Skip to playerSkip to main content
Dars-e-Bukhari Shareef - Speaker: Mufti Muhammad Akmal

Watch All the Episodes || https://www.youtube.com/playlist?list=PLQ74MR5_8XifqqMqj-CSEsTT2kgVuPG2D

#MuftiMuhammadAkmal #DarseBukhariShareef #IslamicInformation

Collect the pearls of wisdom dormant in Sahih Bukhari, Dars-e-Bukhari Shareef is a 30 min long lecture-based program, in which Mufti Muhammad Akmal will explain Ahadith of Sahih Bukhari- the most Acknowledged and authentic collection of the sayings of Prophet Muhammad (PBUH) by Imam Bukhari.

Join ARY Qtv on WhatsApp ➡️ https://bit.ly/3Qn5cym
Subscribe Here ➡️ https://bit.ly/aryqtv
Instagram ➡️️ https://www.instagram.com/aryqtvofficial
Facebook ➡️ https://www.facebook.com/ARYQTV/
Website ➡️ https://aryqtv.tv/
Watch ARY Qtv Live ➡️ http://live.aryqtv.tv/
TikTok ➡️ https://www.tiktok.com/@aryqtvofficial
Transcript
00:13بسم اللہ الرحمن الرحیم
00:32اس حدیث کی کچھ باتیں رہ گئی تھیں
00:34ایک دفعہ میں حدیث دوبارہ عرض کر دیتا ہوں
00:36باتوں میں کلام کرتے ہیں
00:37حضرت ابو حریرہ
00:38رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں
00:41کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے
00:43سواروں کے شہر پہنچنے سے پہلے
00:46ان سے ملاقات کرنے سے منع فرمایا
00:50اور مہاجر یعنی شہری کی دیہاتی کے ساتھ
00:54بے سے منع فرمایا
00:56ان دو پہ ہم کلام کر چکے ہیں
00:59اور اس سے منع فرمایا
01:01کہ کوئی عورت اپنے سوکن کی
01:03طلاق کی شرط لگائے
01:05اس پر تھوڑا سا کلام ہوا تھا
01:07تھوڑا باقی تھا
01:08کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم
01:10نے اس چیز کو ناپسند فرمایا
01:12کہ ایک عورت اپنا گھر بسانے کے لیے
01:14دوسرے کے گھر اجارنے کی شرط لگائے
01:18رحمت کونین صلی اللہ علیہ وسلم
01:21کا فرمانِ علی شان ہے
01:22کہ جو عورت بغیر کسی صحیح عذر کے
01:26اپنے شوہر سے طلاق کا
01:29مطالبہ کرے
01:30تو وہ برود قیامت جنت کی
01:33خوشبو بھی نہیں پاسکتے
01:34یعنی یہ بہت بڑا گناہ ہے
01:37بہت بڑا جرم ہے
01:38نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم
01:40جب کسی فیل پر آخرت کے
01:43کسی عذاب کا ذکر کریں
01:44تو یاد رکھیں کہ وہ کام
01:46گناہ کبیرہ ہوتا ہے
01:48اس کا مطلب ہے کہ عورت کا بغیر
01:50کسی شرعی وجہ کے
01:52اپنے شوہر سے مطالبہ
01:54طلاق کرنا یہ گناہ کبیرہ ہے
01:56اور اس کی سزا یہ ہے
01:58کہ وہ برود قیامت جنت کی
02:00خوشبو بھی نہیں پاسکتی
02:01یعنی جنت میں داخلہ تو دور کی بات
02:04اس کی خوشبو بھی نہیں پائے گی
02:05وہ بہت دور سے آتی ہے
02:07اس کی مہک اور اس کی
02:08لطائف نظر آتے ہیں
