00:00اسلامی لائبریری انلائٹننگ اپاوٹ ریلیجن
00:08فقر و صفوت کے معنی میں اختلاف
00:13طریقت کے اہل علم مشایخ اعظام کا فقر و صفوت کی فضیلت میں اختلاف ہے
00:20ایک جماعت کہتی ہے کہ بنسبت صفوت کے فقر زیادہ کامل ہے
00:26اور ایک جماعت کہتی ہے کہ بنسبت فقر کے صفوت زیادہ کامل ہے
00:31ایک گروہ کا استدلال ہے کہ فقر چونکہ فنائے کل اور انکتائے اسرار کا نام ہے
00:37اور صفوت اس کے مقامات میں سے ایک مقام ہے
00:42جب فنائے کل حاصل ہو جاتا ہے تو تمام مقامات ناپید ہو جاتے ہیں
00:46یہ مسالہ فقر و غناء کی طرف رجوع کرتا ہے
00:49پہلے اس کا بیان کیا جا چکا ہے
00:52اور دوسری جماعت کا استدلال یہ ہے
00:55کہ فقر چونکہ ایک موجود شہ ہے
00:57جس کا نام بھی ہے
00:59اور صفوت اس حالت کا نام ہے
01:01جو تمام موجودات سے پاک صاف ہو
01:04اور یہ کہ صفاہ این فنہ ہے
01:07اور فقر این بقا
01:09لہٰذا فقر اس کے مقامات میں سے ایک مقام کا نام ہے
01:13اور صفوت اس کے کمالات میں سے ایک کمال کا نام
01:17اس مسالہ میں طویل بحث ہے
01:20موجودہ زمانے میں ہر شخص تاجب خیز باتیں کرتا ہے
01:24اور ایک سے ایک بڑھ کر حیرت انگیز گفتگو کرتا ہے
01:28حالانکہ فقر و صفوت کی تفصیل و تقدیم میں اختلاف ہے
01:31محض باتیں ہی بنانا
01:33نہ فقر ہے نہ صفوت
01:35پاز نے بیان کو مذہب بنا کر
01:38اس پر تبع آرائی اور نکتہ سنجی شروع کر دی
01:41اور ادراک معانی سے
01:43طبیعت کو خالی کر کے حق بات کو چھوڑ دیا
01:46اور خواہشات کی نفی کو
01:48نفی این اور
01:50اسبات مراد کو اسبات این
01:52کہنے لگے ہیں
01:53یہی وجہ ہے کہ وہ
01:55اپنی خواہشات نفسانی کے قیام میں
01:58موجود اور مفقود
01:59اور منفی و مصبت
02:02میں مہو ہو کر رہ گئے ہیں
02:03حالانکہ طریقت ان مدعیوں کی
02:06لغویات سے پاک و صاف ہے
02:08الغرض
02:09اولیاء اکرام
02:11اس مقام تک فائز ہوتے ہیں
02:13جہاں کوئی مقام نہیں رہتا
02:15درجات و مقامات
02:17سب کے فنا ہو جاتے ہیں
02:18اور ان معانی کو
02:19الفاظ کا جامعہ ہرگز نہیں پہنایا جا سکتا
02:22چنانچہ اس وقت
02:23نہ دنیا رہتی ہے
02:25نہ لذت
02:26نہ کمہ
02:27نہ کہر
02:28نہ ہوش
02:29نہ بہوشی
02:30ہر شخص
02:30اس کیفیت و معانی کو
02:32ایسے ناموں سے
02:33تعبیر کرنے کی کوشش کرتا ہے
02:35جو اس کے نزدیک بزرگتر ہوں
02:37اس بنیاد پر
02:38تقدیم و تاخیر کرنا
02:40اور آلہ و ادنہ کہنا جائز نہیں
02:42کیونکہ تقدیم و تاخیر
02:44اور آلہ و ادنہ تو
02:46موجودات کے لیے ہے
02:47لہٰذا کسی جماعت کو فقر
02:50مقدم اور افضل معلوم ہوا
02:52اور ان کے نزدیک یہی بزرگتر
02:54اور مشرف معلوم ہوا
02:56کیونکہ اس سے منصوب کرنا
02:58شکستگی اور توازوں کا متقاضی ہے
03:00اور کسی جماعت کو
03:02صفوت مقدم اور افضل معلوم ہوا
03:04اور انہیں یہی نام اچھا لگا
03:06کیونکہ اس سے قدورتیں دور ہوتی ہیں
03:08اور فناؤ آفات
03:11قریب تر ہو جاتے ہیں
03:12اور چونکہ ان کی مراد و مقصود
03:15کا اظہار انہی ناموں سے
03:16ہو سکتا تھا اس لیے
03:18ہر ایک نے نام منتخب کر لیا
03:20ورنہ ان کے معانی کے نشان
03:22علامات ان تعبیرات سے
03:24بلکل جدا تھی
03:25یہ نام اختیار کرنے کی اس لیے
