Skip to playerSkip to main content
  • 2 days ago
Pathar Dil Ka Anjam - Kya Apka Dil Mar Chuka Hai - Qalb-e-Qasi Ki Nishaniyan - ZikreMuneeb

Category

📚
Learning
Transcript
00:00نحمدہو و نسلی علی رسولِهِ الکریم
00:02میرے انتہائی واجب الاحترام دوستو بزرگو اور نوجوان ساتھیو
00:07السلام علیکم ورحمت اللہ وبرکاتو
00:10دلوں کے اسرار و رموز کے سفر میں آج ہم ایک ایسی خطرناک اور خوفناک منزل پر پہنچ چکے ہیں
00:16جس سے پناہ مانگنا ہم سب پر لازم ہیں
00:19پشلی نشستوں میں ہم نے ان خوش نصیب دلوں کا ذکر کیا تھا
00:23جو قلبِ سلیم اور قلبِ منیب بن کر اللہ کے محبوب بن جاتے ہیں
00:27لیکن آج ہم دل کی اس تیسری اور بدترین حالت کا ذکر کریں گے
00:31جسے قرآنِ مجید نے قلبِ قاسی یعنی پتھر جیسا سخت اور مردہ دل قرار دیا ہے
00:36میرے دوستوں یہ وہ موضوع ہے جسے سن کر صحابہِ قرام رضی اللہ عنہم کے بھی رونگٹے کھڑے ہو جاتے تھے
00:43اور وہ رو رو کر اللہ سے پناہ مانگا کرتے تھے
00:45آج ہم سب اپنی جسمانی بیماریوں سے تو بہت ڈرتے ہیں
00:48اگر کسی کو پتا چل جائے کہ اس کے دل کی شریانیں بند ہو رہی ہیں
00:52یا اسے دل کا دورہ پڑھنے والا ہے
00:54تو وہ لاکھوں کروڑوں روپے خرچ کر دیتا ہے
00:57وہ راتوں کی نیندیں حرام کر لیتا ہے
00:59لیکن افسوس، صد افسوس
01:01کہ ہمیں اپنے روحانی دل کی بیماری کا پتا ہی نہیں چلتا
01:04قلبِ قاسی وہ دل ہے جو زندہ تو ہوتا ہے
01:07مگر اس میں احساس مر جاتا ہے
01:09یہ وہ دل ہے جس پر اللہ کا خوف اثر نہیں کرتا
01:12جس پر کسی کے رونے کا اثر نہیں ہوتا
01:15اور جس پر موت کی نصیحت بھی بے اثر ہو جاتی ہے
01:18یہ دل اللہ کی رحمت سے اتنا دور ہو جاتا ہے
01:21جتنا مشرق مغرب سے دور ہے
01:23میرے اور آپ کے آقا حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم
01:27نے ارشاد فرمایا
01:28کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے زیادہ ناپسندیدہ وہ شخص ہے
01:32جس کا دل سخت ہو
01:33ایک اور جگہ فرمایا
01:35کہ چار چیزیں بدبختی کی علامت ہے
01:37اور ان میں سے پہلی چیز آنکھوں کا خوشک ہو جانا
01:40یعنی اللہ کے خوف سے آنسو نہ نکلنا
01:43اور دوسری چیز دل کا سخت ہو جانا ہے
01:45میرے دوستو آئیے ذرا قرآن کے آئینے میں دیکھتے ہیں
01:49کہ یہ سخت دل ہوتا کیا ہے
01:50اور اللہ نے اس کی کیا مثال بیان کی ہے
01:53سورة البقرہ میں
01:54اللہ تعالیٰ بنی اسرائیل کے لوگوں کا ذکر کرتا ہے
01:57یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے
01:59اپنی آنکھوں سے اللہ کے بڑے بڑے موجزات دیکھے
02:01انہوں نے دیکھا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے
02:04اسا مارا تو سمندر پھٹ گیا
02:06انہوں نے دیکھا کہ پتھر سے پانی کے بارہ چشمیں پھوٹ پڑے
02:09اور حد تو یہ ہے
02:11کہ جب ان میں ایک شخص قتل ہو گیا
02:13تو اللہ کے حکم سے ایک گائے زباہ کی گئی
02:15اور اس کے گوشت کا ٹکڑا مقتول کو مارا گیا
02:18تو وہ مردہ زندہ ہو گیا اور بولنے لگا
02:20اتنے بڑے بڑے موجزات دیکھ کر
02:23تو پتھر بھی موم ہو جاتے ہیں
02:24مگر ان لوگوں کے دلوں پر کوئی اثر نہیں ہوا
02:27اسی موقع پر اللہ تعالیٰ نے وہ آیت نازل فرمائی
02:30جو آج کے موضوع کی بنیاد ہے
02:32اللہ فرماتا ہے
02:33یعنی پھر اس کے بعد تمہارے دل سخت ہو گئے
02:42یہاں تک کہ وہ پتھروں جیسے ہو گئے
02:44بلکہ سختی میں پتھروں سے بھی بڑھ گئے
02:47میرے بھائیوں ذرا اس مثال پر غور کریں
02:49اللہ نے سخت دل انسان کو جانور نہیں کہا
02:52بلکہ پتھر کہا ہے
02:54اور پھر فرمایا کہ یہ پتھر سے بھی زیادہ سخت ہے
02:57کیوں
