Skip to playerSkip to main content
  • 2 days ago
Maulana Rumi Or Shams Tabraiz ki Mukammal Kahani jo Zindagi Badal De - zikeremubeen - Ziker e mubeen

Category

📚
Learning
Transcript
00:00سائیبو یہ تیرویں صدی عیسوی یعنی 13 سینچوری کا ذکر ہے
00:04ترکی کا مشہور شہر قونیا علم اور دانش کا مرکز بنا ہوا تھا
00:10اور اس شہر کی رونق جس ہستی کے دم سے تھی دنیا انہیں جلال الدین کے نام سے جانتی تھی
00:16یہ وہ وقت تھا جب مولانا روم ابھی مولانا روم نہیں بنے تھے
00:21بلکہ وہ ایک بہت بڑے مفتی ایک زبردست فقیحہ اور علم دین کے بادشاہ تھے
00:27ان کا مقام اتنا بلند تھا کہ انہیں سلطان العلماء یعنی عالموں کا بادشاہ کہا جاتا تھا
00:34تاریخ بتاتی ہے کہ جب مولانا جلال الدین اپنے مدرسے سے نکلتے تھے
00:39تو ان کا انداز کسی بادشاہ سے کم نہیں ہوتا تھا
00:42وہ خچر پر سوار ہوتے قیمتی جببہ پہنا ہوتا
00:46سر پر ایک بہت بڑا دستار یعنی پگڑی سجا ہوتا
00:49اور ان کے دائیں بائیں اور پیچھے سینکڑوں شاگردوں یعنی سٹوڈنٹس کا حجوم چل رہا ہوتا تھا
00:55لوگ ان کی ایک جھلک دیکھنے کے لیے بازاروں میں کھڑے ہو جاتے
01:00جب وہ گزرتے تو بڑے بڑے عمراء اور گزرا احترام میں سر جھکا دیتے
01:05ان کا ایک فتوہ پورے شہر میں قانون کا درجہ رکھتا تھا
01:09اس وقت مولانا کے پاس سب کچھ تھا
01:12عزت شہرت دولت اور کتابوں کا ایسا علم
01:15کہ بڑے بڑے مناظرین ان کے سامنے بات کرنے کی ہمت نہیں کرتے تھے
01:19انہیں اپنے عبادت اور اپنے علم پر مکمل اتمنان تھا
01:23لیکن کونیا کے لوگ نہیں جانتے تھے
01:26کہ علم کے اس پہال کے اندر ایک خلا موجود ہے
01:29وہ یہ نہیں جانتے تھے کہ یہ ظاہری علم کا بادشاہ
01:33بہت جلد ایک پھٹے پرانے کپڑوں والے درویش کا غلام بننے والا ہے
01:37کونیا میں جہاں ایک طرف علم کے چراغ جل رہے تھے
01:40وہیں دوسری طرف دنیا کے کسی اور کونے میں ایک طوفان کروٹے لے رہا تھا
01:45یہ طوفان کسی بادشاہ کا لشکر نہیں تھا
01:48بلکہ ایک بوڑے درویش کا سینہ تھا
01:50یہ درویش کوئی عام فقیر نہیں تھا
01:53ان کا نام شمس الدین تھا
01:55لیکن دنیا انہیں شمس تبریز کہتی تھی
01:57وہ ایک جگہ ٹکتے نہیں تھے
01:59کبھی دمشق کبھی بغداد کبھی حلب
02:02ان کے پاؤں میں جیسے پہیے لگے ہوئے تھے
02:05اسی لئے صوفیہ انہیں شمس پرندہ
02:07اڑنے والا سورج کہتے تھے
02:09لیکن یہ سفر جسمانی نہیں تھا
02:11یہ سفر ایک تلاش کا تھا
02:13شمس تبریز کے سینے میں
02:14اللہ کے عشق کی ایسی آگ جل رہی تھی
02:17جسے سنبھالنا عام انسان کے بس کی بات نہیں تھی
02:20وہ اس آگ کو بانٹنا چاہتے تھے
02:22لیکن انہیں کوئی ایسا برطن
02:24کوئی ایسا سینہ نہیں مل رہا تھا
02:26جو اس آگ کو برداشت کر سکے
02:28وہ جس شیخ کے پاس جاتے
02:30جس عالم سے ملتے
02:31انہیں وہ کمزور لگتے
02:32ان کا علم صرف کتابوں تک محدود تھا
02:35جبکہ شمس حال کے بادشاہ تھے
02:37اللہ سے سودا
02:39The Divine Bargain
02:40روایات میں آتا ہے کہ ایک رات
02:43شمس تبریز کی بیچینی انتہا کو پہنچ گئی
02:45انہوں نے اپنے رب سے فریاد کی
02:47اے میرے مالک
02:49میرے سینے میں تیری محبت کا جو سمندر موجے مار رہا ہے
02:52میں اسے کہاں انڈے لو
02:54مجھے کوئی ایسا بندہ دکھا
02:56کوئی ایسا چھپا ہوا ہیرہ دکھا
02:58جو میرے اس بوجھ کو اٹھا سکے
02:59غیب سے اشارہ ہوا
03:01کہ اگر تم اس محبوت کو پانا چاہتے ہو
03:04تو بدلے میں کیا دوگے
03:05شمس تبریز نے کہا
03:07کہ میں اپنا سر دینے کو تیار ہوں
03:09اشارہ ہوا
03:10تو پھر قونیاں جاؤں
03:12وہاں روم کا بیٹا جلال الدین
03:14تمہارا منتظر ہے
03:15وہ ایک سوکھی لکڑی کی طرح ہے
03:17اسے تمہاری ضرورت ہے
03:19جو اسے عشق کی آگ لگا سکے
03:21یہ اشارہ ملتے ہی
03:23شمس تبریز نے سفر باندھ لیا
03:25ساٹھ سال کی عمر
03:26سفید داڑھی
03:27چہرے پر ریگستان کی دھول
03:29اور جسم پر کالے رنگ کا
03:31ایک موٹا اونی کمبل
03:32دیکھنے والوں کو وہ
03:34ایک معمولی بھکاری لگتے تھے
03:35لیکن اس گدڑی میں
03:36ایک ایسا بادشاہ چھپا تھا
03:38جو قونیاں کی سلطنت کو
03:39تہہو بالا کرنے والا تھا
03:41تاریخ وہ دن کبھی نہیں بھول سکتی
03:43یہ اکتوبر بارہ سو چوالیس عیسوی
