- 2 days ago
Nafs E Mutmainnah Kya Hai - Wo Maqam Jahan Allah Banda Se Razi Ho Jata Hai - Nafs
Category
📚
LearningTranscript
00:00نحمدہ و نسلی علی رسول کریم
00:03میرے نہایت ہی واجب الاحترام دوستوں، بزرگوں اور نوجوان ساتھیوں
00:07السلام علیکم ورحمت اللہ وبرکاتہ
00:10تذکیہ نفس کے اس روحانی اور نورانی سفر میں
00:14آج ہم اس آخری اور سب سے بلند ترین منزل پر قدم رکھ رہے ہیں
00:18جہاں پہنچ کر انسانی روح کو وہ قرار اور وہ سکون ملتا ہے
00:22جس کی تلاش میں پوری دنیا ماری ماری پھر رہی ہے
00:25پچھلی نشستوں میں ہم نے نفس امارہ کی سرکشی
00:29اور نفس لوامہ کی ملامت کو تفصیل سے سمجھا تھا
00:32لیکن آج کی یہ گفتگو اس انام کے بارے میں ہے
00:35جو مجاہدہ کرنے والوں اور توبہ کرنے والوں کو
00:38اللہ کی طرف سے عطا کیا جاتا ہے
00:40یعنی نفس مطمئنہ
00:42میرے دوستوں مطمئنہ کا لفظ اتمنان سے نکلا ہے
00:46جس کا مطلب ہے سکون پا جانا، راضی ہو جانا
00:49اور ہر قسم کے شک و شبہ سے پاک ہو جانا
00:52یہ نفس کی وہ حالت ہے جہاں نفس اب انسان کا دشمن نہیں رہتا
00:57بلکہ وہ اللہ کا وفادار خادم اور دوست بن جاتا ہے
01:01اس پہلے نکتے میں ہم نفس مطمئنہ کی تعریف
01:04اور اس کی قرآنی اہمیت کو سمجھیں گے
01:06کہ آخر میرا رب اس نفس والے بندے سے کتنا پیار کرتا ہے
01:10قرآن مجید میں اللہ رب العزت نے
01:12سورة الفجر کی آخری آیات میں
01:14اس نفس کا تذکرہ ایسے دل نشین انداز میں فرمایا ہے
01:18کہ سننے والے کی روح تڑپ اٹھتی ہے
01:20اللہ فرماتا ہے
01:21یا ایتوہن نفس المطمئنہ
01:24ارجائی الہ رب کی رازیت مردیہ
01:27فدخلی فی عبادی ودخلی جنتی
01:30یعنی اے اتمنان پانے والے نفس
01:32اپنے رب کی طرف لوٹ چل
01:34اس حال میں کہ تو اس سے رازی اور وہ تجھ سے رازی
01:37پس تو میرے خاص بندوں میں شامل ہو جا
01:39اور میری جنت میں داخل ہو جا
01:41سبحان اللہ
01:42ذرہ ان الفاظ کی مٹھاس
01:44اور ان کے پیچھے چھپی ہوئی رب کی محبت پر غور کریں
01:47یہاں اللہ تعالیٰ اپنے بندے کو
01:49کسی ڈر یا خوف کے ساتھ نہیں بولا رہا
01:51بلکہ اسے ایک معزز مہمان کی طرح پکار رہا ہے
01:54صوفیہ اکرام فرماتے ہیں
01:56کہ نفس مطمئنہ وہ مقام ہے
01:58جہاں بندے اور رب کے درمیان
02:00تمام پردے ہٹ جاتے ہیں
02:02اور بندہ اپنے خالق کی معرفت میں
02:04ایسا ڈوب جاتا ہے
02:05کہ اسے کائنات کی کسی اور چیز کی طلب نہیں رہتی
02:08نفس امارہ میں
02:10انسان گناہ کی لذت کے پیچھے بھاگتا تھا
02:12نفس لوامہ میں وہ گناہ
02:14اور نیکی کے درمیان تڑپتا تھا
02:16لیکن نفس مطمئنہ وہ مقام ہے
02:19جہاں گناہ کی جڑھ ہی کٹ جاتی ہے
02:21اب اس انسان کا جی ہی نہیں چاہتا
02:23کہ وہ اپنے رب کی نافرمانی کرے
02:25اسے اب جھوٹ بوننے میں
02:26وہ تکلیف ہوتی ہے
02:27جو ایک عام انسان کو آگ میں ہاتھ ڈالنے سے ہوتی ہے
02:31اسے اب نیکی کرنے کیلئے
02:33کسی مشکت کی ضرورت نہیں پڑتی
02:35بلکہ نیکی اس کی فطرت بن جاتی ہے
02:37جیسے پھول کی فطرت خوشبو دینا ہے
02:40اور سورج کی فطرت روشنی دینا ہے
02:42نفس مطمئنہ والا بندہ وہ ہے
02:44جس نے اپنے اندر کے اجدہے کو
02:46ذکر الہی کی ضربوں سے مار دیا ہے
02:49اور اب اس کا دل
02:50اللہ کے نور کا عرش بن چکا ہے
02:52بزرگان دین فرماتے ہیں
02:54کہ جب انسان اس سٹیج پر پہنچتا ہے
02:56تو اسے دنیا کے دکھ اور سکھ
02:58ایک چیسے لگنے لگتے ہیں
02:59اگر اسے کوئی بڑی تکلیف پہنچتی ہے
03:01تو وہ جزہ فضا نہیں کرتا
03:03بلکہ خاموشی سے کہتا ہے
03:05کہ میرے رب کا یہی فیصلہ ہے
03:07اور میں اس پر مطمئن ہوں
03:09اور اگر اسے کوئی بہت بڑی خوشی ملتی ہے
03:11تو وہ تکبر نہیں کرتا
03:12بلکہ آجزی سے سجدے میں گر جاتا ہے
03:14کہ یہ سب میرے اللہ کا کرم ہے
03:17آج ہم سب سکون کی تلاش میں
03:19گھروں سے نکلتے ہیں
03:20کوئی کہتا ہے کہ پیسہ آ جائے
03:21تو سکون ملے گا
03:22کوئی کہتا ہے کہ عہدہ مل جائے
03:24تو اتمنان ہوگا
03:25مگر یاد رکھئے
03:26کہ سکون کسی مادی چیز میں نہیں رکھا گیا
03:29سکون تو اللہ نے صرف اپنے ذکر
03:31اور اس نفس مطمئنہ میں چھپا رکھا ہے
03:33جب تک آپ کا نفس
03:35اللہ کے فیصلوں پر مطمئن نہیں ہوگا
03:37آپ کو دنیا کا کوئی خزانہ سکون نہیں دے سکتا
03:40نفس مطمئنہ والا شخص تو وہ ہے
03:42جو جھوپڑی میں بیٹھ کر بھی
