20:32ان میں سے ایک عظیم موجزہ
20:34واقعہ میراج بھی ہے
20:35جو بزات خود ایک عظیم باب ہے
20:38ایک شاعر نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
20:41کی شان میں کیا خوب کہا ہے
20:43کہ دیئے موجزے انبیاء کو خدا نے
20:46ہمارا نبی موجزہ بن کے آیا
20:48اللہ رب العزت نے اپنی عظیم کتاب
20:51قرآن مجید میں بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
20:55کے مقام کو واضح فرمایا
20:57سورة النساء کی آیت نمبر 174 میں
21:00ارشاد باری تعالی ہے
21:01اے لوگو تمہارے پاس اللہ کی طرف سے
21:04ایک واضح دلیل آ گئی ہے
21:06اور ہم نے تمہاری طرف ایک روشن نور نازل کیا ہے
21:09آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پہلے
21:12جتنے بھی انبیاء اور رسول آئے
21:15وہ سب ایک مخصوص قوم کی ہدایت کے لیے مبعوس ہوئے
21:19اور انہوں نے اپنی قوم کو سیدھے راستے پر لانے کے لیے
21:23مختلف معجزات پیش کیے
21:25اللہ تعالی نے ہر نبی کو کچھ معجزات عطا فرمائے
21:29کسی کو ایک کسی کو دو اور کسی کو تین معجزے عطا ہوئے
21:33حضرت آدم علیہ السلام
21:35حضرت نوح علیہ السلام
21:37حضرت موسیٰ علیہ السلام
21:39اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام
21:41سب معجزات لے کر آئے
21:43مگر ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
21:46سرابہ موجزہ بن کر تشریف لائے
21:49آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
21:51کا ہر ہر عمل اور ہر عدا
21:53ایک موجزہ تھی
21:55آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
21:57کا دیکھنا موجزہ
21:58آپ کا بولنا موجزہ
22:01آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
22:03کا بیٹھنا موجزہ تھا
22:04آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات
22:07آپ کی صفات
22:08آپ کا ہر انداز موجزہ ہے
22:11اللہ تعالی نے دوسرے انبیاء کو
22:13جو موجزات عطا فرمائے
22:14وہ ان کی حيات ظاہری تک محدود تھے
22:17اور ان کا مشاہدہ صرف ان کے زمانے تک ممکن تھا
22:21ایک مرتبہ مشرقین مکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے
22:26اور کہنے لگے کہ اگر آپ اللہ کے سچی رسول ہیں
22:29تو چاند کے دو ٹکڑے کر کے دکھائیں
22:32نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا
22:35اگر میں یہ معجزات دکھا دوں تو کیا تم ایمان لے آوگے
22:40انہوں نے جواب دیا کہ اگر آپ چاند کو دو حصوں میں تقسیم کر دیں
22:44تو ہم آپ کا کلمہ پڑھ کر مسلمان ہو جائیں گے
22:47اس رات چودہ تاریخ تھی اور چاند پورے آب و تاب کے ساتھ چمک رہا تھا
22:52جیسے ہی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے
22:56اپنی انگشت مبارکہ سے چاند کی طرف اشارہ کیا
23:00تو چاند دو ٹکڑے ہو گیا
23:01یہ واقعہ مشرقین کے سامنے ہوا
23:04اور انہوں نے اپنی آنکھوں سے اس معجزے کا مشاہدہ کیا
23:08اور اس معجزے کے بارے میں آج کل سائنس کیا کہتی ہے
23:11اور مزید کیا کیا شواہد ہیں
23:13وہ آگے اسی ویڈیو میں ہم ذکر کریں گے
23:16ناظرین اسی طرح سے حضرت ابو زید انساری رضی اللہ تعالی عنہو روایت کرتے ہیں
23:22کہ ایک بار نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے
23:26انہیں اپنے قریب بلائیا
23:27اور اپنے دستہ مبارک کو ان کے سر پر داڑھی پر پھیرا
23:31اور دعا فرمائی کہ اے اللہ اسے زینت عطا فرما
23:35اور اس کے حسن و جمال کو دعام بخش راوی بیان کرتے ہیں
23:39کہ حضرت ابو زید انساری رضی اللہ تعالی عنہو نے سو سال سے زیادہ عمر پائی
23:45لیکن ان کے سر اور داڑھی کے چند ہی بال سفید ہوئے
23:49ان کا چہرہ ہمیشہ روشن اور صاف رہا
23:53اور تا دم آخر ان کے چہرے پر ایک ذرہ برابر بھی شکن ظاہر نہیں ہوئی
23:59حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہو سے روایت ہے
24:02کہ ایک انساری گھرانے میں ایک اونٹ تھا
24:05جسے وہ کھیتی باڑی کے لیے پانی بھرنے کے کام میں استعمال کرتے تھے
24:10ایک وقت ایسا آیا کہ وہ اونٹ قابو میں نہ رہا
24:13اور اس نے انسار گھرانے کو اپنی پشت پر پانی ڈالنے سے روک دیا
24:18انسار صحابہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے
24:23اور عرض کی کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
24:28ہمارا ایک اونٹ تھا جس سے ہم کھیتی باڑی کے لیے پانی بھرا کرتے تھے
24:33مگر اب وہ قابو میں نہیں آ رہا اور کوئی کام نہیں کرتا
24:37ہمارے کھیت اور باغ پانی کی کمی کے باعث سوکھ رہے ہیں
24:41نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صحابہ اکرام رضوان اللہ علیہ وآلہ وسلم سے فرمایا
24:47کہ اٹھو اور سب مل کر اس انساری کے گھر کی طرف روانہ ہوئے
24:52جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کے احاتے میں داخل ہوئے
24:57تو اونٹ ایک کونے میں کھڑا تھا
24:59نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اونٹ کی طرف بڑھے
25:03تو انساری کہنے لگے کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
25:07یہ اونٹ دیوانگی کی قیفیت میں ہے
