Skip to playerSkip to main content
  • 2 days ago
Qalb E Muneeb Kia Hai - Gunah Ho Jaye Tou Kya Karein - Qalb - Allah Se Dosti Ka Rasta - ZikreMuneeb

Category

📚
Learning
Transcript
00:00نحمدہو و نصلی علی رسولہ الكریم
00:03میرے نہایت ہی قابل قدر دوستوں اور بزرگوں
00:06السلام علیکم ورحمت اللہ وبرکاتہ
00:09روحالیت کے اس نورانی سفر کی ایک اور منزل میں
00:13ہم آپ کا استقبال کرتے ہیں
00:14پچھلی نشستوں میں ہم نے قلب سلیم
00:17یعنی سلامت دل کے بارے میں بات کی تھی
00:20جو نجات کی بنیاد ہے
00:21لیکن آج ہم قلب سلیم سے بھی ایک قدم آگے
00:25اس دل کی بات کریں گے
00:26جو اللہ رب العزت کو اتنا پسند ہے
00:29کہ اس نے اپنے خلیل حضرت ابراہیم علیہ السلام کی شان میں
00:32اس کا ذکر فرمایا
00:34آج کا ہمارا موضوع ہے قلب منیب
00:37میرے دوستوں یہ لفظ شاید ہم میں سے بہت سے لوگوں کے لیے نیا ہو
00:41لیکن یقین مانیے
00:42یہ قرآن کی روحانی استلاحات میں سے
00:45ایک نہایت ہی خوبصورت اور گہری استلاح ہے
00:48قلب منیب کیا ہے
00:50منیب کا لفظ عربی زبان کے لفظ انعابت سے نکلا ہے
00:53انعابت کا مطلب ہوتا ہے
00:55پلٹنا، رجوع کرنا، واپس آنا
00:57تو قلب منیب کا مطلب ہوا
00:59وہ دل جو بار بار اپنے رب کی طرف پلٹتا ہے
01:03یہ وہ دل ہے جس کا کنیکشن اللہ کے ساتھ اتنا مضبوط ہوتا ہے
01:07کہ دنیا کی کوئی چیز، کوئی گناہ
01:10یا کوئی خوشی اسے اللہ سے حافل نہیں کر سکتی
01:12وہ ہر لمحہ، ہر معاملے میں فوراً اللہ کی طرف رجوع کرتا ہے
01:17قرآن مجید میں اللہ رب العزت نے
01:19سور سافات میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی تعریف کرتے ہوئے فرمایا
01:24یعنی جب وہ اپنے رب کے پاس رجوع کرنے والا دل لے کر آئے
01:30ذرا اس مقام پر غور کریں
01:32اللہ نے یہ نہیں فرمایا
01:34کہ ابراہیم علیہ السلام نمازیں لے کر آئے
01:36یا روزیں لے کر آئے
01:38بلکہ فرمایا کہ وہ ایک دل لے کر آئے
01:40مگر وہ دل عام نہیں تھا
01:42وہ قلب منیب تھا
01:44اس سے پتا چلتا ہے
01:45کہ اللہ کی بارگاہ میں
01:46اصل قیمت جسمانی اعمال کی نہیں
01:48بلکہ دل کی کیفیت کی ہے
01:50اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے
01:52کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے دل کو
01:55منیب کیوں کہا گیا
01:56ان کی پوری زندگی اس ایک لفظ کی تفسیر ہے
01:59جب انہیں باپ نے گھر سے نکالا
02:01تو انہوں نے باپ سے لڑائی نہیں کی
02:03بلکہ وہ اپنے رب کی طرف پلٹ گئے
02:06جب انہیں آگ میں ڈالا گیا
02:07تو وہ جبریل کی طرف نہیں پلٹے
02:09بلکہ اپنے رب کی طرف پلٹے
02:11جب انہیں بیٹے کی قربانی کا حکم ملا
02:14تو انہوں نے اپنی اولاد کی محبت کی طرف نہیں دیکھا
02:17بلکہ اپنے رب کے حکم کی طرف پلٹے
02:19یہی انعابت ہے
02:20میرے دوستوں قلب منیب کو سمجھنے کے لیے
02:23ایک خوبصورت مثال پر غور کریں
02:25ایک کمپاس یعنی قطب نمہ ہوتا ہے
02:28جس کی سوئی ہمیشہ شمال
02:30یعنی نورت کی طرف رہتی ہے
02:32آپ اسے جتنا مرضی گھمائیں
02:34آپ اسے مشرق یا مغرب کی طرف کریں
02:36لیکن جیسے ہی آپ اسے چھوڑیں گے
02:38اس کی سوئی فوراں پلت کر
02:40واپس شمال کی طرف آ جائے گی
02:42قلب منیب مومن کا روحانی کمپاس ہے
02:45دنیا اسے اپنے بازاروں میں
02:46گھمانے کی کوشش کرتی ہے
02:48شیطان اسے گناہوں کی طرف کھیچتا ہے
02:50نفس اسے خواہشات میں الجھاتا ہے
02:53لیکن جیسے ہی اسے جھٹکا لگتا ہے
02:55یا وہ تھوڑی دیر کے لیے غافل ہوتا ہے
02:57اس کا دل فوراں پلٹ کر
02:59واپس اپنے رب کی طرف آ جاتا ہے
03:01وہ کہتا ہے
03:02کہ نہیں میری اصل منزل تو اللہ ہے
03:04قرآن میں اللہ نے ایک اور جگہ فرمایا
03:07یعنی جنت ان لوگوں کے لیے ہے
03:13جو رحمان سے بن دیکھے ڈرتے ہیں
03:15اور رجوع کرنے والا دل لے کر آتے ہیں
03:18یہاں بھی دل کی کیفیت کو
03:19جنت کی شرط قرار دیا گیا
03:21آج ہمارا حال کیا ہے
03:23ہمارا دل تو دنیا میں ایسا گم ہو جاتا ہے
03:26کہ اسے پلٹنا ہی یاد نہیں رہتا
03:28ہم صبح گھر سے نکلتے ہیں
03:29دکان پر
03:30دفتر میں
03:31کاروبار میں ایسے مصروف ہوتے ہیں
03:33کہ ہمیں زہر کی آزان سنائی تو دیتی ہے
03:36مگر ہمارا دل دنیا سے
03:38اللہ کی طرف پلٹتا نہیں
03:39ہم کہتے ہیں کہ ابھی کام بہت ہے
03:41بعد میں پڑھ لیں گے
03:43یہی غفلت ہے جو دل کو بیمار کر دیتی ہے
03:46قلب منیب والا بندہ جب آزان سنتا ہے
03:48تو سب کچھ چھوڑ کر
03:50مسجد کی طرف دوڑتا ہے
03:51کیونکہ اس کی سوئی اسے بتا رہی ہوتی ہے
03:54کہ تمہاری اصل سمت یہ ہے
03:55میرے عزیزوں یہ جاننا بہت ضروری ہے
03:58کہ قلب سلیم اور قلب منیب میں کیا فرق ہے
04:02قلب سلیم ایک صحت مند دل ہے
04:04جو بیماریوں سے پاک ہے
04:05یہ ایک منزل ہے
04:07لیکن قلب منیب اس دل کا عمل ہے
04:09اس دل کی حرکت ہے
04:11قلب منیب وہ طریقہ ہے
