Skip to playerSkip to main content
Excessive and inappropriate screen time is becoming a serious concern for children’s mental and social development. Experts warn that too much exposure to screens can lead to symptoms similar to “virtual autism,” including delayed speech, lack of eye contact, and poor social interaction.

In this video, we explore how screen addiction impacts young minds, warning signs parents should watch for, and practical tips to reduce screen time for healthier child development.

Watch till the end to learn how to protect your child from the harmful effects of excessive digital exposure.

virtual autism in children, screen time effects on kids, excessive screen time dangers, child development issues, screen addiction kids, autism symptoms due to screen, parenting tips screen time, mobile addiction children, early childhood development problems, digital exposure kids, speech delay children screen, kids mental health screen time

virtual autism, screen time kids, mobile addiction, children health, parenting tips, kids development, autism awareness, digital parenting, excessive screen time, toddler development, child psychology, speech delay, kids behavior issues

#ScreenTime #VirtualAutism #KidsHealth #ParentingTips #ChildDevelopment #DigitalAddiction #AutismAwareness #HealthyKids #MobileAddiction #ParentingGuide #viral #viralvideo #shorts #shortvideo

Category

😹
Fun
Transcript
00:03بظاہر صحت مند نظر آنے والا یہ سات سالہ بچہ نہ اپنے ہم عمر بچوں کی طرح کھیلتا ہے اور
00:10نہ ہی اپنے جذبات کا اظہار کر پاتا ہے
00:12کم عمری میں غیر معمولی حد تک اسکرین ٹائم کی وجہ سے زین کا حقیقی دنیا سے تعلق کمزور ہو
00:19گیا ہے
00:21جب دوہزار بیس اور بائیس میں جب کرنہ آیا تو اس وقت یہ ٹی وی اور موبائل میں زیادہ انوال
00:29ہو گیا
00:30اس کی ماں بیٹا پیدا ہوا وہ ماں اس میں انوال ہو گئی
00:35تو یہ سارا دن ٹی وی اور موبائل دیکھتا تھا اس سے پہلے بلکل نارمل تھا
00:40اس کے بعد پھر موبائل میں اتنا انوال ہو گیا کہ اس کے بعد یہ پھر اسی دنیا میں چلا
00:46گیا ہے
00:47زین کا حقیقی دنیا سے تعلق جوڑنے کے لیے ان کی تھیرپی جاری ہے
00:52لیکن جیسے جیسے زین کی عمر بڑھ رہی ہے ان کی والدہ کے چیلنجز بھی بڑھ رہے ہیں
00:59جو مجھے ہینڈل کرنے میں ان کو دشواری آ رہی ہے وہ یہ ہے کہ ان کا بولنے کا پیچھر
01:04بلکل بھی نہیں ہے
01:05بلکل بھی یہ ذہرہ سابی نہیں بول پائے
01:07جبکہ شروع شروع میں ایسے نہیں تھے تھوڑا بات بات کرتے تھے
01:23زین کی علامتیں بظاہر ورچول آرٹیزم کی جانب اشارہ کرتی ہیں
01:28طبیعی اعتبار سے ورچول آرٹیزم ایک بقاعدہ تسلیم شدہ زینی کیفیت نہیں
