Skip to playerSkip to main content
  • 12 hours ago
Islam ki taareekh mein kuch naam aise hote hain
jinhen waqt ki gard chhupaane ki koshish karti hai —
magar kuch naam itne roshan hote hain ke koi bhi
gard unhe chhupa nahi sakti.

Yeh daastaan hai Umm Ammarah Razi Allahu Anha ki —
woh aurat jo ghar se paani ka mashkeeza aur marham
patti le kar nikli thi, magar waapas aayi toh uske
jism par 12 se zyada zakhmoon ke nishaan the.

Woh aurat jisne Nabi Kareem ﷺ ke saamne ek
diwar ban kar khadi ho gayi jab baaki sab bhaag
rahe the.

Jiska beta shaheed hua, jiska baazu kat gaya —
magar jo ek pal bhi peeche nahi hati.

Khud Nabi Kareem ﷺ ne farmaya:
"Maine Ghazwa Uhud mein jis taraf bhi nazar uthaayi,
Umm Ammarah ko apne aage ladte huye paaya."

⏱️ CHAPTERS:
00:00 - Muqaddimah
01:30 - Bait ul Aqabah — Wada ki Raat
04:00 - Ghazwa Uhud ka Aaghaaz
07:00 - Woh Lamha Jisne Sab Badal Diya
10:00 - Umm Ammarah Ne Talwaar Utha Li
14:00 - 12 Zakhm — Aur Phir Bhi Dabar Rahi
17:00 - Jannat Ka Wada
20:00 - Uhud Ke Baad Ka Safar
23:00 - Humāre Liye Sabaq

📌 AAKHIR TAK ZAROOR DEKHEIN —
Aakhri hissa aapki zindagi badal sakta hai.

🔔 Aaj raat apne ghar waalon ko yeh kahani sunaaein.

Category

📚
Learning
Transcript
00:03BISMILLAHIARRAHMANIARRAHIM
00:30یہ ایمان کی اس انتہائی بلندی کی داستان ہے
00:33جہاں پہنچ کر انسان موت کو بھی ایک حقیر سی چیز سمجھنے لگتا ہے
00:37جہاں زخم درد نہیں دیتے بلکہ حوصلہ دیتے ہیں
00:40اور جہاں ایک عورت کا جسم لوہی کی ڈھال سے بھی زیادہ مضبوط ثابت ہوتا ہے
00:45تاریخ کے انگنت اور آق میں ایسے نام بھی دبے پڑے ہوتے ہیں
00:50جنہیں وقت کی گرد دھاپنے کی کوشش کرتی رہتی ہے
00:52مگر کچھ نام ایسے ہوتے ہیں جن کی روشنی اتنی تیز ہوتی ہے
00:56کہ کوئی بھی گرد انہیں چھپا نہیں سکتی
00:58چودہ سو سال سے زیادہ کا عرصہ گزر چکا ہے
01:01مگر آج بھی جب کوئی امی امارہ رضی اللہ تعالی عنہ کا نام لیتا ہے
01:05تو دل میں ایک خاص کیفیت پیدا ہو جاتی ہے
01:08احترام محبت اور حیرت کی ملی جولی کیفیت
01:11ایک ایسی عورت جو گھر سے پانی اور مرہم پٹی لے کر نکلی تھی
01:14اور جو واپس آئی تو اس کے جسم پر بارہ سے زیادہ زخموں کے نشان تھے
01:18ایک باز وہ تقریباً ناکارہ ہو چکا تھا
01:20مگر ہونٹو پر شکر کے الفاظ تھے
01:22آخر یہ کون تھی
01:24کیا تھا ان کے اندر
01:25کہاں سے آتی تھی یہ طاقت
