Skip to playerSkip to main content
  • 13 hours ago
Kashful Mahjoob Part 26

Category

📚
Learning
Transcript
00:00اسلامی لائبریری انلائٹننگ اپاوٹ ریلیجن
00:08طبقہ تابعین کے آئمہ تریکت کا تذکرہ
00:12اب میں بعض تابعین کے تذکرے کو شاملے کتاب کرتا ہوں
00:17تاکہ مکمل فائدہ حاصل ہو
00:20کیونکہ ان کا زمانہ صحابہ کرام کے زمانے سے بلکل متصل اور قریب ہے
00:27حضرت اویس کرنی رضی اللہ تعالی عنہ
00:32طبقہ تابعین کے آئمہ تریکت میں سے آفتاب امت شمع دین و ملت
00:39حضرت اویس کرنی رضی اللہ تعالی عنہ ہے
00:43آپ اہل تصوف کے مشایخ کبار میں سے ہیں
00:46آپ نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا
00:50زمانہ حیات ظاہری اور اہد مبارک پایا ہے
00:54لیکن دو چیزوں نے دیدار جمال جہاں آرہ سے آپ کو روکے رکھا تھا
00:59ایک آپ کا غلبہ حال دوسرا آپ کی والدہ کا حق
01:03حضرت اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صحابہ کرام سے فرمایا
01:08کرن میں ایک اویس نامی مرد خدا ہے
01:11جس کی شفاعت سے قیامت کے دن قبیلہ ربیہ
01:14اور قبیلہ مذر کے بھیڑوں کے بالوں کی تداد کے برابر
01:19میری امت جنت میں داخل ہوگی
01:21اس کے بعد حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے
01:27حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ
01:29اور حضرت علی المرتضی رضی اللہ تعالی عنہ کی طرف
01:33متوجہ ہو کر فرمایا
01:34جب تم ان سے ملاقات کرو گے
01:37تو ان کا قد چھوٹا
01:39بال لمبے
01:40اور ان کے پہلو اور ہاتھ پر
01:43درم کے برابر
01:44ایک نشان ہوگا
01:46لیکن وہ برس کا نشان نہیں ہوگا
01:49ایسا ہی نشان ان کے ہاتھ کی ہتھیلی پر ہوگا
01:52وہ ربیہ و مذر کی بکریوں کے تداد کے برابر
01:56میری امت کی شفاعت کریں گے
01:58جب تم ان سے ملو
01:59تو میرا سلام پہنچا کر کہنا
02:01کہ میری امت کے لئے دعا کریں
02:03چنانچہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی
02:07رہلت کے بعد
02:08جب حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ
02:11اور حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ
02:14مکہ مکرمہ تشریف لائے
02:16تو حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے
02:18دوران خطبہ ارشاد فرمایا
02:20اے نجد کے رہنے والوں کھڑے ہو جاؤ
02:23جب وہ کھڑے ہو گئے
02:25تو فرمایا تم میں سے کوئی کرن کا رہنے والا شخص ہے
02:28جب کرن کے لوگ آئے
02:30تو ان سے حضرت اے ویس کے بارے میں استفسار فرمایا
02:33انہوں نے بتایا
02:35وہ تو دیوانہ آدمی ہیں
02:37وہ نہ تو آبادی میں آتا ہے
02:39اور نہ کسی سے ملتا ہے
02:40عام طور پر جو لوگ کھاتے ہیں وہ نہیں کھاتا
02:43حتیٰ کہ وہ غمی خوشی تک کو نہیں جانتا
02:46جب لوگ ہنستے ہیں
02:48تو وہ روتا ہے