04:12جس سے دل سلیم رہتا ہے
04:14اسے ایسے سمجھیں
04:15کہ ایک صاف ستھرا کمرہ ہے
04:17یہ قلب سلیم کی مثال ہے
04:19لیکن اس کمرے کو صاف رکھنے کے لیے
04:21روزانہ جھاڑو لگانا پڑتا ہے
04:23دھول صاف کرنی پڑتی ہے
04:25یہ روزانہ صفائی کرنے کا عمل
04:27قلب منیب ہے
04:28ہم دنیا میں رہتے ہیں
04:30روزانہ ہمارے دل پر گناہوں کی دھول پڑتی ہے
04:33غفلت کا غبار آتا ہے
04:34تو جو بندہ روزانہ توبہ اور استغفار کی جھاڑو سے
04:38اپنے دل کو صاف کرتا رہتا ہے
04:40وہی قلب منیب والا ہے
04:41حضرت ابراہیم علیہ السلام کا دل سلیم تو تھا ہی
04:45لیکن اللہ نے ان کی تعریف منیب کہہ کر کی
04:48کیونکہ وہ ہر لمحہ اپنے رب کی طرف متوجہ رہتے تھے
04:51ان کی زندگی کا ایک لمحہ بھی
04:53اللہ کی یاد سے غافل نہیں تھا
04:55تو میرے بھائیوں
04:57آج کی اس نشست کا پہلا سبق یہ ہے
04:59کہ ہمیں اپنے دل کو صرف صاف ہی نہیں رکھنا
05:02بلکہ بار بار اس کی طرف دیکھنا ہے
05:04کہ کہیں وہ دنیا کی طرف تو نہیں مڑ گیا
05:06ہمیں اپنے دل کا کمپاس ٹھیک رکھنا ہے
05:09اور اس کی صحیح سمت صرف اور صرف
05:11اللہ رب العزت کی ذات ہے
05:13اگر ہمارا دل دنیا کی دولت دیکھ کر اس کی طرف مڑ جائے
05:16یا کسی خوبصورت چہرے کو دیکھ کر اس کی طرف مڑ جائے
05:19یا کسی عہدے اور طاقت کو دیکھ کر اس کی طرف مڑ جائے
05:23تو سمجھ لیں کہ ہمارا کمپاس خراب ہو چکا ہے
05:26ہمیں اسے فوراں توبہ اور ذکر کے ذریعے
05:28دوبارہ ٹھیک کرنا ہوگا
05:30قلب منیب دراصل اللہ کے ساتھ ایک محبت کا تعلق ہے
05:34یہ وہ دل ہے
05:35جو اپنے محبوب سے ایک پل کے لیے بھی جدہ نہیں ہونا چاہتا
05:38جیسے ایک چھوٹا بچہ
05:40جب بازار میں اپنی ماں کی انگلی پکڑ کر چلتا ہے
05:43تو وہ ادھر ادھر دیکھتا تو ہے
05:45مگر اس کی نظر ہر وقت اپنی ماں پر ہوتی ہے
05:48کہ کہیں وہ چھوٹ نہ جائے
05:49اسی طرح قلب منیب والا دنیا کے بازار میں چلتا تو ہے
05:53مگر اس کا دھیان ہر وقت اپنے رب کی طرف ہوتا ہے
05:56اب اسی تعارف کے ساتھ ہم اس دل کی سب سے پہلی
06:00اور سب سے بڑی نشانی پر بات کرنے جا رہے ہیں
06:02جو اسے عام دلوں سے ممتاز کرتی ہے
06:05میرے دوستوں قلب منیب کی سب سے پہلی پہچان یہ ہے
06:09کہ وہ گناہ پر اسرار نہیں کرتا
06:11بلکہ غلطی سرزد ہوتے ہی
06:13فوراں شرمندہ ہو کر اپنے رب کی طرف پلٹ جاتا ہے
06:16یاد رکھئے انسان خطا کا پتلہ ہے
06:19اللہ نے فرشتوں کو تو معصوم بنایا ہے
06:21مگر انسانوں کو گناہ کرنے کی صلاحیت بھی دی ہے
06:24اور توبہ کرنے کی صلاحیت بھی دی ہے
06:27ولی اللہ وہ نہیں ہوتا
06:29جس سے کبھی کوئی گناہ سرزد نہ ہو
06:31بلکہ ولی وہ ہوتا ہے
06:32جس سے اگر کوئی گناہ ہو جائے
06:34تو وہ اس پر قائم نہیں رہتا
06:36بلکہ فوراں اللہ کے حضور گر جاتا ہے
06:39اور آنسووں سے اپنے گناہ کو دھو ڈالتا ہے
06:41قرآن مجید میں
06:42اللہ تعالیٰ نے اپنے نیک بندوں کی تعریف کرتے ہوئے فرمایا
06:46کہ اور وہ لوگ
06:47کہ جب کوئی بے حیائی کا کام کر بیٹھیں
06:49یا اپنی جانوں پر ظلم کر لیں
06:51تو فوراں اللہ کو یاد کرتے ہیں
06:53پھر اپنے گناہوں کی بخشش مانگتے ہیں
06:56اور اللہ کے سوا کون ہے
06:57جو گناہوں کو بخش سکے
06:59اور وہ جان بوچ کر اپنے کیے پر اسرار نہیں کرتے
07:02اس آیت میں
07:03اللہ تعالیٰ نے قلب منیب کا پورا نقشہ کھینچ دیا ہے
07:06یہاں تین باتیں بہت اہم ہیں
07:08پہلی بات یہ
07:10کہ نیک بندوں سے بھی گناہ ہو سکتا ہے
07:12دوسری بات یہ
07:13کہ گناہ کے فوراں بعد
07:15انہیں اللہ یاد آجاتا ہے
07:17اور تیسری بات یہ
07:18کہ وہ جان بوچ کر گناہ پر ڈٹے نہیں رہتے
07:21میرے دوستو
07:22شیطان کا سب سے بڑا دھوکہ یہی ہے
07:24کہ جب ہم سے کوئی گناہ ہو جاتا ہے
07:26تو وہ ہمارے کان میں آ کر کہتا ہے
07:28کہ اب تو تم گندے ہو گئے
07:30اب تم نماز کیسے پڑھو گے
07:32اب اللہ تمہاری توبہ کیسے قبول کرے گا
07:35وہ ہمیں مایوس کر دیتا ہے
07:36اور یہی مایوسی
07:38ہمیں اللہ سے دور کر دیتی ہے
07:39لیکن قلب منیب والا شیطان کے اس دھوکے میں نہیں آتا
07:43وہ جانتا ہے کہ میرا رب غفور الرحیم ہے
07:46وہ ستر ماہوں سے زیادہ پیار کرنے والا ہے
07:48اگر میں ایک بار گرا ہوں
07:50تو وہ مجھے دس بار اٹھانے کے لیے تیار ہے
07:53وہ کہتا ہے
07:54کہ یا اللہ میں کمزور تھا
07:56میرے نفس نے مجھے بہکا دیا
07:57لیکن تو تو طاقتور ہے
07:59تو مجھے معاف کر دے
08:00حضرت آدم علیہ السلام کی مثال ہمارے سامنے ہے
08:03ان سے جنت میں ایک لغزش ہوئی
08:06مگر انہوں نے اس لغزش کی تعویلے نہیں کی
08:08انہوں نے یہ نہیں کہا
08:10کہ یا اللہ ہوا نے مجھے بہکایا تھا
08:12نہیں
08:12بنکہ انہوں نے فوراً اپنی غلطی کو تسلیم کیا
08:15اور دعا مانگی
08:16کہ ربنا ظلمنا انفسنا
08:18وَإِلَّمْ تَغْفِرْ لَنَا وَتَرْحَمْنَا
08:21لَنَكُونَنَّ مِنَ الْخَاسِرِينَ
