00:00اسلامی لائبریری انلائٹننگ اپاوٹ ریلیجن
00:08اب کہے تب اطابعین اور دیگر متقدمین آئمہِ طریقت
00:14حضرت حبیب اجمی رحمت اللہ تعالیٰ علیہ
00:17آئمہِ طریقت میں سے شجائے طریقت متمکنِ درِ شریعت
00:23حضرت حبیب اجمی رحمت اللہ تعالیٰ علیہ
00:26آپ بلند حمت مردِ خدا اور صاحبِ کمال بزرگ ہیں
00:31آپ نے حضرت حسن بسری رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ہاتھ توبہ فرمائی
00:35اس سے قبل آپ نے ریا اور فساد بہت تھا
00:39مگر اللہ تعالیٰ نے سچی توبہ کی توفیق عطا فرمائی
00:43آپ نے عرصہ تک حضرت حسن بسری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے علمِ طریقت کی تحصیل فرمائی
00:49چونکہ آپ آجمی تھے زبان پر عبور حاصل نہ ہوا
00:53مگر اللہ تعالیٰ نے آپ کو مقرب بنا کر متعدد کرامتوں سے سرفراز فرمایا
00:59ایک رات حضرت حسن بسری رحمت اللہ علیہ کا ان کی خانقہ کی طرف گزر ہوا
01:04آپ اقامت کہہ کر نمازِ مغرب شروع کر چکے تھے
01:08حضرت حسن بسری نے ان کی اقتداء میں نماز نہ پڑی
01:12اس لیے کہ آپ کو ان کا تلفز صحیح محسوس نہ ہوا
01:16اور نہ ہی مخارج کی ادائیگی ٹھیک لگی
01:20حسن بسری رضی اللہ تعالیٰ انہو رات کو سوئے تو دیدارِ الہی حاصل ہوا
01:25آپ نے بارگاہِ الہی میں عرض کیا کہ یا رب العالمین
01:28تیری رضا کس چیز میں ہیں
01:30حق تعالیٰ نے فرمایا اے حسن
01:33تو نے میری رضا تو پائی لیکن اس کی قدر نہ کی
01:36آپ نے عرض کیا پروردگار وہ کونسی رضا ہے
01:40حق تعالیٰ نے فرمایا
01:42اگر تُو حبیب آجمی کی اقتداء میں نماز پڑھ لیتا
01:45اور صحیح نیت کرنے سے تجھے اس کی زبان نہ روکتی
01:49تو میں تجھ سے لازمان راضی ہو جاتا
01:51مشایخِ طریقت میں یہ بات مشہور ہے
01:54کہ جب حضرت حسن بسری رضی اللہ تعالیٰ عنہ
01:56حجاج کے ظلم سے بھاگ کر حضرت حبیب آجمی
02:00علی رحمہ کی خانکہ میں تشریف لائے
02:02اور حجاج کے سپاہی تعاقب کرتے ہوئے اندر گھسائے
02:05تو سپاہیوں نے پوچھا اے حبیب
02:12پوچھا کس جگہ ہیں فرمایا میرے حجرے میں
02:14وہ آپ کے حجرے میں گھس گئے لیکن وہاں کسی کو نہ پایا
02:18سپاہیوں نے سمجھا کہ حبیب آجمی نے مذاب کیا ہے
02:21اس پر انہوں نے درشت کلامی کے ساتھ پوچھا
02:24سچ بتاؤ وہ کہاں ہیں
02:26انہوں نے قسم کھا کر کہا میں سچ کہتا ہوں
02:29وہ میرے حجرے میں ہیں
02:31سپاہی دو تین مرتبہ اندر گئے
02:32مگر وہ حسن بسری کو نہ دیکھ سکے
02:34بلاخر وہ چلے گئے
02:36جب حسن بسری رضی اللہ عنہ
02:39حجرے سے باہر تشریف لائے
02:40تو فرمایا اے حبیب
02:41میں سمجھ گیا کہ حق تعالی نے آپ کی برکت سے
02:44ان ظالموں کے پنجے سے مجھے محفوظ رکھا
02:47لیکن اس کی وجہ بتائیے
02:49کہ آپ نے یہ کیوں فرمایا
02:50کہ وہ اس حجرے میں ہیں
02:52حضرت حبیب آجمی رحمت اللہ علیہ نے جواب دیا