02:49اور جب لوگ روتے ہیں
02:51تو وہ ہنستا ہے
02:52حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے فرمایا
02:55میں اس سے ملاقات کرنا چاہتا ہوں
02:58لوگوں نے کہا
02:59کہ وہ جنگل میں ہمارے اونٹوں کے پاس رہتا ہے
03:01چنانچہ حضرت فاروق عاظم رضی اللہ عنہ
03:04اور حضرت علی المرتضی رضی اللہ عنہ
03:07دونوں اٹھ کر چل دئیے
03:09یہاں تک کہ دونوں
03:10حضرت عویس کرنی کے پاس پہنچے
03:13وہ نماز میں مصروف تھے
03:15حضرت علی المرتضی اور حضرت فاروق عاظم
03:18رضی اللہ عنہ انتظار میں بیٹھ گئے
03:21جب وہ نماز سے فارغ ہوئے
03:23تو سلام عرض کیا
03:24دونوں نے ان کی ہتھیلی اور پہلو پر نشان دیکھے
03:27اور حضور علیہ السلام کی
03:29بیان کردہ نشانیوں کو پہچان لیا
03:31تو دعا کے لیے
03:33خاصدگار ہوئے
03:34حضور اکرم علیہ السلام کا سلام
03:37اور امت کے لیے دعا کی وسیعت پہنچائی
03:39کچھ دیر یہ دونوں
03:41ان کے پاس بیٹھے رہے
03:42پھر حضرت عویس رضی اللہ عنہ
03:45نے آپ سے کہا
03:46کہ آپ نے بڑی تکلیف اور زہمت فرمائی
03:49اب آپ جائیے
03:50قیامت نزدیک ہے
03:51وہاں ہمیں ایسا دیدار نصیب ہوگا
03:54جو کبھی منکتے نہ ہوگا
03:55اب میں قیامت کا راستہ صاف کرنے
03:58اور اسے بنانے کے لیے مشہول ہوں
04:00ان دونوں امیروں کی ملاقات سے
04:03اہل کرن کو معلوم ہو گیا
04:04کہ بظاہر یہ دیوانہ آدمی کون ہے
04:06چنانچہ وہ لوگ ان کی بہت عزت
04:09اور قدر و منزلت کرنے لگے
04:10اس واقعہ کے بعد
04:12حضرت عویسے کرنی
04:14وہاں سے کوچ کر کے کوفہ چلے گئے
04:16کوفہ میں انہیں صرف حضرت حرم بن حیان
04:19نے ایک مرتبہ دیکھا
04:20یہاں تک کہ جنگ سفین میں
04:22حضرت علی المرتضی رضی اللہ تعالی عنہ کی
04:25حمایت میں جہاد کے لیے نکلے
04:27اور لڑتے ہوئے جام شہادت نوش فرمایا
04:30یعنی پسندیدہ زندگی پائی
04:32اور شہادت کی موت سے ہم کنار ہوئے
04:35حضرت عویسے کرنی
04:37رضی اللہ تعالی عنہ کا ارشاد ہے
04:41وحدت میں سلامتی ہے
04:42اس لیے کہ جس کا دل تنہا ہو
04:45وہ غیر کے فکر اور اندیشے سے بے پرواہ
04:48ہر حال میں مخلوق سے کنارہ کش
04:50اور آفتوں سے محفوظ رہتا ہے
04:53لیکن اگر یہ سمجھے کہ
04:55تنہائی کی زندگی گزارنا محال ہے
04:57تو وہ جان لے کہ
04:58اس کے دل پر شیطان کا تسلط ہے
05:00اور اس کے سینے میں نفس کا غلبہ ہے
05:03حالانکہ جس وقت
05:04دنیا و آخرت کی فکر
05:06اور خلق کا اندیشہ
05:08اس کے دماغ میں موجود ہیں
05:09اس وقت تک وحدت و تنہائی سے
05:11ہم کنار نہیں ہو سکتا
05:13اس لیے
05:15کسی خاص چیز سے
05:16راحت پانا
05:17اور اس کی فکر رکھنا
05:19ایک ہی چیز ہے
05:19جسے خلوت اور تنہائی کی عادت ہوگی
05:23وہ اگرچہ مجلس میں بیٹھا ہو
05:25مگر اس کی وحدت میں
05:26کوئی خلل واقع نہیں ہوگا
05:28اور وہ شخص جو کسی اور کے خیال میں غرق ہو