03:46جمادی الاخر چھے سو بیالیس ہجری
03:48کی ایک سرد صبح تھی
03:50قونیاں کے مشہور شکر فروشوں کے
03:52بازار میں چہل پہل تھی
03:53تاجر اپنی دکانیں سجا رہے تھے
03:56خریداروں کا رشت تھا
03:57ہر کوئی دنیا کمانے میں مگن تھا
04:00اسی حجوم میں خاموشی سے
04:02ایک اجنبی داخل ہوا
04:03کسی نے اس کی طرف نہیں دیکھا
04:05کسی نے یہ جاننے کی کوشش نہیں کی
04:07کہ اس کی آنکھوں میں کیسی وحشت تھی
04:09وہ بازار کے ایک کونے میں
04:11ایک سرائے کے چبوترے پر خاموشی سے بیٹھ گئے
04:13یہاں ایک بہت بڑا تضاد تھا
04:16ایک طرف کونیاں کا سب سے بڑا مفتی
04:18مولانا روم تھا
04:19جو ریشم کے کپڑے پہنتا تھا
04:21جس کے پیچھے ہزاروں لوگ چلتے تھے
04:23اور دوسری طرف یہ درویش تھا
04:26جسے کوئی پانی پلانے والا بھی نہیں تھا
04:28شمس تبریز وہاں بیٹھ کر انتظار کرنے لگے
04:31وہ جانتے تھے کہ جس کا حکم لے کر وہ آئے ہیں
04:33وہ ابھی یہاں سے گزرے گا
04:35شکاری اپنے شکار کے انتظار میں تھا
04:38وہ جانتا تھا کہ آج کونیاں کی تاریخ بدلنے والی ہے
04:41بازار کا شور اپنی جگہ تھا
04:43لیکن شمس تبریز کی خاموشی
04:45اس شور سے زیادہ وزنی تھی
04:47وہ نظریں جمائے اس راستے کو دیکھ رہے تھے
04:50جہاں سے سلطان العلماء کی سواری گزرنی تھی
04:53ناظرین محترم
04:54ذرا سوچئے اس لمحے کے بارے میں
04:56دو سمندر آپس میں ٹکرانے والے تھے
04:59ایک شریعت کا سمندر
05:01مولانا روم اور دوسرا طریقت کا سمندر
05:04شمس تبریز
05:05ایک کے پاس الفاظ تھے
05:06دوسرے کے پاس تاثیر تھی
05:08ایک کے پاس دلیل تھی
05:10دوسرے کے پاس دیدار تھا
05:12شمس تبریز نے اپنے گھٹنوں پر سر رکھا
05:14اور مراقبے میں چلے گئے
05:16ان کے دل کی دھڑکنے کہہ رہی تھیں
05:18آج آؤ جلال الدین
05:19میں اپنی جان کا نظرانہ لے کر آ گیا ہوں
05:22تاکہ تمہیں اللہ کا راستہ دکھا سکو
05:24اور پھر گھوڑوں کی
05:26ٹاپوں کی آواز آئی
05:27مجمع نے شور مچایا راستہ چھوڑ دو
05:30مولانا آ رہے ہیں راستہ چھوڑ دو
05:32شمس تبریز نے سر اٹھایا
05:34ان کی اقابی نظریں حجوم کو
05:36چیرتی ہوئی سیدھے مولانا روم
05:38کے چہرے پر پڑی وقت تھم گیا
05:41بازار میں شور تھا
05:42لوگ مولانا روم کی سواری کے آگے
05:45پیچھے چل رہے تھے
05:46ہر طرف ادب ادب کی صدائیں تھی
05:48اچانک بھیڑ میں سے وہ پھٹے پرانے
05:50کپڑوں والا درویش شمس آگے بڑھا
05:52بغیر کسی خوف کے
05:54بغیر کسی جھجک کے
05:55اس درویش نے مولانا روم کی خچر کی لگام پکڑ لی
05:58سواری رک گئی
06:00پورا بازار سناٹے میں آ گیا
06:02شاگرد غصے میں آ گئے
06:03کہ یہ کون گستاخ ہے
06:05جس نے سلطان العلماء کا راستہ روکنے کی جررت کی
06:08مولانا روم نے حیرت سے نیچے دیکھا
06:10ان کی نظریں اس درویش کی آنکھوں سے ملیں
06:13شمس کی آنکھوں میں کوئی سوال نہیں تھا
06:15بلکہ ایک چیلنج تھا
06:17ان کی آنکھوں میں سورج جیسی تبش تھی
06:19جس نے مولانا کو اندر تک ہلا دیا
06:21شمس تبریز نے مولانا کے خچر کے پہلو میں
06:24لٹکے ہوئے کتابوں کے تھیلے کی طرف اشارہ کیا
06:27یہ وہ نایاب کتابیں تھیں
06:29جو مولانا کے والد کی تحریر کردہ تھی
06:31اور جن میں دنیا بھر کا علم تھا
06:33شمس نے اپنی گرجدار آواز میں پوچھا
06:35مولانا یہ کیا ہے
06:37مولانا جو اس وقت اپنے علم کے نشے میں تھے
06:40اور دنیاوی جاہو جلال رکھتے تھے
06:43انہوں نے قدر ناگواری اور فخر سے جواب دیا
06:45یہ وہ علم ہے جسے تم نہیں جانتے
06:48مطلب یہ تھا کہ اے جاہل فقیر
06:51تم تو انپڑ ہو
06:52تمہیں منطق فلسفے اور فقہ کی کیا سمجھ
06:54ہٹو راستے سے
06:55یہ سننا تھا کہ شمس تبریز کے چہرے پر ایک جلال آ گیا
06:59انہوں نے کہا
07:00اچھا اگر میں نہیں جانتا
07:02تو پھر ان کا کیا فائدہ
07:04اور اس سے پہلے کہ کوئی کچھ سمجھ پاتا
07:06شمس تبریز نے ان کتابوں کے نایاب
07:08ڈھیر کو اٹھایا اور ساتھ بنے ہوئے
07:10پانی کے ہاؤز یا فاؤنٹن میں پھینک دیا
07:13چھپاک
07:14پانی کی آواز آئی اور سیاہی گھلنے لگی
07:17یہ منظر دیکھ کر
07:18وہاں موجود لوگوں کی چیخیں نگل گئیں
07:20مولانا روم تو جیسے پاگل ہو گئے
07:23یہ ان کی زندگی بھر کی کمائی تھی
07:25یہ وہ علم تھا جس پر انہیں ناز تھا
