00:05موسیقی
00:22شروع منی اکالی دل کے صدر اور پنجاب کے سابق نعیب وزیر آلہ سخبیر سنگھ بادل
00:28اپنی انتخابی ریلیوں کے دوران پنجاب میں دوبارہ کبوتر بازی کے مقابلے شروع کرنے کی بات کہہ رہے ہیں
00:36حکومت پنجاب کے نمائندوں نے بھی کئی بار کبوتر بازی کے مقابلے کی حمایت کی ہے
00:41سیاستدانوں کے یہ بیانات پنجاب میں کبوتر پالنے کے شوک کو ظاہر کرتے ہیں
00:46اگرچہ پنجاب میں کبوتر بازی کے مقابلوں پر بابندی ہے
00:50پھر بھی بہت سے لوگوں نے کبوتر پالنے کا شوک برقرار رکھا ہوا ہے
00:56سدوان گاؤں کے گلزار علی گزشتہ کئی برسوں سے کبوتر پال رہے ہیں
01:01جب پنجاب میں کبوتر بازی کے مقابلوں کی اجازت تھی تو انہوں نے کئی مقابلے بھی جی دے
01:06اس سے انہیں پورے پنجاب میں پہچان ملی
01:09وہ سارا دن کبوتروں کی دیکھ بال میں گزارتے ہیں
01:13میں صبح یہاں آتا ہوں اور شام تک رہتا ہوں
01:16میں اپنا پورا دن اپنے کبوتروں کا خیال رکھنے میں گزار دیتا ہوں
01:2035-40 سال ہو گئے ہیں
01:22میری زندگی کا ایک بڑا حصہ اسی میں گزر گیا ہے
01:24میں نے کبھی گنا تو نہیں لیکن ان کی تعداد تقریباً 500 ہوگی
01:28گلزار نے کبوتروں کے لیے ایک خاص گھر بنایا ہے
01:32جو ان کے اپنے گھر سے بھی بڑا ہے
01:33جیسا کہ آپ دیکھ سکتے ہیں یہ بلوکس میں نے کبوتروں کے لیے بنایا ہے
01:37سامنے والے ہر ایک بلوک کی لمبائی 12 فٹ ہے
01:40اور اوپر والے کی لمبائی 14 فٹ ہے
01:42چوڑائی ہر ایک کی 8 فٹ ہے
01:44اور میرے پاس کل 14-15 بلوکس ہیں
01:46میرا اپنا گھر دو منزلہ ہے
01:48لیکن کبوتروں کے لیے رہنے کی جگہ تین منزلہ ہے
01:51مستقبل میں ایک اور منزل بنانے کا ارادہ ہے
01:54میں نہیں چاہتا کہ میرے کبوتر تنگ جگہ میں رہیں
01:56ان کے لیے کھلی جگہ ہونی چاہیے
02:03حسوال گاؤں کے رہنے والے ہرپیت سنگھ کہتے ہیں
02:06کہ کبوتروں کی پرورش ان کا خاندانی شوق ہے
02:09جو ان کے لیے آمدانی کا ذریعہ بھی ہے
02:11اسی شوق کے ذریعے انہوں نے اپنی دو بچوں کی
02:14اعلیٰ تعلیم کا خرچ بھی اٹھایا
02:18جب بھی کوئی مقابلہ ہوتا تھا
02:20تو کسی شادی کی تقریب جیسا محسوس ہوتا تھا
02:22میں اپنے دوستوں سے ملا کرتا تھا
02:24ہم سب کے پاس کبوتر ہوتے تھے
02:26کچھ لوگ اسے کاروبار کی طرح بھی لیتے تھے
02:29وہ اپنے کبوتروں کے ذریعے کچھ پیسے جیت لیا کرتے تھے
02:32میں دوسری یا تیسری جماعت میں تھا
02:34اس وقت سے میرے پاس کبوتر تھے
02:36میرے محلے کے سب لوگوں کے پاس کبوتر تھے
02:38اب صرف میں ہی باقی ہوں
02:39میں انہیں رائے، گندوم، چنے، بادام وغیرہ کھلاتا ہوں
02:43وہ میرے بچوں کی طرح ہیں
02:45جب کوئی پرندہ مرتا ہے
02:46تو یہ اپنے خاندان کے کسی رکھن کو کھونے جیسا ہوتا ہے
02:49پھر کچھ خانے کا دل نہیں کرتا
02:51کبوتروں کی وجہ سے ہی میں اپنے بچوں کی تعلیم کا خرچہ اٹھا پایا
02:55ان مقابلوں میں جو انعامی رقم جیتا
02:57اسی سے میں اپنے بچوں کو عالی تعلیم کے لیے بیرون ملک بھیجت گا
03:02جانوروں کے حقوق کے لیے کام کرنے والے انجیو
03:05پیٹا انڈیا کے مطابق
03:07محض دوہزار پچیس میں ہی انہوں نے پنجاب، ہریانہ اور چندیگرڈ میں
03:11سینٹالیس کبوتر بازی کے مقابلوں کو رکھوایا
03:14محکمہ انمل ہزبنٹری کے مطابق
03:16اس وقت پنجاب میں کبوتر بازی کے مقابلوں کی اجازت نہیں ہے
03:19لیکن پنجاب کی حکومت نے ایسے مقابلے منکت کرنے کے لیے
03:23ایک بل پاس کر کے صدر جمہوریہ کو منظوری کے لیے بیج دیا ہے
03:27صدر کی منظوری ملنے کے بعد مقابلے دوبارہ شروع ہو سکیں گے
03:42صدر کی منظوری ملنے کے بعد ہی کبوتر بازی دوبارہ شروع ہو سکتی ہے
03:55پنجاب کی مشہور سپورٹس رائٹر پرنسپل سرون سنگھ کہتے ہیں
03:58کبوتر بازی پنجاب کے روایتی کھیلوں میں سے ایک ہے
04:01اس کی وجہ سے لوگوں میں کبوتر پالنے کا شوق پیدا ہوا
04:05اور لوگ آج بھی اس شوق کو زندہ رکھے ہوئے ہیں
Comments