02:55اے میرے مرشد حق
02:57اللہ تعالی نے آپ کو
02:58میری برکت کی وجہ سے ظاہر نہیں کیا
03:00بلکہ سچ بولنے کی وجہ سے
03:03خدا نے ان سے مخفی رکھا
03:04اگر جھوٹ کہتا
03:06تو اللہ تعالی مجھے اور آپ کو رسوا کرتا
03:09اس قسم کی بکسرت کرامتیں
03:11آپ سے منصوب ہیں
03:13حضرت حبیب آجمی
03:15رحمت اللہ علیہ سے لوگوں نے پوچھا
03:17کہ کس چیز میں رضاِ الٰہی ہے
03:19آپ نے فرمایا
03:20ایسے دل میں جہاں نفاق کا غبار تک نہ ہو
03:24کیونکہ نفاق
03:27موافقت کے خلاف ہے
03:28اور رضا
03:30این موافقت ہے
03:31اور یہ کہ محبت کو نفاق سے
03:34دور کا بھی علاقہ نہیں ہے
03:35اور نہ وہ محلِ رضا ہے
03:37محبوبانِ الٰہی کی صفت
03:39رضا ہے
03:40اور دشمنانِ خدا کی صفت
03:42نفاق
03:43اس کی تفصیل انشاءاللہ
03:44دوسری جگہ آئے گی
03:46حضرت مالک بن دینار
03:48رحمت اللہ تعالیٰ علیہ
03:51آئمہِ طریقت میں سے
03:53ایک بزرگ امامِ طریقت
03:55نقیبِ اہلِ محبت
03:57جن و انس کی زینت
03:58حضرت مالک بن دینار
04:00رحمت اللہ تعالیٰ علیہ
04:02آپ حضرت حسن بصری رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے
04:05مصاحب و مرید ہیں
04:06طریقت میں آپ کا بڑا بلند مقام ہے
04:09آپ کی کرامتیں اور ریاضتیں
04:11مشہور و معروف ہیں
04:13آپ کے والد کا نام دینار تھا
04:15جو غلام تھے
04:16اور آپ بھی غلامی کی حالت میں ہی پیدا ہوئے تھے
04:20آپ کی
04:21توبہ کا یہ واقعہ ہے
04:22کہ ایک رات آپ ایک جماعت کے ساتھ
04:24محفلِ رکس و سرود میں تھے
04:26جب تمام لوگ سو گئے
04:28تو اس تمبورے سے جسے بجایا جا رہا تھا
04:31آواز آئی
04:32اے مالک
04:33کیا بات ہے
04:34توبہ میں دیر کیوں ہیں
04:36آپ نے اپنے تمام دوست اور احباب کو چھوڑ کر
04:39حضرت حسن بصری
04:40رضی اللہ عنہ کے خدمت میں حاضری دی
04:43اور سچی توبہ کی
04:44اور اپنا حال درست کر کے
04:46ہمیشہ ثابت قدم رہے
04:47اس کے بعد
04:49آپ کی شان اس قدر بلند ہوئی
04:51کہ ایک مرتبہ جب آپ کشتی میں سفر کر رہے تھے
04:53ایک تاجر کا موٹی کشتی میں گم ہو گیا
04:57آپ کو اس کا کوئی علم نہ تھا
04:59لیکن تاجر نے
05:01آپ پر چوری کا الزام لگا دیا
05:04آپ نے آسمان کی طرف مو اٹھایا
05:07اسی لمحہ
05:08دریا کی تمام مچھلیاں
05:10مو میں موٹی دبائے ستھے آپ پر ابر آئیں
05:13آپ نے ان میں سے ایک موٹی لے کر
05:15اس تاجر کو دے دیا
05:16اور خود دریا میں اتر گئے
05:18اور پانی پر گزر کر کنارے پر پہنچ گئے
05:21ایک مرتبہ آپ نے فرمایا
05:24میرے نزدیک
05:25سب سے زیادہ محبوب عمل میں
05:27اخلاص ہے
05:28کیونکہ اخلاص کے ساتھ عمل کرنا ہی تو
05:31واقعی عمل ہے
05:32اس لیے
05:33کہ عمل کے لیے اخلاص کا درجہ ایسا ہی ہے
05:36جیسا جسم کے لیے روح
