کیا میر کو صرف “شاعرِ غم” کہنا ان کے فن کو محدود کر دیتا ہے؟ میر کی ذاتی زندگی—ہجرت، غربت اور بے یقینی—شاعری میں کس حد تک شامل ہے؟ ذاتی دکھ اور پورے عہد کے زوال کا ایک ساتھ محسوس ہونا میر کی سادگی: فنی کمزوری یا سب سے بڑی قوت؟ دہلی کے زوال کا میر کے تخلیقی شعور پر اثر آج کے قاری کے لیے میر کی معنویت معین شاداب کی آواز میں میر تقی میر کے منتخب اشعار
#AdabNama #MirTaqiMir #UrduPoetry #UrduAdab #Ghazal
#AdabNama #MirTaqiMir #UrduPoetry #UrduAdab #Ghazal
Category
✨
PeopleTranscript
00:00نیشنل ہیرارڈ نو جیون اور قومی آواز کے مشترکہ عدوی پروگرام عدب نامہ میں آپ کا تہہ دل سے استقبال ہے
00:15میں ہوں عمران ایم خان اور آج کی نشست میں ہم اردو شائری کے اس بڑے نام پر گفتگو کریں گے
00:22جس کے بغیر غزل کی روایت نامکمل محسوس ہوتی ہے
00:27دیکھ تو دل کے جاں سے اٹھتا ہے یہ دھواسہ کہاں سے اٹھتا ہے بیٹھنے کون دے ہے پھر اس کو جو تیرے آستاں سے اٹھتا ہے
00:38عشق ایک میر بھاری پتھر ہے کب یہ تجھ نادواں سے اٹھتا ہے
00:44جی ہاں ہم بات کر رہے ہیں میر تقی میر کی
00:48اور اس گفتگو کے لیے ہمیشہ کی طرح ہمارے ساتھ موجود ہیں
00:53شائر نقاد اور اردو عدب کے باریک بین قاری مہین شاداب
00:58شاداب صاحب آپ شائری کو صرف عدبی مطل نہیں بلکہ سماج کی دستاویز کے طور پر پڑھتے ہیں
01:04عدب نامہ میں آپ کا خیر مقدم ہے
01:06شاداب صاحب میر کو عموماً شائر غم کہا جاتا ہے
01:11کیا یہ شناخت میر کی شائری کو محدود نہیں کر دیتی؟
01:17اچھا سوال ہے آپ کا اور قدائے سخن میر تقی میر کو بہت سے القابات سے یاد کیا گیا اور جو ان کی مجموعی کے افیت ہے
01:26تو غم کے حوالے سے بڑی شناخت ہے میر کی کہ ان کو شائر غم کہا جاتا ہے
01:35لیکن دراصل یہ صرف شائر غم کہہ دینا میر تقی میر جیسے بڑے شائر کو جس کی شائری کا کینویس بہت وسیع ہے
01:44ایک طرح سے یہ سمپلیفیکیشن ہے ایک سادھا کاری ہے
01:50جہاں تک ہم غم کی بات کرتے ہیں تو میر کے ہاں غم ہے
01:56واقعی ان کی پوری زندگی میں غم تھا پوری شائری میں غم ہے
01:59لیکن میر کے ہاں یہ غم جو ہے وہ محض ذاتی رنج نہیں ہے
02:04ان کا اپنا ذاتی دکھ نہیں ہے بلکہ وہ اس دکھ کو اور اپنے معاشرے کے دکھ کو
02:12ایک انسانی تجربے کی بنیادی کیفیت بنا دیتے ہیں
02:16یہ میر کا کمال ہے
02:17اس طرح ہم کہہ سکتے ہیں کہ میر کا غم جو ہے وہ فرد کا غم بھی ہے
02:21سماج کا غم بھی ہے
02:24تحصیب کے بکھننے کا غم بھی ہے
02:26اور انسان کی یا شائر کی اپنی ایک وجودی جو بے معنویت ہے
02:33اس کا غم بھی ہے
02:35اس طرح ہم کہہ سکتے ہیں کہ میر کا یہ غم فرد سماج اور تحذیب کا
02:41نوحہ یا تحذیبی سطح پر
02:44یعنی تینوں چاروں سطحوں پر بے اپنی کام کرتا ہے
