- 4 hours ago
- #meripehchan
- #syedazainabalam
- #aryqtv
Meri Pehchan
Topic: Haq Talfi
Watch All the Episodes || https://www.youtube.com/playlist?list=PLQ74MR5_8Xid5vnoOqusaAKyjCNLp6_QW
Host: Syeda Zainab
Guest: Dr. Naheed Abrar, Zarmina Nasir
#MeriPehchan #SyedaZainabAlam #ARYQtv
A female talk show having discussion over the persisting customs and norms of the society. Female scholars and experts from different fields of life will talk about the origins where those customs, rites and ritual come from or how they evolve with time, how they affect and influence our society, their pros and cons, and what does Islam has to say about them. We'll see what criteria Islam provides to decide over adapting or rejecting to the emerging global changes, say social, technological etc. of today.
Join ARY Qtv on WhatsApp ➡️ https://bit.ly/3Qn5cym
Subscribe Here ➡️ https://bit.ly/aryqtv
Instagram ➡️ https://www.instagram.com/aryqtvofficial
Facebook ➡️ https://www.facebook.com/ARYQTV/
Website ➡️ https://aryqtv.tv/
Watch ARY Qtv Live ➡️ http://live.aryqtv.tv/
TikTok ➡️ https://www.tiktok.com/@aryqtvofficial
Topic: Haq Talfi
Watch All the Episodes || https://www.youtube.com/playlist?list=PLQ74MR5_8Xid5vnoOqusaAKyjCNLp6_QW
Host: Syeda Zainab
Guest: Dr. Naheed Abrar, Zarmina Nasir
#MeriPehchan #SyedaZainabAlam #ARYQtv
A female talk show having discussion over the persisting customs and norms of the society. Female scholars and experts from different fields of life will talk about the origins where those customs, rites and ritual come from or how they evolve with time, how they affect and influence our society, their pros and cons, and what does Islam has to say about them. We'll see what criteria Islam provides to decide over adapting or rejecting to the emerging global changes, say social, technological etc. of today.
Join ARY Qtv on WhatsApp ➡️ https://bit.ly/3Qn5cym
Subscribe Here ➡️ https://bit.ly/aryqtv
Instagram ➡️ https://www.instagram.com/aryqtvofficial
Facebook ➡️ https://www.facebook.com/ARYQTV/
Website ➡️ https://aryqtv.tv/
Watch ARY Qtv Live ➡️ http://live.aryqtv.tv/
TikTok ➡️ https://www.tiktok.com/@aryqtvofficial
Category
🛠️
LifestyleTranscript
00:23Al-Fatihah
00:30آپ دیکھ رہے پروگرام میری پہچان اور میری پہچان میں ایک نئے عنوان کے ساتھ آپ کی مذبان سیدہ زینب
00:38حاضر فدمت ہیں
00:39جناب وہ پاک پروردگار عالم کتنا کریم ہے کتنا مہربان رب ہے کتنا عظیم پروردگار عالم ہے
00:48اور ہم اسی کی عبادت کرتے ہیں اسی کے آگے سجدہ ریز ہوتے ہیں اسی کے احکامات کی بجاوری کرتے
00:55ہیں
00:55اور جو اس نے حکم دیئے ہیں اس کی بجاوری کرنے کی کوشش کرتے ہیں
00:59کسی کی جانتے بوجھتے حق تلفی کوشش کرتے ہیں کہ نہ کی جائے
01:06لیکن چاہے نہ چاہے انسان سے یہ گناہ سرزد ہو جاتا ہے
01:11اب حق تلفی کیا ہے اسلام صرف عبادات کا نام نہیں ہے
01:16بلکہ حقوق کی ادائیگی کا بھی سختی سے حکم دیتا ہے
01:20یعنی حق تلفی کیا ہے کہ آپ کسی کو وہ مرتبہ نہ دیں جس کا وہ حقدار ہے
01:26وہ کام کسی نے نہ کیا ہو اگر اس کے کام پر کوئی ایسی انگلی اٹھائی جائے
01:31اس کا حق بہترین انداز سے اس کی محنت کے تعلق سے نہ دیا جائے
01:35اس کی بات کو نظر انداز کیا جائے
01:37کسی کی حق تلفی ہر جگہ نظر انداز کرنا
01:41یہ بلکل طور پر قطعی طور پر اسلام اس کو ناپسند فرماتا ہے
01:46اللہ رب العزت نے قرآن مجید فرقان حمید میں بہت ہی وضاحت کے ساتھ فرما دیا
01:52اللہ رب العزت کیا فرماتا ہے
01:54پروردگار عالم فرماتا ہے کہ ایک دوسرے کا مال نہ حق مت کھاؤ
01:59اور نہ لوگوں کے حقوق پر زیادتی کرو
02:02کیونکہ اللہ رب العزت زیادتی کرنے والوں کو
02:05حد سے زیادہ تجاوز کرنے والوں کو
02:08نہ حق کسی کے مال کھانے والوں کو پسند نہیں فرماتا
02:12اب جو حق تلفی ہے نا جناب
02:14وہ صرف عبادات کا سجدوں کا نام نہیں ہے
02:17بلکہ پورا جو ایک انسان ہے نا
02:20وہ پورے معاشرے کا ایک جو فرد ہے
02:23وہ پورے معاشرے کو بہتر بنانے میں
02:25اپنا ایک عملی کردار ادا کرتا ہے
02:28اور کہیں نہ کہیں اگر وہ کسی کے حق تلفی کر رہا ہے
02:31تو متوازن معاشرہ جو ہے وہ بگاڑ پیدا ہو جاتا ہے
02:34حق تلفی کے تعلق سے آج ہم بات کریں گے
02:37جناب اور اس عنوان پر
02:39کیونکہ یہ فی زمانہ بڑا اہم عنوان ہے
02:41کیونکہ ہم دیکھ رہے ہوتے ہیں
02:43مختلف اداروں میں مختلف جگہوں پر
02:45حق تلفی کسی نہ کسی صورت میں
02:46کہیں نہ کہیں کسی کی ہو رہی ہوتی ہے
02:48ہماری رہنمائی کے لیے اس تعلق سے موجود ہیں
02:51مہمان شخصیات
02:52جو ہماری رہنمائی بھی فرمائیں گی
02:54اسلاح فرمائیں گی
02:55قرآن و حدیث کی روشنی میں
02:57ہمیں راستہ بتائیں گی
02:58کہ کیا صحیح ہے کیا غلط ہے
03:00کیا کرنا ہے کیا نہیں کرنا ہے
03:01ہمارے ساتھ موجود ہیں
03:03میری آپ کی پسندیدہ اسکولر
03:05ڈاکٹر پروفیسر ناہید عبرار صاحبہ
03:07ویلگم کرتے ہیں
03:08السلام علیکم ورحمت اللہ وبرکاتہ
