Skip to playerSkip to main content
  • 2 days ago
Kashful Mahjoob Part 23

Category

📚
Learning
Transcript
00:01اسلامی لائبریری انلائٹننگ اپاوٹ ریلیجن
00:08حضرت شیخ ابو طاہر حرمی رحمت اللہ علیہ ایک دن گدے پر سوار بازار سے گزر رہے تھے
00:15ایک مرید لگام تھامے ساتھ تھا
00:18کسی نے پکارا کہ دیکھو وہ پیر زندیق یعنی بے دین پیر آ رہا ہے
00:25جب مرید نے یہ بات سنی تو اس کی ارادت اور غیرت نے جوش مارا
00:29اور وہ اسے مارنے کے لیے دوڑا
00:33بازار والے بھی جوش میں آ گئے
00:35حضرت شیخ نے مرید کو آواز دی اور فرمایا
00:38اگر تم نے خاموشی اختیار کی تو ایک نصیحت اموز چیز تمہیں دکھاؤں گا
00:42تاکہ تم اس سے سختی سے باز رہو
00:46مرید خاموش ہو گیا
00:47جب قیام گاہ پر واپس آئے
00:49تو مرید سے فرمایا فلان صندوق اٹھا لاؤ
00:53وہ صندوق اٹھا لیا
00:54اس میں بکسرت خطوط تھے
00:56جو لوگوں نے حضرت شیخ کے نام لکھے تھے
01:00انہوں نے اس کو نکالا اور مرید کے آگے رات کر فرمایا
01:03پڑھو کیا لکھا ہے
01:04جن لوگوں نے خطوط بھیجے تھے
01:06انہوں نے ان میں ہر نامہ پر القاب لکھے تھے
01:09کسی نے شیخ الاسلام
01:11کسی نے شیخ زکی
01:12کسی نے شیخ زاہد
01:14کسی نے شیخ الحرمین وغیرہ لکھا ہوا تھا
01:16شیخ نے فرمایا
01:18یہ سب القاب و خطاب ہیں
01:20میرا نام نہیں ہے
01:22حالانکہ میں جو کچھ بھی ہوں
01:24ہر شخص نے اپنے اعتقاد کے مطابق
01:27مجھے مخاطب کیا ہے
01:28اگر اس بچارے نے اپنے اعتقاد کے
01:30بموجب کوئی بات کہہ دی
01:32اور کوئی لکب مجھے دے دیا
01:34تو بگڑنے یا ناراض ہونے کی
01:37اس میں کوئی ضرورت نہیں ہے
01:38اس طرح اگر ملامت میں
01:41کسدن کوئی ایسا طریقہ
01:42اختیار کرنا چاہے
01:44اور عزت و منزلت
01:45اس جہو حشم کے چھوڑنے کا ارادہ کرے
01:48جس کے وہ لائق ہے
01:49تو اس کی صورت
01:51اس حکایت کی صورت میں سنو
01:54روایت ہے کہ ایک دن
01:56امیر المومنین سیدنا
01:57عثمان بن افان رضی اللہ تعالی عنہ
02:00خجوروں کے باغ سے
02:01اس حال میں تشریف لا رہے تھے
02:03کہ لکڑیوں کا گٹھا
02:04آپ کے سر مبارک پر رکھا ہوا تھا
02:07حالانکہ آپ چار سو غلام رکھتے تھے
02:10کسی نے عرض کیا
02:11کہ اے امیر المومنین
02:12یہ کیا حال ہے
02:14آپ نے فرمایا
02:15میں نے چاہا کہ اپنے نفس کا تجربہ کروں
02:18اگرچہ یہ کام میرے غلام بھی کر سکتے تھے
02:21مگر میں نے چاہا
02:22کہ اپنے نفس کی آزمائش کروں
02:24تاکہ لوگوں میں جو رتبہ ہے
02:26اس کی وجہ سے
02:27یہ نفس