01:27اور وہ کون سا اہد تھا جس نے ایک گھرلو خاتون کو
01:30تاریخ کی سب سے عظیم مجاہدہ بنا دیا
01:32یہ جاننے کے لیے ہمیں پیچھے جانا ہوگا
01:34بہت پیچھے
01:36مکہ کی ایک تاریخ رات میں جہاں
01:38اس پوری کہانی کی بنیاد رکھی گئی تھی
01:40سال تھا 622 ہی سوی
01:42حج کا مبارک موسم تھا
01:44اور مکہ کی گلیاں
01:45باہر سے آئے ہوئے حاجیوں سے پھری پڑی تھی
01:47ہر طرف رونک تھی آوازیں تھی
01:49لوگوں کا حجوم تھا
01:51مگر اس رونک اور حجوم کے پیچھے خفیہ حرکت ہو رہی تھی
01:54جس کا علم صرف چند خاص لوگوں کو تھا
01:56مدینہ سے آئے ہوئے تہتر مرد
01:59آہستہ ایک ایک کر کے
02:00مکہ کے قریب ایک پہاڑی گھاٹی کی طرف بڑھ رہے تھے
02:03رات کی تاریخی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے
02:06قدموں کی آواز کو دباتے ہوئے
02:08سانس روک کر چلتے ہوئے
02:10یہ جگہ تھی اقبہ کی گھاٹی
02:12اور یہ رات تھی اسلامی تاریخ کی
02:14ان اہام ترین راتوں میں سے ایک
02:16اگر مکہ کے قریش کو اس خفیہ اجتماع کی ذرا سے بھی بھنک پڑ جاتی
02:19تو اس رات ان تحتر لوگوں میں سے کوئی بھی زندہ واپس نہ جاتا
02:23یہ موت کے موں میں قدم رکھنے جیسا تھا
02:25مگر یہ لوگ آئے تھے
02:27کیونکہ کچھ چیزیں ایسی ہوتی ہیں
02:29جن کے لیے موت بھی گوارہ ہو جاتی ہے
02:31وہ آئے تھے
02:32نبی علیہ السلام کے دست مبارک پر بیعت کرنے
02:36ایک خفیہ مگر تاریخ کا رکھ مور دینے والی بیعت
02:39جسے بیعت اقبہ سانیہ کے نام سے جانا جاتا ہے
02:43ایک ایک شخص آگے بڑھتا
02:44نبی علیہ السلام کا ہاتھ تھامتا
02:47اور اپنی جان اپنا مال
02:49اپنا سب کچھ اسلام کی راہ میں قربان کر دینے کا عہد کرتا
02:52اور پھر اس مردوں کے حجوم میں
02:54دو سائے ایسے بھی تھے
02:56جو چادروں میں لپٹی ہوئی خواتین کے تھے
02:58مدینہ کی دو بہادر عورتیں
03:00جنہوں نے نہ صرف یہ خطرناک سفر کیا
03:02بلکہ اس رات کے تاریخی لمحے کا حصہ بنی
03:05ان میں سے ایک نام تھا
03:06نصیبہ بن تکعاب
03:08جنہیں پوری دنیا
03:09ام ام مارا کے نام سے جانتی ہے
03:11جب ان کی باری آئی
03:13وہ نبی علیہ السلام کے سامنے کھڑی ہوئیں
03:15تو انہوں نے ایک ایسا سوال پوچھا
03:17جو اس وقت موجود سب کے لیے
03:19بلکل انوکھا اور غیر متوقع تھا
03:22انہوں نے پوچھا
03:23یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
03:26کیا ہم عورتیں بھی آپ کی حفاظت کا عہد کر سکتی ہیں
03:29کیا ہمیں بھی یہ اجازت ہے
03:30یہ الفاظ اس دور میں کتنے جرت مندانہ تھے
03:33اس کا اندازہ لگانا ہمارے لیے مشکل ہے
03:35اس زمانے میں عورت کے کردار
03:37گھر کی چار دیواری تک محدود سمجھا جاتا تھا
