Skip to playerSkip to main content
In this historical and faith-inspiring video, Noor TV presents the amazing story of Hazrat Shamoon A.S, a prophet known for his unmatched strength and unwavering faith. His story is filled with lessons of courage, patience, and devotion to Allah.

Key Highlights of the Video:
✅ Who was Hazrat Shamoon A.S?: His role as a prophet and warrior against injustice.
✅ The Secret of His Strength: How Allah granted him immense power, which remained hidden from his enemies.
✅ His Test and Betrayal: The heartbreaking moment when he was deceived, leading to his capture and imprisonment.
✅ Allah’s Help in Difficult Times: How his dua (prayer) was answered, and he defeated his enemies with divine strength.
✅ Lessons for Today’s Believers: How to trust in Allah, remain steadfast in faith, and overcome life's biggest challenges.

This video sheds light on the incredible power of faith and patience, reminding viewers that true strength comes from Allah alone. The story of Hazrat Shamoon A.S is an inspiration for those who face hardships and seek Allah’s help.

Noor TV invites you to watch this powerful story from Qasas Ul Anbiya and reflect on its spiritual lessons.

Watch this eye-opening video to uncover the legend of Hazrat Shamoon A.S, his extraordinary journey, and how his story relates to our lives today.

#HazratShamoonAS #QasasUlAnbiya #NoorTV #IslamicHistory #ProphetsOfIslam #StoryOfSamson #IslamicTeachings #FaithAndStrength #QuranicStories #LessonsFromProphets

Category

📚
Learning
Transcript
00:02Surah Al-Fatihah
00:30یہ درست استعمال کی کہانی ہے
00:31جو ہمیں یہ سبق دیتی ہے
00:33کہ اللہ کی عطا کردہ صلاحیتوں کو
00:34مظلوموں کی مدد اور ظالموں کے خلاف
00:37کھڑے ہونے میں استعمال کرنا چاہیے
00:40یہ کہانی بنی اسرائیل کی تاریخ کے
00:42ان لمحات کی اکاسی کرتی ہے
00:44جب ایک نیک بندے نے
00:46اپنی غیر معاملی طاقت سے
00:47نہ صرف ظلم کے خاتمے کی کوشش کی
00:49بلکہ اپنے کردار سے
00:52عبادت، عیسار اور انسانیت کی
00:54خدمت کا درس بھی دیا
00:55اس واقعے کے آئینے میں
00:57ہمیں یہ سوچنے کی ضرورت ہے
00:59کہ کیا ہم اپنی صلاحیتوں کا
01:01صحیح استعمال کر رہے ہیں
01:02اور اپنے آس پاس کے مظلوم
01:04اور ضرورت بند افراد کی مدد کرنے میں
01:06اپنا کردار ادا کر رہے ہیں
01:09یقیناً ناظرین کرام
01:10آج کی ویڈیو ایک نہایت اہم
01:12اور عبرتناک واقعے پر مبنی ہے
01:14حضرت شمون علیہ السلام کی
01:16بے مثال طاقت ان کے قربانیاں
01:18اور بنی اسرائیل کو ظالم بادشاہ
01:20فوتا کے ظلم سے
01:22نجات دلانے کی جد و جوہد
01:24اس ویڈیو میں ہم قرآن
01:25سابقہ آسمانی کتابوں
01:27اور تاریخی روایات کی روشنی میں
01:29حضرت شمون علیہ السلام کی بہادری
01:31عبادت اور ان کے موجزاتی باقیات پر
01:34تفصیل سے روشنی ڈالیں گے
01:36آپ جانیں گے کہ
01:37کس طرح حضرت شمون علیہ السلام
01:39نے اپنی غیر معمولی طاقت کو
01:40ظالم کے خلاف استعمال کیا
01:42اور ایک باہد انسان نے
01:44ہزاروں سپاہیوں کے طاقتور لشکر کو
01:46شکست دی
01:46اس کے علاوہ ہم اس بات پر بھی بات کریں گے
01:49کہ کس طرح حضرت شمون علیہ السلام کی بیوی کو
01:51دشمنوں نے فریب دے کر
01:52ان کے خلاف سازش میں شامل کر لیا
01:54اور اس واقعے سے ہمیں کیا سبق ملتا ہے
01:56کہ معاف کرنے کی فضیلت
01:58اور اللہ کی راہ میں ثابت قدم رہنے کی
02:00اہمیت کیا ہے
02:01یہ ویڈیو نہ صرف
02:02آپ کے ایمان کو تقویت بخشے گی
02:04بلکہ آپ کو یہ سکھائے گی
02:06کہ اپنی طاقت اور صلاحیتوں کو
02:07خلقِ خدا کی خدمت
02:09اور ظلم کے خاتمے کے لئے استعمال کریں
02:11ویڈیو کو آخر تک دیکھیں
02:13اپنی قیمتی راہ کا اظہار کریں
02:15اور ہمارے چینل کو سبسکرائب کریں
02:16تاکہ آپ مزید دلچسپ
02:18اور معلوماتی ویڈیو سے مستفید ہو سکیں
02:21ناظرین
02:21ایک ایسے دلیر انسان کے داستان پر شخدمت ہے