01:33لیکن کئی ماہرین کے مطابق یہ ایک ایسی حالت ہے جس میں بچے حقیقی دنیا کے مقابلے میں
01:39ورچول یا ڈیجیٹل دنیا میں رہنے کو زیادہ ترجی دیتے ہیں
01:43ایک وقت ایسا بھی آ سکتا ہے کہ بچہ خود کو کوئی غیر حقیقی کردار سمجھنے لگے
01:49بچوں میں بڑھتا ہوا اسکین ٹائم دنیا بھر میں ایک مسئلہ ہے
01:53اب یہ پاکستان میں بھی تیزی سے بڑھ رہا ہے
01:57ہمارے ہاں کلینکس میں دن پہ دن ایسے کیسز کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے
02:01جن بچوں کے سمٹمز آٹیزم سپیکٹرم جس آرڈر سے بہت ملتے جلتے ہیں
02:06مگر جب ہم ان کو غور سے دیکھتے ہیں اور ان کی پوری ہسٹری پوچھتے ہیں
02:10تو معلوم یہ ہوتا ہے کہ ان بچوں کا سکرین ٹائم بہت زیادہ ہے
02:14جس کی وجہ کچھ بھی ہو سکتی ہے
02:16ماں باپ کا بچوں کو زیادہ اہمیت نہ دینا
02:19یا ماں کا خاموش رہنا
02:21اور بچوں کو سکرین دے کر اپنے کاموں میں مصروف ہو جانا
02:23کہ اگر ہمارے پاس دس بچے آرہے
02:25تو دس میں سے تقریباً سات یا آٹھ بچے جو ہوتے ہیں
02:29وہ آٹیزم فیچر کے ساتھ آتے ہیں
02:31جن کا وہی بیگراؤنڈ جو ہوتا ہے وہ سکرین ٹائم کہی ہو
02:34جس میں بچہ جو ہے اپنے دنیا میں مگا رہتا ہے
02:37مخصوص چیزوں سے کھیلتا ہے
02:39آپ کے ساتھ آئی کانٹیک نہیں کر پاتا
02:41ان کے سینسری ایشوز ہوتے ہیں
02:42کمیونکیشن کا جو ہے نا پرابلم ہوتا ہے
02:45بیہیور ایشوز ہوتے ہیں
02:46اور اس کے علاوہ جانا سوشل وہ بچے سوشل بھی نہیں ہوتے
02:50کئی متعلقی جائزوں میں یہ بات سامنے آئی ہے
02:53کہ بچوں کو غیر مناسب سکرین ٹائم کی وجہ سے
02:56میند میں خلل زبان کی نشنوں میں رکاوٹ
02:59توجہ کی کمی اور جذبات پر قابو نہ رکھنے جیسے
03:03مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے
03:06سکرین ایک ایسی نینی ہے جو ماں باپ کو مفت مل چکی ہے
03:10یہ بچوں کی ایک ایسی آیا ہے جو بچوں کو سوائے
03:13مسیبت دینے کے اور کوئی کام نہیں کرتی
03:15مگر بچہ جب اس نینی کے ساتھ ہوتا ہے
03:19اس آیا کے ساتھ ہوتا ہے
03:20اس سکرین کے ساتھ ہوتا ہے
03:22تو بچہ نہ بھوک محسوس کرتا ہے
03:25نہ پیاس محسوس کرتا ہے
03:26اور نہ ہی والدین سے رو رو کے کسی چیز کا تقاضہ کرتا ہے
03:30والدین اپنی زندگی کی مصروفیات تہہ کرتے رہتے ہیں
03:34اور بچہ ایک کونے میں بیٹھا سکرین دیکھ کر
03:36ورچوال ورلڈ میں غائب ہو جاتا ہے
03:38پاکستان ٹیلی کمینکیشن اتھارٹی نے
03:41اپنی ویب سائٹ پر سکرین ٹائم ٹریکر
03:44یا فیملی کنٹرول ایپس کے لنکس فرہم کیے ہیں
03:48جنہیں والدین استعمال کر کے
03:50بچوں کے سکرین ٹائم میں باتدریج کم ہی لاسکتے ہیں
03:54ماہرین اس بات پر متفق ہیں
03:57کہ اگر بچوں کا سکرین ٹائم کم کر کے
03:59انہیں تعلیم کھیل کود اور سماجی سرگرمیوں میں مصروف رکھا جائے
04:03تو ان کی ذہنی اور جذباتی نشنمہ بہتر ہو سکتی ہے
04:07اور اس مقصد کے لیے والدین کا فعل کردار نہ گزیر ہے
04:23موسیقی
Comments

Recommended