02:57اس کی دلیل اللہ نے خود دی ہے
02:59اللہ فرماتا ہے کہ پتھروں میں تو کچھ ایسے بھی ہوتے ہیں
03:03جن سے نہریں پھوٹ پڑتی ہیں
03:04کچھ پتھر ایسے ہوتے ہیں جو پھٹ جاتے ہیں
03:07اور ان سے پانی نکل آتا ہے
03:08اور کچھ پتھر ایسے بھی ہوتے ہیں
03:10جو اللہ کے خوف سے بلندی سے نیچے گر پڑتے ہیں
03:13مگر اے غافل انسان
03:15تیرا دل اتنا سخت ہو چکا ہے
03:17کہ نہ اس سے ہدایت کی نہر جاری ہوتی ہے
03:19نہ یہ کسی غریب کا دکھ دیکھ کر پسیجتا ہے
03:22اور نہ ہی یہ اللہ کے خوف سے کانپتا ہے
03:25آپ نے دیکھا ہوگا
03:26کہ پہاڑوں سے پانی کے چشمیں نکلتے ہیں
03:28یعنی پتھر کے اندر بھی نرمی موجود ہے
03:31مگر ایک ظالم اور سخت دل انسان کی آنکھ سے
03:34پوری زندگی اللہ کے خوف کا ایک آنسو نہیں نکلتا
03:37یہ ہے وہ بدترین حالت
03:39جسے قلب قاسی کہتے ہیں
03:41صوفیہ کرام فرماتے ہیں
03:43کہ دل کی سختی دراصل
03:44اللہ کی طرف سے ایک لانت اور سزا ہوتی ہے
03:47جب انسان گناہوں پر گناہ کرتا چلا جاتا ہے
03:50اور توبہ نہیں کرتا
03:51تو اللہ اس کے دل سے نور چھین لیتا ہے
03:54اور وہاں اندھیرہ اور سختی ڈال دیتا ہے
03:56پھر اس شخص کو آزان کی آواز
03:58موسیقی سے بری لگتی ہے
04:00اسے قرآن کی تلاوت سن کر گھبراہت ہوتی ہے
04:03اسے نیک لوگوں کی محفل میں بیٹھنا
04:05قید خانے جیسا لگتا ہے
04:07یہ اس بات کی نشانی ہے
04:08کہ اس کا دل پتھر ہو چکا ہے
04:10حضرت مالک بن دینار رحمت اللہ علیہ فرماتے ہیں
04:13کہ انسان کو جتنی بھی سزائیں ملتی ہیں
04:16ان میں سب سے بڑی سزا یہ ہے
04:18کہ اس کا دل سخت کر دیا جائے
04:20کیونکہ جب دل سخت ہو جاتا ہے
04:22تو اللہ کی رحمت کا دروازہ بند ہو جاتا ہے
04:24میرے دوستو ذرا سوچیں
04:26کہ اگر زمین سخت اور بنجر ہو جائے
04:28تو کیا اس پر بارش کا کوئی اثر ہوتا ہے
04:31کیا وہاں پھول اور پودے اگتے ہیں
04:33نہیں اگتے
04:34بارش کا پانی اس کے اوپر سے بہ کر نکل جاتا ہے
04:37بلکل اسی طرح جب دل سخت ہو جاتا ہے
04:39تو قرآن کی آیات اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیثیں
04:44اس پر اثر نہیں کرتی
04:45بلکہ وہ اوپر سے گزر جاتی ہیں
04:47آج ہم جمعے کے خدبے سنتے ہیں
04:49ہم یوٹیوب پر بڑے بڑے علامہ کے بیان سنتے ہیں
04:52مگر ہماری زندگی کیوں نہیں بدلتی
04:54ہماری نمازوں میں خشو کیوں نہیں آتا
04:57وجہ صرف ایک ہے
04:58کہ جس برتن میں ہدایت جانی تھی
05:00وہ برتن الٹا ہو چکا ہے
05:02وہ برتن بند ہو چکا ہے
05:04قلب قاسی والا انسان چلتی پھرتی لاش ہوتا ہے
05:07وہ کھاتا ہے پیتا ہے ہستا ہے
05:10مگر روحانی طور پر وہ مر چکا ہوتا ہے
05:12اور یاد رکھئے
05:13جو دل دنیا میں پتھر بن جائے گا
05:16قیامت کے دن وہ جہنم کا ایندھن بنے گا
05:19کیونکہ اللہ نے فرمایا
05:20کہ وہ آگ جس کا ایندھن انسان اور پتھر ہے
05:23یہاں پتھر سے مراد صرف عام پتھر نہیں
05:26بلکہ وہ پتھر دل انسان بھی ہیں
05:28جو دنیا میں حق کے آگے نہیں جھکے
05:30میرے عزیزوں
05:32یہ کوئی معمولی بات نہیں ہے
05:33یہ ہمارے ایمان اور ہماری آخرت کا معاملہ ہے
05:36آج ہمیں اپنا چیک اپ کرنا ہوگا
05:39کہ کہیں ہم بھی اس خطرناک بیماری کا شکار تو نہیں ہو چکے
05:42کہیں ہمارا نام بھی
05:44اللہ کے رجسٹر میں
05:45سخت دل لوگوں میں تو نہیں لکھ دیا گیا
05:47اس کی کچھ واضح نشانیاں ہیں
05:49جو بزرگان دین نے بتائی ہیں
05:51اگر وہ نشانیاں ہمارے اندر موجود ہیں
05:54تو ہمیں فوراں فکر کرنی چاہیے
05:55پہلی نشانی یہ ہے
05:57کہ انسان کو گناہ کرنے میں
05:59کوئی جھجک محسوس نہ ہو
06:00اور گناہ کے بعد کوئی شرمندگی نہ ہو
06:03ایک مومن جب گناہ کرتا ہے