02:47تو اس طرح ہم اس ندیجے پر پہنچ سکتے ہیں کہ میر کے یہاں جو غم ہے
02:51وہ صرف جذباتی کرب نہیں ہے
02:53بلکہ انسانی شعور کی بنیادی حالت ہے
02:57تو یہ کہا جا سکتا ہے کہ میر کو شائر غم کہنا جزوی طور پر تو ٹھیک ہو سکتا ہے
03:04لیکن مکمل یا کلی طور پر مناسب نہیں ہے
03:09جہاں تک ان کے شائری میں غم اور احساس غم کی بات ہے
03:13تو بہت سے ہمارے جو کابرین ہیں بڑے ہمارے ناقدین ہیں انہوں نے
03:18اس غم کے حوالے سے بات کی ہے
03:21مثلا پروفیسر آلی حمد سرور نے کہا ہے
03:23کہ میر کا جو غم ہے دراصل وہ انسانی تجربے کی آفاقی زبان ہے
03:29کیا خوبصورت جملہ ہے ان کا
03:32کہ میر کے غم کو ہم انسانی تجربے کی آفاقی زبان کہہ سکتے ہیں
03:39یہ آلی حمد سرور نے کہا تھا
03:41شمس الرحمن فاروقی نے کہا تھا
03:43کہ میر کا غم دراصل حساس شعور کی علاوات ہے
03:47شعور اور وہ بھی حساس
03:49حساس شعور کی علاوات ہے
03:51یعنی میر کا یہ غم میر کی کمزوری نہیں ہے
03:54احساس زیادہ نہیں ہے
03:56بلکہ وجود کا احساس ہے
03:58تو بہرحال
04:00اگر ہم میر کو صرف شاعر غم کہتے ہیں
04:04تو ان کی فکری وسط
04:05اور ان کی خود آگئی
04:07اور ان کی جو انسانی بصیرت ہے
04:09اس کو محدود کر دیتے ہیں
04:10میر کی شاعری میں غم تو نظر آتا ہی ہے
04:14وہ اب اجتماعی ہوئی ہے ذاتی
04:16تو ذاتی پر بات کریں
04:17تو ہجرت غربت اور بے یقینی
04:19ان کے شہری لہجے میں
04:21کس حد تک شامل نظر آتی ہے
04:22ہاں دیکھئی یہ بالکل جو
04:26ہجرت غربت اور بے یقینی کی
04:28آپ نے بات کہی ہے
04:29میر کے بارے میں کہا جاتا ہے
04:32کہ میر کی زندگی اور شاعری
04:33کمو بیش
04:34کئی نہ کئی بڑے ہم آہنگ ہیں
04:37حالانکہ بعد میں لوگوں نے یہ بھی کہا
04:39کہ میر کو الگ دیکھنا چاہیے
04:40میر کی زندگی کو الگ سے دیکھنا چاہیے
04:43اور ان دونوں کو اندک کر کے
04:45ان کی شاعری کا محاذبہ کیا جا رہا چاہیے
04:48لیکن اگر ہم
04:49ذکر میر پڑھیں جو ان کی خود نوشت ہے
04:52تو ان کی
04:54یہ تمام صورتحال
04:56جن چیزوں کا ذکر آپ نے کیا ہے
04:58یہ ہمیں
04:59چاہے ان کی ذاتی زندگی ہو
05:02ان کی ہجرتیں ہو
05:02یا جو ان کی زندگی کی بے یقینی ہے
05:06یہ ہم بار بار ذکر میر میں
05:07اس کا آہاتہ ہوتا ہے
05:09اور بچپن میں بتاتے ہیں کہ
05:13ان کے والد محترم کا مزاج بڑا سخت تھا
05:17تو ظاہر ہے جس معاہل میں پرورش پائی
05:20وہ بھی کہیں نہ کہیں
05:22وہ ایک دباؤ جو ہوتا ہے
05:23ایک نفسیاتی
05:24وہ ان کی ذات کا حصہ بن رہا تھا
05:27لیکن اس کے برقصیت ہو
05:28بہت تو ایک ذاتی سی بات ہے
05:30لیکن والد محترم کا سایہ اڑ جانا
05:33اس کے بعد ان کے چچا محترم کا سایہ اڑ جانا
05:36عشق میں ناکامی
05:38اور جوانی میں دہلی تباہ ہو رہی تھی