02:10لیکن ایسے عورت کو
02:10اس سے بھی محروم رکھا جائے گا
02:12اس سے پہلی بات تو یہ ہے
02:13کہ ہماری وہ بہن درس حاصل کریں
02:15جو چھوٹی چھوٹی باتوں پر
02:17شوہر سے طلاق کا مطالبہ کرتی ہیں
02:18اور ایموشنلی بلیک میلنگ کے لیے
02:21بعض اوقات میکے جا کر بیٹھ جاتی ہیں
02:23کہ یا تو طلاق دو
02:24یا پھر میری یہ یہ شرطیں مانو
02:26اور اس وقت پھر بہت سے شوہر
02:28بعض محبت میں
02:30بعض کسی اور وجہ سے
02:32ان کا کوئی ویک پوائنٹ بیوی کے ہاتھ میں ہوتا ہے
02:34اس وجہ سے
02:34اور یا پھر یہ کوئی شریف آدمی ہوتا ہے
02:37کہ خاندان والے دنیا والے کیا کہیں گے
02:39یا چھوٹے چھوٹے بچوں کی خاطر
02:41بعض اوقات مرد سرینڈر کر دیتا ہے
02:43اور عورت کی شرائط مان کر
02:45اس کو اپنے گھر لے کر آتا ہے
02:48اس کے بعد وہ عورت سمجھ لیں
02:49اپنی آخرت کو زباہ کر دیتی ہے
02:52اس وجہ سے کہ پھر وہ عارضی انکساری
02:55اور ایک محکومہ ہونا
02:57شوہر کو حاکم سمجھنا
02:59یہ سب چیزیں ختم ہو جاتی ہیں
03:00اور پھر وہ بات بات پر دھمکیاں
03:03اور کیونکہ ویک پنٹ شوہر کا ہاتھ میں آ گیا
03:05اور بات بات میں شوہر کو
03:07زلیل کرنا عادت بنا لیتی ہے
03:09اور اس طرح گناہ در گناہ در گناہ
03:11اس کے نام عمال میں لکھے جاتے رہتے ہیں
03:14اس قسم کی باتیں سن کر
03:15بعض ہماری بہنیں کہتی ہیں
03:17کہ مفتی صاحب آپ مرد ہیں
03:18اس لیے مردوں کی تائید میں بات کرتے ہیں
03:20ایسی بات نہیں ہے
03:22ہمارا کام ہے شریعت کو بیان کرنا
03:24اگر ہم کسی ایک کی طرف داری میں
03:26دوسرے کے لیے
03:28احکام شرعہ کو چھپائیں گے
03:30تو یاد رکھیں ہماری گریفت ہے
03:31اور میں اتنا بھولا بھالا نہیں ہوں
03:33کہ میں کسی ایک کی رضا حاصل کرنے کے لیے
03:35جبکہ مرد حضرات مجھے سب
03:36پتہ بھی نہیں ہوگا
03:38کہ میں ان کی وقالت کر رہا ہوں
03:39کہ نہیں کر رہا ہوں
03:40اور ان کے لیے اپنے آخرت برباد کر دوں
03:41ایسا نہیں ہے
03:42یہ بھی ایک شیطان کا بہت بڑا وار ہے
03:44کہ انسان کو حق قبول کرنے سے
03:47اس لیے روک دیتا ہے
03:48کہ اس طرح کی تعویلیں دیتا ہے
03:49یہ تو اس لیے بیان کر رہے ہیں
03:50یہ تو اس لیے بیان کر رہے ہیں
03:51یہ چھوڑ دیں کیوں ہیں
03:54یہ چھوڑیں کیا ہے
03:55یعنی یہ دیکھیں کہ کیا ہے
03:57تو اس لیے پہلی بات تو یہ ہے
03:58کہ ہماری بہنیں
03:59مرد بھی بہت ایسے ہوتے ہیں
04:00لیکن ان پر ہم پھر کلام کریں
04:02کہ بھی عورتوں کی بات ہے
04:03تو اس لیے اس میں خیال کریں
04:05تو جب ایک عورت
04:06اپنے شوہر سے
04:08مطالبہ طلاق کرے
04:09تو یہ خرابیاں لازم آتی ہیں
04:10اسی طریقے سے
04:11اس حدیث کے اندر
04:12کسی اور عورت کے لیے
04:14مطالبہ طلاق بھی منع
04:16کہ سوکن کی شرط لگانا
04:18کہ یہ طلاق اس کو دو
04:19یعنی بعض اوقات تو ایسا ہوتا ہے