02:25جنہیں اللہ تعالیٰ نے بے مثال طاقت
02:27اور قوت سے نوازہ تھا
02:29یہ وہ بہادر شخصیت ہیں
02:31جو تنہے تنہا ہزاروں سپاہیوں کے سامنے
02:33ڈٹ گئے اور انہیں شکست دی
02:35ایک بے خوف اور نڈر انسان
02:37جنہوں نے روم کے ظالم بادشاہ کے خلاف
02:39عالم بغاوت بلند کیا
02:41یہ دلیر انسان کون تھے
02:43اور ان کی بیوی نے انہیں دھوکہ کیوں دیا
02:46ان کا انجام کیا ہوا
02:47ان کی تمام طاقت ان کی جسم کے کس حصے میں تھی
02:50کیا وہ نبی تھے یا ولی تھے
02:52ان سوالات کے جواب میں روایات کیا کہتی ہیں
02:55ہم قرآن مجید اور سابقہ آسمانی کتابوں کی روشنی میں
02:58ان تمام پہلوں پر گفتگو کریں گے
03:00ساتھ ہی ہم یہ بھی جانیں گے
03:02کہ ان کے زندگی سے ہمیں کیا سبق حاصل کرنا چاہیے
03:05ان تمام باتوں کو تفصیل سے جاننے کے لیے گزارش ہے
03:08کہ ویڈیو کو آخر تک دیکھیں
03:10اور کوئی بھی حصہ سکرپ نہ کریں
03:11قدیم زمانی کی بات ہے
03:13فلسطین کے علاقے میں ایک شہر آباد تھا
03:15جس کا نام اموزیا تھا
03:17یہ شہر اس وقت یونان کی وسیع سلطنت کا حصہ تھا
03:20اموزیا کے لوگ پتھروں سے بنی عظیم الشان عمارتوں میں رہتے تھے
03:24یونانی مذاہب اور عقائد
03:26ان پر گہرے اثرات چھوڑ چکے تھے
03:28یہ لوگ ستاروں پتھروں اور یونانی دیوتاؤں کے مجسمے بنا کر
03:31ان کی عبادت کرتے تھے
03:33ان کے مذہبی رہنما مختلف دیوتاؤں کے نام رکھتے
03:36جیسے بارش، توفان، چاند، سورج، رزق اور طاقت کے دیوتا
03:40لوگوں کو متاثر کرنے کے لیے یہ
03:43رہنما، دیوی دیوتاؤں کے بارے میں
03:45عجیب و غریب کہانیاں بیان کرتے تھے
03:47جنہیں سن کر لوگ ان کے عقیدت من بن جاتے تھے
03:50شہر اموزیا کے بادشاہ کا نام فوتا تھا
03:52جو نہایت ظالم و جابر حکمران تھا
03:55وہ کسی بھی شخص کو اپنی مخالفت پر سخت سزا دیتا
03:57اور معمولی باتوں پر لوگوں کو قید کر لیتا
04:00فوتا نے بہر روم کے کناریک عظیم و شان محل تعمیر کروایا تھا
04:04جو اس کی شان و شوقت کا مظہر تھا
04:06بنی اسرائیل خداون سے دعا کرتے
04:08اور اس کے ظلم سے نجات کے لیے گڑ گڑایا کرتے تھے
04:11آخر کار ایک دن
04:12یہودیوں کے تمام بزرگ ایک جگہ جمع ہوئے
04:15اور مشورہ کیا کہ فوتا کے خلاف ایک ایسے شخص کو کھڑا کیا جائے
04:18جو اس کی طاقت اور غرور کو خاک میں ملا دے
04:20کچھ لوگوں نے کافلے سے یہ سنا تھا کہ قریب کے علاقے میں
04:24ایک بہت ہی طاقتور شخص رہتا ہے
04:25جو عبادت گزار ہے
04:27اور اکثر روزے رکھتا ہے
04:28وہ نہایت مضبوط اور غیر معمولی طاقت کا مالک ہے
04:32جس نے ایک بار اپنے ہاتھوں سے
04:33بغیر کسی خنجر یا تلوار کے
04:35ایک خون خار شیر کو بھی مار ڈالا تھا
04:37چنانچہ بنی اسرائیل کے لوگوں نے یہ فیصلہ کیا
04:40کہ ہم سب اسی شخص کے پاس جا کر
04:42فوتا کی شکایت کریں گے
04:43اور اسے مدد کی گزارش کریں گے
04:45دراصل یہ شخص اللہ کے پیغمبر
04:47حضرت شمون علیہ السلام تھے
04:49کچھ علماء اکرام انہیں نیک ولی قرار دیتے ہیں
04:52جبکہ توریت اور انجیل میں
04:53حضرت شمون علیہ السلام کو نبی کہا گیا ہے
04:56اللہ نے انہیں غیر معمولی طاقت سے نوازا تھا
04:59اور یہی بے مثال طاقت ان کا موجزہ تھی
05:01مورخین کے مطابق حضرت شمون علیہ السلام
05:03خود یہودی تھے
05:04اور ان کا تعلق بنی اسرائیل کے قبیلے
05:06بنودان سے تھا
05:07آپ کے وارد کا نام مانوا تھا
05:09بہرحال جب یہودی حضرت شمون علیہ السلام کے پاس پہنچے
05:12اور فوتا کے ظلم کے متعلق بتایا
05:15تو آپ علیہ السلام نے
05:16اس ظلم کے خلاف لڑنے کا فیصلہ کر لیا
05:18اور مظلوموں کے لئے مسیحہ بن گئے
05:20سب سے پہلے حضرت شمون علیہ السلام
05:22فوتا کے دربار میں گئے
05:24اور اسے اس کے پیروکاروں کو دین کی دعوت دی
05:27آپ علیہ السلام نے
05:28بادشاہ فوتا اور اہلِ اموزیہ کو
05:30ظلم و جبر اور شرک و بت پرستی سے
05:33باز آنے اور توبہ کرنے کی دعوت دی
05:35آپ نے انہیں عذابِ الہی سے بھی خبردار کیا
05:38لیکن بادشاہ فوتا اور اس کے پیروکاروں نے
05:40آپ علیہ السلام کی دعوت کو رد کر دیا
05:43فوتا آپ کا سخت دشمن بن گیا
05:45اور آپ کو ختم کرنے کی سازش کرنے لگا
05:47حضرت شمون علیہ السلام نے