07:27یہ ان کے باپ دادا کی نشانی تھی
07:29سب پانی میں ڈوب رہا تھا
07:31مولانا گھبرا کر خچر سے نیچے کود پڑے
07:34وہ ہاؤز کے کنارے بھاگے
07:35تاکہ اپنی کتابوں کو بچا سکیں
07:37ان کا چہرہ غصے اور دکھ سے سرخ ہو رہا تھا
07:40انہوں نے شمس کی طرف مڑ کر چلائیا
07:42شاگرد درویش کو مارنے کے لیے آگے بڑھے
07:45لیکن شمس اپنی جگہ پہاڑ کی طرح کھڑے رہے
07:48ان کے چہرے پر ایک مسٹیریس مسکراہت تھی
07:50وہ جانتے تھے کہ جب تک یہ کاغذی علم ڈوبے گا نہیں
07:54تب تک مولانا کے اندر کا حقیقی علم اُبرے گا نہیں
07:57صاحبو ایک منٹ رکیے
07:59آج کی اس پہلی اور وجدانی نشست میں
08:02ہم نے سلطان العلماء مولانا جلال الدین رومی
08:05اور شمس پرندہ کے ملاب کی داستان سنی اور جانی
08:09ہم نے جانا کہ کیسے علم کے پہاڑ مولانا روم
08:13اپنے ریشمی جبے اور شاگردوں کے حجوم میں
08:16ایک خاموش خلا محسوس کرتے تھے
08:18اور کیسے شمس تبریز اپنا سر بیچ کر
08:21ایک سچے شاگرد کی تلاش میں قونیاں پہنچے
08:24ہم نے اس لرزہ خیز منظر کو سنا اور جانا
08:28کہ کیسے شمس تبریز نے مولانا کی نایاب کتابیں
08:31ہاؤز کے پانی میں پھینک دیں
08:32اور مولانا کی برسوں کی محنت لمحوں میں ڈوبتی نظر آئی
08:36ہم نے سیکھا کہ جب تک کاغذی علم کی انہ نہیں ڈوبتی
08:40تب تک حقیقی علم کا سورج تلو نہیں ہوتا
08:43دوستوں جب مولانا روم کی زندگی بھر کی کمائی پانی میں ڈوب گئی
08:48تو پھر وہ کون سا جادو تھا جس نے ان خوشک کاغذوں سے گرد اڑا دی
08:52وہ کیا راز تھا کہ پانی کے اندر سے نکلی کتابیں
08:56نہ صرف خوشک تھیں بلکہ ان کی سیاہی پہلے سے زیادہ چمک رہی تھی
09:00شمس تبریز نے علم قول اور علم حال کا وہ کون سا فرق بتایا
09:04جس نے وقت کے سب سے بڑے مفتی کو پتھر کا بت بنا دیا
09:08کیا ہوا جب مولانا روم نے اپنی تمام ڈگریان اور وقار
09:12ایک درویش کے قدموں میں رکھ دیا
09:14کیا ایک عالم وقت واقعتاً ایک رقص کرنے والا دیوانہ بننے والا تھا
09:19آئیے عشق کی اس پہلی آگ اور رومی کے مکمل سرنڈر کی تفصیل دیکھتے ہیں
09:25جی عمر
09:26ناظرین محترم منظر کو اپنی آنکھوں کے سامنے لائیے
09:30کونیا کا وہ بازار جہاں چند لمحے پہلے تک صرف عدب عدب کی صدائیں تھیں
09:36اب وہاں ایک عجیب سا سنناٹا اور خوف چھایا ہوا ہے
09:40شمس تبریز نے مولانا روم کی زندگی بھر کی کمائی
09:44ان کی نایاب کتابیں ان کے والد کے ہاتھ کے لکھے ہوئے مسودے
09:49سب کے سب پانی کے حوز میں پھینک دیے ہیں
09:51مولانا روم حوز کے کنارے کھڑے ہیں
09:54ان کا چہرہ غصے دکھ اور حیرت کا ملا جلا نمونہ ہے
09:59یہ صرف کاغذ نہیں ڈوبے تھے
10:01یہ مولانا کی انا یعنی ایگو تھی جو پانی میں ہچکولے کھا رہی تھی
10:05مولانا روم نے ترپ کر کہا
10:08اے درویش یہ تم نے کیا غزب کیا
10:11تم جانتے بھی ہو اس تھیلے میں کیا تھا
10:13اس میں وہ علوم تھے جنہیں سمجھنے کے لیے صدیان درکار ہیں
10:17اس میں فلسفہ تھا
10:18اس میں منطق تھی
10:20اس میں وہ دلائل تھے جن کا جواب دنیا کے پاس نہیں
10:23تم نے میری زندگی کا حاصل مٹی میں ملا دیا
10:26شمس طبیعیس خاموشی سے مولانا کی یہ تڑپ دیکھتے رہے
10:30ان کے چہرے پر ایک ایسی مسکراہت تھی
10:33جیسے کوئی طبیب یعنی ڈاکٹر
10:35کڑوی دوا دینے کے بعد مریض کو دیکھ کر مسکراہتا ہے
10:38کیونکہ وہ جانتا ہے
10:40کہ یہ کڑواہت ہی اسے شفا دے گی
10:42یہاں رکھ کر سوچیں دوستو
10:44مولانا روم کا درد کیا تھا
10:47ان کا درد یہ تھا کہ ان کا سہارا چھن گیا تھا
10:50ہم انسان بھی تو یہی کرتے ہیں
10:52ہم نے اپنی ڈگریوں
10:54اپنے عہدوں
10:54اپنی معلومات کو اپنا خدا بنا رکھا ہوتا ہے
10:57ہمیں لگتا ہے کہ اگر یہ کاغذ کا ٹکڑا نہ رہا
11:01تو ہماری کوئی وقت نہیں
11:02شمس طبریز اسی بت کو توڑنا چاہتے تھے
11:06مولانا روم مسلسل بول رہے تھے
11:08افسوس کر رہے تھے کہ سیاہی پھیل جائے گی
11:10الفاظ مٹ جائیں گے
11:12تب شمس طبریز نے اپنی خاموشی توڑی
11:14اور ایک ایسا سوال کیا
11:16جس نے وہاں موجود ہر شخص کو سوچنے پر مجبور کر دیا
11:19انہوں نے کہا
11:21مولانا اگر تمہارا علم اتنا ہی طاقتور ہے
11:25تو پانی کے چند قطروں سے ڈڑ کیوں گیا
11:27جو علم پانی سے مٹ جائے