04:21کہ میں نے اس کی کچھ مثالیں دی تھی
04:23کہ ایک آدمی دوسری شادی کرنا چاہتا ہے
04:25تو بیوی کہتی ہے
04:26کہ پہلے مجھے طلاق دے دو
04:28تو کیا یہ طلاق
04:30کئی ویلیڈ ریزن ہے
04:31یقینا یہ ویلیڈ ریزن نہیں ہے
04:35اللہ نے شہر کو مرد کو
04:38ایک سے زیادہ شادیوں کی
04:40اجازت مرحمت فرمائی ہے
04:42فَانْكِحُمْ مَا طَوْبَ لَكُمْ مِنَ النِّسَائِ مَثْنَا وَسُلَاثَ وَرُبَعَ
04:46تمہیں جو اے مردوں
04:48تمہیں جو عورتیں پسند ہوں
04:49تم ان سے نکاح کر سکتے ہو
04:51دو دو سے تین تین سے اور
04:53چار چار سے
04:54یعنی ایک وقت میں ایک مرد
04:56چار عورتوں کو بھی
04:58اپنے نکاح میں رکھ سکتا ہے
05:00بشرت ہے کہ ان کے حقوق سے ادا کر سکے
05:02اور ان کے درمیان عدل و انصاف
05:05کر سکے جو اکثر دوسری شادی
05:07کرنے والوں کو نہیں پتا ہوتے گناہگار
05:08ہوتے رہتے ہیں لیکن یہ اختیار ہے
05:11تو یہ شرط لگانا کہ نہیں اگر مجھے رکھنا ہے
05:13تو یعنی
05:14اس کو اگر شادی کرنی ہے تو مجھے طلاق دو
05:16یہ غلط ہے یہ مطالبہ صحیح نہیں ہے
05:18بعض اوقات ایسا ہوتا ہے مرد خفیہ شادی کر لیتا ہے
05:22تو اب یہ
05:22گھر والوں کو پتہ چلتا ہے بیوی کو بولتی ہیں
05:25یا تم مجھے طلاق دو یا اس کو طلاق دو
05:27یہ بھی بالکل غلط ہے
05:28ایسی بعض اوقات تو دوسری شادی جب آدمی کرنے لگتا ہے
05:31تو دوسری بیوی ایک انڈیشن لگاتی ہے
05:33کہ پہلے والی کو طلاق دو
05:35تو پھر میں تم سے نکاح کروں گی
05:36اور بعض اوقات انسان اپنی خواہشات
05:39نفسانی کے تابع ہو کر
05:40نہ اپنی بیٹیوں کو دیکھتا ہے
05:42نہ اپنے بچوں کو دیکھتا ہے
05:44نہ بیوی کے جذبات احساسات
05:45نہ اپنے خاندان میں
05:47ایک طرح کسے
05:49مطلب ڈی گریڈ ہونے کو
05:50اپنے ملحوظ رکھتا ہے
05:52بس شادی ہو جائے کسی طریقے سے
05:54وہ سارے خطرات مول لے کر
05:56اور سارے نقصانات برداشت کر کے شادی کر لیتا ہے
05:59پھر دو دن کے اندری حضرت کو ہوش آ جاتے ہیں
06:02کیونکہ خواہش نفسانی تھی
06:03جس نے اقل کو ماوف کر دیا تھا
06:05اور مکمل طور پر انسان اپنی اقل کو استعمال نہیں کر پاتا
06:09اور وہ سمجھتا اپنے آپ کو بڑا سمجھدار ہے
06:12دو دن کے اندر جب نفسانی خواہش پوری ہوتی ہے
06:14تقاضائے نفسانی بیڑ جاتے ہیں
06:16اقل کھل جاتی ہے
06:18اس وقت پھر وہ سمجھتا ہے
06:19کہ بہت بڑا دھوکا ہوا ہے
06:20پھر روتا وہ پہنچ جاتا ہے پہلی والی کے پاس
06:23مجھے ماف کر دو بس یہ ہو گیا اور وہ ہو گیا
06:25اور بچوں سے بھی مافیاں مانگیں گے
06:28یعنی خاتون نے مجھے بتایا
06:29کہ میرے شوہر نے دوسری شادی کی
06:31جب میرے بچے بالکل چھوٹے چھوٹے تھے
06:33اور وہ بیوی کے ساتھ چلا گیا
06:36میں نے اپنے بچوں کو جیسے تیسے پالا
06:38اب جب وہ بالکل جوان ہو گئے ہیں
06:40جب بچے جوان ہو گئے ہیں
06:41تو عورت کی عمر کیا ہو گئی