05:41جس کو دیکھ رہے تھے
05:42انہیں بار بار ہجرت کرنی پڑی
05:44انہیں ناقدری بھی زمانے کی دیکھنی پڑی
05:47اور بڑھاپے میں تنہائی کا شکار ہونا پڑا
05:50تو یہ سب جتنے بھی عوامل ہیں
05:52اس سارے فیکٹر جو ہے
05:54ان کے لہجے میں ایک گہری شکستگی
05:57اور ایک اداسی پیدا کر دیتے ہیں
05:59لیکن یہ اداسی بڑی وقار عامل ہے
06:03اس کا ایک وقار ہے
06:04اس کی ایک ڈگنیٹی ہے
06:05اور یہی وجہ ہے
06:07کہ وہ ان کا جو غم کا تصور ہے
06:09یا ان کی جس زندگی کی
06:12آپ نے پوری بات کی
06:13جو بے چینیاں ہیں
06:14جو ہجرتیں ہیں
06:15جو بے یقینی ہیں
06:17تو یہ سب چیزیں جو ہیں
06:19ان کو ان کی جب شائری میں نکل کر آتی ہیں
06:23تو وہ اس کمال کے ساتھ شائری میں آتی ہے
06:26کہ وہ ان کی اپنی ذات کا نوحہ نہیں لگتا ہے
06:29بلکہ وہ زمانے کے بعد محسوس ہوتا ہے
06:31ایک استماعی تدربہ بن جاتا ہے
06:33وہ اس طرح سے شیری پیکرم اس کو ڈھان دیتے ہیں
06:36اور یہی بات ہے
06:37کہ میر کو پڑھنے والا ہر شائری یہی کیا اٹھتا ہے
06:39یہ تو میری بات ہے
06:40یہ تو ہماری بات ہے
06:41یہ ہمارا قصہ ہے
06:42تو یہی میر کی
06:44سب سے بڑی پہچان ہے
06:46اور ان کی زندگی کا عقص ہے
06:48ان کی شائری
06:49میں نے پہلی بھی عرض کیا تھا
06:50کہ لوگ الگ دیکھنے کی بات کرتے ہیں
06:52لیکن ان کی زندگی کا عقص جو ہے
06:55ان کی شائری ہے
06:56لیکن اس کو محض ایک
06:58سادہ سوانے نہیں کہہ سکتے
07:00کہ انہوں نے شائری میں کوئی سوانے لکھ دی ہو
07:02اپنی کوئی جیون قطعہ لکھ دی ہو
07:05اپنی خودنوش لکھ دی ہو
07:06بلکہ اس میں جو ہجرت ہے
07:08غربت ہے
07:09ذہنی
07:10ادم تحفظ ہے
07:11اور بار بار کی ناقدری ہے
07:13جس سے ان کے لہجے میں
07:14ایک شکستگی جس کا میں نے ذکر کیا تھا
07:17ایک ٹوٹن پیدا ہو جاتی ہے
07:18لیکن پورے
07:19پورے وقار کے ساتھ یہ ہوتی ہے
07:22اور ذکر میر میں وہ خود لکھتے ہیں
07:25کہ دلی میں تباہی ہوئی
07:27لکھنو میں ان کا نبیت کا ماحول ملا
07:29ذاتی محرومیاں بھی رہیں
07:31اس کا ذکر وہ برائے راز بھی کرتے ہیں
07:33تو محمد حسین آزاد نے جگہ لکھا ہے
07:36کہ میر کی زندگی نے ان کے دل کو زخمی کیا
07:40میر کی زندگی نے ان کے دل کو زخمی کیا
07:44اور شیر نے ان زخموں کو زبان عطا کرتی
07:47تو یہی جو زخموں کو زبان عطا کی
07:51اس کا عقص جو ہے
07:53ان کی شائلی منظر آتا ہے
07:55جی بجا فرمایا آپ نے
07:58شاداب صاحب جیسا کہ آپ نے بتایا
08:00کہ میر کو پڑھنے والا
08:02اسے اپنا ذاتی دکھ سمجھتا ہے
08:04اور چونکہ وہ وقت ہی ایسا تھا
08:06کہ وہ زبان کا بھی شکار تھا وہ دور
08:08تو میر کے یہاں ذاتی دکھ
08:10اور پورے عہد کا زبان
08:12ایک ساتھ کیوں محسوس ہوتا ہے
