Skip to playerSkip to main content
  • 2 days ago
Qalb Kia Hai - Qalb Kaise Jari hota hai - Qalb ki aqsaam - Qalb e Saleem - Ziker E Mubeen

Category

📚
Learning
Transcript
00:00نحمدہ و نصلی على رسولِ حل کریم
00:02میرے انتہائی واجب الاحترام دوستوں، بزرگوں اور نوجوان ساتھیوں
00:07السلام علیکم ورحمت اللہ وبرکاتہو
00:11آج کا ہمارا موضوع انسانی وجود کے اس سب سے بڑے راز کے بارے میں ہے
00:16جو بظاہر تو ایک گوشت کا چھوٹا سا ٹکڑا ہے
00:19مگر اس کی وسط کا عالم یہ ہے
00:21کہ اگر یہ کھل جائے تو زمین و آسمان کی وسطیں اس میں سما جاتی ہیں
00:25آج ہم بات کرنے والے ہیں قلب یعنی انسانی دل کے بارے میں
00:30یہ وہ موضوع ہے جسے سمجھے بغیر کوئی انسان نہ تو خود کو پہچان سکتا ہے
00:35اور نہ ہی اپنے رب کو پہچان سکتا ہے
00:38میرے دوستو ذرا غور کیجئے
00:40جب آپ بیمار ہوتے ہیں اور ہسپتال جاتے ہیں
00:43تو ڈاکٹر سٹیتھوسکوپ لگا کر آپ کا سینہ چیک کرتا ہے
00:47وہ ای سی جی مشین کے ذریعے آپ کی دھڑکن چیک کرتا ہے
00:50اور پھر بڑی سنجیدگی سے کہتا ہے
00:53کہ جناب آپ کا ہارٹ بہت کمزور ہو چکا ہے
00:55یا آپ کی شریانے بند ہیں
00:57اور آپ کو دل کا دورہ پڑ سکتا ہے
00:59سوال یہ ہے کہ ڈاکٹر کس دل کی بات کر رہا ہے
01:03وہ اس گوشت کے لوتھڑے کی بات کرتا ہے
01:05جو آپ کی پسلیوں کے بائے جانب دھک دھک کر رہا ہے
01:08اور آپ کے پورے جسم میں خون پمپ کر رہا ہے
01:11لیکن یاد رکھئے
01:13یہ گوشت والا دل تو جانوروں کے پاس بھی ہے
01:15اگر آپ ایک بکرے کو زبھا کریں
01:17تو اس کے سینے سے بھی وہی دل نکلے گا
01:20اور اگر آپ ایک کافر
01:21یا ایک ظالم انسان کا سینہ چیریں
01:24تو اس کے اندر بھی وہی دل دھڑک رہا ہوتا ہے
01:26لیکن قرآن مجید جس قلب کی بات کرتا ہے
01:29جس پر ایمان اترتا ہے
01:31اور جس پر قرآن نازل ہوتا ہے
01:33وہ یہ گوشت کا ٹکڑا ہرگز نہیں ہے
01:35بلکہ وہ لطیفہ ربانی ہے
01:38یہ ایک ایسا روحانی آئینہ ہے
01:40جو اس گوشت کے دل کے اندر پوشیدہ ہے
01:42بلکل ویسے ہی
01:44جیسے پھول کے اندر خوشبو چھپی ہوتی ہے
01:46مگر نظر نہیں آتی
01:48یا جیسے تار کے اندر بجلی چھپی ہوتی ہے
01:50مگر دکھائی نہیں دیتی
01:52اس کو ایک سادہ سی مثال سے سمجھیں
01:54آپ کے کمرے میں ایک بجلی کا بلب لگا ہوا ہے
01:57اگر وہ بلب ٹوٹ جائے
01:59تو آپ بازار سے نیا بلب لاکر لگا لیتے ہیں
02:01یہ بلب ہمارے جسمانی دل کی مثال ہے
02:04لیکن اس بلب کے اندر جو روشنی ہے
02:07جو کرنٹ پیچھے سے پاور ہاؤس سے آ رہا ہے
02:09وہ نظر نہیں آتا
02:10مگر اصل کام اسی کرنٹ کا ہے
02:13اگر پیچھے سے کرنٹ نہ ہو
02:14تو بلب کانچ کا ایک بیکار ٹکڑا ہے
02:17بلکل اسی طرح
02:18اگر انسان کے سینے میں روحانی دل
02:21یعنی قلب زندہ نہ ہو
02:22تو یہ گوشت کا دل صرف ایک پمپنگ مشین ہے
02:25اور کچھ نہیں
02:26سوفیہ اکرام اور اولیاء اللہ
02:29اسی باطنی دل کو زندہ کرنے کی محنت کرتے ہیں
02:32اب سوال یہ ہے
02:33کہ یہ لطیفہ ربانی
02:35یا روحانی دل آخر ہے کیا
02:37اور یہ اتنا اہم کیوں ہے
02:38حضرت امام غزالی رحمت اللہ علیہ
02:41اپنی کتاب کیمیا سعادت میں فرماتے ہیں
02:44کہ انسان کے اندر ایک ایسی چیز رکھی گئی ہے
02:47جو اسے فرشتوں اور جانوروں سے ممتاز کرتی ہے
02:50اور وہی چیز
02:51اللہ کی معرفت کی جگہ ہے
02:53دیکھئے اللہ نے ہمیں آکھ دی ہے
02:55جس کا کام رنگ دیکھنا ہے
02:57اللہ نے کان دیئے ہیں
02:59جن کا کام آواز سننا ہے
03:00اللہ نے زبان دی ہے
03:02جس کا کام زائقہ چکھنا ہے
03:04لیکن خدا کو پہچاننا کس کا کام ہے
03:06یہ کام نہ ہماری آنکھ کر سکتی ہے
03:09نہ ہمارے کان کر سکتے ہیں
03:11اور نہ ہی ہمارا دماغ کر سکتا ہے
03:13یہ کام صرف قلب
03:14یعنی ہمارا روحانی دل کرتا ہے
03:17سائنس اور دماغ