06:42کہ آپ اندازہ کریں
06:43تو دوسری بیوی نے وہاں پہ لات مار دی
06:45وہاں سے نکل کر اب آگیا
06:47کہ مجھے اپنے ساتھ رکھ لو
06:49تو بہرحال اب اس کا کیا شرح حکم تھا
06:51وہ یا میرا کوئی ابھی وہ
06:52احکام شریعت پرگرام نہیں ہے
06:54درس بخاری ہے
06:55لیکن میں کہا آپ کو ارز کر رہا ہوں
06:57کہ وہاں پہ پہلے آپ خوار ہوئے
06:58آپ نے بچوں کو تباہ و برباد کیا
07:01اس عورت کی پوری جوانی خراب کی
07:03اتنے بڑے ظلم کیے
07:04اور اب آخر میں معصوم بن کر آگے
07:06کہ مجھے دوبارہ رکھ لو
07:07کیوں نہیں رہے آپ وہاں پر
07:09تو بہرحال خلاصہ کلام یہ ہے
07:11کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم
07:12نے اس سے منع فرمایا
07:13اور یاد رکھیں
07:15کہ کسی کے گھر کو خراب کرنا
07:17یعنی طلاق کی خواہش رکھنا
07:20یہ بہت برا ہے
07:21رحمتِ قونین صلی اللہ علیہ وسلم
07:23فرماتے ہیں
07:23کہ عصر کے وقت
07:25شیطان سمندر پہ اپنا تخت بچھاتا ہے
07:28یعنی ابلیس بیٹھتا ہے
07:29اور اس کے دلوے چیلے چاٹے ہیں
07:31وہ سب آ کر سارا دن کی رپورٹ دیتے ہیں
07:33تو کوئی کہتا ہے
07:34میں نے زنا کروا دیا
07:36شیطان کہتا ہے اچھا کیا
07:38لیکن کوئی اتنا جوش نہیں دکھاتا
07:39کوئی کہتا ہے
07:40میں نے چوری کروائی
07:41کہتا ہے اچھا کیا
07:41ایک آ کر کہتا ہے
07:43کہ میں نے
07:43میاں بیوی کے اندر جدائی کروا دی
07:46تو شیطان اچھل کے کھڑا ہو جاتا ہے
07:48تخصر اس کو سینے سے لگاتا
07:49اور کہتا ہے
07:50تو نے کام کیا
07:51تو نے کام کیا
07:52کیونکہ سب سے خطرناک چیز ہوتی ہے
07:54دو گھروں کو ختم کر دینا
07:55دو خاندانوں کے دل میں
07:57نفرت پیدا کر دینا
07:58اور اس سے پھر خرابیاں جنم لیتی ہیں
08:02بچوں کی زندگی برباد ہو جاتی ہے
08:04ان کی ذہنی
08:06اور جسمانی نشو نمہ پر فرق پڑتا ہے
08:09وہ ڈپریسٹ ہو جاتے ہیں
08:10احساس سے کم تری بیدار ہوتا ہے
08:12اتنی خرابیاں
08:13پھر عورت کے جوانی خراب ہو
08:15اگر بچوں کو چھوڑ کے اور شادی کرے
08:17تو بچے کہاں جائیں گے
08:18ان کو ساتھ رکھے
08:19تو دوسرا کوئی مرد رکھنے کے لئے تیار نہیں
08:21لیکن مرد حضرات
08:22بعض اوقات اپنی خواہشات کو پورا کرتے ہیں
08:24ایسی میں ان بہنوں سے بھی
08:26معدبانہ گزارش کرتا ہوں
08:27کہ جب ایک کو سوکن
08:29اب مطالبہ طلاق کرے
08:30نبی کریم نے منع فرمایا
08:32اور ناپسند فرمایا
08:33تو پھر ہماری بعض بہنیں
08:35اپنے خاندان میں
08:35کسی کو خوش دیکھتی ہیں
08:37کہ ہزبنڈ وائب بہت خوش ہیں
08:39کبھی جی باہر جا رہے ہیں
08:40دوبئی گھومنے جا رہے ہیں
08:41کبھی فلان جگہ
08:42یہ جلتی کرتی رہتی ہیں
08:44اپنے گھر کے محول کو دیکھ کر
08:55وہ اپنا کام چلاتی ہیں
08:57اور بھی جمالوں کا
08:59معدرت کے ساتھ
09:00کے کردار ادا کر کے
09:01بعض اوقات طلاقے کروا دیتی ہیں