03:11ویلگم و السلام زینب
03:12کیسی ہے آپ
03:13جی زینب میرے اللہ کا احسان ہے
03:15مزاج بخیر ہے
03:17اور ان کے ساتھ تشریف فرما ہے
03:24اللہ ورحمت اللہ وبرکاتہ
03:25ویلگم السلام
03:26کیسی ہے زرمین آپ
03:27اللہ کا شکر ہے
03:28خوش رہیں سلامت رہیں
03:29جزا کر اللہ
03:30آپ حق تلفی
03:31جو ہم معاشرے میں
03:33عموماً دیکھ رہے ہوتے
03:34اس سے کیا مراد ہے
03:36سب سے پہلے تو یہی سے آغاز کیجئے گا
03:38پھر حق تلفی کے حوالے سے
03:40اضرور قرآن
03:41اضرور حدیث
03:42آپ بیان فرمائے گا
03:43کہیے
03:44عوض باللہ من الشیطان الرجیم
03:46بسم اللہ الرحمن الرحیم
03:49حق تلفی سے مراد
03:51کسی کا حق ماننا
03:52اس کا حق چھیننا
03:54اور اس کو
03:55اس کا حق ادا نہ کرنا
03:57خاص طور سے
03:58وہ حق جو شریعت کی روح سے
04:00قانونن اور اقلاقن
04:01اس کا حق ہے
04:02اس کو اس کے حق سے
04:04محروم کر دینا
04:05دیکھیں
04:06زینب صحبت دین اسلام
04:07ہمیں انصاف قائم کرنے
04:09حقوق ادا کرنے
04:10امانتیں واپس کرنے
04:12وعدہ پورا کرنے کی
04:13تعلیم دیتا ہے
04:14اور جو شخص بھی
04:16اس کے منافع کام کرتا ہے
04:18اسے حق تلفی کہا جاتا ہے
04:20جس سے بچنے کے لیے
04:21دین اسلام نے
04:23ہمیں حکم دیا ہے
04:24قرآن پاک میں
04:25اللہ تعالی شاید فرماتا ہے
04:27کہ ناب طول میں
04:28کمی نہ کرو
04:29کسی کو چیزیں
04:31کم نہ دو
04:32اور زمین پر
04:33فساد نہ پھیلاؤ
04:34قرآن پاک میں
04:35اللہ تعالی شاید فرماتا ہے
04:37کہ ایک دوسرے کا
04:38نہاق حق نہ کھاؤ
04:40اللہ تمہیں دیکھ رہا ہے
04:42اور زمین پر
04:43لڑائی جھگڑا
04:44یا فساد مت پھیلاؤ
04:48اللہ تعالی شاید فرماتا ہے
04:49کہ اللہ تعالی ایمان والوں کو
04:51امانتیں حقدار کو
04:53واپس کرنے کا حکم دیتا ہے
04:55بے شک
04:55قرآن پاک میں
04:56اللہ تعالی شاید فرماتا ہے
04:58کہ یتیم کا مال کھانے والے
05:00قیامت کے دن
05:01اس سال میں داخل ہوں گے
05:02کہ ان کے موہ سے
05:04آگ کے شو لے نکل ہوں گے
05:05اللہ اکبر
05:06قرآن پاک میں
05:07اللہ تعالی شاید فرماتا ہے
05:09کہ یتیم کا مال کھانے والے
05:11اپنے پیٹوں کو
05:13آگ سے بھر رہے ہیں
05:14نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
05:17نے اشارت فرمایا
05:18کہ جس شخص نے جھوٹی قسم کھا کر
05:21نہاک کسی کا حق مال لیا
05:23تو اللہ تعالیٰ
05:25اس کے لئے جنت کو حرام کر دے گا
05:28اور دوزخ کو واجب کر دے گا
05:30تو کسی نے کہا کہ
05:31یا رسول اللہ اگر کسی وہ بہت چھوٹی چیز
05:33کے قسم کھا لے
05:34تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
05:38نے فرمایا
05:39چاہے وہ ایک ٹین ہی کے قسم کیوں نہ کھائے
05:42اللہ تعالیٰ نے اس پر دوزخ
05:44واجب کر دی ہے
05:46نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
05:49نے شات فرمایا
05:50کہ مزدوروں کو اس کی عجرت نہ دینا
05:53صدقہ خیرات کا مال کھا لینا
05:56اور اپنے آپ کو
05:58مستحق قرار دے کر
05:59گو کہ آپ مستحق نہیں ہیں
06:01دوسروں سے ان کا حق وصول کرنا
06:03جرم ہے
06:04اور کسی کا حق دینا عدل ہے
06:06اور اس کو اس کے حق سے محروم کرنا
06:09ظلم ہے
06:10نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے شات فرمایا
06:12کہ لوگوں کسی کی ساتھ ظلم نہ کرو
06:14کسی کی ساتھ زیادتی نہ کرو
06:16کسی کی حق تلفی نہ کرو
06:18اور کسی کا مال نہ حق مت کھاؤ
06:20تم سب آپس میں بھائی بھائی ہو
06:23آقای دو جہاں صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
06:24کی جب وسال کا وقت قریب آیا
06:26تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے
06:28صحابہ اکرام سے کہا
06:29اگر میرا پر کسی کا کوئی حق ہے تو بتائے
06:32تو صحابہ اکرام زارو قطار رونے لگے
06:34تو ایک صحابی کھڑے ہوئے
06:36وہ کہنے کہ یا رسول اللہ
06:38ایک دفعہ آپ غزوے میں
06:40شرکت کے لئے لے جا رہے تھے
06:42آپ صفحے درست کر رہے تھے
06:43تو آپ نے مجھے ایک چھڑی سے کچھو کا دیا تھا
06:47مجھے تکلیف ہوئی تھی
06:48میرا حق ہے آپ پر
06:49تو آقای دو جہاں صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لیٹے تھے
06:51اٹھ گئے
06:52اپنی قمیز اتاری
06:54پیٹے مبارک اس کے آگے کر دی
06:55چھڑی دی کہ لو بدلہ لے لو
06:57اور اپنا حق لے لو
06:58جیسے ہی اس نے مور نبوت کو دیکھا
07:01بوسا دیا جھکا تو جھکتا ہی چلا گیا
07:04اسی طرح جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
07:06مزید نبی میں
07:07مزید کی تعمیر کے لئے ایک جگہ کی ضرورت تھی
07:10تو وہ جگہ جو تھی دو یتیم بچوں کی ملکیت تھی
07:13تو نے کہا
07:14یا رسول اللہ اس کے لئے پیسے آپ سے نہیں لیں گے
07:17تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا
07:20کہ اللہ تعالی ہمیں امانتیں واپس کرنے
07:23اور حقدار کو اس کا حق
07:25ادا کرنے کا حکم دیتا ہے
07:27تو پھر حضرت ابوبکر صدیق نے
07:29وہ زمین جو تھی
07:30مو مانگے داموں خرید لی
07:32اور اس پر مسجد جو تھی
07:33وہ تعمیر ہوئی
07:34کہنے کا مقصد یہ گا
07:37اللہ کے رسول کی
07:38تعلیمات یہی ہیں کہ حق چاہے چھوٹا ہو
07:41یہ حق بڑا ہو
07:42کسی کا حق ماننا جرم ہے
07:45کسی کا حق مت کھائیں
07:47اللہ ہمیں دنیا میں بدلاتے دے
07:49بے شکر آپ
07:49میں تو حیران ہوتی ہوں