03:39مگر نصیبہ رضی اللہ عنہ نے وہ سوال پوچھا
03:42جو شاید کسی اور کے دل میں بھی تھا
03:44مگر زبان پر نہیں آیا تھا
03:46نبی علیہ السلام نے
03:48مسکرا کر اجازت دی اور بس
03:50اسی لمحے نصیبہ رضی اللہ عنہ کے دل میں
03:54ایک ایسا چراغ روشن ہوا
03:56جسے آگے آنے والے توفان بھی نہ بجھا سکے
03:58اس رات انہوں نے اپنے دل کی گہرائی میں ایک عہد کر لیا
04:01ایک ایسا عہد جو صرف الفاظ نہیں تھا
04:04بلکہ جان دینے کا پختہ فیصلہ تھا
04:06وہ نہیں جانتی تھی کہ یہ عہد کس قدر
04:08سخت اور آزمائشوں میں پرکھا جائے گا
04:10وہ نہیں جانتی تھی
04:11کہ آنے والے چند سالوں میں انہیں کتنا خون بہانہ پڑے گا
04:15مگر جب وہ آزمائش آئی
04:16تو انہوں نے ثابت کر دکھایا
04:18کہ وہ عہد کتنا سچا
04:20اور کتنا گہرا تھا
04:21ابھی آپ کو لگ رہا ہوگا کہ کہانی آگے بڑھے گی
04:24مگر ذرا ایک لمحے کے لئے رکھیں
04:26اور اپنے آپ سے پوچھیں
04:27آج ہم اپنے روز مرہ کے بادوں کو کتنی آسانی سے توڑ دیتے ہیں
04:31کسی دوست سے بخت پر ملنے کا بادہ
04:33کسی کام کو مکمل کرنے کا بادہ
04:35اپنے آپ سے نماز پڑھنے کا بادہ
04:37کتنی بار ہم نے یہ بادے ایک لمحے کی سستی میں توڑے ہیں
04:40اور یہ ایک عورت ہے
04:42جس نے ایک ایسا بادہ کیا
04:43جس کی قیمت اپنے خون سے ادا کرنی تھی
04:45اور اس نے ادا کی
04:46ایک پل کیلئے بھی پیچھے ہٹے بغیر
04:48ایک لمحے کیلئے پشے مان ہوئے بغیر
04:50یہ سوچ کر کیا آپ کے اندر کچھ ہلچل نہیں ہوتی
04:53کیا آپ کو اپنے چھوٹے چھوٹے بادوں کا خیال نہیں آتا
04:56جنہیں ہم نے بہانوں کی آر میں کپ کا دفن کر دیا
04:59چار سال گزر گئے
05:01مدینہ اب صرف ایک شہر نہیں رہا تھا
05:03یہ اسلام کا دھڑکتا ہوا
05:05دل بن چکا تھا
05:06نبی علیہ السلام کی دانشمندانہ قیادت میں
05:09ایک نئی ریاست کی بنیاد دن بدن مضبوط ہو رہی تھی
05:12لوگ جوگ در جوگ اسلام کی آگوش میں آ رہے تھے
05:16اور پورے عرب میں
05:17اس نئی طاقت کی آواز گونجنے لگی تھی
05:19مگر مکہ میں
05:20بیٹھے قریش کے سردار
05:22اس سب کو دیکھ کر اندر ہی اندر سلگ رہے تھے
05:24انہیں یہ ہرگز قبول نہ تھا
05:26کہ جس شخص کو انہوں نے اپنے شہر سے دھکیل کر نکالا تھا
05:29وہاں جتنی بڑی طاقت کا سرچشمہ بن جائے
05:31انہوں نے آخری فیصلہ کر لیا
05:32اب کے بار ایک ایسی الگار کریں گے
05:35جو اسلام کو ہمیشہ کے لئے مٹا دے
05:36جو شما کو بجھا دے
05:38جس کی روشنی سے ان کی آنکھیں چندیا رہی تھیں
05:40تین ہجری کا سال آیا
05:42مکہ سے تین ہزار سے زیادہ کا
05:43ایک بھاری بھر کم لشکر
05:45مدینہ کی طرف روانہ ہوا
