- 2 hours ago
Dars-e-Bukhari Shareef - Speaker: Mufti Muhammad Akmal
Watch All the Episodes || https://www.youtube.com/playlist?list=PLQ74MR5_8XifqqMqj-CSEsTT2kgVuPG2D
#MuftiMuhammadAkmal #DarseBukhariShareef #IslamicInformation
Collect the pearls of wisdom dormant in Sahih Bukhari, Dars-e-Bukhari Shareef is a 30 min long lecture-based program, in which Mufti Muhammad Akmal will explain Ahadith of Sahih Bukhari- the most Acknowledged and authentic collection of the sayings of Prophet Muhammad (PBUH) by Imam Bukhari.
Join ARY Qtv on WhatsApp ➡️ https://bit.ly/3Qn5cym
Subscribe Here ➡️ https://bit.ly/aryqtv
Instagram ➡️️ https://www.instagram.com/aryqtvofficial
Facebook ➡️ https://www.facebook.com/ARYQTV/
Website ➡️ https://aryqtv.tv/
Watch ARY Qtv Live ➡️ http://live.aryqtv.tv/
TikTok ➡️ https://www.tiktok.com/@aryqtvofficial
Watch All the Episodes || https://www.youtube.com/playlist?list=PLQ74MR5_8XifqqMqj-CSEsTT2kgVuPG2D
#MuftiMuhammadAkmal #DarseBukhariShareef #IslamicInformation
Collect the pearls of wisdom dormant in Sahih Bukhari, Dars-e-Bukhari Shareef is a 30 min long lecture-based program, in which Mufti Muhammad Akmal will explain Ahadith of Sahih Bukhari- the most Acknowledged and authentic collection of the sayings of Prophet Muhammad (PBUH) by Imam Bukhari.
Join ARY Qtv on WhatsApp ➡️ https://bit.ly/3Qn5cym
Subscribe Here ➡️ https://bit.ly/aryqtv
Instagram ➡️️ https://www.instagram.com/aryqtvofficial
Facebook ➡️ https://www.facebook.com/ARYQTV/
Website ➡️ https://aryqtv.tv/
Watch ARY Qtv Live ➡️ http://live.aryqtv.tv/
TikTok ➡️ https://www.tiktok.com/@aryqtvofficial
Category
🛠️
LifestyleTranscript
00:08بسم اللہ الرحمن الرحیم
00:30نمبر حدیث پاک ہے
00:31یہ اور اس 99 دونوں
00:34سلحہ ہدیبیہ سے متعلق ہیں
00:36تو ہم دونوں حدیثیں ذکر کریں گے
00:38اور پھر اس پر انشاءاللہ تفسرہ ہوگا
00:40تو 2698 نمبر حدیث پاک میں
00:44حضرت برہ بن عازب
00:45رضی اللہ تعالی عنہ
00:47اس کے راوی ہیں وہ کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ
00:49صلی اللہ علیہ وسلم نے
00:51اہلِ ہدیبیہ سے سلح کی
00:53تو حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ
00:56نے ان کے درمیان
00:57مکتوب لکھا
00:59یعنی وہ سلح کا جو سلح نامہ تھا
01:01وہ تحریر فرما رہے تھے
01:02پس انہوں نے لکھا کہ محمد
01:04رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
01:07جب یہ لکھا مشرقین کی نظر پڑی
01:10انہوں نے کہا
01:10کہ محمد رسول اللہ نہ لکھو