07:51اتنی وضاحت کے ساتھ
07:53قرآن مجید فرقان حمید میں
07:55اللہ رب العزت نے جا بجا اشارت فرما دیا
07:58کہ فلا جگہ فلا جگہ فلا جگہ
08:01کسی کا حق اس طرح
08:02اس طرح ہر طریقے سے پروردگار عالم نے بتا دیا
08:05کہ اتنی معمولی سی چیز بھی
08:07آپ اگر کسی کا حق کھائیں گے تو
08:09اللہ رب العزت ظالم کو پسند نہیں
08:11فرماتا ہے نہیں ہے ظلم ہے لیکن انسان
08:13آج یہ دیکھ رہے ہوتے ہیں
08:15ہم رشتوں میں مختلف معاملات میں
08:17حق تلفی عام نظر آ رہی ہوتی ہے
08:20زرمینہ آپ اشارت فرمائیے گا
08:22کہ عموماً ہم معاملات میں دیکھتے ہیں
08:24رشتوں میں دیکھتے ہیں
08:25اس حوالے سے حق ترفی کا مرتقب
08:27ہوتا ہو رہا ہے انسان
08:29کیا اسباب ہے اس کو اسباب کو
08:31کیسے دیکھتی ہے کیا کہیے گا
08:33بسم اللہ الرحمن الرحیم آج کا موضوع
08:35یقین بہت اہم ہے
08:36ہماری جنگ جنریشن کی صیرت و کردار
08:39کی تعمیر کے لیے یہ بہت زیادہ
08:41اہمیت کا حامل ہے
08:42جب ہم حق تلفی کی بات کرتے ہیں تو جیسا کہ ہم نے جانا
08:45کہ کسی بھی شخص کی کسی بھی گروہ کی
08:47کسی بھی انسان کی حق تلفی
08:49اس طرح سے کرنا کہ اس کی حقوق ادانا کرنا
08:51جو شریعت نے اس کو دیئے ہیں جو
08:52رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کے
08:54اکارڈنگ اس کے حصے میں آئے ہیں اس کو عطا فرمائے گئے ہیں
08:56ان کو نظر انداز کر دینا ان کو دبا لینا
08:58کسی کا حق غضب کرنا یہ سب حق تلفی
09:01کے زمل میں آتے ہیں اور
09:02it's a vast scenario بہت زیادہ پیمانے پر
09:05اس کا معاشرے کے اندر اطلاق نظر آتا ہے
09:06یہ صرف مال چند جانے تک محدود
09:08نہیں ہے بے شکل
09:10اچھا جیسے قرآن پاک میں فرمایا گیا کہ
09:11عدل کرو یہ تقوی کے زیادہ قریب ہے
09:14یعنی جب ہم عدل کرتے ہیں انصاف کرتے ہیں
09:16حقوق و فرائض کو مکمل طور سے
09:18اچھے انداز میں ادا کرتے ہیں
09:19اپنی ڈیوٹیز پوری کرتے ہیں
09:20تو یہ سب کچھ بالکل ٹھیک ہے
09:22ایک بہت پیارا عمل ہے
09:23اس کا جو opposite ہے وہ ظلم کرنا ہے نا
09:26زیادتی کرنا ہے جب ہم کسی کا حق ادا نہیں کرے
09:28قرآن پاک میں فرمایا گیا
09:29کہ اللہ تعالیٰ کی حدود سے تجاوز نہ کرو
09:32اللہ تعالیٰ تجاوز کرنے والوں کو
09:34حد سے تجاوز کرنے والوں کو
09:35پسند نہیں فرماتا
09:37تو سوسائٹی میں بہت سی جگہوں پہ
09:38ہمیں یہ چیزیں نظر آتی ہیں
09:39حد سے انسان تجاوز کر رہے ہوتے ہیں
09:41کسی کے حقوق کو غضب کر لیتے ہیں
09:43جیسے کہ والدین اور اولاد کا رشتہ ہے
09:45وہاں کتا ہی ہو رہی ہوتی ہے
09:46میاں بیوی کا رشتہ ہے
09:47وہاں غلط فہمیاں ہو رہی ہوتی ہیں
09:49اسی طرح سے بیٹا بیٹے کی تربیت ہے
09:51تو وہاں ڈیفرنشیشن کیا جاتا ہے
09:53یا ان کی عملی فکری اصلاحی
09:55اچھی تربیت نہیں کی جاتی
09:56ان کو نیکی اور تقوی کی دہاپر ہی نہیں لگایا جاتا
09:59امانت میں خیانت کی جاتی ہے
10:00کاروباری ڈیلنگز کے اندر
10:01دھوکہ دہی جود فراڈ
10:03سب عام ہے
10:04علاقہ فرمایا گیا
10:05منغشف علی سامنہ کے دھوکہ دینے والا
10:07ہم میں سے نہیں ہے
10:08پھر بیرون ملک سے دیکھا گیا ہے
10:10کچھ لوگ منی بھیجتے ہیں
10:11منی ٹرانسفر کرتے ہیں
10:12رکوم بھیجتے ہیں
10:13اپنے رشتہ داروں کے لیے
10:15تو وہ ہتھیالی جاتی ہیں
10:16کسی کے حقوق وہاں غزب کرتے
10:18وہ انسان ہمیں دکھائی دیتے ہیں
10:19اور صرف یہی نہیں
10:20بلکہ ہماری فیملیز میں
10:22رشتوں کے اندر بیٹیوں اور بہوںوں کے درمیان
10:24جو ڈیفرنسز قائم کیا جاتے ہیں
10:26ایک کا زیادہ خیال کیا جاتا ہے
10:28ایک کو زیادہ امپورٹنسی جاتی ہے
10:30اور دوسرے کو ڈیگریٹ کر دیا جاتا ہے
10:31یہ عام نظر آتا ہے
10:32یہ ہماری سوسائٹی کا ایک عام پہلو ہے
10:34جو ہمیں دکھائی دیتا ہے
10:35اس سے بچنے کی کوشش کرنی چاہیے
10:37کیونکہ اللہ تعالی حق تلفی کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا
10:40اب میں شوٹلی یہاں انکلوڈ کرنا چاہوں گی
10:42کہ انسان جو اللہ تعالی کی حکوم کے نماز ہم نے ادا کرنی ہے
10:45تلاوت کلام مجید سے خود کو آراستہ کرنا ہے
10:48اپنی زندگی میں اس سرچشمے کو
10:49اس ہدایت کے سرچشمے کو آئٹ کرنا ہے
10:51انسان اس میں کوتاہی کا شکار ہو جاتا ہے
10:54روزہ چھوڑ دیتا ہے
10:55وہ در حقیقت اپنے ہی نفس پر تب ظلم کر رہا ہوتا ہے
10:58یہ اس کی حق تلفی ہے
10:59اپنی نفس اور وہ اس طرح سے بھی ظلم کرتا ہے
11:01کہ اپنی جو صلاحیتیں ہیں
11:02اپنا جو نالج ہے
11:03اپنا جو ذہن ہے
11:04وہ اچھی صلاحیتوں کو
11:06اچھی راہ پر گامزن ہوتے ہوئے استعمال نہیں کرے گا
11:09دوسروں کا برا سوچنا
11:11بدگمانی کرنا
11:12ایسے میں وہ نظر آتا ہے
11:13اپنے ضمیر کی آواز کو دبائے گا
11:15اگر کوئی ظلم ہو رہا ہے
11:16آپ اپنے حق کے لئے بول سکتے ہیں
11:18اخلاص نیت سے
11:19اخلاص نیت ہونا بہت ضروری ہے
11:21محبت سے
11:22عقیدت سے
11:23اللہ تعالیٰ سے مدد چاہتے ہوئے
11:24پیار سے آپ دوسرے کی اصلاح کر سکتے ہیں
11:26اپنے ضمیر کی آواز کو کیوں تباہ جائے
11:28پیار سے اصلاح کی جا سکتی
11:30سوسائیٹی کے اندر
11:31پھر والدین ہیں
11:32تو ان کے حقوق کا خیال
11:33کئی لوگ نہیں رکھتے ہیں
11:34خدمت نہیں کرتے ہیں
11:35توجہ نہیں دیتے ہیں
11:37ان کے پاس بیٹھتے نہیں ہیں
11:38ان کا خیال نہیں رکھتے ہیں