05:47ہتیاروں سے آراستہ
05:48گھڑوں پر سوار
05:49سینوں میں انتقام کی دہکتی ہوئی آگ لیے
05:52ان کے ساتھ عرب کے تجربے کار جنگ جو تھے
05:54ماہر تیر انداز تھے
05:56لمبے لمبے گھڑ سوار دست تھے
05:58جو دشمن کو کچلنے کا ہنر جانتے تھے
06:00مسلمانوں نے آپس میں مشورہ کیا
06:03اور اہد کے پہاڑ کے دامن میں
06:04کھلے میدان میں
06:05مقابلے کا فیصلہ کیا
06:06مسلمانوں کی تعداد اگرچہ بہت کم تھی
06:09مگر ان کے سینوں میں وہ طاقت تھی
06:10جسے کوئی گن کر ناپ نہیں سکتا تھا
06:13ایمان کی طاقت
06:14یقین کی طاقت
06:15اپنے نبی کے لیے سب کچھ لٹا دینے کا جذبہ
06:18اسی صبحو نصیبہ رضی اللہ عنہ نے
06:21اپنے گھر سے قدم باہر رکھا
06:22ان کے ساتھ ان کے شوہر غزیہ بن عمرو تھے
06:25اور ان کے دو جوان بیٹے
06:26عبداللہ اور حبیب
06:28ایک پورا خاندان
06:29ایک ساتھ
06:30اللہ کی راہ میں نکلا ہوا
06:32نصیبہ رضی اللہ عنہ کے ہاتھوں میں
06:34اس وقت تلوار نہیں تھی
06:35ان کے پاس تھا ایک بھاری پانی کا مشکیزہ
06:38اور مرہم پٹی کا سامان
06:39وایت ہی انسانیت کی خدمت کرنے
06:41زخم مجاہدین کی تکلیف کم کرنے
06:43پیاسوں کو پانی پلانے
06:45ان کا ارادہ جنگ لڑنے کا نہیں تھا
06:47لیکن آج آپ جان لیں
06:49کہ ارادے اور تقدیر
06:50ہمیشہ ایک ہی راستے پر نہیں چلتے
06:51اور کبھی کبھی ایک لمحہ ایسا بھی آتا ہے
06:54جو انسان کی پوری زندگی بدل دیتا ہے
06:56جنگ شروع ہوئی
06:57اور ابتدائی گھنٹوں میں
06:59مسلمانوں کا پلڑا بھاری رہا
07:00ہر طرف اللہ و اکبر کی گرج
07:02بلند ہو رہی تھی
07:03دشمن کے قدم اکھڑنے لگے تھے
07:05کفار کے نامی گرامی سردار
07:06میدان چھوڑ کر پسپا ہو رہے تھے
07:08نصیبہ رضی اللہ عنہ
07:09زخمیوں کے درمیان پھر رہی تھی
07:11کسی کو پانی پلاتی
07:12کسی کا زخم بانتی
07:13کسی کے کان میں حوصلے کی جملے کہتی
07:15کسی ڈھلتے ہوئے مجاہد کو
07:17دوبارہ اٹھنے کی حمد دیتی
07:18ان کا دل مطمئن تھا
07:20آنکھوں میں اتمنان تھا
07:21کہ آج اسلام جیتے گا
07:22آج حق کا جھنڈا بلند ہوگا
07:24مگر پھر وہ ایک چھوٹا سا لمحہ آیا
07:26اور اسے ایک لمحے نے پوری جنگ کا نقشہ بدل ڈالا
07:29اہد کی خاص پہاڑی چوٹی پر
07:31نبی علیہ السلام نے پچاس تیر اندازوں کا
07:33ایک مضبوط دستہ مقرر کیا تھا
07:34حکم بالکل واضح تھا
07:36چاہے آسمان گرے چاہے زمین پھٹے
07:37اس جگہ کو نہیں چھوڑنا
07:39مگر جب نیچے میدان میں فتح کے نظاریں آنکھوں کے سامنے تھے
07:42اور دشمن بھاگتا نظر آ رہا تھا
07:44تو ان میں سکسر نے سوچا کہ جنگ ختم ہو گئی
07:46امال غنیمت اٹھانے کا بقت ہے