03:44وہ بادشاہت کرتا ہے
03:45جو بڑے بڑے سلاتین کو نصیب نہیں ہوتی
03:47اہل سنت والجماعت کے تمام مشایخ
03:50اور اولیاء اللہ کا مقصد زندگی
03:52یہی تھا کہ وہ اپنے مریدوں کو
03:54نفس امارہ کی غلازت سے نکالیں
03:56اور انہیں نفس مطمئنہ کی پاکیزگی
03:58تک پہنچا دیں
03:59اس مقام پر پہنچ کر انسان کو
04:01اللہ کی حضوری کا وہ احساس نصیب ہوتا ہے
04:04کہ وہ چلتے پھرتے اٹھتے بھیٹھتے
04:06یہی محسوس کرتا ہے
04:07کہ میرا رب میرے ساتھ ہے
04:09اور وہ مجھے دیکھ رہا ہے
04:10یہی وہ مقام احسان ہے
04:12جس کا ذکر حدیث جبریل میں کیا گیا ہے
04:15نفس مطمئنہ کا ایک بہت بڑا راز یہ ہے
04:18کہ یہ نفس صرف آخرت میں مطمئن نہیں ہوگا
04:20بلکہ اسے دنیا میں ہی جنت کی
04:22ٹھنڈک محسوس ہونے لگتی ہے
04:23اللہ کے ولیوں کو
04:25اسی لیے دنیا کا کوئی خوف پریشان نہیں کرتا
04:28کیونکہ ان کا اتمنان کسی انسان
04:30یا کسی حکومت سے نہیں
04:31بلکہ براہ راست
04:32اللہ کی ذات سے جڑا ہوتا ہے
04:34حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے غلاموں میں
04:38حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ
04:40اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے نفوس
04:43اسی مطمئنہ کی تصویر تھے
04:45کہ بڑی سے بڑی آزماش بھی
04:46ان کے پایہ استقلال میں لغزش نہ لاسکی
04:49آج ہمیں بھی اپنا محاسبہ کرنا ہے
04:52کہ کیا ہم اس منزل کی طرف قدم بڑھانے کے لیے تیار ہیں
04:55کیا ہم اپنے نفس کی سرکشی کو ختم کر کے
04:57اسے رب کی رضا میں فنا کرنے کے لیے تیار ہیں
05:00اگر آج ہم اس راستے پر چل پڑیں گے
05:03تو کل قیامت کے دن جب سب لوگ پریشان ہوں گے
05:06تو ہمیں اللہ کی طرف سے وہی پکار سنائی دے گی
05:08کہ اے اتمنان پانے والے نفس
05:10آج تو مجھ سے راضی ہے
05:12اور میں تجھ سے راضی ہوں
05:13جی بھائیو
05:14اب ہم نفس مطمئنہ کے پہلے نکتے کی تفصیل مکمل کر چکے ہیں
05:19اب ہم دوسرے نکتے
05:20یعنی رضا الہی اور اللہ کے ہر فیصلے پر
05:23راضی رہنے کے راز کی تفصیل شروع کرتے ہیں
05:26جی عمر
05:27شکریہ عثمان صاحب
05:28جی بلکل یہی سچ ہے بھائیو
05:30نفس مطمئنہ کی تعریف
05:32اور اس کی قرآنی عظمت کو جاننے کے بعد
05:34اب ہم اس کی سب سے بڑی اور روشن علامت کی طرف آتے ہیں
05:37جسے صوفیہ اکرام اور اولیاء اللہ
05:40مقام رضا کہتے ہیں
05:41یعنی اللہ کے ہر فیصلے پر
05:43ہر حال میں دل کی گہرائیوں سے راضی ہو جانا
05:46میرے دوستو
05:47یاد رکھئے کہ انسانی زندگی کی تمام پریشانیوں
05:51تمام الجھنوں
05:52اور تمام ذہنی دکھوں کی جڑ
05:54صرف ایک ہے
05:55اور وہ یہ ہے کہ ہم ہر لمحہ یہ چاہتے ہیں
05:57کہ زندگی ہماری مرضی کے مطابق چلے
06:00لوگ وہی کریں جو ہمیں پسند ہو
06:02اور حالات وہی ہوں
06:04جو ہم نے سوچ رکھے ہیں
06:05لیکن کائنات کا قانون یہ ہے
06:07کہ یہاں صرف اس کی مرضی چلتی ہے
06:09جو خالق اور مالک ہے
06:11جب ہماری چھوٹی سی مرضی
06:13اللہ کی بڑی مرضی سے ٹکراتی ہے
06:15تو ہمارے اندر ایک ٹوفان برپا ہو جاتا ہے
06:17ہم بے چین ہو جاتے ہیں
06:19ہم رونا دھونا شروع کر دیتے ہیں
06:21اور یہی وہ مقام ہے
06:22جہاں نفس امارہ
06:24ہمیں شکوے شکایتوں کی دلدل میں گرا دیتا ہے
06:26لیکن نفس مطمئنہ وہ بلند مقام ہے
06:29جہاں بندہ اپنی تمام خواہشات کا گلہ گھوٹ کر
06:32اور اپنی تمام تمناوں کی قربانی دے کر
06:35اپنے رب کی مرضی میں
06:36اپنی مرضی کو مکمل طور پر مٹا دیتا ہے
06:39وہ کہتا ہے کہ
06:40اے میرے مالک
06:41اگر تم مجھے دولت دے کر راضی ہے
06:43تو میں شکر کے ساتھ راضی ہوں
06:45اور اگر تم مجھے بھاکوں میں رکھ کر راضی ہے
06:47تو میں تیری اس قضاء پر بھی سر جھکاتا ہوں
06:50مفصلین کرام فرماتے ہیں
06:52کہ نفس مطمئنہ کا اصل راز ہی
06:59اللہ ان سے راضی ہو گیا
07:00اور وہ اللہ سے راضی ہو گئے
07:02ذرا اس مقام کی بلندی پر غور کریں
07:05کہ اللہ کا اپنے بندے سے راضی ہونا
07:07تو سمجھ میں آتا ہے
07:08کہ وہ خالق ہے
07:09وہ مالک ہے
07:10وہ جس پر چاہے اپنا کرم کر دے
07:12لیکن ایک آجز ناتوان اور گناہگار بندہ
07:15اپنے رب سے کیسے راضی ہو سکتا ہے
07:17اس کا مطلب یہ ہے
07:19کہ اللہ کی طرف سے آنے والی
07:20ہر تقدیر پر
07:21ہر فیصلے پر
07:22اور ہر آزمائش پر
07:24بندہ مسکرا کر کہے
07:25کہ اے میرے اللہ