01:13اگر آپ ہمارے ندی کے رسول ہوتے
01:16تو ہم آپ سے جنگی نہ کرتے
01:18پس آپ نے
01:20یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم
01:21نے حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ سے فرمایا
01:24اے علیس کو مٹا دو
01:26یعنی محمد رسول اللہ کا لفظ مٹا دو
01:31تب حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ نے
01:33ارز کی کہ میں وہ نہیں ہوں جو آپ کے نام
01:35کو مٹا دوں گا
01:37حضرت علی نے منع کر دیا
01:39تب اس نام کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم
01:41نے اپنے ہاتھ سے مٹا دیا
01:43اور آپ نے مشرقین سے
01:45اس پر صلح کر لی
01:46کہ آپ اور آپ کے ساتھی
01:50آئندہ سال تین دن
01:51کیلئے مکہ میں داخل ہوں گے
01:53اور آپ اور آپ کے اصحاب ہتیاروں کو
01:56صرف اپنے میانوں کے اندر
01:58یعنی اندر چھپا کر رکھیں گے
02:00اور پھر آپ واپس تشریف لے آئے
02:03اس پر تفسرہ کرتے ہیں
02:04پہلے اگلی حدیث بھی چونکہ ایسی ہے
02:06اس کو پہلے لے لیتے ہیں
02:07یعنی یہی حدیث ہے تھوڑے سے اضافے کے ساتھ
02:09دو ہزار چھے سو نینانوے
02:12نمبر حدیث پاک ہے
02:13برا بن عازیب رضی اللہ تعالی عنہ
02:15ہی اس کے راوی ہیں
02:16وہ بیان کرتے ہیں
02:17کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم
02:19نے ذو القعدہ میں عمرہ کیا
02:21تو اہل مکہ نے اس سے انکار کیا
02:24کہ آپ کو مکہ میں داخل ہونے دیں
02:26اچھا عمرہ کیا کا مطلب
02:28عمرہ کا ارادہ کیا
02:30لفظ ایسی ہیں ترجمہ عمرہ کیا
02:31لیکن عمرہ کا ارادہ کیا
02:33تو اہل مکہ نے روک دیا
02:35حتیٰ کہ آپ نے ان سے
02:37اس بات پر صلاح کر لی
02:38کہ آپ مکہ میں تین دن رہیں گے
02:41یعنی نیکس ٹیئر تین دن رہیں گے
02:43جب انہوں نے یہ مکتوب لکھا
02:45تو اس میں لکھا
02:46کہ یہ وہ مکتوب ہے
02:47جس پر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
02:50نے صلاح کی ہے
02:51تو مشرقین نے کہا
02:53کہ ہم آپ کو ان الفاظ پر
02:55برقرار نہیں رکھیں گے
02:57اگر ہم کو یہ یقین ہوتا
02:59کہ آپ اللہ کے رسول ہیں
03:01تو ہم آپ کو منع ہی نہ کرتے
03:03لیکن آپ محمد بن عبداللہ ہیں
03:06نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم
03:08نے فرمایا کہ میں رسول اللہ بھی ہوں
03:10اور میں محمد بن عبداللہ بھی ہوں
03:13بہرحال پھر آپ نے حضرت علی
03:14رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے فرمایا
03:16علی رسول اللہ کے الفاظ کو مٹا دو
03:19حضرت علی نے عرض کی
03:21کہ نہیں
03:21اللہ کی قسم میں آپ کے نام کو
03:24کبھی نہیں مٹاؤں گا
03:25تب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم
03:27نے اس مکتوب کو پکڑا
03:29پھر آپ نے لکھا
03:30یہ وہ مکتوب ہے