05:49ظلم کے خلاف کھڑے ہونے کا فیصلہ کیا
05:51اور تنہ تنہا بادشاہ فوتا کی
05:53فوج کا مقابلہ کیا
05:54آپ نے بے خوفی کے ساتھ سینکڑوں
05:56بلکہ ہزاروں فوجیوں کو شکست دی
05:58جب بادشاہ فوتا کو اس بات کی قبر ہوئی
06:01تو وہ حیرت اور خوف میں مبتلا ہو گیا
06:03کہ کوئی انسان اتنا طاقتور کیسے ہو سکتا ہے
06:05جو ایک مضبوط فوج کو اکیلہ شکست دے دے
06:07فوتا نے اپنی فوج کو
06:09حکم دیا کہ حضرت شمون کو
06:10لوہی کے جال میں پھانس لیں
06:12دوسری جنگ میں فوجوں نے آپ علیہ السلام
06:14کو لوہی کی زنجیروں میں جکڑ لیا
06:16لیکن حضرت شمون علیہ السلام کی غیر معمولی طاقت
06:19نے ان زنجیروں کو توڑ دیا
06:21آپ نے بادشاہ فوتا اور اس کے سپاہیوں کو
06:23خبردار کیا کہ اگر انہوں نے عام
06:25لوگوں پر ظلم و ستم بند نہ کیا
06:27تو وہ مسلسل نقصان اٹھاتے رہیں گے
06:29اور بلاخر تباہ و برباد ہو جائیں گے
06:31حضرت شمون علیہ السلام یہودیوں کے لیے
06:33مسیحہ بن چکے تھے
06:35اور ان کے شجاعت اور قربانی کی کہانیاں
06:37پورے روم اور یونان میں مشہور ہو گئیں
06:39اب جہاں کہیں بھی فوتا کی فوج
06:41ظلم کرنے جاتی حضرت شمون علیہ السلام
06:43وہاں پہنچ جاتے اور انہیں وہاں سے
06:45مار مار کر بھگا دیتے
06:46روایت ہے کہ حضرت شمون علیہ السلام
06:49ہر سال تقریباً چار مہینے
06:50مسلسل فوتا کی فوج کے خلاف
06:52جنگ کرتے اور باقی وقت
06:54عبادتِ الہی میں مشغول رہتے
06:56کہا جاتا ہے کہ حضرت شمون علیہ السلام کی بیوی
06:59نہایت نیک اور پارسخ خاتون تھی
07:01جو آپ کی حمایت کرتی تھی
07:02لیکن کفار نے آپ اس میں مشورہ کیا
07:05کہ اگر شمون علیہ السلام کی بیوی کو فریب دے کر
07:07اپنے ساتھ ملا لیا جائے
07:09تو انہیں شہید کیا جا سکتا ہے
07:11حضرت شمون علیہ السلام کی غیر موجودگی میں
07:13بادشاہ فوتا کا ایک وزیر
07:15ان کی بیوی کے پاس آیا اور کہا
07:17بادشاہ تمہیں اپنی ملکہ بنانا چاہتا ہے
07:19اور تمہیں عیش و عشرت کی زندگی دے گا
07:21لیکن اس کے لئے تمہیں یہ کام کرنا ہوگا
07:24کہ کسی طرح حضرت شمون علیہ السلام کو ختم کر دو
07:26کافروں کے فریب میں آ کر
07:27وہ اس پر راضی ہو گئیں
07:29اور ان کے دل میں مال و دولت کی لالش پیدا ہو گئی
07:31ایک رات جب حضرت شمون علیہ السلام سو رہے تھے
07:34ان کی بیوی نے آپ کو زنجیروں میں جکڑ دیا
07:37جب حضرت شمون علیہ السلام جا گئے
07:39تو آپ نے اپنی طاقت سے زنجیروں کو توڑ دیا
07:41جب یہ بات بادشاہ فوتا تک پہنچی
07:43تو وہ حیران رہ گیا
07:44شمون نے لوہی کے زنجیریں بھی توڑ ڈالیں
07:46تب بادشاہ نے کہا
07:48کہ لوہی کے زنجیر سے زیادہ مضبوط
07:49کوئی چیز نہیں ہو سکتی
07:51چند دنوں بعد
07:52جب حضرت شمون علیہ السلام جنگ سے واپس آئے
07:55تو اپنی بیوی سے بات چیت کر رہے تھے
07:57اور ان کی باتوں کا انجام
07:58ایک نئی سازش کی صورت میں آیا
08:00تب حضرت شمون علیہ السلام کی بیوی نے
08:03آپ کی قوت و طاقت و لڑائی کی باتیں چھیڑ دیں
08:05باتوں باتوں میں
08:06اس نے آپ سے پوچھا
08:07اے حضرت
08:08میں نے آپ کو لوہی اور رسی کے زنجیریں باندھ کر آزمایا
08:11لیکن آپ نے دونوں چیزوں کو توڑ ڈالا
08:13کیا کوئی ایسی چیز بھی ہے
08:14جس سے آپ کو باندھ کر رکھا جا سکتا ہے
08:17حضرت شمون علیہ السلام نے جواب دیا
08:18ہاں ایک ایسی چیز ہے
08:20میرے سر کے بال
08:21اگر ان سے مجھے باندھ دیا جائے
08:23تو میں انہیں نہیں توڑ سکوں گا
08:25جب رات ہوئی
08:26اور حضرت شمون علیہ السلام سو گئے
08:28تو ان کی بیوی نے ان کے بال کاٹ کر
08:30اور آپ کے ہاتھ پاؤں کو مضبوطی سے باندھ دیا
08:32جب حضرت شمون علیہ السلام نیند سے بیدار ہوئے
08:35تو اپنی بیوی سے دریافت کیا
08:36یہ کس نے کیا ہے
08:37بیوی نے کہا
08:38یہ میں نے کیا ہے
08:39حضرت شمون علیہ السلام نے فرمایا
08:41اگر میں ذرہ بھی زور لگاؤں
08:43تو میرے جسم کے تمام ہڈیاں ٹوٹ جائیں گی
08:45لیکن آپ کی بیوی نے
08:46اس راز کو پہلے ہی بادشاہ
08:48اموزیا کے سپاہیوں کو بتا دیا تھا
08:50اس راز سپاہیوں نے حضرت شمون علیہ السلام کے گھر کو
08:53چاروں طرف سے گھیڑ لیا
08:54انہوں نے حضرت شمون علیہ السلام کو گرفتار کر کے