07:48انہوں نے اپنی جگہ چھوڑ دی
07:49بس یہی وہ لمحہ تھا
07:50ایک چھوٹا سا فیصلہ
07:52ایک معمولی سے غفلت
07:53جس نے پوری جنگ کر رخ پلٹ دیا
07:55دشمن کے ہوشیار گھڑ سواروں نے جیسے ہی
07:57وہ چوٹی خالی دیکھی
07:58فوری طور پر پیچھے سے تیز
08:00اور محلق حملہ کیا
08:01جیسے توفان آتا ہے
08:02مسلمانوں کو سملنے کی مولت ہی نہیں ملی
08:05دیکھتے ہی دیکھتے وہ فوج
08:06جو بھی فتح کے نارے لگا رہی تھی
08:08اب دونوں طرف سے گھیرے میں آ گئی
08:09ہر طرف دھول کے بادل
08:11چیخ و پکار
08:12تلواروں کی جھنکار
08:13اور اس خوفناک ہنگامے میں
08:14وہ افعہ پھیل گئی
08:15جس نے سب سے زیادہ تباہی مچائی
08:17افعیتکن عوضباللہ
08:19رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
08:21شہید ہو گئے ہیں
08:22یہ الفاظ جیسے آگ کے شولے تھے
08:23جو پل بھر میں پورے لشکر میں پھیل گئے
08:25بہت سے مسلمانوں کی حمد
08:27یکدم جواب دے گئی
08:28ہتیار ڈھیلے پڑ گئے
08:29کچھ نے بھاگنا شروع کر دیا
08:31کچھ سکتے کی حالت میں کھڑے رہے
08:32مکہ کا پورا لشکر
08:33اب ایک ہی نشانے کی طرف بٹھ رہا تھا
08:35نبی علیہ صلی اللہ علیہ وسلم کے
08:48گرد حفاظت کا حلقہ ٹوٹتا جا رہا ہے
08:50اب سوچیں
08:51ایسے لمحے میں کوئی عام انسان کیا کرتا
08:54ایک عام انسان اپنی جان بچانے کی کوشش کرتا
08:56اپنے بچوں کو ڈھونتا
08:58اسی محفوظ کونے میں چھپ جاتا
09:00مگر نصیبہ رضی اللہ تعالی عنہ
09:02عام نہیں تھی
09:03وہ وہ عورت تھی جن کے دل میں چار سال پہلے
09:05ایک عہد کی آگ جلی تھی
09:07اور وہ آگ ابھی تک بھڑکتی رہی تھی
09:09انہوں نے پانی کا مشکیزہ ریت پر پھینک دیا
09:11زمین پر پڑی تلوار اٹھائی
09:13دوسرے ہاتھ میں ڈھال سمالی
09:14اپنے شہر اور بیٹوں کو آواز دی
09:16اور اس طرف دور پڑی جس طرف باقی سے پیشہ ہٹ رہے تھے
09:19ذرا اس منظر کو آنکھوں کے سامنے لائیے
09:21دھول میں لپٹی ایک عورت
09:22زخمیوں کے درمیان سے گزرتی ہوئی
09:24تلوار ہاتھ میں لیے خوف سے بے نیاز
09:26موت کی پرواہ کیے بغیر
09:28صرف ایک مقصد کے ساتھ آگے بڑھتی جا رہی ہے
09:30قرائش کا سب سے خطرناک اور خونخواہ جنگجو
09:33ابن قمیہ اپنی تلوار بلند کیے
09:35نبی علیہ السلام کی طرف دوڑ رہا تھا
09:37تو اس کی آنکھوں میں قتل کی خواہش تھی
09:39اس کے موں سے نکل رہا تھا
09:41آج میں محمد کو ختم کروں گا
09:43وہ اتنا قریب آگیا کہ اس کی تلوار کی چمک
09:45صاف دکھائی دے رہی تھی
09:46اور ٹھیک اسی لمحے ایک جسم آگے آ کر
09:48اس کے راستے میں دیوار بن گیا
09:50وہ نصیبہ رضی اللہ تعالی عنہ تھی
09:53تلوار کا زبردست بار ہوا