07:26تُو نے جو کیا
07:27وہ میرے لیے بہترین ہے
07:29کیونکہ تُو مجھ سے
07:30ستر ماں سے زیادہ پیار کرتا ہے
07:32اسے ایک مثال سے سمجھیں
07:34کہ ایک ماں اپنے بچے کو
07:35کڑوی دوا پلاتی ہے
07:36یا اسے انجیکشن لگواتی ہے
07:38تو بچہ درد سے روتا ہے
07:40وہ اپنی ماں کو دشمن سمجھنے لگتا ہے
07:42اسے لگتا ہے
07:43کہ ماں مجھ پر ظلم کر رہی ہے
07:44لیکن ماں جانتی ہے
07:46کہ یہ کڑواہٹ
07:47اس کی بیماری کا علاج ہے
07:48اور یہ درد
07:49اس کی زندگی کی زمانت ہے
07:51بلکل اسی طرح
07:52اللہ تعالیٰ جب ہمیں
07:53کسی تکلیف یا بیماری میں ڈالتا ہے
07:55یا ہمارا کوئی پیارا
07:56ہم سے چھین لیتا ہے
07:57تو ہمارا نفس سے
07:59ہمارا چیخ اٹھتا ہے
08:00کہ میرے ساتھ ہی ایسا کیوں ہوا
08:02میں نے تو کسی کا برا نہیں کیا تھا
08:03میں تو نمازیں بھی پڑھتا ہوں
08:05لیکن نفس مطمئنہ والا بندہ جانتا ہے
08:08کہ میرا رب مجھے
08:09اس تکلیف کے ذریعے پاک کر رہا ہے
08:11وہ میرے گناہ جھاڑ رہا ہے
08:13وہ میرے درجات بلند کر رہا ہے
08:15اور وہ مجھے کسی ایسے بڑے فتنے سے بچا رہا ہے
08:18جس کا مجھے علم نہیں ہے
08:19حضرت ابراہیم علیہ السلام کی مثال
08:22ہمارے سامنے ہے
08:23جنہیں جب آگ کے علاؤں میں پھینکا جا رہا تھا
08:25تو کائنات کے تمام فرشتے بے چین تھے
08:28مگر ابراہیم علیہ السلام کا نفس مطمئنہ
08:30اس قدر پرسکون تھا
08:32کہ آپ نے جبرائیل امین کی مدد لینے سے بھی انکار کر دیا
08:35اور فرمایا کہ میرا رب مجھے دیکھ رہا ہے
08:38اور اس کا دیکھنا ہی میرے لیے کافی ہے
08:40یہی وہ اتمنان ہے
08:42جو انسان کو دنیا کا سب سے بڑا بادشاہ بنا دیتا ہے
08:45کیونکہ جو اللہ کے فیصلے سے راضی ہو گیا
08:47اسے پھر کسی انسان کی پرواہ نہیں رہتی
08:50اور نہ ہی اسے مستقبل کا کوئی ڈر ستاتا ہے
08:53آج کل ہم ڈپریشن اور ٹینشن کا رونا روتے ہیں
08:56ہم کہتے ہیں کہ جی گھر میں سکون نہیں ہے
08:58اولاد نافرمان ہے
08:59کاروبار میں برکت نہیں ہے
09:01میرے بھائیوں سکون تب ملے گا
09:04جب تم اللہ کے فیصلوں سے لڑنا چھوڑ دوگے
09:06جب تک تمہارے اندر یہ زد رہے گی
09:08کہ وہی ہونا چاہیے جو میں چاہتا ہوں
09:10تب تک تم تڑپتے رہو گے
09:12لیکن جس دن تم نے اپنے آپ کو اللہ کے سپرد کر دیا
09:15اور یہ کہہ دیا کہ مولا میں تیرا ہوں
09:18اور تو جو کرے وہ حق ہے
09:19اس دن تمہارے دل میں وہ ٹھنڈک اترے گی
09:22جو کائنات کے کسی محل میں نصیب نہیں ہو سکتی
09:25صوفیہ کرام فرماتے ہیں
09:27کہ رضا الہی کا مطلب یہ نہیں
09:29کہ انسان کوشش کرنا چھوڑ دے
09:31بلکہ مطلب یہ ہے
09:32کہ انسان اپنی پوری کوشش کرے
09:34تمام اسواب اختیار کرے
09:36اور پھر جو نتیجہ نکلے
09:37اسے اللہ کا حکم سمجھ کر قبول کر لے
09:40اگر نتیجہ مرضی کے مطابق آئے
09:42تو الحمدللہ کہے
09:44اور اگر مرضی کے خلاف آئے
09:45تو شکر کرے کہ میرے رب نے
09:47میری ناکس اکل کے بجائے
09:49اپنی کامل حکمت سے فیصلہ فرمایا ہے
09:51بزرگان دین کا یہ معمول رہا ہے
09:53کہ وہ دکھ میں بھی ویسے ہی مسکراتے تھے
09:56جیسے سکھ میں مسکراتے تھے
09:57کیونکہ ان کی نظر انعام پر نہیں
09:59بلکہ انعام دینے والے پر ہوتی تھی
10:02وہ کہتے تھے کہ اگر یہ تکلیف
10:03میرے محبوب کی طرف سے آئی ہے
10:05تو یہ تکلیف بھی میرے لیے تحفہ ہے
10:07حضرت ایوب علیہ السلام کی زندگی کو دیکھیں
10:10کہ برسوں بیماری میں رہے
10:12جسم گل گیا
10:13رشتے دار چھوڑ گئے
10:14مگر جب اللہ نے پوچھا کہ
10:16اے ایوب کیا حال ہے
10:17تو جواب دیا کہ مولا
10:19میں تیرے فیصلے پر خوش ہوں
10:20یہی وہ نفس مطمئنہ ہے
10:22جس کے لیے جنت کے دروازے کھولے جاتے ہیں
10:25آج ہمیں اپنے دل کا موازنہ کرنا ہوگا
10:28کہ کیا ہم اللہ کے تقسیم کیے ہوئے رزق پر راضی ہیں
10:31یا دوسروں کی دولت دیکھ کر
10:32حسد کی آگ میں جل رہے ہیں
10:34کیا ہم اپنے نصیب پر مطمئن ہیں
10:36یا ہر وقت تقدیر کو گالیاں دیتے ہیں
10:38یاد رکھئے کہ تقدیر پر اعتراض کرنا
10:41دراصل اللہ کی حکمت پر اعتراض کرنا ہے
10:43اور یہ نفس امارہ کی سب سے بڑی شرارت ہے
10:46ہمیں اپنے اندر کی اس بیچینی کو ختم کرنے کے لیے
10:49سچی توبہ کرنی ہوگی
10:51اور اپنے رب کے سامنے گڑ گڑا کر یہ مانگنا ہوگا
10:53کہ باری تعالیٰ میں بہت کمزور ہوں
10:56مجھے اپنی رضا کی مٹھاس عطا فرما