09:03بہت پھر خوش ہوتی ہیں
09:04لیکن آپ کی یہ خوشی
09:06اگر کوئی ایسی بہنہ میں سن رہی ہے
09:07ویسے تو سنتی نہیں ہے
09:08ہدایت اللہ دے بس میں
09:10دعے کر سکتا ہوں
09:11اور اگر سنیں
09:12تو پھر ان کو غصانہ شروع ہو جاتا ہے
09:14لیکن ہو سکتا ہے
09:15کوئی ایسی بہن ہوں
09:16کہ جو ہدایت حاصل کرنا چاہیں
09:18آپ نے اگر کسی کو ایسا کر دیا ہے
09:20تو سمجھ لیں
09:21آپ نے تباہی اپنے لئے مول لے لیے
09:23کیونکہ یہ ایک
09:23خالی گھر خراب کرنا ہی
09:25یہ برائی نہیں ہے
09:26اس کے بعد جتنے ان کو
09:28دکھ اور غم
09:29اس وجہ سے پہنچتے رہیں گے
09:30آپ اس میں برابر کی شریک رہیں گی
09:32یعنی آپ کو گناہ ملتا رہے گا
09:34گھر خراب کر کے
09:36نہ شوہر بچارہ سکون سے رہتا ہے
09:37نہ بیوی رہتی ہے
09:38ان کے اپنے خاندان والے
09:40اور خاص طور پر چھوٹے چھوٹے بچے
09:42تباہ ہو جاتے ہیں
09:43آپ نے بس
09:44تھندک دل میں پیدا کر لی
09:45کسی خنس کی وجہ سے
09:48کسی انتقام کی وجہ سے
09:50یا وہی حسد اور جیلیسی
09:51لیکن کسی بھی صورت میں
09:53آپ ناقابل گرفت نہیں ہیں
09:57اور یہ قابل معافی نہیں ہے
09:58جب تک کہ آپ ان کے پاؤں پکڑ کر
10:00اقرار کریں
10:01کہ ہاں میں نے سب یہ
10:02لگائی بجائی جھوٹ
10:04اور بدگمانیاں پیدا کی تھی
10:05مجھے معاف کر دو
10:06اور اللہ کی بارگاہ میں
10:07پھر سارے زندگی گڑ گڑائیں
10:09ہو سکتے اللہ تعالیٰ آپ کو معاف فرما دے
10:11اور اس کی رحمت بہت بڑی ہے
10:12لیکن اگر اس سرکشی پر قائم رہے
10:15تو پھر یہ مرنے کے بعد
10:17جو عذابات قبر متوجہ ہو سکتے ہیں
10:20علمانہ لفیظ
10:21جو سرکار نے شب محراج میں
10:23معاملات دیکھے ہیں
10:25اگر آپ وہ سن لیں
10:26تو بہت ساری بہنیں
10:27اپنے گناہوں سے توبہ کریں گے
10:29تو بہرحال سرکار نے اس سے منع فرمایا
10:31کہ کوئی عورت اپنے سوکن کی تلاقی شرط لگائے
10:34اور اس سے منع فرمایا
10:35کہ کوئی شخص اپنے بھائی کی قیمت پر قیمت لگائے
10:40اس کا مطلب یہ ہے
10:41کہ دو آدمی اگر سودا کر رہے ہوں
10:43اور اب ان میں سودا جاری ہو
10:45جیسے آپ منڈی میں جاتے ہیں
10:47تو گائے ایک کہہ رہا ہے
10:48یار پانچ لاکھ
10:48وہ کہتا ہے
10:49وہ کہہ رہا ہے نہیں ہے
10:50ساڑھے چار لاکھ لے لو
10:51وہ کہتا ہے نہیں
10:52یہ جو قیمت چل رہی ہے
10:54اگدم آپ پہنچ گئے
10:55آپ نے کہا سوا پانچ مجھ سے لے لو
10:57یہ اس کا سودا خراب کرنا ہے
10:59یہ نبی کریم نے منع فرمایا
11:00وجہ اس کی کیا ہے
11:01کہ اس سے دل میں کینہ
11:03بغض اور نفرت بیٹھے گی
11:04وہ شخص جس کا سودا آپ نے خراب کیا
11:07وہ آپ سے ناراض ہوگا
11:09اس کے دل میں آپ کے لئے کینہ بیٹھے گا
11:11نفرت بیٹھے گی
11:12اور شریعت اس کو پسند نہیں کرتی ہے
11:15اور رحمت کونین صلی اللہ علیہ وسلم
11:16نے مزید فرمایا