03:32جس پر محمد بن عبداللہ نے
03:34صلح کی ہے
03:35کہ مکہ میں
03:36میان کے بغیر
03:38میان اس کو
03:39کور کو کہتے ہیں
03:39اسے تلوار کو اب اس کور میں ڈالتے ہیں
03:41اس کو میان کہتے ہیں
03:43کہ مکہ میں
03:44میان کے بغیر
03:45کوئی ہتیار داخل نہیں کیا جائے گا
03:48اور اہلِ مکہ میں سے
03:49کوئی شخص نہیں جائے گا
03:51خواہ وہ ان کے ساتھ جانا چاہے
03:53یعنی اگر ہم آئیں گے
03:55اور مکہ میں جو ہمارے
03:56مسلمان ہو چکے ہیں
03:57جو ہجرت نہیں کر سکے ہیں
03:59ابھی مجبور ہیں
04:00اگر وہ ہمارے ساتھ جانا چاہے گا
04:03نہیں جائے گا
04:03ہم اس کو واپس کر دیں گے
04:04اور اگر ان کے احساب میں سے کوئی مکہ میں رہنا چاہے گا
04:08تو ان کو منع نہیں کریں گے
04:10یعنی اگر کوئی صحابی جا کر وہاں پہ رہنے لگے ہیں
04:12تو کفار اس کو روک لیں گے
04:14منع نہیں کریں گے
04:14کیونکہ ان کا کوئی واپس آئے گا
04:16ہمارا مسلمان وہاں سے
04:17تو واپس کرنا ہوگا
04:19جب آئندہ سالہ مکہ میں داخل ہوئے
04:21اور مدت پوری ہو گئی
04:23یعنی وہ تین دن کپلیٹ ہو گئے
04:24تو مشرقین حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس آئے
04:28He said he ha to her to us
04:30Because he has been there
04:32Because he has made me here
04:33And Allah is going on
04:34Then he said he will go
04:37So if he told us
04:38He said to Allah
04:39And he told us
04:41And he is
04:43Hey my little sister
04:43Hey my little sister
04:44And he said to you
04:45He said to him
04:46He said to him
04:47He said to his husband
04:49And he said to him
04:52That he said to him
04:55He said to him
04:55That he told us
04:55That he called his baby
04:55So he told us
04:57they gave him to raise their ideas
04:58then they gave him a friend of علی
05:00Judge Zaid and Judge Jafar
05:03what did he do with him
05:05they did them
05:06there was a combination of
05:07one of them
05:08테이블елiyah
05:09Reddit Ali said I can say
05:09that I am more than a friend of mine
05:11these are my children's children
05:12he said
05:13Pastor Jafar then said
05:14this is my children's children
05:16and that my son has said
05:18they are my children's children
05:19and he said
05:21that these are my children's children
05:24so it's not a friend of mine
05:27نے ان کی خالہ کے حق میں
05:29فیصلہ کیا اور
05:31فرمایا کہ خالہ ماں کے درجے میں ہے
05:33اب چونکہ سرکار نے ایک فیصلہ
05:35فرمایا تو سرکار
05:37بڑے جہاندیدہ تھے دل آزاری بھی
05:39متوقع تھی تو بڑے پیار سے سرکار نے پھر
05:41تینوں کے بارے میں کمیٹس پاس
05:43فرمایا یعنی خوبصورت باتیں فرمائیں
