00:01دنیا بھر میں وقت کی پیمائش کا نظام پانچ ہزار سال سے چلا رہا ہے
00:05جس کی بنیاد ایک پورا سرار فیصلے پر قائم ہے
00:09ہفتے میں سات دن، دن میں چوبیس گھنٹے، گھنٹے میں ساٹھ منٹ اور منٹ میں ساٹھ سیکنڈ ہی کیوں ہوتے
00:15ہیں
00:16اور جب فرانس کی انقلابی حکومت تجرباتی طور پر ہی سہی
00:20اس قدیم نظام کی جگہ آشاری نظام یعنی ڈیسیمل سسٹم لائی تو کیا ہوا؟
00:26اکتوبر سترہ سو ترانوے میں فرانس کی انقلابی حکومت نے ایک انوکہ تجربہ کیا
00:31وقت کی پیمائش بدلنے کا
00:33فیصلہ ہوا کہ دن چوبیس کے بجائے دس گھنٹے کا
00:38ہر گھنٹہ ساٹھ کے بجائے سو منٹ کا اور ہر منٹ بھی ساٹھ کے بجائے سو سیکنڈ کا ہوگا
00:45اور ہفتے میں دس دن ہوں گے
00:47ملک بھر میں وقت کی پیمائش کے لیے آشاری نظام یعنی ڈیسیمل سسٹم متعارف کروانے کا بندوبست شروع ہوا
00:54ٹاؤن ہالو میں نئی گھڑیاں نصب کی گئیں
00:57اور سرکاری امور کے لیے نئی تقویم یعنی کیلنڈر بنایا گیا
01:02مگر جلد ہی مسائل نے سر اُبھارنا شروع کر دیا
01:06موجودہ گھڑیوں کو نئے نظام کے تحت ڈالنا انتہائی مشکل ثابت ہوا
01:11اس کی وجہ سے فرانس پڑوسی ملکوں سے کٹ کر رہ گیا
01:14دہی آبادی بھی ہفتہ وار تعتیل کے دس روز بعد ملنے پر ناخوش تھی
01:19نتیجہ تن فرانس میں وقت ناپنے کا آشاری نظام بمشکل ایک سال اور سات مہینے ہی نافذ رہ سکا
01:27اب آتے ہیں اس طرف کہ ہم نے گھننا کیسے شروع کیا
01:30اور دن میں چوبیس گھنٹے گھنٹے میں ساٹھ منٹ اور منٹ میں ساٹھ سیکنڈ کیوں رکھے گئے
01:36یہ جاننے کے لیے ہمیں گھڑی کی سوئیوں کو پیشے گھما کر اس دور میں جانا ہوگا
01:41جب وقت کی گھنٹی کا تصور ہی موجود نہیں تھا
01:45آسے قریباً سوہ سات ہزار سے چار ہزار سال پہلے تک
01:49قدیم عراق یعنی میسوپوٹیمیا میں آباد سومیری باشندوں نے شہر بسانہ شروع کیے
01:55کھیتی باڑی اور آپاشی کا نظام حضہ کیا
01:57اور تحریر یعنی رائٹنگ کی ایجاد کا سہرہ بھی انہی کے سر ہے
02:02یہ سومیری ہی تھے جنہوں نے ساٹھ عداد یعنی نمبرو والی گھنٹے کا نظام بنایا تھا
02:08وہ کیسے ہیں؟ وہ ایسے کہ اپنا ایک ہاتھ اٹھا کر ایک انگلی موڑیں
02:13اس میں تین جوڑ ہیں
02:15انگوٹھا چھوڑ کر ایک ہاتھ کی چار انگلیوں کے بارہ جوڑ ہوئے
02:19اب دوسرے ہاتھ کی ایک انگلی اٹھائیں اور اسے بارہ کے ہنسے کے برابر سمجھ لیں
02:24پھر ہاتھ کی پانچوں انگلیوں کو بارہ بارہ سمجھ کر جمع کریں
02:28تو جواب آئے گا ساٹھ
02:30یعنی بارہ ضربے پانچ برابر ساٹھ
02:33قیاس کہا جاتا ہے کہ سمیریوں نے اسی اصول پر اپنے حساب کی بنیاد رکھی تھی
02:38اور وقت کی پہمائش کا یہ طریقہ آج بھی رائج ہے
02:42کنیڈا میں یونیورسٹی آف نیو بنسوک میں ابتدائی تحریری نظام کے ماہر
02:47مارڈن ویلس مونڈو کے مطابق اس وقت شہر پھیل رہے تھے