06:05تو اسے لگتا ہے کہ پہاڑ اس کے اوپر گرنے والا ہے
06:08مگر جب ایک سخت دل والا گناہ کرتا ہے
06:10تو اسے لگتا ہے
06:11کہ ناک پر مکھی بیٹھی تھی
06:13جو اڑ گئی
06:14دوسری نشانی یہ ہے
06:15کہ انسان کی آنکھ سے آنسو خوشک ہو جائیں
06:18حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم
06:21اللہ کے محبوب تھے
06:22جنتی تھے
06:23پھر بھی راتوں کو اتنا روتے تھے
06:25کہ مسلح بھیگ جاتا تھا
06:27حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ
06:29جن سے شیطان بھی ڈڑتا تھا
06:31ان کے چہرے پر رونے کی وجہ سے
06:33دو کالے نشان پڑ گئے تھے
06:35اور ایک ہم ہے
06:36کہ مہینوں گزر جاتے ہیں
06:38ہماری آنکھ نم نہیں ہوتی
06:39ہم دنیا کے ڈرامے دیکھ کر رو لیتے ہیں
06:42ہم کسی کے مرنے پر رو لیتے ہیں
06:44مگر اپنے گناہوں اور اللہ کے خوف سے نہیں روتے
06:47یہ خوشکی بتا رہی ہے
06:48کہ اندر کی زمین بنجر ہو چکی ہے
06:51تیسری نشانی یہ ہے
06:52کہ انسان کو عبادت میں سستی
06:54اور دنیا کے کاموں میں چستی محسوس ہو
06:57اگر ہمیں کہا جائے
06:58کہ تین گھنٹے کی فلم دیکھنی ہے
07:00تو ہم بڑے شوق سے بیٹھیں گے
07:02مگر دس منٹ کی نماز ہم پر بھاری ہو جاتی ہے
07:05ہم گھڑی دیکھتے ہیں
07:06کہ کب جان چھوٹے
07:07یہ اس بات کا ثبوت ہے
07:09کہ دل بیمار ہے
07:10کیونکہ بیمار آدمی کو ہی کھانا کروا لگتا ہے
07:13جس کا دل زندہ ہو
07:14اسے تو نماز میں سکون ملتا ہے
07:16میرے دوستو
07:18یہ وہ خوفناک حالت ہے
07:19جس سے اللہ کے نبی بھی پناہ مانگتے تھے
07:22اے اللہ
07:26میں تیری پناہ مانگتا ہوں
07:28ایسے دل سے
07:29جو تیرے ڈر سے نہ جھکے
07:32ایڈیو کا مقصد کسی کو مایوس کرنا نہیں ہے
07:34بلکہ جگانا ہے
07:35ابھی وقت ہے
07:36ابھی ساس چل رہی ہے
07:38اگر ہمیں محسوس ہو رہا ہے
07:40کہ ہمارا دل سخت ہو رہا ہے
07:42تو یہ بھی اللہ کا کرم ہے
07:43کہ اس نے ہمیں احساس دے دیا
07:45ورنہ کچھ بدبخت تو ایسے ہیں
07:47جنہیں مرتے دم تک پتا ہی نہیں چلتا
07:49کہ وہ مردہ ہو چکے ہیں
07:51تو بھائیو
07:52اب ہم یہ جانیں گے
07:53کہ وہ کون سے اسباب ہیں
07:55جو دل کو پتھر بنا دیتے ہیں
07:56اور پھر ہم اس کا علاج بھی ڈھونڈیں گے
07:59کہ اس پتھر کو دوبارہ موم کیسے بنایا جائے
08:01میرے نہایت ہی واجب الاحترام دوستوں اور بزرگوں
08:05پچھلے حصے میں ہم نے دل کی سختی
08:07یعنی قلب قاسی کی خوفناک علامات
08:10اور اس کی حقیقت پر بات کی تھی
08:12آج ہم اس روحانی بیماری کی جڑوں تک جائیں گے
08:15اور یہ جاننے کی کوشش کریں گے
08:17کہ آخر وہ کون سے اسباب ہیں
08:18وہ کون سی وجوہات ہیں
08:20جو ایک مومن کے زندہ اور دھڑکتے ہوئے دل کو پتھر بنا دیتی ہیں
08:24جیسے ڈاکٹر کسی بیماری کا علاج کرنے سے پہلے
08:28اس کی وجہ تشخیص کرتا ہے
08:29بلکل اسی طرح
08:30ہمیں بھی اپنے دل کے سخت ہونے کی وجوہات کا پتہ ہونا چاہیے
08:34تاکہ ہم ان سے بچ سکیں
08:36سوفیہ کرام اور علماء حق نے
08:38پران اور سنت کی روشنی میں
08:40دل کے سخت ہونے کے پانچ بڑے اسباب بیان کیے ہیں
08:43جو آج ہمارے معاشرے میں عام ہو چکے ہیں
08:46دل کے سخت ہونے کا سب سے پہلا
08:48اور سب سے بڑا سبب
08:50گناہوں کی کسرت اور توبہ کا نہ کرنا ہے
08:52میرے دوستو یاد رکھئے
08:54گناہ صرف اللہ کی نافرمانی نہیں ہے
08:57بلکہ یہ دل کا زہر ہے
08:58ہمارے پیارے آقا حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم
09:02نے ارشاد فرمایا
09:03کہ جب مومن کوئی گناہ کرتا ہے
09:06تو اس کے دل پر ایک سیاہ نقطہ لگا دیا جاتا ہے
09:08اگر وہ توبہ کر لے
09:13لیکن اگر وہ گناہ پر گناہ کرتا چلا جائے
