00:00مجھے خوب یاد ہے پاکستان سے جو بھی آتے تھے اردو بازار ضرور آتے تھے
00:04اور مکتبہ جامعہ بھی آتے تھے
00:06بہت افسوس کی بات ہے کہ یہاں اردو کے کتابیں کم ہو رہی ہیں اور کھانے پینے کی چیزیں زیادہ
00:12بڑھ رہی ہیں
00:15ڈلی کی تاریخی اردو بازار جسے کبھی ہندوستان میں اردو عدب کی روح اور فکری مرکس سمجھا جاتا تھا
00:22آج خاموشی اور ویرانی کی تصویر بنتا جا رہا ہے
00:27جامعہ مجد کے روبر و واقع یہ تنگ و پیچیدی گلیاں جہاں دیہائی قبل تک علم و عدب کی خوشبو
00:34سے مہکتی تھی
00:35یہاں پچاس سے زیادہ دکانیں تھی جہاں غالب فراق فیض اور کلاسکی تحریری سے لے کر جدید افسانی تک سب
00:45کچھ مل جاتا تھا
00:46نئی نسل زیادہ تر ہندی اور انگریزی کی جانب منتقل ہو رہی ہیں
00:50آج دلی کا اردو بازار صرف چند بچی کچھ دکانوں کا نام نہیں ہے
00:55بلکہ یہ ایک ایسی زبان کے سکڑتے ہوئے وجود کی علامت بن چکی ہے
01:00جو کبھی اس شہر کی شناخت تہذیب اور اس کی روح ہوا کرتی تھی
01:11ہم جو بیٹھے ہیں یہ مکتبہ جامعہ میں یہ پوری لائن اردو بازار کے نام سے مشہور تھا
01:15جہاں ہر قسم کی کتابیں ملتی تھی آپ کو عدوی مذہبی لیٹریچر کی ہر کتابیں
01:21کتابیں چاہے وہ تنز مزہ ہو افسانہ ہو فکشن ہو
01:26کریٹسزم کی تنقید کی کتابیں ہوں
01:28لوگ آتے تھے جکانوں پہ بھیڑ رہتی تھی
01:31یہاں ہندوستان کی ہر جگہ کے کتابیں آ جاتی تھی
01:35آج صورت حال یہ ہے کہ صرف دلی میں جو کتابیں چھپتی ہیں
01:39وہ ہی آپ کو مل پائے گی
01:41باہر کی کتابیں آنا بند ہیں
01:44اور کاروبار تو بالکل ختم ہے
01:48تقریباً چھتیس سال سے میں اس ادارے سے منسلک ہوں
01:52جب میں آیا تھا
01:54اس وقت کتابیں ہزار دو ہزار کی کونٹیٹی میں چھپتا تھے
01:59ظاہر سی بات ہے وہ سیل ہوتی تھی
02:01تو کتابوں کو ڈیمانڈ بھی رہتی تھی
02:03کتابیں بھی چھپتی تھی
02:04اس کے بعد یہ پان ایک ہزار دو ہزار سے یہ
02:07سات سو پہ آیا سات سو سے پان سو پہ آیا
02:11پان سو سے دو سو پہ آ گیا
02:13کیونکہ اردو کے خریدات دن با دن کم ہوتے رہے ہیں
02:16مجھے خوب یاد ہے پاکستان سے جو بھی آتے تھے
02:19اردو بازار ضرور آتے تھے
02:20اور مکتبہ جامعہ بھی آتے تھے
02:22کھانے پینے کی دکانیں نہیں ہوا کرتے تھے
02:25لیکن اب کھانے پینے کی دکانیں ہیں
02:27بلکہ لوگ آتے بھی تو یہی پوچھتے ہیں
02:29کہ بھائی بڑیا نہیں اچھی کہاں مل جائے گی
02:32رہاری کہاں اچھی ملے گی
02:33کتابوں کے لئے نہیں پوچھتے کہ کونسی دکان میں کونسی کتاب ملے گی
02:37اردو لیٹریچر پر صرف دو دکانیں ہیں
02:39ایک مکتبہ جامعہ ایک کتب خانہ انجوبان
02:41اس نقصان کا تلافی ناممکن ہے
02:45اگر صورتحال یہ رہی
02:47یا حکومت کی طرف سے کوئی توجہ نہیں ہے
02:49حکومت لائبری کو گران دے گی
02:51تو کتابیں خریدی جائیں گی
02:52بہت سارے پوشٹ کھالی ہیں
02:55اردو کے بڑے نہیں جاتے ہیں
02:56بہت سارے اسکولوں میں
02:58اردو ختم کر دی گئی ہیں
03:01تو میرا خیال سے یہ دن بہ دن
03:03اس پر بہت کام کرنے کے ضرورت ہے
03:07تو یہ بے ہیسی ہے ایک طرح سے
03:09اردو کے تین بے ہیسی ہے
03:11ہم بھی بے ہیس ہو گئے ہیں
03:17اردو بازار ہے
03:18اردو کا ایک گڑ ہوا کرتا تھا
03:20مرکز ہوا کرتا تھا
03:21اور بہت افسوس کی بات ہے
03:23کہ یہاں اردو کے کتابیں کم ہو رہی ہیں
03:26اور کھانے پینے کی چیزیں
03:27زیادہ بڑھ رہی ہیں
03:28تو یہ بہت ایک افسوس کا مقام ہے
03:31اور اس پر سوچنے کی ضرورت ہے
03:34کہ آخر اردو کی کتابیں
03:35اردو کی دکانیں
03:36کیوں اردو بازار سے کم ہو رہی ہیں
03:38اردو بازار نام کا ہے
03:40کیا یہ اردو بازار نام کا رہ جائے گا
03:42اور کھانا بازار ہو جائے گا
03:44اس پر گوھر کرنے کی ضرورت ہے
03:46اس کو اردو بازار کو
03:47اردو بازار رہنے کے لیے ضروری ہے
03:49کہ یہاں اردو کے کتابیں ہوں
03:51اردو کی دکانیں ہوں
03:52کھانا بازار نہ بنایا جائے
03:54پلیز ہم اردو والوں کو اس پر گوھر کرنے کی ضرورت ہے
Comments