11:29کیا وہ تمہیں اس آگ سے بچا سکے گا
11:32جو قبر میں اور حشر میں جل رہی ہے
11:34مولانا روم اس سوال کا جواب نہ دے سکے
11:38ان کے پاس فقہ کے مسائل کا حل تو تھا
11:41لیکن اس سادہ سی حقیقت کا جواب نہیں تھا
11:43تب شمس طبریز آگے بڑھے
11:46انہوں نے اپنی آستین چڑھائی
11:47اور اپنا ہاتھ اسی پانی میں ڈال دیا
11:50ہوا رک گئی
11:51پرندے جیسے خاموش ہو گئے
11:54مجمے کی سانسیں تھم گئیں
11:56شمس طبریز نے پانی کے اندر ہاتھ گھمایا
11:58اور کتابوں کا وہ تھیلہ اپنی گرفت میں لے لیا
12:01اور پھر جو ہوا وہ اکل کے دائرے سے باہر تھا
12:05جب شمس نے پہلی کتاب باہر نکالی
12:11شمس نے کتاب کھولی
12:13کاغذ خوشک تھا
12:15تحریر چمک رہی تھی
12:16سیاہی اپنی جگہ پر قائم تھی
12:18شمس نے کتاب کو ہلکا سا جھاڑا
12:21تو اس میں سے دھول اڑی
12:22ذرا سوچئے
12:24پانی کے اندر سے نکلی ہوئی کتاب سے دھول اڑ رہی ہے
12:27یہ کیسے ممکن ہے
12:28سائنس کہتی ہے ناممکن
12:31اکل کہتی ہے ناممکن
12:32آنکھیں کہتی ہیں دھوکا
12:34لیکن عشق کہتا ہے
12:36کہ جب آگ ابراہیم علیہ السلام کو نہیں جلاتی
12:39تو پانی آشک کی کتاب کو
12:41کیسے بھگو سکتا ہے
12:42مولانا روم پتھر کے بدھ کی طرح
12:45ساکت ہو گئے
12:46ان کی زبان گنگ ہو گئی
12:47وہ آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر کبھی کتاب کو دیکھتے
12:50کبھی اس درویش کو دیکھتے
12:52انہوں نے لڑکھڑاتی ہوئی زبان سے پوچھا
12:55یہ کیا ہے
12:56اے چیست
12:57یہ کون سا جادو ہے
12:59یہ کون سا علم ہے جو میں نے آج تک
13:01کسی مدر سے
13:02کسی جامعہ
13:03کسی استاد سے نہیں سیکھا
13:05شاگرد جو کچھ دیر پہلے
13:07شمز کو مارنے کے لیے پتھر اٹھائے کھڑے تھے
13:09اب ان کے ہاتھوں سے پتھر گر چکے تھے
13:12وہ خوف زدہ ہو کر پیچھے ہٹ رہے تھے
13:14انہیں لگ رہا تھا
13:15کہ یہ درویش کوئی عام انسان نہیں ہے
13:18یہ حصہ ویڈیو کا سب سے اہم ترین حصہ ہے
13:21یہاں آپ نے فلسفہ بیان کرنا ہے
13:24ناظرین
13:25اب شمز تبریز نے مولانا کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالی
13:28یہ وہ لمحہ تھا جب شکاری نے شکار کو دبوچ لیا تھا
13:32شمز نے مولانا کے اسی جملے کو
13:34جو مولانا نے تھوڑی دیر پہلے تکبر میں بولا تھا
13:37واپس لوٹایا
13:38شمز نے کہا
13:39مولانا یہ وہ علم ہے جسے تم نہیں جانتے
13:43این آ علم است کہ تُو نمی دانی
13:46یہاں شمز تبریز نے ایک بہت بڑی حقیقت کھولی
13:49انہوں نے مولانا کو سمجھایا
13:51کہ علم کی دو قسمیں ہیں
13:53یہ وہ علم ہے جو تم پڑھتے ہو
13:56بولتے ہو بحث کرتے ہو
13:57یہ زبان کا علم ہے
13:59یہ کتابوں سے شروع ہوتا ہے
14:01اور قبر کی مٹی پر ختم ہو جاتا ہے
14:03یہ علم تمہیں مفتی بنا سکتا ہے
14:05قاضی بنا سکتا ہے
14:07لیکن بندہ نہیں بنا سکتا
14:09یہ علم تمہیں تکبر سکھاتا ہے
14:11میں سکھاتا ہے
14:13علم حال
14:14The knowledge of state
14:15یا heart
14:16یہ وہ علم ہے جو میں لائے ہوں
14:18یہ پڑھا نہیں جاتا
14:20یہ محسوس کیا جاتا ہے
14:22یہ مدرسے میں نہیں ملتا
14:23یہ مرشد کی نظر میں ملتا ہے
14:25یہ علم دلیل نہیں مانگتا
14:27یہ تسلیم مانگتا ہے
14:29یہ علم کاغذ کو پانی سے بچا لیتا ہے
14:32اور انسان کو جہنم سے
14:33شمز نے مولانا سے کہا
14:36اے روم کے مفتی
14:37تم نے کتابوں میں پڑھا ہے
14:39کہ آگ جلاتی ہے
14:40لیکن میں نے آگ میں کود کر دیکھا ہے
14:43کہ وہ گلزار بھی بنتی ہے
14:44تم نے پڑھا ہے
14:46کہ اللہ شہرگ سے قریب ہے
14:47لیکن میں نے اس شہرگ کے اندر
14:49اس یار کو دیکھا ہے
14:51یہی فرق ہے
14:52تمہارے اور میرے درمیان
14:53تم خبر رکھتے ہو
14:55اور میرے پاس نظر ہے
14:56یہ باتیں مولانا روم کے دل پر
14:59ہتھوڑے کی طرح برس رہی تھی
15:00ان کی زندگی کی پوری امارت
15:02جو انہوں نے کتابوں کی بنیاد پر
15:04کھڑی کی تھی
15:05وہ دھڑام سے نیچے گر رہی تھی
15:07اس مقالمے نے
15:12مولانا روم کو توڑ کر رکھ دیا
15:14وہ جو سلطان العلماء تھے
15:16جو ہزاروں لوگوں کے سوالوں کا جواب دیتے تھے
15:19آج ان کے پاس
15:20ایک درویش کے سامنے بولنے کے لیے
15:22ایک لفظ نہیں تھا
15:23مولانا روم کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے
15:27یہ آنسو دکھ کے نہیں تھے
15:28یہ آنسو اس خوشی کے تھے
15:30کہ انہیں منزل مل گئی تھی
15:32انہیں سمجھ آ گیا تھا
15:33کہ اب تک وہ صرف ساحل پر کھڑے ہو کر
15:36سی پیا جمع کر رہے تھے
15:37اصل موٹی تو اس درویش کے پاس
15:39سمندر کی تہہ میں ہے
15:40وہیں سب کے سامنے
15:43مولانا روم نے شمس تبریز کے ہاتھ تھام لیے
15:45انہوں نے کہا
15:46مجھے بھی یہ علم سکھا دو
15:48میں اپنی ساری کتابیں
15:50اپنا سارا علم
15:51اپنا سارا وقار
15:53تمہارے قدموں میں رکھتا ہوں
15:54مجھے بتاؤ کہ میں کیا کروں
15:56شمس نے کہا
15:58تو پھر ان کاغذوں کو چھوڑو
16:00اور دل کو پڑھنا شروع کرو
16:01کیونکہ اللہ کتابوں کے حاشیوں میں نہیں
16:04ٹوٹے ہوئے دلوں کی ویرانی میں ملتا ہے
16:06میرے دوستو
16:07آج ہم سب بھی مولانا روم بنے بیٹھے ہیں
16:10ہمارے پاس معلومات کا پہاڑ ہے
16:12گوگل ہے
16:13کتابیں ہیں
16:14ویڈیوز ہیں
16:15لیکن ہمارے دل ویران ہیں
16:17ہمیں نماز کے مسائل تو پتا ہے
16:19لیکن نماز کا خوشو نہیں پتا
16:21ہمیں جنت کا راستہ تو پتا ہے
16:23لیکن اللہ سے محبت کا طریقہ نہیں پتا
16:26شمس تبریز آج بھی ہمیں پکار رہے ہیں
16:29کہ یہ کتابی علم کافی نہیں ہے
16:31اپنے اندر عشق کی آگ پیدا کرو
16:33کیونکہ جب عشق کی آگ جلتی ہے
16:35تو پھر گناہوں کا پانی اور دنیا کی مصیبتیں
16:38آپ کے ایمان کی کتاب کو گیلا نہیں کر سکتی
16:41مولانا روم نے اس واقعے کے بعد
16:43اپنی کتابیں ایک طرف رکھ دیں
16:45اور بانسوری اٹھا لی
16:46اور پھر دنیا نے دیکھا
16:48کہ وہ خاموش مفتی جب بولا
16:50تو مسنوی بن گئی
16:51جس کی گونج آج آٹھ سو سال بعد بھی
16:54مغرب سے مشرق تک سنائی دے رہی ہے
16:56لیکن دوستو یہ تو صرف شروعات تھی
16:59مولانا نے ہاتھ تو تھام لیا
17:01لیکن ابھی انہیں ایک بہت کٹھن امتحان سے گزرنا تھا
17:05ابھی انہیں اپنے مدر سے
17:06اپنی عزت اور اپنے لباس کی قربانی دینی تھی
17:09وہ مفتی سے رقص کرنے والا دیوانہ کیسے بنے
17:12یہ ہم دیکھیں گے اگلی قسط میں
17:14بھائیو ایک منٹ رکیے
17:16اس دوسرے حصر میں ہم نے
17:17عقل کو دنگ کر دینے والا
17:19وہ موجزہ سنا اور جانا
17:20کہ کیسے عشق کی آگ نے
17:22پانی کی فطرت بدل دی
17:24اور کتابیں خوشک بہر آئیں
17:25ہم نے شم سے تبریز بھی
17:27اس جملے کی تاثیر کو محسوس کیا
17:29کہ یہ وہ علم ہے جسے تم نہیں جانتے
17:36بلکہ اصل علم وہ ہے
17:38جو انسان کے حال کو بدل دے
17:40ہم نے دیکھا کہ کیسے سلطان العلماء
17:43نے اپنے تمام سہاروں کو خیرباد کہہ کر
17:45ایک درویش کی غلامی قبول کر لی
17:48اور اپنی انہ کے بت کو پاش پاش کر دیا
17:50لیکن ناظرین ابھی تو امتحان کی شروعات تھی
17:54کیا چالیس دن کی وہ پرسرار تنہائی
17:57رومی کا حلیہ بدل دے گی
17:58وہ شاہانہ لباس
18:00وہ بڑی دستار
18:01اور وہ مفتی کی کرسی
18:03سب کہاں غائب ہو گئے
18:04کونیا کے بازار میں
18:06جب سونے کے کوٹنے کی آواز پر
18:08رومی نے وجد شروع کیا
18:10تو لوگوں نے ان پر پتھر کیوں مارے
18:11آج کا انسان انفرمیشن کے سمندر میں
18:15ڈوب کر بھی سکون سے خالی کیوں ہے
18:17کیا ہم اپنے اندر کے رومی کو
18:19جگانے کے لیے تیار ہیں
18:20اور سب سے بڑھ کر
18:22وہ دردناک موڑ کیا تھا
18:24جب حسد کرنے والوں نے
18:25شمس اور رومی کی اس جوڑی کو
18:27جدہ کرنے کی سازش کی
18:28آئیے
18:29اس روحانی سفر کے
18:31اروج اور رومی کی
18:32مسنوی بننے تک کی داستان دیکھتے ہیں
18:34جی
18:35عمر
18:35بھائیو
18:37تاریخ کے پنوں میں
18:38کچھ صبحیں ایسی ہوتی ہیں
18:40جو اپنے ساتھ
18:41خاموشی لے کر آتی ہیں
18:43مگر وہ خاموشی
18:44شور سے زیادہ بھاری ہوتی ہے
18:46کتابوں کے پانی میں
18:48گرنے والے واقعے کی
18:49اگلی صبح
18:50کونیا کے لوگ
18:51حسب معمول مدر سے پہنچے
18:53ہزاروں طلبہ
18:54اپنی کافیاں اور قلم
18:56لے کر منتظر تھے
18:57کہ ابھی ہمارے استاد
18:59وقت کے سب سے بڑے مفتی
19:01مولانا جلال الدین
19:02رومی تشریف لائیں گے
19:04اور علم کے دریا بہائیں گے
19:06سورج اوپر چڑ گیا
19:07لیکن مولانا کا دروازہ نہیں کھلا
19:10گھنٹے گزر گئے
19:11ممبر خالی رہا
19:13طلبہ میں بیچینی پھیل گئی