11:40میڈیسنز کا خیال نہیں رکھتے
11:41تو یہ کتاہی ہو رہی ہوتی ہے
11:42پھر اولاد ہے
11:43تو جیسے پہلے میں نے کہا
11:44کہ بیٹا بیٹی میں
11:45ڈیفرنشیئٹ کیا جاتا ہے
11:46ان کی اچھی تربیت نہیں کی جاتی ہے
11:48پھر سوسائیٹی میں ملاوٹ ہے
11:50دھوکہ دہی ہے
11:51یہ ہمیں بہت زیادہ
11:52سوسائیٹی کے اندر نظر آتا ہے
11:54اور یہاں میں بات کو مکمل کرتی ہوں
11:55کہ ڈیوٹی آرز ہوتے ہیں
11:57کہ بندے نے آٹھ بجے پہنچنا ہے
11:58وہ دس بجے آ رہے ہوں گے
12:00اگر پانچ بجے چھٹی کی ٹائمنگ ہے
12:02تو تین بجے جا رہے ہوں گے
12:03تو ایسے امور
12:04یہ تمام آپ نے اس کے اسباب کی طرف بھی توجہ دلائی ہے
12:07تو اختصار سے میں کوٹ کرتی چلوں
12:09کہ اس کے اسباب یہ ہیں
12:10کہ انسان اپنے لیے فائدہ چاہتا ہے
12:12نہ بینیفٹ چاہتا ہے
12:13پھر گھروں کا کچھ محول بھی ایسے ہوتا ہے
12:15پھر کسی سے حسد بغض رکھنا
12:17اس کو حقیر کنسیدر کرنا
12:18معاشرتی تاثبات ہیں
12:19اور غلط رسمیں ہیں
12:20جو پھر حق تلفی کو جنم دیتے ہیں
12:22سبحان اللہ
12:23ایک وقفہ لیتے ہیں
12:24حاضر ہوتے ہیں
12:25السلام علیکم ورحمت اللہ وبرکاتہ
12:28آپ دیکھ رہے ہیں
12:29پرگرام میری پہچان
12:30اور میری پہچان میں
12:32ایک مرتبہ پھر آپ سب کا خیر مقدم ہے
12:35حق تلفی کے تعلق سے آج بات کی جارہی ہے
12:38جہاں ہر فرد فرائز کی ادائیگی کی بات کرتا ہے
12:42اپنا حق طلب کرتا ہے
12:44لیکن جب ہم کہیں حق تلفی کسی کی کر رہے ہوتے ہیں
12:47اس بات کو ہم ایسے نظرانداز کر رہے ہوتے ہیں
12:50جیسا کہ کچھ ہوا ہی نہیں
12:52اس تعلق سے حق تلفی کے تعلق سے
12:55آج ہم بات کر رہے ہیں
12:56ہماری اصلاح کے لیے مہمان شخصیات موجود ہیں
12:58ڈاکٹر ناہید ابرار صاحبہ موجود ہیں
13:01اور زرمینہ ناصر خاکوی صاحبہ بھی تشریف فرما ہیں
13:04اب ڈاکٹر صاحبہ بات کر لیتے ہیں
13:06ایک اہم نقطے کی جانب
13:08جہاں پر ہم معاشرے میں جا بجا اس بات کو دیکھتے ہیں
13:12یعنی کہ میراس کے تعلق سے
13:14کیونکہ اور یہ اتنا اہم فریضہ ہے
13:16اتنی سخت پکڑ ہونے والی ہے
13:18ہمیں اس بات کا اندازہ نہیں ہے
13:19اب میراس کے تعلق سے خاص طور پر
13:21اگر بات کی جائے
13:22شادی شدہ بیٹیوں کے حوالے سے
13:24خاص طور پر دیکھا گیا ہے
13:26کہ شادی شدہ بیٹیوں کے حوالے سے
13:28ان کے تعلق سے میراس کے جو تقسیم ہے
13:31اس میں حق تلفی کی جاتی ہے
13:32آپ اس حوالے سے کیا کہیں گی
13:35دیکھیں زینب صاحبہ
13:37حق تلفی سے مراد کسی کے حق مالنا
13:39یا کسی کے حق پر ڈاکہ ڈالنا
13:41ہماری معاشرے میں بہنوں
13:43اور بیٹیوں کو ان کے حق سے
13:45محروم کر دیا جاتا ہے
13:46اگر وہ اپنے حق کے لئے آواز اٹھیں
13:49تو طاقتور ان کے حق کو غزب کر کے
13:51ان کو ان کے جائز حق سے
13:53محروم کر دیتا ہے
13:54لیکن والدین کے ساتھ بس سلوکی کرنا
13:57حق تلفی ہے
13:58اولاد کے درمائن عدل نہ کرنا
14:00حق تلفی ہے
14:01میاں بیوی ایک دوسرے کی حقوق
14:03عدانہ کرنا حق تلفی ہے
14:05قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ اشارت فرماتا ہے
14:07کہ جو کسی کو کسی کے حق سے
14:09محروم کرے گا
14:10اللہ تعالیٰ اس کو قیامت کے دن
14:16جسے کسی کی ایک بالے زمین
14:19ظلم کر کے حاصل کر لی
14:21یا لے ری
14:22تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن
14:24اسے ساتھ زمینوں کا
14:25توک بنائے گا
14:26لیکن دین اسلام میں
14:28تقسیم میراس کی شرعی حیثیت ہے
14:31یہ کوئی اقتیاری عمل
14:33یا احسان نہیں
14:34اللہ کا مقرر کردہ قانون
14:37اور حق ہے
14:38نہ اسے معاف کیا جا سکتا ہے
14:40نہ اسے تبدیل کیا جا سکتا ہے
14:42قرآن پاک میں
14:44اللہ تمہیں تمہاری اولاد کے بارے میں
14:46حکم دیتا ہے
14:47کہ بیٹوں کا ایک حصہ
14:49دو بیٹیوں کے برابر
14:51اگر بیٹیاں موجود ہیں
14:52تو بیٹوں کے دو حصے
14:54اور بیٹیوں کو ایک حصہ ملے گا
14:56قرآن پاک میں
14:57اللہ تعالیٰ نے
14:58بیٹیوں کے حق میراز کے بارے میں
15:00حکم دے دیا ہے
15:01تاکہ کمزور اور بیٹیوں کے ساتھ
15:04کوئی زیادتی نہ ہوں
15:05نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
15:08نے اشارت فرمایا
15:09کہ بیٹیوں کو ان کا حق
15:11عزت کے ساتھ دو
15:16قانون ہے
15:17اور اللہ کی طرف سے عطا کردہ حق ہے
15:19دیکھتے ہیں کہ ہمارے معاشرے میں
15:21زینب صاحبہ شادی شدہ بیٹیوں کے ساتھ
15:23بہت زیادتی کی جاتی ہے
15:26ہم نے تو انہیں شادی میں جہز دے دیا
15:28اب ان کا حق دے کر کیا کریں گے
15:30اب پھر ہم نے
15:31اتو اپنے گھر کی ہو گئیں
15:33اللہ نے ان کا نصیب پھول دیا
15:35شہر والی ہو گئیں
15:37سترال والی ہو گئیں
15:38اب ان کا حق ہم کیا دیں گے
15:40دیکھئے میراز حق
15:42اللہ کا عطا کردہ ہے
15:44اللہ کا عطا کردہ قانون ہے
15:46اسے نہ تبدیل کیا جا سکتا ہے
15:48نہ اسے معاف کیا جا سکتا ہے
15:50سعید بن ربی جنگ اہد میں شہید ہو گئے
15:53تو انہیں اپنے پیچھے دو بیٹیاں اور ایک بیوہ چھوڑی
15:57ان کی شہادت کے بعد ان کے بھائی نے
16:00ان کے سارے حق پر قبضہ کر لیا
16:02جب ان کی بیٹیوں کے نکاح کا وقت آیا
16:05تو بیوہ تھی بہت پریشان ہوئیں
16:06وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خدمت میں حاضر ہوئیں
16:11اور کہنے لگیں کہ یا رسول اللہ میرے شہر کے بھائی نے