10:58جب انسان اس مقام پر پہنچتا ہے
11:00تو اللہ اسے ایک ایسی باطنی بصیرت عطا کرتا ہے
11:03کہ اسے ہر برائی میں بھی کوئی نہ کوئی بھلائی نظر آنے لگتی ہے
11:07اور وہ ہر حال میں پرسکون رہتا ہے
11:09نفس مطمئنہ والا بندہ کبھی مایوس نہیں ہوتا
11:12کیونکہ اس کا بھروسہ فانی انسانوں پر نہیں
11:15بلکہ اس حیل قیوم ذات پر ہوتا ہے
11:17جسے نہ کبھی موت آئے گی
11:19اور نہ کبھی زوال آئے گا
11:21بے شک
11:22جی بھائیو
11:23اب اس ایمان افروز گفتگو کے بعد
11:26ہم اگلے مرحلے میں
11:27نفس مطمئنہ کی ان خاص نشانیوں اور علامات کا ذکر کریں گے
11:32جن سے پتا چلتا ہے
11:33کہ ایک انسان کے اندر سے
11:35غصہ حسد اور تکبر کیسے ختم ہوتا ہے
11:38اور وہ اللہ کی حضوری میں
11:40کیسے ہر وقت موجود رہتا ہے
11:42یہ وہ حصہ ہے جو آپ کو بتائے گا
11:44کہ کیا آپ بھی اس منجل کے قریب پہنچ چکے ہیں یا نہیں
11:48آئیے
11:49تفصیل جانتے ہیں عمر سے
11:50شکریہ عثمان صاحب
11:52جی بھائیو
11:53اللہ کے ہر فیصلے پر راضی رہنے
11:56اور مقام رضا کی حقیقت کو سمجھنے کے بعد
11:58اب ہم نفس مطمئنہ کی ان خاص نشانیوں
12:01اور علامات کی طرف بڑھتے ہیں
12:03جن سے ہمیں یہ پتا چلتا ہے
12:05کہ ایک انسان کے اندر کا طوفان تھم چکا ہے
12:08اور اس کی روح کو وہ قرار مل چکا ہے
12:10جس کا وعدہ اللہ نے اپنے دوستوں سے کیا ہے
12:12میرے دوستوں
12:13جس طرح بخار کی کچھ علامات ہوتی ہیں
12:16اور صحت کی کچھ نشانیاں ہوتی ہیں
12:18بلکل اسی طرح جب انسان
12:20نفس مطمئنہ کی منزل پر پہنچتا ہے
12:22تو اس کے اخلاق اور اس کے برطاؤں میں
12:24ایسی واضح تبدیلیاں آتی ہیں
12:26کہ دنیا اسے دیکھ کر گواہی دیتی ہے
12:28کہ یہ اللہ کا کوئی خاص بندہ ہے
12:30نفس مطمئنہ کی سب سے پہلی اور بڑی نشانی
12:33غصے پر مکمل قابو اور بے پناہ صبر ہے
12:36یاد رکھئے
12:38کہ غصہ نفس امارہ کا سب سے بڑا ہتیار ہے
12:40جو انسان کو اندھا کر دیتا ہے
12:42مگر جب نفس مطمئنہ بیدار ہوتا ہے
12:45تو وہ اس آگ کو ٹھنڈا کر دیتا ہے
12:47ہمارے پیارے آقا
12:49حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
12:52نے ارشاد فرمایا
12:53کہ پہلوان وہ نہیں جو دوسرے کو پچھار دے
12:55بلکہ اصل پہلوان وہ ہے
12:57جو غصے کے وقت اپنے نفس پر قابو رکھے
13:00نفس مطمئنہ والا شخص وہ ہوتا ہے
13:02جسے اگر کوئی گالی بھی دے
13:04تو وہ بدلے میں اسے دعا دیتا ہے
13:06اگر کوئی اس کا حق مارے
13:07تو وہ اسے اللہ کے لیے ماف کر دیتا ہے
13:10اس کی مثال
13:11اس سندل کی لکڑی جیسی ہوتی ہے
13:13کہ جو کلہاڑی اسے کاٹتی ہے
13:15وہ اسی کلہاڑی کو بھی خوشبو سے بھر دیتی ہے
13:17جب آپ کے اندر یہ صفت پیدا ہو جائے
13:19کہ آپ کو کسی کی بدتمیزی پر غصہ نہ آئے
13:22بلکہ اس کی نادانی پر ترس آنے لگے
13:24تو سمجھ لیں
13:25کہ آپ کا نفس مطمئن ہو رہا ہے
13:27نفس مطمئنہ کی دوسری بڑی علامت
13:30حسد اور کینے کا مکمل خاتمہ ہے
13:32حسد وہ آگ ہے
13:34جو انسان کو اندر ہی اندر جلاتی رہتی ہے
13:36کہ فلا کے پاس یہ نعمت کیوں ہے
13:38وہ مجھ سے آگے کیوں نکل گیا
13:40مگر نفس مطمئنہ والا بندہ
13:42اس بیماری سے آزاد ہو چکا ہوتا ہے
13:44اسے پتا ہوتا ہے
13:45کہ رزق بانٹنے والی ذات اللہ کی ہے
13:47وہ جس کو جتنا دے وہ اس کی مرضی ہے
13:50اسے دوسروں کی خوشی میں
13:51اپنی خوشی محسوس ہوتی ہے
13:52اس کے دل میں کسی مسلمان بھائی کے لیے
13:55کوئی بغض باقی نہیں رہتا
13:56وہ رات کو جب سوتا ہے
13:58تو اپنا سینہ تمام لوگوں کے لیے
13:59صاف کر کے سوتا ہے
14:00یہی وہ کیفیت ہے
14:02جس کی وجہ سے ایک صحابی کو
14:04حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے
14:06جیتے جی جنتی ہونے کی بشارت دی تھی
14:08نفس مطمئنہ کی تیسری نشانی
14:11دنیا کی حوث اور شہرت کی تمنا سے بے نیازی ہے
14:14آج کل ہر بندہ اس دوڑ میں لگا ہوا ہے
14:17کہ میرا نام ہو
14:18میری واہ واہ ہو
14:19میرے پاس سب سے زیادہ دولت ہو
14:20مگر جس کا نفس اللہ پر مطمئن ہو جاتا ہے
14:23اسے دنیا کی ان کھلونوں سے کوئی غرض نہیں رہتی
14:26وہ شہرت سے ایسے بھاگتا ہے
14:28جیسے کوئی درندے سے بھاگتا ہو
14:29وہ غمنامی میں رہ کر
14:31اللہ کی بندگی کرنے میں زیادہ خوش ہوتا ہے
14:33صوفیاء کرام فرماتے ہیں
14:35کہ نفس مطمئنہ والا شخص دنیا میں ایسے رہتا ہے