03:18خدا کے ہونے کی دلیل دیتے ہیں
03:20منطق دیتے ہیں
03:21مگر دل خدا کی موجودگی کو محسوس کرتا ہے
03:24قرآن مجید میں
03:26اللہ تعالیٰ نے
03:27کافروں کے بارے میں فرمایا
03:28لَهُمْ قُلُوبُ اللَّا يَفْقَهُونَ بِحَا
03:31یعنی ان کے پاس دل تو ہیں
03:33مگر وہ ان سے سمجھتے نہیں
03:35اب ذرا سوچئے
03:37کیا کافروں کے پاس گوشت والا دل نہیں تھا
03:39بلکل تھا
03:40وہ زندہ تھے
03:41چل پھر رہے تھے
03:42کھا پی رہے تھے
03:44تو پھر اللہ نے کیوں کہا
03:45کہ وہ سمجھتے نہیں
03:46اس سے معلوم ہوا
03:47کہ ان کا جسمانی دل
03:49یعنی پمپنگ سٹیشن تو چل رہا تھا
03:51لیکن ان کا لطیفہ ربانی
03:53یعنی روحانی دل اندھا ہو چکا تھا
03:56ان کا اندرونی ریسیور خراب ہو چکا تھا
03:59جس نے ہدایت کے سگنل وصول کرنے تھے
04:01میرے بھائیو
04:02اس روحانی دل کی شان کا اندازہ
04:04آپ اس بات سے لگائیں
04:06جو حدیث قدسی میں بیان ہوئی
04:08اللہ رب العزت
04:09جو خالق قائنات ہے
04:11ارشاد فرماتا ہے
04:12مَا وَسِعَنِي أَرْدِي وَلَا سَمَائِي
04:15وَلَا كِنْ وَسِعَنِي قَلْبُ عَبْدِيَ الْمُؤْمِنِ
04:18یعنی مجھے نہ میری زمین اپنے اندر سما سکی
04:21اور نہ میرا آسمان اپنے اندر سما سکا
04:24لیکن میں اپنے مومن بندے کے چھوٹے سے دل میں سما جاتا ہوں
04:28یہاں اقل دنگ رہ جاتی ہے
04:30کہ وہ رب جو اتنا بڑا ہے
04:32کہ ساتوں آسمان اس کے سامنے رائی کے دانے برابر نہیں
04:35وہ ایک مٹھی بھر دل میں کیسے سما گیا
04:38کیا مازاللہ اللہ کا کوئی جسم ہے جو دل میں گھس جاتا ہے
04:42نہیں ہرگز نہیں
04:43سوفیہ اکرام اس کی بڑی پیاری تشریح کرتے ہیں
04:47وہ فرماتے ہیں سمانے کا مطلب یہ نہیں کہ وہ جسم بن کر آ جاتا ہے
04:51بلکہ سمانے کا مطلب ہے کہ اس کی ذات کا عرفان
04:54اور اس کی تجلیات کا عکس دل میں آ جاتا ہے
04:57اسے ایسے سمجھیں کہ سورج کتنا بڑا ہے
05:00ہماری زمین سے لاکھوں گناہ بڑا ہے
05:02لیکن اگر آپ اپنے ہاتھ میں ایک چھوٹا سا آئینہ پکڑ لیں
05:05تو وہ اتنا بڑا سورج اس چھوٹے سے آئینے میں سما جاتا ہے یا نہیں
05:10بلکل سما جاتا ہے
05:11آپ آئینے میں پورا سورج دیکھ سکتے ہیں
05:14سورج چھوٹا نہیں ہوا اور آئینہ بڑا نہیں ہوا
05:17لیکن آئینے کی صفائی نے سورج کو اپنے دامن میں قید کر لیا
05:21بس یہی مثال ایک مومن کے دل کی ہے
05:23جب بندہ اپنے دل کو گناہوں سے پاک کر لیتا ہے
05:27اسے دنیا کی میل کچیل سے دھو کر ساف کر لیتا ہے
05:30تو پھر اللہ کی ذات کا نور اس دل میں ایسے چمکتا ہے
05:33کہ بندہ جدھر دیکھتا ہے
05:35اسے رب نظر آتا ہے
05:37اسی لیے تو سلطان العارفین
05:39حضرت سلطان باہو رحمت اللہ علیہ نے فرمایا تھا
05:42کہ دل دریا سمندروں ڈونگے
05:44کون دلان دیا جانے ہو
05:46یعنی دل کا دریا سمندروں سے بھی زیادہ گہرا ہے
05:50اس کے راز کوئی نہیں جانتا
05:51اس دل کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگائیں
05:54کہ اللہ کے نزدیک مومن کے دل کی حرمت
05:57خانہ کعبہ سے بھی زیادہ ہے
05:59کیونکہ کعبہ اللہ کا گھر ہے
06:01مگر اسے حضرت ابراہیم علیہ السلام نے بنایا ہے
06:04یعنی وہ خلیل اللہ کا بنایا ہوا ہے
06:06لیکن انسان کا دل وہ گھر ہے
06:09جسے خود رب جلیل نے اپنے ہاتھوں سے بنایا ہے
06:12اسی لیے حدیث پاک میں آتا ہے
06:14کہ مومن کی حرمت کعبے سے زیادہ ہے
06:17اگر کوئی کعبے کو گراتا ہے
06:19تو وہ ایک امارت گراتا ہے
06:20لیکن اگر کوئی کسی مومن کا دل دکھاتا ہے
06:23تو وہ اس گھر کو توڑتا ہے
06:25جہاں خدا کی یاد بستی ہے
06:26میرے دوستو اب ہم اس حقیقت کی طرف بڑھتے ہیں
06:30کہ یہ دل ہمارے جسم میں کام کیسے کرتا ہے
06:32یاد رکھئے
06:33ہمارا یہ جسم ایک مملکت
06:35یعنی ایک چھوٹے سے ملک کی طرح ہے
06:37اور دل اس ملک کا بادشاہ ہے
06:40اس بادشاہ کی مدد کے لیے