11:25یعنی کسی خریدار کو پھسانے کے لئے
11:27خاصی الفاظ ہیں
11:29ترجمہ یہی ہے
11:31اور یہ ایسا ہوتا ہے
11:32کہ مثال کے طور پر
11:33ایک سودا چل رہا ہے کسی کا
11:36اور دکاندار آپ کا جان پہچان والا ہے
11:39اور وہ چیز کی قیمت
11:41کافی زیادہ بتا رہا ہے
11:42مثال کے طور پر
11:43قیمت ہے سو روپے
11:44اور کہہ رہا ہے ہزار روپے
11:45اور گاہ کہہ رہا ہے
11:46کہہ رہا ہے بہت مہنگی لگ رہی ہے
11:47آپ پہنچ گئے
11:48آپ نے کہا کہ بھائی
11:49ہزار یہ تو بہت صحیح عرض
11:51ایک ہزار ایک سو میں مجھے دے دو
11:54تو وہ گاہ کہہ گا
11:55نہیں نہیں بھائی پہلے میرا سودا ہونے دو
11:56میں لے رہا ہوں
11:57تم کام بیچ میں آگیا
11:58اس طرح کر کے
11:59یعنی قیمت بڑھا کر
12:00تاکہ یہ زیادہ قیمت لینے پر
12:02مجبور ہو جائے
12:03اس میں اصل میں دھوکہ ہوتا ہے
12:05بعض اوقات تو یہ
12:05پری پلین ہوتا ہے
12:07ٹریپ میں لیتے ہیں
12:08کسی کو ایسا آدمی بٹھایا ہوتا ہے
12:09تاکہ وہ مصنوع قیمتیں بڑھائیں
12:11اور ہم زیادہ زیادہ گاہ کو لوٹ سکیں
12:13تو یہ سرکار نے منع فرمایا
12:16کیونکہ اس میں دھوکہ ہے
12:17جھوٹ ہے
12:18فراڈ ہے
12:19اور اپنے مسلمان بھائی کو
12:21خواہ مخواہ نقصان پہنچانا ہے
12:22اور ایک ہوتا ہے
12:24کہ آپ قیمت بڑھا رہے ہیں
12:25صرف اس لیے
12:26تاکہ دکاندار کا نقصان نہ ہو
12:29اس کا طریق کیا ہے
12:30کہ مثال کے طور پر
12:31پانچ سو روپے کے چیز ہے
12:33آپ بھی اچھی طرح جانتے ہیں
12:34مثلا آپ بھی تاجیر ہیں
12:35اور وہ گاہک کہہ رہا ہے نہیں
12:37ساڑھے چار
12:40دکاندار کہہ رہا ہے پانچ سو
12:41وہ کہہ رہا ہے ساڑھے چار سو
12:42حالانکہ پانچ سو
12:43بلکل واجبی قیمت ہے
12:44اس میں پھر آپ نے آ کر کہا
12:46کہ پانچ سو میں مجھے دے دو
12:47ان کو چھوڑو مجھے دے دو
12:49تو گاہک نے کہا
12:50نہیں نہیں بھائی
12:50میں پہلے بات کر رہا ہوں
12:51ٹھیک ہے میں پانچ سو پہ تیار ہوں
12:53اب آپ نے اس کو ساڑھے چار سو
12:54سے پانچ سو پہ لے کر آئے
12:56اس لئے نہیں کہ اس کو پھسانا ہے
12:57یا اس کی جیب سے کچھ نکلوانا ہے
12:59بس لئے اس لئے کہ یہ وچارہ
13:01سمجھ دا سمجھ میں نہیں آتی
13:02اس کو ابھی
13:03یہ ابھی اونچ نہیں جانتا نہیں ہے
13:05قیمتیں نہیں جانتا ہے
13:06اور اس کی قیمتیں خرید سے بھی کم دے رہا ہے
13:09تو وہاں تک اس کو پہنچا دیا
13:11اس طرح دکاندار نقصان سے بچ گیا
13:13یہ ایک مصبت پہلو ہے
13:16اور ایک اچھی سوچ اور فکر کے ساتھ
13:18کسی نے کیا ہے
13:19اس کی گنجائش ہے
13:20اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم
13:22نے اونٹنی یا بکری کے
13:23تھنوں کو باندھنے سے منع فرمایا
13:26اس کے مطلب یہ ہے
13:27کہ وہ جو تھے
13:29دکاندار جو یہ جو
13:30بکریوں کا کام کرتے تھے
13:32یا بھینسوں کا