08:22اے ہمارے رب ہم نے اپنی جانوں پر ظلم کیا
08:25اور اگر تو نے ہمیں معاف نہ کیا
08:27اور ہم پر رحم نہ کیا
08:29تو ہم یقیناً خسارہ پانے والوں میں سے ہو جائیں گے
08:32یہ ہے انعبت
08:33یہ ہے اپنے رب کی طرف پلٹنا
08:35اپنی غلطی کو مان لینا ہی
08:37ولایت کی پہلی سیڑھی ہے
08:39آج ہمارا حال یہ ہے
08:40کہ ہم گناہ بھی کرتے ہیں
08:42اور پھر اس کے لیے بہانے بھی تراشتے ہیں
08:44ہم کہتے ہیں کہ جی کیا کریں
08:46زمانہ ہی خراب ہے
08:48سب لوگ ایسا کرتے ہیں
08:49تو میں اکیلا کیسے بچ سکتا ہوں
08:51یہ دل کی سختی کی علامت ہے
08:53قلب منیب والا بندہ کبھی اپنے گناہ کا الزام دوسروں پر نہیں ڈالتا
08:57بلکہ وہ اپنی کمزوری کا اعتراف کرتا ہے
09:00میرے عزیزوں
09:01گناہ ایک زہر کی طرح ہے
09:03اگر غلطی سے انسان زہر پی لے
09:05تو وہ فوراں ڈاکٹر کے پاس بھاگتا ہے
09:07تاکہ اس کا علاج ہو سکے
09:09وہ یہ نہیں سوچتا کہ کل جاؤں گا
09:11یا پرسوں جاؤں گا
09:12اسی طرح جب ہم سے کوئی گناہ ہو جائے
09:14تو ہمیں فوراں توبہ کے ڈاکٹر
09:16یعنی اللہ کی بارگاہ میں بھاگنا چاہیے
09:19توبہ میں تاخیر کرنا بھی ایک گناہ ہے
09:21حضرت علی رضی اللہ عنہ کا قول ہے
09:24کہ سب سے برا گناہ وہ ہے
09:25جسے انسان چھوٹا سمجھے
09:27ہم اکثر چھوٹے چھوٹے گناہوں کو نظر انداز کر دیتے ہیں
09:30جیسے غیبت کرنا
09:32جھوٹ بولنا
09:33یا کسی کا مزاق اڑانا
09:34ہم سمجھتے ہیں کہ یہ معمولی باتیں ہیں
09:37حالانکہ یہی چھوٹے گناہ جمع ہو ہو کر
09:39ہمارے دل کو کالا کر دیتے ہیں
09:41ایک بزرگ سے کسی نے پوچھا
09:43کہ توبہ کی قبولیت کی نشانی کیا ہے
09:46تو انہوں نے فرمایا
09:47کہ جب گناہ یاد آنے پر
09:49دل میں شرمندگی اور آنکھ میں آسو آ جائیں
09:52تو سمجھ لو کہ توبہ قبول ہو گئی ہے
09:54قلب منیب وہ دل ہے
09:55جو گناہ کو بھولتا نہیں ہے
09:57بلکہ اسے یاد کر کے روتا ہے
09:59وہ اپنی نیکیوں کو بھول جاتا ہے
10:01کہ کہیں تکبر نہ آ جائے
10:03مگر اپنے گناہوں کو یاد رکھتا ہے
10:05تاکہ آجزی قائم رہے
10:07حضرت امام حسن بسری رحمت اللہ علیہ فرماتے ہیں
10:10کہ مومن کا حال یہ ہوتا ہے
10:12کہ وہ اپنے آپ کو سب سے زیادہ گناہگار سمجھتا ہے
10:15اور منافق کا حال یہ ہوتا ہے
10:17کہ وہ سمجھتا ہے
10:18کہ مجھ سے زیادہ نیک کوئی نہیں
10:20تو میرے دوستوں
10:21آج ہمیں اپنے دل کا جائزہ لینا ہے
10:23جب ہم سے کوئی غلطی ہوتی ہے
10:25تو کیا ہمیں فوراں اللہ یاد آتا ہے
10:27کیا ہمارا دل بے چائن ہوتا ہے
10:29کیا ہم فوراں دو رکعت نماز پڑھ کر
10:32اللہ سے معافی مانگتے ہیں
10:33اگر ہاں
10:34تو یہ قلب منیب کی نشانی ہے
10:36اور ہمیں اس پر اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیے
10:39اور اگر نہیں
10:40اور ہم گناہ کر کے بھی سکون سے سو جاتے ہیں
10:42تو سمجھ لیں کہ ہمارا دل بیمار ہو چکا ہے
10:45اور اسے فوری علاج کی ضرورت ہے
10:47اس کا علاج یہ ہے
10:48کہ ہم کسرت سے استغفار کریں
10:50بھائیو ایک منٹ رکھئے گا
10:52بلکل
10:52اس کا علاج یہ ہے
10:54کہ ہم کسرت سے استغفار کریں
10:56حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم
10:59جو کہ معصوم ان الخطا ہے
11:01وہ بھی دن میں ستر ستر بار
11:03اور سو سو بار استغفار کیا کرتے تھے
11:05یہ ہماری تعلیم کے لیے تھا
11:08وہ ہمیں سکھا رہے تھے
11:09کہ توبہ کا دروازہ کبھی بند نہیں ہوتا
11:11جب تک موت کا فرشتہ سامنے نہ آ جائے
11:14تب تک واپسی کا راستہ کھلا ہے
11:16ایک بہت ہی پیاری حدیث ہے
11:18کہ جب بندہ سچے دل سے توبہ کرتا ہے
11:21تو اللہ کو اتنی خوشی ہوتی ہے
11:23جتنی اس شخص کو ہوتی ہے
11:25جس کا اونٹ سہرا میں گم ہو جائے
11:27اور اس پر اس کا کھانا پینا بھی ہو
11:29اور وہ مایوس ہو کر مرنے کے لیے لیٹ جائے
11:32اور جب آنکھ کھلے
11:33تو وہ اونٹ اس کے سامنے کھڑا ہو
11:35ذرا سوچیں
11:36کہ اللہ اپنے گنہگار بندے کے پلٹنے پر
11:39کتنا خوش ہوتا ہے
11:41تو پھر ہم کیوں اس کی رحمت سے مایوس ہوتے ہیں
11:43تو صاحبو قلب منیب کی اس عظیم نشانی کا
11:46تو آپ نے سن لیا
11:47لیکن اب ہم انعبت یعنی
11:49رجوع کرنے کے ایک ایسے پہلو پر بات کریں گے
11:52جسے اکثر لوگ نظرانداز کر دیتے ہیں
11:55جی عمر صاحب
11:56جی عثمان صاحب شکریہ
11:58تو میرے نہائی تھی
12:00قابل قدر دوستوں اور بزرگوں
12:02پچھلی نشست میں ہم نے
12:04قلب منیب کی اس عظیم نشانی پر بات کی تھی
12:07کہ وہ گناہ کے بعد
12:08فوراں اپنے رب کی طرف پلٹتا ہے
12:11اور توبہ میں تاخیر نہیں کرتا
12:13لیکن آج ہم انعبت یعنی
12:16رجوع کرنے کے ایک ایسے پہلو پر بات کریں گے
12:19جسے اکثر لوگ نظرانداز کر دیتے ہیں
12:22اور یہی وہ مقام ہے
12:23جہاں شکر گزار اور ناشکر بندے کا
12:26فرق واضح ہوتا ہے
12:27میرے دوستو اللہ کی طرف پلٹنا
12:30صرف مسیبت اور غم میں نہیں ہوتا
12:32بلکہ حقیقی قلب منیب وہ ہے