06:42اللہ تعالی نے ایک فوج مقرر کر رکھی ہے
06:44ہماری آنکھیں
06:45ہمارے کان
06:46ہماری زبان
06:47ہمارے ہاتھ اور پاؤں
06:49یہ سب اس دل کی فوج اور اس کے سپاہی ہیں
06:52اگر بادشاہ حکم دے
06:53تو آنکھ دیکھتی ہے
06:55اگر بادشاہ حکم دے
06:56تو کان سنتے ہیں
06:57اور اگر بادشاہ حکم دے
06:59تو ہاتھ حرکت کرتے ہیں
07:00اسی لیے میرے اور آپ کے آقا
07:02حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم
07:05نے فرمایا
07:05کہ خبردار
07:07جسم میں گوشت کا ایک ٹکڑا ہے
07:09جب وہ درست ہو جائے
07:10تو سارا جسم درست ہو جاتا ہے
07:12اور جب وہ بگڑ جائے
07:13تو سارا جسم بگڑ جاتا ہے
07:15سن لو کہ وہ دل ہے
07:16اس حدیث مبارکہ کا مطلب یہ ہے
07:19کہ اگر بادشاہ پرہیزگار ہوگا
07:21تو اس کی آنکھ کبھی غلط چیز نہیں دیکھے گی
07:24اس کے کان کبھی غیبت نہیں سنیں گے
07:26اور اس کے ہاتھ کبھی کسی پر ظلم نہیں کریں گے
07:29لیکن اگر بادشاہ ظالم اور گندہ ہو جائے
07:31تو اس کی ریایہ یعنی اس کے آزاب ہی گناہوں میں ڈوب جاتے ہیں
07:35اس لیے ہمارے صوفیاء اکرام
07:37پہلے اس بادشاہ کو
07:39یعنی دل کو مسلمان کرنے کی کوشش کرتے ہیں
07:42کیونکہ جب بادشاہ کلمہ پڑھ لیتا ہے
07:44تو پوری فوج خود بخود مسلمان ہو جاتی ہے
07:47جو لوگ یہ کہتے ہیں
07:48کہ میرا دل تو صاف ہے
07:50بس میں پردہ نہیں کرتا
07:51یا میں نماز نہیں پڑتا
07:53وہ جھوٹ کہتے ہیں
07:54کیونکہ اگر دل صاف ہوتا
07:56تو جسم بھی پاک ہوتا
08:01جو اندر ہوتا ہے
08:03وہی باہر چھلکتا ہے
08:04اب یہاں ایک بہت اہم اور ڈرا دینے والا سوال پیدا ہوتا ہے
08:08کہ یہ دل کالا کیسے ہوتا ہے
08:10یہ بادشاہ کرپٹ کیسے ہوتا ہے
08:12اس کے بارے میں ہمارے پیارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے
08:16بہت واضح ارشاد فرمایا
08:18ترمیزی شریف کی حدیث ہے
08:20کہ جب بندہ ایک گناہ کرتا ہے
08:22تو اس کے دل پر ایک کالا نکتہ
08:25یعنی ایک کالا ڈاٹ لگا دیا جاتا ہے
08:27اب ذرا تصور کریں
08:28کہ ایک صاف شفاف سفید کپڑا ہے
08:31اور اس پر سیاہی کا ایک قطرہ گر گیا
08:33اگر وہ بندہ فوراں توبہ کر لے
08:35اور اللہ سے معافی مانگ لے
08:37تو وہ نکتہ مٹا دیا جاتا ہے
08:39اور دل دوبارہ شیشے کی طرح صاف ہو جاتا ہے
08:42لیکن اگر وہ توبہ نہ کرے
08:44اور دوسرا گناہ کرے
08:45تو ایک اور کالا نکتہ لگا دیا جاتا ہے
08:47یہاں تک کہ وہ گناہ کرتا رہتا ہے
08:49اور وہ سیاہی پھیلتے پھیلتے
08:51اس کے پورے دل کو گھیر لیتی ہے
08:53پھر اس کا دل کوئلے کی طرح کالا ہو جاتا ہے
08:56قرآن مجید میں
08:58اللہ تعالیٰ نے اس حالت کو
08:59رین کہا ہے
09:00یعنی دلوں پر زنگ لگ جانا
09:02میرے دوستو یہ وہ خطرناک مقام ہے
09:05جہاں انسان کو پھر نیکی کی بات سمجھ نہیں آتی
09:08اسے مسجد سے آزان کی آواز تو آتی ہے
09:11مگر اس کے قدم مسجد کی طرف نہیں اٹھتے
09:13کیونکہ دل کا ریسیور جل چکا ہوتا ہے
09:16اسے ماں باپ کی نصیحت بری لگتی ہے
09:18اسے قرآن کی تلاوت سن کر سکون نہیں ملتا
09:21بلکہ گھبراہٹ ہوتی ہے
09:22یہ اس بات کی علامت ہے
09:24کہ دل مر چکا ہے
09:25کیا کبھی آپ نے سوچا ہے
09:27کہ آج ہم جنازے دیکھتے ہیں
09:29ہم قبرستان جاتے ہیں
09:30ہم جوان امواد دیکھتے ہیں
09:32مگر ہماری آنکھ سے آنسو کا ایک قطرہ نہیں نکلتا
09:36ہم مردے کو دفنا کر
09:37وہیں کھڑے ہو کر دنیا کی باتیں کر رہے ہوتے ہیں
09:40ہس رہے ہوتے ہیں
09:41ایسا کیوں ہے
09:42ایسا اس لیے ہے
09:43کہ ہمارے دل پتھر سے زیادہ سخت ہو چکے ہیں
09:46اللہ تعالیٰ قرآن میں فرماتا ہے
09:48کہ پھر تمہارے دل پتھروں کی طرح سخت ہو گئے
09:51بلکہ سختی میں ان سے بھی بڑھ گئے
09:53کیونکہ پتھروں میں سے تو کچھ ایسے بھی ہیں
09:56جن سے نہریں پھوٹ پڑتی ہیں