08:56ان کی آنکھیں نکالنی اور زبان کار دی
08:59پھر انہیں بادشاہ کے دربار میں لے جایا گیا
09:01جب حضرت شمون علیہ السلام کو دربار میں پیش کیا گیا
09:04تو وہاں کے لوگ ہنگامہ کرنے لگے
09:06کوئی کہتا یہ میرے باپ کا قاتل ہے
09:08تو کوئی کہتا یہ میرے بھائی کے قاتل ہے
09:10اس طرح دربار میں شدید شور بربا تھا
09:12غرض ہر شخص جو وہاں موجود تھا
09:14کسی نہ کسی طرح دعویٰ کرتا
09:16اور سب حضرت شمون علیہ السلام کے دشمن تھے
09:19بادشاہ کے حکم پر شمون علیہ السلام کے ہاتھ پاؤں توڑ دیئے گئے
09:22اور انہیں دربار کے کنارے ڈال دیا گیا
09:24اموزیا کے لوگ اور بادشاہ پوتا
09:26اس کے خیال میں جشن منا رہے تھے
09:28کہ انہوں نے حضرت شمون علیہ السلام سے
09:38اور انہیں ہوا میں اٹھا لیا
09:40ان کے ہاتھ پاؤں آنکھیں اور جسم کے دیگر حصے
09:43اللہ کے حکم سے دوبارہ درست ہونے لگے
09:45جبریل علیہ السلام نے فرمایا
09:46اے شمون اٹھ کھڑے ہو خدا کے حکم سے
09:49اللہ نے تمہیں دوبارہ بے پناہ طاقت اور قوت عطا کی ہے
09:52بس اس ملون کے محل کا ستون پکڑو
09:54اور تمام قلعہ اور محل کو گرا کر دریا میں ڈال دو
09:58تب حضرت شمون علیہ السلام نے خدا کا نام لے کر
10:01اٹھ کھڑے ہوئے اور اس ملون محل کے ستون کو پکڑ کر
10:04اسے جڑ سے اکھار دیا
10:05بادشاہ عموزیہ کے محل میں شدید ہلچل مجھ گئی
10:08اور زلزلے جیسی حالت پیدا ہو گئی
10:10اہل عموزیہ ہلاک ہو گئے اور بادشاہ فوتا بھی
10:13اپنے انجام کو پہنچا
10:15اس کام سے فارغ ہونے کے بعد حضرت شمون علیہ السلام
10:17اپنے گھر کی طرف روانہ ہوئے
10:19وہاں انہوں نے اپنی بیوی کو پایا
10:21اور اقتدامی یہ ارادہ کیا کہ اسے قتل کر دیں
10:23لیکن حضرت جبریل علیہ السلام
10:25اللہ کے حکم سے حاضر ہوئے
10:27اور فرمایا اے شمون
10:29اللہ فرماتا ہے کہ اپنے بیوی کو قتل نہ کرو
10:31اور نہ ہی اسے کسی طرح کی عذیت
10:33یا سزا دو کیونکہ اس نے نادانی میں
10:35یہ سب کچھ کیا ہے
10:36عورت فطرتن ناقص العقل ہوتی ہے
10:38اور وہ عموزیہ کے بادشاہ کے فریب
10:40اور تخت و بادشاہی کی لالچ میں آگئی تھی
10:42ناظرین اب اس نے توبہ کر لی
10:44اور ندامت کے آنسوں بہائیں
10:45پس تم اپنی بیوی کی غلطی کو معاف کر دو
10:48اور اس کے ساتھ محبت و شفقت سے رہو
10:50یہاں یہ بات عاضی کرنا ضروری ہے
10:52کہ حضرت شمون علیہ السلام کا یہ واقعہ
10:54قرآن میں موجود نہیں ہے
10:56بلکہ یہ سابقہ آسمانک کتابوں میں پایا جاتا ہے
10:59کچھ باتیں ان کے بارے میں مختلف روایات میں ملتی ہیں
11:01کہا جاتا ہے کہ آپ نے ہزار سال عمر پائی
11:03اور نبوت کے بیس سال گزارے
11:05حضرت شمون علیہ السلام کو عیسائی
11:07سیمسن کے نام سے پکارتے ہیں
11:09اور ایک روایت کے مطابق
11:10حضرت شمون علیہ السلام کا ذکر
11:12حضرت موسیٰ علیہ السلام کے دور کے حوالے سے بھی ملتا ہے
11:15اگر اسلامی روایات کی بات کریں
11:17تو ایک حدیث مبارکہ میں
11:18حضرت شمون علیہ السلام کا ذکر آتا ہے
11:20تاہم علماء اکرام نے آپ کو
11:22بنی اسرائیل کے ایک بلی کے طور پر بیان کیا ہے
11:25اسلامی روایت میں یہ ذکر موجود ہے
11:27کہ ایک دن خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے
11:31صاحبہ اکرام رضی اللہ عنہ کے سامنے
11:33بنی اسرائیل کے حالات بیان فرمائے
11:35دوران گفتگو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے
11:39ایک عبادت گزار بندے کا ذکر فرمایا
11:41جس کا نام شمون رحمت اللہ علیہ تھا
11:44یہ بند اپنی عبادت و ریاضت میں
11:46ضرب المثل تھے
11:47وہ ہزار مہینے تک مسلسل روزے رکھتے
11:49رات پر اللہ کی عبادت و نماز میں مشغول رہتے
11:55دن کے وقت ہتیار باندھ کر
11:57اللہ کی راہ میں جہاد کرتے
11:58غریبوں کی مدد کرتے
12:00مشرکوں کا مقابلہ کرتے
12:01اور ان کے مال کو غربہ میں تقسیم کر دیتے تھے
12:04ان کی جسمانی طاقت اور روحانی قوت کا یہ عالم تھا
12:06کہ لوہی کی بھاری زنجیریں بھی
12:08ان کے ہاتھوں میں ٹوٹ جاتی تھیں
12:10صاحبہ اکرام رضی اللہ عنہ نے
12:12حضرت شمون رحمت اللہ علیہ کی قربانیوں
12:14اور جہاد فی سبیل اللہ کے واقعات سن کر
12:17رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