09:16اور توبہ نہ کرے
09:17تو وہ سیاہی پھیلتی جاتی ہے
09:19یہاں تک کہ پورے دل کو گھیر لیتی ہے
09:21اسی کو اللہ نے پران میں رائن
09:24یعنی زنگ کہا ہے
09:25آج ہمارا علمیہ یہ ہے
09:27کہ ہم گناہ کو گناہ ہی نہیں سمجھتے
09:29ہم سارا دن جھوٹ بولتے ہیں
09:31غیبت کرتے ہیں
09:33نظر کی بدکاری کرتے ہیں
09:34اور سمجھتے ہیں کہ یہ تو چھوٹی موٹی باتیں ہیں
09:37حالانکہ پانی کا ایک ایک قطرہ مل کر
09:39پتھر میں سراخ کرتا ہے
09:41اور گناہوں کا ایک ایک ذرہ مل کر
09:43دل کو پتھر بنا دیتا ہے
09:45حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ
09:48فرماتے ہیں
09:48کہ نیکی سے چہرے پر نور
09:50اور دل میں روشنی آتی ہے
09:52اور گناہ سے چہرے پر سیاہی
09:54اور دل میں اندھیرہ آتا ہے
09:55جب دل میں اندھیرہ چھا جاتا ہے
09:58تو پھر اسے حق بات نظر نہیں آتی
10:00دل کے سخت ہونے کا دوسرا بڑا سبب
10:03حرام غزہ اور مشکوک لقمہ ہے
10:05میرے دوستو یہ وہ وجہ ہے
10:07جسے آج ہم نے بالکل فراموش کر دیا ہے
10:10صوفیہ فرماتے ہیں
10:11کہ جو کھانا ہم کھاتے ہیں
10:13اس کا سیدھا اثر ہمارے دل
10:15اور ہماری روحانیت پر ہوتا ہے
10:17اگر پیٹ میں حلال جائے گا
10:19تو دل میں نیکی کا نور پیدا ہوگا
10:21اور آزا سے نیک آمال سادر ہوں گے
10:23لیکن اگر پیٹ میں حرام جائے گا
10:26چاہے وہ سود کا ہو
10:27رشوت کا ہو
10:28یا چھینہ جھپٹی کا ہو
10:29تو اس سے دل میں تاریخی پیدا ہوگی
10:31اور آزا گناہ کی طرف بھاگیں گے
10:33مولانا رومی رحمت اللہ علیہ فرماتے ہیں
10:36کہ جب چراغ میں تیل کی جگہ پانی ڈالو گے
10:39تو وہ بجھ جائے گا
10:40اسی طرح جب پیٹ میں حرام ڈالو گے
10:42تو ایمان کا چراغ بجھ جائے گا
10:45ایک شخص نے حضرت سعد بن ابی وقیاس رضی اللہ عنہ سے پوچھا
10:49کہ میری دعائیں کیوں قبول نہیں ہوتی
10:51حالانکہ میں بہت عبادت کرتا ہوں
10:53انہوں نے فرمایا
10:54بھائیو بالکل رکیے
10:55انہوں نے فرمایا
10:56کہ اپنا لقمہ پاک کر لو
10:58تمہاری دعائیں قبول ہو جائیں گی
11:00آج ہم کہتے ہیں
11:01کہ دل سخت ہو گیا ہے
11:03نماز میں دل نہیں لگتا
11:04تو ذرا غور کریں
11:06کہ کہیں ہمارے پیٹ میں
11:07کوئی ایسا نوالہ تو نہیں جا رہا
11:09جو اللہ کو ناراض کرنے والا ہو
11:11حرام مال کھانے والے کا دل
11:13کبھی نرم نہیں ہو سکتا
11:15چاہے وہ ساری رات روتا رہے
11:16دل کی سختی کا تیسرا سبب
11:19فضول باتوں کی کسرت
11:20اور اللہ کے ذکر سے غفلت ہے
11:22حدیث پاک میں آتا ہے
11:24کہ اللہ کے ذکر کے سوا
11:25زیادہ باتیں مت کیا کرو
11:27کیونکہ اللہ کے ذکر کے سوا
11:29زیادہ باتیں کرنا
11:30دل کو سخت کر دیتا ہے
11:32اور اللہ سے سب سے دور وہ شخص ہے
11:35جس کا دل سخت ہو
11:36آج ہماری محفلیں دیکھیں
11:38ہم گھنٹوں بیٹھ کر
11:39سیاست پر
11:40کرکٹ پر
11:41اور لوگوں کی برائیوں پر
11:42تفسرے کرتے ہیں
11:43ہم ہستے ہیں
11:44کہہ کہہ لگاتے ہیں
11:46مگر اللہ کا نام لینے کی
11:47توفیق نہیں ہوتی
11:48یاد رکھئے
11:49زبان کا دل سے
11:51گہرا تعلق ہے
11:52اگر زبان فضول چلے گی
11:54تو دل غافل ہو جائے گا
11:55حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے فرمایا
11:57کہ اس مجلس میں مت بیٹھو
11:59جہاں اللہ کا ذکر نہ ہو رہا ہو
12:01کیونکہ وہ مجلس مردہ ہے
12:03اور وہ تمہارے دل کو بھی مردہ کر دے گی
12:05اسی طرح بہت زیادہ ہسنا بھی
12:08دل کو مار دیتا ہے
12:09حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
12:12کہ زیادہ مت ہسا کرو
12:14کیونکہ زیادہ ہسنا
12:15دل کو مردہ کر دیتا ہے
12:17اس کا مطلب یہ نہیں