02:51اور ازرعی نظام جدید ہوتے جا رہے تھے
02:54اور حساب کتاب رکھنے کے لیے سمیریوں کو تحریر اور شمار کے نظاموں میں جدت لانے کی ضرورت پیش آئی
03:01حداد و شمار درج کرنے کے لیے انہوں نے مٹی کی چھوٹی چھوٹی تختیوں یعنی ٹیبلٹ کا استعمال کیا
03:08اکثر تختیاں موجودہ سمارٹ فون یا اس سے بھی چھوٹی ہوتی تھی
03:12پھر تحریر کو تصویر کی صورت دی جانے لگی
03:15مٹی کی یہ تختیاں انیسوی صدی کے وسط میں دریافت ہوئی تھی
03:19مونڈو کے مطابق ان سے ظاہر ہوتا ہے کہ سمیری باشندوں نے کئی عددی نظام استعمال کیا
03:24ریاضی کے لیے فلکیات کے لیے اور وقت کے لیے بھی
03:28جلد ہی اس نے ایک پورے نظام کی شکل اختیار کر لی
03:32سمیری باشندوں نے ساٹھ کو اس طرح استعمال کیا جیسے آج ہم دس کو استعمال کرتے ہیں
03:37یعنی نو تک پہنچنے کے بعد بائیں طرف ایک اور دائیں طرف صفر لکھتے ہیں
03:43مونڈو کے مطابق اس بات کے واضح شواہد نہیں ہیں
03:46کہ سمیریوں نے وقت کے لیے کوئی پہمانہ استعمال کیا ہو
03:50البتہ ان کے بعد آنے والے بابولی باشندوں کے ہاں
03:54اب سے لگ بگ تین ہزار سال پہلے وقت کی پہمائش کے لیے
03:57سورج اور پانی کی مدد سے گھڑیاں بنانے کے دستاویزی ثبوت ملتے ہیں
04:02مگر خطے میں وقت کی پہمائش کا نظام اس سے بھی پہلے سے موجود تھا
04:08سویڈزرلینڈ کی یونیورسٹی آف باسل سے وابستہ
04:10ریٹا گوٹشی کے مطابق پہلا تمدن جو دن کو گھنٹوں میں تقسیم کرنے کے لیے جانا جاتا ہے
04:17وہ قدیم مصری تمدن تھا
04:19اور یہی بات قریباً ساڑھے چار ہزار سال پہلے کے مذہبی مطن سے بھی ظاہر ہوتی ہے
04:25گوٹشی کے مطابق گھنٹوں کی پہمائش سے متعلق پہلی معلوم اشیاء
04:30رات کے بارہ گھنٹوں کا بتاتی ہیں
04:32یہ ترشی ستاروں والی گھڑیاں ہیں
04:35جو چار ہزار ایک سو سے تین ہزار آٹھ سو برس کے درمیان
04:39مصری اشرافیہ کے تابوتوں پر بنے گھڑیوں کے نشان ہیں
04:43یہ واضح نہیں کہ مصریوں نے بارہ کی تقسیم کیوں منتخب کی
04:48جو بالاخر پورے دن میں چوبیس گھنٹے تک پہنچ گئی
04:51مصریوں کے پاس بارہ برجوں کا ایک مجموعہ تھا
04:55لیکن غالب امکان یہ ہے
04:57کہ یہ نظام اس وقت متعارف ہوا
04:59جب بارہ گھنٹوں کا ذکر پہلے ہی عام ہو چکا تھا
05:02ایک اور امکان یہ ہے
05:04کہ وہ ایک ہاتھ کی انگلیوں کے جوڑ گن کر
05:07آسانی سے بارہ تک پہنچ سکتے تھے
05:09وقت ناپنے کے قریباً ساڑھے تین ہزار سال پرانے معروف آلات
05:14سن ڈائلز اور پانی کی گھڑیاں مصر میں ملی ہیں
05:17گوٹشی کہتی ہیں کہ بعض آلات
05:19روز مرہ کے کاموں میں استعمال ہوتے تھے
05:21لیکن زیادہ تر کا تعلق ممکنہ طور پر
05:24مذہبی رسومات سے ہو سکتا ہے
05:26اس دور میں وقت کی پہمائش کے لیے
05:29کسی سائنشی طریقے کی موجودگی کے بارے میں