02:28کسی کام سے مجھے باز نہ رکھے
02:31اسی معنی میں ایک اور واقعہ ہے
02:33جو حضرت امام آزم
02:34سیدنا
02:35ابو حنیفہ
02:36رضی اللہ تعالی عنہ سے منصوب ہے
02:38اس کا تذکرہ
02:39امام آزم رحمت اللہ علیہ کے بیان میں آئے گا
02:42انشاءاللہ
02:44حضرت بایزید بستامی رحمت اللہ علیہ کا واقعہ ہے
02:47کہ وہ حج کر کے واپس آ رہے تھے
02:50کسی شہر میں غلولہ بلند ہوا
02:52کہ حضرت بایزید آ رہے ہیں
02:54اس شہر کے تمام لوگ استقبال کے لیے نکل آئے
02:57کہ عزاز و اکرام کے ساتھ
02:59اپنے شہر میں انہیں بلائیں
03:02حضرت بایزید نے جب لوگوں کی خاطر اور مدارات کو ملاحظہ فرمایا
03:06تو ان کا دل بھی مشغول ہو گیا
03:08جب یاد حق سے توجہ ہٹی
03:10تو پریشان ہو گئے
03:12جب بازار میں آئے
03:13تو کبا کی آستین سے روٹی کا ایک ٹکڑا نکالا
03:16اور وہیں کھانے لگے
03:18یہ دیکھ کر تمام لوگ ان سے برگشتہ ہو گئے
03:21اور انہیں تنہا چھوڑ کر چلے گئے
03:23کیونکہ یہ واقعہ رمضان المبارک کے درمیان پیش آیا تھا
03:27اور چونکہ خود وہ مسافر تھے
03:29اور مسافر کو روزہ نہ رکھنے کی اجازت ہے
03:32اس وقت
03:33اپنے ہمراہی مرید سے فرمایا
03:35دیکھا شریعت کے ایک مسئلے میں
03:38لوگوں نے مجھے کاربند نہ دیکھا
03:40تو سب چھوڑ کر چلے گئے
03:42میں علی بن عثمان کہتا ہوں
03:44کہ اس زمانہ میں
03:45ملامت کی روش اختیار کرنے کے لیے
03:47کسی زبون عمل کی ضرورت ہوتی تھی
03:50اور وہ ایسی بات
03:51ظاہر کرنی پڑتی تھی
03:53جو عوام کے منشاہ اور مزاج کے خلاف ہو
03:55لیکن اگر کوئی چاہے
03:57کہ اسے ملامت کی جائے
03:59تو دو رکعت نفل شروع کرے
04:01اور اسے خوب طول دے دے
04:03یا پورے دین کی مکمل پیروی شروع کر دے
04:06تاکہ تمام لوگ
04:07اسے ریاکار اور منافق کہنے لگیں
04:11لیکن جو ترک کے طریقہ پر
04:13ملامت اختیار کرے
04:14اور کوئی کام خلاف شریعت کر کے
04:17یہ کہے کہ یہ عمل میں نے
04:18حصول ملامت کے لیے کیا ہے
04:20تو یہ کھلی ہوئی زلالت اور گمراہی ہے
04:22ظاہری آفت ہے
04:24اور سچی حوص پرستی ہے
04:27کیونکہ آج کل ایسے لوگ بکسرت ہیں
04:29جو بدخلق ہونے کی صورت میں
04:31قبول خلق کے خاصدگار ہیں
04:33اس لیے اس کی ضرورت ہے
04:36کہ وہ پہلے خلق میں مقبول ہوں
04:38پھر اپنے کسی فعل سے اس کی نفی کر دیں
04:40تاکہ لوگ انہیں مردود قرار دیں
04:42نامقبول شخص کے لیے
04:44رد کرنے کا قصد کرنا
04:46قبولیت کے لیے
04:48ایک بہت برا بہانہ ہوتا ہے
04:49میں علی بن عثمان کہتا ہوں