19:15کوئی کہتا کہ شاید استاد بیمار ہیں
19:17کوئی کہتا شاید کسی اہم کتاب کی تصنیف میں مصروف ہیں
19:21لیکن حقیقت کچھ اور تھی
19:23وہ شخص جو کل تک وقت کی پابندی کا بادشاہ تھا
19:27آج اسے وقت کا ہوش ہی نہیں تھا
19:29وہ شخص جس کے ایک فتوے کا پورا شہر انتظار کرتا تھا
19:33آج اس نے دنیا کو فتوہ دینے سے انکار کر دیا تھا
19:37خبر پہنچی
19:37کہ مولانا اپنے گھر کے ایک ہجرے میں
19:40اس پھٹے پرانے کپڑوں والے درویش
19:43شمس کے ساتھ بند ہو گئے ہیں
19:45اور انہوں نے باہر آنے سے منع کر دیا ہے
19:47کونیا میں بھونچال آ گیا
19:49لوگ کہنے لگے کہ ہمارے مفتی کو کیا ہو گیا ہے
19:52اس جادوگر نے ان پر کیا منتر پھونک دیا ہے
19:55لیکن وہ لوگ نہیں جانتے تھے
19:57کہ وہاں منتر نہیں
19:58وہاں مسیحائی ہو رہی تھی
20:00ایک روحانی سرجن شمس
20:02ایک مریض رومی کے دل سے
20:04دنیا کی محبت کا کینسر نکال رہا تھا
20:07دوستو یہ وہ مقام ہے
20:09جسے تصوف کی دنیا
20:11مرجل بہرین
20:12یعنی دو سمندروں کا ملاب کہتی ہے
20:15روایات کہتی ہیں کہ یہ خلوت
20:17چالیس دن تک جاری رہی
20:19شمس تبریز نے رومی کو آئینہ دکھایا
20:21تصور کریں اس منظر کا
20:23کہ رومی کہتے ہوں گے
20:24کہ شمس میں بہت بڑا عالم ہوں
20:27مجھے میری عزت کا ڈڑ ہے
20:28شمس کہتے ہوں گے کہ رومی
20:30جب تک تم اپنی اس عزت کو
20:32جوتے کی نوک پر نہیں رکھو گے
20:34خدا نہیں ملے گا
20:36یہ عزت یہ شہرت یہ واہ واہ
20:38سب بت ہیں انہیں توڑ دو
20:41رومی کہتے کہ لوگ کیا کہیں گے
20:43تو شمس جواب دیتے
20:44کہ لوگوں کو چھوڑو یہ دیکھو کہ
20:46تمہارا رب کیا کہے گا
20:48تم کب تک دوسروں کے لیے جیو گے
20:50ان چالیس دنوں میں شمس تبریز نے
20:52رومی کی انا کو چھین لیا
20:54رگڑ دیا اور جلا کر راکھ کر دیا
20:57یہ کوئی آسان کام نہیں تھا
20:59یہ ایسے ہی تھا جیسے
21:01زندہ انسان کی خال اتارنا
21:03مولانا رومی روتے تھے
21:04تڑپتے تھے لیکن شمس تبریز
21:07کسی سخت استاد کی طرح
21:08ڈٹے رہے اور پھر دروازہ کھلا
21:10جب مولانا روم باہر نکلے
21:13تو دنیا دنگ رہ گئی
21:14ان کا ہلیہ بدل چکا تھا
21:16وہ شاہانہ لباس
21:18وہ ریشمی جبا
21:19وہ بڑی سی پگڑی
21:20جو ان کے شیخ الاسلام ہونے کی نشانی تھی
21:23سب غائب تھا
21:24اس کی جگہ انہوں نے ایک عام درویش کا
21:27موٹا سا کمبل اوڑ رکھا تھا
21:29طلبہ ان کی طرف بھاگے اور کہنے لگے
21:31کہ استاد محترم کتاب کھل چکی ہے
21:34چلیے درس دیجئے
21:36مولانا روم نے عجیب سی نظروں سے طلبہ کو دیکھا
21:39اور مسکرا کر کہا
21:40کہ کون سا درس اور کون سی کتاب
21:42میں نے وہ سلیٹ ہی توڑ دی
21:44جس پر میں نے اب تک لکھا تھا
21:46انہوں نے مدرسے کی چابی پھینک دی
21:49اور کہا کہ آج کے بعد میں مفتی نہیں ہوں
21:51آج کے بعد میں قاضی نہیں ہوں
21:53میں صرف ایک طالب علم ہوں
21:55اور شمس میرا استاد ہے
21:57یہ سننا تھا کہ کونیا میں توفان مچ گیا
22:00عمرہ اور وزراء جو مولانا کے ہاتھ چومتے تھے
22:03اب انہیں نفرت سے دیکھنے لگے
22:04لوگ کہنے لگے کہ یہ شخص پاگل ہو گیا ہے
22:07اس درویش نے ہمارے عالم کو گمراہ کر دیا ہے
22:09گلیوں میں باتیں بننے لگیں
22:11اور تانے دیے جانے لگے
22:12جو لوگ کل تک ان کے راستے سے کانٹے ہٹاتے تھے
22:15آج وہی لوگ ان پر آوازیں کس رہے تھے
22:18لیکن حیرت کی بات یہ تھی
22:19کہ مولانا روم کو کوئی پرواہ نہیں تھی
22:21ان کے چہرے پر ایک ایسا سکون تھا
22:23جو پہلے کبھی نہیں دیکھا گیا تھا
22:25وہ آزاد ہو چکے تھے
22:26ناظرین تبدیلی ابھی رکی نہیں تھی
22:28عشق ابھی اپنے اروج پر پہنچنا باقی تھا
22:31ایک دن مولانا روم بازار سے گزر رہے تھے
22:33وہاں ان کے ایک دوست
22:34سلاہ الدین زرکوب کی دکان تھی
22:36زرکوب سونے کو کوٹنے کا کام کرتے تھے
22:39دکان سے ہتھوڑے کی آواز آ رہی تھی
22:41تھک تھک تھک تھک
22:42عام لوگوں کے لیے یہ صرف دھات کوٹنے کا شور تھا
22:45لیکن مولانا روم جن کے کان اب شم سے تبریز نے کھول دیے تھے
22:48انہیں اس آواز میں ایک ردھم سنائی دیا
22:50انہیں زرب میں
22:51اللہ اللہ اللہ کی پکار سنائی دیا
22:54اچانک مولانا روم پر ایک عجیب کیفیت تاری ہوئی
22:57وہیں بازار کے بیچ و بیچ