09:55اور ان کے کاندے سے خون کا فوارہ پھوٹ پڑا
09:57مگر وہ نہیں ہلیں
09:58وہ نہیں ڈگمگائیں
09:59اور پھر انہوں نے اسی ابن قیمہ پر ایسا جوابی بار کیا
10:02کہ وہاں سے بھاگ نکلا
10:03نبی علیہ السلام نے یہ سب اپنی آنکھوں سے دیکھا
10:06بعد میں آپ علیہ السلام نے خود فرمایا
10:09میں نے آج عہد کے میدان میں جس طرف بھی نگاہ اٹھائی
10:11ام امارہ کو اپنے آگے لڑتے ہوئے پایا
10:13ان الفاظ کو ایک بار سینے میں ہتاریں
10:15یہ کسی مورک کے الفاظ نہیں
10:17یہ کسی تعریف کرنے والے شاعر کا قصیدہ نہیں
10:20یہ خود نبی علیہ السلام کی مبارک زبان سے نکل الفاظ ہیں
10:24ام امارہ رضی اللہ تعالی عنہ نے یہ عزاز اپنے خون سے خریدا تھا
10:28اور یہ عزاز قیامت تک ان کے ساتھ جڑا رہے گا
10:31اُس دن عہد کے میدان میں ان کے جسم پر بارہ سے زیادہ زخم لگے
10:35بارہ ایک نہیں دو نہیں
10:37بارہ بار خون بہا
10:39بارہ بار تکلیف ہوئی
10:40اور بارہ بار وہ اٹھیں اور پھر ڈڑ گئیں
10:43ان کے بیٹا عبداللہ کا بازو زخمی ہوا تھا
10:45انہوں نے اپنے کپڑے کی پٹی خود باندھی
10:47اور کہا بیٹا اٹھ
10:49واپس جاؤ لڑتا رہے
10:50ایک ماں جو خود خون میں لطپت ہے
10:52خود تکلیف سے نڈھال ہے
10:53وہ اپنے زخمی بیٹوں کو دوبارہ میدان میں بھیج رہی ہے
10:56اس منظر کے بارے میں سوچیں
10:58کیا دنیا کی کوئی ماں ایسی بھی ہو سکتی ہے
11:00جی ہاں ہو سکتی ہے
11:02اور وہ تھی امع امارہ
11:03رضی اللہ تعالیٰ عنہ
11:05جنگ کے بعد نبی علیہ السلام نے
11:07امع امارہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی لئے دعا فرمائی
11:10اور جب انہوں نے درخاش کی
11:11یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
11:14دعا فرمائے کہ جنت میں بھی آپ کے رفاقت نصیب ہو
11:16تو نبی علیہ السلام نے
11:18اللہ سے دعا فرمائی
11:19वैया लाई ने जन्नत में मेरी रफाकत नसीब फर्मा
11:22ये सुनकर अम्मे अमारा र. अन्हा ने कहा
11:25अम मुझे दुनिया की कोई भी तकलीफ और कोई भी मुसीबत परवा नहीं करती
11:29एक बार सोचें
11:30कितना बड़ा इसास
11:31कितनी बड़ी गीमत और कितना बड़ा इनाम
11:33घजवा अहुद के बाद भी
11:35अम्मे अमारा र. अन्हा का सफर खतम नहीं हुआ
11:38बलके उनका हर अगला कदम पहले से ज़्यादा बढ़कर था
11:41घजवा खैबर में शरीक हुई
11:43होदी बे के मकाम पर बैते रिजवान के तारीखी मौके पर मौके पर मौझूद रही
11:46पता है मक्का में हिस्सा लिया
11:47हर घजवे में उनका किरदार वो ही था
11:49जो एक सच्चे मौमिन का होना चाहिए
11:51मकमन लगन पूरी कुवत और जरा भी पीशे ना हटने का अजम