08:14ہاں اس کی وجہ یہ ہے
08:16کہ میر جس عہد میں زندہ تھے
08:18اس عہد میں ایک سیاسی
08:22اتھل پتھل ہو رہی تھی
08:23سیاسی ٹھوٹ ہو رہی تھی
08:26دلی بکھر رہی تھی
08:28دلی کی تحصیب بکھر رہی تھی
08:29سبان کا نقصان ہو رہا تھا
08:31اور اخلاقی سطح پر بھی
08:34بشر کا خسارہ ہو رہا تھا
08:36انسانی خسارہ ہو رہا تھا
08:37اخلاق قیاد کی جو قدرے ہو سکتی ہیں
08:40اخلاقی قدرے
08:41یا جو ہماری زندگی کی اخلاقیات
08:43وہ کہیں نہیں کہیں ٹھوٹ رہی تھی
08:44اور اس زمانے کے سیاسی حالات سے
08:46وہ سب متاثر ہو رہی تھی
08:48تو میر کا کمال یہ تھا
08:50کہ اس تمام صورت حال کو
08:51جس کا ذکر آپ نے کیا کہ
08:54ذاتی دو جو ہے پورے اہد کا
08:56دب بن جاتا ہے
08:58پورے اہد کے زوال کے داستان کو بیان کر دیتا ہے
09:01تو براہ راست
09:02وہ کوئی تاریخی بیان نہیں بناتے
09:04کوئی سٹیٹمنٹ نہیں بناتے
09:06کوئی خبر نہیں لکھتے ہیں
09:07بلکہ اس کو اپنی ذات میں
09:10اس طرح ڈھالتے ہیں
09:11اور پھر وہاں سے جو شیری پیکر
09:14ڈھل کر سامنے آتا ہے
09:16تو وہ ایک باطنی تجربہ بن جاتا ہے
09:18اور یہی وجہ ہے کہ
09:20ان کا جو اپنا اصل دکھ ہے
09:22وہ ایک فرد کے اندر سمٹ آئی ہوئی
09:24تاریخ بن جاتا ہے
09:25یعنی کسی شخص کے اندر
09:28اس اہد کی ایک تاریخ سمٹ کر آ گئی ہے
09:30اس اہد کا پورا
09:33ایک قصہ اس کے اندر سمٹ کر آ گیا ہے
09:35اور اس لیے ان کے بہت سے
09:37مصر ایسے ہیں کہ جو اس اہد کی
09:38پوری کی پوری داستان
09:40بیان کر دیتے ہیں
09:41اور یہی وجہ ہے کہ میر کی شائری
09:43پورے زمانے کی سوانے بن جاتی ہے
09:47پورے زمانے کی
09:49کتھا بن جاتی ہے
09:50پورے زمانے کی داستان بن جاتی ہے
09:52ان کی اپنی داستان کے ساتھ ساتھ
09:55جی آپ نے میر کے داخلی کرب
09:58اور اجتماعی زوال کو
10:00بہت خوبصورتی سے واضح کیا
10:02اگلی سوال یہ کہا جاتا ہے
10:04کہ میر کی سادگی ہی
10:07ان کی سب سے بڑی قوت ہے
10:08آپ اس سادگی کو کس طرح سمجھتے ہیں
10:11جی یہ جو سادگی ہے نا
10:13سادگی میں بھی ایک قیامت کی ادا ہوتی ہے
10:16تو سادگی بظاہر بڑا سادہ سا لفظ ہے
10:20لیکن سادگی کے بفوں کو جو سمجھ لیتا ہے
10:23سادگی کی جو گہرائی ہے
10:24سادگی کی جو وسط ہے
10:26جو اس کا دورو عرض ہے
10:28جو اس کا حسن ہے
10:29وہ اس کو اس کا فلسفہ
10:31یا اس کو سمجھ پانا
10:34اہت آسان کام نہیں ہے
10:35اور خاتوز میر کی سادگی
10:37میر کی سادگی
10:39تو مشہور ہے اپنے آپ میں
10:40ان کی شخصت کی سادگی
10:42ان کی زبان کی سادگی
10:43ان کے اشار کے سادگی
10:45تو یہ میر کی جو سادگی ہے
10:47عمران صاحب
10:48یہ کوئی ستھی سادگی نہیں ہے
10:52یا کوئی جملے کی سادگی نہیں ہے
10:54یا زبان کی سادگی نہیں ہے
