00:01اسلامی لائبریری
00:03انلائٹننگ اباوٹ ریلیجن
00:09یاد رکھنا چاہیے
00:10کہ ملامتیوں کی طبیعت اللہ تعالی کی
00:13بنائی ہوئی چیز سے اتنی نفرت نہیں کرتی
00:15جتنی لوگوں میں
00:17عزت و منزلت پانے سے انہیں نفرت ہوتی ہے
00:19یہ عام آدمی کی خصلت ہے
00:22کہ وہ لوگوں کی تعریف اور توصیف سے
00:25بہت زیادہ خوش اور پھولا نہیں سماتا
00:27اسی بنا پر
00:29وہ قربِ الہی سے دور تر ہو جاتا ہے
00:31خوفِ خدا رکھنے والا شخص
00:34ہمیشہ یہی کوشش کرے گا
00:35کہ خطرے کی جگہ سے دور رہے
00:37کیونکہ اس میں اس کے لئے
00:40دو خطرے لاحق ہوتے ہیں
00:41ایک یہ کہ وہ حق تعالی سے
00:44ہجاب میں نہ آ جائے
00:45دوسرا یہ کہ وہ ایسا فیل کرنے سے بچے
00:48جس سے لوگ گناہگار ہوں
00:50اور اس پر تانو تشنی کرنے لگیں
00:52ان کا یہ مقصود نہیں ہوتا
00:55کہ ان میں عزت پانے سے راحت محسوس کرے
00:57اور نہ یہ
00:58کہ ملامت کرنے سے انہیں گناہگار بنائیں
01:01اس لئے
01:02ملامتی کو سزاوار ہے
01:04کہ پہلے دنیاوی جھگڑوں
01:05اور لوگوں کے اخروی علاقوں سے
01:08خود کو جدا کریں
01:08اس کے بعد
01:10لوگ اسے کچھ بھی کہیں
01:13دل کی نجات کیلئے ایسا فیل کریں
01:15جو شریعت میں نہ گناہ کبیرہ ہو
01:18نہ صغیرہ
01:19تاکہ لوگ اس سے برگشتہ ہو کر
01:21اسے چھوڑ دیں
01:21یہاں تک احتیاط برتے
01:23کہ معاملات میں اس کا خوف
01:26قدریوں کے خوف کی مانند ہو
01:28اور معاملہ کرنے میں ایسی امید رکھے
01:31جیسے مرجیہ امید رکھتے ہیں
01:34حقیقت میں
01:35ملامت سے بہتر
01:36کسی چیز سے محبت اور دوستی نہ ہو
01:39اس لئے
01:40کہ دوست کی ملامت کا
01:42دوست کے دل پر اثر نہ ہوگا
01:44اور دوست کا گزر
01:45دوست کی گلی ہی میں ہوگا
01:47اور دوست کے دل میں
01:49اغیار کا خطرہ نہ ہوگا
01:50جب ایسی حالت ہو جائے گی
01:52تو اپنی خواہش میں
01:53ملامت کی سب سے بڑھ کر لذت پائیں گے
01:56اس لئے کہ ملامت
01:58عاشقوں کا باغ
01:59محبتوں کی تازگی
02:01مشتاکوں کی راحت
02:02اور مریدوں کی خوشی کا نام ہے
02:05یہ لوگ دل کی سلامتی کی خاطر
02:07جن و انس کا حدف
02:09بننا پسند کرتے ہیں
02:10اور کوئی مخلوق
02:11خواہ و مقربوں میں سے ہو
02:13یا ملائکہ میں سے
02:15یا روحانیوں میں سے
02:16ان کے درجہ کو نہیں پہنچ سکتی
02:18گزشتہ امتوں کے زہاد
02:21عبادت گزار
02:22اور سالکانوں طالبان حق میں سے
02:25کوئی ان کے مرتبہ تک نہیں پہنچا
02:27بجوز اس امت کے ان حضرات کے
02:30جو طریقت کے سالک ہیں
02:31اور دل کو منکتے کر چکے ہیں
02:34میں
02:35علی بن عثمان کہتا ہوں
02:38کہ میرے نزدیک ملامت کی خواہش
02:40این ریا ہے
02:41اور ریاکاری این نفاق ہے
02:44اس لئے کہ ریاکار
02:46قصدن ایسی راہ پر چلتا ہے
02:48جس سے وہ مخلوق میں مقبول ہو
02:49اور ملامتی بھی قصدن ایسی روش
02:52اختیار کرتا ہے
02:53جس سے لوگ اس سے نفرت کریں
02:54یہ دونوں طب کے