25:10اور ہمیں خوف ہے کہ کہیں آپ پر حملہ نہ کر دے
25:13آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا
25:16کہ مجھے اس سے کوئی نقصان نہیں ہوگا
25:18جو ہی اونٹ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا
25:22تو وہ آپ کی طرف بڑھا
25:24اور قریب آ کر آپ کے سامنے سجدے میں گر گیا
25:28نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کی پیشانی کو تھپکا
25:32اور اسے دوبارہ انسار کے کام پر لگا دیا
25:35یہ منظر دیکھ کر صحابہ اکرام رضوان اللہ عنہم نے عرض کی
25:39کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
25:42یہ بے اقل جانور ہوتے ہوئے بھی آپ کو سجدہ کر رہا ہے
25:46اور ہم تو اقل مند ہیں
25:48کیا ہم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سجدہ کرنے کے زیادہ حق دار نہیں
25:53نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا
25:56کہ کسی انسان کے لیے جائز نہیں
25:58کہ وہ کسی بشر کو سجدہ کرے
26:01اور اگر بشر کو سجدہ جائز ہوتا
26:03تو میں عورت کو حکم دیتا
26:05کہ وہ اپنے شوہر کو سجدہ کرے
26:09جو شوہر کو بیوی پر حاصل ہے
26:12نظرین حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں
26:17کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عہد مبارک میں
26:21ایک بار سورج قرحن ہوا
26:23اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز قصوف
26:26یعنی قرحن کی نماز ادا کی
26:29نماز کے بعد صحابہ اکرام نے عرض کیا
26:31کہ یا رسول اللہ ہم نے دیکھا
26:33کہ آپ نے اپنی جگہ پر کھڑے کھڑے
26:35کوئی چیز پکڑنے کا ارادہ کیا
26:38پھر ہم نے یہ بھی دیکھا
26:39کہ آپ کچھ پیچھے ہٹ گئے
26:41اس کا کیا سبب تھا
26:42نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا
26:46کہ مجھے جنت نظر آئی
26:47اور میں نے اس میں سے ایک خوشہ پکڑنے کا ارادہ کیا
26:51اگر میں اسے توڑ لیتا
26:53تو تم رہتی دنیا تک اسے کھاتے رہتے
26:56اور وہ کبھی ختم نہ ہوتا
26:58ناظرین اب ہم چاند کے دو ٹکڑوں والے
27:01موجزے کا ذکر کرتے ہیں
27:05اور چند ساتھیوں کے ہمراہ
27:08نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا
27:11اور تلوار لہراتے ہوئے کہا
27:13کہ تم سے پہلے نبیوں نے موجزات دکھائے ہیں
27:16تم بھی کوئی موجزہ دکھاؤ
27:18اس پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا
27:21کیا تم موجزہ دیکھ کر ایمان لے آوکے
27:24بولو کیا دیکھنا چاہتے ہو
27:26ابو جہل کچھ سوچ میں پڑ گیا
27:28تو یہودی عالم نے کہا
27:29کہ آسمان پر جادو نہیں چلتا
27:31ابو جہل نے آسمان کی طرف دیکھا
27:34جہاں چودہی کا چاند اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ چمک رہا تھا
27:38اور کہا کہ چاند کو اس طرح سے دو ٹکڑے کر دو
27:42کہ ایک ٹکڑا جبل ابو قیس پر
27:44اور دوسرا ٹکڑا جبل قیقان پر جا پہنچے
27:47نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے
27:50اپنی انگشت شہادت سے چاند کی طرف اشارہ کیا
27:53اور چاند دو ٹکڑے ہو گیا
27:56ایک ٹکڑا جبل ابو قیس پر
27:58اور دوسرا ٹکڑا جبل قیقان پر نمودار ہوا
28:02پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دوبارہ اشارہ کیا
28:06تو چاند کے دونوں ٹکڑے آپس میں مل گئے
28:10یہ منظر دیکھ کر یہودی عالم ایمان لے آیا
28:13مگر ابو جہل نے کہا
28:14کہ محمد نے جادو سے ہماری نظر بندی کر دی ہے
28:17شق القمر کی یہ گواہی ان کافلوں کے مسافروں نے بھی دی
28:22جو اس وقت مکہ کی طرف سفر کر رہے تھے
28:25ناظرین ڈاکٹر زغلول النجار
28:27جو کنگ عبدالعزیز یونیورسٹی جدہ میں ماہرِ ارضیات کے پروفیسر تھے
28:33قرآنِ مجید میں سائنسی حقائق کمیٹی کے سربراہ
28:36اور مصر کی سپریم کانسل آف اسلامی امور کی کمیٹی کے بھی سربراہ ہیں
28:41انہوں نے ایک واقعہ بیان کرتے ہوئے کہا
28:44کہ ایک مرتبہ وہ برطانیہ کے مغرب میں
28:47کارڈف یونیورسٹی میں ایک لیکچر دے رہے تھے
28:50اس لیکچر کو سننے کے لیے مسلم اور غیر مسلم طلبہ کی بڑی تعداد موجود تھی
28:55جب وہ قرآن میں بیان کردہ سائنسی حقائق پر جامع گفتگو کر رہے تھے
29:00تو ایک نو مسلم نوجوان کھڑا ہوا
29:02اور ایک خاص آیت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے پوچھا
29:06کہ سر کیا آپ نے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان پر غور کیا ہے
29:09کیا یہ قرآن میں بیان کردہ ایک سائنسی حقیقت نہیں ہے
29:13ڈاکٹر زغلول النجار نے جواب دیا
29:16کہ نہیں سائنس حیرت انگیز اشیاء
29:19یا واقعات کی تشریح اپنے اصولوں سے کر سکتی ہے
29:23مگر معجزہ ایک معفوق الفطرت عمر ہوتا ہے
29:27جس کو سائنسی اصولوں سے ثابت نہیں کیا جا سکتا
29:30چاند کا دو ٹکڑے ہونا ایک معجزہ تھا
29:34جو اللہ تعالیٰ نے نبی محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سچائی کے لیے
29:39بطور دلیل دکھایا
29:40حقیقی معجزہ ان لوگوں کے لیے قطعی سچائی کی دلیل ہوتی ہے
29:45جو ان کا مشاہدہ کرتے ہیں
29:47انہوں نے مزید وضاحت کی
29:49کہ ہم اسے معجزہ اس لیے تسلیم کرتے ہیں