05:45سرکار نے حضرت علی سے فرمایا
05:47کہ علی تم مجھ سے ہو اور
05:49میں تم سے ہوں
05:50اور حضرت جعفر سے فرمایا تم
05:53میری شکل و صورت اور میرے اخلاق کے
05:55مشابہ ہو اور حضرت
05:57زید سے فرمایا کہ تم ہمارے دینی
05:59بھائی ہو اور ہمارے
06:01آزاد کردہ غلام ہو
06:04تو یہ ایک طویل
06:05حدیث ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم
06:07آپ جانتے ہیں کہ
06:08حجرت کے بعد جب فرس ٹائم
06:10عمرہ کرنے کے لئے گئے تو کفار نے روک لیا
06:13آپ نے پھر حضرت
06:15عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ
06:17کو مکہ میں بھیجا تھا کہ آپ جا کر ان کو
06:19سمجھائیں کیونکہ وہ ان کا پھر بھی عدب کرتے تھے
06:21جب وہ اندر گئے
06:23تو ایک روایت کے مطابق کفار نے
06:25کہا کہ محمد تو باہر ہے آپ جائیں تو
06:27تواف کر لیں انہوں نے کہا کہ نہیں میں نبی کریم
06:29کے بغیر تواف نہیں کروں گا
06:31اور یہ خبر مشہور ہو گئی کہ
06:33ماذا اللہ حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ
06:35نے کو شہید کر دیا گیا ہے
06:37تو سرکار نے بیعت رزوان فرمائی
06:39صحابہ سے کہ ہم ان کا بدلہ
06:41لیں گے لیکن پھر وہ پتہ چلا
06:49احرام سے آئے تھے مقات کروس کر کے
06:51آئے تھے مدینے سے آئے تھے
06:52اور بیچ میں ذو الحلیفہ مقات
06:55بنتی ہے اور کوئی مقات کے
06:57باہر سے اگر مکہ جانے کے ارادہ رکھتا ہے
06:59تو اسے عمرے
07:01کا یا حج کا احرام پہننا لازم ہونا
07:03دم لازم ہوگا اور یہ تو ویسے عمرے
07:05کے ارادے سے کہتے ہیں سب حالتیں احرام میں تھے
07:07لیکن آپ کفار نے روک دیا
07:09تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم
07:11اپنے صحابت سے فرمایا کہ جو جو قربانیاں
07:13ساتھ لائے تھے یا جو نہیں تھی
07:15تو بارل یہ حدود
07:18حرم میں پہنچائیں
07:19وہاں زبا ہوں گی اور سب نے
07:21اپنے احرام پھر کھول دیئے
07:22جب آپ احرام پہن لیتے ہیں
07:25اور کسی وجہ سے مجبوری کی
07:27بنا پر آپ عمرہ نہیں کر پاتے ہیں
07:29یا حج نہیں کر پاتے ہیں اور احرام کی حالت
07:31سے بہار آتے ہیں تو ایسے
07:33شخص کو محصر کہتے ہیں
07:34اور اس کا طریق ہی ہوتا ہے اگر آپ عمرہ
07:37کرنا چاہتے ہیں تو ایک حدود حرم میں
07:38اپنا جانور زبا کروا دیں اور
07:40اس کے بعد آپ احرام سے بہار آ جائیں
07:42اور پھر اس عمرے کو بعد میں کبھی آپ کو
07:45ادا کرنا ہوگا جیسے
07:46نبی کریم نے پھر اگلے سال کیا
07:49جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم
07:50نے ان کو فارنے کا اس سال ہم نہیں کرنے
07:53دیں گے آپ واپس جائیں اگلے سال ہیں
07:54سرکر مان گئے اور آپ نے
07:56وہی ارادہ کر لیا احرام
07:59کے حالتوں سے بہار آئے تو حضرت عمر
08:00فاروق رضی اللہ تعالی عنہ نے