10:56کہ ایک یوں ہی عام سی بات کہتی گئی ہے
10:58بلکہ یہ وہ سادگی ہے
11:00جو گہرے تجربے کے بعد آتی ہے
11:02یہ وہ سادگی ہے
11:04کہ جو طویل مشہدے کے بعد آتی ہے
11:06یہ وہ سادگی ہے
11:10یا ایک ایسی سادہ سی کیفیت ہے
11:12کہ جو جذبوں کی شدت
11:15کو سمجھنے کے بعد آتی ہے
11:18جذبوں کی شدت کے بعد آتی ہے
11:19اور یہی وجہ ہے
11:21کہ میر صاحب جو ہے
11:22وہ کسی مشکل لفظ
11:25یا پیچیدہ استعارات
11:26یا سنودوں کے محتاج نہیں ہیں
11:28بلکہ اس عام چال
11:30عام بول چال کی زبان میں
11:32عام محاوروں میں
11:33وہ تمام چیزیں کہہ جاتے ہیں
11:35جو پیچیدہ الفاظ میں کہہ جا سکتے ہیں
11:37جو مشکل استعارات میں کہہ جاتے ہیں
11:40جن کے لئے سندوں سندوں کا استعمال
11:42ضرور ہو جاتا ہے
11:43تو یہ جو
11:45سادگی ہے دراصل یہی ہے
11:47کہ پیچیدگی کو
11:49بہت ہی آسانی کے ساتھ بیان کر دینا
11:52دراصل یہی سادگی ہے
11:53کہ سادہ بات کو سادگی سے بیان کرنا
11:55سادگی نہیں ہے صرف
11:56بلکہ پیچیدہ سے پیچیدہ بات کو
11:59الجھی سے الجھی بات کو
12:01بہت سادگی اور بہت آسانی کے ساتھ
12:03بہت سرلتہ کے ساتھ جیسے پانی کو
12:05بیتا چلا جا رہا ہے
12:06وہ بیان کر دینا
12:07دراصل یہی سادگی ہے
12:09اور یہ وجہ ہے کہ میر کا شیر
12:11پہلی مرتبہ میں
12:11بہت سادہ سا لگتا ہے
12:12جب آپ پڑھتے ہیں
12:13نازو کی اس کے لب کی کیا کہیے
12:17پنکھوڑی ہے
12:18بلا کیسی ہے
12:18بے شمار اشاعر ہے
12:19ان کے اس طرح کے سیدھے سادے
12:21لیکن پہلی بار سادہ لگتے ہیں
12:24لیکن آپ پڑھتے جائیے
12:25پڑھتے جائیے
12:26پڑھتے جائیے
12:26تو معنی کی پڑھتے کھلتے جاتی ہیں
12:28اس کی گہرائی کھلتی چلی جاتی ہے
12:30تو دراصل یہ سادگی جو ہے
12:33یہ کلاسی کی پختگی کی علامت ہے
12:36اور یہ کلاسی کی پختگی کے بعد ہی
12:38کہ جی شاعر کو نصیب ہوتی ہے
12:40گہرے تجربے کے بعد آتی ہے
12:42تنگیل مشاہدے کے بعد آتی ہے
12:44اور یہی سادگی
12:45اس لیے میر کی ایک بہت بڑی طاقت بن جاتی ہے
12:48جس کے جانے اب آپ نے اشارہ کیا ہے
12:50شاداب صاحب ہم چاہیں گے
12:53کہ آپ میر تقی میر کے چند منتخب اشعار
12:56اپنی آواز میں پیش کریں
12:57جی صاحب میر کے
13:01صاحب ایسے ایسے اشعار ہیں
13:03جہاں سے اٹھائیے
13:06میر کو
13:07آپ دیکھئے
13:09عمران صاحب میر کے جو ہیں
13:11چھ زخیم دیوان ہیں
13:13چھ مکمل دیوان ان کے ہیں
13:16ہزاروں اشعار ہیں
13:17اور غزلوں کے علاوہ
13:20اور انہیں مسلمی کہیں
13:21مسدس کہیں
13:22محمس کہیں
13:23ربائیات کہیں
13:24قطع کہیں
13:25تو بہت سی اصناف ان کے ہاں ملتی ہیں
13:28تو میر کو
13:28ایک بڑے بڑے خزانے میں سے
13:31کچھ موتی نکال پانا
13:33کیونکہ ہر شیر کو یہ لگتا
13:35کہ یا اس کو بھی نہیں چھوڑ سکتے