12:35جو خوشی اور نعمت ملنے پر بھی
12:38فوراں اپنے رب کی طرف پلٹتا ہے
12:40اور شکر ادا کرتا ہے
12:41آج کل ہمارے معاشرے کا
12:44ایک بہت بڑا علمیہ یہ ہے
12:45کہ ہم اللہ کو صرف دکھوں میں
12:48یاد کرتے ہیں
12:49جب کوئی بیماری آتی ہے
12:50کوئی مقدمہ پڑ جاتا ہے
12:52یا کاروبار میں نقصان ہوتا ہے
12:54تو ہمیں مسجد بھی یاد آ جاتی ہے
12:56تحجد بھی یاد آ جاتی ہے
12:58اور وظیفے بھی یاد آ جاتے ہیں
13:00ہم رو رو کر دعائیں مانگتے ہیں
13:02کہ یا اللہ مجھے اس مسیبت سے نکال دے
13:04لیکن جیسے ہی اللہ ہماری دعا
13:07قبول کر لیتا ہے
13:08اور مسیبت ٹل جاتی ہے
13:09تو ہم دوبارہ غافل ہو جاتے ہیں
13:11ہم ایسے ہو جاتے ہیں
13:13جیسے ہم نے کبھی
13:14اللہ کو پکارا ہی نہیں تھا
13:15قرآن مجید میں
13:17اللہ تعالیٰ نے
13:18ایسے لوگوں کی
13:19مضمت کرتے ہوئے فرمایا
13:20کہ اور جب انسان کو
13:22کوئی تکلیف پہنچتی ہے
13:23تو وہ ہمیں لیٹے
13:25بیٹھے اور کھڑے پکارتا ہے
13:27پھر جب ہم اس سے
13:28اس کی تکلیف دور کر دیتے ہیں
13:30تو وہ ایسے چل دیتا ہے
13:31گویا اس نے ہمیں
13:33کسی تکلیف کے لیے
13:34پکارا ہی نہیں تھا
13:35یہ بیمار دل کی نشانی ہے
13:37لیکن قلب منیب والا بندہ
13:40ایسا نہیں ہوتا
13:41اس کا تعلق
13:42اپنے رب کے ساتھ
13:43موسمی نہیں ہوتا
13:44بلکہ دائمی ہوتا ہے
13:46وہ جانتا ہے
13:47کہ دکھ بھی
13:48اللہ کی طرف سے آزمائش ہے
13:49اور سکھ بھی
13:50اللہ کی طرف سے آزمائش ہے
13:52اس لیے جب اسے
13:53کوئی نعمت ملتی ہے
13:54چاہے وہ صحت کی نعمت ہو
13:56مال کی نعمت ہو
13:57یا اولاد کی نعمت ہو
13:59تو وہ فوراں
14:00اپنے رب کی طرف پلٹتا ہے
14:01اور سجدے میں گر جاتا ہے
14:03وہ کہتا ہے
14:04کہ یا اللہ
14:05یہ میرا کمال نہیں ہے
14:06یہ تیرا کرم ہے
14:08یہ تیری عطا ہے
14:09حضرت سلمان علیہ السلام کی
14:12مثال ہمارے سامنے ہے
14:13اللہ نے انہیں
14:15اتنی بڑی بادشاہی عطا کی
14:16کہ جنات اور پرندے بھی
14:18ان کے تابے تھے
14:20ایک دن وہ اپنے لشکر کے ساتھ
14:21جا رہے تھے
14:22کہ انہوں نے ایک چیوٹی کی آواز سنی
14:24جو اپنی ساتھی چیوٹیوں سے کہہ رہی تھی
14:27کہ اپنے بلوں میں گھس جاؤ
14:28کہیں سلمان اور اس کا لشکر
14:30تمہیں کچل نہ ڈالے
14:31حضرت سلمان علیہ السلام نے
14:34جب یہ سنا
14:34تو وہ مسکرائے
14:36اور انہوں نے یہ نہیں کہا
14:37کہ دیکھو میری شان کتنی بلند ہے
14:39کہ جانور بھی مجھ سے ڈرتے ہیں
14:41نہیں
14:42بلکہ وہ فوراں
14:43اپنے رب کی طرف پلٹے
14:44قرآن کہتا ہے
14:46کہ انہوں نے دعا مانگی
14:47کہ رب بے اوزئنی
14:49ان اشکرا نعمت کلتی
14:51ان امت علیہ
14:52وعلی والدی
14:53اے میرے رب
14:55مجھے توفیق دے
14:56کہ میں تیری اس نعمت کا شکر ادا کروں
14:58جو تُو نے مجھ پر
14:59اور میرے والدین پر کی ہے
15:01یہ ہے قلب منیب
15:03جو ہر نعمت کو
15:05اپنی طرف منصوب نہیں کرتا
15:06بلکہ اللہ کی طرف منصوب کرتا ہے
15:09آج ہمارا حال یہ ہے
15:11کہ اگر ہمیں تھوڑی سی کامیابی مل جائے
15:13تو ہم میں فیرونیت آ جاتی ہے
15:15اگر ہماری کوئی ویڈیو وائرل ہو جائے
15:18تو ہم سمجھتے ہیں
15:19کہ یہ میری قابلیت ہے
15:20اگر ہمارا کاروبار چل پڑے
15:22تو ہم کہتے ہیں
15:23کہ یہ میری محنت کا نتیجہ ہے
15:25یہی وہ غرور ہے
15:27جو انسان کو
15:28اللہ سے دور کر دیتا ہے
15:29قلبی منیب والا
15:32جب صبح سو کر اٹھتا ہے
15:33تو سب سے پہلے
15:34اپنے رب کی طرف پلٹتا ہے
15:36اور کہتا ہے
15:37تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں
15:45جس نے ہمیں مرنے کے بعد زندہ کیا
15:47اور اسی کی طرف لوٹنا ہے
15:49وہ اس بات پر شکر ادا کرتا ہے
15:52کہ یا اللہ
15:52تو نے مجھے ایک اور دن عطا کیا
15:54تاکہ میں تیری عبادت کر سکوں
15:56وہ جب کھانا کھاتا ہے
15:58تو کھانے کے بعد
15:59اپنے رب کی طرف پلٹتا ہے
16:01اور کہتا ہے
16:02تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں
16:10جس نے ہمیں کھلایا پلایا
16:12اور مسلمانوں میں سے بنایا
16:14وہ ہر چھوٹی سے چھوٹی نعمت پر بھی
16:16اللہ کا شکر ادا کرتا ہے
16:18میرے دوستوں شکر کرنے سے
16:21نعمت کم نہیں ہوتی
16:22بلکہ بڑھ جاتی ہے
16:24اللہ کا وعدہ ہے
16:25اگر تم شکر کروگے
16:29تو میں تمہیں اور زیادہ دوں گا
16:31قلب منیب والا
16:33اس راز کو جانتا ہے
16:34اس لیے وہ ہر حال میں شاکر رہتا ہے
16:36وہ لوگوں کا بھی شکریہ ادا کرتا ہے
16:39کیونکہ حدیث پاک میں ہے
16:40کہ جو لوگوں کا شکریہ ادا نہیں کرتا
16:42وہ اللہ کا بھی شکریہ ادا نہیں کرتا
16:45انابتن فی الخوشی
16:48یعنی خوشی میں
16:49اللہ کی طرف پلٹنے کا
16:51ایک اور مطلب یہ بھی ہے
16:52کہ جب اللہ آپ کو کوئی نعمت دے
16:54تو آپ اس نعمت کو
16:56اللہ کی نافرمانی میں استعمال نہ کریں
16:58اگر اللہ نے آپ کو آنکھیں دی ہیں
