Skip to playerSkip to main content
Have you ever wondered why an hour has exactly 60 minutes? 🤔 The answer goes back thousands of years to ancient civilizations who shaped the way we measure time today. In this video, we explore the fascinating history behind the 60-minute hour, from early mathematical systems to the influence of ancient cultures.

Discover how ancient thinkers created a time system that is still used across the world today. This storytelling podcast will reveal surprising facts and hidden history behind something we use every day!

Watch till the end to uncover this timeless mystery ⏳

why 60 minutes in an hour
history of time measurement
ancient time system
why hour has 60 minutes
origin of 60 minutes
Babylonian time system
base 60 system explained
ancient mathematics history
time facts
interesting history facts
podcast storytelling history
educational podcast
mystery of time
ancient civilizations secrets

why 60 minutes, hour history, time history, ancient time system, babylonian math, base 60 system, history facts, interesting facts, knowledge podcast, storytelling podcast, time mystery, educational video, ancient secrets, viral facts, documentary short

#TimeHistory #AncientSecrets #DidYouKnow #HistoryFacts #Knowledge #Podcast #Storytelling #TimeMystery #Educational #ViralFacts #AncientCivilization #Learning #FactVideo #viral #viralvideo #shorts #shortvideo

Category

😹
Fun
Transcript
00:01دنیا بھر میں وقت کی پیمائش کا نظام پانچ ہزار سال سے چلا رہا ہے
00:05جس کی بنیاد ایک پورا سرار فیصلے پر قائم ہے
00:09ہفتے میں سات دن، دن میں چوبیس گھنٹے، گھنٹے میں ساٹھ منٹ اور منٹ میں ساٹھ سیکنڈ ہی کیوں ہوتے
00:15ہیں
00:16اور جب فرانس کی انقلابی حکومت تجرباتی طور پر ہی سہی
00:20اس قدیم نظام کی جگہ آشاری نظام یعنی ڈیسیمل سسٹم لائی تو کیا ہوا؟
00:26اکتوبر سترہ سو ترانوے میں فرانس کی انقلابی حکومت نے ایک انوکہ تجربہ کیا
00:31وقت کی پیمائش بدلنے کا
00:33فیصلہ ہوا کہ دن چوبیس کے بجائے دس گھنٹے کا
00:38ہر گھنٹہ ساٹھ کے بجائے سو منٹ کا اور ہر منٹ بھی ساٹھ کے بجائے سو سیکنڈ کا ہوگا
00:45اور ہفتے میں دس دن ہوں گے
00:47ملک بھر میں وقت کی پیمائش کے لیے آشاری نظام یعنی ڈیسیمل سسٹم متعارف کروانے کا بندوبست شروع ہوا
00:54ٹاؤن ہالو میں نئی گھڑیاں نصب کی گئیں
00:57اور سرکاری امور کے لیے نئی تقویم یعنی کیلنڈر بنایا گیا
01:02مگر جلد ہی مسائل نے سر اُبھارنا شروع کر دیا
01:06موجودہ گھڑیوں کو نئے نظام کے تحت ڈالنا انتہائی مشکل ثابت ہوا
01:11اس کی وجہ سے فرانس پڑوسی ملکوں سے کٹ کر رہ گیا
01:14دہی آبادی بھی ہفتہ وار تعتیل کے دس روز بعد ملنے پر ناخوش تھی
01:19نتیجہ تن فرانس میں وقت ناپنے کا آشاری نظام بمشکل ایک سال اور سات مہینے ہی نافذ رہ سکا
01:27اب آتے ہیں اس طرف کہ ہم نے گھننا کیسے شروع کیا
