Skip to playerSkip to main content
Explore the rich history of Delhi’s Urdu Bazaar, once a thriving hub of literature, poetry, and culture. This video uncovers how this iconic market shaped Urdu language and literary traditions, and why its legacy is slowly fading in modern times. From legendary poets to rare bookshops, discover the untold story of a cultural treasure struggling to survive.

Delhi Urdu Bazaar history, Urdu Bazaar Delhi story, fading Urdu culture, Urdu literature India, Old Delhi book market, Urdu poetry heritage, Delhi cultural history, Urdu books bazaar, literary heritage India, decline of Urdu language, Mughal era literature Delhi, famous Urdu poets Delhi, historic markets Delhi, storytelling podcast Urdu Bazaar

Delhi Urdu Bazaar, Urdu Bazaar story, Old Delhi history, Urdu literature, fading culture, Urdu poetry, Delhi heritage, book market Delhi, cultural storytelling, India history, literary heritage, Urdu language decline, historic Delhi markets, podcast storytelling, Apna TV New York

#UrduBazaar #DelhiHistory #UrduLiterature #CulturalHeritage #OldDelhi #UrduPoetry #StorytellingPodcast #IndianHistory #LiteraryLegacy #ApnaTVNewYork #viral #shortvideo #viralvideo #short #indian #pakistan #literature #culture

Category

😹
Fun
Transcript
00:00مجھے خوب یاد ہے پاکستان سے جو بھی آتے تھے اردو بازار ضرور آتے تھے
00:04اور مکتبہ جامعہ بھی آتے تھے
00:06بہت افسوس کی بات ہے کہ یہاں اردو کے کتابیں کم ہو رہی ہیں اور کھانے پینے کی چیزیں زیادہ
00:12بڑھ رہی ہیں
00:15ڈلی کی تاریخی اردو بازار جسے کبھی ہندوستان میں اردو عدب کی روح اور فکری مرکس سمجھا جاتا تھا
00:22آج خاموشی اور ویرانی کی تصویر بنتا جا رہا ہے
00:27جامعہ مجد کے روبر و واقع یہ تنگ و پیچیدی گلیاں جہاں دیہائی قبل تک علم و عدب کی خوشبو
00:34سے مہکتی تھی
00:35یہاں پچاس سے زیادہ دکانیں تھی جہاں غالب فراق فیض اور کلاسکی تحریری سے لے کر جدید افسانی تک سب
00:45کچھ مل جاتا تھا
00:46نئی نسل زیادہ تر ہندی اور انگریزی کی جانب منتقل ہو رہی ہیں
00:50آج دلی کا اردو بازار صرف چند بچی کچھ دکانوں کا نام نہیں ہے
00:55بلکہ یہ ایک ایسی زبان کے سکڑتے ہوئے وجود کی علامت بن چکی ہے
01:00جو کبھی اس شہر کی شناخت تہذیب اور اس کی روح ہوا کرتی تھی
01:11ہم جو بیٹھے ہیں یہ مکتبہ جامعہ میں یہ پوری لائن اردو بازار کے نام سے مشہور تھا
01:15جہاں ہر قسم کی کتابیں ملتی تھی آپ کو عدوی مذہبی لیٹریچر کی ہر کتابیں
01:21کتابیں چاہے وہ تنز مزہ ہو افسانہ ہو فکشن ہو
01:26کریٹسزم کی تنقید کی کتابیں ہوں
01:28لوگ آتے تھے جکانوں پہ بھیڑ رہتی تھی
01:31یہاں ہندوستان کی ہر جگہ کے کتابیں آ جاتی تھی
01:35آج صورت حال یہ ہے کہ صرف دلی میں جو کتابیں چھپتی ہیں
01:39وہ ہی آپ کو مل پائے گی
01:41باہر کی کتابیں آنا بند ہیں
01:44اور کاروبار تو بالکل ختم ہے
01:48تقریباً چھتیس سال سے میں اس ادارے سے منسلک ہوں
01:52جب میں آیا تھا
01:54اس وقت کتابیں ہزار دو ہزار کی کونٹیٹی میں چھپتا تھے
01:59ظاہر سی بات ہے وہ سیل ہوتی تھی
02:01تو کتابوں کو ڈیمانڈ بھی رہتی تھی
02:03کتابیں بھی چھپتی تھی
02:04اس کے بعد یہ پان ایک ہزار دو ہزار سے یہ
02:07سات سو پہ آیا سات سو سے پان سو پہ آیا
02:11پان سو سے دو سو پہ آ گیا
02:13کیونکہ اردو کے خریدات دن با دن کم ہوتے رہے ہیں
02:16مجھے خوب یاد ہے پاکستان سے جو بھی آتے تھے
02:19اردو بازار ضرور آتے تھے
02:20اور مکتبہ جامعہ بھی آتے تھے
02:22کھانے پینے کی دکانیں نہیں ہوا کرتے تھے
02:25لیکن اب کھانے پینے کی دکانیں ہیں
02:27بلکہ لوگ آتے بھی تو یہی پوچھتے ہیں
02:29کہ بھائی بڑیا نہیں اچھی کہاں مل جائے گی
02:32رہاری کہاں اچھی ملے گی
02:33کتابوں کے لئے نہیں پوچھتے کہ کونسی دکان میں کونسی کتاب ملے گی
02:37اردو لیٹریچر پر صرف دو دکانیں ہیں
02:39ایک مکتبہ جامعہ ایک کتب خانہ انجوبان
02:41اس نقصان کا تلافی ناممکن ہے
02:45اگر صورتحال یہ رہی
02:47یا حکومت کی طرف سے کوئی توجہ نہیں ہے
02:49حکومت لائبری کو گران دے گی
02:51تو کتابیں خریدی جائیں گی
02:52بہت سارے پوشٹ کھالی ہیں
02:55اردو کے بڑے نہیں جاتے ہیں
02:56بہت سارے اسکولوں میں
02:58اردو ختم کر دی گئی ہیں
03:01تو میرا خیال سے یہ دن بہ دن
03:03اس پر بہت کام کرنے کے ضرورت ہے
03:07تو یہ بے ہیسی ہے ایک طرح سے
03:09اردو کے تین بے ہیسی ہے
03:11ہم بھی بے ہیس ہو گئے ہیں
03:17اردو بازار ہے
03:18اردو کا ایک گڑ ہوا کرتا تھا
03:20مرکز ہوا کرتا تھا
03:21اور بہت افسوس کی بات ہے
03:23کہ یہاں اردو کے کتابیں کم ہو رہی ہیں
03:26اور کھانے پینے کی چیزیں
03:27زیادہ بڑھ رہی ہیں
03:28تو یہ بہت ایک افسوس کا مقام ہے
03:31اور اس پر سوچنے کی ضرورت ہے
03:34کہ آخر اردو کی کتابیں
03:35اردو کی دکانیں
03:36کیوں اردو بازار سے کم ہو رہی ہیں
03:38اردو بازار نام کا ہے
03:40کیا یہ اردو بازار نام کا رہ جائے گا
03:42اور کھانا بازار ہو جائے گا
03:44اس پر گوھر کرنے کی ضرورت ہے
03:46اس کو اردو بازار کو
03:47اردو بازار رہنے کے لیے ضروری ہے
03:49کہ یہاں اردو کے کتابیں ہوں
03:51اردو کی دکانیں ہوں
03:52کھانا بازار نہ بنایا جائے
03:54پلیز ہم اردو والوں کو اس پر گوھر کرنے کی ضرورت ہے
Comments

Recommended