12:18کہ انسان مسکرائے نہیں
12:20بلکہ اس کا مطلب یہ ہے
12:21کہ انسان ہر وقت غفلت میں
12:23کہہ کہہ نہ لگاتا رہے
12:24اور اپنی آخرت کو بھول نہ جائے
12:26دل کے سخت ہونے کا چوتھا سبب
12:29اہد شکنی
12:30یعنی اللہ سے کیے ہوئے وعدوں کو توڑنا ہے
12:33اللہ تعالیٰ سورہ مائدہ میں
12:34بنی اسرائیل کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے
12:37کہ چونکہ انہوں نے
12:38اپنے پختہ اہد کو توڑ ڈالا
12:40اس لیے ہم نے ان پر لانت کی
12:42اور ان کے دلوں کو سخت کر دیا
12:44جب انسان کلمہ پڑتا ہے
12:46تو وہ اللہ سے وعدہ کرتا ہے
12:48کہ یا اللہ
12:49میں صرف تیری عبادت کروں گا
12:50اور تیرے حکموں پر چلوں گا
12:52لیکن جب وہ عملی زندگی میں
12:54اللہ کے احکامات کو توڑتا ہے
12:56نماز چھوڑتا ہے
12:57زکاة نہیں دیتا
12:59تو یہ وعدہ خلافی ہے
13:00اور جو شخص بار بار وعدہ توڑتا ہے
13:03اللہ اس کے دل سے ہدایت کی توفیق چھین لیتا ہے
13:06اور اسے سختی میں مبتلا کر دیتا ہے
13:08آج ہم روزانہ نماز میں
13:10اییا کا نعبدو و اییا کا نستعین کہتے ہیں
13:13مگر مسجد سے نکلتے ہی
13:15ہم غیر اللہ کے در پر جھک جاتے ہیں
13:17یہ وعدہ خلافی
13:19ہمارے دلوں کو پتھر بنا رہی ہے
13:21دل کی سختی کا پانچواں اور آخری بڑا سبب
13:24موت کو بھلا دینا
13:25اور لمبی امیدیں رکھنا ہے
13:27اسے طولے عمل کہتے ہیں
13:29جب انسان یہ سوچ لیتا ہے
13:31کہ ابھی تو میں جوان ہوں
13:32ابھی تو بہت وقت پڑا ہے
13:34ابھی تو مجھے یہ کرنا ہے
13:36وہ کرنا ہے
13:37تو اس کے دل سے آخرت کا ڈر نکل جاتا ہے
13:39وہ دنیا کی رنگینیوں میں کھو جاتا ہے
13:42یاد رکھئے
13:43موت کی یاد دل کو زندہ رکھتی ہے
13:45اور موت سے غفلت دل کو مار دیتی ہے
13:48ایک بزرگ فرماتے ہیں
13:50کہ جس نے موت کو یاد رکھا
13:52اس کا دل نرم ہو گیا
13:53اور جس نے دنیا کی لمبی امیدیں باندھی
13:56اس کا دل سخت ہو گیا
13:57آج ہم قبرستان بھی جاتے ہیں
13:59تو عبرت حاصل نہیں کرتے
14:01کیونکہ ہمیں لگتا ہے
14:02کہ مرنا صرف دوسروں نے ہے
14:04ہم نے نہیں مرنا
14:05میرے دوستو
14:07یہ وہ پانچ زہریلے اضباب ہیں
14:09جنہوں نے آج ہمارے معاشرے کو
14:11روحانی طور پر مفلوچ کر دیا ہے
14:13ہم نے گناہوں کو عادت بنا لیا ہے
14:16حرام حلال کی تمیز ختم کر دی ہے
14:18فضول باتوں میں وقت برباد کر رہے ہیں
14:20اللہ سے کیے وعدے توڑ رہے ہیں
14:22اور موت کو بھول بیٹھے ہیں
14:24نتیجہ یہ ہے
14:25کہ ہمارے دل ویران ہو چکے ہیں
14:27ہماری آنکھوں کے آنسو خوشک ہو چکے ہیں
14:30اور ہماری دعائیں بے اثر ہو چکی ہیں
14:32اگر ہم چاہتے ہیں
14:33کہ ہمارا دل دوبارہ زندہ ہو جائے
14:35تو ہمیں ان ازباب کو
14:37اپنی زندگی سے نکالنا ہوگا
14:38ہمیں گناہوں سے توبہ کرنی ہوگی
14:41اپنے لقمے کو پاک کرنا ہوگا
14:43اپنی زبان کو ذکر الہی سے تر رکھنا ہوگا
14:46اور اپنی موت کو ہر وقت یاد رکھنا ہوگا
14:49اللہ تعالیٰ ہمیں ان تمام بیماریوں سے محفوظ فرمائے
14:52اور ہمارے دلوں کو
14:53اپنی اطاعت کے لیے نرم کر دے
14:55تو بھائیو انشاءاللہ اب ہم آگے
14:57دل کی سختی کا مکمل علاج
14:59اور وہ نسخے بیان سنتے ہیں
15:01جن سے پتھر دل بھی موم بن جاتا ہے
15:04جی عمر صاحب
15:05جی شکریہ عثمان صاحب
15:07تو میرے نہایت ہی قابل قدر دوستوں اور بزرگوں
15:10پچھلی دو نشستوں میں
15:11ہم نے دل کی سختی کی علامات
15:13اور اس کے ازباب پر تفصیلی گفتگو کی تھی
15:15ہم نے جانا کہ کس طرح گناہوں کی کسرت
15:17اور دنیا کی محبت
15:19ہمارے دلوں کو پتھر بنا دیتی ہے
15:21لیکن آج کی یہ آخری نشست سب سے اہم ہے