16:15میری ساری جائدات پر قبضہ کر لیا ہے
16:17نہ مجھے میرا حق دیا
16:19نہ میری بیٹیوں کو ان کا حق دیا
16:21تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے
16:24انہیں بلایا اور فوراں حکم دیا
16:27کہ اس کی بیوی کو اس کا حق دو ان کی بیٹیوں کو
16:29ان کا حق عدا کرو
16:31دنوں نے یہ بات مانی
16:32ان کی بیٹی کو بھی حق عدا کیا
16:34دونوں بیٹیوں کو
16:35اور جو ان کی بیوہ تھی
16:37ان کا حق عدا کیا گیا
16:41میں فکریہ یہ بات بھی ہے
16:42کہ دیکھیں جو لوگ کسی کا حق مال لیتے ہیں
16:45اور ظاہر تو وہ پلوٹ بھی خرد لیتے ہیں
16:47گاڑیاں بھی خرد لیتے ہیں
16:48لیکن وہ بے سکونے کی زندگی
16:50جب وہ سوتے ہیں
16:52تو ان کا ضمیر کسی کے ساتھ
16:54ہم نے زیادتی کی
16:55ان کا ضمیر اسے ملامت کرتا ہے
16:57اور یقین کریں
16:58جن اللہ تعالیٰ ان کے ضمیر کو جگہ دے گا
17:01ان کی بیسی کو ختم کر کے
17:03ان کے اندر حص پیدا کر دے گا
17:05تو وہ لوگوں کے ساتھ زیادتیاں کرنا
17:07چھوڑ دے گا
17:09اس لیے کہ میرا رب کسی کی زیادتی کو کبھی پھولتا نہیں ہے
17:13اللہ اکبر
17:14آپ اکثر یہ بھی ہوتا ہے
17:16اور ہم جس طرح بات کر رہے ہیں
17:17اور بیٹیوں کو ہم کہتے
17:19کہ جو کچھ ہم نے دینا تھا
17:21وہ شادی پر دے دیا
17:22اتنی بڑی ذمہ داری تھی
17:23وہ ہم نے ادا کر دی
17:24وہ ذمہ داری ہے
17:25اللہ نے آپ کو سوپی ہے
17:26اللہ رب العزت نے
17:28وہ ذمہ داری آپ کو سوپی ہے
17:30تو اس کا آپ
17:31اس طرح سے اظہار مت کریں
17:33کہ وہ کہیں آپ پر بوجھ ہیں
17:34اور جو ان کا حق ہے
17:35صحیح طریقے سے
17:37ان کا حق ادا کریں
17:38اور اللہ سے ڈریں
17:39اللہ رب العزت ظلم کو پسند نہیں فرماتا ہے
17:43اب اس کے اجتماعی اور انفرادی
17:45جو نقصانات ہیں
17:46جو نا حق تلفی کرتے ہیں
17:48کیا کہیں گی اس تعلق سے آپ
17:50اس کے بے پناہ انفرادی اور اجتماعی نقصانات
17:53ہمارے سامنے آتے ہیں
17:54کیونکہ دیکھیں نا حق تلفی
17:55جو ہمارا حق ہے ہی نہیں
17:56وہ ہم لے رہے ہیں
17:57اور جو دوسروں کا حق ہے
17:59جو ہمارے فرائض ہیں
17:59اس کو ہم ادا ہی نہیں کریں
18:01کیونکہ کسی ایک کا حق
18:02دوسرے کا فرض ہوتا ہے
18:03حدیث مبارکہ کا مفہومت
18:05جیسے آپ نے انفرادی نقصانات کی بات کی
18:07کہ حقیقی مفلس کون ہے
18:08آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
18:09نے دریافت کیا
18:10اور پھر اس حدیث مبارکہ
18:11کو میں اختصار سے پیش کروں
18:13تو فرمایا گیا
18:14حقیقی مفلس وہ ہے
18:15جو قیامت کے روز
18:16نماز
18:16عبادات
18:17نیکیاں
18:18اپنے اچھے عمال لے کر آئے گا
18:19لیکن جو اس نے دوسروں کی
18:21عبرو ریزی کی ہوگی
18:22کسی کی حق تلفی کی ہوگی
18:24کسی کا حق غزب کیا ہوگا
18:25زمین ہتھیائی ہوگی
18:26مال غزب کیا ہوگا
18:28یا کسی کے بھی حوالے سے
18:29کسی جہت سے بھی
18:30کسی کو ہرٹ کیا گا
18:31کیونکہ اس کے بہت زیادہ گوشت
18:32جیسے کہ ہم پہلے سیگمنٹ میں
18:33بتا چکے ہیں
18:34تو اس سے وہ ساری نیکی
18:36اور اچھے عمال نکال کر
18:37اس کو دے دیے جائیں گے
18:38اس کے نامعہ عمال میں سے
18:40اور جب پھر بھی
18:41بیلنس قائم نہیں ہوگا
18:42تو پھر اس کے جو
18:43ان کے گناہ ہیں
18:44وہ اس کے نامعہ عمال میں
18:45داخل کر دیے جائیں گے
18:46اور وہ شخص تہی دامن
18:47رہ جائے گا
18:48ابن حبان کی روایت ہے
18:49ابو حرارہ رضی اللہ تعالیٰ
18:50انہوں سے روایت ہے
18:51کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
18:52نے فرمایا
18:53کہ تمہارے ذمہ کسی کا بھی حق ہے
18:54ذرا بربی تو اس کو ادا کرو
18:56تاوقت یہ کہ
18:57روز محشر آ جائے
18:58اس دن نہ درہم کام آئیں گے
19:00نہ دیدار کام آئیں گے
19:01اور پھر اس شخص کی
19:02جب نیکیاں دے دی جائیں گے
19:03اور برائیاں
19:03اس کے پلڑے میں ڈال دی جائیں گی
19:05تو اس شخص پر جہنم واجب ہو جائے گی
19:07تو آپ دیکھیں
19:09کہ وہ شخص خود بھی عذیت
19:10دوسروں کو تو عذیت میں مبتلا کرتا ہے
19:12ناقل فی کسی کی کر کے
19:13کیونکہ سامنے والے کے دل کو
19:14ہم ہرٹ کر رہے ہوتے ہیں
19:15ہم تکلیف پہنچا رہے ہوتے ہیں
19:17دانستہ غیر
19:18اچھا یہ بھی ہوتا ہے
19:18کئی لوگوں کو علم بھی ہوتا ہے
19:20کئی لوگ لا علمی میں کر رہے ہوتے ہیں
19:21اس لئے آقام دین سیکھنا
19:22واقعی بہت زیادہ ضروری ہے
19:24کہ ہمیں معلوم تو ہو
19:25کہ دین کا ہم سے
19:26تعلیمات کا تقاضی کیا ہے
19:27اچھا انسان اس کو بھی
19:28تکلیف دے رہا ہوتا ہے
19:29خود بھی عذیت سے دوچار رہتا ہے
19:31ڈپریشن انگزائیٹی
19:32کارڈی اکرس
19:33بہت ساری چیزیں معاشرے میں
19:34بہت ساری بیماری
19:35یا معاشرے کے اندر
19:36اس حوالے سے ملتی ہیں
19:38پھر آپ یہ دیکھیں
19:39کہ کسی کا بھی حق
19:40کسی نے غصب کیا
19:41مال ہو
19:41یا کسی عہدے کے اعتبار سے
19:43انصاف نہ کیا
19:44کچھ بھی
19:44وہ حرام ہے نا
19:45نہ حق ہے
19:46تو حرام ہے
19:47حرام کھانے والے کی
19:48پہننے والے کی
19:49یا اس کو زندگی میں
19:50اپنانے والے کی
19:51دعا قبول نہیں ہوتی
19:52اس پر جنت حرام ہو جاتی ہے
19:54دیکھئے
19:54اس کے حصے میں
19:55کیا آیا
19:56پھر انسان
19:57اس کا اتنا بڑا نقصان ہے
19:58انفرادی بھی ہے
19:59اور اجتماعی بھی ہے نا
20:00کہ انسان
20:01عبادات کی
20:02لذت اور حلاوت