17:00تو ان آنکھوں سے قرآن پڑھیں
17:02ان سے اللہ کی قدرت کے نظارے دیکھیں
17:05نہ کہ ان سے گندی فلمیں دیکھیں
17:07اگر اللہ نے آپ کو دولت دی ہے
17:09تو اسے غریبوں پر خرچ کریں
17:11اس سے مساجد بنائیں
17:13نہ کہ اس سے سود کا کاروبار کریں
17:15اور غریبوں کا خون چوسیں
17:17قلب منیب والا ہر نعمت کو
17:19اللہ کی امانت سمجھتا ہے
17:21اور اسے وہیں خرچ کرتا ہے
17:23جہاں اس کا مالک راضی ہو
17:24قارون کو اللہ نے بہت دولت دی تھی
17:27مگر جب اس سے کہا گیا
17:29کہ اس میں سے اللہ کا حق نکالو
17:31تو اس نے کہا کہ یہ تو میں نے
17:32اپنے علم اور ہنر سے کمائی ہے
17:34اس نے نعمت کو اپنی طرف منصوب کیا
17:37تو اللہ نے اسے اس کے خزانوں
17:39سمیت زمین میں دھسا دیا
17:41یہ ناشکری کا انجام ہے
17:43اب اسی انعابت کے سفر میں
17:47ہم اس کی چوتھی منزل پر قدم رکھتے ہیں
17:49جو آج کے علمی اور فکری فتنوں کے دور میں
17:53انتہائی ضروری ہے
17:54میرے دوستو قلب منیب صرف گناہوں سے
17:57توبہ کرنے یا نعمتوں پر شکر کرنے کا نام نہیں ہے
18:01بلکہ قلب منیب وہ دل ہے
18:03جو علم اور ہدایت کے لیے بھی
18:05ہر معاملے میں صرف اور صرف
18:07اپنے رب کی طرف پلٹتا ہے
18:08آج کل ہمارے معاشرے کا
18:10ایک بہت بڑا علمیہ یہ ہے
18:12کہ ہم نے اپنی عقل کو
18:14اپنا خدا بنا لیا ہے
18:15ہم ہر چیز کو سائنس اور منطق کی
18:18قسوٹی پر پرکھتے ہیں
18:19اور جو بات ہماری چھوٹی سی عقل میں نہیں آتی
18:22ہم اسے ماننے سے انکار کر دیتے ہیں
18:24ہم کہتے ہیں کہ جی یہ کیسے ہو سکتا ہے
18:27کہ انسان مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہو جائے
18:29یہ بات سائنس نہیں مانتی
18:31یہ دل کی بیماری کی علامت ہے
18:34جسے تکبر کہتے ہیں
18:36قلب منیب والا شخص
18:38اپنی عقل پر بھروسہ نہیں کرتا
18:39بلکہ وہ اپنے رب کی وحی پر بھروسہ کرتا ہے
18:42وہ جانتا ہے کہ میری عقل محدود ہے
18:45اور میرے رب کا علم لا محدود ہے
18:47اس لیے جب اس کے سامنے قرآن کی کوئی آیت
18:50یا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی حدیث آ جاتی ہے
18:54تو وہ سر تسلیم خم کر دیتا ہے
18:56چاہے وہ بات اس کی سمجھ میں آئے یا نہ آئے
18:59اس کی سب سے بڑی مثال میراج النبی کا واقعہ ہے
19:04جب حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے
19:08میراج سے واپس آ کر یہ اعلان کیا
19:10کہ میں آج رات مسجد حرام سے مسجد اقصہ گیا
19:13اور وہاں سے ساتوں آسمانوں کی سیر کر کے واپس بھی آ گیا
19:17تو مکہ کے کافروں نے مزاک اڑانا شروع کر دیا
19:20کیونکہ ان کی عقل یہ بات ماننے کو تیار نہیں تھی
19:23کہ مہینوں کا سفر ایک رات میں کیسے تیہ ہو سکتا ہے
19:27جب وہ لوگ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس گئے
19:31اور کہا کہ دیکھو تمہارا دوست کیسی باتیں کر رہا ہے
19:35تو حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے یہ نہیں کہا
19:38کہ مجھے دلیل دو یا مجھے سمجھاؤ
19:41بلکہ انہوں نے فوراں کہا کہ اگر یہ بات میرے آقا محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائی ہے
19:47تو میں بغیر سوچے سمجھے اس پر ایمان لاتا ہوں
19:50اسی ادا پر انہیں صدیق کا لقب ملا تھا
19:53یہ ہے قلب منیب جو دلیل نہیں مانگتا
19:56بلکہ صرف محبوب کی بات پر یقین کرتا ہے
19:59میرے دوستو آج ہم ہر معاملے میں اپنی رائے دیتے ہیں
20:03ہم کہتے ہیں کہ میرے خیال میں اسلام میں پردے کا یہ مطلب نہیں ہے
20:07یا میرے خیال میں سود کی یہ قسم جائز ہونی چاہیے
20:11یہ بہت خطرناک رویہ ہے
20:13قلب منیب والا کہتا ہے کہ میرا کوئی خیال نہیں ہے
20:16جو میرے اللہ اور اس کے رسول کا حکم ہے وہی حق ہے
20:20وہ اپنے تمام فیصلوں کے لیے قرآن اور سنت کی طرف رجوع کرتا ہے
20:24اگر اس کے کاروبار میں کوئی مسئلہ آ جائے
20:26تو وہ دنیاوی ماہرین سے مشورہ تو کرتا ہے
20:29مگر آخری فیصلہ وہ قرآن سے پوچھتا ہے
20:32کہ اس بارے میں میرے رب کا کیا حکم ہے
20:34اگر اس کی شادی میں کوئی جھگڑا ہو جائے
20:37تو وہ اپنی انا کو نہیں دیکھتا
20:39بلکہ وہ دیکھتا ہے کہ میرے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا
20:42اپنی بیریوں کے ساتھ کیسا سلوک تھا
20:45قلب منیب علم کے معاملے میں بہت آجز ہوتا ہے
20:50وہ کبھی یہ نہیں کہتا کہ مجھے سب کچھ پتا ہے
20:52وہ ہمیشہ دعا کرتا ہے کہ رب زدنی علمہ
20:56اے میرے رب میرے علم میں اضافہ فرما
20:58حضرت موسیٰ علیہ السلام جو اللہ کے جلیل القدر پیغمبر تھے
21:03اور اللہ سے براہ راست بات کرتے تھے
21:05جب اللہ نے انہیں بتایا کہ میرا ایک بندہ خضر ہے
21:08جس کے پاس آپ سے زیادہ علم ہے
21:11تو حضرت موسیٰ علیہ السلام نے یہ نہیں کہا
21:14کہ میں تو نبی ہوں میں کسی اور سے کیوں سیکھوں
21:16نہیں بلکہ وہ فوراً اپنے رب کی طرف پلٹے
21:20قرآن کہتا ہے کہ انہوں نے دعا مانگی