05:38جس طرح بغیر روح کے جسم پتھر ہے
05:41اسی طرح بغیر اخلاص کے عمل
05:44ریت کا تودہ ہے
05:47اخلاص باطنی عمال کے قبیلے سے ہے
05:49اور تاعات و نیکیاں
05:52ظاہری عمال کے قبیلے سے
05:54ظاہری عمال کی تکمیل
05:56باطنی عمال کی موافقت پر موقوف ہے
05:59اور عمال باطنہ
06:01ظاہری عمال کے ساتھ ہی قدر و قیمت رکھتے ہیں
06:04اگر کوئی شخص
06:07ہزار برس تک ظاہری عمل کرتا رہے
06:10لیکن جب تک وہ ظاہری عمل کے ساتھ
06:12اخلاص کو نہ ملائے وہ عمل
06:14نیکی نہیں بن سکتی
06:16حضرت حبیب بن اسلم رائی
06:19رحمت اللہ تعالی علیہ
06:23آئمہ طریقت میں سے ایک بزرگ
06:25فقیر کبیر
06:27تمام ولیوں کے امیر
06:29ابو حلم
06:31حضرت حبیب بن اسلم رائی
06:33رحمت اللہ تعالی علیہ
06:36مشایخِ کبار میں
06:38آپ کی بڑی قدر و منزلت ہے
06:40تصوف کے تمام احوال میں
06:42بکسرت دلائل و شواہد مذکور ہیں
06:44آپ حضرت سلمان فارسی
06:47رضی اللہ تعالی عنہ کے
06:48مساہم ہیں
06:49آپ سے ایک حدیث مروی ہے
06:51کہ رسول اللہ
06:52صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم
06:54نے فرمایا
06:56مومن کے نیت
06:57اس کے عمل سے افضل ہے
07:00آپ بکریاں پالتے تھے
07:02اور فرات کے کنارے
07:04بکریاں چرائیا کرتے تھے
07:06آپ کا مسلک خلوت گزینی تھا
07:09ایک بزرگ بیان کرتے ہیں
07:11کہ ایک مرتبہ
07:12میرا گزر اس طرف ہو گیا
07:13تو کیا دیکھتا ہوں
07:15کہ آپ تو نماز میں مشغول ہیں
07:16اور ایک بھیڑیا
07:17ان کی بکریوں کی
07:18رکھوالی کر رہا ہے
07:19میں چہر گیا
07:21کہ اس بزرگ کی زیارت سے
07:23مشرف ہونا چاہیے
07:24جن کی بزرگی کا کرشمہ
07:26میں آنکھوں سے دیکھ رہا ہوں
07:28بڑی دیر تک انتظار میں
07:30کھڑا رہا
07:30یہاں تک کہ جب وہ
07:32نماز سے فارغ ہوئے
07:33تو میں نے سلام ارز کیا
07:34آپ نے سلام کا جواب
07:36ارشاد کیا
07:37اور فرمایا
07:38کس کام سے آئے ہو
07:39میں نے ارز کیا
07:40زیارت کے لیے
07:41فرمایا جزاک اللہ
07:43اس کے بعد ارز کیا
07:45یا حضرت
07:45آپ کی بکریوں سے
07:47بھیڑیے کو ایسا لگاؤ ہے
07:48کہ وہ ان کی حفاظت کر رہا ہے
07:51فرمایا ہاں
07:52اس کی وجہ یہ ہے
07:53کہ بکریوں کے پالنے والے کو
07:55حق تعالی سے دلی لگاؤ ہے
07:58یہ فرما کر
07:59آپ نے لکڑی کے پیالے کو
08:00پتھر کے نیچے رکھ دیا
08:01پتھر سے دو چشمیں جاری ہوئے
08:04ایک دودھ کا
08:05اور دوسرا شہد کا
08:06پھر فرمایا نوش کرو
08:08میں نے ارز کیا
08:09کہ آپ نے یہ مقام کس طرح پایا
08:11آپ نے جواب دیا
08:13سید عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی
08:17اطاعت کے ذریعے
08:18پھر فرمایا
08:20اے فرزند
08:21موسیٰ علیہ السلام کی قوم
08:23اگرچہ ان کی مخالف تھی
08:24لیکن پتھر نے انہیں پانی دیا