12:19کی خدمت میں عرض کیا
12:20یا رسول اللہ
12:21ہم تو کسی بھی طرح حضرت شمون رحمت اللہ علیہ کی عبادت
12:24اور ریاضت کا ثواب حاصل نہیں کر سکتے
12:26کیونکہ ہمارے عمریں اتنی طویل نہیں ہیں
12:28صاحبہ اکرام کی عبادت سن کر
12:30اللہ تعالیٰ نے شب قدر جیسی مبارک رات عطا فرمائی
12:33جس کی عبادت حضرت شمون علیہ السلام کی
12:35ہزار مہینے کی عبادت سے بہتر قرار دی گئی
12:37اگر ان دونوں روایات کا جائزہ لیں
12:39تو حضرت شمون علیہ السلام کی عبادت
12:41اور بہادری کا تذکرہ دونوں میں موجود ہے
12:44لیکن نبوت کے بارے میں اختلاف ہے
12:46صاحب کا کتابوں میں
12:47انہیں نبی لکھا گیا ہے
12:49جبکہ اسلامی روایات میں بلی قرار دیا گیا ہے
12:52چونکہ صاحب کا آسمانی کتابیں
12:53تحریف شدہ ہیں
12:54اس لئے واحد کتاب جو اپنی اصلی حالت میں موجود ہے
12:57وہ قرآن مجید ہے
12:58لہٰذا ہمیں صرف قرآن کی تعلیمات کو مکمل
13:01اور حقیقی سچائی ماننا چاہیے
13:04ناظرین اگر ہم حضرت شمون علیہ السلام کے
13:06اس تاریخی واقعے پر غور کریں
13:08تو ہمیں اس سے کئی عام سبق ملتے ہیں
13:10سب سے پہلے یہ واقعہ ہمیں یہ سکھاتا ہے
13:12کہ اگر اللہ نے کسی شخص کو کسی خاص صلاحیت
13:15یا طاقت سے نوازہ ہے
13:16تو اسے چاہیے
13:17کہ اپنی اس خوبی کو دوسروں کی مدد کے لئے استعمال کریں
13:20یہی بندگی اور خلق خدا کی بہترین خدمت کا طریقہ ہے
13:24حضرت شمون علیہ السلام نے اپنی بے مثال طاقت کو
13:27ظالم بادشاہ اور اس کی فوج کے خلاف استعمال کیا
13:30اور بنی اسرائیل کی مدد کرنے کا فیصلہ کیا
13:33جو ہمارے لئے ایک بہترین مثال ہے
13:35اس واقعے میں ایک اور اہم سبق یہ ہے
13:37کہ اگر کوئی شخص
13:38تو ہمیں اسے معاف کر دینا چاہیے
13:40کیونکہ اللہ تعالیٰ معاف کرنے والے بندوں کو پسند فرماتا ہے
13:43اگر ہم اس واقعے کے تناظر میں خود پر قور کریں
13:46تو ہمیں اپنا محاسبہ کرنے کی ضرورت ہے
13:49کہ کیا ہم بھی اپنی صلاحیتوں اور استطاعت کے مطابق
13:52دوسروں کے کام آتے ہیں
13:54آج کے دور میں جب ہر طرف غربت اور افلاس کا دور دورہ ہے
13:57ہمارا کردار کیا ہے
13:59ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی طاقت اور وسائل کو
14:01مظلوموں کی مدد غربت کے خاتمے
14:03اور اللہ کی رضا کے لئے استعمال کریں
14:06ناظرین کرام
14:07محتاجوں اور قریبوں
14:08یتیموں اور ضرورتمندوں کی مدد
14:10معابنت
14:11حاجت روائی اور دل جوئی کرنا
14:13دین اسلام کا بنیادی درس ہے
14:15دوسروں کی مدد کرنا
14:16ان کے ساتھ تعاون کرنا
14:17اور ان کے لئے روز مرائے کی ضروریات پر اہم کرنا
14:20اسلام میں نہایت پسندید عمل قرار دیا گیا ہے
14:23خالق کائنات
14:24اللہ رب العزت نے
14:25صاحب استطاعت افراد کو حکم دیا
14:27کہ وہ اپنے مال میں سے غریبوں کا حصہ نکالیں
14:30قرآن مجید فرقان حمید میں ارشاد بار یہ تعالی ہے
14:32نیکی صرف یہ نہیں
14:34کہ تم اپنے چہرے
14:34مشرق مغرب کی طرف پھیڑ لو
14:36بلکہ اصل نیکی تو یہ ہے
14:38کہ کوئی اللہ پر
14:39قیامت کے دن پر
14:40پرشتوں پر
14:41کتابوں پر
14:42اور پیغمبروں پر ایمان لائے
14:44اور مال سے محبت کے باوجود
14:46اسے قرابتداروں
14:47یتیموں
14:48محتاجوں
14:48سوال کرنے والوں اور غلاموں کی آزادی پر خرج کریں
14:51سورہ بقرہ آیت 177
14:54اسی طرح ایک اور آیت میں ارشاد ہے
14:55لوگ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھتے ہیں
14:58کہ اللہ کی راہ میں کیا خرج کریں
15:00فرما دیجئے کہ جو بھی مال تم خرج کرو
15:03اس کے حقدار تمہارے والدین
15:04قریب رشتدار
15:06یتیم
15:06محتاج
15:06اور مسافر ہیں
15:07اور جو نیکی تم کرتے ہو
15:09اللہ اسے خوب جاننے والا ہے
15:11سورہ بقرہ آیت 215
15:13سماجی بہبود کا مقصد
15:14معاشرے کے محتاج
15:16بے سہارا
15:17مازور
15:17بے با
15:18سماجی بہبود کا مقصد
15:20سماجی بہبود کا مقصد
15:22معاشرے کے محتاج
15:23بے سہارا
15:24مازور
15:25بیمار
15:25بیواؤں اور یتیموں کی دیکھ بھال
15:27اور ان کی فلاہ و بہبود ہے
15:28یہ مقصد تب ہی حاصل ہو سکتا ہے
15:30جب ان کی ضروریات پوری کی جائیں
15:32اور معاشرے میں دولت اور وسائل کی
15:34منصفانہ تقسیم ہو