08:02جو یہاں تو نہیں ہے الگ میں پورا آپ کو
08:04ایک بات سمجھانا چاہ رہا ہوں
08:07سرکار کی خدمت میں عرض کیا
08:08کہ ہم حق پر نہیں ہیں سرکار نے
08:10فرمایا ہے تو عرض کی کہ پھر ہم
08:12کیوں واپس جائیں ہم ان سے لڑیں گے
08:15تو حضرت ابو بقر صدیق
08:17رضی اللہ تعالی عنہ نے
08:19ارشاد فرمایا کہ عمر
08:20اللہ اس کے رسول بہتر جانتے ہیں
08:23یعنی آپ اس وقت جلال
08:24میں ہیں آپ ایک پہلو دیکھ رہے ہیں لیکن
08:26نبی کریم کی حکمتیں ہیں اور
08:28نبی کریم جو کرتے ہیں اللہ کے حکم سے
08:30کرتے ہیں تو پھر اگدم حضرت عمر
08:32فاروق بھی اپنی
08:34اس کیفیت سے باہر آئے اور آپ
08:36نے بات کو قبول کیا
08:38یہاں بس میں آپ کو یہ سمجھانا چاہتا ہوں کہ دیکھیں
08:40بعض اوقات ہمارے بڑے
08:42خصوصا دینی حوالے سے میں
08:44کہہ رہا ہوں کہ ہمارے بڑے اکابرین ہوتے ہیں
08:46آپ کے بڑے علماء ہوتے ہیں
08:48وہ کوئی فیصلہ کرتے ہیں
08:50اور وہ فیصلہ ایسا ہوتا ہے
08:52کہ بظاہر نیچے دیکھنے والے سمجھتے ہیں
08:54کہ یہ بزدلی ہے یہ ڈرپوکی ہے
08:56یہ تو جی پیچھے ہٹنا ہے
08:58وہ اس پر نگاہ رکھ کر تیش میں آ جاتے ہیں
09:00کہ یہ سب بزدل ہیں اور ڈرپوک ہیں
09:02ہم ہوتے آگے ہم یہ کر دیتے ہیں وہ کر دیتے ہیں
09:04وہ ذرا اس پر توجہ کریں
09:06کہ بعض اوقات
09:09پیچھے ہٹ کر انسان
09:10زیادہ مضبوط ہو کے حملہ کر لیتا ہے
09:12اگر آپ لڑتے رہے ہیں جگہ کھڑے رہے ہیں
09:14تو کھڑے ہوگے لڑتے ہیں
09:16نہیں کبھی آپ پیچھے ہٹتے ہیں
09:17اس کے مکہ سے بچنا چاہتے ہیں
09:19یہ لگ جاتا ہے مکہ
09:20تو اس کی تکلیف کو تھوڑا سا
09:22کور کرنے کے لیے
09:23آپ کوئی پیچھے ہٹنا پڑتا ہے
09:24پھر آپ پلٹ کے حملہ کرتے ہیں
09:25تو اگر تھوڑی دیر آپ پیچھے ہٹے
09:27اور کس نے کہا ہو بزدل
09:28یہ بزدلی نہیں ہے
09:30اس کو حکمت کہتے ہیں
09:32اس لیے
09:32اپنے گھر میں بھی آپ دیکھیں
09:34کہ آپ کے ماں باپ
09:35بعض اوقات کوئی بڑے فیصلے کرتے ہیں
09:37گھر کے جو خاندان والے بڑے ہیں
09:39وہ کچھ فیصلہ کرتے ہیں
09:40نیچے والے بچوں کو سمجھ میں نہیں آ رہا ہوتا
09:42لیکن بعد میں انکشاف ہوتا ہے
09:44کہ نہیں اس کے پیچھے بڑے حکمت تھی
09:46اس لیے اگر آپ کے عقابرین
09:49علماء عظام کوئی فیصلہ کرتے ہیں
09:51اور تو ان کو فوراں یہ نہ کہیں
09:53کہ یہ بزدل ہیں
09:53ڈرپوک ہیں
09:54اگر آپ ان کے جگہ ہوتے تو کیا کرتے
09:57اگر آپ کوئی
09:59غیر دانشمندانہ قدم اٹھاتے
10:01تو شاید آپ ختم ہی ہو چکے ہوتے
10:03اس لیے سمجھ لیجئے
10:04کہ بعض اوقات
10:06سامنے والے کی بات ماننا
10:08بعض اوقات
10:09بظاہر دشمن کا غالب سا آنا
10:11نظر آنا
10:12یہ ضروری نہیں ہے
10:15کہ سامنے والے کی
10:16ماذا اللہ کوئی بزدلی ہے
10:18کم ہمتی ہے
10:19بلکہ یہ حکمت بھی ہو سکتی ہے
10:21اور حکمتی تھی
