00:00ॐ ॐ ॐ ॐ ॐ ॐ
00:30ॐ ॐ ॐ ॐ
01:00یہ کام بھلے ہی سینگ اور ہڈیوں کا ہے لیکن اس میں کسی جانور کو مارا نہیں جاتا
01:05کچھا مال سرٹیفائیڈ سلوٹر ہاؤس سے لیا جاتا ہے
01:09سارے سلوٹر ہاؤس سے ہم مال کو پرچیس کرتے ہیں
01:12وہاں پر سارا مال جو ہے جو میڈ ہوتا ہے وہ ایکسپورٹ ہوتا ہے
01:17جو وہاں پر یہ رو مٹیریلز نکلتا ہے
01:20یہ جیسے سینگ ہو گیا کھور ہو گیا
01:22اس کو ہم پرچیس کر کے یہاں سنبل مگا لیتے ہیں
01:25پہلے یہ ووش ہوتا ہے ووش ہونے کے بعد میں یہ اس کے بعد میں اس کی کٹنگ ہوتی ہے
01:30الگ الگ بھاگوں میں اس کو جو ہے کام کیا جاتا ہے
01:33اور ایکسپورٹ یہ یوروپ میں ہوتا ہے
01:35چائنہ میں ہوتا ہے
01:36جاپان کوریا یہ زیادہ تر کنٹریوں میں سب جو ہے مال یہاں ہم ایکسپورٹ کر دیں
01:43سنبل کے کاریگر جانوروں کی ہڈیوں اور سینگوں سے صرف سجانی کا سامان ہی نہیں
01:48روز مرہ کام آنے والی چیزیں جیسے چمچ کٹوری گہنیں یہاں تک کے بٹن اور کنگیاں بھی بناتے ہیں
01:55لیکن وہ وقت کے ساتھ بدلنا بھی جانتے ہیں
02:19سنبل اور آسپاس کے علاقوں میں اس ہنر سے لگ بھگ پچاس ہزار کاریگروں کی روٹی جڑی ہوئی ہے
02:26ان میں سے کئی ایسے ہیں جنہوں نے اس کام کے علاوہ کوئی دوسرا کام کبھی جانا ہی نہیں
02:33جو کوئی پڑھائی کرتے تھے وہ چھلنے کے بعد نظر ہمیں اسی کام نہیں لگا ہے
02:36اور کوئی کام نہیں ہوا رہا اس کے ہنڈی رکھتے ہیں
02:38اس ٹین کے علاوہ یہی کام کرتے ہیں
02:40یہ اب بھی بچے پالتے ہیں اس میں ہی مجدوری جو بھی ہے ہماری اور اس میں ہی تکتے ہیں
02:47سرکاری آداد و شمار کے مطابق سینگوں سے بنی ان چیزوں کا سالانہ چار سو کروڑ روپے کا کاروبار ہے
02:54جس میں دو سو کروڑ صرف ایکسپورٹ سے آتے ہیں
02:57جی آئی ٹیگ نے اس سامان کی الگ تہچان پر محل لگائی ہے
03:02یہ ٹیگ ملنے کے بعد گراہکوں کو نقلی مال بیچنا بھی کچھ حد تک مشکل ہوا ہے
03:28سنگ اور ہڈیوں پر باریک نقاشی کے اس کام سے یہ پیغام ضرور ملتا ہے
03:34کہ ایسی کوئی چیز نہیں ہے جس میں خوبصورتی نہ تلاشی جا سکے
03:39بس تراشنے والا ہونا چاہیے
Comments