05:31اگرچہ وہ خلوت میں ہو
05:32تو یہ خلوت اسے فارغ نہیں کرتی
05:34معلوم ہوا
05:36کہ انسانوں سے جدا ہونا
05:37محبتِ الہی نہیں ہے
05:39لیکن جسے محبتِ الہی حاصل ہو جائے
05:41اس کے لیے انسانوں سے ملنا جننا
05:44ضروری نہیں ہے
05:45اور جسے انسانوں سے محبت ہے
05:47اس کے دل میں
05:48خدا کی دوستی کا گزر نہیں ہوتا
05:50بلکہ اسے محبتِ الہی کی
05:52ہوا تک نہیں لگتی
05:55اس لیے کہ وحدت
05:56صاف دل بندوں کی صفت ہے
05:58اللہ تعالیٰ فرماتا ہے
06:01علیس اللہ بکافن عبدہ
06:03کیا اللہ
06:05بندے کے لیے کافی نہیں
06:08حضرت حرم بن حیان
06:09رضی اللہ تعالیٰ عنہ
06:12طبقہِ تابعین کے آئمہِ طریقت میں سے
06:15ممبہِ صفا
06:16مادنِ وفا
06:17حضرت حرم بن حیان
06:19رضی اللہ تعالیٰ عنہ
06:21جو اکابرِ طریقت میں سے ہیں
06:24آپ کو طریقہ تو معرفت میں
06:26کمال دسترس حاصل تھی
06:28صحابہِ کرام
06:29رضوان اللہ علیہ واجمعین کی
06:31مجلسوں میں رہے ہیں
06:31آپ نے جب حضرت عویسے کرنی
06:34رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے
06:35ملاقات کرنے کا ارادہ کیا
06:37تو کرن پہنچے
06:38لیکن وہ وہاں سے کوچ کر کے جا چکے تھے
06:41ناؤمید ہو کر واپس آگئے
06:43پھر پتا چلا کہ
06:44کوفہ میں ہیں
06:45تو کوفہ پہنچے
06:46مگر طویل عرصہ تک
06:48ملاقات نہ ہو سکی
06:49مایوس ہو کر
06:50بسرا جانے کا ارادہ کیا
06:51تو اچانک
06:52فرات کے کنارے
06:54جببہ پہنے
06:55وضو کرتے مل گئے
06:56دیکھتے ہی پہچان لیا
06:58جب کنارہِ فرات سے باہر آ کر
07:00ریش مبارک میں کنگی کی
07:02تو حضرت حرم بن حیان
07:04آگے بڑے
07:05اور سلام عرض کیا
07:06انہوں نے جواب دیا
07:07اور کہا
07:10وَعَلَيْكُمُ السَّلَامُ
07:11يَا حَرَمْ بِنْ حَيَانُ
07:13حضرت حرم بن حیان
07:14رضی اللہ تعالیٰ عنہ
07:15نے دریافت کیا
07:16کہ آپ نے مجھے کیسے پہچانا
07:18انہوں نے کہا
07:19میری روح نے
07:20تیری روح کو پہچان لیا
07:22کچھ عرصہ کے عام کے بعد
07:24انہیں واپس کر دیا
07:26حضرت حرم فرماتے ہیں
07:27کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ
07:29اور حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ
07:32سے میری اکثر باتیں ہوئی ہیں
07:33حضرت عویسے کرنی
07:35رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے
07:38مجھے برعائت
07:39حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ
07:41حضور علیہ السلام کی
07:43یہ حدیث پاک سنائی
07:45کہ عمال کا دارومدار نیتوں پر ہے
07:48اور ہر شخص کو وہی سمرہ ملتا ہے
07:51جس کی وہ نیت کرے
07:52جس نے خدا اور رسول کی طرف حجرت کی
07:55تو اس کی حجرت خدا اور رسول ہی کی طرف ہوگی
07:59اور جس نے دنیا کی طرف حجرت کی
08:01اسے وہی ملے گا
08:02اگر بیوی کی خواہش کی