10:22کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے
10:24بظاہر قفار غالب آتے نظر آئے
10:26انہوں نے کہا دیکھو ہم نے آنے نہیں دیا
10:28ان کو واپس کر دیا
10:29خوشیہ منا رہے ہیں
10:31لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جانتے تھے
10:33کہ اگر ہم یہاں پر رہ کر مقابلہ کرتے
10:35ہتیار تو لے کر نیا نقصان بھی ہوتا
10:37اور دیگر مسائل ہوتے
10:39اس سال چلے گئے
10:40اگلے سال یہ روک نہیں سکیں گے
10:42ہم باقعدہ داخل ہوں گے اندر
10:43آرام سے
10:44اور وہاں کے جو لوگ ہیں
10:45وہ ہمارے معاملات کو دیکھیں گے
10:47متاثر ہوں گے
10:48اور یہی پھر سرکار
10:50اللہ تعالیٰ کی عطا سے غیبی معاملہ دیکھ رہے تھے
10:53کہ فتح مکہ کا سبب بنے گا
10:55اور آگے بنا
10:55یہ ہوا کہ جب اگلے سال آپ تشریف لائے
10:58تو بات مشہور تھی
11:00کہ جتنے ہاں ہجرت کر کے گئے ہیں
11:02وہاں کی آب و ہوا ان کو راست نہیں آئی ہے
11:04اب یہ کمزور ہو گئے
11:06اب ہمارا مقابلہ نہیں کر سکتے
11:08نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے
11:10اللہ تعالیٰ کے حکم سے
11:12صحابہ اکرام کو رشاد فرمایا
11:14کہ جب تم تواف کرو
11:15تو پہلے تین چکر اکڑ کے کرنا
11:18جس کو رمل کہتے ہیں
11:20یہ ایک متقبرانہ بظاہر چال تھی
11:22اور اس سے ایک نتیجہ نکالا
11:24صحابہ نے
11:25کہ متقبر کا تکبر توڑنے کے لیے
11:28اظہار تکبر بالکل جائز ہوتا ہے
11:31یعنی بعض اوقات
11:32اگر آپ کسی متقبر اور غرور میں
11:34مبتلہ شخص کے سامنے
11:35عرضی اختیار کریں گے نا اس کا غرور بڑھے گا
11:38تکبر بڑھے گا
11:39اور اگر آپ بھی اس کے سامنے
11:40فقر اور غرور کا
11:42یعنی تکبر کا سا اظہار کریں گے
11:44تو اس کے تکبر کا توڑ ہوگا
11:46تو نبی کریم نے
11:48بغیر باطنی کوئی خرابی کے
11:50کہ تکبر ایک برا لفظ ہوتا ہے
11:52لیکن یہاں پر ایک اظہار تکبر تو تھا
11:55ظاہری حالت کے اعتبار سے
11:56لیکن صحیح مسئلحت کی بنا پر
11:58تو شارہین یہ کہتے ہیں
12:01کہ جو کفار تھے ان کو
12:02صحابہ کرام کے وجود بڑے بڑے نظر آنے لگے
12:05ان پر ایک حیبت اور روب تاری ہو گیا
12:07اور یہی روب پھر اگلے
12:09دنوں کے اندر
12:10فتح مکہ کے نتیجے تک پہنچانے میں
12:13مددگار ثابت ہوا
12:15اس لئے حکمت اختیار کرنے میں
12:17کوئی حرج نہیں ہوتا
12:18چاہے بظاہر ایسا لگ رہا ہو
12:20کہ مزدلی سی ہے
12:21لیکن اگر پیچھے حکمت ہے
12:22تو اس کو اختیار کرنا چاہیے
12:24اور یہ ہمارے نبی کریم
12:25صلی اللہ علیہ وسلم کی
12:27سنت کریمہ ہے
12:28اب اس پر ذرا تھوڑا سا تفسرہ دیکھیں
12:30حضرت علامہ بدر الدین
12:33محمود بن احمد
12:35عینی رحمت اللہ علیہ
12:37یہ آٹھ سو پچپن سن حجری میں
12:40فوتوں ہیں
12:40انہوں نے بخاری کی شرعہ لکھی ہیں
12:42امدت القاری