29:53کیونکہ اس کا ذکر قرآن و حدیث میں موجود ہے
29:56اگر اس کا ذکر قرآن و حدیث میں نہ ہوتا
29:59تو ہم اسے اس دور کے لوگوں کے لیے معجزہ نہیں مانتے
30:03ڈاکٹر زغلول النجار
30:05جو کنگ عبدالعزیز یونیوسٹی جدہ میں پروفیسر ہیں
30:08اور قرآن میں بیان کردہ سائنسی حقائق کمیٹی کے سربراہ بھی ہیں
30:13انہوں نے ایک واقعہ بیان کیا
30:15کہ ایک لیکچر کے دوران ایک نو مسلم نے ان سے پوچھا
30:19کہ کیا چاند کے دو ٹکڑے ہونے کا واقعہ
30:22قرآن میں ایک سائنسی حقیقت نہیں
30:24ڈاکٹر نے جواب دیا
30:25کہ موجودات کو سائنسی اصولوں سے ثابت نہیں کیا جا سکتا
30:29یہ معفوق الفطرت ہیں
30:31اور اللہ کی قدرت کا اظہار ہیں
30:33جیسے چاند کا دو ٹکڑے ہونا
30:35جو نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سچائی کی نشانی کے طور پر ظاہر ہوا
30:40پھر ڈاکٹر نے اس موجزے کا تاریخی پس منظر بیان کیا
30:45کہ مکہ کے کچھ لوگوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے موجزہ دکھانے کا مطالبہ کیا
30:51آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا
30:54کہ وہ کیا دیکھنا چاہتے ہیں
30:55انہوں نے کہا کہ چاند کے دو ٹکڑے کر دیں
30:58چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے چاند کی طرف اشارہ کیا
31:02اور چاند دو حصوں میں تقسیم ہو گیا
31:04ایک حصہ جبل ابو قیس اور دوسرا جبل قیقان پر نمودار ہوا
31:09حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں
31:13کہ سب نے اس منظر کو اپنی آنکھوں سے دیکھا
31:15اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا
31:18دیکھو یاد رکھنا اور گواہ رہنا
31:21کچھ کفار نے اسے جادو قرار دیا
31:23مگر جب مکہ کے باہر سے قافلے آئے تو ان سب نے بھی اس موجزے کی گواہی دی
31:29اس واقعے کے دوران ایک برطانوی مسلم نوجوان
31:32داؤد موسیٰ پیٹکاک کھڑے ہوئے
31:35اور بتایا کہ اسلام قبول کرنے سے پہلے انہوں نے مختلف مذہب کا متعلیہ کیا
31:40اور قرآن کی تفسیر انگریزی میں پڑھتے ہوئے
31:43سورة القمر کی آیات پر ان کی نظر پڑی
31:46انہوں نے سوچا کہ کیا چاند کے دو ٹکڑے ہونا ممکن ہے
31:49اور یہ کیسے ہوا ہوگا
31:51بعد میں ایک دن وہ ٹی وی پر ایک پروگرام دیکھ رہے تھے
31:55جس میں تین امریکی ماہری نے فلکیات سے میزبان نے سوال کیا
31:59کہ چاند پر تحقیق کا کیا فائدہ ہے
32:02ان سائنسدانوں نے بتایا کہ چاند کی ساخت کا معاینہ کرتے ہوئے
32:06انہیں ایک ایسی پٹی ملی ہے
32:08جو چاند کو ایک طرف سے لے کر دوسری طرف تک کاٹتی ہے
32:14اور اس سے یہ ثابت ہوتا ہے
32:16کہ کسی وقت چاند کے دو ٹکڑے ہوئے تھے
32:18اور پھر جڑ گئے
32:20یہ بات سن کر دعوت موسیٰ حیران ہو گئے
32:23اور ان کے دل میں آیا
32:24کہ اللہ نے مسلمانوں کے موجزے کو ثابت کرنے کے لیے
32:28امریکیوں کو استعمال کیا
32:30انہوں نے سوچا کہ یہ مذہب واقعی سچا ہے
32:33اور پھر سورہ قمر کو دوبارہ پڑھا
32:36یہ آیات ان کے اسلام قبول کرنے کا سبب بن گئیں
32:39ناظرین اسلام قبول کرنے سے قبل
32:42حضرت عامر رضی اللہ تعالیٰ عنہو
32:44ایک بھت کی عبادت کیا کرتے تھے
32:47ان کی بیٹی فالج اور جزام جیسی بیماریوں میں مبتلا تھی
32:51اور چلنے پھرنے سے معذور تھی
32:53حضرت عامر رضی اللہ تعالیٰ عنہو
32:55اپنے بھت کے پاس بیٹھتے
32:57اور اپنی بیمار بیٹی کو
32:59اس کے سامنے بٹھا کر کہتے
33:01کہ میری یہ بیٹی بیمار ہے
33:03اس کا علاج کر دے
33:04اگر تیرے پاس شفا ہے
33:06تو اسے مصیبت اور بیماری سے نجات دے
33:09سالوں تک وہ اپنے بھت سے
33:11اسی حاجت کی برعاری کے لیے دعا کرتے رہے
33:15مگر اس بھت نے کوئی جواب نہ دیا
33:17اور ان کی بیٹی کی حالت میں
33:19کوئی بھی تبدیلی نہیں آئی
33:21بلاخر اللہ تعالیٰ کی رحمت اور
33:23خدایت کی ہوا چلی اور
33:25حضرت عامر رضی اللہ تعالیٰ عنہو
33:27کو حقیقت کا ادراک ہوا
33:29انہوں نے اپنی آئلیا سے کہا
33:31کہ کب تک ہم اس بہرے اور گونگے پتھر کی
33:34عبادت کرتے رہیں گے
33:36جو نہ سنتا ہے نہ بات کرتا ہے
33:38میں ایسے دین حق نہیں سمجھتا
33:41ان کی اہلیا نے جواب میں
33:42ارز کیا کہ آپ ہمیں
33:44کسی صحیح راستے پر لے چلیں
33:46امید ہے کہ ہم حق کو پا لیں گے
33:48یقیناً اس مشرق و مغرب کا
33:50کوئی نہ کوئی حقیقی خدا ہوگا
33:53حضرت عامر رضی اللہ تعالیٰ عنہو
33:55ایک روز اپنے گھر کی چھت پر
33:57بدھ کے سامنے بیٹھے ہوئے تھے
33:58کہ اچانک انہوں نے ایک نور دکھا
34:01جس نے تمام آفاق
34:03کو بھر دیا اور ساری
34:05کائنات کو روشنی سے منور کر دیا
34:07اللہ تعالیٰ نے ان کی
34:09بصیرت سے پردے ہٹا دئیے
34:11تاکہ وہ حقیقت کا مشاہدہ
34:13کر سکیں اور خواب غفلت
34:15سے بیدار ہو جائیں انہوں نے دیکھا
34:17کہ فرشتے قطار در قطار
34:19ایک گھر کے گرد جمع ہیں
34:21پہاڑ سجدہ ریز ہیں
34:23زمین خاموش اور ساکن ہے
34:25درخت جھکے ہوئے ہیں
34:27ہر طرف خوشی اور
34:29مسررت کا سما ہے پھر ایک آواز
34:31سنائی دی ہدایت دینے والے
34:33نبی محترم حضرت محمد
34:35صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