03:28ضرورت پیش آئی کہ باہم
03:30ان اشارات میں بات کر سکیں
03:32اور اپنے کشف ذاتی کو
03:33ان ناموں کے ذریعے بیان کر سکیں
03:36اس طبقہ کو اس سے کوئی اختلاف نہیں ہے
03:38کہ خواہ وہ اس معانی کو
03:40فقر سے تعبیر کریں
03:41یا صفوت سے
03:43دوسرے یہ کہ
03:44تعبیر کرنے والے
03:45صاحب زبان لوگ
03:46چونکہ ان کے معانی سے
03:48ناشنا اور بے خبر ہوتے ہیں
03:50اس لیے وہ لفظی بحثوں میں
03:52علج کر رہ گئے ہیں
03:52کہ کسی نے کس کو
03:54مقدم اور افضل جانا
03:55اور کسی نے کسی کو
03:56حالانکہ یہ دونوں تعبیرات ہیں
03:58نہ کہ اصل حقیقت
04:00لہذا
04:01حق تو معانی کی تحقیق
04:04اور حقیقت و معرفت کی
04:05تلاش میں منہمک ہے
04:07اور یہ لوگ
04:08تعبیرات کی تاریکیوں میں
04:10پھنس کر رہ گئے ہیں
04:11خلاصہ یہ
04:12کہ جب کسی کو معانی حاصل ہو جائیں
04:14اور وہ اسے دل کا قبلہ بنا لے
04:17تو ایسے درویش کو
04:18خواہ فقیر کہو
04:19خواہ صوفی کہو
04:21دونوں نام ازدراری ہیں
04:23اہل معرفت
04:24ناموں کے چکر میں نہیں پڑتے
04:27در حقیقت یہ اختلاف
04:29حضرت ابو الحسن سمنونی
04:31رحمت اللہ علیہ کے وقت سے
04:32چلا آ رہا ہے
04:33کیونکہ وہ جب حالت کشف میں ہوتے
04:36تو کبھی فقر کو صفوت پر
04:38مقدم اور افضل لگتے
04:39اور کبھی صفوت کو فقر پر
04:41اس وقت کے عرباب طریقت
04:44نے ان سے دریافت کیا
04:45کہ ایسا کیوں ہے
04:46تو انہوں نے جواب دیا
04:48کہ جب طبیعت کو
04:50فنا میں لطف تام حاصل ہوتا ہے
04:52اور بقا کی جانب
04:54کامل بلندی ہو
04:55تو اس وقت میں
04:56صفوت کو فقر پر
04:58مقدم سمجھتا ہوں
04:59اور جب ایسے مقام پر ہوں
05:01کہ اس کا تعلق بقا سے ہو
05:03تو فقر کو صفوت پر
05:05مقدم رکھتا ہوں
05:06کیونکہ فقر بقا کا نام ہے
05:08اور صفوت فنا کا
05:09گویا
05:10میں اپنی ذات سے
05:12فنا و بقا کا دیکھنا
05:13فانی کر دیتا ہوں
05:14تاکہ میری طبیعت
05:16فنا سے بھی فانی ہو جائے
05:17اور بقا سے بھی
05:20یہ رموز
05:21لفظی اعتبار سے امدہ ہے
05:23لیکن فنا کو فنا نہیں ہے
05:26اور بقا کو بھی
05:27فنا نہیں ہے
05:28کیونکہ وہ باقی
05:30جو فانی ہو
05:31وہ تو
05:32از خود فانی ہوتا ہے
05:33اور جو فانی کے بعد
05:35باقی ہو
05:35وہ از خود باقی ہوتا ہے
05:37اور فنا نام ہی
05:39اس حالت کا ہے
05:40جس میں مبالغہ
05:41محال ہو
05:42یہ اس لیے
05:43کہ کوئی یہ نہ کہہ سکے
05:44کہ فنا ہو گیا
05:45کیونکہ یہ کہنا
05:46اس کے معنی کے
05:48اثر و وجود کی
05:49نفی سے مبالغہ کرنا ہوگا
05:50کہ فنا میں
05:51کوئی اثر و وجود
05:53رہ گیا ہے
05:53جو ابھی فنا نہیں ہوا
05:55حالانکہ جب فنا
05:56حاصل ہو گئی
05:57تو فنا کی فنا
05:58کچھ نہ ہوگی
05:59اب ایسا کہنا
06:01عبارت میں
06:02بے مانی
06:02تعجب خیزی
06:03کے علاوہ
06:04اور کچھ نہیں ہے
06:05یہ اہل زبان کی
06:07فضول باتیں ہیں
06:08جو مفہوم و مراد
06:09کی تعبیر کے وقت
06:10پیدا ہوتی ہیں
06:11اور ہمارا
06:12بقاو فنا لکھنا
06:13کلام کی
06:14اس جن سے تعلق رکھتا ہے
06:16جو بچپنے کی خواہش
06:17اور حوال کی
06:19تیزی کے وقت ہوتا ہے
06:20جس کا احتیاطا
06:21ہم نے کچھ تذکرہ