20:03کو گیٹ نہیں کر سکتا
20:04اس سے محروم ہو جاتا ہے
20:05ابراہیم بن عدم
20:07رحمت اللہ علیہ کے حوالے سے
20:08میں پڑھ رہی تھی
20:09کہ آپ کو ایک دفعہ
20:10عبادات میں
20:11لذت محسوس نہیں ہوئی
20:12آپ مسجد تشریف لے جاتے ہیں
20:14رات کا پچھلا پہر ہوتا ہے
20:15ایک نورانی شخصیت
20:16اپنے خدام کے ساتھ
20:17تشریف لاتی ہے
20:18اور وہ ان کو
20:19نصیت کر رہے ہوتی ہیں
20:20حق تلفی کے حوالے سے
20:21کہ عبادات میں
20:22لذت نہیں آئی گی
20:22اگر تم کسی کی حق تلفی کرو گی
20:24اور وہ فرماتے ہیں
20:25کہ ابھی مسجد میں
20:26ایک ایسا شخص موجود ہے
20:27جس نے کسی کی حق تلفی کی ہے
20:28پھر ان کو بتایا جاتا ہے
20:30کہ ایک دفعہ
20:31تم نے کسی سے
20:31فروٹ کریدا تھا
20:32کچھ اس سے جو دانے ہیں
20:34زمین پہ گرتے
20:35تو اس شخص کی
20:35پرمیشن کے بغیر
20:37تم نے وہ استعمال کر لیے تھے
20:38تو آپ دیکھیں
20:39کہ اتنی باری کیا ہیں
20:40ہمیں سیکھنے کی
20:41سمجھنے کی
20:42بہت ضرورت ہے
20:43ایک مرتبہ
20:44نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
20:45کو بتایا گیا
20:47کہ ایک شخص ایسا
20:48جو فجر کی نماز کے بعد
20:49فوراً بھاگ کر
20:49گھر واپس چلا جاتا ہے
20:50آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
20:52نے اس کو طلب فرمایا
20:53اس نے بتایا
20:54کہ میرے سہن کے اندر
20:56ایک درخت کی شاخیں ہیں
20:58کسی کی
20:58جو درخت تو دوسرے گھر میں ہے
21:00ہمسائے کے
21:00لیکن اس کی شاخیں ادھر ہیں
21:02اس کا ابھی موسم ایسا
21:03کہ پھل گر رہے ہیں
21:04تو میں نہیں چاہتا
21:05کہ پھل گریں
21:06اور میرے بیوی بچے لاعلمی
21:08میں اس کو تناول کر لیں
21:09اس کو کھا لیں
21:11پھر آپ دیکھیں
21:12کرز لینا اور دینا
21:13معاشرے میں آپ بھی جانتی ہیں
21:14بہت زیادہ عام ہے
21:15اور معذرت کے ساتھ
21:17کرز لیتے ہوئے
21:18انسان کا چہرہ اور ہوتا ہے
21:19اور واپس کرتے ہوئے اور ہوتا ہے
21:21لوگ کرز واپس نہیں کرتے ہیں
21:22جھوٹ کو شامل کرتے ہیں
21:25اپنی
21:25lame excuses دے رہے ہوتے ہیں
21:27تو پھر اجتماعی نقصان
21:29کتنا بڑا ہے
21:29کہ اللہ اور اس کے رسول
21:31صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
21:39کرز کے مستحق ہیں
21:40یا وائٹ کالرز ہیں
21:42سفید پوشت لوگ
21:42جو ہماری سوسائیٹی میں ہیں
21:43ان کو بھی لوگ
21:44اعتماد کی کمی کی وجہ سے
21:46پھر ان کی ہیلپ نہیں کرتے ہیں
21:48پھر ہم نے یہ دیکھا ہے
21:48رمضان میں راشن کی بات ہو
21:50یا بکرہ ایت کی گوشت کی بات ہو
21:52اس میں بھی یہ چیز نوٹس کی گئی ہے
21:53سوسائیٹی کے اندر کے لوگ
21:55زخیرہ کر لیتے ہیں کچھ لوگ
21:56آپ کی نیڈ ہے
21:57آپ ضرور لیجئے
21:58لیکن دوسروں کا حق اس طرح سے
21:59غزب کرنے کی کوشش نہ کی جائے
22:01پھر لوگ دوسروں کی ہیلپ کرنا
22:03روک دیتے ہیں
22:03سٹاپ کر دیتے ہیں
22:05سوال اللہ
22:05اور ایسے پھر پرابلمز دیکھنے
22:07کو ملتے ہیں
22:08حق تلفی اللہ
22:09اس کے حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
22:10کو پسند نہیں
22:11کیونکہ وہ شخص جنت کی خوشبو سے
22:13محروم ہو جائے گا
22:14اس لیے اس سے
22:14اس طرح آپ کرنا چاہئے
22:16یہ بہت باری کیا ہیں
22:17اور بار بار ہم یہ کہتے ہیں
22:19کہ وضاحت کے ساتھ
22:20دین اسلام
22:21ہر بات کو بیان کرتا ہے
22:23ایک وقفہ لیتے ہیں
22:24حاضر ہوتے ہیں
22:25السلام علیکم ورحمت اللہ ورکاتو
22:27آپ دیکھ رہے ہیں
22:28پرگرام میری پہچان
22:29اور میری پہچان میں
22:31ایک مرتبہ پھر آپ سب کا
22:32خیر مقدم ہے
22:33حق تلفی کے حوالے سے
22:35بات کی جا رہی ہے
22:36اتنی باریک بینی سے
22:38اتنی وضاحت کے ساتھ
22:40دین اسلام کے تمام احکامات
22:42واضح طور پر
22:43ہمارے سامنے موجود ہیں
22:44لیکن اس کے باوجود بھی
22:46ہم دیکھتے ہیں
22:47جا بجا پورے معاشرے میں
22:49حق تلفی ایک نہ ایک شخص کے ساتھ
22:51ہر دوسرا شخص کسی کے
22:53حق کو مار رہا ہے
22:54دوسری کے حق تلفی کر رہا ہے
22:56ہم کیوں نہیں
22:57اللہ سے ڈرتے ہیں
22:58یہ اپنے آپ سے بھی
22:59سوال کرنا ہے
23:01اور یہ سوال چھوڑ کر
23:02میں آپ کے جانب جا رہی ہوں
23:03کہیں نہ کہیں
23:04اپنا محاسبہ کیجئے
23:05اور اللہ سے ڈریں
23:06ہم بات کر رہے ہیں
23:09حق تلفی کے حوالے سے
23:10ڈاکٹر ناہید عبرار صاحبہ
23:11موجود ہیں
23:12زرمینہ ناصر خاکوی صاحبہ
23:14بھی موجود ہیں
23:14ڈاکٹر صاحبہ
23:16حق تلفی کے خلاف
23:17آواز جو بلند کرنا ہے
23:19انصاف قائم کرنے کے حوالے سے
23:21اہل ایمان کی ایک تو یہ بتائے گا
23:23کہ کیا فرض ہے
23:24ہماری کیا ذمہ داری ہیں
23:25پھر اس حوالے سے
23:26نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم
23:28اور صحابہ رضوان اللہ علیہم
23:30اجمعین کی جو حیات مبارکہ ہے
23:31اس سے ہمیں کیا سبق ملتا ہے
23:33کہیے گا
23:34دیکھیں زینب صاحبہ
23:35دین اسلام میں
23:37انصاف قائم کرنا
23:39ظلم و ستم اور حق تلفی کے
23:42خلاف آواز بلند کرنا
23:44دینی فریضہ ہے
23:45یہ صرف اخلاقی فریضہ ہی نہیں
23:48بلکہ آخرت میں
23:50کامیابی کی نشانی بھی ہے
23:52اور دنیا میں بھی انسان
23:54ایک خوشگوار زندگی گزارتا ہے
23:56وہ معاشرے میں استحکام پیدا ہوتا ہے
23:59بے شک
24:00ظلم کے خلاف خاموش رہنا
24:02ایمان کے خلاف ہے
