Skip to playerSkip to main content
Kabutarbaazi, a traditional pigeon-flying sport deeply rooted in Punjab’s culture, has long been banned in parts of India. However, enthusiasts are now pushing for its revival, keeping the heritage alive despite legal restrictions.

In this video, we explore the history of Kabutarbaazi, why it was banned, and how communities in Punjab are working to bring it back. Discover the cultural significance, controversies, and the future of this unique sport.

Watch till the end to learn how tradition and modern laws are clashing in today’s Punjab.

kabutarbaazi Punjab
kabutarbaazi India
pigeon flying sport Punjab
Punjab culture traditions
kabootar bazi history
traditional sports India
Punjab heritage sports
kabutarbaazi ban India
pigeon racing India
rural Punjab lifestyle
Indian cultural traditions
Punjab village traditions
kabutarbaazi comeback
bird flying sport India
South Asia traditional games

kabutarbaazi, punjab, india, pigeon sport, kabootar bazi, punjab culture, traditional sports, india traditions, punjab village life, pigeon racing, desi culture, rural life india, heritage sports, south asia culture, viral documentary

#Kabutarbaazi #Punjab #India #PigeonSport #DesiCulture #TraditionalSports #PunjabCulture #VillageLife #SouthAsia #CulturalHeritage #ViralVideo #Documentary #trending #viral #viralstory #viralvideo #viralshorts #viralshort #viralvideos #shorts #shortvideo

Category

😹
Fun
Transcript
00:05موسیقی
00:22شروع منی اکالی دل کے صدر اور پنجاب کے سابق نعیب وزیر آلہ سخبیر سنگھ بادل
00:28اپنی انتخابی ریلیوں کے دوران پنجاب میں دوبارہ کبوتر بازی کے مقابلے شروع کرنے کی بات کہہ رہے ہیں
00:36حکومت پنجاب کے نمائندوں نے بھی کئی بار کبوتر بازی کے مقابلے کی حمایت کی ہے
00:41سیاستدانوں کے یہ بیانات پنجاب میں کبوتر پالنے کے شوک کو ظاہر کرتے ہیں
00:46اگرچہ پنجاب میں کبوتر بازی کے مقابلوں پر بابندی ہے
00:50پھر بھی بہت سے لوگوں نے کبوتر پالنے کا شوک برقرار رکھا ہوا ہے
00:56سدوان گاؤں کے گلزار علی گزشتہ کئی برسوں سے کبوتر پال رہے ہیں
01:01جب پنجاب میں کبوتر بازی کے مقابلوں کی اجازت تھی تو انہوں نے کئی مقابلے بھی جی دے
01:06اس سے انہیں پورے پنجاب میں پہچان ملی
01:09وہ سارا دن کبوتروں کی دیکھ بال میں گزارتے ہیں
01:13میں صبح یہاں آتا ہوں اور شام تک رہتا ہوں
01:16میں اپنا پورا دن اپنے کبوتروں کا خیال رکھنے میں گزار دیتا ہوں
01:2035-40 سال ہو گئے ہیں
01:22میری زندگی کا ایک بڑا حصہ اسی میں گزر گیا ہے
01:24میں نے کبھی گنا تو نہیں لیکن ان کی تعداد تقریباً 500 ہوگی
01:28گلزار نے کبوتروں کے لیے ایک خاص گھر بنایا ہے
01:32جو ان کے اپنے گھر سے بھی بڑا ہے
01:33جیسا کہ آپ دیکھ سکتے ہیں یہ بلوکس میں نے کبوتروں کے لیے بنایا ہے
01:37سامنے والے ہر ایک بلوک کی لمبائی 12 فٹ ہے
01:40اور اوپر والے کی لمبائی 14 فٹ ہے
01:42چوڑائی ہر ایک کی 8 فٹ ہے
01:44اور میرے پاس کل 14-15 بلوکس ہیں
01:46میرا اپنا گھر دو منزلہ ہے
01:48لیکن کبوتروں کے لیے رہنے کی جگہ تین منزلہ ہے
01:51مستقبل میں ایک اور منزل بنانے کا ارادہ ہے
01:54میں نہیں چاہتا کہ میرے کبوتر تنگ جگہ میں رہیں
01:56ان کے لیے کھلی جگہ ہونی چاہیے
02:03حسوال گاؤں کے رہنے والے ہرپیت سنگھ کہتے ہیں
02:06کہ کبوتروں کی پرورش ان کا خاندانی شوق ہے
02:09جو ان کے لیے آمدانی کا ذریعہ بھی ہے
02:11اسی شوق کے ذریعے انہوں نے اپنی دو بچوں کی
02:14اعلیٰ تعلیم کا خرچ بھی اٹھایا
02:18جب بھی کوئی مقابلہ ہوتا تھا
02:20تو کسی شادی کی تقریب جیسا محسوس ہوتا تھا
02:22میں اپنے دوستوں سے ملا کرتا تھا
02:24ہم سب کے پاس کبوتر ہوتے تھے
02:26کچھ لوگ اسے کاروبار کی طرح بھی لیتے تھے
02:29وہ اپنے کبوتروں کے ذریعے کچھ پیسے جیت لیا کرتے تھے
02:32میں دوسری یا تیسری جماعت میں تھا
02:34اس وقت سے میرے پاس کبوتر تھے
02:36میرے محلے کے سب لوگوں کے پاس کبوتر تھے
02:38اب صرف میں ہی باقی ہوں
02:39میں انہیں رائے، گندوم، چنے، بادام وغیرہ کھلاتا ہوں
02:43وہ میرے بچوں کی طرح ہیں
02:45جب کوئی پرندہ مرتا ہے
02:46تو یہ اپنے خاندان کے کسی رکھن کو کھونے جیسا ہوتا ہے
02:49پھر کچھ خانے کا دل نہیں کرتا
02:51کبوتروں کی وجہ سے ہی میں اپنے بچوں کی تعلیم کا خرچہ اٹھا پایا
02:55ان مقابلوں میں جو انعامی رقم جیتا
02:57اسی سے میں اپنے بچوں کو عالی تعلیم کے لیے بیرون ملک بھیجت گا
03:02جانوروں کے حقوق کے لیے کام کرنے والے انجیو
03:05پیٹا انڈیا کے مطابق
03:07محض دوہزار پچیس میں ہی انہوں نے پنجاب، ہریانہ اور چندیگرڈ میں
03:11سینٹالیس کبوتر بازی کے مقابلوں کو رکھوایا
03:14محکمہ انمل ہزبنٹری کے مطابق
03:16اس وقت پنجاب میں کبوتر بازی کے مقابلوں کی اجازت نہیں ہے
03:19لیکن پنجاب کی حکومت نے ایسے مقابلے منکت کرنے کے لیے
03:23ایک بل پاس کر کے صدر جمہوریہ کو منظوری کے لیے بیج دیا ہے
03:27صدر کی منظوری ملنے کے بعد مقابلے دوبارہ شروع ہو سکیں گے
03:42صدر کی منظوری ملنے کے بعد ہی کبوتر بازی دوبارہ شروع ہو سکتی ہے
03:55پنجاب کی مشہور سپورٹس رائٹر پرنسپل سرون سنگھ کہتے ہیں
03:58کبوتر بازی پنجاب کے روایتی کھیلوں میں سے ایک ہے
04:01اس کی وجہ سے لوگوں میں کبوتر پالنے کا شوق پیدا ہوا
04:05اور لوگ آج بھی اس شوق کو زندہ رکھے ہوئے ہیں
Comments

Recommended