12:43میں اسی سے چند چیزیں پڑھ کر
12:45آپ کو سنا رہا ہوں
12:46اس حدیث کی شرعہ میں
12:47اچھی ہیں سمجھنا چاہیے
12:48آپ نے فرمایا
12:50کہ اس حدیث میں مذکور ہے
12:51کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم
12:53نے اس مکتوب میں لکھا
12:56کیونکہ الفاظی سرکار نے لکھا
12:58وہ کیا لکھاتا
12:59یہ وہ مکتوب ہے
13:00جس پر محمد بن عبداللہ نے
13:01صلح کی ہے
13:02تو اس پر کہتے ہیں
13:04یہ اعتراض ہوتا ہے
13:05کہ قرآن مجید میں تو یہ ہے
13:06کہ
13:26اور آپ اس سے پہلے
13:28کوئی کتاب نہ پڑھتے تھے
13:30اور نہ ہی اپنے دائیں ہاتھ سے لکھتے تھے
13:34اگر ایسا ہوتا
13:35تو باطل پرست ضرور شک میں پڑھ جاتے
13:39یہ قرآن میں
13:40اللہ نے اس سرکار کے لئے بیان فرمایا
13:41کہ کبھی آپ نے ہاتھ سے کچھ نہیں لکھا
13:43جب قرآن نے گواہی دے دی
13:45تو اب جب سرکار یہ کتاب لے کر آئے
13:47قرآن تو ابھی کوئی نہیں کہہ سکتا
13:49کہ انہوں نے اپنے پاس سے لکھ لی
13:50کیونکہ قرآن خود یہ گواہی دے رہا ہے
13:52اور کفار نے یہ بھی دیکھا
13:53کبھی آپ کے ہاتھ میں قلم نہیں دیکھا
13:55اب اگر کوئی کتاب آپ پیش فرما رہے ہیں
13:57کہ یہ قرآن ہے
13:58تو یقینا پھر یہ آپ کا لکھاو نہیں ہے
14:01کسی اور کا ہے
14:01اور اگر نبی کریم لکھتے رہتے ہیں
14:03لوگوں کے سامنے عام طور پر
14:05یہ آپ کا اظہار
14:06اللہ تعالیٰ اس کی اجازت دے دیتا
14:10تو پھر لوگ خود کہہ دیتے بھی
14:11انہوں نے اپنے پاس سے لکھ کر لکھنا آتا ہے
14:13لکھ کر لے آئے ہوں گے
14:15تو اس لئے ایسا ہوا
14:17اب یہ کہتے ہیں
14:18سعید کا مفاد یہ ہے
14:19کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم
14:21اپنے ہاتھ سے نہیں لکھتے تھے
14:23اور اس حدیث میں آپ کے لکھنے کا ذکر ہے
14:26تو یہ حدیث قرآن کے معارض ہے
14:29انہیں ٹکراؤ پیدا ہو گیا
14:30یہ کہتے ہیں اب یہ ایک اعتراض پیدا ہوتا ہے
14:32کہ ٹکراؤ پیدا ہو گیا
14:33قرآن کہتے ہیں اب لکھتے نہیں ہیں
14:34حدیث میں ہے کہ سرکار نے خود لکھا
14:37اس کا جواب کیا ہوگا
14:38کہتے ہیں اس کا جواب یہ ہے
14:39کہ قرآن مجید میں یہ ذکر ہے
14:41کہ آپ نزول قرآن سے پہلے
14:43نہ پڑھتے تھے نہ لکھتے تھے
14:45اور اس آیت میں نزول قرآن کے بعد
14:48پڑھنے اور لکھنے کی نفی نہیں ہے
14:50لہذا یہ حدیث قرآن مجید کے خلاف
14:53نہیں ہوگی
14:55یعنی مراد یہ ہے کہ قرآن میں
14:56جس لکھنے کی نفی ہے
14:57وہ نزول قرآن سے پہلے
14:59اور یہ جو صلح حدیبیہ کا معاملہ ہے
15:01تو نزول قرآن کے بعد ہو رہا ہے
15:03تو لہذا اب جو ہے وہ
15:05یہ دونوں میں ٹکراؤ ختم ہو گیا
15:07ایک جواب تو یہ ہے
15:08کہتے ہیں دوسرا جواب یہ ہے
15:09کہ آپ اکثر اوقات نہیں لکھتے تھے
15:12اور چند بار لکھنا
15:13اس کے معارض نہیں ہے
15:15مراد یہ ہے کہتے ہیں