01:30اور دن میں چوبیس گھنٹے گھنٹے میں ساٹھ منٹ اور منٹ میں ساٹھ سیکنڈ کیوں رکھے گئے
01:36یہ جاننے کے لیے ہمیں گھڑی کی سوئیوں کو پیشے گھما کر اس دور میں جانا ہوگا
01:41جب وقت کی گھنٹی کا تصور ہی موجود نہیں تھا
01:45آسے قریباً سوہ سات ہزار سے چار ہزار سال پہلے تک
01:49قدیم عراق یعنی میسوپوٹیمیا میں آباد سومیری باشندوں نے شہر بسانہ شروع کیے
01:55کھیتی باڑی اور آپاشی کا نظام حضہ کیا
01:57اور تحریر یعنی رائٹنگ کی ایجاد کا سہرہ بھی انہی کے سر ہے
02:02یہ سومیری ہی تھے جنہوں نے ساٹھ عداد یعنی نمبرو والی گھنٹے کا نظام بنایا تھا
02:08وہ کیسے ہیں؟ وہ ایسے کہ اپنا ایک ہاتھ اٹھا کر ایک انگلی موڑیں
02:13اس میں تین جوڑ ہیں
02:15انگوٹھا چھوڑ کر ایک ہاتھ کی چار انگلیوں کے بارہ جوڑ ہوئے
02:19اب دوسرے ہاتھ کی ایک انگلی اٹھائیں اور اسے بارہ کے ہنسے کے برابر سمجھ لیں
02:24پھر ہاتھ کی پانچوں انگلیوں کو بارہ بارہ سمجھ کر جمع کریں
02:28تو جواب آئے گا ساٹھ
02:30یعنی بارہ ضربے پانچ برابر ساٹھ
02:33قیاس کہا جاتا ہے کہ سمیریوں نے اسی اصول پر اپنے حساب کی بنیاد رکھی تھی
02:38اور وقت کی پہمائش کا یہ طریقہ آج بھی رائج ہے
02:42کنیڈا میں یونیورسٹی آف نیو بنسوک میں ابتدائی تحریری نظام کے ماہر
02:47مارڈن ویلس مونڈو کے مطابق اس وقت شہر پھیل رہے تھے
02:51اور ازرعی نظام جدید ہوتے جا رہے تھے
02:54اور حساب کتاب رکھنے کے لیے سمیریوں کو تحریر اور شمار کے نظاموں میں جدت لانے کی ضرورت پیش آئی
03:01حداد و شمار درج کرنے کے لیے انہوں نے مٹی کی چھوٹی چھوٹی تختیوں یعنی ٹیبلٹ کا استعمال کیا
03:08اکثر تختیاں موجودہ سمارٹ فون یا اس سے بھی چھوٹی ہوتی تھی
03:12پھر تحریر کو تصویر کی صورت دی جانے لگی
03:15مٹی کی یہ تختیاں انیسوی صدی کے وسط میں دریافت ہوئی تھی
03:19مونڈو کے مطابق ان سے ظاہر ہوتا ہے کہ سمیری باشندوں نے کئی عددی نظام استعمال کیا
03:24ریاضی کے لیے فلکیات کے لیے اور وقت کے لیے بھی
03:28جلد ہی اس نے ایک پورے نظام کی شکل اختیار کر لی
03:32سمیری باشندوں نے ساٹھ کو اس طرح استعمال کیا جیسے آج ہم دس کو استعمال کرتے ہیں
03:37یعنی نو تک پہنچنے کے بعد بائیں طرف ایک اور دائیں طرف صفر لکھتے ہیں
03:43مونڈو کے مطابق اس بات کے واضح شواہد نہیں ہیں
03:46کہ سمیریوں نے وقت کے لیے کوئی پہمانہ استعمال کیا ہو
03:50البتہ ان کے بعد آنے والے بابولی باشندوں کے ہاں
03:54اب سے لگ بگ تین ہزار سال پہلے وقت کی پہمائش کے لیے
03:57سورج اور پانی کی مدد سے گھڑیاں بنانے کے دستاویزی ثبوت ملتے ہیں
04:02مگر خطے میں وقت کی پہمائش کا نظام اس سے بھی پہلے سے موجود تھا
04:08سویڈزرلینڈ کی یونیورسٹی آف باسل سے وابستہ
04:10ریٹا گوٹشی کے مطابق پہلا تمدن جو دن کو گھنٹوں میں تقسیم کرنے کے لیے جانا جاتا ہے
04:17وہ قدیم مصری تمدن تھا
04:19اور یہی بات قریباً ساڑھے چار ہزار سال پہلے کے مذہبی مطن سے بھی ظاہر ہوتی ہے
04:25گوٹشی کے مطابق گھنٹوں کی پہمائش سے متعلق پہلی معلوم اشیاء
04:30رات کے بارہ گھنٹوں کا بتاتی ہیں
04:32یہ ترشی ستاروں والی گھڑیاں ہیں
04:35جو چار ہزار ایک سو سے تین ہزار آٹھ سو برس کے درمیان
04:39مصری اشرافیہ کے تابوتوں پر بنے گھڑیوں کے نشان ہیں