09:58اور کچھ ایسے ہیں جو اللہ کے خوف سے گر پڑتے ہیں
10:01لیکن انسان کا سخت دل
10:03اللہ کے خوف سے نہیں کابتا
10:05یہ بے حسی
10:06یہ سنگ دلی
10:07یہ سب دل کی بیماری کی علامات ہیں
10:09اور اگر اس کا علاج نہ کیا جائے
10:11تو انسان اسی حالت میں مر جاتا ہے
10:14اور جس کا دل دنیا میں اندھا رہا
10:16وہ آخرت میں بھی اندھا اٹھایا جائے گا
10:18اب ہمیں یہ پہچاننا ہوگا
10:20کہ ہمارا دل کس حالت میں ہے
10:22قرآن مجید نے انسانوں کے دلوں کی تین بڑی قسمیں بیان کی ہیں
10:26سب سے پہلی قسم ہے قلب مریض
10:29یعنی بیمار دل
10:30دوسری قسم ہے قلب قاسی
10:32یعنی مردہ اور سخت دل
10:34اور تیسری قسم ہے قلب سلیم
10:37یعنی سلامت رہنے والا دل
10:39قلب مریض وہ ہے جس میں نفاق ہو
10:41جسے دنیا کی محبت ہو
10:43جسے گناہ کرنے میں مزہ آئے
10:45اور نیکی کرنے میں تکلیف ہو
10:47قلب قاسی وہ ہے جس پر کسی نصیحت کا اثر نہ ہو
10:51جیسے ابو جہل کا دل تھا
10:52بھائیو
10:54بلکل قلب سلیم وہ ہے
10:56جو اللہ کو مطلوب ہے
10:58قیامت کے دن اللہ تعالیٰ فرمائے گا
11:01کہ آج وہ دن ہے
11:03جب نہ کسی کا مال کام آئے گا
11:05اور نہ اولاد کام آئے گی
11:08مگر جو اللہ کے پاس
11:09قلب سلیم لے کر حاضر ہوا
11:11یہ وہ دل ہے
11:13جو شرک سے پاک ہو
11:15جو کینے اور نفرت سے پاک ہو
11:17اور جو صرف اللہ اور اس کے رسول
11:19صلی اللہ علیہ وسلم کی
11:21محبت سے بھرا ہو
11:23تو میرے بھائیو آج ہمیں
11:25اپنا محاسبہ کرنا ہے
11:27کہ ہم کس دل کے ساتھ
11:29اللہ کے پاس جانے والے ہیں
11:30لیکن دوستو
11:32جب دل بیمار ہو چکا
11:34اور اس پر گناہوں کا زنگ لگ گیا
11:36تو اب اس کا علاج کیا ہے
11:38وہ کون سی بھٹی ہے
11:40جس میں لوہے کی طرح تپ کر
11:42دل کا زنگ صاف ہوگا
11:44موت کا وہ کون سا خوفناک مراقبہ ہے
11:47جسے سوچ کر
11:49قبر کفن اور تنہائی کا منظر سامنے آتا ہے
11:52اور انسان کی انا ٹوٹ جاتی ہے
11:54اور ہم اپنے ڈسچارج شدہ دل کو
11:57دوبارہ چارج کیسے کریں
11:59کیا واقعی
12:00اصحاب قحف کے کتے کی طرح
12:02اللہ والوں کی صحبت
12:04ہمیں بھی بدل سکتی ہے
12:05آئیے
12:07دل کی صفائی کے ان تین بڑے نسخوں
12:09اور علاج کو دیکھتے ہیں
12:11جی عمر
12:12میرے عزیز دوستو
12:13جب ہم نے یہ جان لیا
12:15کہ ہمارا دل بیمار ہو چکا ہے
12:17اور اس پر گناہوں کا زنگ لگ چکا ہے
12:19تو اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے
12:21کہ اس کا علاج کیا ہے
12:22اور اسے دوبارہ قلب سلیم کیسے بنایا جائے
12:25تاکہ ہم اللہ کے پسندیدہ بندے بن سکیں
12:28اگر ڈاکٹر آپ کو کینسر جیسی بیماری کا بتا دے
12:31مگر اس کا علاج نہ بتائے
12:33تو وہ ڈاکٹر مسیحہ نہیں
12:35بلکہ قاتل ہے
12:36اسی طرح ہمارے صوفیاء کرام
12:38اور اولیاء اللہ
12:39صرف بیماری کی تشخیص نہیں کرتے
12:42بلکہ وہ اس کا مکمل علاج بھی بتاتے ہیں
12:44قرآن و سنت کی روشنی میں
12:46دل کی صفائی کے تین
12:47سب سے بڑے اور موثر طریقے ہیں
12:49جن پر عمل کر کے
12:51ایک بدترین گنہگار بھی
12:53ولی اللہ بن سکتا ہے
12:54دل کو زندہ کرنے کا سب سے پہلا
12:57اور سب سے طاقتور طریقہ
12:58کسرتِ ذکرِ الٰہی ہے
13:00میرے اور آپ کے آقا
13:02حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم
13:05نے ارشاد فرمایا
13:06کہ ہر چیز کے لیے ایک سیقل
13:08یعنی ایک پالش ہوتی ہے
13:10جو اس کی گندگی کو صاف کرتی ہے
13:12اور دلوں کی پالش
13:13اللہ کا ذکر ہے
13:14اب ذرا اس مثال پر غور کریں
13:16کہ جیسے لوہے کو اگر کھلی فضا میں
13:19اور نمی میں چھوڑ دیا جائے
13:20تو اسے زنگ لگ جاتا ہے
13:22اور وہ زنگ اتنا سخت ہوتا ہے
13:24کہ کپڑے سے صاف نہیں ہوتا
13:26اس لوہے کو صاف کرنے کے لیے
13:28اسے آگ کی بھٹی میں ڈالنا پڑتا ہے
13:30جب لوہہ آگ میں تپتا ہے