14:38جیسے پانی میں بتخ رہتی ہے
14:40کہ وہ پانی میں تیرتی تو ہے
14:41مگر اس کے پر گیلے نہیں ہوتے
14:43یعنی دنیا اس کے ہاتھ میں تو ہوتی ہے
14:45مگر اس کے دل میں نہیں ہوتی
14:47نفس مطمئنہ کی چوتھی اور سب سے خوبصورت علامت
14:50ہر وقت اللہ کی حضوری کا احساس ہے
14:53اسے صوفیاء کی اسطلاح میں مقام احسان کہتے ہیں
14:56ایسا شخص جب نماز پڑھتا ہے
14:59تو اسے ایسا لگتا ہے
15:00کہ وہ اللہ کو دیکھ رہا ہے
15:01اور جب وہ دنیا کے کام کرتا ہے
15:03تب بھی اسے یہ یقین ہوتا ہے
15:04کہ میرا رب مجھے دیکھ رہا ہے
15:06اس احساس کی وجہ سے
15:08اس کی زندگی سے گناہ خود بخود ختم ہو جاتے ہیں
15:10وہ تنہائی میں بھی ویسا ہی ہوتا ہے
15:12جیسا وہ محفل میں ہوتا ہے
15:14اس کے ظاہر اور باطن میں کوئی فرق نہیں رہتا
15:16وہ منافقت کی ہر قسم سے پاک ہو چکا ہوتا ہے
15:19پانچوی علامت یہ ہے
15:21کہ اسے اللہ کے ذکر میں وہ لذت اور مٹھاس ملتی ہے
15:24جو دنیا کی کسی مادی نعمت میں نہیں ہے
15:26جب وہ اللہ کا نام لیتا ہے
15:28تو اس کے دل کی دھڑکنیں تیز ہو جاتی ہیں
15:30اور اس کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو جاتے ہیں
15:32یہ آنسو دکھ کے نہیں ہوتے
15:34بلکہ یہ محبوب کی یاد کے میچھے آسو ہوتے ہیں
15:37نفس مطمئنہ والے بندے کو دیکھ کر خدا یاد آ جاتا ہے
15:40اس کی محفل میں بیٹھنے والوں کے مردہ دل زندہ ہو جاتے ہیں
15:43بزرگان دین فرماتے ہیں
15:45کہ نفس مطمئنہ کی ایک اور پہچان یہ ہے
15:48کہ اسے موت سے ڈر نہیں لگتا
15:49بلکہ وہ موت کا انتظار ایسے کرتا ہے
15:52جیسے کوئی پردیسی اپنے گھر جانے کا انتظار کرتا ہے
15:55کیونکہ اسے پتا ہوتا ہے
15:56کہ موت ہی وہ پل ہے
16:04جادو سے پیدا نہیں ہوتی
16:05بلکہ یہ برسوں کے مجاہدے
16:07توبہ اور ذکرِ الہی کا سمر ہوتی ہیں
16:09اگر آج ہمارے اندر غصہ باقی ہے
16:12اگر ہم اب بھی دوسروں سے حسد کرتے ہیں
16:14اگر ہمیں ابھی بھی اپنی بڑائی کا شوق ہے
16:16تو ہمیں سمجھ لینا چاہیے
16:18کہ ہمارا نفس ابھی امارہ
16:19یا لوامہ کی سٹیج پر ہے
16:21اور ہمیں ابھی بہت محنت کی ضرورت ہے
16:23نفس مطمئنہ کی ان علامات کو سنانے کا مقصد یہ ہے
16:26کہ ہم اپنا روحانی ایکسرے خود کر سکیں
16:29اور یہ دیکھ سکیں
16:30کہ ہم منزل سے کتنی دور ہیں
16:31آج کل کے پرفتن دور میں
16:33جہاں ہر طرف نفسانی خواہشات کا غلبہ ہے
16:36نفس مطمئنہ کو حاصل کرنا ایسا ہی ہے
16:38جیسے انگاروں پر چلنا
16:40مگر جو حمد کرتا ہے
16:42اللہ اسے اکیلا نہیں چھوڑتا
16:43ہمیں چاہیے کہ ہم ان علیاء اللہ کی سیرت کا مطالعہ کریں
16:47جن کے نفس مطمئنہ کی گواہی تاریخ نے دی ہے
16:49حضرت غوث آزم شیخ عبدالقادر جیلانی رحمت اللہ علیہ کی زندگی کو دیکھیں
16:54آپ پر کیسے کیسے اعتراضات ہوئے
16:56کیسی کیسی آزمائشیں آئیں
16:57مگر آپ کا نفس پہاڑ کی طرح اپنی جگہ پر جمع رہا
17:00اور ہمیشہ اللہ کی رضا پر راضی رہا
17:03یہی وہ مقام ہے جہاں پہنچ کر انسان کو حقیقی آزادی نصیب ہوتی ہے
17:07کیونکہ وہ نفس کی غلامی سے نکل کر
17:09اللہ کا بندہ بن جاتا ہے
17:11ایک منٹ بھائیوں
17:12نفس مطمئنہ کی ان پرنور نشانیوں کو سمجھنے کے بعد
17:16اب ہم ویڈیو کے چوتھے اور انتہائی عملی نکتے کی طرف بڑھیں گے
17:20جس میں ہم یہ سیکھیں گے
17:21کہ آخر اس بلند مقام تک پہنچنے کا راستہ کیا ہے
17:25وہ کونسی سیڑھیاں ہیں
17:26جن پر چڑھ کر ایک عام گناہگار انسان بھی
17:29اپنے نفس کو مطمئن کر سکتا ہے
17:31اور ولایت کی منزل پا سکتا ہے
17:34یہ وہ حصہ ہے
17:35جو آپ کی زندگی میں ایک انقلابی تبدیلی لانے والا ہے
17:39آئیے مزید معلومات جانتے ہیں عمر سے
17:41جی بالکل بھائیوں
17:43نفس مطمئنہ کی نشانیوں اور اس کی پرنور علامات کو جان لینے کے بعد
17:47اب ہمیں سب سے اہم اور عملی سوال کی طرف آتے ہیں
17:50کہ آخر اس بلند ترین مقام تک پہنچا کیسے جائے
17:53اور وہ کونسی سیڑھیاں ہیں
17:54جن پر چڑھ کر
17:55ایک عام انسان اپنے نفس کی سرکشی کو ختم کر کے
17:58اسے رب کا وفادار بنا سکتا ہے
18:05یا جو کسی کو وراثت میں مل جائے
18:07بلکہ یہ تو وہ قیمتی ہیرہ ہے
18:09جو مسلسل محنت، مشکت اور مجاہدے کی بھٹی میں تپنے کے بعد حاصل ہوتا ہے
18:14صوفیہ اکرام اور اولیاء اللہ فرماتے ہیں
18:16کہ اس منزل تک پہنچنے کے لیے انسان کو تین بڑے مراحل سے گزرنا پڑتا ہے