05:32زیادہ معلومات نہیں ملتی
05:33گوٹشی کے مطابق روز مرہ کے کام کاج سے متعلق
05:37جو قدیم مطن ملتا ہے
05:38اس میں وقت کی پہمائش کام کے وقات کے حساب سے
05:42پہروں میں کی جاتی تھی
05:43یعنی صبح یا دوپہر کا وقت
05:45البتہ آج سے کوئی دو ہزار پچاس سال پہلے کے مصر میں
05:49گھنٹے کو مایار بنا لیا گیا تھا
05:51اور آدھے گھنٹے کا تصور بھی رائج ہونے لگا تھا
05:55اس دوران بابل یعنی موجودہ عراق کے لوگوں نے بھی
05:58وقت کی پہمائش کے لیے گھنٹوں کے استعمال کو فروغ دیا
06:01اور سب سے پہلے گھنٹے کو مزید چھوٹے حصوں میں تقسیم کیا
06:05امریکہ کی براؤن یونیورسیٹی سے
06:07ایکزیکٹ سائنسز اور قدیم تاریخ میں
06:09ڈاکٹریٹ مکمل کرنے والی ایلیکہ مساروس کہتی ہیں
06:13کہ وہ قریباً تین ہزار سال پہلے تک
06:16جنتری یعنی کلینڈر تیار کر چکے تھے
06:19اس کی بنیاد سورج کو واپس اپنے مقام پر آنے میں
06:23لگنے والے وقت پر رکھی گئی
06:25جو تین سو ساٹھ سے کچھ زیادہ دن بنتے تھے
06:28یہ استمدن کے لیے ایک مفید عدد تھا
06:32جس کی گنتی پہلے ہی ساٹھ کے ہنسے پر مبنی تھی
06:34مساروس کے مطابق اسی بنیاد پر
06:37ہر سال کے بارہ مہینے اور ہر مہینے میں
06:41تیز دن کا نظام وضع کیا گیا
06:43جو چاند کی گردش کے ساتھ بھی میل کھاتا تھا
06:46بابلی باشندوں نے روز مرہ استعمال کے لیے
06:49وقت کی پہمائش کا ایک عملی نظام تیار کیا
06:52جو دن اور رات کو بارہ بارہ گھنٹوں میں تقسیم کرتا تھا
06:55بلکل ایسے ہی جیسے مصریوں نے کیا تھا
06:59یہ گھنٹیں موسموں کے حساب سے بنائے گئے تھے
07:01اور دن اور رات کے حساب سے ان کی لمبائی بدلتی رہتی تھی
07:05بہت سی دیگر قدیم تہذیبوں نے
07:08گھنٹوں کی پہمائش موسموں کے اعتبار سے کی
07:10اور یہی پہمائش پندرہوی صدی کے یورپ
07:13اور انیسویں صدی کے جاپان میں رائج رہی
07:16مگر مونڈو کے مطابق قدیم تہذیبوں میں
07:19گھنٹوں کو مزید چھوٹے حصوں میں تقسیم نہیں کیا گیا
07:22کیونکہ اس کی ضرورت ہی نہیں پڑی
07:29ایدہ نظام مرتب کیا جو روز مرہ استعمال کے لیے نہیں تھا
07:32اس میں دن اور رات کو بارہ بیرو میں تقسیم کیا جاتا تھا
07:36ایک بیرو آج کے دو گھنٹے کے برابر تھا
07:39اس نظام کا استعمال صرف بابل والے ہی نہیں کرتے تھے
07:43بلکہ قدیم چین اور جاپان میں بھی اس کے اثار ملے ہیں
07:46وقت کے مزید تفصیلی پہمائش کے لیے بابل والوں نے
07:50بیرو کو تیس منٹ میں تقسیم کیا جو اش کہلاتے تھے
07:54ایک اش آج کے چار منٹ کے برابر ہوتا تھا
07:57بعد میں اش کو مزید ساٹھ چھوٹے حصوں میں تقسیم کر دیا گیا
08:01وقت کی پہمائش کے یہ چھوٹے حصے نندہ کہلائے
08:04ہر نندہ آج کے چار سیکنڈ کے برابر تھا
08:08مونڈو کہتے ہیں کہ بابل والوں نے