21:22کیا میں تیری پیروی کر سکتا ہوں
21:29کہ تُو مجھے وہ سکھائے جو تجھے علم سکھایا گیا ہے
21:32یہ ہے علم کی پیاس
21:34اور ہدایت کے لیے رجوع کرنا
21:36آج ہم دو چار کتابیں پڑھ کر
21:38اپنے آپ کو علامہ سمجھنے لگتے ہیں
21:40اور علماء کرام پر بھی تنقید شروع کر دیتے ہیں
21:43یہ دل کی سختی کی علامت ہے
21:46قلب منیب والا ہمیشہ اہلِ علم کا عدب کرتا ہے
21:49اور ان سے سیکھنے کی کوشش کرتا ہے
21:51میرے عزیزو ہدایت کے لیے
21:55اللہ کی طرف پلٹنے کا ایک اور مطلب یہ بھی ہے
21:57کہ جب آپ زندگی کے کسی دوراہے پر پھڑے ہوں
22:01اور آپ کو سمجھ نہ آ رہی ہو
22:02کہ کیا فیصلہ کروں
22:03تو آپ دنیا کے لوگوں سے مشورے کرنے کے بجائے
22:06دو رکعات نمازِ استخارہ پڑھ کر
22:09اپنے رب سے مشورہ کریں
22:10کیونکہ لوگ آپ کو آپ کی بھلائی کا مشورہ دیں گے
22:13مگر وہ غیب کا علم نہیں رکھتے
22:15لیکن اللہ وہ جانتا ہے جو آپ نہیں جانتے
22:18قلب منیب والا اپنے تمام معاملات
22:21اللہ کے سپرد کر دیتا ہے
22:23اور کہتا ہے کہ
22:24یا اللہ تو ہی میرا وکیل ہے
22:26تو میرے لیے جو بہتر ہے وہ فیصلہ فرما دے
22:29پھر جو بھی نتیجہ نکلے
22:30وہ اس پر راضی رہتا ہے
22:32کیونکہ اسے یقین ہوتا ہے
22:34کہ میرے رب کا فیصلہ میرے اپنے فیصلے سے
22:36ہزار گناہ بہتر ہے
22:38بھائیو رکیے گا ایک منٹ
22:39بلکل آج کل ایک اور بہت بڑا فٹنہ یہ ہے
22:42کہ لوگ انٹرنیٹ اور گوگل سے دین سیکھنے کی کوشش کرتے ہیں
22:45وہاں ہر طرح کی گمراہ کن معلومات موجود ہیں
22:48قلب منیب والا دین سیکھنے کے لیے
22:51مستند علماء کرام کے طرف رجوع کرتا ہے
22:53وہ ایسے لوگوں سے علم حاصل کرتا ہے
22:56جن کا سلسلہ سند حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچتا ہو
23:01کیونکہ بغیر استاد کے علم حاصل کرنے والا
23:03اکثر گمراہ ہو جاتا ہے
23:05میرے بھائیو آئیے آج ہم اپنے رویہ کا جائزہ لے
23:09کیا ہم بھی اپنی اقل کے گھوڑے دوڑاتے ہیں
23:12یا ہر معاملے میں اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے سامنے سر جھکا دیتے ہیں
23:18کیا ہم علم حاصل کرنے کے لیے تکبر کرتے ہیں
23:21یا آجزی اختیار کرتے ہیں
23:23ہمیں اپنے دل کو حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ جیسا بنانا ہوگا
23:28جو دلیل نہیں بلکہ تصدیق کرتا تھا
23:31ہمیں اپنے دل کو حضرت موسیٰ علیہ السلام جیسا بنانا ہوگا
23:34جو علم کے لیے سفر کرنے سے بھی نہیں گھبرائے
23:37یہی وہ دل ہے جو ہدایت کے نور سے منور ہوتا ہے
23:41اور یہی وہ دل ہے جو دنیا اور آخرت میں کامیاب ہوتا ہے
23:44تو میرے دوستو سفر انعابت کی اس پانچویں اور انتہائی اہم منزل پر اب آگئے ہیں
23:50اب ہم قلب منیب یعنی اللہ کی طرف پلٹنے والے دل کی ایک ایسی عادت پر بات کریں گے
23:56جو اسے دنیا کی تمام تکلیفوں اور پریشانیوں سے نجات دلا دیتی ہے
24:00آئیے سنتے ہیں جناب عمر صاحب سے
24:03جی عمر
24:04میرے نہایت ہی قابل قدر دوستو اور بزرگو
24:07سفر انعابت کی اس پانچویں اور انتہائی اہم منزل پر
24:11ہم قلب منیب یعنی اللہ کی طرف پلٹنے والے دل کی ایک ایسی عادت پر بات کریں گے
24:16جو اسے دنیا کی تمام تکلیفوں اور پریشانیوں سے نجات دلا دیتی ہے
24:20میرے دوستو قلب منیب وہ دل ہے جو جب مخلوق سے دکھ پاتا ہے اور اس کی امیدیں ٹوٹتی ہیں
24:26تو وہ مخلوق سے لڑنے یا ان سے شکوا کرنے کے بجائے خاموشی سے اپنے خالق کی طرف پلٹ جاتا ہے
24:32آج ہماری زندگی کی آدھی سے زیادہ پریشانیوں کی وجہ یہی ہے
24:36کہ ہم نے اپنی امیدیں اللہ کے بجائے اللہ کے بندوں سے وابستہ کر رکھی ہیں
24:40ہم سمجھتے ہیں کہ فلا شخص ہماری مدد کرے گا
24:44فلا دوست ہمارے کام آئے گا
24:45یا فلا رشتدار ہمارا سہارا بنے گا
24:48لیکن جب وہی لوگ ہماری امیدوں پر پورا نہیں اترتے
24:51یا ہمیں دھوکہ دیتے ہیں
24:52تو ہمارا دل ٹوٹ جاتا ہے
24:54اور ہم ڈپریشن میں چلے جاتے ہیں
24:56یاد رکھئے مخلوق سے امید لگانا شرک خفی
24:59یعنی چھپا ہوا شرک ہے
25:01قلب منیب اس شرک سے پاک ہوتا ہے
25:04وہ جانتا ہے کہ دینے والی ذات بھی اللہ کی ہے
25:06اور لینے والی ذات بھی اللہ کی ہے
25:08لوگ تو صرف وسیلہ ہے
25:10اصل کارساز تو وہ اکیلا ہے
25:12اس بات کو سمجھنے کے لیے
25:14حضرت یوسف علیہ السلام کا وہ واقعہ یاد کریں
25:17جو صبر اور توقل کی ایک عظیم داستان ہے
25:19جب ان کے بھائیوں نے حسد کی وجہ سے
25:22انہیں کوئے میں پھینک دیا
25:23تو وہ ایک چھوٹے سے بچے تھے
25:25وہ چاہتے تو روتے چیختے
25:27یا اپنے بھائیوں کو بددعائیں دیتے
25:29مگر انہوں نے ایسا نہیں کیا
25:30وہ خاموشی سے اپنے رب کی طرف پلٹ گئے
25:33کہ اے اللہ میں اپنا معاملہ تیرے سپورت کرتا ہوں
25:36جب وہ مصر کے بازار میں غلام بنا کر بیچے جا رہے تھے
25:39تب بھی انہوں نے کسی سے شکوا نہیں کیا
25:41جب ان پر جھوٹا الزام لگا