18:21اور ان میں سے پہلا مرحلہ نفس امارہ سے لڑنا اور اس کی مخالفت کرنا ہے
18:25آپ پچھلی ویڈیوز میں سن چکے ہیں کہ نفس امارہ وہ دشمن ہے
18:28جو ہر وقت برائی کا حکم دیتا ہے
18:30اس منزل پر پہنچنے کا پہلا قدم یہ ہے
18:33کہ آپ اپنے نفس کے ہر اس حکم کو ٹھکرا دیں
18:35جو اللہ کی نافرمانی کی طرف لے جاتا ہو
18:37اگر آپ کا نفس کہے کہ آج آرام کرو
18:40تو آپ اسے عبادت پر لگائیں
18:41اگر وہ کہے کہ فضول باتیں کرو
18:43تو آپ حاموشی اختیار کریں
18:44جتنا زیادہ آپ اپنے نفس کو تھکائیں گے
18:47اتنا ہی وہ کمزور ہوگا اور لووامہ کی طرف بڑھے گا
18:50دوسرا بڑا مرحلہ توبہ اور استغفار کی کسرت ہے
18:52نفس مطمئنہ کی طرف جانے والا راستہ
18:55آنسووں سے دھلا ہوا راستہ ہے
18:57جب تک انسان اپنے گناہوں پر روتا نہیں
18:59اور اپنے رب کے سامنے آجزی سے یہ اقرار نہیں کرتا
19:02کہ باری تعالیٰ میں بہت کمزور ہوں
19:03تو مجھے حمد دے
19:04تب تک اس کا نفس پاک نہیں ہوتا
19:06بزرگان دین فرماتے ہیں
19:08کہ ہر وہ آنسو جو اللہ کے خوف سے نکلتا ہے
19:10وہ نفس کی آگ کو تھنڈا کر دیتا ہے
19:12اور اسے سکون کی طرف لے جاتا ہے
19:14اس سفر کی تیسری سیڑھی اور سب سے طاقتور ہتھیار
19:17ذکرِ الٰہی کی کسرت ہے
19:19میرے اور آپ کے آقا حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
19:23نے فرمایا
19:23کہ دلوں کو زنگ لگ جاتا ہے
19:25اور اس کا سیکل یعنی اس کی پالش
19:27اللہ کا ذکر ہے
19:28جب بندہ تنہائی میں بیٹھ کر اللہ اللہ کرتا ہے
19:31اور اپنے دل پر اللہ کے نام کی ضرب لگاتا ہے
19:33تو وہ زنگ اترنے لگتا ہے
19:35اور دل کے اندر وہ نور پیدا ہوتا ہے
19:36جو نفس کو مطمئن کر دیتا ہے
19:38ذکرِ الٰہی وہ خوراک ہے جو روح کو طاقتور بناتی ہے
19:41اور جب روح طاقتور ہو جاتی ہے
19:43تو وہ نفس کو اپنا قیدی منا لیتی ہے
19:45ایک بہت ہی اہم نقطہ جو نفس مطمئنہ کے لیے لازمی ہے
19:49وہ صحبتِ صالحین
19:50یعنی کسی کامل اللہ والے کا دامن تھامنا ہے
19:53اسے ایک مثال سے سمجھیں
19:54کہ اگر آپ کسی راستے سے نواقف ہوں
19:56اور وہاں قدم قدم پر خطرات ہوں
19:58تو کیا آپ اکیلے جانا پسند کریں گے
20:00ہرگز نہیں
20:00بلکہ آپ کسی ایسے گائیڈ کو تلاش کریں گے
20:03جو اس راستے کا ماہر ہو
20:04نفس کی اصلاح کا راستہ بہت پرپیچ ہے
20:06اور شیطان نے یہاں قدم قدم پر جال بچھا رکھے ہیں
20:09اس لیے آپ کو کسی ایسے روحانی طبیب کی ضرورت ہے
20:12جو آپ کے نفس کی نفس دیکھ کر آپ کو اس کا علاج بتا سکے
20:15اولیاء اللہ کی محفل میں ایک ایسی تاثیر ہوتی ہے
20:18جو مہینوں کی عبادت سے زیادہ فائدہ پہنچاتی ہے
20:20مولانا روم رحمت اللہ علیہ فرماتے ہیں
20:22کہ اللہ والوں کی صحبت میں تھوڑی دیر بیٹھنا
20:25سو سال کی بے ریا عبادت سے بہتر ہے
20:27اس کی وجہ یہ ہے
20:28کہ اللہ کے ولی کی ایک نظر
20:30آپ کے اندر کے اجدہے
20:31یعنی نفس امارہ کو بے جان کر دیتی ہے
20:33اور آپ کو اللہ سے جڑنے کی تڑا پتا کرتی ہے
20:36نفس مطمئنہ تک پہنچنے کا ایک اور عملی طریقہ
20:39اپنی غزہ کو پاک رکھنا ہے
20:41صوفیہ فرماتے ہیں کہ حرام لکمہ نفس کو فیرون بنا دیتا ہے
20:44اور حلال لکمہ نفس کو آجزی سکھاتا ہے
20:47جو شخص مشکوک اور حرام چیزوں سے بچتا ہے
20:49اس کا نفس بہت جلدی قابو میں آ جاتا ہے
20:51میرے بھائیو آج ہم کہتے ہیں
20:53کہ جی ہم کوشش تو بہت کرتے ہیں
20:55مگر ہم سے نفس قابو نہیں ہوتا
20:57تو ذرا دیکھیں کہ کیا ہم نے اپنی خواہشات کو کم کیا ہے
21:00کیا ہم نے اپنے پیٹ کو تھوڑی سی بھوک کا عادی بنایا ہے
21:02کیونکہ نفس پیٹ بھر کر کھانے سے موٹا ہوتا ہے
21:05اور بھوک سے دب جاتا ہے
21:06صوفیہ کا طریقہ یہی تھا
21:08کہ وہ اپنے نفس کو وہ چیز نہیں دیتے تھے
21:10جو وہ مانگتا تھا
21:11بلکہ وہ اس کی مرضی کے خلاف چلتے تھے
21:13حضرت ابراہیم بن ادھم رحمت اللہ علیہ جیسے لوگ
21:15جو بادشاہی چھوڑ کر فقیری میں آئے تھے
21:18ان کا مجاہدہ یہی تھا
21:19کہ انہوں نے اپنے نفس کو خاک میں رولا دیا
21:21تب جا کر انہیں وہ بادشاہت ملی
21:23جو کبھی ختم نہیں ہونے والی
21:25ہمیں بھی چاہیے کہ ہم آج سے ہی یہ مشک شروع کریں
21:27دن میں کم از کم ایک بار
21:28اپنے نفس کی کسی ایسی خواہش کو اللہ کے لیے قربان کریں