13:32یہ ان کے تھنوں کو باندھ دیا کرتے تھے
13:34تاکہ دودھ وہاں جمع نظر آئے
13:36اور پھر وہ بزار میں لے کے جاتے تھے
13:38تو وہ تھن بھرے ہوئے نظر آتے تھے
13:40اور وہ کہتے تھے
13:40یہ بڑا دودھ دیتی ہے
13:42یہ گائے بکری
13:43تو اس کے بڑے تھنوں کو دیکھ کر
13:45کوئی جلدی سے لے لیا کرتا تھا
13:46لیکن حقیقتاً ایسا نہیں تھا
13:48کیونکہ وہ جب تھنوں میں دودھ جمع ہوتا رہتا
13:50اور آپ نکالے نہیں
13:51تو لازم بات ہے
13:52کہ وہ بڑے نظر آئیں گے
13:53اور اس طرح دھوکہ دینا مقصود ہوتا تھا
13:56ایک آدمی یہ سمجھ کر
13:58کہ یہ گائے یا بھینس یا بکری
13:59زیادہ دودھ دے گی
14:01وہ لے گیا
14:02گھر جا کے پتا چلا
14:03کہ ایک دفعہ میں زیادہ نکلا
14:04جو جمع شدہ تھا
14:05اور پھر وہ بلکل دودھ نہیں نکل رہا
14:07تو یہ غلط طریقہ ہوتا ہے
14:09اس میں بھی چونکہ دھوکہ دہی ہے
14:10اس لئے رحمت کونین صلی اللہ علیہ وسلم نے
14:13اس سے منع فرمایا
14:16اگلی حدیث کی طرف آتے ہیں
14:17اس کا باپ قائم کیا ہے
14:19باب الشروطی معا ناسی بالقول
14:20لوگوں کے ساتھ زبانی شرطیں لگانا
14:25اس کا باپ
14:26دو ہزار سات سو اٹھائیس نمبر حدیث پاک ہے
14:29اور حضرت سعید بن جبائر
14:32رضی اللہ تعالی عنہ
14:35روایت بیان کرتے ہیں
14:36انہوں نے کہا
14:37کہ بے شک ہم حضرت ابن عباس
14:39رضی اللہ تعالی عنہ کے پاس تھے
14:41انہوں نے کہا
14:43کہ مجھے حضرت عبی بن قعب
14:45رضی اللہ تعالی عنہ
14:46نے یہ حدیث بیان کی
14:47کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
14:50اب نے اشارت فرمایا
14:51کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام
14:53جو اللہ کے رسول ہیں
14:55پھر سرکار نے حدیث ذکر کی
14:57کہ حضرت خضر نے کہا
14:59کیا میں نے تم سے یہ نہیں کہا تھا
15:01کہ تم میرے ساتھ ہرگز
15:03صبر نہیں کر سکتے
15:04یعنی آیت پڑی سرکار صلی اللہ علیہ وسلم نے
15:07پہلی مرتبہ بھول تھی
15:09اور دوسری مرتبہ شرط تھی
15:11اور تیسری مرتبہ قصد تھا
15:14حضرت موسیٰ نے کہا
15:16کہ میری بھول پر مجھ سے معاخضہ نہ کیجئے
15:18اور میرے کام میں مجھ پر دشواری نہ ڈالیے
15:21یہ بھی سورہ کحاف کے آیت نمبر تیہتر کا حصہ
15:23جب وہ دونوں ایک لڑکے سے ملے
15:26تو حضرت خضر نے اس کو قتل کر دیا
15:28یہ آیت نمبر سیونٹی فور
15:30پھر وہ دونوں آگے چلے
15:32پھر ان دونوں نے ایک دیوار دیکھی
15:34جو گرنے والی تھی
15:35تو حضرت خضر نے اس کو سیدھا کر دیا
15:38حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما نے یہ قرات کی
15:42کہ ان کے آگے بادشاہ تھا
15:46اب اس کو سمجھیں کہ کہنا کیا بات کیا چل رہی ہے
15:49یہ آپ سمجھ کے ہوں گے
15:51کہ حضرت خضر علیہ السلام
15:52اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کا ایک واقعہ
15:56قرآن میں موجود ہے