08:27حالانکہ حضرت موسیٰ علیہ السلام
08:29حضور سید عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
08:32کے درجہ میں نہ تھے
08:34جبکہ میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
08:37کا ایک فرما بردار امتی ہوں
08:39تو یہ پتھر مجھے دودھ اور شہد کیوں نہیں دے گا
08:42حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم
08:44موسیٰ علیہ السلام سے افضل ہیں
08:46پھر میں نے ارز کیا
08:48کہ مجھے کچھ نصیحت فرمائیے
08:50آپ نے فرمایا
08:51کہ اپنے دل کو حرس کی کوٹڑی
08:53اور اپنے پیٹ کو حرام کی گٹڑی نہ بنانا
08:56کیونکہ لوگوں کی ہلاکت
08:57انہی دو چیزوں میں مزمر ہے
08:59اور ان کی نجات ان سے دور رہنے میں ہے
09:02حضرت شیخ کے
09:03اور بھی بکسرت احوال
09:05اور روایات ہیں
09:06اس وقت اسی پر اکتفا کرتا ہوں
09:09کیونکہ میری اکثر کتابیں غزنی میں رہ گئی تھی
09:12حضرت ابو حازم مدنی
09:14رحمت اللہ تعالی علیہ
09:17تب اعتابین میں سے
09:19ایک بزرگ امام طریقت
09:20پیر سالح
09:22حضرت ابو حازم مدنی
09:23رحمت اللہ تعالی علیہ
09:26آپ مشایخ کرام کے پیشوا
09:28اور سلوک و معارفت میں
09:30کامل دسترس رکھتے تھے
09:31فقر میں بزرگ اور صادق قدم تھے
09:35مجاہدات میں
09:36بڑی محنت و مشکت برداشت کیا کرتے تھے
09:39حضرت عمر بن عثمان مکی رحمت اللہ علیہ
09:42کو آپ کی صحبت کا شرف حاصل ہے
09:44آپ کا کلام
09:45مقبول اور تمام کتابوں میں مذکور ہے
09:48یہی حضرت عمر بن عثمان
09:51روایت کرتے ہیں
09:52کہ کسی نے آپ سے پوچھا
09:53آپ کی پونجی کیا ہے
09:55آپ نے ارشاد فرمایا
09:57میری پونجی
09:58خدا کی رضا
10:00اور لوگوں سے بینیازی ہے
10:02بلا شبہ
10:04جو حق تعالی سے راضی ہوگا
10:05وہ لوگوں سے مستغنی ہو جائے گا
10:08کیونکہ اس کے لیے
10:09سب سے بڑا خزانہ خدا کی رضا ہی ہے
10:12غناء سے اس کی مراد
10:13حق تعالی سے غناء ہے
10:15جو شخص
10:15حق تعالی کے ساتھ غنی ہو جاتا ہے
10:18وہ غیروں سے بے پرواہ ہو جاتا ہے
10:21وہ اس کے در کے سوا
10:22کسی اور کو جانتا ہی نہیں
10:24اور ظاہر و باطن
10:25کسی حالت میں
10:26خدا کے سوا
10:27کسی کو بگارتا ہی نہیں
10:29ایک بزرگ بیان کرتے ہیں
10:31کہ میں ان کے خدمت میں حاضر ہوا
10:33تو میں نے ان کو سوتا پایا
10:34شنانچہ میں انتظار میں بیٹھ گیا
10:36جب وہ بیدار ہوئے تو فرمایا
10:38میں نے خواب میں اس وقت
10:40رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زیارت کی ہے
10:44حضور علیہ السلام نے
10:46تمہارے لیے مجھے پیغام دیا ہے
10:48کہ ماں کے حق کی حفاظت کرنا
10:50حج کرنے سے بہتر ہے
10:51لوٹ جاؤ
10:53ماں کو خوش رکھو
10:54میں واپس آ گیا
10:55اور مکہ مکرمہ حاضر نہ ہوا
10:57میں نے اس سے زیادہ
10:59ان کے اقوال نہیں سنے