22:59مولانا نے اپنے ہاتھ اٹھائے
23:00اور گھومنا شروع کر دیا
23:01یہ کوئی ڈانس نہیں تھا
23:03یہ وجد تھا
23:04جیسے زمین سورج کے گرد گھومتی ہے
23:06جیسے الیکٹرون نیوکلیس کے گرد گھومتا ہے
23:09ویسے ہی رومی اپنے رب کے ذکر میں گھوم رہے تھے
23:11دائیں ہاتھ کی ہتھیلی آسمان کی طرف
23:13یعنی اللہ سے فیض لینے کے لیے
23:15اور بائیں ہاتھ کی ہتھیلی زمین کی طرف
23:17یعنی خل کے خدا میں باکنے کے لیے
23:20وہ گھومتے جاتے
23:21اور ان کی آنکھوں سے آنسوں کی لڑیاں بہتی جاتی
23:23لوگ جمع ہو گئے
23:25کسی نے ہسنا شروع کر دیا
23:26کسی نے کہا کہ دیکھو شہر کا مفتی نچنیا بن گیا
23:29اور کسی نے پتھر مارا
23:30لیکن مولانا روم کو ہوش نہیں تھا
23:33وہ مٹی اور دھول میں اٹے ہوئے تھے
23:34لیکن ان کی روح عرش مولا پر پرواز کر رہی تھی
23:37شم سے تبریز ایک کونے میں کھڑے یہ منظر دیکھ رہے تھے
23:41اور ان کی آنکھوں میں فتح کی چمک تھی
23:42انہوں نے مفتی کو عاشق بنا دیا تھا
23:44دوستو رومی کا یہ رکس اور یہ دیوانگی ہمیں کیا سکھاتی ہے
23:48مولانا روم نے بعد میں اپنے اشار میں اس کیفیت کو یوں بیان کیا
23:52کہ میں مردہ تھا
23:53میں زندہ ہو گیا
23:54میں رونا تھا
23:55میں ہسی بن گیا
23:56عشق کی دولت آئی
23:58اور میں ہمیشہ کے لیے سلطنت پا گیا
24:00انہوں نے دنیا کو بتایا
24:02کہ عشق کوئی آسان سودا نہیں ہے
24:04عشق آپ سے آپ کی انا مانگتا ہے
24:08اگر آپ اپنی عزت بچانا چاہتے ہیں
24:10تو عشق کے کوچے میں مت آئیے
24:12اگر آپ لوگوں کی باتوں سے ڈرتے ہیں
24:15تو عشق آپ کے لیے نہیں ہے
24:16مولانا روم نے فتوہ اس لیے چھوڑا
24:19کیونکہ فتوہ جسم پر لگتا ہے
24:21اور عشق روح پر لگتا ہے
24:23وہ ممبر سے اس لیے اترے
24:25کیونکہ ممبر انسان کو اونچا کرتا ہے
24:28اور عشق انسان کو خاکسار کرتا ہے
24:31آج ہم مولانا روم کی عزت کیوں کرتے ہیں
24:34کیا ان کے فتووں کی وجہ سے
24:36تو جواب ہے نہیں
24:37بلکہ ان کے عشق کی وجہ سے
24:39اگر وہ اس دن شمز کے قدموں میں نہ بیٹھتے
24:42تو آج وہ صرف تاریخ کی کتابوں میں ایک نام ہوتے
24:46لیکن انہوں نے خود کو مٹایا
24:48تو اللہ نے انہیں وہ مقام دیا
24:50کہ آج آٹھ سو سال بعد بھی
24:52یورپ ہو یا ایشیا
24:54رومی کا کلام روحوں کو تڑپا دیتا ہے
24:57لیکن دوستو یہ دیوانگی
24:59یہ عشق اور یہ رکس
25:01سب کچھ بہت سے لوگوں کی آنکھوں میں کھٹک رہا تھا
25:04قونیا کے لوگ اب صرف باتوں تک محدود نہیں رہنے والے تھے
25:08اب وہ شمز تبریز کے خون کے پیاسے ہو چکے تھے
25:11اور یہی حسد ہمیں لے جائے گا ہماری کہانی کے آخری اور دردناک موڑ کی طرف
25:17یعنی جدائی
25:18میرے عزیز دوستو
25:20ہم نے مولانا روم اور شمز تبریز کی داستان تو سن لی
25:23ہم نے یہ بھی جان لیا
25:25کہ کیسے ایک عالم وقت
25:27عشق کی بھٹی میں تپ کر سونا بن گیا
25:29لیکن اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے
25:31کہ یہ کہانی میرے اور آپ کے لیے کیوں ضروری ہے
25:34کیا یہ صرف آٹھ سو سال پرانی ایک داستان ہے
25:38تو اس کا جواب ہے ہرگز نہیں
25:40آج کا انسان
25:41یعنی میں اور آپ
25:43بلکل اسی مقام پر کھڑے ہیں
25:45جہاں مولانا روم اس بازار میں کھڑے تھے
25:47آج ہمارے پاس مولانا روم سے زیادہ کتابیں ہیں
25:51ہمارے پاس گوگل ہے
25:52ہمارے پاس یوٹیوب ہے
25:54ہمارے پاس لائبریریاں ہماری جیب میں
25:56یعنی موبائل فون میں موجود ہیں
25:58ہم مذہب پر گھنٹوں بحث کر سکتے ہیں
26:01ہم فرقوں پر لڑ سکتے ہیں
26:03ہمیں ایک ایک حدیث اور آیت کا ترجمہ انٹرنیٹ سے مل جاتا ہے
26:06لیکن ایک لمحے کے لیے رکھ کر
26:09اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر سوچئے
26:11کہ کیا ہمیں وہ سکون حاصل ہے
26:13جو رومی کو ملا
26:14آج کا انسان انفرمیشن کے سمندر میں ڈوبا ہوا ہے
26:18لیکن دانش کی ایک بوند کو ترس رہا ہے
26:21ہماری ڈگرییاں دیواروں پر لٹکی ہیں
26:24لیکن ہمارے دل ویران ہے
26:26ہم باہر سے تو بہت تعلیم یافتہ نظر آتے ہیں
26:29لیکن اندر سے ہم اسی طرح خالی ہیں
26:31جیسے وہ مدرسہ جس میں مولانا روم
26:34شمز کی آنے سے پہلے رہا کرتے تھے
26:36دوستو شمز تبریز نے مولانا کی کتابیں پانی میں نہیں فہکی تھی