15:24کیونکہ آج ہم اس مایوسی کے اندھیرے میں
15:26امید کا چراغ جلائیں گے
15:28آج ہم قرآن و سنت اور
15:29اولیاء اللہ کے تجربات کی روشنی میں
15:31وہ نسخے بیان کریں گے
15:33جن سے سخت سے سخت دل بھی موم بن جاتا ہے
15:35اور بنجر سے بنجر زمین سے بھی
15:37ہدایت کے چشمیں پھوٹ پڑتے ہیں
15:39یاد رکھئے
15:40اللہ کی رحمت سے مایوس ہونا کفر ہے
15:42اگر ہمارا دل پتھر ہو چکا ہے
15:44تو اللہ کے پاس ایسے ہتھوڑے بھی ہیں
15:46جو پتھر کو توڑ سکتے ہیں
15:48اور ایسی بارش بھی ہے
15:49جو اسے نرم کر سکتی ہے
15:50دل کو نرم کرنے کا سب سے پہلا
15:52اور سب سے طاقتور علاج
15:54یتیموں اور مسکینوں کے ساتھ شفقت کرنا ہے
15:56یہ وہ نسخہ ہے
15:57جو خود ہمارے پیارے آقا
15:59حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم
16:01نے تجویز فرمایا ہے
16:02ایک بار ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم
16:05کی بارگاہ میں حاضر ہوا
16:07اور عرض کی کہ
16:07یا رسول اللہ
16:08میں اپنے دل کی سختی کی شکایت کرتا ہوں
16:10میرا دل پتھر جیسا ہو گیا ہے
16:12مجھے رونے نہیں آتا
16:14مجھے نیکی میں مزہ نہیں آتا
16:16آپ صلی اللہ علیہ وسلم
16:17نے اسے کوئی لمبا چوڑا وظیفہ نہیں بتایا
16:19اور نہ ہی اسے جنگلوں میں جانے کا کہا
16:21بلکہ ایک بہت ہی عجیب اور حکمت والا علاج بتایا
16:24آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
16:26کہ اگر تم چاہتے ہو
16:28کہ تمہارا دل نرم ہو جائے
16:29تو یتیم کے سر پر ہاتھ پھیرا کرو
16:31اور مسکین کو کھانا کھلایا کرو
16:33میرے دوستوں
16:34ذرا اس عمل کی حکمت پر غور کرے
16:36دل سخت تب ہوتا ہے
16:37جب اس میں تکبر اور خودغرزی آ جاتی ہے
16:39جب انسان کسی یتیم بچے کے سر پر شفقت سے ہاتھ رکھتا ہے
16:43تو اس کا تکبر ٹوٹ جاتا ہے
16:45جب وہ اللہ کے لیے کسی بھوکے کو کھانا کھلاتا ہے
16:47تو اس کی خودغرزی ختم ہو جاتی ہے
16:49صوفیہ فرماتے ہیں
16:51کہ یتیم کے سر پر ہاتھ پھیرنے میں ایک ایسا کرنٹ ہے
16:53جو سیدھا دل میں اترتا ہے
16:55اور اسے پگھلا دیتا ہے
16:56اگر آپ کو لگتا ہے کہ آپ کا دل سخت ہے
16:59تو آج ہی کسی یتیم خانے جائیں
17:01کسی یتیم بچے کو گلے لگائیں
17:02اسے اپنی کمائی سے کھانا کھلائیں
17:04خدا کی قسم آپ کو اپنے سینے میں وہ تھندک محسوس ہوگی
17:08جو سالوں کی عبادت سے نہیں ملی
17:10دل کی صفائی اور اسے نرم کرنے کا دوسرا بڑا علاج
17:13قرآن مجید کی کسرت سے تلاوت
17:15اور اسے سمجھ کر پڑھنا ہے
17:16اللہ تعالیٰ فرماتا ہے
17:18کہ اگر ہم یہ قرآن کسی پہاڑ پر نازل کرتے
17:20تو تم دیکھتے کہ وہ اللہ کے خوف سے ریزہ ریزہ ہو جاتا
17:23ذرا سوچیں
17:24کہ جو قرآن پہاڑ کو ریزہ ریزہ کر سکتا ہے
17:27کیا وہ ہمارے گوشت کے دل کو نرم نہیں کر سکتا
17:29یقیناً کر سکتا ہے
17:31لیکن شرط یہ ہے
17:32کہ قرآن کو صرف توتے کی طرح نہ پڑھا جائے
17:34بلکہ اسے سمجھ کر پڑھا جائے
17:36جب قرآن میں جہنم کا ذکر آئے
17:38تو انسان درے
17:39اور جب جنت کا ذکر آئے
17:41تو امید رکھے
17:42حضرت فضیل بن عیاز رحمت اللہ علیہ
17:44پہلے ایک ڈاکو تھے
17:45اور بہت سخت دل انسان تھے
17:47مگر ایک رات انہوں نے قرآن کی ایک آیت سنی
17:49کہ کیا ایمان والوں کے لیے وہ وقت نہیں آیا
17:52کہ ان کے دل اللہ کے ذکر سے ڈر جائیں
17:54اس ایک آیت نے ان کے دل کی دنیا بدل دی
17:57اور وہ ڈاکو سے ولی بن گئے
17:58تو میرے بھائیوں
17:59روزانہ قرآن کا کچھ حصہ ضرور پڑھیں
18:01یہ دل کی بنجر زمین کے لیے بارش کا کام کرتا ہے
18:04دل کو زندہ کرنے کا تیسرا نسخہ
18:07موت کو قسرت سے یاد کرنا
18:09اور قبرستان کی زیارت کرنا ہے
