00:03بظاہر صحت مند نظر آنے والا یہ سات سالہ بچہ نہ اپنے ہم عمر بچوں کی طرح کھیلتا ہے اور
00:10نہ ہی اپنے جذبات کا اظہار کر پاتا ہے
00:12کم عمری میں غیر معمولی حد تک اسکرین ٹائم کی وجہ سے زین کا حقیقی دنیا سے تعلق کمزور ہو
00:19گیا ہے
00:21جب دوہزار بیس اور بائیس میں جب کرنہ آیا تو اس وقت یہ ٹی وی اور موبائل میں زیادہ انوال
00:29ہو گیا
00:30اس کی ماں بیٹا پیدا ہوا وہ ماں اس میں انوال ہو گئی
00:35تو یہ سارا دن ٹی وی اور موبائل دیکھتا تھا اس سے پہلے بلکل نارمل تھا
00:40اس کے بعد پھر موبائل میں اتنا انوال ہو گیا کہ اس کے بعد یہ پھر اسی دنیا میں چلا
00:46گیا ہے
00:47زین کا حقیقی دنیا سے تعلق جوڑنے کے لیے ان کی تھیرپی جاری ہے
00:52لیکن جیسے جیسے زین کی عمر بڑھ رہی ہے ان کی والدہ کے چیلنجز بھی بڑھ رہے ہیں
00:59جو مجھے ہینڈل کرنے میں ان کو دشواری آ رہی ہے وہ یہ ہے کہ ان کا بولنے کا پیچھر
01:04بلکل بھی نہیں ہے
01:05بلکل بھی یہ ذہرہ سابی نہیں بول پائے
01:07جبکہ شروع شروع میں ایسے نہیں تھے تھوڑا بات بات کرتے تھے
01:23زین کی علامتیں بظاہر ورچول آرٹیزم کی جانب اشارہ کرتی ہیں
01:28طبیعی اعتبار سے ورچول آرٹیزم ایک بقاعدہ تسلیم شدہ زینی کیفیت نہیں
01:33لیکن کئی ماہرین کے مطابق یہ ایک ایسی حالت ہے جس میں بچے حقیقی دنیا کے مقابلے میں
01:39ورچول یا ڈیجیٹل دنیا میں رہنے کو زیادہ ترجی دیتے ہیں
01:43ایک وقت ایسا بھی آ سکتا ہے کہ بچہ خود کو کوئی غیر حقیقی کردار سمجھنے لگے
01:49بچوں میں بڑھتا ہوا اسکین ٹائم دنیا بھر میں ایک مسئلہ ہے
01:53اب یہ پاکستان میں بھی تیزی سے بڑھ رہا ہے
01:57ہمارے ہاں کلینکس میں دن پہ دن ایسے کیسز کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے
02:01جن بچوں کے سمٹمز آٹیزم سپیکٹرم جس آرڈر سے بہت ملتے جلتے ہیں
02:06مگر جب ہم ان کو غور سے دیکھتے ہیں اور ان کی پوری ہسٹری پوچھتے ہیں
02:10تو معلوم یہ ہوتا ہے کہ ان بچوں کا سکرین ٹائم بہت زیادہ ہے
02:14جس کی وجہ کچھ بھی ہو سکتی ہے
02:16ماں باپ کا بچوں کو زیادہ اہمیت نہ دینا
02:19یا ماں کا خاموش رہنا
02:21اور بچوں کو سکرین دے کر اپنے کاموں میں مصروف ہو جانا
02:23کہ اگر ہمارے پاس دس بچے آرہے
02:25تو دس میں سے تقریباً سات یا آٹھ بچے جو ہوتے ہیں
02:29وہ آٹیزم فیچر کے ساتھ آتے ہیں
02:31جن کا وہی بیگراؤنڈ جو ہوتا ہے وہ سکرین ٹائم کہی ہو
02:34جس میں بچہ جو ہے اپنے دنیا میں مگا رہتا ہے
02:37مخصوص چیزوں سے کھیلتا ہے
02:39آپ کے ساتھ آئی کانٹیک نہیں کر پاتا
02:41ان کے سینسری ایشوز ہوتے ہیں
02:42کمیونکیشن کا جو ہے نا پرابلم ہوتا ہے
02:45بیہیور ایشوز ہوتے ہیں
02:46اور اس کے علاوہ جانا سوشل وہ بچے سوشل بھی نہیں ہوتے
02:50کئی متعلقی جائزوں میں یہ بات سامنے آئی ہے
02:53کہ بچوں کو غیر مناسب سکرین ٹائم کی وجہ سے
02:56میند میں خلل زبان کی نشنوں میں رکاوٹ
02:59توجہ کی کمی اور جذبات پر قابو نہ رکھنے جیسے
03:03مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے
03:06سکرین ایک ایسی نینی ہے جو ماں باپ کو مفت مل چکی ہے
03:10یہ بچوں کی ایک ایسی آیا ہے جو بچوں کو سوائے
03:13مسیبت دینے کے اور کوئی کام نہیں کرتی
03:15مگر بچہ جب اس نینی کے ساتھ ہوتا ہے
03:19اس آیا کے ساتھ ہوتا ہے
03:20اس سکرین کے ساتھ ہوتا ہے
03:22تو بچہ نہ بھوک محسوس کرتا ہے
03:25نہ پیاس محسوس کرتا ہے
03:26اور نہ ہی والدین سے رو رو کے کسی چیز کا تقاضہ کرتا ہے
03:30والدین اپنی زندگی کی مصروفیات تہہ کرتے رہتے ہیں
03:34اور بچہ ایک کونے میں بیٹھا سکرین دیکھ کر
03:36ورچوال ورلڈ میں غائب ہو جاتا ہے
03:38پاکستان ٹیلی کمینکیشن اتھارٹی نے
03:41اپنی ویب سائٹ پر سکرین ٹائم ٹریکر
03:44یا فیملی کنٹرول ایپس کے لنکس فرہم کیے ہیں
03:48جنہیں والدین استعمال کر کے
03:50بچوں کے سکرین ٹائم میں باتدریج کم ہی لاسکتے ہیں
03:54ماہرین اس بات پر متفق ہیں
03:57کہ اگر بچوں کا سکرین ٹائم کم کر کے
03:59انہیں تعلیم کھیل کود اور سماجی سرگرمیوں میں مصروف رکھا جائے
04:03تو ان کی ذہنی اور جذباتی نشنمہ بہتر ہو سکتی ہے
04:07اور اس مقصد کے لیے والدین کا فعل کردار نہ گزیر ہے
04:23موسیقی
Comments