Skip to playerSkip to main content
  • 13 hours ago
Kashful Mahjoob Part 30

Category

📚
Learning
Transcript
00:00اسلامی لائبریری انلائٹننگ اپاوٹ ریلیجن
00:09غزینی میں ایک مدعی علم امامت سے ملاقات ہوئی
00:13اس نے کہا کہ گدڑی پہننا بدد ہے
00:19میں نے جواب دیا
00:21ہشیشی اور دبیقی لباس جو کہ خالص ریشم کا ہوتا ہے
00:25جسے شریعت نے حرام قرار دیا ہے
00:27اس کو پہننا اور ظالموں کی منت و سماجت
00:31اور چاپلوسی کرنا
00:34تاکہ اموال حرام مطلق مل سکے
00:36کیا یہ جائز ہے
00:39کیا شریعت نے اسے حرام نہیں کیا ہے
00:41اسے بدد کیوں نہیں کہتے
00:43بھلا وہ لباس جو حلال ہو
00:46اور حلال مال سے بنا ہو
00:48وہ کیسے حرام ہو سکتا ہے
00:49اگر تم پر نفس کی راؤنت اور طبیعت کی زلالت
00:53مسلط نہ ہوتی
00:54تو تم اس سے زیادہ پختہ بات کرتے
00:57کیونکہ ریشمی لباس عورتوں کے لیے حلال ہے
01:00اور مردوں پر حرام
01:01اور جو دیوانے اور پاگل ہیں
01:03جن میں عقل و شعور نہیں
01:04ان کے لیے وہ مباہ ہیں
01:07اگر ان دونوں باتوں کے قائل ہو کر
01:09خود کو معذور گردانتے ہو
01:10تو افسوس کا مقام ہے
01:14سیدنا امام آزم ابو حنیفہ رحمت اللہ علیہ فرماتے ہیں
01:17کہ جب حضرت نوفل بن حبان رضی اللہ تعالی عنہ کا انتقال ہوا
01:22تو میں نے خواب میں دیکھا
01:24کہ قیامت برپا ہے
01:25اور تمام لوگ حسابگاہ میں کھڑے ہیں
01:28میں نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا
01:32کہ آپ حوض کوسر کے کنارے کھڑے ہیں
01:34اور آپ کے دائیں بائیں بہت سے بزرگ موجود ہیں
01:37میں نے دیکھا
01:39کہ ایک بزرگ جن کا چہرہ نورانی اور بال سفید ہیں
01:43حضور علیہ السلام کے رخصار مبارک پر
01:46اپنا رخصار رکھے ہوئے ہیں
01:48اور ان کے برابر حضرت نوفل موجود ہیں
01:50جب حضرت نوفل نے مجھے دیکھا
01:53تو وہ میری طرف تشریف لائے اور سلام کیا
01:56میں نے ان سے کہا
01:57مجھے پانی عنایت فرمائے
01:59انہوں نے فرمایا
02:00میں حضور علیہ السلام سے اجازت لے لوں
02:02پھر حضور نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم نے
02:06انگوشت مبارک سے اجازت مرحمت فرمائی
02:08اور انہوں نے مجھے پانی دیا
02:10اس میں سے کچھ پانی تو میں نے پیا
02:12اور کچھ اپنے رفقہ کو پلایا
02:14لیکن اس پیالہ کا پانی ویسا کیا ویسا ہی رہا
02:17یعنی کم نہیں ہوا
02:19پھر میں نے حضرت نوفل سے پوچھا
02:21حضور کی دائیں جانب کون بزرگ ہیں
02:23فرمایا
02:24یہ حضرت ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام ہے
02:27اور حضور کی بائیں جانب
02:28سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہوں ہیں
02:32اس طرح میں معلوم کرتا رہا
02:34یہاں تک کہ سترہ بزرگوں کی بابت دریافت کیا
02:37جب میری آنکھ کھلی
02:39تو ہاتھ کی انگلیاں سترہ عدد پر پہنچ چکی تھی
02:45حضرت یحییٰ بن معاذ رازی
02:47رحمت اللہ علیہ فرماتے ہیں
02:48کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو خواب میں دیکھا
02:52تو میں نے ارز کیا
02:54یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
02:56اللہ کے رسول
02:58آپ کو قیامت کے دن کہاں تلاش کروں
03:01نبی کریم علیہ السلام نے فرمایا
03:03ابو حنیفہ کے علم میں
03:05یا ان کے جھنڈے کے پاس
03:08حضرت امام عاظم رضی اللہ تعالی عنہ کا
03:10تقوی آپ کا وراء اور آپ کے فضائل و مناقب