34:37کی ولادت ہو گئی ہے اس واقعے
34:39کے بعد حضرت عامر
34:41رضی اللہ تعالیٰ انہو اپنے
34:42بدھ کے پاس آئے تو انہوں نے دیکھا
34:45کہ بدھ اوندھا پڑا ہوا ہے
34:47حیرانی میں انہوں نے اپنی بیوی
34:49سے پوچھا یہ کیا ہو رہا ہے
34:51کس چیز کا ظہور ہو رہا ہے
34:53یہ کیسی خوشخبری سنائی دے رہی ہے
34:55پھر حضرت عامر
34:56رضی اللہ تعالیٰ انہو نے بدھ کو غور سے
34:59دیکھا تو وہ بدھ کہہ رہا تھا
35:01توجہ سے سنو ایک بہت بڑی
35:03خبر کا ظہور ہو چکا ہے
35:05اور وہ یہ کہ آج وہ ہستی
35:07دنیا میں تشریف لے آئی ہے
35:08جو کائنات کو شرف بخشے کی
35:11نبی آخر الزمان صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
35:14تشریف لا چکے ہیں جن کا
35:16صدیوں سے انتظار کیا جا رہا تھا
35:19یہ وہ نبی ہیں جن سے
35:21حجر و شجر بات کریں گے
35:23چاند ان کی خاطر دو ٹکڑے ہوگا
35:25اور وہ نبی ربیع
35:27بنی مذر کے سردار ہیں
35:29یہ سن کر حضرت عامر
35:31رضی اللہ عنہو نے حیرانی سے
35:33اپنی زوجہ سے کہا کیا تم
35:35سن رہی ہو یہ بے جان پتھر
35:37کیا کہہ رہا ہے ان کی زوجہ نے
35:39عرض کیا کہ اس سے مولود
35:41محترم کا اس میں گرامی تو
35:43دریافت کریں حضرت عامر
35:44رضی اللہ عنہو نے بدھ سے سوال
35:47کیا کہ اے غیبی آواز
35:49جو اس سخت پتھر کی زبان
35:51سے گفتگو کر رہی ہے تجھے
35:53اس ذات کی قسم جس نے تجھے
35:55قوتِ گویائی عطا فرمائی یہ
35:57تو بتا کہ اس پیدا ہونے والی
35:59ہستی کا اس میں گرامی کیا ہے
36:01تب آواز آئی حضرت
36:03محمد صلی اللہ علیہ وآلہ
36:05وآلہ وسلم جو صاحب
36:07زمزم و صفہ یعنی
36:09حضرت اسماعیل علیہ السلام
36:11کی اولاد سے ہیں آپ صلی اللہ
36:13علیہ وآلہ وسلم کی سرزمین
36:15توہامہ ہے اور آپ صلی اللہ
36:17علیہ وآلہ وسلم کے دونوں
36:19کندھوں کے درمیان مہرے
36:20نبوت موجود ہے شدید
36:22دھوپ میں بادل آپ صلی اللہ
36:24علیہ وآلہ وسلم پر
36:26سایہ فگن رہے گا حضرت
36:28عامر رضی اللہ تعالی عنہ نے
36:30اپنی اہلیہ سے کہا کہ چلو
36:32ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ
36:34وآلہ وسلم کی تلاش میں نکلیں
36:36تاکہ ان کے سبب ہم راہ حق
36:38پا سکیں ابھی وہ دونوں میاں بیوی
36:40گفتگو ہی کر رہے تھے کہ اچانک
36:42ان کی بیٹی جو نیچے گر کر
36:44بیمار پڑی ہوئی تھی چھت پر
36:46ان کے پاس آ کھڑی ہوئی اور
36:48انہیں اس کا علم بھی نہ ہوا
36:50حضرت عامر رضی اللہ تعالی عنہ
36:52نے اپنی بیٹی کو دیکھ کر حیرت سے
36:54پوچھا اے بیٹی کہاں گیا
36:56تیرا وہ درد اور بیماری جس میں
36:58تو ہمیشہ مبتلا تھی اور
37:00کہاں گیا تیرا بے قراری کی وجہ سے
37:02راتوں کو جاگنا بیٹی نے
37:04جواب دیا اے میرے والد
37:06محترم میں نے خواب دیکھا
37:08کہ میرے سامنے ایک نور ہے
37:10اور ایک شخص میرے قریب آیا
37:12میں نے اس سے پوچھا یہ نور کس کا ہے
37:14جو میں دیکھ رہی ہوں
37:16اور یہ شخص کون ہے جس کا نور
37:18مجھ پر چمک رہا ہے
37:19مجھے جواب ملا کہ یہ نور بنی
37:22عدنان کے سردار
37:24صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ہے
37:26جن سے ساری کائنات
37:28معتر ہو گئی ہے
37:30میں نے پوچھا ان کا اسم گرامی
37:32کیا ہے جواب ملا
37:34کہ ان کا مبارک نام محمد
37:36اور احمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
37:39ہے جو قیدیوں
37:40اور مصیبت زدوں پر رحم فرمائیں گے
37:43اور مجرموں کو معاف کریں گے
37:45میں نے پوچھا
37:46کہ ان کا دین کیا ہے
37:47جواب ملا دین حنیف
37:50میں نے پوچھا
37:51ان کا نصب کیا ہے
37:52جواب ملا قریشی عدنانی
37:54میں نے پوچھا
37:55یہ کس کی عبادت کریں گے
37:57جواب ملا
37:58خدا وحدہ لا شریک کی
38:00میں نے پوچھا
38:01اے مجھ سے مخاطب ہونے والے
38:03تو کون ہے
38:04جواب ملا
38:05میں ان کی آمد کی بشارت دینے والے
38:07فرشتوں میں سے ایک ہوں
38:09میں نے فرشتے سے کہا
38:10کہ جو دکھ درد میں میں مبتلا ہوں
38:13اس کے بارے میں تیرا کیا خیال ہے
38:15اس نے جواب دیا
38:16بارگاہ رب العزت میں
38:18ان کی عظمت
38:20اور جاہو مرتبے کا وسیلہ پیش کرو
38:22کہ اللہ نے خود ارشاد فرمایا ہے
38:25کہ میں نے اپنا راز
38:26اور اپنی برہان
38:28ان کو ودیت کر دی ہے
38:29اب جو بھی ان کے وسیلے سے
38:32مجھ سے دعا کرے گا
38:33میں اسے قبول کروں گا
38:35اور قیامت کے دن
38:36اپنے نافرمان کے حق میں بھی
38:39ان کی شفاعت قبول کروں گا
38:41پس میں نے اپنے ہاتھ پھیلا دیے
38:43اور اللہ پاک کی بارگاہ میں
38:45آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
38:47کے مرتبے کمال کا وسیلہ دے کر
38:50دعا کی
38:50اور پھر اپنے ہاتھ
38:52اپنے جسم پر پھیر لیے
38:53اب جب کہ میں بیدار ہوئی
38:55تو بالکل تندرست ہو چکی تھی
38:57جیسا کہ آپ مجھے
38:59اب دیکھ رہے ہیں
39:00حضرت عامر رضی اللہ تعالیٰ عنہ
39:02نے اپنی زوجہ سے کہا
39:03کہ یقیناً اس نو مولود
39:05مسعود صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خبر