08:10بیرو گھنٹوں، اش منٹوں اور نندہ سیکنڈوں کا نظام بناتے ہوئے
08:14وقت کی تقسیم کے بارے میں نہیں سوچا تھا
08:16بلکہ انہوں نے یہ نظام اجرام فلکی کے درمیان
08:19فاصلوں اور ان کی رفتار کو مابنے کے لیے بنایا تھا
08:23مساروس کے مطابق پھر قدیم یونانیوں سمیت
08:26بعد کے آنے والوں نے بابل کا وضع کردہ
08:29فلکیاتی وقت کا نظام اپنا لیا
08:31گوٹسی بتاتی ہیں کہ یونانی دربار میں
08:34ریت کی گھڑیاں یعنی سینڈ کلوک ہوا کرتی تھیں
08:36تاکہ لوگوں کو بولنے کے لیے مساوی وقت ملے
08:40بابل کے رہنے والوں نے وقت کی پہمائش کا جو نظام بنایا
08:43وہ روز مرہ کی ضرورت کے بجائے
08:45فلکیاتی واقعات کی پہمائش کے لیے تھا
08:47مگر وقت گزرنے کے ساتھ وقت کی پہمائش کا نظام
08:50گھنٹوں سے دقیقوں اور پھر پل یا لمحوں میں بڑھتا چلا گیا
08:55اور ہماری روز مرہ زندگی کا حصہ بن گیا
08:58بارویں صدی میں پہلی بار مکینیکل گھڑیاں بنائی گئیں
09:01جو قریباً ایک گھنٹے تک درست وقت بتاتی تھی
09:05سولویں صدی میں پنڈولم گھڑیاں بنی
09:08مگر وہ بھی اصل وقت سے دس پندرہ منٹ آگے پیشے ہو جاتی تھی
09:11اٹھارویں صدی میں ایچ فور گھڑی اجاد ہوئی جو ہفتوں تک ایک منٹ بھی آگے پیچھے نہیں ہوتی تھی
09:18انی سو بیس کی دھائی میں کورس گھڑیاں آئیں تو یہ تین سال میں صرف ایک سیکنڈ پیچھے ہوتی تھی
09:25اور پھر انی سو پچاس کی دھائی میں جہوری یعنی ایٹمی گھڑی اجاد ہوئی
09:30یہ وقت کے درست تائیون کے لیے ایٹم کا استعمال کرتی ہے
09:34لندن کے روائل میوزیم میں سائنس سے متعلق آگہی فراہم کرنے والے ماہر
09:39فن بریچ کے مطابق یہ گھڑیاں اربوں سال تک ایک سیکنڈ بھی آگے پیچھے نہیں ہوں گی
09:45ایٹمی گھڑیوں کی بدولت بیسویں صدی کے سائنسدان سیکنڈ کی نئی تقسیم کرنے کے قابل ہوئے
09:51ایک ایسی تقسیم جس کا دارو مدار سورج کے بجائے
09:55مائے دھات سیزیم 133 کے ایٹموں سے خارج اور جذب ہونے والی مایکرو ویو شوہوں پر ہے
10:03آج انٹرنیٹ، جی پی ایس اور ایم آر آئی جیسی ٹکنالوجیوں میں وقت کی پہمائش یہی ایٹمی گھڑیاں کرتی ہیں
10:10اب تو سیکنڈ بھی میلی سیکنڈ یعنی ہزار حصوں اور مایکرو سیکنڈ یعنی دس لاکھ حصوں میں تقسیم ہو چکا
10:18ہے
10:19مگر دلچسپ بات یہ ہے کہ پل، لمحے، لہزے یا سیکنڈ جو بھی کہہ لیں
10:25کہ تقسیم ساٹھ کی جگہ اب اشاری نظام یعنی میٹرک سسٹم پر کی گئی ہے
10:34بی بی سی ریڈز
10:37بی بی سی ریڈز کے ذریعے ہماری یہی کوشش ہے
10:40کہ بی بی سی اردو کی ویب سائیٹ کی وہ سٹوریز جن میں آڈینس کی دلچسپی زیادہ نظر آتی ہے
10:44انہیں اور بھی زیادہ لوگوں تک کیوں نہ پہنچایا جائے
10:47تو ہم پڑھیں اور آپ سنیے
10:49اور اپنے دوستوں اور ساتھیوں کو بھی سنائیے
10:57تقسیم سا ہے
11:00موسیقی
Comments