15:16کہ یہ تو قرآن کا یہ معنی ہم لے سکتے ہیں
15:18کہ اللہ تعالیٰ فرما رہا ہے
15:20کہ آپ لگتار تسلسل سے کبھی نہیں لکھتے ہیں
15:22جب یہ تسلسل اور لگتار کا ہو گیا
15:25تو کبھی کبھار لکھ بھی لیں
15:27تو تسلسل اور مسلسل تو بنے گا نہیں
15:29تو ان دونوں میں کوئی اختلاف نہیں رہے گا
15:32تیسرا جواب یہ ہے
15:33کہ جب آپ نے قلم ہاتھ میں پکڑا
15:35تو اللہ تعالیٰ نے آپ کی طرف وحی کی
15:37چنانچہ آپ نے وحی کی تعلیم سے لکھا
15:40اور یہ بھی کہا گیا ہے
15:42کہ آپ کی اس وقت تک وفات نہ ہوئی
15:44جب تک آپ نے لکھ نہیں لیا
15:47اور یہ بھی کہا گیا ہے
15:48کہ آپ کا لکھنا بھی آپ کا ایک معجزہ تھا
15:52یہ بالکل آپ نے کبھی نہیں لکھا
15:54اور وہاں لکھا یہ بھی مرزہ تھا
15:56خلاصہ یہ ہے
15:57کہ اول تو اس آیت میں نزول قرآن سے پہلے لکھنے کی نفی ہے
16:00اور آپ نے نزول قرآن کے بعد لکھا ہے
16:02دوسرا یہ کہ قرآن مجید میں
16:04اکثر اوقات میں لکھنے کی نفی ہے
16:06اور آپ نے بعض اوقات میں لکھا ہے
16:09اور تیسرا یہ کہ قرآن مجید میں
16:11آپ کے عادتن لکھنے کی نفی ہے
16:13اور آپ نے جو لکھا وہ خلاف عادت اور مرزہ تھا
16:19مزید فرماتے ہیں کہ
16:20اس حدیث میں مذکور ہے
16:21کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے
16:22خالہ کے حق میں فیصلہ کیا
16:24اور فرمایا کہ خالہ ماں کے درجے میں ہے
16:28اس لئے جو میرے بچے ہمیں سن رہے ہیں
16:30اگر آپ کی والدہ کا انتقال ہو گیا
16:32اور آپ کی خالہ زندہ ہے
16:33تو آپ کی خالہ ماں کے درجے میں
16:36یعنی عدب اور احترام کے حوالے سے
16:38جیسے ماں کے حقوق ہیں
16:39ویسے خالہ کے تو نہیں ہوں گے
16:40لیکن عدب اور احترام کے حوالے سے
16:42وہ ماں کے درجے میں ہوتی ہے
16:44اس حدیث سے یہ بھی استدلال کیا گیا ہے
16:47کہ ماں کے بعد بچے کی پرولش کا حق خالہ کا ہوتا ہے
16:51اس حدیث میں مذکور ہے
16:53کہ آپ نے
16:55پہلے چلے میں اس کو complete کر لیتا ہوں
16:57اس حدیث میں مذکور ہے
16:58کہ آپ نے حضرت علی سے فرمایا
17:00کہ تم مجھ سے ہو اور میں تم سے ہوں
17:01اس ارشاد میں حضرت علی کی
17:05عظیم منقبت ہے
17:06اور اس کا معنی یہ ہے
17:07کہ آپ مجھ سے متصل ہیں
17:09بالکل ملے ہوئے ہیں
17:12اور یہ جو صاحبی کتاب ہے
17:14مصنیب و بازوں نے فرمایا
17:15تم مجھ سے ہو کا معنی یہ ہے
17:16کہ میرے خاندان سے ہو
17:18اور میں تم سے ہوں کا معنی یہ ہے
17:19کہ میرے کمالات کا ظہور تم سے ہوگا
17:23یا میری شجاعت کا ظہور تم سے ہوگا
17:25یا میرے کمالات علم کا ظہور تم سے ہوگا
17:29اور بھی اس میں باتیں ہیں انشاءاللہ
17:31نیکس پرورا ہمیں ذکر کرتے ہیں
17:32اللہ تعالی ہمیں سمجھ دیں
17:33سوچتے کی توفیق عطا فرمائے
17:35آمین و آخر دعوانا
17:36ان الحمدللہ بالعالمین
Comments