21:31جو جائز تو ہو
21:32مگر اس میں نفس کا مزہ ہو
21:34مثلا اگر آپ کو بہت زیادہ سونے کا جی چاہے
21:45ایک دن آپ کا نفس بڑے بڑے گناہوں کے پہاڑوں کے سامنے بھی نہیں ڈگمگائے گا
21:49نفس مطمئنہ کا راستہ دراصل عشق مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا راستہ ہے
21:55جتنا زیادہ آپ کے دل میں درود و سلام کی کسرت ہوگی
21:57اور جتنا زیادہ آپ کا دل مدینہ منورہ کی یاد میں تڑپے گا
22:01اتنا ہی جلدی آپ کا نفس دنیا سے بے رغبت ہو کر
22:03اللہ پر مطمئن ہو جائے گا
22:05اللہ کے نبی کے غلاموں کا یہی حال تھا
22:07کہ وہ فاقوں میں بھی اللہ کا شکر ادا کرتے تھے
22:10اور تلواروں کے سائے میں بھی پرسکون رہتے تھے
22:12ہمیں اپنے ایمان کو اسی میار تک لے جانا ہے
22:15یہ سفر مشکل ضرور ہے مگر ناممکن نہیں ہے
22:17کیونکہ اللہ کا وعدہ ہے کہ جو میری راہ میں کوشش کرتے ہیں
22:20میں ان پر اپنے راستے کھول دیتا ہوں
22:22تو میرے بھائیو آج کی اس گفتگو کا مقصد یہی ہے
22:25کہ ہم حمد نہ ہاریں
22:26اگر ہم سے بار بار غلطی ہوتی ہے
22:28تو ہم بار بار توبہ کریں
22:29اور اپنے نفس کو بار بار نیکی کی طرف گھسیٹیں
22:32یاد رکھئے کہ اللہ گرنے والے کو نہیں دیکھتا
22:35بلکہ وہ گر کر اٹھنے والے کو دیکھتا ہے
22:37کہ میرا بندہ میری خاطر اپنے نفس سے لڑ رہا ہے
22:39جس دن آپ کا نفس نیکی پر راضی ہو جائے گا
22:42اور آپ کو سجدے میں وہ لذت ملنے لگے گی
22:44جو کائنات کی کسی چیز میں نہیں ہے
22:45تو سمجھ لیں کہ آپ نے نفس مطمئنہ کی سیڑھی پر قدم رکھ دیا ہے
22:49بلکل بھائیوں
22:50ہم اب اس عملی گفتگو کے بعد
22:53اس سیریز کے پانچ میں
22:54اور سب سے ایمان افروز نکتے کی طرف بڑھیں گے
22:58جس میں ہم یہ دیکھیں گے
23:00کہ نفس مطمئنہ والے بندے کی موت کیسی ہوتی ہے
23:03اور اسے اللہ کی طرف سے کیا بشارتیں ملتی ہیں
23:06یہ وہ حصہ ہے جسے سن کر
23:09آپ کا دل جنت کے شوق میں مچل اٹھے گا
23:12تفصیل جانیں گے عمر سے
23:14جی عمر
23:15شکریہ عثمان صاحب
23:16جی بھائیوں
23:17نفس مطمئنہ کے حصول کے راستے
23:19اور اس کے مجاہدات کو جاننے کے بعد
23:21اب ہم اس روحانی سفر کے
23:23اس سب سے زیادہ ایمان افروز
23:25اور رکت آمیز مقام پر پہنچ چکے ہیں
23:27جس کا تصور ہی ایک مومن کے دل کو
23:29سکون اور تھنڈک عطا کر دیتا ہے
23:31یعنی نفس مطمئنہ والے بندے کا انجام
23:34اور اس کی موت کا حسین منظر
23:37میرے دوستو یاد رکھئے
23:38کہ موت ہر انسان کو آنی ہے
23:40لیکن ایک گناہگار اور نفس امارہ کے غلام کی موت میں
23:44اور ایک اللہ کے ولی
23:45اور نفس مطمئنہ والے کی موت میں
23:47زمین و آسمان کا فرق ہوتا ہے
23:49جس نے اپنی پوری زندگی اپنے نفس کو کچلنے میں گزاری
23:52جس نے اللہ کی رضا کے لیے اپنی خواہشات کو قربان کیا
23:56اور جس کا دل ہر وقت اللہ کی یاد سے آباد رہا
23:59اس کے لیے موت کوئی ڈراؤنی چیز نہیں ہوتی
24:01بلکہ یہ تو ایک عاشق کا
24:03اپنے حقیقی محبوب سے ملنے کا ذریعہ ہوتی ہے
24:06قرآن مجید میں
24:07اللہ رب العزت نے
24:08اس نفس والے بندے کو جو بشارت دی ہے
24:10وہ قائنات کا سب سے بڑا انام ہے
24:13جب نفس مطمئنہ والے بندے کی موت کا وقت قریب آتا ہے
24:16تو ملک الموت
24:17یعنی حضرت اسرائیل علیہ السلام
24:19اسے ڈرانے کے لیے نہیں
24:20بلکہ اللہ کا سلام لے کر حاضر ہوتے ہیں
24:23حدیث پاک میں آتا ہے
24:24کہ فرشتے جنت کے ریشمی کپڑے
24:26اور مدینہ منورہ کی خوشبوے لے کر نازل ہوتے ہیں
24:29اور اس پاکیزہ روح کو مخاطب کر کے کہتے ہیں
24:31کہ اے اتمنان پانے والی روح
24:34اب تو اپنے اس رب کی طرف لوٹ چل
24:36اس حال میں کہ
24:37تو اس سے راضی ہے
24:38اور وہ تجھ سے راضی ہے
24:39ذرا اس منظر کی مٹھاش کا تصور کریں
24:41کہ ادھر روح جسم سے نکل رہی ہوتی ہے
24:44اور ادھر اسے جنت کے نظارے کروائے جا رہے ہوتے ہیں
24:46نفس مطمئنہ والے بندے کو
24:48موت کی تکلیف محسوس نہیں ہوتی
24:50بلکہ وہ تو اس نور میں گم ہو جاتا ہے
24:53جو اسے اپنے رب کی طرف سے مل رہا ہوتا ہے
24:55اللہ تعالیٰ فرماتا ہے
24:56فَدْخُلِي فِيَ مِبَادِي
24:58وَدْخُلِي جَنَّتِي
24:59یعنی
25:00پس تو میرے خاص بندوں میں شامل ہو جا
25:02اور میری جنت میں داخل ہو جا
25:04صوفیاء اکرام فرماتے ہیں
25:06کہ یہ آواز صرف مرتے وقت نہیں
25:07بلکہ قبر کی تنہائی میں بھی