15:57اور شروع میں ہم نے ایک حدیث بیان کی تھی
15:59کہ ایک مرتبہ سرکار نے شاہد فرمایا
16:01کہ موسیٰ علیہ السلام اپنی قوم سے خطاب فرما رہی تھے
16:04تو ایک شخص نے کوئیسن کیا
16:05کہ کیا آپ سے زیادہ
16:08اس قوم میں کوئی علم والا ہے
16:10تو موسیٰ علیہ السلام نے شاہد فرمایا کہ نہیں
16:13اور یہ حقیقت کا بیان تھا
16:15کیونکہ ہر نبی اپنی قوم میں
16:16سب سے زیادہ صاحب علم ہوتا ہے
16:18تو اللہ تعالیٰ نے پھر حضرت موسیٰ علیہ السلام پر
16:21وحی نازل فرمائی
16:22کہ میرا ایک بندہ ایسا ہے
16:23کہ جس کے پاس آپ سے زیادہ علم ہے
16:25یعنی مقصوص چیز کا علم ہے
16:28تو آپ نے پھر عرض کی
16:29اللہ کی بارگاہ میں
16:30کہ اللہ تعالیٰ مجھے وہاں تک رہنمائی فرما
16:32اور پھر قصہ مختصر یہ
16:34کہ آپ جیسے تیسے وہاں تک پہنچیں
16:36طویل سفرہ تیہ کر کے وہاں تک پہنچیں
16:38اور وہ حضرت خضر علیہ السلام تھے
16:41خضر علیہ السلام نے فرمایا
16:42کہ آپ میرے ساتھ رہیں
16:44میں آپ کو علم دکھا دوں گا سکھا دوں گا
16:46لیکن شرط یہ ہوگی
16:47کہ آپ مجھ سے کسی چیز کے بارے میں
16:49کویسن نہیں کریں گے
16:51سوال نہیں کریں گے
16:52تو موسیٰ علیہ السلام نے
16:53ارشاد فرمایا کہ ٹھیک ہے
16:55تو یہ چلے ایک دریہ تک پہنچے
16:57تو وہاں ایک کشتی تھی
16:58ان لوگوں نے آپ ان دونوں کو
17:00بزرگ سمجھ کے
17:00اس کشتی میں بٹھایا
17:01جب نصف دریہ تک پہنچی
17:04تو حضرت خضر علیہ السلام نے
17:05کلھاری تھی
17:06اس سے کشتی کے اندر سراخ کر دیا
17:08انہیں ایسا سراخ کر دیا
17:10کہ ڈوبے نہیں
17:11لیکن سائیڈ سے جیسے وہ
17:12اکھار دیا تختیں
17:13تو موسیٰ علیہ السلام نے کہا
17:15کہ یہ آپ نے کیا کیا
17:16انہوں نے ایک تو ہمیں
17:19ہمارا خیال کیا
17:20ہمیں دریہ پار کرنے میں مدد دی
17:22اور آپ نے ان کی کشتی کو توڑ دیا
17:24تو حضرت خضر علیہ السلام نے
17:26اشارت فرمایا
17:27کہ کیا میں نے نہیں کہا تھا
17:28کہ آپ میرے ساتھ سبر نہیں کر سکیں گے
17:30تو حضرت موسیٰ علیہ السلام نے
17:32اشارت فرمایا
17:33کہ اچھا اب میں آپ سے نہیں کروں گا
17:34میں بھول گیا تھا
17:35میری توجہ نہیں رہی تھی
17:36پھر جب یہ آگے چلے
17:39تو ایک بچہ کھیل رہا تھا
17:40حضرت خضر علیہ السلام نے
17:41اس کو جان سے مار دیا
17:43اس پر پھر موسیٰ علیہ السلام نے
17:45بے اختیار کوئسن کر لیا
17:46تو پھر حضرت خضر علیہ السلام نے فرمایا
17:49کہ آپ نے دیکھیں
17:51پھر یہ بات سوال کر لیا
17:53تو آپ نے کہا میں بھول گیا تھا
17:54اب اگر میں ایسا کروں
17:55تو آپ میرے ساتھ
17:56ساتھ نہ رکھی گا
17:57اب جدہ ہو جائیے گا
17:58اس کے انشاءاللہ
17:59واقعے کو پورا کریں گے
18:00نیکس پروگرام میں
18:01وآخر دعوانا
18:02ان الحمدللہ رب العالمين
18:12وآلہ آنے ہی
18:16وصحبہ ہی
18:18وصحبہ
Comments

Recommended