13:32اور لال انگارہ بن جاتا ہے
13:34تو اس کا زنگ جھڑ جاتا ہے
13:36اور وہ بلکل نیا اور چمکدار ہو جاتا ہے
13:39بلکل اسی طرح انسان کے دل کو
13:41جو گناہوں کا زنگ لگ چکا ہے
13:43اسے اتارنے کے لیے
13:45اسے اللہ کے ذکر کی بھٹی میں ڈالنا پڑتا ہے
13:48صوفیہ اکرام فرماتے ہیں
13:49کہ ذکر سے مراد صرف زبان کی ورزش نہیں ہے
13:52آج کل ہمارا علمیہ یہ ہے
13:54کہ ہمارے ہاتھ میں تسبیح چل رہی ہوتی ہے
13:56زبان پر اللہ اللہ جاری ہوتا ہے
13:59مگر ہماری دکان میں نظر
14:01گاہک کی جیب پر ہوتی ہے
14:02یا ہمارا دھیان موبائل کی سکرین پر ہوتا ہے
14:05یہ ذکر نہیں ہے
14:06یہ تو صرف عادت ہے
14:07اگر ایک توتے کو رٹا دیا جائے
14:10تو وہ بھی سبحان اللہ کہہ دیتا ہے
14:12مگر اس کے دل میں نور نہیں ہوتا
14:14حقیقی ذکر وہ ہے
14:16جو زبان سے اتر کر دل میں چلا جائے
14:18اس کا طریقہ یہ ہے
14:19کہ بندہ تنہائی میں بیٹھ جائے
14:21اپنی آنکھیں بند کر لے
14:23دنیا کے خیالات کو جھٹک دے
14:25اور یہ تصور کرے
14:26کہ میرا رب مجھے دیکھ رہا ہے
14:28پھر وہ اپنے دل پر توجہ مرکوز کرے
14:30اور پوری قوت اور محبت کے ساتھ
14:33کلمہ تیبہ
14:34لا الہ الا اللہ کی ضرب لگائے
14:36جب وہ لا الہ کہے
14:38تو یہ سوچے کہ
14:39میں نے دل سے تمام جھوٹے خداوں کو نکال دیا
14:42چاہے وہ دولت کا خدا ہو
14:44شہرت کا خدا ہو
14:45یا خواہشات کا خدا ہو
14:47اور جب وہ الا اللہ کہے
14:49تو یہ تصور کرے
14:50کہ اب اس خالی دل میں
14:51صرف اور صرف
14:52اللہ کا نور سما گیا ہے
14:54جب بندہ بار بار
14:56اس دھیان کے ساتھ ذکر کرتا ہے
14:58تو دل پر جمی ہوئی
14:59سیاہی کی تہیں ٹوٹنے لگتی ہیں
15:01اور دل کے اندر کا آئینہ
15:03چمکنے لگتا ہے
15:04پھر ایک وقت وہ آتا ہے
15:05کہ زبان خاموش بھی ہو
15:07تو دل اللہ اللہ کر رہا ہوتا ہے
15:09اسی کو ذکر قلبی کہتے ہیں
15:11اور یہی ولایت کی پہلی سیڑھی ہے
15:14دل کی صفائی کا دوسرا بڑا نسخہ
15:16جو انسان کی کائی پلٹ دیتا ہے
15:18وہ ہے موت کا مراقبہ
15:20اور کسرت استغفار
15:21حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
15:24کہ دلوں کو زنگ لگ جاتا ہے
15:26صحابہ اکرام رضی اللہ عنہم نے پوچھا
15:29یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
15:31اس کی صفائی کیسے ہوتی ہے
15:33تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
15:36موت کو کسرت سے یاد کرنے سے
15:38اور قرآن کی تلاوت کرنے سے
15:40آج ہم موت سے بھاگتے ہیں
15:42حالانکہ موت تو محبوب سے ملنے کا نام ہے
15:45مراقبہ موت کا طریقہ یہ ہے
15:47کہ آپ روزانہ رات کو سونے سے پہلے
15:49صرف پانچ منٹ نکالیں
15:51اپنے کمرے کی بتیاں بجھا دیں
15:53بستر پر سیدھے لیٹ جائیں
15:55اور اپنی آنکھیں بند کر لیں
15:56اب اپنی تخیل کی پرواز سے
15:58اس منظر کو دیکھیں
16:00جو ہر حال میں پیش آنا ہے
16:02تصور کریں کہ بادشاہوں والا لباس
16:04اتر چکا ہے
16:05اور سفید کفن زیبتن ہے
16:07تصور کریں کہ آپ کی روح نکل رہی ہے
16:10اور آپ کا جسم بے جان پڑا ہے
16:12گھر والے رو رہے ہیں
16:13بچے یتیم ہو چکے ہیں
16:15جائداد تقسیم ہو رہی ہے
16:17مگر آپ کچھ نہیں کر سکتے
16:19اب دیکھیں کہ لوگ آپ کا جنازہ
16:21اٹھا کر قبرستان لے جا رہے ہیں
16:23وہ قبرستان جہاں خاموشی کا راج ہے
16:25اب آپ کو اس تنگ اور تاریخ
16:27گڑھے میں اتارا جا رہا ہے
16:29جسے قبر کہتے ہیں
16:30لوگوں نے مٹی ڈال دی ہے
16:32اور سب واپس جا رہے ہیں
16:33آپ ان کے قدموں کی چاپ سن رہے ہیں
16:35مگر انہیں پکار نہیں سکتے
16:37اب اندھیرے میں آپ اکیلے ہیں
16:39اور آپ کے آمال آپ کے سامنے
16:41شکل بن کر کھڑے ہیں
16:42اگر آمال اچھے ہیں
16:44تو قبر باغ بن گئی ہے
16:46اور اگر برے ہیں
16:47تو سامپ اور بچھو بن گئے ہیں