11:54जब जूटे नभी मौस्लिमक कजब ने इसलाम के खिलाफ फितने का बाजार गरम किया
11:59और हजारों लोगों को गुमरा करने लगा
12:00तो उम्मारा रजियल्ला अन्हा एक बार फिर मैदान में आ गई
12:04अब की बार उनकी उमर ढ़ल चुकी थी
12:06जिसम पहले ही कमजोर था
12:07मगर इरादा वैसा ही फौलादी था
12:09जैसे ओहत के दिन था
12:11जंग यमामा में उनके जवान बेटे हबीब को मुस्लिमा कजब ने पकड़ लिया
12:14एक मा का कलेजा काँ पुटता है
12:16जब उसके बच्चे पर आफ़ता आती है
12:18मगर हबीब ने उस जालिम के सामने घुटने नहीं टेके
12:20इसलाम से फिरने से इनकार नहीं किया
12:22और मुस्कुराते हुए शहादत कुबूल कर ली
12:24अम्मे अमारा रजियाला अन्हाने
12:26अपने बेटे की शहादत की खबर सुनी
12:28और वो तोटी नहीं
12:30वो रोई जरूर मगर मैदान नहीं छोड़ा
12:32उसी जंग में दुश्मन की तलवार ने उनका बाया बाजू काड़ दिया
12:35जरा तसवर करें
12:36एक बाजू कट गया
12:38जवान बेटा शहीद हो गया
12:39जिस्म जखमों से चूर
12:41और ये औरत फिर भी आगे बढ़ रही है
12:42फिर भी लड़ रही है
12:44फिर भी मैदान में खड़ी है
12:45उन्होंने इसी तूटे हुए जिस्म से
12:47मुस्लिमा कज़ाब पर वार किया
12:48और उस फितने को जखमी किया
12:50उम्मारा की पूरी जिन्दगी के निचोड एक जुम्ले में बयान किया जाए
12:55तो वो है एहद को निभाना खा कुछ भी हो जाए
12:58आज हमारे सामने रोज़ाना कितनी चोटी चोटी मुश्किल आती है
13:01और हम कितनी जल्दी हार मान लेते हैं
13:03एक बार कारोबार में नुखसान हुआ तो हिम्मत छोड़ दी
13:05एक बार रिष्टेदारों ने तनकीद की तो तूट गए
13:08एक बार नाकामी मिली तो बैट गए
13:10और कहने लगे हम नहीं कर सकते
13:11मगर उम्मारा रजियल्लाह अन्हा की जिसम पर
13:14एक नहीं दो नहीं दरजनों जखम थे
13:16बाजू कट गया बेटा शहीद हो गया
13:18और वो फिर भी आगे थी
13:20क्या हमारी मुश्किले वाकी इतनी बड़ी हैं
13:22जतनी हम उने समझते हैं
13:24जवाब हम सब जानते हैं
13:25मगर मानने की हम्मत हम मेंसे कितनों को है
13:27आज हमारे घरों में बेटियां हैं
13:29बेहने हैं माए हैं
13:31क्या हमने उन्हें कभी ये कहानी सुनाई
13:33क्या हमने उन्हें बताया कि
13:34उनकी तारीख कितनी आजीम है
13:36उनका विर्सा कितना शानदार है
13:38हमने आज की नसल को बहुत सारी चीज़े दी है
13:40मुबाИل दिया, सोशल मीडिया दिया, फैशन दिया
13:43मगर क्या हमने, उन्हें वो रौश ने दी
13:44जो उम्म उमारा रजियालह अन्हा की
13:46दास्तान से मिलती है
13:47अगर आज की बच्ची को में उमारा रजियालह अन्हा की
13:50दास्तान मालूम हो, तो वो कभी अपने
13:52I can't do that.
14:28
14:34
Comments

Recommended