25:43اور انہیں سالہا سال کے لیے جیل میں ڈال دیا گیا
25:46تب بھی ان کی زبان پر کوئی گلہ نہیں آیا
25:48وہ ہر مصیبت میں صرف اپنے رب کی طرف رجوع کرتے رہے
25:52یہاں تک کہ جب جیل میں انہوں نے ایک قیدی کی خواب کی تعبیر بتائی
25:56اور اس سے کہا کہ جب تم بادشاہ کے پاس جاؤ
25:58تو اس سے میرا ذکر کرنا
26:00تو قرآن کہتا ہے کہ شیطان نے اس شخص کو بھلا دیا
26:03اور وہ کئی سال تک جیل میں رہے
26:05اس ایک لمحے کے لیے جب انہوں نے غیر اللہ سے امید لگائی
26:09تو اللہ نے انہیں سکھا دیا
26:10کہ اے میرے نبی امیدیں صرف مجھ سے لگائی جاتی ہیں
26:13اور پھر جب اللہ نے انہیں عزت دی
26:16تو ایسی دی کہ انہیں مصر کا بادشاہ بنا دیا
26:18یہ ہے قلب منیب کا انام
26:20جو مخلوق سے کٹ جاتا ہے
26:22خالق اسے دنیا کا بادشاہ بنا دیتا ہے
26:24میرے دوستو آج کل ہمارا حال یہ ہے
26:27کہ اگر کوئی ہمارا فون نہ اٹھائے
26:29یا ہمارے میسج کا جواب نہ دے
26:30تو ہم پریشان ہو جاتے ہیں
26:32اگر کوئی دوست ہماری مدد کرنے سے انکار کر دے
26:35تو ہم اسے اپنا دشمن سمجھنے لگتے ہیں
26:37یہ کمزور دل کی نشانی ہے
26:39قلب منیب والا شخص
26:41لوگوں سے امیدیں ہی نہیں لگاتا
26:43اس لیے اسے مایوسی بھی نہیں ہوتی
26:44وہ لوگوں سے حسن سلوک کرتا ہے
26:47ان کے کام آتا ہے
26:48مگر بدلے کی امید نہیں رکھتا
26:50وہ یہ سوچتا ہے
26:51کہ میں یہ نیکی
26:52اس بندے کے لیے نہیں کر رہا
26:53بلکہ اپنے اللہ کو رازی کرنے کے لیے کر رہا ہوں
26:56اس کا عجر مجھے یہ بندہ نہیں دے گا
26:58بلکہ میرا رب دے گا
27:00جب یہ سوچ دل میں آ جاتی ہے
27:01تو پھر اگر کوئی آپ کے احسان کا بدلہ برائی سے بھی دے
27:04تو آپ کو دکھ نہیں ہوتا
27:06بلکہ آپ کہتے ہیں
27:07کہ الحمدللہ میرا عجر اللہ کے پاس محفوظ ہو گیا
27:10مخلوق کی طرف سے آنے والی تکلیفوں پر
27:13اللہ کی طرف پلٹنے کا ایک اور مطلب یہ بھی ہے
27:16کہ آپ لوگوں کے تانوں اور ان کی باتوں کی پرواہ کرنا چھوڑ دیں
27:19آج ہم آدھی زندگی اسی خوف میں گزار دیتے ہیں
27:22کہ لوگ کیا کہیں گے
27:24اگر میں نے دین پر چلنا شروع کر دیا
27:26تو میرے دوست میرا مزاق اڑائیں گے
27:28اگر میں نے سادگی سے شادی کی
27:30تو خاندان والے کیا کہیں گے
27:32قلب منیب والا لوگوں کی پرواہ نہیں کرتا
27:34وہ صرف اس بات کی پرواہ کرتا ہے
27:36کہ میرا رب میرے بارے میں کیا کہے گا
27:39وہ جانتا ہے
27:40کہ جن لوگوں کو میں آج رازی کرنے کی کوشش کر رہا ہوں
27:42قل قیامت کے دن
27:44ان میں سے کوئی بھی میرا بوجھ نہیں اٹھائے گا
27:46وہاں مجھے اپنا حساب خود ہی دینا ہوگا
27:49امام غزالی لحمت اللہ علیہ فرماتے ہیں
27:51کہ جب تم کوئی کام کرو
27:52تو یہ سوچا کرو
27:53کہ اگر اس وقت موت کا فرشتہ آ جائے
27:55تو کیا تم اللہ کو یہ عمل دکھا سکتے ہو
27:58اگر جواب ہاں میں ہے
27:59تو وہ کام کر لو
28:00اور اگر جواب نفی میں ہے
28:02تو فوراں رک جاؤ
28:03جب انسان کی سوچ کا مایار یہ بن جائے
28:06تو وہ لوگوں کے ڈر سے آزاد ہو جاتا ہے
28:08میرے عزیزو
28:09جب آپ اللہ کے لیے لوگوں کو چھوڑتے ہیں
28:12تو اللہ آپ کو کبھی تنہا نہیں چھوڑتا
28:14جب حضرت ابراہیم علیہ السلام نے
28:16اپنی قوم اور اپنے باپ کو چھوڑا
28:18تو اللہ نے انہیں اسماعیل اور اسحاق جیسے بیٹے عطا کیے
28:21جب اصحابِ کحف نے
28:22بادشاہ کے خوف سے اپنا شہر چھوڑا
28:25تو اللہ نے انہیں ایک غار میں صدیوں تک سلا کر محفوظ رکھا
28:28اور ان کا ذکر قرآن میں
28:30ہمیشہ کے لیے بلند کر دیا
28:31جب حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے
28:34اللہ کے حکم سے مکہ چھوڑا
28:36تو اللہ نے انہیں مدینہ کا تاجدار بنا دیا
28:39اور پھر فاتح بنا کر مکہ میں واپس لیا
28:41تاریخ گواہ ہے
28:42کہ جس نے بھی اللہ کی خاطر مخلوق کو چھوڑا
28:45اللہ نے اسے پہلے سے بہتر عطا کیا
28:47اب اس سفر کے اختتام پر
28:49ہم قلب منیب حاصل کرنے کے
28:51عملی طریقوں پر بات کرتے ہیں
28:52میرے دوستو یہ سفر صرف باتوں سے نہیں
28:55بلکہ عمل اور مجاہدے سے تیہ ہوتا ہے
28:58صوفیہ قرام نے
28:59قرآن و سنت کی روشنی میں
29:00قلب منیب حاصل کرنے کے تین بڑے
29:03اور آزمودہ نسخے بیان کیے ہیں
29:05جن پر عمل کر کے
29:06ایک عام انسان بھی
29:07اللہ کے مقرب بندوں میں شامل ہو سکتا ہے
29:10قلب منیب حاصل کرنے کا
29:12سب سے پہلا اور بنیادی قدم
29:13کسرت استغفار اور سچی توبہ ہے
29:16استغفار کا مطلب ہے
29:17اللہ سے معافی مانگنا
29:19یہ وہ عمل ہے جو دل پر لگے ہوئے
29:21گناہوں کے زنگ کو صاف کرتا ہے
29:22جیسے ایک گندے کپڑے کو سابون سے دھویا جاتا ہے
29:25اسی طرح گناہوں سے میلے دل کو
29:27استغفار کے سابون سے دھویا جاتا ہے
29:29حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم
29:32جو کہ معصوم ان الخطہ تھے
29:34وہ بھی دن میں سو سو بار استغفار کیا کرتے تھے