18:10حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
18:13کہ میں نے تمہیں قبرستان جانے سے منع کیا تھا
18:15مگر اب جایا کرو
18:17کیونکہ یہ دلوں کو نرم کرتا ہے
18:18اور آنکھوں سے آنسو جاری کرتا ہے
18:20جب انسان قبرستان جاتا ہے
18:22اور وہاں خاموش قبروں کو دیکھتا ہے
18:24تو اسے اپنی اوقات یاد آ جاتی ہے
18:26وہ سوچتا ہے کہ یہ لوگ بھی میری طرح
18:28زمین پر اکڑ کر چلتے تھے
18:30آج مٹی کے نیچے پڑے ہیں
18:31یہ سوچ انسان کے دل سے دنیا کی محبت نکال دیتی ہے
18:35اور جب دنیا کی محبت نکلتی ہے
18:37تو دل نرم ہو جاتا ہے
18:38چوتھا علاج کسرت سے ذکر الہی اور استغفار ہے
18:41جیسے لوہے کا زنگ آگ سے اترتا ہے
18:44ویسے ہی دل کا زنگ ذکر سے اترتا ہے
18:46جب بندہ تنہائی میں بیٹھ کر
18:48اللہ اللہ کرتا ہے
18:49تو وہ سخت تہیں جو گناہوں نے دل پر چڑھا رکھی ہیں
18:52وہ ٹوٹنے لگتی ہیں
18:53خاص طور پر تحجد کے وقت کا ذکر
18:55دل کو بہت جلدی نرم کرتا ہے
18:57پانچوہ اور ایک بہت اہم علاج
18:59نیک اور صالح لوگوں کی صحبت ہے
19:01جیسے برف کی ڈلی کو اگر آگ کے پاس رکھ دیں
19:03تو وہ پگھل جاتی ہے
19:05اسی طرح ایک سخت دل انسان
19:06اگر کسی اللہ والے کے پاس بیٹھ جائے
19:09تو اس کی صحبت کی گرمی سے
19:10اس کا دل بھی پگھل جاتا ہے
19:11مولانا روم فرماتے ہیں
19:13کہ اگر تم چاہتے ہو
19:14کہ تمہارا دل زندہ ہو جائے
19:16تو کسی زندہ دل والے کے پاس بیٹھ جاؤ
19:18ان کی نگاہ میں اللہ نے وہ تاثیر رکھی ہے
19:20جو مردہ دلوں کو مسیحہ کی طرح زندہ کر دیتی ہے
19:23آخر میں ایک بہت ہی مجرب نسخہ
19:25جو علماء کرام نے بتایا ہے
19:27وہ یہ ہے کہ اللہ سے دعا مانگنا
19:29کیونکہ دل اللہ کی انگلیوں کے درمیان ہے
19:31وہ جیسے چاہے اسے پھیر دے
19:33ہمیں چاہیے کہ ہم کسرت سے یہ دعا مانگے
19:36کہ یا مقلب القلوب ثبت قلبی علا دینک
19:38اے دلوں کو پھیرنے والے
19:40میرے دل کو اپنے دین پر جمع دے
19:42اور وہ دعا جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم مانگا کرتے تھے
19:46کہ اللہم انی اعوذ بکا من قلب لا یخشا
19:48اے اللہ میں تجھ سے ایسے دل سے پناہ مانگتا ہوں
19:57یہ مشکل ضرور ہیں
19:59کیونکہ ہمارا نفس ان کے خلاف مزاہمت کرے گا
20:02مگر ہمیں ہمت نہیں ہارنی
20:03اگر آج ہم نے اپنے دل کا علاج نہ کیا
20:06تو کل قیامت کے دن بہت دیر ہو جائے گی
20:08وہاں سوائے شرمندگی کے کچھ نہیں ملے گا
20:10میرے انتہائی واجب الاحترام دوستوں اور بزرگوں
20:13دل کی سختی کے موضوع پر یہ ہماری آخری حصہ ہے
20:16اور خدا کی قسم یہ سب سے زیادہ بھاری حصہ ہے
20:18پچھلے حصے میں ہم نے بیماری اور علاج تو سن لیا
20:21لیکن آج ہم یہ سنیں گے
20:22کہ اگر ہم نے اپنے اس سخت دل کا علاج نہ کیا
20:25تو ہمارا انجام کیا ہوگا
20:27قرآن مجید میں اللہ رب العزت نے سخت دل والوں کے لیے
20:30ایک بہت خوفناک لفظ استعمال کیا ہے
20:32جسے سن کر مومن کا قلیجہ پھٹ جاتا ہے
20:34اللہ فرماتا ہے
20:36یعنی ہلاکت ہے
20:40بربادی ہے ان لوگوں کے لیے
20:41جن کے دل اللہ کے ذکر سے سخت ہو چکے ہیں
20:44میرے دوستوں
20:45ویل جہنم کی ایک ایسی وادی ہے
20:47جس کی گرمی سے خود جہنم بھی پناہ مانگتی ہے
20:49ذرا سوچیں
20:51کہ اللہ ان لوگوں کو ڈرا رہا ہے
20:52جن کے دل پتھر ہو چکے ہیں
20:54قلب قاسی کا سب سے پہلا نقصان دنیا میں یہ ہوتا ہے
20:57کہ انسان سکون کی دولت سے محروم ہو جاتا ہے
21:00آپ نے دیکھا ہوگا
21:01کہ آج لوگوں کے پاس بڑے بڑے بنگلے ہیں
21:03مہنگی گاڑیاں ہیں
21:04بینک بیلنس ہیں
21:05مگر وہ نیند کی گولیاں کھا کر سوتے ہیں
21:07کیوں؟