15:35جو لوگ اپنی دولت غربت اور فلاس ختم کرنے کے لئے خرج کرتے ہیں
15:39اللہ تعالیٰ ان کے مال کو قرض حسنہ قرار دیتے ہیں
15:41اور کئی گناہ بڑھا کا لوٹانے کی زمانت دیتے ہیں
15:44نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نہ صرف
15:47حاجت مندوں کی مدد کا حکم دیا
15:49بلکہ عملی طور پر خود بھی غریبوں
15:51یتیموں اور محتاجوں کی مدد کرتے رہے
15:53ایک مرتبہ ایک عورت اپنی ضرورت لے کر
15:55مسجد نببی میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئی
15:59تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
16:01دیر تک اس کی بات سنتے رہے
16:03اور اس کی مدد کا یقین دلا کر
16:04اسے رخصت کیا
16:05نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا
16:08ایک مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے
16:10نہ اس پر ظلم کرتا ہے
16:12نہ اسے بیار و مددگار چھوڑتا ہے
16:14جو شخص کسی مسلمان بھائی کی حاجت روائی کرتا ہے
16:17اللہ اس کی حاجت روائی فرماتا ہے
16:19آج کے دور میں ہمیں اسلامی تعلیمات پر عمل کرتے ہوئے
16:22اپنے محتاج رشتہ داروں ہمسائیوں
16:25اور ضرورت مندوں کے دکھ درد کا احساس کرنا چاہیے
16:28بے حصی کو تر کر کے
16:29ہمیں ان لوگوں کی مدد کرنی چاہیے
16:31جو اپنی بنیادی ضروریات سے محروم ہیں
16:33ہمیں اپنا طرز زندگی تبدیل کرنا ہوگا
16:36صحابہ اکرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے نقش قدم پر چلنا ہوگا
16:40جنہوں نے اپنی جان و مال
16:42اللہ کے راہ میں قربان کرنے سے کبھی درغ نہیں کیا
16:45یہ سبق ہمیں یہ بھی سکھاتا ہے
16:46کہ دوسروں کو معاف کرنا
16:47اللہ کو نہائیت پسند ہے
16:49قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے
16:51معاف کردو اور درگزر کرو
16:53کہ تم یہ پسند نہیں کرتے
16:54کہ اللہ تمہیں معاف کردے
16:56اور اللہ بہت بخشنے والا اور رحم کرنے والا ہے
16:59سورہ نور آیت 22
17:01نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
17:03نے اپنی ذات کے لیے کبھی انتقام نہیں لیا
17:06بلکہ ہمیشہ افو درگزر کا مظاہرہ کیا
17:09آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
17:11نے مکہ والوں کو معاف کیا
17:13طائف والوں کو معاف کیا
17:14اور دیگر دشمنوں کو بھی معاف کر کے
17:16آلہ اخلاق کی مثال قائم کی
17:19اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے معاشرتی فرائض کو سمجھنے
17:22دوسروں کی مدد کرنے
17:24اور معاف کرنے کے صفت اپنانے کی
17:25توفیق عطا فرمائے آمین
17:28ناظرین اکرام دوسروں کے قصور
17:30اور ان کی غلطیاں معاف کر دینا
17:31اللہ تعالیٰ کی عظیم صفت ہے
17:32اور وہ یہ صفت اپنے بندوں میں بھی دیکھنا چاہتا ہے
17:35قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ
17:37اہل ایمان کو مخاطب کرتے ہوئے فرماتے ہیں
17:39پس معاف کر دو اور درگزر کرو
17:41کیا تمہیں یہ پسند نہیں
17:43کہ اللہ تمہیں معاف کر دے
17:44اور اللہ تو بخشنے والا اور رحم کرنے والا ہے
17:47سورہ نور آیت 22
17:49ام المومنین حضرت عاشی صدیقہ رضی اللہ عنہ فرماتی ہیں
17:52کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
17:55نے کبھی کسی غلام لونڈی بچے یا خادم کو نہیں مارا
17:58سوائے جہاد فی سبیل اللہ کے
18:00آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
18:02نے اپنی ذات کے لیے کبھی کسی سے انتقام نہیں لیا
18:05لیکن اگر کوئی حدود اللہ کی بے حرمتی کرتا
18:07تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
18:10اس کے لیے اللہ کے حکم کے مطابق فیصلہ فرماتے
18:13بہاوالا مسلم
18:14حدیث نمبر 228
18:15آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
18:17نے فتح مکہ کے موقع پر کفار کو معاف فرما دیا
18:20طائف کے ظالموں کو معاف فرما دیا
18:22اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ پر
18:24جھوٹا اجزام لگانے والوں کو بھی معاف کر دیا
18:26بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
18:29کی زندگی اہل ایمان کے لیے
18:30بہترین نمونا ہے
18:34حضرت ابو حریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں
18:37کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
18:39نے فرمایا
18:39کہ حضرت موسیٰ علیہ وسلم نے اللہ سے پوچھا
18:41آپ کے بندوں میں سے
18:43آپ کے نزدیک سب سے معزز کون ہیں
18:45اللہ تعالیٰ نے جواب دیا
18:52سکتا ہے کہ اس کے کھوئے ہوئے حقوق واپس نہ آئے
18:54لیکن دلوں سے نفرت کینا
18:56بغص اور دشمنی کے جذبات ختم ہو جاتے ہیں
18:58انتقام کی آگ تھنڈی پڑ جاتی ہے
19:00اور باہی میں تعلقات میں استحقام آتا ہے
19:02ایک دوسرے کو معاف کر دینا ہی
19:04انفرادی اور اجتماعی مسائل کے
19:06ہلکا واحد راستہ ہے
19:07ناظرین اکرام حضرت شمون علیہ السلام کے
19:10اس تاریخی واقعے سے ہمیں کئی اہم سبق ملتے ہیں
19:12جو ہماری زندگی کو بہتر بنانے میں
19:14مددگار ثابت ہو سکتے ہیں
19:16سب سے پہلے یہ واقعہ ہمیں یہ سبق سکھاتا ہے
19:18کہ اللہ کی عطا کردہ طاقت
19:20اور صلاحیتوں کو ہمیشہ مظلوموں کی مدد
19:22اور ظالموں کے خلاف استعمال کرنا چاہیے
19:25حضرت شمون علیہ السلام نے
19:26اپنی بے مثال طاقت کو
19:27بنی اسرائیل کے ظالم بادشاہ کے مظالم سے
19:30نجات دلانے کے لئے استعمال کی
19:32جو بندگی اور خدمت خلق کا بہتری نمونہ ہے
19:35دوسرا سبق یہ ہے
19:36کہ ہمیں معاف کرنے کا جذبہ اپنا نہ چاہیے
19:38حضرت شمون علیہ السلام نے
19:40اپنی بیوی کی نادانی اور لالش کو معاف کر کے
19:42ہمیں یہ سبق سکھایا
19:44کہ معاف کرنا نہ صرف اللہ کو پسند ہے
19:46بلکہ دلوں کی قدورت اور رنجش کو
19:48ختم کرنے کا ذریعہ بھی ہے
19:49آخر میں ہمیں اس بات کا بھی اتراک ہوتا ہے
19:52کہ ایمان، صبر اور ثابت قدمی انسان
19:54کو مشکلات کے باوجود
19:56کامیابی کی راہ پر گامزن رکھتی ہے
19:58اگر ہم اس واقعے سے حاصل ہونے والے
20:00اسباق کو اپنی زندگی میں شامل کریں
20:03تو نہ صرف ہم اپنی ذات کو بہتر
20:04بنا سکتے ہیں بلکہ معاشرے میں
20:06خیرخواہی، محبت اور انصاف
20:08کو بھی فروغ دے سکتے ہیں
20:10اللہ تعالی ہمیں ان تعلیمات پر
20:12عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے
20:14آمین
20:15ناظرین اکرام یہ تھی ہماری آج کی ویڈیو
20:17ہم امید کرتے ہیں کہ آپ کو ہماری آج کی یہ ویڈیو
20:20ضرور پسند آئی ہوگی
20:22اگر آپ کو یہ ویڈیو اچھی لگی ہو
20:23تو ہم آپ سے درخواست کرتے ہیں
20:25کہ آپ ہمارے چینل کو ضرور سبسکرائب کریں
20:27ساتھ ہی گھنٹی کے نشان بیل آئیکن کو دبانا نہ بھولیں
20:30تاکہ آپ کو ہماری آنے والی
20:32مزید معلومات اور سبق آموز
20:34ویڈیوز کا نوٹفیکشن بروقت ملتا رہے
20:36سبسکرائب کرنے کے ساتھ
20:38ہماری ویڈیوز کو لائک کریں
20:39اور اپنی قیمتی رائے کمیٹس میں ضرور شیئر کریں
20:42آپ کی حوصلہ افضائی ہمارے لیے بہت اہام ہے
20:45آخر میں پیارے دوستو
20:46ہر ویڈیو کے اختتام میں
20:47ہم نے ایک دعا کا سلسلہ شروع کیا ہوا ہے
20:50جو بھی اس دعا میں شامل ہوگا
20:52میرا دعویٰ ہے کہ اللہ پاک
20:53اس کی تمام جائز حاجات کو پورا کریں گے
20:56اپنی دعا کا آغاز
20:58درودِ ابراہیمی سے کرتے ہیں
20:59آپ سب دوست اور بہنیں
21:01پہلے میرے ساتھ مل کر
21:03درودِ پاک پڑھ لیں
21:04اور کمیٹس میں آمین لازمی لکھے گا
21:06اللہ پاک
21:07اس آمین کو لکھنے کی برکت سے
21:09آپ کی اور میری تمام جائز حاجات کو پورا فرمائیں گے
21:13دعا کا آغاز کرتے ہیں
21:15بسم اللہ الرحمن الرحیم
21:18اللہم سلی علی محمد وعلی آل محمد
21:24کما سلیت علی ابراہیم
21:28وعلی آل ابراہیم
21:31انکا حمید مجید
21:33اللہم مبارک
21:35علی محمد
21:37وعلی آل محمد
21:39کما بارکت
21:41علی ابراہیم
21:43وعلی آل ابراہیم
21:45انکا حمید مجید
21:48تمام حمد و سنہ
21:49رب زلجلال کے لیے ہیں
21:51جس کی رحمت سے ناؤمیدی نہیں
21:54جس کی نعمتوں سے دامن خالی نہیں
21:57جس کی مغفرت سے
21:58مایوس ہی نہیں
22:00اور جس کی رحمتوں کا پیزان
22:02کبھی نہیں رکھتا
22:03اے اللہ پاک
22:04اے اللہ
22:05تو پاک ہے
22:07تیرا شکر ادا کرتے ہیں
22:09اس اقرار کے ساتھ
22:10کہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں
22:13تو سب سے بڑا ہے
22:14تیرا کوئی شریک نہیں
22:16اور نہ ہی کوئی ہمسر ہے
22:18زمین و آسمان پر جتنی بھی مخلوقات ہیں