26:40بلکہ انہوں نے مولانا کو ان کے سہاروں سے آزاد کیا تھا
26:45آج ہماری زندگی میں بھی بہت سے ایسے سہارے ہیں
26:48جنہیں ہم نے اپنا علم سمجھ رکھا ہے
26:50ہماری دولت
26:51ہمارا سوشل میڈیا کا سٹیٹس
26:53ہماری منطق
26:54اور ہماری یہ سوچ
26:56کہ ہمیں سب پتا ہے
26:57ہمیں لگتا ہے کہ ہم نے بہت سی کتابیں پڑھ لی ہیں
27:00تو ہم بڑے ہو گئے ہیں
27:01لیکن تصوف ہمیں سکھاتا ہے
27:03کہ علم وہ نہیں جو تمہارے دماغ میں ہے
27:05بلکہ علم وہ ہے جو تمہارے عمل میں ہے
27:08اور تمہارے حال میں ہے
27:10آج ہم سب علم قال کے بادشاہ ہیں
27:13ہم بولتے بہت اچھا ہیں
27:14ہم دوسروں کو نصیحت بہت اچھی کرتے ہیں
27:17لیکن جب تنہائی میں اللہ کے سامنے کھڑے ہوتے ہیں
27:20تو ہماری آنکھیں خوشک ہوتی ہیں
27:22ہمارے سجدوں میں وہ تڑپ نہیں ہوتی
27:24کیوں؟
27:25کیونکہ ہم نے رومی کی طرح قال
27:27یعنی بولنے کو تو اپنا لیا
27:29لیکن حال یعنی کیفیت کو بھول گئے
27:31ہم نے شمس کی تلاش ہی نہیں کی
27:33اب آپ پوچھیں گے
27:35کہ جناب ہمیں شمس تبریز کہاں ملیں گے
27:37وہ تو آٹھ سو سال پہلے چلے گئے
27:39میرے بھائیوں
27:40شمس تبریز ایک شخصیت کا نام نہیں
27:42شمس تبریز ایک تاثیر کا نام ہے
27:45شمس وہ ہوتا ہے
27:46جو آپ کی زندگی میں آ کر
27:48آپ کی ترتیب بدل دے
27:50وہ آپ کو آپ کی انا کے بدھ توڑنے پر
27:52مجبور کر دے
27:53آج کے دور میں شمس تین صورتوں میں مل سکتا ہے
27:57ایک کامل مرشد یا رہنما
27:59یعنی وہ شخص
28:00جس کی صحبت میں بیٹھ کر
28:02آپ کو دنیا بھول جائے اور اللہ یاد آ جائے
28:05جس کی ایک نظر
28:06آپ کے دل کی دنیا بدل دے
28:08دوسری صورت سچی طلب ہے
28:10اگر آپ کو کوئی انسان نہیں مل رہا
28:13تو اپنے اندر ایک تڑپ پیدا کریں
28:15مولانا روم نے کہا تھا
28:16کہ تم جس چیز کی تلاش میں ہو
28:18وہ تمہاری تلاش میں ہے
28:20جب آپ کے اندر سچی تلپ پیدا ہوگی
28:22تو اللہ خود کوئی نہ کوئی راستہ بنا دے گا
28:25تیسری صورت
28:26قرآن اور سیرت کا عشق ہے
28:28اگر ہم قرآن کو صرف سواب کے لیے نہیں
28:31بلکہ درد کے لیے پڑھیں
28:32تو قرآن ہمارے لیے شمس بن جائے گا
28:35ہمیں اپنے اندر کے مولانا روم کو جگانا ہوگا
28:38وہ مولانا روم
28:39جو علم کے بوجھ دلے دبا ہوا ہے
28:41اسے آزاد کرنا ہوگا
28:43تاکہ وہ عشق کی پرواز کر سکے
28:45آج اس ویڈیو کو ختم کرنے سے پہلے
28:48میں آپ کو ایک چھوٹا سا مشورہ دینا چاہتا ہوں
28:51آج رات جب سب سو جائیں
28:53تو تھوڑی دیر کے لیے اندھیرے میں
28:54اکیلے بیٹھیں
28:55اپنی ساری دگریان
28:57اپنی ساری معلومات
28:58اپنا سارا تکبر ایک طرف رکھ دیں
29:01اور اپنے رب سے کہیں
29:02کہ اے میرے مالک
29:03میرے پاس الفاظ تو بہت ہیں
29:05لیکن دل خالی ہے
29:07مجھے بھی کوئی شمس دکھا دے
29:09مجھے بھی اپنے عشق کی وہ آگ عطا کر دے
29:11جو میرے اندر کی گندگی کو جلا کر راک کر دے
29:15یاد رکھیں
29:15جب تک ہم یہ تسلیم نہیں کریں گے
29:18کہ ہم خالی ہیں
29:19تب تک ہم بھرے نہیں جا سکتے
29:20جب تک ہم یہ نہیں کہیں گے
29:22کہ میں کچھ نہیں جانتا
29:24تب تک اللہ ہمیں وہ علم نہیں دے گا
29:26جسے علم لدنی کہتے ہیں
29:28مولانا روم کی یہ داستان
29:30ہمیں صرف ایک واقعہ سنانے کے لیے نہیں تھی
29:33بلکہ یہ ہمیں خودی سے
29:34خدا تک کا راستہ دکھانے کے لیے تھی
29:36اگر آج اس ویڈیو کو دیکھنے کے بعد
29:39کسی ایک شخص کے دل میں بھی یہ تڑپ پیدا ہو گئی
29:42کہ اسے اپنی زندگی بنلنی ہے
29:44اسے الفاظ کے قائد خانے سے نکل کر
29:47عشق کی وسطوں میں جانا ہے
29:48تو میں سمجھوں گا کہ میری محنت وصول ہو گئی
29:51اللہ پاک ہمیں صرف پڑھنے والا نہیں
29:54بلکہ محسوس کرنے والا بنائے
29:56ہمیں وہ آنکھ دے جو حقیقت کو دیکھ سکے
29:59اور وہ دل دے جو اللہ کی محبت میں دھڑک سکے
30:02دوستو تصوف کا یہ سفر ابھی خط نہیں ہوا
30:06رومی اور شمس کی زندگی کے
30:08ابھی بہت سے ایسے گوشے باقی ہیں
30:10جو آپ کی روح کو تڑپا دیں گے
30:12اگر آپ چاہتے ہیں کہ ہم اس طرح کے
30:14مزید موضوعات پر بات کریں
30:15تو کومنٹس میں اپنی رائے ضرور دیں
30:18اپنا اور اپنے پیاروں کا خیال رکھئے گا
30:20اللہ حافظ

Recommended