16:48میرے دوستو جب کوئی پتھر دل انسان
16:51بھی روزانہ موت کا یہ منظر
16:53اپنی آنکھوں کے سامنے لاتا ہے
16:54تو اس کی انہ ٹوٹ جاتی ہے
16:56اس کا تکبر خاک میں مل جاتا ہے
16:58اور اس کی آنکھوں سے
16:59ندامت کے آنسو جاری ہو جاتے ہیں
17:01یاد رکھیے
17:03آنکھ سے نکلنے والا ندامت کا ایک قطرہ
17:05اللہ کی رحمت کے سمندر کو جوش میں لے آتا ہے
17:08اور وہ جہنم کی آگ کو بھی بھیجا دیتا ہے
17:11اور دل کے زنگ کو بھی دھو ڈالتا ہے
17:13اسی لئے صوفیہ کرام رو رو کر
17:16اللہ سے دل کی صفائی مانگتے تھے
17:18دل کو زندہ کرنے کا تیسرا اور سب سے آسان راستہ
17:21صحبتِ صادقین
17:23یعنی اللہ والوں کی سنگت ہے
17:25اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتا ہے
17:27اے ایمان والو
17:33اللہ سے ڈرو اور سچوں کے ساتھ ہو جاؤ
17:36یہاں اللہ نے یہ نہیں کہا کہ سچے بن جاؤ
17:38کیونکہ خود سے سچا بننا مشکل ہے
17:41بلکہ فرمایا کہ سچوں کے ساتھ ہو جاؤ
17:43تو تم خود بخود سچے بن جاؤگے
17:46اس کی مثال ایسے ہے
17:47جیسے اگر آپ کا موبائل فون ڈسچارج ہو جائے
17:50اور بند ہو جائے
17:51تو وہ خود بخود چارج نہیں ہو سکتا
17:53چاہے آپ اسے جتنا مرضی ہلاتے رہیں
17:55یا دباتے رہیں
17:56اسے زندہ کرنے کے لیے
17:58اسے چارجر کے ساتھ جوڑنا پڑتا ہے
18:00جس کے پیچھے بجلی کا پاور ہاؤس ہو
18:03بلکل اسی طرح ہمارا دل بھی
18:05دنیا میں رہ کر ڈسچارج ہو جاتا ہے
18:07مردہ ہو جاتا ہے
18:09اس دل کو دوبارہ چارج کرنے کے لیے
18:11ہمیں کسی ایسے بندے کے ساتھ جڑنا پڑتا ہے
18:14جس کا تعلق ڈائریکٹ
18:15اللہ کے پاور ہاؤس
18:16یعنی مدینہ شریف کے فیض سے جڑا ہو
18:19ایسے بندے کو ہی مرشد کامل
18:21یا ولی اللہ کہتے ہیں
18:22مولانا روم رحمت اللہ علیہ فرماتے ہیں
18:25کہ یک زمانہ صحبت با اولیاء
18:27بہترہ صد سالہ طاعت بے ریا
18:30یعنی اللہ والوں کی صحبت میں
18:32گھڑی بھر بیٹھنا
18:33سو سال کی مقبول نفل عبادت سے بہتر ہے
18:36ایسا کیوں ہے؟
18:38ایسا اس لیے ہے کہ عبادت کرنے سے
18:39انسان میں تکبر آ سکتا ہے
18:41کہ میں بڑا نیک ہوں
18:43مگر اللہ والے کی صحبت میں بیٹھنے سے
18:45آجزی آتی ہے
18:46اور آجزی اللہ کو سب سے زیادہ پسند ہے
18:49آپ نے اصحاب قحف کے کتے کا واقعہ تو سنا ہوگا
18:52وہ تو ایک جانور تھا
18:54ایک نجس جانور
18:55مگر جب وہ چند اللہ والوں کے قدموں میں جا کر بیٹھ گیا
18:59اور ان کی صحبت اختیار کر لی
19:01تو اللہ نے اسے ایسی عزت دی
19:03کہ اس کا ذکر قرآن میں کر دیا
19:04اور اسے جنتی کتہ بنا دیا
19:06ذرا سوچیں کہ اگر اللہ والوں کی صحبت
19:09کتے کو جنت میں لے جا سکتی ہے
19:11تو اگر کوئی انسان
19:12اشرف المخلوقات ہو کر
19:14اللہ والوں کے قدموں میں بیٹھے گا
19:16تو اس کا مقام کیا ہوگا
19:18صحبت کا اثر یہ ہوتا ہے
19:20کہ بنا کچھ کیے
19:21انسان کا دل نیکی کی طرف مائل ہو جاتا ہے
19:24جیسے اتر کی دکان پر بیٹھنے سے
19:26کپڑوں میں خوشبو خود بخود بس جاتی ہے
19:28اسی طرح نیک لوگوں کے پاس بیٹھنے سے
19:31نیکی کی خوشبو دل میں بس جاتی ہے
19:33لیکن آج کل کا سب سے بڑا فتنہ یہ ہے
19:36کہ لوگ جالی پیروں اور شہبدہ بازوں کے ہتھے چڑ جاتے ہیں
19:39جو ان کے ایمان اور مال دونوں کو برباد کر دیتے ہیں
19:43اس لیے سچے رہبر کی پہچان بہت ضروری ہے
19:46سچا مرشد وہ نہیں جو ہوا میں اڑ کر دکھائے
19:49یا پانی پر چل کر دکھائے
19:51یہ کام تو جادوگر بھی کر لیتے ہیں
19:53سچا مرشد وہ ہے جسے دیکھ کر خدا یاد آ جائے
19:56جس کے پاس بیٹھ کر دنیا کی محبت تھنڈی پڑ جائے
19:59اور آخرت کی فکر پیدا ہو
20:01جو شریعت اور سنت کا پابند ہو
20:03اور جس کی ہر عدا سے
20:05عشق مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم چھلکتا ہو