13:36اس کو بھی نہیں چھوڑ سکتے
13:38اب دیکھئے کیا بلکل
13:39اس سادگی کے بعد جو آپ کر رہے تھے
13:43بوٹا بوٹا حال ہمارا جانے ہے
13:46پتہ پتہ بوٹا بوٹا
13:50حال ہمارا جانے ہے
13:52جانے نہ جانے
13:54گل ہی نہ جانے
13:55باغ تو سارا جانے ہے
13:56جانے نہ جانے
13:58گل ہی نہ جانے
13:59باغ تو سارا جانے ہے
14:01دل کی بیرانی کا کیا مذکور ہے
14:04دل کی بیرانی کا کیا مذکور ہے
14:08یہ نگر سو مرتبہ لوٹا گیا
14:10یہ ہے میر
14:12راہے دردے عشق ہے روتا ہے کیا
14:18راہے دردے عشق میں روتا ہے کیا
14:22اس کو بہت سے کئی شکلے اس کی مصرے کی آتی ہے ہمارا سامنے
14:26اس ابتدائی عشق ہے روتا ہے کیا
14:27تو اصل شعر ہے کہ راہے دورے عشق میں روتا ہے کیا
14:31آگے آگے دیکھئے ہوتا ہے کیا
14:34آگ تھے ابتدائی عشق میں ہم
14:37کیا دیکھئے مزے کا شعر ہے
14:39آگ تھے ابتدائی عشق میں ہم
14:42اب جو ہیں خاک انتہا یہ ہے
14:45اب جو ہیں خاک انتہا یہ ہے
14:48بڑا وسیع کینمس ہے
14:49بڑا پاکی شیئر ہے
14:50اور زندگی کی تمام تجربات کو سمیٹ لیتا ہے
14:53آگ تھے ابتدائش میں ہم
14:55اب جو ہیں خاک انتہا یہ ہے
14:58اب تو جاتے ہیں
14:59بد قدے سے میر
15:01اب تو جاتے ہیں
15:03بد قدے سے میر
15:05پھر ملیں گے اگر خدا لائے
15:07پھر ملیں گے اگر خدا لائے
15:10نازو کی اس کے لب کی کیا کہیے
15:13اشیر میں نے پڑھا بھی تھا
15:14نازو کی اس کے لب کی کیا کہیے
15:16پنکڑی ایک گلاب کسی ہے
15:18یاد اس کی اتنی خوب نہیں میر باز آ
15:23یاد اس کی اتنی خوب نہیں میر باز آ
15:28نادان پھر وہ جی سے بھولایا نہ جائے
15:30تو آگاہ کر رہے ہیں کہ پھر وہ دل سے بھولا نہیں سکتا اس کو تو
15:36اس لیے باز آ اس کو یاد کرنے سے
15:38عشق پر کیا ان کا مارکتور آراشیر ہے
15:41پوری ایک طرح سے definition ہے
15:44عشق ایک میر بھاری پتھر ہے
15:47عشق ایک میر بھاری پتھر ہے
15:51کب یہ تجھ ناتما سے اٹھتا ہے
15:53کب یہ تجھ ناتما سے اٹھتا ہے
15:56ہوگا کسی دیوار کے سائے میں پڑا میر
15:59کیا کام محبت سے اس آرام طلب ہو
16:03کیا کام محبت سے اس آرام طلب ہو
16:06ہمارے آگے طرح جب کسو نے نام لیا
16:10دلے ستم زدہ کو ہم نے تھام تھام لیا
16:14مت سہل ہمیں جانو
16:17پھرتا ہے فلک برسوں
16:19تب خاک کے پردے سے انسان نگلتے ہیں
16:22یہ شیر تو خود میر پہ سارے کھاتا ہے
16:25کہ میر جیسے شاعر پیدا ہونے بہت آسان نہیں ہے
16:28مت سہل ہمیں جانو
16:30پھرتا ہے فلک برسوں
16:32تب خاک کے پردے سے انسان نگلتا ہے
16:36اور غزل ان کی جو بڑے سنگرس نے بھی گائی ہیں
16:38اس کے کچھ شیر مجھے یاد آگئے
16:40وہ سناتا ہوں کہ دکھائی دیئے یوں کہ بے خود کیا
16:42دکھائی دیئے یوں کہ بے خود کیا
16:46ہمیں آپ سے بھی جدہ کر چلے