22:21تُو سب کا مالک ہے
22:23اور تُو ہی سب کا پالنے پالا ہے
22:26اے اللہ پاک
22:28بلا شبا
22:29تُو ہم سے محبت کرتا ہے
22:31یہی وجہ ہے کہ تُو نے ہمیں
22:33ایمان کی دولت سے نوازا
22:34اور ہمیں اپنے محبوب
22:37صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا
22:40امتی بنایا
22:41یا اللہ
22:42اپنے پیارے حبیب پاک
22:44صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صدقے
22:47ہماری زندگیوں کو پرسکون اور آسان بنا دے
22:50یا الہی ہم سب کے گناہ معاف فرماتے
22:53ہم سب کو عابد اور سہر خیص بنا دے
22:56ہم پر راز شوق آشکار کرتے
22:59ہمیں غلامی مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سر فراز فرماتے
23:05ہمارے دلوں کی ویران بستی کو
23:07اپنی رحمت سے آباد کرتے
23:09اور ہمیں اس راستے پر ہمیشہ قائم رکھ
23:12جو نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بتلایا ہے
23:16یا اللہ پاک ہم سب کو سچے دل سے توبہ کرنے کی توفیق ادا فرماتے
23:21اے رب رحیم ہم گناہوں کی دلدل میں ڈوب گئے ہیں
23:26ہم بدکاریوں کی مزدیوں میں گر پڑے ہیں
23:28ہم مایوسیوں کے اندھیروں میں بھٹک رہے ہیں
23:31رحمتِ الٰہی سے خود ہی روٹ گئے ہیں
23:34اے اللہ ہم ندامت کے آنسوں سے ناشنا ہیں
23:38ہم ایک سچی توبہ کے طلبگار ہیں
23:40اے اللہ پاک اپنی رحمت سے ہمیں وہ سچی توبہ ادا فرما
23:45اے پروردکار ہمیں ہمارے والدین کو
23:49ہمارے اہل و ایال کو
23:51ہمارے آباؤ اجداد اور ہماری آنے والی نسلوں کو
23:54اپنی آفیت ادا فرما
23:56ہم سب کو بے حساب رزق ادا فرما
23:59ہم سب کو حاسدوں کی حسد سے بچا
24:01دونوں جہانوں کے مالک
24:03جب ہم تھک جائیں تو ہمیں آرام پہنچانا
24:05جب مشکلیں بھر جائیں تو آسانی بن جانا
24:08جب ہم کمزور پڑ جائیں تو ہماری طاقت بن جانا
24:11جب ہم دکھ اور تکلیف میں ہوں تو ہمارا مرہم بن جانا
24:16جب ہم مایوس ہو جائیں تو ہمارا بھروسہ اور یقین بن جانا
24:19جب ہم بھوک سے نڈھال ہو جائیں تو تیری یاد ہی ہماری غزہ بن جائیں
24:23جب ہر طرف بھی چینیاں بھر جائیں
24:26تو اے پاک پروردکار ہمارا سکون بن جانا
24:29جب ہمارے اندر جب ہمارے اندر مایوسی کا اندھیرہ بھرنے لگے
24:33تو امید کی روشنی بن جانا
24:35جب ہر چیز ہمارے لئے ناممکن ہو جائے
24:38تو ہر چیز کو اپنے خاص فضل و کرم سے ممکن بنا دینا
24:42اے عرض و سما کے مالک
24:44تُو غفور ہے تُو رحیم ہے
24:46ہم سب کی توبہ قبول کرنا
24:48ہمارے صغیرہ کبیرہ گناہوں کو دھو دے
24:51ہمارے دلوں کو ہدایت اتا فرما
24:53ہماری زبان کو درستگی اور نرمی اتا فرما
24:56ہم سب کو گناہوں سے بچا
24:58اور نیک عمال کرنے کی توفیق اتا فرما
25:00اے اللہ جس طرح تُو بارش برسا کر
25:03سوکھی زمین کی پیاس بجھاتا ہے
25:06اسی طرح اپنی رحمت سے
25:08ہمارے دلوں کو بھی سیراب کرتے
25:10بے شک تُو بڑا مہربان
25:12اور نہائیت رحم کرنے والا ہے
25:14اے پروردگار
25:16ہم سب کو ہر اس نعمت سے سرفراز فرما
25:19جس میں ہمارے لئے خیر و برکت ہو
25:22عزت و بقار ہو
25:23راحت و سکون ہو
25:25صحت اور تندرستی ہو
25:27ترقی ہو خوشحالی ہو
25:29اور دنیا اور آخرت کی بھلائی ہو
25:31اے ہمارے اللہ
25:32ہماری زندگیوں کو محبت کا انمان بنا دے
25:36کہ ہم سب سے زیادہ تجھ سے محبت کریں
25:38تجھ کو فوقیت دیں
25:40تیری عبادت کریں
25:42تیرا حکم مانیں
25:43تیرے بتائے ہوئے رستے پر چلتے رہیں
25:46یہاں تک کہ ہماری زندگی تمام ہو جائے
25:49اور تُو ہمیں
25:50اپنے نور سے ڈھاپ لے
25:52وہ نور جو ہمارے سینے کو منور کرتے
25:54وہ نور جو قبر کو روشن کرتے
25:57وہ نور جو پلے سرات پر روشنی بن چائے
25:59اے ہمارے رب
26:01ہم کو بھی ان خوش نصیبوں میں شامل فرما
26:03جن کی توبہ تُو قبول کرتا ہے
26:06جن کے گناہوں کو تُو اپنے فضل و کرم
26:08اور رحمت سے نیکیوں میں تبدیل کرتا ہے
26:11یا اللہ
26:12ہمارے پاس کوئی عمل نہیں ہے
26:14ہمیں صرف تیری رحمت کا آسرا ہے
26:16اے پروردگار
26:17ہمیں اپنی رحمت میں ڈھاپ لے
26:19اے بلندیوں کے بادشاہ
26:21اے رب کائنات
26:23ہمارے دل اور ہمارے قدم
26:25اپنی رضا کی طرف پھیر دے
26:28آمین
26:28یا رب العالمین
Comments

Recommended