39:08خوش آئندہ اور دل آویز ہے
39:11ہم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی
39:13عجیب و غریب نشانیاں سن
39:15اور دیکھ رہے ہیں
39:16میں ضرور ان کی محبت میں
39:18وادیاں اور گھاٹیاں عبور کرتا ہوا
39:21ان کی بارگاہ تک پہنچوں گا
39:23چنانچہ حضرت عامر رضی اللہ تعالیٰ عنہ
39:26اپنی بیوی کے ساتھ
39:27قافلے کے ہمراہ گھر سے نکل کھڑے ہوئے
39:30اور مکہ مکرمہ پہنچے
39:32وہاں پہنچ کر حضرت عامنا صلی اللہ علیہ کے گھر کا پتہ پوچھا
39:37اور پھر دروازے پر دستک دی
39:39حضرت عامنا صلی اللہ علیہ نے دروازے پر آ کر فرمایا
39:43میں ہر گز سہستی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو باہر نہیں نکالوں گی
39:49کیونکہ مجھے یہودیوں کی طرف سے نقصان پہنچائے جانے کا خوف ہے
39:53حضرت عامر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ارز کی
39:56کہ ہم تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی محبت میں
40:00اپنے وطن سے جدا ہوئے ہیں
40:01آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حسن و جمال کی زیارت کے لیے
40:06اپنا دین ترک کیا ہے
40:08اور اپنے بدنوں کو تھکاوٹ سے چور کیا ہے
40:11حضرت عامنا صلی اللہ علیہ کچھ دیر کے لیے دروازے سے ہٹیں
40:16اور پھر واپس آ کر انہیں اندر آنے کی اجازت دی
40:19جب حضرت عامر رضی اللہ تعالیٰ عنہ
40:22اور ان کے ساتھیوں نے اجازت پا کر
40:24شرف باریہ بھی حاصل کیا
40:27اور انوار حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مشاہدہ کیا
40:31تو بے اختیار تکبیر اور تحلیل کے نعرے
40:36ان کی زبانوں پر جاری ہو گئے
40:38جب حضرت عامنا صلی اللہ علیہ نے
40:41چہرہ مبارک سے نقاب ہٹایا
40:43تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چہرہ اقدس سے
40:47ایسی روشنی نمودار ہوئی
40:49کہ اس کی کرن آسمان تک پہنچ گئیں
40:52یہ دیکھ کر وہ سب خوشی و مسرت سے بے خود ہو گئے
40:56اور قریب تھا کہ رعب و دب دبے سے بے ہوش ہو جاتے
41:00لیکن سنبھل گئے
41:01اور آگے بڑھ کر قدم بوسی کی سعادت حاصل کی
41:04اور نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ایمان لے آئے
41:09حضرت عامنا صلی اللہ علیہ نے ان سے فرمایا
41:12کہ جلدی کرو
41:13کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دادا
41:16حضرت عبد المطلب رضی اللہ تعالیٰ عنہو نے وعدہ لے رکھا ہے
41:21کہ میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو لوگوں سے چھپا کر رکھوں گا
41:26اور آپ کے مقام کو مخفی رکھوں گا
41:28اس سعادت کی لذت کو محسوس کرتے ہوئے
41:31حضرت عامر رضی اللہ تعالیٰ عنہو نے بے خودی میں اپنا ہاتھ دل پر رکھا
41:36اور کہا
41:36مجھے دوبارہ حضرت عامنا کے در دولت پر لے چلو
41:40ان سے دوبارہ رخ مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زیارت کی بھیک مانگتے ہیں
41:46چنانچہ ان کے ساتھ ہی ان کی بے قراری دیکھ کر واپس چل پڑے
41:50حضرت عامر رضی اللہ تعالیٰ عنہو جب دوبارہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھنے پہنچے
41:56تو دوڑ کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قدمین شریفین سے لپٹ گئے
42:01اور اسی وقت اس دنیا سے کوچھ کر گئے
42:04اللہ تعالیٰ نے ان کی روح کو جنت میں پہنچا دیا
42:08اسی طرح ایک اور واقعہ غزوہ خیبر کے موقع پر پیش آیا
42:12ایک یہودی چروہہ جو بکریاں جرا رہا تھا
42:15مسلمانوں کی لشکر کے قریب آیا
42:17اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ملاقات کی خواہش ظاہر کی
42:22جب اسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خیمے کی طرف اشارہ کیا گیا
42:27تو وہ حیران تھا کہ اتنے بڑے سردار ایک سادہ خیمے میں کیسے ہو سکتے ہیں
42:32وہ اندر گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھا کہ آپ کا پیغام کیا ہے
42:38نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے اسلام کی دعوت دی
42:43اور چروہے نے کہا کہ اگر میں اسلام قبول کرلوں تو میرا کیا رتبہ ہوگا
42:48آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ اسلام لانے کے بعد تم ہمارے بھائی بن جاؤگے
42:54اور ہم تمہیں گلے لگا لیں گے
42:56چروہے نے حیرت سے کہا کہ آپ مجھ جیسے ایک سیاہ فام اور بدبودار چروہے کو گلے لگائیں گے
43:04آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہاں ہم تمہیں گلے لگائیں گے
43:09اور اللہ تمہارے جسم کی بدبو کو خوشبو سے تبدیل کر دیکھا
43:13چروہہ کلمہ شہادت پڑھ کر مسلمان ہو گیا
43:16پھر اس نے پوچھا کہ اب میں کیا کروں
43:19نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا
43:22اس وقت صرف جہاد فرض ہے
43:24چروہے نے کہا کہ اگر میں شہید ہو جاؤں تو کیا آپ میری زمانت لیتے ہیں
43:29آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا
43:32میں گواہی دیتا ہوں کہ اگر تم شہید ہوئے
43:35تو اللہ تمہیں جنت میں داخل کرے گا
43:38اور تمہاری بدبو کو خوشبو میں اور سیاہی کو سفیدی میں بدل دے گا
43:43پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا
43:46یہ بکریاں واپس کراؤ کیونکہ یہ تمہارے پاس امانت ہیں
43:50چروہہ بکریاں واپس کرایا
43:53اور جنگ میں شامل ہوا اور شہید ہو گیا
43:56جب جنگ ختم ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے
44:00اس چروہے کی شہادت کو دیکھا اور فرمایا
44:03تم اسے نہیں پہچانتے مگر میں جانتا ہوں
44:06کہ یہ جنت میں ہے
44:08ملائکہ اس کو غسل دے رہے ہیں
44:10اور اس کی سیاہی سفیدی میں
44:12اور بدبو خوشبو میں تبدیل ہو چکی ہے
44:15حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں
44:19کہ ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ سفر میں تھے
44:24جب ایک دہاتی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا
44:29نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے اسلام کی دعوت دی
44:33دہاتی نے سوال کیا
44:34کہ کیا آپ کی نبوت پر کوئی گواہ بھی ہے
44:38نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے
44:41ایک درخت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا
44:44ہاں یہ درخت میری نبوت کی گواہی دے گا
44:47آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے درخت کو بلایا
44:50اور وہ درخت زمین کو چیرتا ہوا
44:53آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ اقدس میں حاضر ہو گیا
44:58اور تین مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نبوت کی گواہی دی
45:03درخت کا یہ معجزہ دیکھ کر دہاتی حیران رہ گیا
45:06اور فوراں مسلمان ہو گیا
45:08پھر اس نے عقیدت سے عرض کیا کہ یا رسول اللہ مجھے اجازت دیجئے
45:13کہ میں آپ کو سجدہ کروں
45:15آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا
45:18اگر خدا کے سوا کسی کو سجدہ کرنے کا حکم ہوتا
45:23تو میں عورت کو حکم دیتا
45:25کہ وہ اپنے شوہروں کو سجدہ کریں
45:27اس کے بعد دہاتی نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دستہ مبارک کو بوسا دینے کی اجازت طلب کی
45:34جسے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بخوشی اجازت دے دی
45:39حضرت جابر رضی اللہ تعالی عنہ سے بھی ایک واقعہ منقول ہے
45:43کہ ایک سفر کے دوران نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو استنجا کے لیے پردے کی ضرورت پیش آئی
45:51مگر وہاں کوئی آر نہیں تھی
45:53میدان میں دو درخت تھے جو کافی فاصلے پر تھے
45:57آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک درخت کی شاخ تھامے
46:01اور اسے چلنے کا حکم دیا تو وہ درخت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ چلنے لگا
46:08پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دوسرے درخت کی شاخ پکڑ کر اسے بھی چلنے کا اشارہ دیا
46:15تو وہ بھی آپ کے ساتھ چل پڑا
46:17دونوں درخت مل گئے اور یوں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کی آر میں اپنی حاجت رفع کی
46:25بعد میں دونوں درخت آپ کے اشارے پر اپنی اپنی جگہ واپس چلے گئے
46:30امام ترمزی نے حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کی ہے
46:36کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا
46:39کہ مکہ مکرمہ میں ایک پتھر ہے جو مجھے باست کی راتوں میں سلام کیا کرتا تھا
46:46اور میں اسے اب بھی پہچانتا ہوں
46:49ناظرین رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
46:52اللہ کے محبوب ترین نبی ہیں
46:54آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شان نبوت ایسی ہے
46:58کہ جہاں سے بھی گزرتے انسان اور غیر انسانی قوتیں بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر سلام اور درود بھیجا کرتی تھیں
47:07یہ اللہ تعالیٰ کی اپنے محبوب نبی سے محبت کا اظہار ہے
47:11کہ وہ خود بھی اپنے نبی پر درود و سلام بھیجتا ہے
47:15اور اپنی مخلوقات کو بھی اس عمل کی ہدایت فرمائی ہے
47:19لیکن انسان ایسا ناقدرہ ہے
47:21کہ بعض اوقات اللہ کی اس ہدایت پر عمل کرنے کی بجائے بحث میں علج جاتا ہے
47:26درود و سلام کی حکمت اور فضیلت ہر شخص کی بھلائی کے لیے ہے
47:31یہ ہر انسان کی زندگی کا بہترین عمل ہے
47:34جو اسے عشق نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بھر سکتا ہے
47:39لہذا آپ بھی ایک مرتبہ درود شریف پڑھ کر اس ویڈیو کو شیئر کر دیں
47:44تاکہ دوسرے لوگ بھی اس میں شامل ہوں
47:46اور درود پاک کمنٹس میں بھی ضرور تحریر کر دیں
47:49ناظرین احادیث مبارکہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ایسے موجزات بھی موجود ہیں
47:56جن میں درختوں اور پتھروں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سلام کیا
48:01مولا علیہ السلام بیان کرتے ہیں
48:03کہ جب ہم مکہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ تھے
48:08اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مکہ کے گرد و نواہ میں تشریف لے گئے
48:13تو جو پتھر اور درخت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے آتا
48:18وہ کہتا
48:19يا رسول اللہ آپ پر سلام ہو