24:04یہ نبی کریم انصاف کرنا
24:06نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی
24:10سنت و صحابہ اکرام کا
24:12عملی طریقہ ہے
24:13نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
24:16نے فرمایا
24:17کہ سب سے بڑا جہاد یہ ہے
24:20کہ جو شخص ظالم حکمرہ کے سامنے
24:23حق پاتھ کہے
24:24نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے شاد فرمایا
24:26کہ مسلمان چاہے ظالم ہو
24:28یا مظلوم ہو اس کی مدد کی جائے
24:30تو صحابہ اکرام نے کہا
24:32کہ یا رسول اللہ
24:33مظلوم کی مدد تو کی جا سکتی ہے
24:35ظالم کی مدد کیسی کی جائے
24:37تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا
24:41کہ اس کو ظلم کرنے سے روکو
24:43دیکھیں زینب صاحبہ
24:44نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے شاد فرمایا
24:46کہ قیامت کے دن
24:47اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ
24:50وہ حکمرہ ہوگا
24:51جو انصاف کے تقاضوں کو پورا کرتا تھا
24:54نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا
24:56کہ جس شخص کی دو بیویاں ہیں
24:58اور ایک دوسرے کا ایک کا حق ادا کرتا ہے
25:00اور دوسرے کے ساتھ زیادتی اور اختلفی کرتا ہے
25:03تو وہ قیامت کے دن
25:05اس حال میں داخل ہوگا
25:06کہ اس کا آدھا درد زمین پر گیا ہوگا
25:08نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے شاد فرمایا
25:10کہ جب کسی بھی معاملے میں
25:13فیصلہ کرنے بیٹھو
25:14تو انصاف کو ملوزے خاطے رکھو
25:17چاہے معاملہ تمہارا
25:18اپنے رشتے دار ہی کا کیوں نہ ہو
25:21کہ حضرت علی کرم اللہ وجو
25:23کا ذرہ چوری ہو گیا
25:24اور ایک یہودی نے چورایا
25:26تو انہوں نے قاضی کی عدالت میں مقدمہ درد کیا
25:29لیکن ثبوت نہ ملنے کی صورت میں
25:31وہ یہودی کے حق میں
25:33فیصلہ ہو گیا
25:34تو حضرت علی کرم اللہ وجو
25:36خاموش رہے اور انہوں نے کہا
25:38کہ یہی انصاف ہے
25:41یہودی جو تھا
25:42آپ کی اس بات سے
25:44اتنا متاثر ہوا
25:46کہ اس نے ذرہ بھی واپس کیا
25:47اور اسلام اس کو ندامت ہوئی
25:49اور اسلام کی دولت سے بھی
25:51مالا مال ہوا
25:52لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ
25:54ہمارے معاشرے میں لوگ
25:55اتنی زینب صاحبہ
25:57ایک دوسرے کے اصاف
25:58زیادتیاں کر دیتے ہیں
25:59اور پھر بھی شرمندی کے
26:01کوئی ذہن نہیں ہے
26:02مارا تو حقتہ ہم نے لے لیا
26:03رہے کیا ہو گیا
26:04دیکھا جائے گا
26:05بعد میں آج تو ہمیں فائدہ ہو گئے
26:07لوگوں کو کہہ کی تکلیف ہو لیے
26:08ہر موڑ پر چاہے دینی مسئلہ ہو
26:10چاہے دنیاوی مسئلہ ہو
26:12انصاف کے تقاضوں کو
26:14ملوز قاتل رکھا
26:15تاکہ معاشرے میں انصاف قائم ہو
26:18کسی غریب شخص کے ساتھ
26:20کوئی ذہاتی نہ ہو
26:21نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم
26:22نے یہ درس ہمیس لی دیا
26:24کہ کسی یتیم مساکین
26:26مفلس کے ساتھ کوئی ذہاتی نہ ہو
26:28کسی معذور یا بورے شخص کے ساتھ
26:31ذہاتی نہ ہو
26:32اور پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم
26:38وہی قومیں ترقی کرتی ہیں
26:40جو وہ لوگ ترقی کرتے ہیں
26:42جو انصاف کے تقاضوں کو
26:44ملوز قاتل رکھتے ہیں
26:45بے شک بے شک
26:46اور یہی انسان کی کامیابی ہے
26:49کہ وہ کس طرح دنیا میں کامیاب ہوتا ہے
26:52پھر وہ آخرت میں بھی فلاح اور کامیابی
26:54سے ہم کنار ہوتا ہے
26:55بار بار جا بجا یہ باتیں کی بھی جا رہی ہیں
26:58بتائی بھی جا رہی ہیں
26:59ذرمینہ آپ کی جانے باؤں گی
27:01آپ ارشاد فرمائے گا
27:02تو دوسروں کا حق تلف کرنے والے ہیں
27:03ان کی کیا سزا ہے
27:05کیا انجام ہے
27:06ازروع قرآن آپ ارشاد فرمائے گا
27:09جی بالکل دیکھیں
27:10جب کسی کا حق غزب کیا جاتا ہے
27:12حق تلفی اللہ اور اس کے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم
27:14کو جب سخت ناپسند ہے
27:16دنیا اور آخرت میں انسان
27:17ضلیل و رسوہ ہو جاتا ہے
27:19اس کو رسوائی ملتی ہے
27:20اس کا وقار جاتا رہتا ہے
27:21جیسے نقصانات کا پہلے بھی ذکر ہوا
27:23اب ازروع قرآن بھی definitely ہماری رہنمائی کی گئی ہے
27:25دیکھیں حق تلفی کرنا کیا ہے
27:27ظلم ہے نا
27:28زیادتی ہے
27:29ناانصافی ہے
27:30فساد بگاڑ
27:31انتشار پیدا کرنا
27:32تو ظلم
27:33جب اس کو کہا گیا زیادتی
27:34تو ظلم فرمایا گیا
27:35قیامت کے روز اندھیروں کی صورت میں ہوگا
27:37پھر قرآن پاک میں اشاد ہوتا ہے
27:39اللہ تعالیٰ ظلم کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا ہے
27:42اس لئے اس کا اعتقاب کرنے سے باز رہنا چاہیے
27:44پھر سورہ متتففین کے اندر فرمایا گیا
27:47وَيْلُ لِلْمُتَفِفِفِين
27:48تو ہلاکت ہے
27:49تباہی ہے نابطول میں کمی بیشی کرنے والوں کے لئے
27:51وَيْل کیا ہے وہ ہلاکت ہے
27:53تباہی ہے
27:54بربادی ہے
27:55اس شخص کے لئے جو نابطول میں کمی بیشی کرتا ہے
27:57کیونکہ اللہ اور اس کے حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
27:59کو یہ عمل قطعی ناپسند ہے
28:01سورہ بکرہ میں فرمایا گیا
28:05یعنی باطل طریقے سے جو بھی مال انسان کے پاس آتا ہے
28:08کسی کا حق غزب کر کے ہی آتا ہے
28:10تو پھر اللہ تعالیٰ اس کو پسند نہیں کرتا
28:12اور پھر اس کا فیصلہ کیا جاتا ہے