20:08اگر ایسا کوئی شخص مل جائے
20:10تو اس کا دامن تھام لو
20:12کیونکہ وہ تمہیں اللہ تک پہنچا دے گا
20:14اور اگر ایسا زندہ شخص نہ ملے
20:16تو پھر بزرگوں کی کتابیں پڑھو
20:18ان کے واقعات سنو
20:19اور درود شریف کی کسرت کرو
20:21کیونکہ درود شریف وہ واحد وظیفہ ہے
20:24جس کے لیے کسی استاد کی اجازت کی ضرورت نہیں ہے
20:27کیونکہ اس کے استاد خود رب کائنات ہے
20:30میرے دوستو دل کی یہ صفائی ایک دن کا کام نہیں ہے
20:33یہ مسلسل جد جہد ہے
20:35جیسے ہم روزانہ اپنے گھر میں جھاڑو دیتے ہیں
20:38اپنے کپڑے دھوتے ہیں
20:39اسی طرح ہمیں روزانہ رات کو سونے سے پہلے
20:42اپنے دل کا جائزہ لینا چاہیے
20:44کہ آج میں نے کون سا ایسا کام کیا
20:47جس سے میرا دل میلا ہوا
20:48اگر غیبت کی ہے تو توبہ کرو
20:51اگر کسی کا دل دکھایا ہے
20:52تو اس سے معافی مانگو
20:54اگر ہم اس دل کی حفاظت کریں گے
20:56تو یہ دل ایسا آئینہ بن جائے گا
20:58کہ پھر ہمیں جنگلوں اور پہاڑوں میں
21:00خدا کو ڈھونڈنے کی ضرورت نہیں پڑے گی
21:02بلکہ ہم اپنے گریبان میں جھانکیں گے
21:05تو ہمیں وہ شاہ رگ سے بھی زیادہ قریب نظر آئے گا
21:08اب سوال یہ ہے کہ جب دل صاف ہو جاتا ہے
21:10تو پھر بندے کو کیا ملتا ہے
21:12اس قلب سلیم کے انعامات کیا ہیں
21:15اور وہ کون سی نشانیاں ہیں
21:16جن سے پتا چلتا ہے
21:17کہ ہمارا دل زندہ ہو جگا ہے
21:19بھائیو بلکہ ہم اپنے گریبان میں جھانکیں گے
21:22تو ہمیں وہ شاہ رگ سے بھی زیادہ قریب نظر آئے گا
21:26میرے محترم بھائیو اور بہنوں
21:28پچھلی نشستوں میں
21:29ہم نے دل کی بیماری
21:31اور اس کے علاج پر تفصیلی بات کی
21:33عمر سے سن لی
21:34لیکن اب ہم اس آخری اور اہم ترین مرحلے کی طرف بڑھتے ہیں
21:38کہ جب ایک انسان محنت کرتا ہے
21:41ذکر کرتا ہے
21:42اور اپنے دل کو صاف کر لیتا ہے
21:44تو اسے کیسے پتا چلے گا
21:46کہ اس کا دل زندہ ہو چکا ہے
21:48اور اللہ نے اسے قبول کر لیا ہے
21:50صوفیاء اکرام نے
21:52زندہ دل کی تین بڑی نشانیاں بیان کی ہیں
21:54جو ہر سالک کو اپنے اندر تلاش کرنی چاہیے
21:57آئیے جناب عمر سے سنتے ہیں
22:00جی عمر
22:01جی اسمان صاحب شکریہ
22:03تو میرے مہترم بھائیوں اور بہنوں
22:05پچھلی نشستوں میں
22:06ہم نے دل کی بیماری اور اس کے علاج پر تفصیلی بات کی تھی
22:09اب ہم اس آخری اور اہم ترین مرحلے کی طرف بڑھتے ہیں
22:13کہ جب ایک انسان محنت کرتا ہے
22:15ذکر کرتا ہے
22:16اور اپنے دل کو صاف کر لیتا ہے
22:18تو اسے کیسے پتا چلے گا
22:20کہ اس کا دل زندہ ہو چکا ہے
22:21اور اللہ نے اسے قبول کر لیا ہے
22:24صوفیاء اکرام نے
22:25زندہ دل کی تین بڑی نشانیاں بیان کی ہیں
22:28جو ہر سالک کو اپنے اندر تلاش کرنی چاہیے
22:30زندہ دل کی پہلی نشانی یہ ہے
22:33کہ اسے گناہ سے نفرت اور نیکی سے محبت ہو جاتی ہے
22:36یاد رکھئے
22:37گناہ نہ کرنا کمال نہیں ہے
22:39بلکہ گناہ کی خواہش کا ختم ہو جانا کمال ہے
22:42جب دل صاف ہو جاتا ہے
22:44تو اگر غلطی سے کوئی گناہ ہو جائے
22:46تو انسان کو ایسا لگتا ہے
22:48جیسے اس پر پہاڑ گر پڑا ہو
22:49وہ بے چین ہو جاتا ہے
22:51اور جب تک توبہ نہ کر لے
22:52اسے سکون نہیں ملتا
22:54جبکہ مردہ دل والا گناہوں کے
22:56ڈھیر لگا کر بھی ہستا رہتا ہے
22:58زندہ دل کی دوسری نشانی یہ ہے
23:00کہ اسے دنیا کی چیزوں میں نہیں
23:02بلکہ اللہ کی یاد میں سکون ملتا ہے
23:04جب آزان کی آواز آتی ہے
23:06تو اس کا دل مچل جاتا ہے
23:08جیسے بچھڑا ہوا بچہ ماں کی آواز سن کر مچلتا ہے
23:11اسے سجدے میں سر رکھ کر
23:13ایسا سکون ملتا ہے
23:14جو بادشاہوں کو تخت پر بھی نصیب نہیں ہوتا
23:16اگر آپ کا دل نماز میں لگتا ہے
23:19اور قرآن پڑھتے ہوئے آنکھوں میں نمی آ جاتی ہے
23:21تو مبارک ہو
23:22آپ کا دل زندہ ہے
23:24تیسری اور سب سے بڑی نشانی یہ ہے