48:21امام بحقی نے حضرت عباد رضی اللہ تعالی عنہ سے بھی روایت کیا ہے
48:26کہ مولا علی علیہ السلام نے فرمایا
48:29کہ جب بھی ہم کسی وادی میں داخل ہوتے
48:32اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
48:36جس بھی درخت یا پتھر کے پاس سے گزرتے
48:39تو وہ کہتا
48:40السلام علیکہ يا رسول اللہ
48:43اور میں یہ سب سن رہا ہوتا
48:45ناظرین سیرت کی کتابوں میں یہ واقعہ بھی ملتا ہے
48:48کہ اردن کے شمالی سہرہ میں ایک درخت ایسا بھی ہے
48:52جو گزشتہ چودہ سو سال سے آج بھی ہرا بھرا ہے
48:57اور اس کے بارے میں بتایا جاتا ہے
48:59کہ اس درخت کے نیچے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آرام فرمایا تھا
49:05اس درخت کے ارد گرد سیکڑوں کلومیٹر تک کوئی درخت یا پودا نہیں ہے
49:10اور یہ درخت تنہا لکودک سہرہ میں کھڑا ہے
49:14جو اس بات کا ثبوت ہے
49:16کہ اللہ نے اس درخت کو آج بھی قائم رکھا ہے
49:19اس درخت کو جو عزاز حاصل ہے
49:22وہ کسی اور درخت کو نہیں
49:24جس کی وجہ سے اسے صحابی درخت بھی کہا جاتا ہے
49:28اور یہ اللہ کی قدرت ہے
49:30کہ یہ درخت صدیان گزر جانے کے بعد بھی صحیح السلامت ہے
49:35روایت ہے کہ اس درخت کے نیچے کوئی نہیں جا سکتا تھا
49:39اور جو بھی اس کے نیچے جانے کی کوشش کرتا
49:42وہ خوف زدہ ہو کر بھاگ جاتا
49:44عیسائی اس بات پر یقین رکھتے تھے
49:46کہ اس درخت کے نیچے صرف نبی آخر الزمہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ٹھہریں گے
49:53اس درخت کے قریب ہی ایک گرجہ گھر تھا
49:56جہاں ایک خانقہ میں بحیرہ نامی انجیل کا بہت بڑا عالم مقیم تھا
50:02یہ اس علاقے میں بڑی قدر و منزلت سے دیکھا جاتا تھا
50:05بحیرہ ایک گوشہ نشین شخص تھا
50:08اپنی خانقہ سے باہر نہیں نکلتا تھا
50:11اور شہر کے لوگوں سے اس کے روابط بالکل نہیں تھے
50:15اس کی تحقیق تھی کہ ادھر سے نبی آخر الزمہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا گزر ہوگا
50:22لہٰذا وہ یہاں آنے جانے والے ہر قافلے کو کھڑکی سے بغور دیکھا کرتا تھا
50:28مگر اسے وہ ہستی نظر نہ آتی جس کی اسے تلاش تھی
50:32لیکن ایک دن ایسا ہوا کہ ایک عرب سے آیا ہوا قافلہ وہاں رکا
50:37بحیرہ نے اپنی خانقہ کی کھڑکی سے ایک حیرت انگیز منظر دیکھا
50:42اس نے دیکھا کہ سامنے درخت کے نیچے ایک بارہ سالہ لڑکا بیٹھا ہے
50:46درخت کی شاخیں اسے دھوپ سے بچانے کے لیے اس پر جھکی جا رہی ہیں
50:52اور جب وہ لڑکا اٹھ کر دھوپ میں گیا
50:54تو بادل کا ایک ٹکڑا اس پر سایہ فگن ہو گیا
50:57سالہ سال کی تحقیق اور اس کے علم کے مطابق
51:01اسے اسی دن اور اسی ہستی کا انتظار تھا
51:05وہ بڑی تیزی سے اپنی خانقہ سے باہر نکلا اور قافلے میں گھس گیا
51:09قافلے کے تمام لوگ اپنے اپنے کاموں میں مصروف تھے
51:12بحیرہ ان لوگوں سے مخاطب ہوا
51:15کہنے لگا کہ آپ لوگ خانقہ تشریف لے چلیں
51:18میری طرف سے آپ تمام لوگوں کی دعوت ہے
51:21اور کھانے کا احتمام کیا گیا ہے
51:23قافلے کے تمام لوگ ایک دوسرے کا موں دیکھنے لگے
51:26گویا نگاہیں ایک دوسرے سے پوچھ رہی تھیں
51:29کہ ہم لوگ کئی بار یہاں آئے
51:31ٹھہرے اور چلے بھی کہے
51:33لیکن بحیرہ نے کبھی نہیں پوچھا
51:35آج وہ کیوں اتنا مہربان ہو رہا ہے
51:37بہرحال کیا کرتے
51:39تمام لوگوں نے اس کی دعوت قبول کی
51:41اور بحیرہ کی رہنوائی میں اس کی خانقہ کی طرف روانہ ہو گئے
51:46بحیرہ نے سب کا پرتپاک خیر مقدم کیا
51:49بولا کہ بھائیو میں چاہتا ہوں
51:51کہ آج تم سب میرے ساتھ کھانا کھاؤ
51:54اور تم میں سے کوئی بھی رہ نہ جائے
51:57اہلِ قافلہ بولے کہ ہم سب تو آگئے ہیں
51:59ہاں ایک چھوٹا لڑکا بھی ہمارے ساتھ تھا
52:02جسے ہم وہیں درخت کے نیچے چھوڑ آئے ہیں
52:05بحیرہ نے کہا کہ نہیں نہیں
52:06لڑکا ہے تو کیا ہوا
52:08اس کو بھی بلاؤ وہ بھی یہیں ہمارے ساتھ کھانا کھائے گا
52:11اس سے سب کی حیرانی اور بھی بڑھ گئی
52:14کہ ایک تو یہ خلاف معمول دعوت
52:17اور اس پر یہ بھی اسرار
52:18کہ کوئی رہ نہ جائے
52:20چنانچہ انہوں نے پوچھا کہ بحیرہ کیا بات ہے
52:23کہ آج آپ نے ہماری دعوت کی ہے
52:25اس سے پہلے تو کبھی نہیں کرتے تھے
52:27بحیرہ نے کہا کہ آپ لوگ مہمان ہیں
52:30ہمارے پڑوس میں آ کر ٹھہرے ہیں
52:32ہم پر آپ کا حق ہے
52:34ہمیں اس کا خیال کرنا چاہیے
52:38خاطر تواز ہو جائے
52:39اور کیا بات ہو سکتی ہے
52:41لوگوں نے کہا کہ بخدا ضرور کوئی بات ہے
52:44چنانچہ بحیرہ نے ایک شخص کو
52:46حضرت ابو طالب کے ڈیرے پر بھیجا
52:48جو وہاں جا کر محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
52:52کو ساتھ لے کر آیا
52:53بحیرہ اور تمام مہمان بیٹھے
52:56اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
52:58کا انتظار کر رہے تھے
53:00بحیرہ کی نظریں محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
53:04پر پڑی تو جم کر رہ گئی
53:06اور وہ ٹک ٹکی لگائے
53:08آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
53:10کو دیکھتا ہی رہا
53:11سب نے کھانا کھایا اور ادھر ادھر پھیل گئے