16:49یہ پوری غزل ہے ان کی بڑی مشہور غزل ہے
16:52سرحانے میر کے کوئی نہ بولو
16:56سرحانے میر کے کوئی نہ بولو
16:59ابھیر ٹک روتے روتے سو گیا ہے
17:03یہاں ٹک کا استعمال کتنا
17:04ابھیر کیایتی نفیس لگتا ہے
17:06یہ ٹک جو ہے دیکھئے
17:09یہ اس کا جواب نہیں
17:11یہ جو زبان ہے میر کی
17:12اور اس میں جو ٹک میں بات ہے وہ
17:14جس طرح آپ نے کہا کہ کیا خفصود لگتا
17:17پوری تہذیب اس میں سمٹ آتی ہے
17:19لفظ کی بھی اور پورے وقت کی بھی
17:21سرحانے میر کے آہستہ بولو
17:23ابھی ٹک روتے روتے سو گیا ہے
17:26میرے سلیقے سے
17:27میری نفی محبت میں
17:30میرے سلیقے سے
17:32میری نفی محبت میں
17:33تمام عمر میں ناکامیوں سے کام لیا
17:36اور لے ساز بھی آہستہ کے نازو کے بہت کام
17:40یہ بھی شاعری کی ایک تعریف ہے
17:42کہ شاعری یہ کوئی بھی فن
17:43اس کی کیا نزاکت ہے
17:46لے ساز بھی آہستہ
17:48کہ نازو کے بہت کام
17:50آفاق کی اس کارگہے شیشہ گری کا
17:54آفاق کی اس کارگہے شیشہ گری کا
17:57میر ہم مل کے بہت خوش ہوئے تم سے پیارے
18:01میر ہم مل کے بہت خوش ہوئے تم سے پیارے
18:05اس خرابے میں میری جان تم آباد رب
18:09اب یہ زمان دیکھے اس خرابے میں میری جان تم آباد رب
18:13یہ بات ہے اس کو شاعری بنا دیا مین ہے میری جان تم آباد رب
18:18ایک عام سا جملہ لیکن کتنی کیفیت سے برپور جملہ ہے
18:22میر ہم مل کے بہت خوش ہوئے تم سے پیارے
18:25اس خرابے میں میری جان تم آباد رہو
18:28اس کے فروغِ حسن سے جھمکے ہیں سب میں نور
18:32اب دیکھیں یہ جو ہمانگی ہے ایک مذہب کے درمیان
18:37طبقوں کے درمیان کیا خوبصورت شیر میر نے کہا ہے
18:40اس کے فروغِ حسن سے جھمکے ہیں سب میں نور
18:43یعنی سب ایک ہی ہے سارا نور ایک ہی ہے
18:45اس کے فروغِ حسن سے جھمکے ہیں سب میں نور
18:49شمِ حرم ہو یاہو دیا سو مناتا
18:52چاہے مسجد میں جنتاوہ چراک ہو
18:55یا کسی مندل میں جنتاوہ کو تیپا کو
18:57سب نور ایک ہی ہے
18:59تو یہ اس طرح کی شائری
19:01میر کے ہاں
19:03اور ایک شیر میں سناتا ہوں جو آج کے عہد میں بھی ہے
19:06جس کو اصلی حصیت کہہ سکتے ہیں
19:07کہ ایک موڈرن سنسیبیلٹی کیا ہو سکتی
19:10اس شیر کو آج بھی آپ
19:11پوری طرح ساجد خاتا ہے کہ
19:13کن نیندوں اب تو سوتی ہے اے چشمِ گریہ ناک
19:16کن نیندوں
19:18اب تو سوتی ہے اے چشمِ گریہ ناک
19:22مزگاں تو کھول
19:23شہر کو سہلاب لے گیا
19:25اب یہ دیکھے صاحب
19:27بے خبری جو غفلت
19:29اور بے شعوری کا جو عالم ہے
19:32وہ کس طرح بیان کر دیا ہے
19:34کہ مزگاں تو کھول
19:35پلکے تو کھول اپنی
19:37شہر کو سہلاب لے گیا
19:39کن نیندوں اب تو سوتی ہے
19:41چشمِ گریہ ناک
19:42مزگاں تو کھول
19:43شہر کو سہلاب لے گیا
19:45تو ایسے بے شمار اشار ہیں