02:56خلق ہی میں سرگردان رہتے ہیں
02:58ان سے گزرنے کی انہیں راہ ہی نہیں ملتی
03:01ایک اس راہ پر ہو لیا
03:03اور دوسرا دوسرے راستے پر
03:05حالانکہ درویش کے دل میں
03:08مخلوقات کے گزرنے کی گنجائش کہاں
03:10جب دل کے آئینے سے
03:12خلق کی تصویر مہو ہو چکی
03:14تو وہ دونوں راستوں سے جدا ہو جاتا ہے
03:17یعنی
03:17نہ ریاکاری رہتی ہے
03:19اور نہ نفاق کا خطرہ
03:21اور وہ کسی چیز میں گریفتار نہیں ہوتا
03:23ایک دن
03:25ماوراؤن نہر میں
03:26ایک ملامتی سے میری ملاقات ہوئی
03:28جب وہ خوش ہوا
03:29تو اسی لمحہ اس نے پوچھا
03:31اے بھائی
03:32ان افعالِ بد سے تیری کیا مراد ہے
03:34اس نے جواب دیا
03:35لوگوں سے گلو خلاصی کرانا
03:38چونکہ میں نے دل میں خیال کیا
03:40کہ یہ مخلوق تو بہت ہے
03:41اور تیری عمر تھوڑی ہے
03:43ان سب سے اپنا پیچھا چھڑانا دشوار ہے
03:46اگر تُو خلقت سے اپنا پیچھا چھڑانا چاہتا ہے
03:49تو ان سب کو چھوڑ دے
03:50تاکہ ان کی مصروفیتوں سے خود کو محفوظ رکھ سکے
03:55ایک طبقہ ایسا بھی ہے
03:57جو خلقت میں مشغول ہوتے ہوئے بھی یہی سمجھتا ہے
04:00کہ لوگ خود ہی ان کی طرف متوجہ ہیں
04:03اور کوئی اسے نہیں دیکھتا
04:06جب تیرے حال پر مصیبت
04:07تیرے اپنے ہی نظر سے ہے
04:09تو تجھے غیر سے کیا سروکار
04:11اگر کسی کو پرہیز سے شفا حاصل ہو جائے
04:14تو غزائی مداوہ کرنا مردانگی نہیں ہوتی
04:18ایک طبقہ ایسا بھی ہے
04:20جو ریاضت کے لیے نفس کو ملامت کرتا ہے
04:23تاکہ خلقت میں رسوائی سے
04:24یا پھٹے کپڑوں میں ہونے کی زلت سے
04:26ان کا نفس عدب سیکھے
04:27اس سے وہ داد کے خواہش مند ہوتے ہیں
04:29کیونکہ اس سے وہ بہت خوش ہوتے ہیں
04:31جن میں نفس کی خواری اور رسوائی پائیں
04:35حضرت ابراہیم عدم رحمت اللہ علیہ سے
04:37کسی نے دریافت کیا
04:38کہ کیا کبھی آپ نے اپنے مقصد میں کامیابی دیکھی ہے
04:41انہوں نے فرمایا ہاں دو مرتبہ
04:43ایک اس وقت جب میں کشتی میں سوار تھا
04:46اور کسی نے مجھے نہیں پہچانا
04:48کیونکہ میں پھٹے پرانے کپڑے پہنے ہوئے تھا
04:50اور میرے بال بھی بڑے ہوئے تھے
04:52ایسی حالت تھی
04:53کہ کشتی کے تمام سوار میرا مزاق اڑا رہے تھے
04:56ان میں ایک مسخرہ
04:58اتنا جری تھا
05:00کہ وہ میرے پاس آ کر سر کے بال نوچنے لگا
05:02اور میرا مزاق اڑانے لگا
05:05اس وقت میں نے اپنی مراد پائی
05:07اور اس خراب لباس اور شکستہ حالی میں
05:10مسررت محسوس کی
05:11یہاں تک
05:12کہ میری یہ مسررت
05:13اس انتہا کو پہنچی
05:15کہ وہ مسخرہ اٹھا
05:16اور اس نے مجھ پر پیشاب کر دیا
05:19اور دوسری مرتبہ اس وقت
05:21جبکہ میں ایک گاؤں میں تھا
05:23وہاں شدید بارش ہوئی
05:25سردی کا موسم تھا
05:26گدڑی بھیگ گئی
05:28اور تھندک نے بے حال کر دیا
05:30میں نے مسجد کی طرف رخ کیا
05:32لوگوں نے وہاں ٹھہرنے نہیں دیا
05:35دوسری مسجد کی طرف گیا
05:36وہاں بھی امان نہ ملی