29:37یہ ہماری تعلیم کے لیے تھا
29:39کہ اے میرے امتیوں
29:40تمہیں تو گناہگار ہو
29:41تمہیں تو ہر سانس کے ساتھ استغفار کرنا چاہیے
29:44لیکن یاد رکھئے
29:45استغفار صرف زبان سے
29:47استغفر اللہ کہہ دینا نہیں ہے
29:49سچی توبہ کی تین شرطیں ہیں
29:51پہلی شرط یہ ہے کہ انسان
29:53اپنے کیے ہوئے گناہ پر دل سے شرمندہ ہو
29:55دوسری شرط یہ ہے کہ وہ اس گناہ کو فوراں چھوڑ دے
29:58اور تیسری شرط یہ ہے
30:00کہ وہ آئندہ اس گناہ کو نہ کرنے کا پکہ عظم کرے
30:03اگر ان تین شرطوں کے ساتھ
30:04توبہ کی جائے
30:05تو اللہ تعالیٰ نہ صرف گناہ معاف فرما دیتا ہے
30:08بلکہ حدیث میں آتا ہے
30:09کہ وہ اس گناہ کو نیکی میں بدل دیتا ہے
30:11یہ ہے اللہ کی رحمت
30:13قلب منیب والا شخص
30:15ہر نماز کے بعد
30:16ہر محفل کے بعد
30:17اور خاص طور پر رات کو سونے سے پہلے
30:19اپنے پورے دن کا محاسبہ کرتا ہے
30:21اور جو بھی غلطیاں ہوئی ہوں
30:23ان پر اللہ سے معافی مانگتا ہے
30:25یہ عمل اس کے دل کو ہمیشہ صاف اور شفاف رکھتا ہے
30:28قلب منیب حاصل کرنے کا دوسرا بڑا
30:31اور طاقتور طریقہ
30:32اپنی غلطیوں کو تسلیم کرنے کی عادت ڈالنا ہے
30:35آج ہمارا سب سے بڑا مسئلہ
30:37ہماری انہ اور ہمارا تقبر ہے
30:39ہم غلطی کر کے بھی اسے ماننے کو تیار نہیں ہوتے
30:42ہم کہتے ہیں کہ نہیں
30:43میں صحیح تھا
30:44فلان شخص غلط تھا
30:46یہ شیطانی رویہ ہے
30:47شیطان نے بھی اپنی غلطی نہیں مانی تھی
30:49اور کہا تھا کہ میں آدم سے بہتر ہوں
30:51جبکہ قلب منیب کا راستہ
30:53آدم علیہ السلام کا راستہ ہے
30:55ان سے غلطی ہوئی
30:56تو انہوں نے فوراں کہا
30:57کہ اے ہمارے رب
30:58ہم نے اپنی جانوں پر ظلم کیا
31:00جو شخص اپنی غلطی مان لیتا ہے
31:03اللہ اس کے لیے رحمت کے دروازے کھول دیتا ہے
31:05اگر آپ سے کسی کا دل دکھا ہے
31:07تو انہ کو ایک طرف رکھ کر
31:09اس سے جا کر مافی مانگ لے
31:10ہو سکتا ہے کہ آپ کا یہ جھکنا
31:12آپ کو اللہ کی نظر میں بہت بلند کر دے
31:15اپنی غلطیوں کو تسلیم کرنے سے
31:17انسان کے اندر آجزی پیدا ہوتی ہے
31:19اور آجزی اللہ کو سب سے زیادہ پسند ہے
31:22دل کی انعابت کا تیسرا اور سب سے اہم لاز یہ ہے
31:25کہ انسان اپنی زندگی میں کچھ وقت تنہائی میں
31:28اپنے رب کے ساتھ گزارے
31:29آج ہم چوبیس گھنٹے مخلوق کے حجوم میں رہتے ہیں
31:32ہم موبائل فون
31:34دوستوں اور دنیاوی کاموں میں
31:35اتنے مصروف ہیں
31:36کہ ہمیں اپنے آپ سے ملنے کا بھی وقت نہیں ملتا
31:39صوفیہ فرماتے ہیں
31:40کہ جب تک تم مخلوق سے کٹ کر
31:42کچھ دیر کے لیے خالق سے نہیں جڑوگے
31:44تمہارا دل زندہ نہیں ہوگا
31:46اس کا بہترین طریقہ تحجد کی نماز ہے
31:49جب ساری دنیا سو رہی ہو
31:50اور ہر طرف خاموشی ہو
31:52اس وقت اٹھ کر اپنے رب کے حضور کھڑے ہو جائیں
31:55اور اپنے دل کا سارا حال اسے سنائیں
31:57وہ آنسو جو تنہائی میں
31:59اللہ کے خوف سے بہتے ہیں
32:00وہ دل کو ایسے دھو دیتے ہیں
32:02جیسے بارش زمین کو دھو دیتی ہے
32:04حضرت بائزید بستان رحمت اللہ علیہ سے
32:06کسی نے پوچھا
32:07کہ آپ کو یہ مقام کیسے ملا
32:09تو انہوں نے فرمایا کہ جو کچھ ملا
32:11راتوں کے اندھیرے میں ملا
32:12جب آپ تنہائی میں اللہ سے باتیں کرتے ہیں
32:15تو آپ کا دل اس کی طرف پلٹنے کا عادی ہو جاتا ہے
32:18پھر آپ کو لوگوں کے سامنے
32:19دکھڑا رونے کی ضرورت نہیں پڑتی
32:21آپ کا ہر غم
32:22ہر خوشی
32:23اور ہر فیصلہ اللہ کے ساتھ جڑا ہوتا ہے
32:26میرے دوستو
32:27یہ تین کام
32:28یعنی کسرت استغفار
32:29اپنی غلطی کو تسلیم کرنا
32:31اور تنہائی میں اللہ سے لو لگانا
32:33وہ چابیاں ہیں
32:34جو قلب منیب کے بند دروازے کو کھول دیتی ہیں
32:37یہ سفر ایک دن کا نہیں
32:38یہ مسنسل کوشش کا نام ہے
32:40ہو سکتا ہے کہ آپ ایک بار گریں
32:42دو بار گریں
32:43مگر آپ نے حمت نہیں ہارنی
32:45اللہ گرنے والے کو نہیں دیکھتا
32:47بلکہ وہ گر کر اٹھنے والے کو دیکھتا ہے
32:49اللہ آپ کی کوشش پسند کرتا ہے
32:51آئیے آج اس سفر کے اختتام پر
32:54ہم سب مل کر اپنے رب سے
32:55یہ رجوع کرنے والا دل مانگیں
32:57یا اللہ
32:58ہم تیرے کمزور اور گناہگار بندے ہیں
33:00ہمارے دل دنیا کی محبت میں بھٹک چکے ہیں
33:03یا اللہ
33:04ہمیں سچی توبہ اور استغفار کی توفیق اتا فرما
33:06یا اللہ
33:07ہماری انا اور تکبر کو توڑ دے
33:09اور ہمیں آجزی اتا فرما
33:11یا اللہ
33:12ہمیں تحجد کی لذت
33:14اور تنہائی میں تجھ سے مناجات کرنے کا شرف اتا فرما
33:17اے دلوں کو پھیرنے والے
33:18ہمارے دلوں کو اپنے دین پر ثابت قدم رکھ
33:21اور ہمیں ایسا قلب منیب اتا فرما
33:23جو ہر حال میں تیری طرف پلٹنے والا ہو
33:25یا اللہ
33:26ہماری اس کوشش کو قبول فرما
33:28اور اسے ہماری نجات کا ذریعہ بنا دے
33:30آمین
33:31یا رب العالمین

Recommended