23:26کہ زندہ دل والے کے اندر
23:28مخلوق خدا کے لیے درد پیدا ہو جاتا ہے
23:30وہ کسی کا دکھ دیکھ کر رو پڑتا ہے
23:33وہ اپنے لیے جینہ چھوڑ دیتا ہے
23:35اور دوسروں کے لیے جینہ شروع کر دیتا ہے
23:37حضرت خواجہ موین الدین چشتی اجمیری رحمت اللہ علیہ فرماتے ہیں
23:41کہ جس کے دل میں سخاوت دریہ جیسی ہو
23:43شفقت دھوب جیسی ہو
23:45اور توازو زمین جیسی ہو
23:47وہ اللہ کا دوست ہے
23:48اب ذرا سوچیں کہ جس کو یہ قلب سلیم مل جائے
23:52اسے انام کیا ملتا ہے
23:53اللہ تعالیٰ فرماتا ہے
23:55کہ خبردار
23:56اللہ کے دوستوں پر نہ کوئی خوف ہے
23:58اور نہ وہ غمغین ہوں گے
23:59سب سے بڑا انام یہ ہے
24:02کہ اللہ اسے اپنی رضا عطا کر دیتا ہے
24:04دنیا میں لوگ بادشاہوں سے ملنے کے لیے ترستے ہیں
24:07مگر جس کا دل صاف ہو جائے
24:08خود بادشاہوں کا بادشاہ
24:10یعنی رب کائنات
24:11اس کا میزبان بن جاتا ہے
24:13حدیثِ قدسی ہے
24:14کہ بندہ نوافل کے ذریعے میرے اتنا قریب ہو جاتا ہے
24:18کہ میں اس کا کان بن جاتا ہوں
24:19جس سے وہ سنتا ہے
24:21میں اس کی آنکھ بن جاتا ہوں
24:22جس سے وہ دیکھتا ہے
24:23اور میں اس کا ہاتھ بن جاتا ہوں
24:25جس سے وہ پکڑتا ہے
24:26یہ مقام فنا فلہ ہے
24:28جہاں بندے کی اپنی مرضی ختم ہو جاتی ہے
24:31اور صرف رب کی مرضی باقی رہتی ہے
24:33میرے دوستوں یہ سفر آسان نہیں ہے
24:36مگر ناممکن بھی نہیں ہے
24:37شیطان ہمیں بار بار ورغلائے گا
24:40کہ تم تو بہت گنہگار ہو
24:41تم کیسے ولی بن سکتے ہو
24:43مگر یاد رکھنا
24:44مایوسی قفر ہے
24:45اللہ کی رحمت ہمارے گناہوں سے بہت بڑی ہے
24:48اگر سو قتل کرنے والا
24:50توبہ کر کے ولی بن سکتا ہے
24:52تو میں اور آپ کیوں نہیں بن سکتے
24:53بس شرط یہ ہے
24:55کہ پہلا قدم ہمیں اٹھانا ہوگا
24:57آج ہی اسی وقت
24:59دل میں پکہ ارادہ کریں
25:00کہ ہم اپنے دل کے شیشے کو
25:02مزید گندہ نہیں ہونے دیں گے
25:03ہم حسد کی آگ میں نہیں جلیں گے
25:06ہم نفرت کے کانٹے نہیں بوئیں گے
25:08بلکہ ہم محبت کے پھول کھلائیں گے
25:10آئیے اب مل کر
25:11اپنے رب کے حضور
25:12اس ٹوٹے ہوئے دل کے ساتھ دعا مانگتے ہیں
25:15کیونکہ ٹوٹے ہوئے دلوں کی فریاد
25:17ارش کو ہلا دیتی ہے
25:18اے ہمارے مہربان رب
25:20اے دلوں کے حال کو جاننے والے
25:22ہم تیرے آجز اور گنہگار بندے ہیں
25:25اپنی سیاہ کاریوں کا بوجھ لیے
25:27تیری بارگاہ میں حاضر ہیں
25:28یا اللہ
25:29ہم اعتراف کرتے ہیں
25:31کہ ہم نے اپنے دلوں کو
25:32دنیا کی محبت میں ویران کر دیا ہے
25:34یا اللہ
25:35ہمارے دل سخت ہو چکے ہیں
25:37ہماری آنکھیں خوشک ہو چکی ہیں
25:39مولا
25:39تجھے تیرے پیارے حبیب
25:41صلی اللہ علیہ وسلم کے نالین پاک کا واسطہ
25:44ہمارے دلوں کے زنگ کو دور فرما دے
25:46یا اللہ
25:47ہمیں قلب سلیم اتا فرما
25:49اے دلوں کو پھیرنے والے
25:51ہمارے دلوں کو اپنی اطاعت
25:52اور اپنی محبت کی طرف پھیر دے
25:54یا اللہ
25:55ہمیں ایسی زندگی دے
25:57کہ ہمارا ہر سانس تیری یاد میں گزرے
25:59اور جب موت آئے
26:00تو ہمارا سینہ تیرے نور سے روشن ہو
26:03ہمیں قبر کی تنہائی اور وحشت سے بچا لے
26:06یا اللہ جو لوگ اس وقت پریشان ہیں
26:08بیمار ہیں
26:09یا مقروض ہیں
26:10ان سب کی غیبی مدد فرما
26:11ہمیں ظاہری اور باطنی پاکیزگی نصیب فرما
26:14ہمیں شیطان کے شر اور نفس کے دھوکے سے محفوظ رکھ
26:18یا اللہ
26:19ہمیں اولیاء کرام کی سچی محبت اور ان کا فیض اتا فرما
26:22ہمارے والدین پر رحم فرما
26:24جیسا کہ انہوں نے بچپن میں ہم پر رحم کیا
26:27یا الہ العالمین
26:28ہم سے راضی ہو جا
26:30ہم سے راضی ہو جا
26:31ہم سے راضی ہو جا
26:32صل اللہ تعالیٰ علی خیر خلقی ہی محمد و آلہی و آصحابی اجمعین
26:37برحمت کا یا ارحم الراحمین

Recommended