04:43یہ واضح نہیں کہ مصریوں نے بارہ کی تقسیم کیوں منتخب کی
04:48جو بالاخر پورے دن میں چوبیس گھنٹے تک پہنچ گئی
04:51مصریوں کے پاس بارہ برجوں کا ایک مجموعہ تھا
04:55لیکن غالب امکان یہ ہے
04:57کہ یہ نظام اس وقت متعارف ہوا
04:59جب بارہ گھنٹوں کا ذکر پہلے ہی عام ہو چکا تھا
05:02ایک اور امکان یہ ہے
05:04کہ وہ ایک ہاتھ کی انگلیوں کے جوڑ گن کر
05:07آسانی سے بارہ تک پہنچ سکتے تھے
05:09وقت ناپنے کے قریباً ساڑھے تین ہزار سال پرانے معروف آلات
05:14سن ڈائلز اور پانی کی گھڑیاں مصر میں ملی ہیں
05:17گوٹشی کہتی ہیں کہ بعض آلات
05:19روز مرہ کے کاموں میں استعمال ہوتے تھے
05:21لیکن زیادہ تر کا تعلق ممکنہ طور پر
05:24مذہبی رسومات سے ہو سکتا ہے
05:26اس دور میں وقت کی پہمائش کے لیے
05:29کسی سائنشی طریقے کی موجودگی کے بارے میں
05:32زیادہ معلومات نہیں ملتی
05:33گوٹشی کے مطابق روز مرہ کے کام کاج سے متعلق
05:37جو قدیم مطن ملتا ہے
05:38اس میں وقت کی پہمائش کام کے وقات کے حساب سے
05:42پہروں میں کی جاتی تھی
05:43یعنی صبح یا دوپہر کا وقت
05:45البتہ آج سے کوئی دو ہزار پچاس سال پہلے کے مصر میں
05:49گھنٹے کو مایار بنا لیا گیا تھا
05:51اور آدھے گھنٹے کا تصور بھی رائج ہونے لگا تھا
05:55اس دوران بابل یعنی موجودہ عراق کے لوگوں نے بھی
05:58وقت کی پہمائش کے لیے گھنٹوں کے استعمال کو فروغ دیا
06:01اور سب سے پہلے گھنٹے کو مزید چھوٹے حصوں میں تقسیم کیا
06:05امریکہ کی براؤن یونیورسیٹی سے
06:07ایکزیکٹ سائنسز اور قدیم تاریخ میں
06:09ڈاکٹریٹ مکمل کرنے والی ایلیکہ مساروس کہتی ہیں
06:13کہ وہ قریباً تین ہزار سال پہلے تک
06:16جنتری یعنی کلینڈر تیار کر چکے تھے
06:19اس کی بنیاد سورج کو واپس اپنے مقام پر آنے میں
06:23لگنے والے وقت پر رکھی گئی
06:25جو تین سو ساٹھ سے کچھ زیادہ دن بنتے تھے
06:28یہ استمدن کے لیے ایک مفید عدد تھا
06:32جس کی گنتی پہلے ہی ساٹھ کے ہنسے پر مبنی تھی
06:34مساروس کے مطابق اسی بنیاد پر
06:37ہر سال کے بارہ مہینے اور ہر مہینے میں
06:41تیز دن کا نظام وضع کیا گیا
06:43جو چاند کی گردش کے ساتھ بھی میل کھاتا تھا
06:46بابلی باشندوں نے روز مرہ استعمال کے لیے
06:49وقت کی پہمائش کا ایک عملی نظام تیار کیا
06:52جو دن اور رات کو بارہ بارہ گھنٹوں میں تقسیم کرتا تھا
06:55بلکل ایسے ہی جیسے مصریوں نے کیا تھا
06:59یہ گھنٹیں موسموں کے حساب سے بنائے گئے تھے
07:01اور دن اور رات کے حساب سے ان کی لمبائی بدلتی رہتی تھی
07:05بہت سی دیگر قدیم تہذیبوں نے
07:08گھنٹوں کی پہمائش موسموں کے اعتبار سے کی
07:10اور یہی پہمائش پندرہوی صدی کے یورپ
07:13اور انیسویں صدی کے جاپان میں رائج رہی
07:16مگر مونڈو کے مطابق قدیم تہذیبوں میں
07:19گھنٹوں کو مزید چھوٹے حصوں میں تقسیم نہیں کیا گیا
07:22کیونکہ اس کی ضرورت ہی نہیں پڑی
07:29ایدہ نظام مرتب کیا جو روز مرہ استعمال کے لیے نہیں تھا
07:32اس میں دن اور رات کو بارہ بیرو میں تقسیم کیا جاتا تھا
07:36ایک بیرو آج کے دو گھنٹے کے برابر تھا
07:39اس نظام کا استعمال صرف بابل والے ہی نہیں کرتے تھے
07:43بلکہ قدیم چین اور جاپان میں بھی اس کے اثار ملے ہیں