08:04تو اس سے نکاح کر لے گا
08:06اس کی حجرت اس کے لیے ہے
08:08جس کی وہ نیت کرے
08:09اس کے بعد حضرت عویسے کرنی نے
08:12مجھے نصیحت کی
08:13کہ تم پر فرض ہے
08:14کہ اپنے دل کی نگداشت کرتے رہو
08:17تاکہ کسی غیر کی فکر میں
08:19مبتلا نہ ہو جاؤ
08:22اس نصیحت کے دو معنی ہیں
08:25ایک یہ کہ دل کو
08:28ریاضت و مجاہدے کے ذریعے
08:30حق تعالیٰ کی اطاعت پر لگائے رکھے
08:32دوسرے یہ
08:33کہ خود کو دل کے تابع کر دے
08:35یہ دونوں اصول قوی ہیں
08:38دل کو حق کے تابع کرنا
08:40ارادت مندوں کا کام ہے
08:42تاکہ خواہشات کی کسرت
08:43اور ہوائے نفس کی محبت سے دل محفوظ رہے
08:46اور تمام ناموافق خطرات
08:48اور اندیشے دل سے نکال پھینکے
08:50اور اس کی درستگی اور حفاظت کی تدبیر میں
08:53ہمیشہ مشہول ہو کر
08:54حق تعالیٰ کے نشانِ قدرت پر نظر رکھے
08:57تاکہ دل
08:58خدا تعالیٰ کی محبت کی اماجگاہ بن جائے
09:01اور خود کو دل کے تابع کرنا
09:04کاملوں کا کام ہے
09:05کیونکہ حق تعالیٰ ان کے دلوں کو
09:07نورِ جمال سے منور کر کے
09:08تمام اسباب و علل سے پاک و صاف
09:11بنا کر
09:12مقامِ بلند اور درجہِ رفیہ پر
09:15فائز کر دیتا ہے
09:16اور ان کے جسموں کو
09:17خلتِ قرب سے نوازتا ہے
09:20اور اپنے لطائف اور تجلیات کی روشنی سے
09:22انہیں منور کر دیتا ہے
09:23اور مشاہدہِ قرب سے سرفراز کرتا ہے
09:27جس وقت
09:28کامل کی ایسی حالت ہو جائے
09:30اس وقت اسے خود کو دل کے تابع
09:32اور اس کے موافق کر دینا چاہیے
09:34گویا پہلی صفت کے حضرات
09:36صاحب القلوب
09:37مالک القلوب
09:38اور باقی اس صفت
09:40مغلوب القلوب
09:41اور فانی اس صفت ہوتے ہیں
09:43اس مسئلہ کی
09:45اصل و حقیقت
09:46یعنی دلیل کی حجت میں
09:48اللہ رب العزت کا ارشاد ہے
09:51اللہ عبادہ کا منہم المخلصین
09:55مگر یہ
09:56کہ ان میں سے
09:57تیرے مخلص بندے
09:59اس میں دو قراتیں ہیں
10:01ایک یہ
10:02کہ مخلصین
10:04لام کے زیر سے
10:05اور دوسری مخلصین
10:07یعنی لام کے زبر سے
10:09مخلص اس میں فائل ہے
10:11جو کہ باقی اس صفت ہے
10:13اور مخلص اس میں مفہول ہے
10:15جو کہ فانی اس صفت ہے
10:17انشاءاللہ
10:18کسی اور مقام پر
10:19اس مسئلہ کو
10:20پھر بیان کروں گا
10:22وہ حضرات
10:23جو فانی اس صفت ہیں
10:25وہ زیادہ جدید القدر ہیں
10:27اس لیے
10:27کہ انہوں نے خود کو
10:29دل کے تابع
10:29اور اس کے موافق
10:30بنا رکھا ہے
10:31اور ان کے دل
10:32حق تعالی کے سپورد ہیں
10:34اور ان میں
10:35حق تعالی ہی جلوہ گر ہیں
10:36اور وہ اسی کے
10:38مشاہدہ میں قائم ہیں
10:39لیکن وہ حضرات
10:40جو باقی اس صفت ہیں
10:42وہ دل کو
10:44بکوشش
10:44عمر حق کے موافق
10:46بناتے ہیں
10:46اس مسئلہ کی بنیاد
10:48ہوش و مستی
10:49اور مشاہدہ و مجاہدہ پر ہے
10:51واللہ عالم

Recommended