03:13اس کسرت سے منقول اور مشہور ہیں
03:16کہ ان سب کی بیان کی یہ کتاب متحمل نہیں ہو سکتی
03:19میں
03:21علی بن عثمان حجویری کہتا ہوں
03:23کہ میں ملک شام میں
03:26مسجد نبوی شریف کے موزن
03:28حضرت بلال حبشی
03:29رضی اللہ تعالی عنہ کے
03:31روزہ مبارک کے سرحانے سویا ہوا تھا
03:35خواب میں دیکھا
03:36کہ میں مکہ مکرمہ میں ہوں
03:39اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
03:42ایک بزرگ کو آغوش میں بچے کی طرح لیے ہوئے
03:45باب شہبہ سے داخل ہو رہے ہیں
03:48میں نے فرت محبت میں دوڑ کر
03:50حضور سرور کائنات صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
03:53کے قدم مبارک کو بوسا دیا
03:55میں اس حیرت و تعجب میں تھا
03:58کہ یہ بزرگ کون ہیں
04:00حضور اکدس صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو
04:03اپنی موجزانہ شان سے
04:05میری باطنی حالت کا اندازہ ہوا
04:07تو حضور نے فرمایا
04:08یہ تمہارے امام ہیں
04:10جو تمہارے ہی ولایت کے ہیں
04:12یعنی ابو حنیفہ
04:14اس خواب سے یہ بات منکشف ہوئی
04:16کہ آپ کا اشتہاد
04:18حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی
04:21مطابعت میں بے خطا ہے
04:24اس لیے کہ وہ حضور کے پیچھے خود نہیں جا رہے تھے
04:27بلکہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
04:30خود انہیں اٹھائے لیے چلے جا رہے تھے
04:33کیونکہ وہ باقی و صفت
04:35یعنی تکلف و کوشش سے چلنے والے نہیں تھے
04:38بلکہ فانی و صفت
04:39اور شرعی احکام میں باقی و قائم تھے
04:42جس کی حالت باقی و صفت ہوتی ہے
04:45وہ خطاکار ہوتا ہے
04:47یا راہیاب
04:50نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صفت بقا کے ساتھ قائم ہوئے
04:54چونکہ حضور سے خطا کے صدور کا امکان ہی نہیں
04:57اس لیے جو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ قائم ہو
05:02اس سے خطا کا امکان نہیں
05:04یہ ایک لطیف اشارہ ہے
05:06حضرت دعوت تائی رحمت اللہ علیہ جب حصول علم سے فارغ ہو گئے
05:10اور ان کا شہرہ آفاق میں پھیل گیا
05:12اور وہ یگانہ روزگار عالم تسلیم کر لئے گئے
05:16تب وہ حضرت امام آزم رحمت اللہ علیہ کے خدمت میں
05:20اقتصاب فیض کے لئے حاضر ہوئے
05:22اور ارز کیا
05:23کہ اب کیا کروں
05:24امام آزم نے فرمایا
05:27یعنی اب تمہیں اپنے علم پر عمل کرنا چاہیے
05:31کیونکہ بلا عمل کے علم ایسا ہے
05:33جیسے بلا روح کے جسم ہوتا ہے
05:36عالم جب تک باعمل نہیں ہوتا
05:38اسے صفائے قلب اور اخلاص حاصل نہیں ہوتا
05:42جو شخص محض علم پر ہی اقتفاہ کر لے
05:45وہ عالم نہیں ہیں
05:46عالم کے لئے لازم ہے
05:48کہ وہ محض علم پر کنات نہ کرے
05:50کیونکہ علم کا تقاضہ بھی یہی ہے
05:52کہ باعمل بنا جائے
05:54جس طرح کہ این ہدایت
05:56مجاہدے کی مقتزی ہے
05:58اور جس طرح مشاہدہ
05:59بغیر مجاہدے کے حاصل نہیں ہوتا
06:02اس طرح علم بغیر عمل کے سود بند نہیں ہوتا
06:05کیونکہ علم
06:06عمل کی مراث ہے
06:07علم میں نور اور وسط
06:09اور اس کی منفیت
06:11عمل ہی کی برکت کا سمرہ ہوتا ہے
06:13کسی صورت سے بھی علم
06:15عمل سے جدا نہیں کیا جا سکتا
06:17جیسے کہ آفتاب کا نور
06:19کہ وہ این آفتاب سے ہے
06:21اس سے جدا نہیں ہو سکتا
06:23یہی حال علم و عمل کے مابین ہیں
06:25ابتدائے کتاب میں
06:27علم و عمل پر
06:28کچھ بحث پہلے ہی کی جا چکی ہے
06:30و باللہ التوفیق

Recommended