07:46وقت کے مزید تفصیلی پہمائش کے لیے بابل والوں نے
07:50بیرو کو تیس منٹ میں تقسیم کیا جو اش کہلاتے تھے
07:54ایک اش آج کے چار منٹ کے برابر ہوتا تھا
07:57بعد میں اش کو مزید ساٹھ چھوٹے حصوں میں تقسیم کر دیا گیا
08:01وقت کی پہمائش کے یہ چھوٹے حصے نندہ کہلائے
08:04ہر نندہ آج کے چار سیکنڈ کے برابر تھا
08:08مونڈو کہتے ہیں کہ بابل والوں نے
08:10بیرو گھنٹوں، اش منٹوں اور نندہ سیکنڈوں کا نظام بناتے ہوئے
08:14وقت کی تقسیم کے بارے میں نہیں سوچا تھا
08:16بلکہ انہوں نے یہ نظام اجرام فلکی کے درمیان
08:19فاصلوں اور ان کی رفتار کو مابنے کے لیے بنایا تھا
08:23مساروس کے مطابق پھر قدیم یونانیوں سمیت
08:26بعد کے آنے والوں نے بابل کا وضع کردہ
08:29فلکیاتی وقت کا نظام اپنا لیا
08:31گوٹسی بتاتی ہیں کہ یونانی دربار میں
08:34ریت کی گھڑیاں یعنی سینڈ کلوک ہوا کرتی تھیں
08:36تاکہ لوگوں کو بولنے کے لیے مساوی وقت ملے
08:40بابل کے رہنے والوں نے وقت کی پہمائش کا جو نظام بنایا
08:43وہ روز مرہ کی ضرورت کے بجائے
08:45فلکیاتی واقعات کی پہمائش کے لیے تھا
08:47مگر وقت گزرنے کے ساتھ وقت کی پہمائش کا نظام
08:50گھنٹوں سے دقیقوں اور پھر پل یا لمحوں میں بڑھتا چلا گیا
08:55اور ہماری روز مرہ زندگی کا حصہ بن گیا
08:58بارویں صدی میں پہلی بار مکینیکل گھڑیاں بنائی گئیں
09:01جو قریباً ایک گھنٹے تک درست وقت بتاتی تھی
09:05سولویں صدی میں پنڈولم گھڑیاں بنی
09:08مگر وہ بھی اصل وقت سے دس پندرہ منٹ آگے پیشے ہو جاتی تھی
09:11اٹھارویں صدی میں ایچ فور گھڑی اجاد ہوئی جو ہفتوں تک ایک منٹ بھی آگے پیچھے نہیں ہوتی تھی
09:18انی سو بیس کی دھائی میں کورس گھڑیاں آئیں تو یہ تین سال میں صرف ایک سیکنڈ پیچھے ہوتی تھی
09:25اور پھر انی سو پچاس کی دھائی میں جہوری یعنی ایٹمی گھڑی اجاد ہوئی
09:30یہ وقت کے درست تائیون کے لیے ایٹم کا استعمال کرتی ہے
09:34لندن کے روائل میوزیم میں سائنس سے متعلق آگہی فراہم کرنے والے ماہر
09:39فن بریچ کے مطابق یہ گھڑیاں اربوں سال تک ایک سیکنڈ بھی آگے پیچھے نہیں ہوں گی
09:45ایٹمی گھڑیوں کی بدولت بیسویں صدی کے سائنسدان سیکنڈ کی نئی تقسیم کرنے کے قابل ہوئے
09:51ایک ایسی تقسیم جس کا دارو مدار سورج کے بجائے
09:55مائے دھات سیزیم 133 کے ایٹموں سے خارج اور جذب ہونے والی مایکرو ویو شوہوں پر ہے
10:03آج انٹرنیٹ، جی پی ایس اور ایم آر آئی جیسی ٹکنالوجیوں میں وقت کی پہمائش یہی ایٹمی گھڑیاں کرتی ہیں
10:10اب تو سیکنڈ بھی میلی سیکنڈ یعنی ہزار حصوں اور مایکرو سیکنڈ یعنی دس لاکھ حصوں میں تقسیم ہو چکا
10:18ہے
10:19مگر دلچسپ بات یہ ہے کہ پل، لمحے، لہزے یا سیکنڈ جو بھی کہہ لیں
10:25کہ تقسیم ساٹھ کی جگہ اب اشاری نظام یعنی میٹرک سسٹم پر کی گئی ہے
10:34بی بی سی ریڈز
10:37بی بی سی ریڈز کے ذریعے ہماری یہی کوشش ہے
10:40کہ بی بی سی اردو کی ویب سائیٹ کی وہ سٹوریز جن میں آڈینس کی دلچسپی زیادہ نظر آتی ہے
10:44انہیں اور بھی زیادہ لوگوں تک کیوں نہ پہنچایا جائے
10:47تو ہم پڑھیں اور آپ سنیے
10:49اور اپنے دوستوں اور ساتھیوں کو بھی سنائیے
10:57تقسیم سا ہے
11:00موسیقی
Comments

Recommended