21:08کیونکہ ان کا دل سخت ہو چکا ہے
21:10اور سخت دل میں سکون نہیں اترتا
21:12سکون تو اللہ کی یاد میں ہے
21:14اور سخت دل اللہ کی یاد سے خالی ہوتا ہے
21:17وہ جتنا مرضی مال جمع کر لے
21:18اس کی حوص ختم نہیں ہوتی
21:20اس کی بھوک نہیں مٹتی
21:21یہ دنیا کا عذاب ہے
21:23لیکن آخرت کا عذاب اس سے کہیں زیادہ خطرناک ہے
21:26صوفیہ فرماتے ہیں
21:27کہ جب سخت دل والا انسان قبر میں جاتا ہے
21:30تو زمین اسے زور سے بھیجتی ہے
21:32کیونکہ زمین اللہ کی اطاعت گزار ہے
21:34اور وہ اللہ کے نافرمان اور سخت دل بوجھ کو پسند نہیں کرتی
21:37قبر کی تنہائی میں جب وہ چیختا ہے
21:40تو اس کی آواز سننے والا کوئی نہیں ہوتا
21:42اس کے برعکس جس کا دل نرم ہوتا ہے
21:44جسے رقت قلب کہتے ہیں
21:46اس کی شان ہی الگ ہے
21:47میرے اور آپ کے آقا
21:49حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
21:52کہ اس شخص پر جہنم کی آگ حرام ہے
21:54جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر بھی
21:56اللہ کا خوف ہو
21:57اور جس کی آنکھ سے مکھی کے سر جتنا آنسو نکل کر
22:00اس کے چہرے پر بہ جائے
22:01سبحان اللہ
22:03ذرا سودا دیکھیں کتنا سستا ہے
22:05ایک چھوٹا سا آنسو
22:06اور بدلے میں جہنم سے آزادی
22:08یہ ہے نرم دل کی قیمت
22:10رقت قلب
22:11یعنی دل کا نرم ہونا
22:12اللہ کی بہت بڑی نعمت ہے
22:14یہ ان لوگوں کو ملتی ہے
22:15جن سے اللہ خوش ہوتا ہے
22:16جب دل نرم ہوتا ہے
22:18تو دعا قبول ہوتی ہے
22:19حدیث پاک میں آتا ہے
22:20کہ جب تمہارا جسم کامپنے لگے
22:22اور دل بھر آئے
22:23تو فوراں دعا مانگا کرو
22:24کیونکہ وہ رحمت کے نزول کا وقت ہوتا ہے
22:26آج ہم رو رو کر مانگتے ہیں
22:28مگر اثر نہیں ہوتا
22:30کیونکہ دل سخت ہے
22:31مگر نرم دل والے کی تو خاموشی بھی سن لی جاتی ہے
22:34تاریخ گواہ ہے
22:35کہ ایک بدکار عورت نے
22:36پیاسے کتے کو بانی پلایا
22:38تو اس کے دل کی اس نرمی کو دیکھ کر
22:40اللہ نے اسے بخش دیا
22:41اور ایک عبادت گزار عورت نے
22:43بلی کو بھوکا پیاسا باندھ کر مار دیا
22:45تو اس کے دل کی سختی نے
22:46اسے جہنم میں پہنچا دیا
22:47تو میرے دوستوں
22:48فیصلہ ہمارے ہاتھ میں ہے
22:50ہم نے پتھر دل لے کر جانا ہے
22:52یا موم جیسا دل لے کر جانا ہے
22:54اگر آج ہم نے اپنے دل کی زمین کو نرم نہ کیا
22:57تو کل قیامت کے دن
22:58یہ حسرتوں کا باعث بنے گی
22:59اس سیریز کے اختتام پر
23:01میں آپ کو ایک ایسا راز بتاتا ہوں
23:03جو آپ کے دل کو کبھی سخت نہیں ہونے دے گا
23:13اے اللہ میرا دل سخت ہو گیا ہے
23:15تو اسے نرم کر دے
23:17جب بندہ اپنے رب کو پکارتا ہے
23:19تو رب اس کے دل پر سکینت نازل کرتا ہے
23:21آئیے آج ہم اس موضوع کو
23:23ایک بہت ہی آجزانہ دعا پر ختم کرتے ہیں
23:25یا اللہ یا رحمان یا رحیم
23:27ہم تیرے آجز بندے ہیں
23:29ہمارے دل گناہوں سے سیاہ اور پتھروں سے
23:31زیادہ سخت ہو چکے ہیں
23:32مولا ہمیں رونا نہیں آتا
23:34ہماری آنکھیں سوک چکی ہیں
23:36یا اللہ اپنی رحمت کی بارش برسا کر
23:39ہمارے دلوں کی زمین کو نرم فرما دے
23:41یا اللہ ہمیں وہ آنسو عطا فرما
23:43جو جہنم کی آگ کو بجھا دیں
23:45ہمیں وہ دل عطا فرما
23:46جو تیرے نام پر تھڑکتا ہو
23:48یا اللہ ہمیں قلب قاسی کے عذاب سے بچا لے
23:51اور قلب منیب کی لذت عطا فرما
23:53اے دلوں کو پھیرنے والے
23:55ہمارے دلوں کو اپنی اطاعت اور محبت کی طرف پھیر دے
23:58یا اللہ ہماری اس ٹوٹی پھوٹی کوشش کو قبول فرما
24:01اور جو لوگ یہ سن رہے ہیں
24:03ان سب کے دلوں کو مدینہ پاک کے فیض سے منور فرما
24:06آمین یا رب العالمین

Recommended