06:22کر دیا ہے
06:23علم طریقت میں
06:25فقر و صفوت
06:27کے درمیان
06:27مانوی فرق ہے
06:28لیکن
06:29معاملات کے اعتبار سے
06:31فقر و صفوت
06:32دنیا سے
06:33کنارہ کشی کا نام ہے
06:34اور یہ کنارہ کشی
06:35خود ایک چیز ہے
06:37اور اس کی حقیقت
06:38فقر و مسکینی میں
06:39مزمر ہے
06:40فقر و مسکینی
06:42کا فرق
06:44مشایخ کی ایک جماعت
06:45کہتی ہے
06:46کہ مسکینی سے
06:47فقیری افضل ہے
06:48کیونکہ
06:49اللہ تعالیٰ فرماتا ہے
06:52لِلْفُقَرَاءِ
06:53اِلَّذِينَ
06:53اُحْسِرُوا
06:54فِي سَبِیلِ اللَّهِ
06:56لَا يَسْتَتِيُونَ
06:57دَرْبًا
06:58فِي الْأَرْضِ
06:59یہ ان فقراء
07:01کے لیے ہے
07:02جو راہِ خدا میں
07:04روکے گئے
07:04اور وہ زمین میں
07:06پھرنے کی طاقت
07:07نہیں رکھتے
07:09یہ افضلیت
07:10اس لیے ہے
07:10کہ مسکین
07:11صاحبِ مال ہوتا ہے
07:12اور فقیر
07:14تارکِ مال
07:15اور یہ کہ
07:16فقیر عزیز ہوتا ہے
07:18اور مسکین
07:19حقیر
07:19اور یہ کہ
07:21طریقت میں
07:21صاحبِ مال
07:22زلیل ہوتا ہے
07:23کیونکہ
07:24حضورِ اکرم
07:25صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
07:27نے فرمایا ہے
07:29ہلاکت ہو
07:30بندہِ دینار پر
07:32اور ہلاکت ہو
07:33بندہِ درہم کو
07:35اس لیے
07:36مال و دولت سے
07:38کنارہ کشی کرنے والے
07:39عزیز ہیں
07:40کیونکہ
07:41تونگر
07:41کو مال پر
07:42اعتماد ہوتا ہے
07:43اور تہی دست
07:44کو خدا پر
07:45توقل ہوتا ہے
07:47مشایخِ طریقت
07:48کی ایک جماعت
07:49کا نظریہ
07:49مسکینی ہے
07:50اس لیے
07:51کہ حضورِ اکرم
07:52صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
07:54نے
07:55اپنی دعا میں
07:56اس کی مناجات کی ہے
07:57اے خدا
07:59مجھے
08:00مسکین زندہ رکھ
08:01اور مسکینی کی
08:03موت عطا فرما
08:04اور مسکینوں میں
08:05حشر فرما
08:07رسول اللہ
08:08صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
08:10نے جب
08:10فقر کو
08:11یاد فرمایا
08:11تو اس طرح
08:12ارشاد فرمایا
08:14بساوقات
08:15فقیری
08:15کفر میں
08:16مبتلا کر دیتی ہے
08:18یہ فرق
08:19اس لیے ہے
08:20کہ
08:21فقیر وہ ہے
08:22جو سبب سے
08:23تعلق رکھتا ہے
08:24اور
08:24مسکین وہ ہوتا ہے
08:25جو اسباب سے
08:27تر کے
08:27تعلق کر لے
08:28شریعت میں
08:29فقہا کی
08:30ایک جماعت کے
08:31نزدیک
08:31فقیر وہ ہے
08:32جو ایک وقت
08:33کا کھانا
08:34رکھتا ہو
08:34اور
08:35مسکین وہ ہے
08:36جو یہ بھی
08:37نہ رکھے
08:37اور ایک جماعت
08:38کے نزدیک
08:39مسکین وہ ہے
08:40جو صاحب
08:41توشہ ہو
08:41اور فقیر وہ ہے
08:43جو یہ بھی
08:44نہ رکھے
08:44اسی لحاظ سے
08:46اہلِ طریقت
08:47مسکین کو
08:48صوفی کہتے ہیں
08:49یہ اختلاف
08:50فقہا کے
08:50اختلاف کے
08:51مطابق ہے
08:52جن کے
08:53نزدیک
08:54فقیر وہ ہے
08:55جو کچھ
08:55نہ رکھے
08:56اور مسکین
08:57وہ ہے
08:57جو ایک وقت
08:58کا توشہ
08:59رکھے
08:59ان کے نزدیک
09:00صفوت سے
09:01فقر افضل ہے
09:02صفوت اور
09:04فقر کے
09:04اختلاف کا
09:05بیان
09:06برصبیل اختصار
09:07کر دیا گیا ہے
09:08واللہ
09:09حوالم
09:10بس سباب