05:38پھر تیسری مسجد کی طرف گیا
05:40وہاں بھی یہی سلوک ہوا
05:42سردی میری قوت برداشت سے باہر ہو گئی
05:44آخر کار
05:45میں ہمام کی بھٹی کے آگے آیا
05:48اور اپنے دامن کو آگ پر پھیلا دیا
05:50اس کے دھویں سے میرے کپڑے اور چہرہ سیاہ ہو گیا
05:53اس رات بھی
05:55میں اپنی مراد کو پہنچا
05:57میں علی بن عثمان کہتا ہوں
06:00کہ ایک مرتبہ مجھے بھی ایک مشکل پیش آئی
06:03میں نے اس مشکل سے خلاصی پانے کی کوشش کی
06:06مگر کامیاب نہ ہو سکا
06:08اس سے قبل بھی مجھ پر ایسی ہی مشکل آن پڑی تھی
06:11تو میں نے حضرت شیخ باجزید رحمت اللہ علیہ کے
06:13مزار شریف پر حاضری دی تھی
06:15اور میری وہ مشکل آسان ہو گئی تھی
06:17اس مرتبہ بھی میں نے ارادہ کیا
06:19کہ وہاں حاضری دوں
06:21بلاخر تین ماہ تک مزار مبارک پر چلہ کشی کی
06:25تاکہ میری یہ مشکل حل ہو جائے
06:27ہر روز تین مرتبہ غسل کرتا
06:29اور تین مرتبہ وضو تازہ کرتا
06:32اس امید پر کہ مشکل آسان ہو
06:34مگر پریشانی دور نہ ہوئی
06:36تو خوراسان کے سفر کا ارادہ کیا
06:39اسی سفر میں
06:40ایک رات ایک گاؤں میں پہنچا
06:42وہاں خانکہ تھی
06:44جس میں صوفیوں کی ایک جماعت قیام پذیر تھی
06:48میرے جسم پر کھردری اور سخت قسم کی گدری تھی
06:52مسافروں کی مانند
06:53میرے ساتھ کوئی سامان نہ تھا
06:54صرف ایک لاتھی تھی اور لوٹا تھا
06:57اس جماعت نے مجھے حکارت کی نظر سے دیکھا
07:00اور کسی نے مجھے نہ پہچانا
07:01وہ اپنے رسم و رواج کے مطابق
07:03باہم گفتگو کرتے
07:05اور کہتے کہ یہ ہم میں سے نہیں ہے
07:07اور یہ درست بھی تھا
07:08کہ میں ان میں سے نہیں تھا
07:11لیکن مجھے چونکہ وہاں رات گزارنی تھی
07:13گنجائش نہ ہونے کے باوجود
07:15میں ٹھہر گیا اور انہوں نے
07:17مجھے دریچے میں بٹھا دیا
07:19اور وہ لوگ اس سے انچی چھت پر
07:22چلے گئے میں زمین پر رہا
07:24انہوں نے میرے آگے ایک سوکھی
07:26اور پھپوندی لگی ہوئی روٹی
07:28ڈال دی میں ان چیزوں کی
07:30خوشبووں کو سونگ رہا تھا
07:31جو وہ لوگ کھا رہے تھے
07:33وہ لوگ مجھ پر برابر
07:35آوازیں کس رہے تھے
07:36جب وہ کانے سے فارغ ہو گئے
07:39تو خربوزے کھانے لگے اور
07:41دل لگی سے اس کے چھلکے میرے سر پر
07:43پھینک کر میری تحقیر اور
07:45توہین کرتے رہے اور میں اپنے دل میں
07:47یہ کہہ رہا تھا کہ خداوندہ
07:49اگر میں تیرے محبوبوں کا
07:51لباس پہننے والوں میں سے نہ ہوتا
07:53تو میں ان لوگوں سے کنارہ کش ہو جاتا
07:55پھر جتنی بھی مجھ پر
07:57ان کی تانو تشنی اور زیادہ
07:59ہوتی رہی میرا دل مسرور
08:01ہوتا رہا یہاں تک کہ
08:03اس واقعہ کا بوجھ اٹھانے سے
08:05میری مشکل حل ہو گئی
08:06اس وقت مجھ پر یہ حقیقت منکشف ہوئی
08:09کہ مشایخ کرام
08:11جاہل لوگوں کو اپنے ساتھ کیوں گوارہ کرتے ہیں
08:14اور کیوں ان کی سختیاں
08:15جھیلتے ہیں یہ ہیں
08:17کامل تحقیق کے ساتھ
08:19ملامت کے حقام واللہو بتوفیق