53:14کوئی چہل قدمی کر رہا تھا
53:16تو کوئی گھوم گھوم کر بحیرہ کا
53:18گرجہ گھر دیکھ رہا تھا
53:19اس وقت بحیرہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
53:23کے پاس آیا اور بولا کہ بیٹا
53:25تمہیں لا تو عزا کی قسم
53:27جو کچھ پوچھوں بتلا دینا
53:29آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا
53:32لا تو عزا کی قسم نہ دیجئے
53:34بحیرہ نے کہا
53:35اچھا خدا کی قسم
53:37جو کچھ پوچھوں سب بتلا دینا
53:39آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا
53:42پوچھئے کیا پوچھتے ہیں
53:44اب بحیرہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے
53:47آپ ہی کے بارے میں مختلف سوال کرنے لگا
53:51کچھ مزاج اور طبیعت کا حال پوچھا
53:53کچھ عادت و اخلاق کے بارے میں دریافت کیا
53:56اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
53:59اس کے ہر سوال کا جواب دیتے رہے
54:01اتنے میں آپ کے چچا ابو طالب
54:04آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو لینے آگئے
54:07بحیرہ نے پوچھا
54:09یہ لڑکا تمہارا کون ہوتا ہے
54:11ابو طالب نے کہا یہ میرا بیٹا ہے
54:13بحیرہ بولا یہ کیسے ہو سکتا ہے
54:15میرے علم کے مطابق یہ تمہارا بیٹا نہیں ہو سکتا
54:19اس لڑکے کا باپ زندہ ہو
54:21یہ ہو ہی نہیں سکتا
54:23حضرت ابو طالب نے
54:24آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بارے میں
54:27بحیرہ کی معلومات دیکھیں
54:29تو دنگ رہ گئے
54:30بولے ہاں یہ میرا بھتیجہ ہے
54:32بحیرہ نے کہا
54:33اور اس کا باپ ابو طالب بولے
54:35کہ ابھی یہ ماں کے پیٹ میں ہی تھا
54:38کہ باپ کا انتقال ہو گیا
54:40بحیرہ بولا تم نے سچ کہا
54:42تمہارا یہ بھتیجہ ایک عظیم انسان ہو گا
54:46اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ہاتھ پکڑ کر
54:49با آواز بلند کہنے لگا
54:51یہ سرکار دو عالم ہیں
54:54ان کے رسول ہیں
54:55اللہ نے انہیں رحمت للعالمین
54:58بنا کر مبعوث فرمایا ہے
54:59اہل قافلہ بحیرہ کی یہ باتیں سن کر
55:02حیرت و تعجب میں ڈوب گئے
55:04قافلے میں سے ایک قریشی رئیس نے پوچھا
55:07اے محترم بزرگ
55:08آپ کو یہ بات کیسے معلوم ہوئی
55:10بحیرہ نے جواب دیا
55:11کہ جب آپ لوگ آ رہے تھے
55:13تو میں دیکھ رہا تھا
55:14کہ تمام درخت اور پتھر
55:17ان کے سامنے سجدہ کر رہے تھے
55:19اور ایک بدلی ان کے سر پر سایہ کیے ہوئے تھی
55:23اور جب قافلہ اس درخت کے نیچے براجمان ہوا
55:26تو محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
55:29اس جگہ تھے جہاں اس درخت کا سایہ ختم ہو جاتا ہے
55:32تو اس درخت نے فوراں جھک کر
55:35آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سر اقدس پر سایہ کر دیا
55:39یہ خصوصیت صرف انبیاء اکرام کو حاصل ہوتی ہے
55:42اس کے علاوہ میں انہیں مہر نبوت سے بھی پہچان سکتا ہوں
55:46جو ان کے دونوں کندوں کے درمیان ہوگی
55:49زیافت سے فارغ ہو کر بہیران ابو طالب سے درخواست کی
55:53کہ تم اپنے بھتیجے کو واپس لے جاؤ
55:55خدا کی قسم جس حد تک میں نے انہیں پہچان لیا ہے
55:59اگر رومی یعنی یہودی انہیں دیکھیں گے
56:03تو علامات نبوت اور معجزات کی مدد سے انہیں پہچان کر
56:07ان کی جان کے پیچھے پڑ جائیں گے
56:09یوں جناب ابو طالب حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو لے کر
56:14قافلے کے ہمراہ مکہ مکرمہ واپس آ گئے
56:17جدید سائنس کے تجربات اور تحقیقات سے یہ ثابت ہو چکا ہے
56:22کہ شجر اور حجر بھی شعور رکھتے ہیں
56:25موجودہ جغرافیائی خدود کے مطابق یہ درخت اردن میں موجود ہے
56:30حکومت اردن نے اس کے قریب حجاز سے شام کو جانے والی
56:35استجارتی شہرہ کے آثار بھی تلاش کر لیے ہیں
56:38اور اس درخت کی ڈاکیومنٹری بھی بنائی
56:41جو ناظرین انٹرنیٹ پر بھی دیکھ سکتے ہیں
56:44اس کی اہم نشانی یہ ہے
56:46کہ سیکڑوں میل تک لکو دکتے سہرہ میں اگا ہوا
56:50یہ تنہا درخت موجود ہے
56:52اللہ سے دعا ہے کہ اللہ پاک ہمیں
56:55اس درخت کی زیارت کا موقع نصیب فرمائے
56:58اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے موجزات پر
57:02کامل ایمان نصیب فرمائے
57:04اور اللہ پاک ہمیں حضور اقدس صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صیرت پر
57:09عمل کرنے کی توفیق والا بنائے آمین
57:12ناظرین یہ کچھ موجزات تھے جو آپ کی خدمت میں پیش کیے گئے ہیں
57:17اس کے علاوہ بھی بہت سے موجزات ہیں
57:20جو حضور اقدس صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے منصوب ہیں
57:24لیکن ان کا ذکر ہم آنے والی کسی ویڈیو میں کریں گے
57:28اگر آپ کو ان موجزات کی تفصیل سننے میں دلچسپی ہو
57:32تو کمنٹ سیکشن میں اپنی رائے ضرور دیجئے گا
57:35اور آج کی ویڈیو کے بارے میں بھی بتائیے
57:38کہ آپ کو یہ ویڈیو کیسی لگی
57:40اب آنے والی ویڈیو تک آپ کا اپنا میزبان
57:43قادر بخش کلھوڑو آپ سے اجازت چاہتا ہے
57:46فی امان اللہ
57:48السلام علیکم ورحمت اللہ وبرکاتہ
Be the first to comment
Add your comment

Recommended