04:52کہ ایک دفعہ
04:53مجھے جھوٹے
04:56مدیان کی مجلس میں بیٹھنے کا اتفاق ہوا
04:59ان میں سے ایک آدمی سے کوئی نازیبہ حرکت سرزد ہو گئی
05:03مگر اس نے یہ عذر کیا
05:05کہ میرا یہ عمل ملامت کے لیے تھا
05:08اس پر کسی نے کہا
05:09کہ عذر و بہانہ بہودہ ہے
05:11میں نے دیکھا
05:13کہ غیز و غزب سے اس کا سانس پھول گیا ہے
05:16تب میں نے اس سے کہا
05:17کہ اے شخص
05:18اگر ملامت میں تیرا دعویٰ درست تھا
05:21تو اس آدمی کے اعتراض پر چین بچین ہونا کیا مانی
05:25یہ تو تیرے مذہب کو مضبوط کرتا ہے
05:27جب وہ تیرے ساتھ تیری راہ میں موافقت کرتا ہے
05:30تو تیرا اس سے جھگڑا ہی کیا
05:32تجھے کیوں غصہ آتا ہے
05:33اور جو شخص
05:35عمر حق کے دعوت دے
05:37اس کے لیے دلیل و حجت ترکار ہے
05:39اور وہ دلیل
05:40رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی
05:44سنت کی حفاظت ہے
05:45واضح رہنا چاہیے
05:47کہ طریقت میں ملامتی مذہب کو
05:49شیخ زمانہ حضرت ابو حمدون رحمت اللہ علیہ نے پھیلایا ہے
05:54ملامت کے سلسلے میں
05:56ان سے بکسرت
05:58لطائف منصوب ہیں
06:00چنانچہ ان کا ایک کال یہ ہے
06:01کہ سلامتی سے کنارہ کشی
06:04اختیار کرنے کا نام ملامت ہے
06:05جب کوئی شخص قصداً
06:08سلامتی کے ترک کا دعویٰ کرتا ہو
06:10اور بلاؤں میں خود کو مبتلا کر کے
06:12عیش و راحت
06:13اور خوش ذائقہ چیزوں کو چھوڑتا ہے
06:16تو اس کی غرض یہ ہوتی ہے
06:18کہ جلالت کا ظہور ہو
06:19اور اس کی امید بر آئے
06:21اور لوگ اس کی عادت سے بیزار ہو کر
06:24اس سے دور ہو جائیں
06:25اور اس کی طبیعت
06:26لوگوں کی محبت سے خالی ہو جائے
06:28اس حال میں
06:30وہ جس قدر خود کو مشغول کرے گا
06:32اتنا ہی وہ حق سے واصل ہوگا
06:35اور جس سلامتی کی طرف
06:37لوگ رغبت کرتے
06:38اور اس کی طرف مائل ہوتے ہیں
06:40یہ اس سلامتی سے اتنا ہی نفرت و بیزاری کرتا ہے
06:43اس طرح
06:44ایک دوسرے کے عزائم میں تضاد
06:46اور تقابل پیدا ہوتا ہے
06:48اور وہ اپنی صفتوں میں کامیاب ہو جاتا ہے
06:51احمد بن ناتق حسین بن منصور علیہ رحمہ سے روایت کرتے ہیں
06:55کہ کسی نے ان سے پوچھا کہ صوفی کون ہیں
06:58انہوں نے فرمایا
07:00یعنی وہ لوگ جنہوں نے ذات باری کو پا لیا
07:05نیز حضرت ابو حمدون علیہ رحمہ سے کسی نے دریافت کیا
07:09تو آپ نے فرمایا
07:09یہ راستہ عام لوگوں کے لیے بہت دشوار اور تنگ ہے
07:13لیکن اتنا بتائے دیتا ہوں
07:15کہ مرجیوں کی امید اور قدریوں کا خوف
07:20ملامتیوں کی صفت ہے

Recommended