28:13اس کا انجام اچھا نہیں ہوتا ہے
28:15پھر یتیموں کے حوالے سے فرمایا گیا
28:17کہ باطل طریقے سے ان کے مال کو اپنے مال کے ساتھ
28:19مکس مت کرو اور مت کھاؤ
28:21جیسے بعض اوقات رقمے لوگ منی باہر سے ٹرانسفر کرتے ہیں
28:24اور صحیح حقداروں تک نہیں پہنچائی جاتی ہے
28:27تو یتیمہ کو جو مال غزب کر لیا جاتا ہے
28:29قرآن پاکیہ قائد کا مفہوم ہے ترجمہ کا
28:31کہ گویا وہ پیٹ میں آگ بھرنے کے مترادف ہے
28:34کہ سورہ شورہ کے اندر فرمایا گیا
28:39ظالمین کے حوالے سے کہ جلد ان کو ان کے انجام تک پہنچایا جائے گا
28:42یعنی اگر لوگ کمرشلی بلڈنگ لے لیتے ہیں
28:44کسی کا حق غزب کر لیتے ہیں
28:46زمین کا
28:46اور کسی کی حق تلفی کسی بھی جہد سے کرتے ہیں
28:49کسی بھی گوشے سے
28:50تو ان کو خوش ہونے کی ضرورت نہیں ہے
28:52اگر ابھی وہ
28:52وہ اپنے آپ کو درست سمجھ رہے ہیں
28:55کہ چلو کل دیکھی جائے گی جو بھی ہوگا
28:57کل کس نے دیکھا
28:58ایسے بھی کہہ دیا جاتا ہے
29:00لیکن لیٹر آن
29:01اس کا انجام اچھا نہیں ہوگا
29:03کیونکہ اللہ اس ظلم اور زیادتی
29:04حق تلفی کو کرتا ہی
29:05پسند نہیں فرماتا ہے
29:07اسی طرح سے دیگر قرآن پاک کی آیات بھی
29:09ہماری رہنمائی کرتی ہیں
29:10جس سے ہمیں یہ معلوم ہوتا ہے
29:11کہ میں ایک تلفیز سے گریز کرنا چاہیے
29:13یا میں ضرور ایٹ کرنا چاہوں گی
29:14کہ قرائے کا جو گھر ہوتا ہے
29:16لیکن اس سے پہلے مجھے یہ یاد آگئی
29:19جیسے پریویس اقوام کی بات ہوئی نا
29:21تو قرآن پاک میں ایک سورہ مبارکہ کا
29:23مفہوم سورہ کاف میں فرمایا گیا
29:24کہ جو پہلی بستیاں تھی
29:25ہم نے ان کو ہلاک کر دیا
29:27جب انہوں نے ظلم کیا
29:28تو حضرت شویب علیہ السلام کی قوم کا ذکر
29:30قرآن پاک کے آٹھ میں پارے کے
29:32پیج پہ اور پھر نائن پاک کے
29:33پارے کے سٹارٹ کے پیج پہ
29:35ہمیں ذکر ملتا ہے
29:36انڈیٹیل کہ ان کو کیوں ہلاک کیا گیا
29:38کیونکہ وہ ایک تو نابطول میں
29:39کمی بیشی کیا کرتے تھے
29:40دوسروں کا راستہ روکہ کرتے تھے
29:42ظلم و زیادتی کا ارتکاب کیا کرتے تھے
29:47آج کل یہ دیکھا گیا ہے
29:48سوسائٹی میں کہ
29:49قرآن پر لوگوں کو گھر دے دیے جاتے ہیں
29:51ہیلپ کرنا بھی چاہیے
29:52لیکن لیٹر آن
29:53اس پر قابض ہو کے بیٹھ جاتا ہے
29:56قرآن پاک میں
29:59ہمیں ذکر کا مفہوم ملتا ہے
30:01اس حوالے سے
30:01کہ کسی نے ایک بالشت بھی زمین کسی کیا تھا
30:04ہی تو قیامت کے روز
30:06اس زمین کے ہتھیانے پر
30:07سات زمینوں کا توک اس کے گلے میں
30:09ڈالا جائے گا
30:09محادثی نے اس حوالے سے یہ بھی لکھا
30:11میں پڑھ رہی تھی
30:12کہ اس کو ساتوں زمینوں کی تحت تک
30:14کھودنے پر لگا دیا جائے گا
30:16تو یہ کتنا عذیت
30:17اور کتنا تکلیف دے عمل ہے
30:19تو حق تلفی ایک برامل ہے
30:21ناپسندیدہ عمل ہے
30:22اللہ کے غزب کو
30:24ہم دعوت دے رہے ہوتے ہیں
30:25خدا نہ خاصتہ گرام
30:26اس پر ارتکاب کر رہے ہوں
30:27سیلف اکاؤنٹی بلیٹی بہت
30:29ضرورزانہ محاسبہ کرنا چاہیے ہمیں رات کو
30:39محنت کو نظر انداز کر دیتے ہیں
30:41حق تلفی یہ بھی ہے
30:42کہ آپ کسی کے وقت کی قدر نہیں کرتے ہیں
30:44حق تلفی یہ بھی ہے
30:45کہ آپ کسی کے احساسات کو
30:46زخمی کر دیتے ہیں
30:47تو یہ وہ عمل ہے
30:49حق تلفی ایسا ظلم ہے
30:50جو بظاہر تو شور نہیں مچاتا
30:52لیکن دلوں کے اندر دراریں پیدا کر دیتا ہے
30:54اور اللہ تعالی ظالمین کو محلت تو دیتا ہے
30:57لیکن ان کی عمل سے غافل نہیں ہوتا
30:58جلد وہ دن آئے گا
31:00جب زبانیں خاموش ہو جائیں گی
31:01اور وہ حقوق جو دبائے گے
31:03وہ عدل کے طرازوں میں
31:04تول کر لوٹائے جائیں گے
31:05so it's really very important
31:07کہ اگر ہم نے کسی کی حق تلفی کی ہے
31:09تو خوددارہ ہم اس سے باز رہیں
31:11اور اس کا ازالت جلد جلد کرنے کی کوشش کریں
31:14بے شک
31:15اور ظرمینہ آپ نے بالکل درست بات فرمائی ہے
31:18کہ کوئی شخص بہت زیادہ محنت کر رہا ہے
31:21اس کی محنت کو پسپش ڈال کر
31:23سفارش پر کسی لوگوں کو بٹھا دیا جاتا ہے
31:26اور یہ بڑی حق تلفی ہے
31:28صرف مال اور دولت کی جائدات کے اور زمین کی حق تلفی
31:32یہ تمام چیزیں بھی حق تلفی میں آتی ہیں
31:34اور اللہ رب العزت یقینی طور پر
31:37دلوں کے حال کو
31:38ہر معاملے کو بہتر طور پر جانتا ہے
31:41اور وہ بہتر انصاف کرنے والا ہے
31:44ڈاکٹر صاحب آپ کی آمد کا بہت شکریہ
31:46عزرمینہ آپ تشریف لائیں
31:47آپ کی آمد کی بہت مشکور ہوں
31:49جناب حق تلفی کے تعلق سے آج بات ہوئی
31:53اور کیا ہم سمجھتے ہیں
31:55وہ دن دور نہیں ہے
31:56جب حق کا فیصلہ حق کے ساتھ کیا جائے گا
31:59جہاں انصاف کے ساتھ
32:01ہر ایک کا فیصلہ ہوگا
32:03سب کو اپنے اپنے حقوق دیے جائیں گے
32:06تو کیا ہم روز آخرت پر
32:08یقین نہیں رکھتے
32:09کیا ہمیں اس دن کا انتظار نہیں
32:12جب ہمارے فیصلے کے جائیں گے
32:14تو ہم جن کی حق تلفی ہو رہی ہے
32:16وہ مطمئن ہو جائیں
32:17اور جو حق تلف کر رہے ہیں
32:18وہ اللہ کا خوف اپنے دل میں رکھیں
32:21اللہ مجھے اور آپ کو
32:23خوف الہی اپنے دل میں رکھنے
32:25اور دوسروں کا حق
32:26بہترین انداز سے
32:27ادا کرنے کی توفیق خطہ فرمائے
32:30اس کے ساتھ ہی اپنی میزمان سیدہ
32:31زینب کو دیجے گا اجازت
32:33السلام علیکم ورحمت اللہ وبرکاتہ
32:40موسیقی
Comments