25:09اس بندے کے کانوں میں گونجتی رہتی ہے
25:11جس کی برکت سے اس کی قبر
25:20دنیا میں بھی وہ مقام عطا فرماتا ہے
25:22کہ لوگ اس کا نام سن کر خدا کو یاد کرتے ہیں
25:25اولیاء اللہ کے مزارات پر آج جو رونکے ہیں
25:28اور جو فیض جاری ہے
25:29وہ ان کے اسی نفس مطمئنہ کی برکت ہے
25:31کہ انہوں نے اپنی مرضی کو
25:33اللہ کی مرضی میں فنا کر دیا
25:34تو اللہ نے ان کے نام کو رہتی دنیا تک بقا عطا فرما دی
25:38بیرے بھائیو
25:39آج ہم سب کو یہ فکر کرنی چاہیے
25:41کہ جب ہماری موت کا وقت آئے
25:42تو کیا ہمارا نفس اس پکار کا حقدار ہوگا
25:45کیا ہمیں بھی ارجعی الاربکا
25:48یعنی اپنے رب کی طرف لوٹ آنے کی خوشخبری ملے گی
25:51اس کا فیصلہ آج ہم نے اپنی زندگی میں کرنا ہے
25:53اگر آج ہم نفس امارہ کی غلامی چھوڑ کر
25:56نفس لووامہ کی ملامت سن کر
25:58نفس وطمئنہ کی طرف قدم بڑھائیں گے
26:00تو یقین جانئے کہ ہماری موت
26:02ہماری زندگی سے زیادہ خوبصورت ہوگی
26:05تذکیہ نفس کے یہ پورا سفر
26:06آج ہم نے اس مقام پر مکمل کر لیا ہے
26:09ہم نے دشمن کو پہچانا
26:10ہم نے توبہ کا راستہ دیکھا
26:12اور آج ہم نے اس انام کا تذکرہ بھی سن لیا
26:14جو صبر کرنے والوں کو ملتا ہے
26:16اب اس گفتگو کے اختتام پر میری آپ سب سے گزارش ہے
26:19کہ ان باتوں کو صرف سننے تک محدود نہ رکھیں
26:21بلکہ اپنے باطن کی صفائی کی فکر کریں
26:24رمضان المبارک کا مہینہ قریب ہے
26:26اور یہ نفس کو مطمئن کرنے کا
26:28سب سے بہترین تربیتی کورس ہے
26:29آج ہم اہد کریں
26:30کہ ہم اپنے نفس کو اللہ کا وفادار بنائیں گے
26:33تاکہ کل قیامت کے دن
26:34ہم حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی
26:37شفاعت کے حق دار بن سکے
26:39اور اللہ ہمیں اپنے محبوب بندوں کی صف میں جگہ عطا فرمائے
26:43آئیے اب اس پوری سیریز کے اختتام پر
26:44اپنے رب کے حضور
26:45اپنے گناہوں کا بوجھ لیے
26:47آجزی کے ساتھ ہاتھ اٹھاتے ہیں
26:49اور وہ دعا مانگتے ہیں
26:50جو ہمارے نصیب بدل سکتی ہے
26:52یا اللہ
26:52یا رحمان
26:53یا رحیم
26:54اے دلوں کے حال کو جاننے والے
26:56اور اے نفسوں کی شرارتوں سے باخبر رب
26:59ہم تیرے آجز اور گناہگار بندے
27:01تیری بارگاہ میں حاضر ہیں
27:03یا اللہ
27:03ہم اعتراف کرتے ہیں
27:05کہ ہم نے اپنے نفسوں پر ظلم کیا ہے
27:07ہم نے تیرے ضمیر کی آواز کو نظر انداز کیا ہے
27:09اور ہم دنیا کی رنگینیوں میں کھو چکے ہیں
27:12مولا
27:13ہمیں نفسِ لبوامہ کی وہ تڑپ اتا فرما
27:15جو ہمیں گناہوں سے دور کر دے
27:17یا اللہ
27:18ہمیں اپنی غلطیوں کو ماننے کی حمت اتا کر
27:20اور ہمارے اندر سے تکبر اور انا کے بتوں کو پاش پاش کر دے
27:24اے باری تعالی
27:25ہمیں وہ آنکھ اتا کر جو اپنے عیبوں کو دیکھے
27:28اور وہ دل اتا کر جو تیری یاد میں تڑپتا ہو
27:31یا اللہ
27:31ہمیں سچی توبہ کی توفیق دے
27:33اور ہمارے نفسوں کو اپنے ذکر
27:35اور اپنی محبت کے ذریعے نفسِ مطمئنہ بنا دے
27:38اے ہمارے پروردگار
27:40ہمیں اس وقت تک اس دنیا سے نہ اٹھانا
27:42جب تک تُو ہم سے پوری طرح راضی نہ ہو جائے
27:44یا اللہ
27:45ہمیں وہ موت نصیب فرما جس کا تُو نے سورہِ فجر میں وعدہ کیا ہے
27:49کہ ہم تجھ سے راضی ہو
27:50اور تُو ہم سے راضی ہو
27:51یا اللہ
27:52ہماری زبانوں کو اپنے ذکر سے تر رکھ
27:55اور ہماری آنکھوں کو اپنے خوف سے رونے والا بنا دے
27:57یا اللہ
27:58جو لوگ اس وقت یہ گفتگو سن رہے ہیں
28:01اور جو اپنے دل کو پاک کرنا چاہتے ہیں
28:03ان سب کی توبہ کو قبول فرما
28:05اور ان کے لئے ہدایت کے راستے آسان فرما دے
28:07یا اللہ
28:08ہمارے ملک پاکستان کی حفاظت فرما
28:11اور پوری امت مسلمہ کو اتحاد اور اتفاق نصیب فرما
28:14اے اللہ
28:15ہمیں ایسی موت دینا
28:16کہ جب ملک الموت آئے
28:17تو ہمارا دل تیری یاد میں روشن ہو
28:20اور زبان پر کلمہِ طیبہ
28:22لا الہ الا اللہ
28:23محمد الرسول اللہ جاری ہو
28:25یا اللہ
28:26ہمیں قبر کی وحشت سے
28:28اور حشر کی رسوائی سے بچا لے
28:29باری تعالی
28:30ہماری اس چھوٹی سی کوشش کو
28:32اپنی بارگاہ میں قبول فرما
28:33اور اسے ہماری نجات کا ذریعہ بلا دے
28:36صل اللہ تعالی
28:37علی خیر خلقہی
28:38محمدوں و آلہی و اصحابہی اجمعین
28:41برحمت کا یا ارحم الراحمین
28:43آمین
28:44ثم آمین