19:48میر کے
19:49کہا تو جاتا کہ
19:50کچھ لوگوں نے کہا کہ بہتر شہر ہیں
19:52بہتر نہیں
19:53بے شمار اشار ہیں جو
19:55میر
19:56میر آج کا شہر جس میں لگتا ہے
19:59اگر آپ سنا دیجئے تو
20:01آج کی بچوں کو دواز کا شہر لگے گا
20:03سوشل میڈیا کا شہر لگے گا
20:05یہ میر کی خوبی ہے
20:06جی آج کے قاری کے لئے
20:09میر کی معنویت
20:10کہاں سے شروع ہوتی ہے
20:11اور میر جیسا کہ آپ نے کہا
20:14آج بھی
20:14ہم اثر محسوس ہوتے ہیں
20:16تو یہ صفت
20:17کہاں سے پیدا ہوتی ہے
20:18یہ وہی جو جس کیا ذکر ہم نے کیا تھا
20:23کہ جو ایک سادگی ہے
20:25کہ ملکہ کوئی بات ایس اس طرح کہہ دینا
20:29کہ یہ لگے
20:31کہ یہ بات تو ہماری بات ہے
20:33ایک دو سو اڑھائی سو برس
20:35قبل شہر ایک شہر کہہ رہا ہے
20:37اور وہ آج کے شہر کو
20:38اپنا محسوس ہو رہا ہے
20:40پتہ پتہ بھوٹا بھوٹا حال
20:42ہمارے جانے ہیں
20:43جانے نہ جانے
20:44گلی نہ جانے
20:45باق تو سارا جانے ہیں
20:46یہ جو بے اتنائی ہے
20:47کسی کی جو بے دخی ہے
20:48کہ جس پر
20:49جس کے توجہ ہم چاہتے ہیں
20:51جس کا انہمات چاہتے ہیں
20:52وہی ہم پر توجہ نہیں دے رہا
20:53پوری دنیا ہمیں کو سمجھ رہی ہے
20:54تو یہ آج کا تجربہ بن جاتا ہے
20:57وہی احساس ہے
20:57وہی جذبے ہیں
20:58جو کل تھے
20:59وہی آج بھی ہیں
21:00یہ نازوکی اس کے لب کی
21:02کیا کہیے
21:03یہ آج کے شہر کا جو
21:04جو آسان زبان سمجھ رہا ہے
21:07جس کو مشکل الفاظ
21:09سمیم نہیں آ رہے ہیں
21:10یہ اس شہر کو
21:12پورا کر رہا
21:13دو رہائی سو برس قبل کا ایک شہر
21:14نازوکی اس کے لب کی کیا کہیے
21:17پنکڑی ایک گلاب کسی ہے
21:18تو یہ ہے جو
21:20ہم آج
21:21جو میر کو جو ہے
21:22آج کا شہر بنا دیتا ہے
21:24اور یہی چیزیں جو میر کے ہیں
21:26سادکی ہے
21:27اور خود آگئی ہے
21:28جو خود کو پہچاننے کا شعور ہے
21:30وہ آج کی بہت سخت ضرورت ہے
21:33اور اسی لیے میر ہم کو آج بھی
21:35بہت ریلیونٹ معلوم ہوتے ہیں
21:37جی بہت شاندار
21:38شاداب صاحب ہم آپ کے بے حد شکر گزار ہیں
21:41کہ آپ نے میر تقی میر جیسے
21:43عظیم اور کلاسیکی شاعر پر
21:45اتنی سنجیدہ
21:46اور بامانی گفتگو کی
21:48ہمیں یقین ہے
21:49کہ یہ گفتگو ناظرین کے لیے
21:50مفید ثابت ہوگی
21:52اور ان کی فہم میں اضافہ کرے گی
21:54ناظرین
21:55اگر آپ کو عدب نامہ کی یہ قص پسند آئی ہو
21:58تو ویڈیو کو لائک کریں
21:59چینل کو سبسکرائب کریں
22:01اور اپنی رائے
22:02کمنٹس کے طور پر ضرور دیں
22:05اور نئی نششتوں کے لیے
22:06بیل آئیکن دبائیں
22:08اگلی نششت میں
22:10کسی اور شاعر
22:11اور ایک نئی گفتگو کے ساتھ
22:13دوبارہ حاضر ہوں گے
22:14اپنا خیال رکھیے گا
22:16پھر ملاقات ہوگی
Comments